افسانہ نمبر789 : آٹھویں بیٹی || مصنفہ: فرشتہ غنی(افغانستان) || اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق

 افسانہ نمبر789 :  آٹھویں بیٹی

مصنفہ: فرشتہ غنی(افغانستان)

انگریزی سے اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق 

 


دوپہر ڈھل رہی ہے۔ مغرب کی اذان میں ابھی کچھ دیر باقی ہے۔ میں بھوکی ہوں لیکن روزے سے ہوں۔ میری ٹانگیں کمزور ہیں اور ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ باورچی خانے میں ایک عجیب سا سکوت طاری ہے، مگر پریشر ککر کی سیٹی، جو ابھی ابھی ابلنے لگا ہے، اس خاموشی کو توڑ رہا ہے؛ اس کی آواز بلند سے بلند تر اور ہولناک ہوتی جا رہی ہے۔ اس شور نے میرے خوف کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ میں گھڑی دیکھتی ہوں: پانچ بج کر سترہ منٹ ہو چکے ہیں۔ میں گوشت کے نیچے چولہے کی آنچ دھیمی کر دیتی ہوں۔ مہمانوں کے لیے صاف کرنے، کاٹنے اور پکانے کی غرض سے پالک کا ایک بڑا گچھا رکھا ہے۔ باورچی خانہ اتھل پتھل اور بے ترتیب ہے، اور یہ حالت مجھے گھٹن میں مبتلا کر رہی ہے۔ میں پالک کا گچھا کھولتی ہوں، ایک ایک پتہ چن کر صاف کرتی ہوں، اور بڑے چھُرے سے اسے کاٹنے لگتی ہوں۔ بسا اوقات سبزیوں پر اپنا سارا غصہ اتار لینا اور انہیں زور زور سے کاٹنا ایک ہلکا پھلکا سا سکون دیتا ہے۔ میں بالکل ایسا ہی کر رہی ہوں۔ ابھی میں نے پالک کاٹنا ختم بھی نہیں کیا تھا کہ مجھے چاول کی فکر ستانے لگتی ہے؛ مجھے ابھی کچھ چاول بھگو دینے چاہئیں تاکہ بعد میں بہتر طریقے سے گل سکیں۔

خدا جانے آج مجھ سے کوئی کام ڈھنگ سے کیوں نہیں ہو رہا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ سب کچھ سمیٹوں کیسے؟ میں گھبراہٹ کا شکار ہوں۔ میرا دل بے قابو ہو کر دھڑک رہا ہے۔ مجھے جلدی سے رات کا کھانا تیار کرنا ہے۔ مجھے گوشت کی مہک آ رہی ہے ۔اس کی خوشبو سے لگ رہا ہے کہ وہ اچھی طرح گل چکا ہے۔ اوہ، میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں اسے ابھی کھا لوں۔ روزہ افطار ہوتے ہی سب سے پہلے میں یہی گوشت کھاؤں گی۔ اللہ میرے روزے کو قبول کرے اور اس بار مجھے بیٹے کی نعمت سے نوازے۔ اس کے علاوہ میں اور کیا مانگ سکتی ہوں؟ یہ بڑی غنیمت ہے کہ میں نے کل رات ہی بھنڈی اور بینگن پکا لیے تھے، جس سے اب میرا کچھ بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔ دو کھانے تیار ہیں، جنہیں بعد میں صرف گرم کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اگلے کمرے سے اونچی آوازیں آ رہی ہیں۔ میری ساس اور نندیں بلند آواز میں ہنس اور باتیں کر رہی ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ آخر وہ کیا باتیں کر رہی ہیں؟ خدا جانے شریفہ اور نازنین کہاں ہیں۔ میں اس وقت آٹھ ماہ سے حاملہ ہوں، اور میرا ایک بار بھی معائنہ (چیک اپ) نہیں ہوا۔ مجھے اندر سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس بار بیٹا ہو، مگر دوسری طرف اس خوف سے دل بیٹھا جاتا ہے کہ جانے میرے ساتھ کیا بنے گا۔ اتنے میں مجھے ایک پیاری سی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ کون ہو سکتا ہے؟ یہ میری تیسری بیٹی، باسمینہ ہے۔ وہ میرے لیے سلاد کی طابقیں (پلیٹیں) تیار کر کے لائی ہے۔ اوہ، اس کے ننھے ننھے ہاتھ مجھے کتنے پیارے لگتے ہیں۔ وہ میری مدد کے لیے جو چھوٹے چھوٹے کام کرتی ہے، وہ میرا دل موم کر دیتے ہیں۔

