Posts

Showing posts with the label بھارتی ادب، رابندر ناتھ ٹیگور، افسانے، بنگالی ادب

رابندر ناتھ ٹیگور کا افسانہ : پوسٹ ماسٹر ( The Postmaster)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 79 : پُوسٹ مَاسٹر تحریر: رابندر ناتھ ٹیگور (ہندوستان) مترجم: ابُوالحیات بَردُوانی (ہندوستان) ملازمت شروع کرتے ہی پوسٹ ماسٹر کی تعیناتی ایک گاؤں میں ہوئی۔ اُولا پُور ایک بہت چھوٹی سی بستی تھی۔ قریب ہی ایک نیل کوٹھی ( indigo factory )تھی جس کے مالک نے بڑی کوششوں سے اس ڈاک خانہ کو قائم کرایا تھا۔ ڈاک بابو نے کلکتہ میں پرورش پائی تھی۔ اُن کی حالت اس اجڑے گاؤں میں پانی سے باھر نکالی ہوئی مچھلی کی سی ہورہی تھی۔ پھونس کے چھپر سے ڈھکی ہوئی ایک اندھیری کوٹھری میں ڈاک گھر تھا، نزدیک ہی سیواروں سے بھرا ہوا ایک تالاب تھا اور اس کے چاروں طرف جھاڑ جھنکاڑ۔ کوٹھی ( indigo factory ) کے ملازمین کو کام سے کبھی فرصت ہی نہ ہوتی کہ وہ اُن کے پاس آتے۔ پھر وہ لوگ شرفا، میں بیٹھنے کے لائق بھی نہ تھے۔ بات دراصل یہ ہے کہ کلکتہ والوں کو باہر والوں سے ملنا جُلنا ہی نہیں آتا۔ کسی اجنبی جگہ پہونچ کر یا تو وہ اکڑتے پھرتے ہیں یا الگ تھلک رہتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ڈاک بابو بستی والوں سے گُھل مل نہ سکے حالانکہ انھیں کام زیادہ نہیں رہتا تھا۔ اس لئ...

رابندر ناتھ ٹیگور کا افسانہ : کابلی والا (Kabuliwala)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 130 : کابلی والا تحریر: رابندر ناتھ ٹیگور (ہندوستان) مترجم: سید سعید نقوی (نیویارک) میری پانچ سالہ بیٹی ’منیُ‘ بہت باتونی ہے، اس کا بس چلے تو سارا دن باتیں ہی کرتی رہے۔پیدائش کے بعد اسے گفتگو کا فن سیکھنے میں بس ایک سال ہی لگا ہوگا۔ اس کے بعد سے اس نے اپنی جاگتی زندگی کا ایک لمحہ بھی خاموشی میں ضائع نہیں کیا۔اس کی ماں اسے اکثر زیادہ بولنے پر ڈانٹتی ہے ، لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا۔اس کی ایک پل کی خاموشی بھی اتنی عجیب اور غیر معمولی معلوم ہوتی ہے کہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میری منی سے گفتگو اتنی والہانہ ہوتی ہے۔۔ ایک صبح جب میں نے اپنی ناول کا سترہواں باب ابھی شروع ہی کیا تھا ، تو منی میرے کمرے میں داخل ہوئی، اور بولی ’’بابا، ہمارے سنتری رام دیال سے تو لفظ ’’کوا‘‘ بھی ادا نہیں ہوتا، وہ اتنا پھسڈی ہے۔‘‘ اس سے پہلے کہ میں اسے مختلف زبانوں میں تلفظ کے متعلق کچھ بتا سکتا، وہ کسی اور موضوع پر شروع ہو چکی تھی ’’بابا، بھولا کہہ رہا تھا کہ جب ہاتھی سونڈ میں پانی بھر کے ، آسمان سے چھڑکائو کرتے ہیں ، تب ہ...