بھیشم ساہنی کا افسانہ : وانگ چُو
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 86 : وانگ چُو تحریر: بھیشم ساہنی (ہندوستان) مترجم: عامرصدیقی (کراچی، پاکستان) تبھی دور سے وانگ چُو آتا دکھائی دیا۔ دریا کے کنارے، لال منڈی کی سڑک پر دھیرے دھیرے ڈولتا سا چلا آ رہا تھا۔ گیروی رنگ کا چوغہ پہنے تھا اور دور سے لگتا تھا کہ بدھ مت کے بھکشوؤں کی ہی مانند اس کا سر بھی گُھٹا ہوا ہے۔ پیچھے شنکرآچاریہ کی اونچی پہاڑی تھی اور اوپر صاف نیلا آسمان۔ سڑک کی دونوں جانب اونچے اونچے سفیدے کے درختوں کی قطاریں۔ لمحے بھر کیلئے مجھے لگا، جیسے وانگ چُو تاریخ کے صفحات سے اترکر آ گیا ہے۔ زمانہ قدیم میں دیس بدیس سے اسی شباہت کے حامل چِیوردھاری بھکشو ، پہاڑوں اور وادیوں کو پھلانگ کر ہندوستان آیا کرتے ہوں گے۔ ماضی کے ایسے ہی تجسس آمیز دھندلکے میں مجھے وانگ چُو بھی چلتا ہوا نظر آیا۔ جب سے وہ سرینگر میں آیا تھا، بدھ مت کی تہذیب کے کھنڈروں اور عجائب خانوں میں گھوم رہا تھا۔ اس وقت بھی وہ لال منڈی کے عجائب گھر سے نکل کر آ رہا تھا، جہاں بدھ دور کے کئی عجائبات رکھے ہیں۔ اسکی ظاہری حالت کو دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ وہ حقیقت میں حال سے...