پالک اور گوشت پکانا تو آسان اور جھٹ پٹ ہو جاتا ہے۔ میں نے دونوں چیزیں تیار کر لی ہیں۔ لیکن اب میں اکیلے چاول کا بھاری پتیلا کیسے اٹھاؤؤں گی؟ میں خود کو بے بس اور نڈھال محسوس کر رہی ہوں۔ پچھلی بار جب مکائی خالہ یہاں تھیں، انہوں نے مجھے پانی کی بھری بالٹی اٹھاتے دیکھ لیا تھا تو مجھ پر بہت خفا ہوئی تھیں، اور یہ پتیلا تو اس سے بھی کہیں بڑا ہے۔

مؤذن نے اب مغرب کی اذان دینا شروع کر دی ہے۔ شاید اس کمرے سے کوئی باہر نکل آئے اور اس پتیلے کو اٹھانے میں میری مدد کر دے۔

مگر ان کے آنے سے پہلے، میں اپنا روزہ افطار کر لوں گی۔ میرا پہلا لقمہ ابھی حلق میں ہی اترا تھا کہ میری سب سے بڑی نند اندر چلی آتی ہے اور طنزیہ انداز میں کہتی ہے، "واہ بھئی واہ! مہمان ابھی آئے نہیں اور تم بھوکی بلی کی طرح پتیلا چاٹنے لگ گئی ہو!"

میرا پہلا لقمہ اب میرے گلے میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ خوف کے مارے وہ نیچے نہیں اترتا۔ میں طابق (پلیٹ) ہٹا دیتی ہوں ، اس کے بعد میرا کھانے کو بالکل دل نہیں چاہ رہا۔ میں خاموشی سے پتھر بنی کھڑی رہتی ہوں، منہ سے ایک لفظ نہیں نکالتی، حالانکہ دل میں کہنے کو ڈھیروں باتیں تھیں۔ میری ماں ہمیشہ کہتی ہیں کہ سسرال والوں کے آگے زبان نہیں چلانی چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہر تلخ بات کو پی جانا اور برداشت کرنا ہی عقل مندی ہے۔ ٹھیک ہے! میری نند باورچی خانے سے باہر چلی جاتی ہے اور میرے آنسو طوفان کی طرح بہنے لگتے ہیں۔

میں ایک بڑا پتیلا دھوتی ہوں اور اسے چولہے پر چڑھا دیتی ہوں۔ میں چولہے کی آنچ تیز کر دیتی ہوں۔ میری زندگی اس پتیلے کے ابلتے ہوئے پانی کی طرح ہے، جس سے میری تمام خوشیاں بھاپ بن کر اڑ چکی ہیں۔ میرے چاول اب نرم ہو گئے ہیں۔ میں کچن سے باہر جھانکتی ہوں، مگر وہاں کوئی ایسا نہیں جو نیچے اتارنے میں میری مدد کر سکے۔ اچھا تو پھر ٹھیک ہے؛ میں خود ہی اسے اتار لوں گی۔ میرے ساتھ کچھ نہیں ہونے والا۔

جیسے ہی میں اسے اٹھاتی ہوں، میری کمر میں ایک چیر دینے والا درد اٹھتا ہے۔ گرم پانی میری ٹانگوں کے درمیان سے بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ بڑی مشقت سے میں چاول چھانتی ہوں، اس میں تیل اور مصالحے شامل کرتی ہوں، اور پتیلا دوبارہ دھیمی آنچ پر چولہے پر رکھ دیتی ہوں۔ میری ٹانگوں کی ساری سکت ختم ہو چکی ہے اور میری کمر اور پیٹ کا درد شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ زور زور سے چلاؤں۔ میں درد کی تاب نہ لاتے ہوئے فرش پر لڑھک جاتی ہوں اور اب مزید گھریلو کام کرنے کے قابل نہیں رہی۔ اتنے میں باورچی خانے کا دروازہ کھلتا ہے، اور میرا سب سے چھوٹا دیور، حشمت، اندر آتے ہوئے پوچھتا ہے، "کیا کھانا تیار ہے؟ مہمان آ پہنچے ہیں۔"

جب وہ باورچی خانے میں قدم رکھتا ہے تو اس کی نظر مجھ پر پڑتی ہے۔ میں اسے ہڑبڑا کر کہتے ہوئے سنتی ہوں:

"بھابھی! یہ آپ کو کیا ہو گیا؟" وہ میرے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے، مجھے بغور دیکھتا ہے، اور پھر بھاگ کر باورچی خانے سے باہر نکل جاتا ہے۔ چند لمحوں کے اندر ہی، میری ساس اور سب سے بڑی نند میرے سر پر آ کھڑی ہوتی ہیں۔

میری ساس حقارت سے کہتی ہیں، "تم سر تا پاؤں ایک ڈرامہ باز اور مکار عورت ہو۔ اگر تم سے کھانا نہیں پک سکتا تھا تو صاف کہلا بھیجتی۔ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا، تو ہم رشتہ داروں اور اس پورے گاؤں کو کیا منہ دکھاتے؟" میری نظریں دھندلانے لگتی ہیں۔ حشمت اپنی ماں اور بہنوں پر غصہ کرتا ہے، مگر اس کا شور اب مجھ تک نہیں پہنچ پا رہا۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میری سانس ٹوٹنے والی ہے۔ اب جو آخری چیز میرے ذہن میں نقش رہ جاتی ہے، وہ گاڑی کی سیاہ سیٹیں ہیں۔

آج اسپتال میں میرا تیسرا دن ہے۔ میرے اردگرد کی دواؤں اور جراثیم کی بو میرے حواس پر سوار ہے۔ میرا ایک ہاتھ ڈرپ کی نلکی سے بندھا ہوا ہے۔ میرے پورے جسم پر ایک سفید چادر تنی ہوئی ہے۔ ایک نرس اندر داخل ہوتی ہے اور ان عورتوں کو جھاڑتی ہے ۔وہ درد سے بلبلاتی ہوئی حاملہ عورتیں جن کے بچے ابھی دنیا میں نہیں آئے ہیں۔ اگر کوئی عورت تکلیف سے کراہتی ہے تو نرسیں اسے ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کرا دیتی ہیں۔ ہر عورت کی آنکھوں میں کرب کا سمندر موجزن ہے۔ میرے بالکل پاس والی بستر پر ایک ماں اپنے نوزائیدہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ میں اس معصوم کو دیکھتی ہوں اور اپنے بچے کی یاد میں تڑپ اٹھتی ہوں۔ میں نرس کو آواز دے کر پوچھتی ہوں، "میرا بچہ کہاں ہے؟"

گلابی لپسٹک لگائے وہ نرس میرے سر پر آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہ میری فائل نکالتی ہے، مجھے سر تا پا غائر نگاہوں سے دیکھتی ہے، اور بغیر ایک لفظ کہے واپس پلٹ جاتی ہے۔ پورے آدھے گھنٹے کے بعد وہ لوٹتی ہے، تو میں وہی سوال اس کے سامنے پھر دہراتی ہوں۔

وہ بے رخی سے کہتی ہے، "تمہارا بچہ بہت کمزور ہے اور اس وقت انکیوبٹر (مشین) میں ہے۔ ڈاکٹر خود تمہیں سب بتا دیں گے۔"

میں بے تابی سے پوچھتی ہوں: "کیا یہ لڑکا ہے یا لڑکی؟"

نرس ایک لمحے کے لیے توقف کرتی ہے، پھر کہتی ہے، "مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ جب ڈاکٹر آئیں تو ان سے خود پوچھ لینا۔"

میرا دل ہول و اضطراب سے تیزی سے دھڑک رہا ہے۔ میں شدید دعا کر رہی ہوں کہ خدایا! اس بار تو میری جھولی میں بیٹا ڈال دے۔ اس بار تو تو نے میری دعائیں سن ہی لی ہوں گی، لیکن... اگر خدا نخواستہ پھر سے بیٹی ہوئی تو میں کیا کروں گی؟ میری زندگی جہنم بن جائے گی۔ میرا دل بے لگام ہو کر سینے میں دک دھک کر رہا ہے۔ میں شدت سے چاہتی ہوں کہ میری یہ دعا سچی ثابت ہو۔ یا اللہ! اس بار مجھے ایک بیٹا عطا کر دے۔ اے پروردگار! میری سن لے؛ اگر اس بار میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو میں تیرے نام پر غریبوں میں صدقہ و خیرات بانٹوں گی، تیرے حضور نفلی روزے رکھوں گی اور تیرے نام پر بزرگانِ دین کے مزاروں پر حاضری دوں گی۔

میں پاس لیٹی ہوئی خاتون سے وقت پوچھتی ہوں۔ گیارہ بج چکے ہیں، اور اب تک میں نے اپنی اولاد کا چہرہ تک نہیں دیکھا۔ ڈاکٹر کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں۔ میں اپنا ہاتھ اٹھا کر دیکھتی ہوں۔ وہ جگہ جگہ سے نیلا پڑا ہوا ہے۔ یہ سب کیسے ہو گیا؟ شاید پچھلے تین دنوں میں بے ہوشی کے عالم میں مجھے لاتعداد انجکشن لگائے گئے ہیں۔

ایک ادھیڑ عمر شخص اور ایک عورت کمرے کے اندر داخل ہوئے ہیں۔ غالباً وہ اسپتال کے صفائی والے یا عملے کے لوگ ہیں۔ نہیں، وہ عملے سے نہیں ہیں۔ وہ تو میرے ساتھ والے بستر کی مریضہ کے لیے کھانا لے کر آئے ہیں۔ باقی تمام وارڈ میں عورتوں کا شور مچا ہوا ہے، مگر وہ خاتون سب سے اونچی آواز میں چلا رہی ہے۔ اس کی بے ہنگم آواز میرے دماغ کی رگیں پھاڑ رہی ہے۔

آخرکار ڈاکٹر صاحبہ کمرے میں آ چکی ہیں۔ وہ اس مرد پر سخت برہم ہیں؛ وہ غصے سے پھنکارتے ہوئے اونچی آواز میں کہتی ہیں، "کیا میں نے تمہیں کتنی بار منع نہیں کیا تھا کہ یہاں مرد حضرات اور مہمانوں کا داخلہ ممنوع ہے؟ کیا تمہیں اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی؟" ڈاکٹر غصے سے انگارہ بنی ہوئی ہے۔ اس کا چہرہ غضب سے سرخ ہو چکا ہے، اور میں ہمت نہیں جتا پا رہی کہ اس سے اپنے بچے کے بارے میں کچھ پوچھ سکوں۔ ابھی میں نے بات شروع بھی نہیں کی تھی کہ وہ طیش میں بھری ہوئی کمرے سے باہر نکل جاتی ہے اور جاتے جاتے اس عورت پر پھر سے برس پڑتی ہے جس نے ان مہمانوں کو اندر آنے کی اجازت دی تھی۔

اوہ خدایا! اب میں کیا کروں؟ اس سارے ماحول میں کباب کی بھنی ہوئی خوشبو ناک میں آ رہی ہے، اور مجھے شدید بھوک کا احساس ہو رہا ہے...

ہاں، میں بہت زیادہ بھوکی ہوں۔ اسپتال کے دو اور ملازم اندر داخل ہوتے ہیں اور تمام مریضوں میں چاول، لوبیا اور کیلے کی پلیٹیں بانٹنے لگتے ہیں۔ میری پڑوسن بستر والی اٹھ کر جھکتی ہے اور مجھے نوالہ دینے کی کوشش کرتی ہے۔ میں نفی میں سر ہلا کر کہتی ہوں کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے، مگر وہ اصرار کرتی ہے۔ میرا پیٹ بھوک سے جل رہا ہے، لیکن میں نے پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ اب میرے حلق سے نیچے کوئی لقمہ نہیں اترے گا۔ اگر اس بار بھی میرے ہاں بیٹا نہ ہوا تو میری یہ حیات میرے لیے زہرِ قاتل بن جائے گی۔ میں گہری سوچوں میں ڈوب جاتی ہوں۔ میں کھانے کی طابق کو ایک طرف سرکا دیتی ہوں اور اسی اداسی میں سو جاتی ہوں۔

اچانک ایک بچے کے جگر شگاف رونے کی آواز سے میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ اس کمرے میں ایک بچہ ہے جو کسی طرح قرار نہیں پکڑ رہا۔ اس خاتون کے پاس دو بچے ہیں ، ایک سال یا ڈیڑھ سال کا چھوٹا بچہ، اور ایک بالکل نوزائیدہ شیرخوار۔ یہ بڑے والا بچہ ہی ہے جو مسلسل روئے جا رہا ہے۔ میں اسے کہتی ہوں کہ بہتر تھا وہ اس بڑے بچے کو گھر ہی چھوڑ کر آتی، تو وہ جواب دیتی ہے کہ وہ اسے کل ہی ساتھ لے آئی تھی کیونکہ ماں سے جدائی کے بعد وہ اور زیادہ ناتواں اور بے چین ہو جاتا ہے۔ میں ایک پھیکا سا مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف دیکھتی ہوں اور کہتی ہوں: "اللہ اسے سلامت رکھے!"

دن ڈھلتے ڈھلتے رات کی سیاہی میں بدل چکا ہے۔ مجھے اپنے جگر گوشے کے بارے میں اب تک کچھ معلوم نہیں۔ مجھے باتھ روم کے علاوہ کمرے سے باہر قدم رکھنے کی بھی ممانعت ہے۔ ڈاکٹرز مجھے مسلسل آرام کا مشورہ دے رہی ہیں، مگر کوئی ماں اپنے لختِ جگر سے جدا ہو کر کیسے آرام سے بیٹھ سکتی ہے؟ یہ کیسا ظالمانہ انصاف ہے؟

اگلی صبح ایک نوجوان لیڈی ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوتی ہے۔ وہ بہت شاداب اور ترو و تازہ دکھائی دیتی ہے۔ اس نے ہلکے نیلے رنگ کا اسکارف اوڑھ رکھا ہے وہ بھلی لگ رہی ہے۔ "کیا آج بچہ کچھ بہتر ہے؟" میں اس سے پوچھتی ہوں۔ "اس کی حالت کیسی ہے؟ کیا وہ بیٹا ہے یا بیٹی؟ نرس کہہ رہی تھی کہ میرا بچہ انکیوبٹر میں رکھا گیا ہے۔"

ڈاکٹر مجھے گہری نظروں سے دیکھتی ہے اور کہتی ہے: "خدا کا شکر ادا کرو کہ تمہارا بچہ زندہ بچ گیا ہے۔ وہ اس قدر ناتواں اور کمزور تھا کہ ہمیں تو ڈر تھا وہیں سانس نہ توڑ دے۔ آخر تم نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا تھا کہ تمہاری یہ حالت ہو گئی؟"

میں کانپتی آواز میں جواب دیتی ہوں، "ڈاکٹر صاحبہ! میری ایک بزرگ رشتہ دار نے کہا تھا کہ مجھے حمل کے دنوں میں بھی روزے رکھنے چاہئیں، شاید اس طرح میرے ہاں بیٹا پیدا ہو جائے۔"

یہ سن کر وہ آگ بگولہ ہو جاتی ہے۔ "تم خود روزے رکھ کر اپنی جان خطرے میں ڈالتی ہو اور پھر اس کا سارا ملبہ ڈاکٹروں پر پھینک دیتی ہو؟ زچگی کے دوران مرنے والی ماؤں کا الزام ہمیشہ ہمارے سر آتا ہے۔ آخر تم جیسی عورتیں کب عقل سے کام لیں گی؟ کون رکھتا ہے حمل کی حالت میں روزے؟" وہ یہ طعنہ دے کر غصے سے کمرے سے باہر چلی جاتی ہے۔ میرا دل اندر سے پھٹ رہا ہے: کم از کم انہیں مجھے یہ تو بتانا چاہیے تھا کہ میری گود میں بیٹا آیا ہے یا بیٹی۔

ابھی کچھ ہی لمحے گزرتے ہیں کہ ایک نرس اندر آ کر اعلان کرتی ہے کہ جن ماؤں کے بچے انکیوبٹرز میں زیرِ علاج ہیں، وہ شام تک اپنے بچوں کو اپنے پاس لے جا سکتی ہیں۔ یہ سنتے ہی میرے ہاتھ اور پاؤں کپکپانے لگتے ہیں۔ میں ہر چند منٹ بعد اپنے ساتھ والی خاتون سے وقت پوچھتی ہوں۔ میں اپنے بچے کو دیکھنے کے لیے بے قراری کے آخری درجے پر ہوں۔ میں اس معصوم کو گلے لگانے کے لیے کس قدر بے تاب ہوں، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

ایک بار پھر دوپہر کے کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ میرا دل کھانے کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا۔ میری پڑوسن مجھے سمجھاتے ہوئے کہتی ہے، "کچھ نہ کچھ ضرور کھاؤ۔ آگے تمہیں اپنے بچے کو دودھ پلانا ہے، اس کے لیے تمہیں جسمانی توانائی درکار ہوگی۔" میں خود پر جبر کرتی ہوں اور بڑی عمر کی اس دایہ کے برتن اٹھانے آنے سے پہلے زبردستی چند نوالے اپنے منہ میں ڈالتی ہوں۔

باقی کا دن ہم عورتیں آپس میں ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے کاٹ دیتی ہیں۔ میں نے پچھلی رات سے آنکھ تک نہیں جھپکائی تھی۔ آج یہاں میرا پانچواں دن ہے۔ بالآخر، ڈاکٹرز میرے بچے کو اٹھائے میرے پاس آتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اب میں اسپتال سے ڈسچارج ہو سکتی ہوں۔ اتنے میں میرے سب سے بڑے دیور اور اس کی بیوی بھی وہاں آ پہنچتے ہیں۔ وہ مجھے اپنے ساتھ گھر چلنے کو کہتے ہیں، اور میں بے تابی سے ان کی طرف لپکتی ہوں اور فوراً پوچھتی ہوں، "بتاؤ! کیا میرے ہاں بیٹا ہوا ہے یا نہیں؟"

وہ دونوں نظریں جھکا لیتے ہیں۔ کوئی منہ سے ایک لفظ نہیں نکالتا۔ اسی لمحے میری تمام امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔

میں اپنے لختِ جگر کو اٹھاتی ہوں اور کمبل ہٹا کر اس کے نیچے دیکھتی ہوں۔ میری گود میں ایک ننھی سی بچی ہے۔

میں اپنے سسرال والوں کے ساتھ بوجھل قدموں سے اسپتال سے باہر نکلتی ہوں۔ میرا پورا جسم تھرتھرا رہا ہے۔ میں جان نہیں پا رہی کہ یہ کپکپی خوف کی وجہ سے ہے یا باہر کی کڑاکے کی سردی کا اثر ہے۔ میں اپنی نو مولود بیٹی کی معصوم صورت دیکھتی ہوں اور دل ہی دل میں خود سے کہتی ہوں، کاش! تم بیٹا ہوتیں... کاش ہم گھر پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں مر جاتییں۔

جب ہم گھر کے دروازے پر پہنچتے ہیں، تو اندر سے گیتوں اور ساز و آواز کی آوازیں آ رہی ہیں۔ پہلے پہل تو مجھے یوں لگا کہ شاید کسی پڑوسی کے ہاں بیٹے کی شادی کا جشن ہے۔ مگر نہیں! یہ شور تو ہمارے اپنے ہی گھر کے اندر سے آ رہا ہے۔ اوہ اچھا، میں نے سوچا، شاید میرے کسی دیور کی شادی کی تیاریاں ہوں۔ چلو یہ بھی اچھا ہے، اس بہانے سب کی توجہ مجھ سے ہٹی رہے گی اور شاید وہ مجھے ایک اور بیٹی جنم دینے پر اتنے سخت طعنے نہ دیں۔

جب میں صحن میں قدم رکھتی ہوں، تو میری سب سے چھوٹی بیٹی میلا چہرہ لیے دوڑتی ہوئی میرے پاس چلی آتی ہے۔ میں اسے لپک کر اپنے سینے سے لگا لیتی ہوں، اور اپنے اسکارف کے پلو سے اس کا ناک پونچھتی ہوں۔ میں اس سے پوچھتی ہوں، "مروہ میری جان! گھر میں یہ کیا ہورہا ہے؟"

وہ اپنی انتہائی پیاری سی بچکانہ آواز میں چہک کر کہتی ہے، "مور جانی! مجھے نہیں معلوم۔ بس اتنا جانتی ہوں کہ سب نے بہت پیارے اور نئے کپڑے پہنے ہیں۔ ذرا میرا یہ نیا پیلا جوڑا تو دیکھیں۔" میرے اندر کی بے چینی اور بڑھ جاتی ہے کہ آخر ماجرا کیا ہے۔

جونہی میں کمرے کے اندر قدم رکھتی ہوں، عورتیں میرے سر پر روایتی مٹھائیاں اور نقلی سکے نچھاور کر کے میرا 'استقبال' کرتی ہیں۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اتنے پرجوش انداز میں میرا استقبال کریں گی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں نے آٹھویں بار بھی ایک بیٹی کو ہی جنم دیا ہے۔ کمرے میں موجود ہر شخص مجھے مبارکباد دے رہا ہے۔ مہینوں کے طویل کرب کے بعد میرے چہرے پر پہلی بار ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھرتی ہے۔ میں دھیمے لہجے میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ ابھی میں نے سب کو جواب دینا ختم بھی نہیں کیا تھا کہ میری بائیں جانب کھڑی ایک خاتون طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہے، "واہ بھئی واہ! آج میں نے پہلی بار ایسی خوش نصیب عورت دیکھی ہے جس کے شوہر نے دوسری شادی رچا لی ہو اور وہ اتنی خوشی منا رہی ہو!"

یہ فقرہ سننا تھا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے سر پر کھولتا ہوا پانی انڈیل دیا ہو۔ میری ٹانگیں میرا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو جاتی ہیں، میرا گلا غم اور غصے سے خشک ہو جاتا ہے، اور میری آنکھوں کا پانی یکسر سوکھ جاتا ہے۔ میں وہیں دالان کے بیچوں بیچ ڈھیر ہو کر بیٹھ جاتی ہوں اور بے اختیاری کے عالم میں میری گود سے میری ننھی بچی پھسل کر نیچے گرنے لگتی ہے۔ پاس ہی بیٹھی ایک عورت اسے جھپٹ کر تھام لیتی ہے۔ اس معصوم کے رونے کی مسلسل آواز میرے دماغ کے اعصاب کو چبا رہی ہے۔ مجھے اب یہ آواز زہر لگ رہی ہے۔ میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں اس بچے کو دیکھوں تک نہیں۔ میں بالکل پتھر بنی بیٹھی ہوں، میرے اندر کا سارا موڈ اور احساس مر چکا ہے۔

عورتوں کا شور ہے کہ تھمنے میں نہیں آ رہا۔ ان میں سے چند ایک میرے گرد ہجوم بنا کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ میں اب بھی اپنی ذات کے ایک الگ ہی کرب میں گم ہوں۔ اسی دوران میرا خاوند کمرے کے اندر داخل ہوتا ہے، اور میں دیوانہ وار اس کی طرف لپکتی ہوں اور غصے و حقارت سے بھر کر اس کے منہ پر تھوک دیتی ہوں۔ وہ طیش میں آ کر میرے چہرے پر اتنی زوردار چپت رسید کرتا ہے کہ میں لڑھک کر فرش پر جا گرتی ہوں، اور وہ ایک لفظ کہے بغیر وہاں سے چلا جاتا ہے۔

نرگس کی تائی اپنی بیٹی پلوشہ سے کہتی ہے کہ وہ اٹھ کر میرے لیے ایک گلاس گرم دودھ لے کر آئے، کیونکہ میرا زچہ بدن ابھی تک سنبھلا نہیں ہے۔ وہ اٹھنے میں میری مدد کرتی ہے۔ باورچی خانہ بدستور میدانِ جنگ بنا ہوا ہے، اور ہر طرف گندے برتنوں کے انبار لگے ہیں۔ پلوشہ دودھ کا پتیلا چولہے پر گرم ہونے کے لیے رکھ تو دیتی ہے، مگر اگلے ہی لمحے جیسے ہی دوسرے کمرے سے موسیقی اور گیتوں کی آوازیں بلند ہوتی ہیں، وہ جلدی سے سب کچھ چھوڑ کر وہاں بھاگ جاتی ہے۔ وہ شور میرے دماغ کی ایک ایک رگ میں ہتھوڑے کی طرح برس رہا ہے۔ میرا غصہ اب آسمان کو چھو رہا ہے۔

دودھ آہستہ آہستہ ابل کر برتن سے باہر گرنے لگتا ہے۔

میں آگے بڑھتی ہوں اور ابلتے ہوئے دودھ سے لبریز وہ پورا پتیلا اٹھا کر اپنے ہی سر پر انڈیل لیتی ہوں۔ میں درد کی شدت سے تڑپ کر زمین پر گر پڑتی ہوں۔ میری کھال سر سے لے کر پاؤں تک آگ کی طرح سلگ رہی ہے۔

چند عورتیں ہڑبڑا کر باورچی خانے میں دوڑتی ہوئی آتی ہیں۔ ان میں سے ایک میری طرف لپکتی ہے، مجھے سنبھال کر اٹھاتی ہے، اور ایک طویل آہ بھر کر کہتی ہے، "بیچاری بدقسمت عورت! اس کے شوہر نے اس پر سوتن جو چڑھا دی ہے۔"

اور پاس کھڑی ایک دوسری عورت، جس کی آواز انتہائی کرخت اور بھاری تھی، بے رحمی سے کہتی ہے، "ارے کون سی بیچاری اور کیسی بدقسمت! اس کی تو اپنی قسمت ہی پھوٹی ہوئی ہے۔ ارے یہ اس کا آٹھواں بچہ ہے، اور خدا کا کرنا دیکھو کہ اس بار بھی اس کے ہاں بیٹی ہی نکلی ہے!"

 

 

(پشتو سے انگریزی ترجمہ: زرغونہ کارگر)

انگریزی میں عنوان : Daughter Number Eight

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

رابندر ناتھ ٹیگور کا افسانہ : کابلی والا (Kabuliwala)

افسانہ نمبر 723 : طوفان، تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا)، مترجم : محمد فیصل (کراچی)