Posts

Showing posts with the label انگریزی ادب، کیتھرین مینسفیلڈ، نیوزی لینڈ کا ادب، افسانے

کیتھرین مینسفیلڈ کا افسانہ : کبوتر اور کبوتری (Mr. and Mrs. Dove)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 495 :              کبوتر اور کبوتری   تحریر : کیتھرین مینسفیلڈ   (نیوزی لینڈ) مترجم : ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی (نیوزی لینڈ)            بے شک وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ کوئی شخص بہتر نہیں ہو سکتا ، کہ اس کے پاس موقع فراہم کرنے والا کوئی   جن یا بھوت تو ہوتا نہیں ، اور نہ ہی کوئی دنیاوی مدد۔ اس طرح کا خیال یا تصور بھی اوٹ پٹانگ اور مضحکہ خیز تھا۔ اتنا مضحکہ خیز کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لے گا کہ اگر لڑکی کا باپ   —— خیر اس کا باپ جو کچھ بھی طےکرے ، وہ پوری طرح سے سمجھ جائے گا۔ یہ احساس اس کے لیے انتہائی مایوس کن تھا کہ وہ دن اس کا انگلینڈ میں سچ مچ آخری دن تھا ، خدا جانتا ہے کہ وہ کتنے عرصہ سے خود کو اس کے لیے تیار کرتا رہا تھا۔             اور پھر اس وقت بھی …… اس نے الماری کی دراز سے ایک نیلی اور کریم رنگ کی چوکڑی والی ٹائی نکالی اور پلنگ کے کو...

کیتھرین مینسفیلڈ کا افسانہ : انکشافات (Revelations)

Image
    عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 301 : انکشافات تحریر : کیتھرائین مینسفیلڈ ( نیوزی لینڈ) ترجمہ : ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی ( نیوزی لینڈ)     مونیکاٹائرل (Monica Tyrell) کے لیے صبح کے آٹھ بجے سے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے تک کا وقت بے حد تکلیف دہ ہوا کرتا تھا جب وہ اپنی اعصابی کمزوری سے پریشان رہتی تھی۔ایسا نہیں تھا کہ وہ اس پر قابو نہ پاسکتی تھی   (اس کے مطابق ) "شاید اگر وہ دس سال چھوٹی ہوتی………" اب چونکہ وہ تینتیس( ۳۳) سال کی ہو چکی تھی ، جب بھی موقع ہوتا ، عجیب انداز میں اپنی عمر کا ذکر ضرور کردیا کرتی۔اکثر اپنے دوستوں کی طرف سنجیدہ اور بچکانہ نگاہوں سے دیکھ کر کہتی : " ہاں ، مجھے یاد ہے کیسے بیس سال پہلے …… " یا پھر رالف (Ralph) کی توجہ ان لڑکیوں کی طرف مرکوز کرواتے ہوئے جو اپنی خوبصورت بانہوں ، خوبصورت آواز اور ہچکچاتی حرکات کے ساتھ ہوٹل میں ان کے قریب بیٹھی ہوتیں۔ " شاید اگر میں دس سال چھوٹی ہوتی …… " " تم ،کیوں نہیں ، میری (Marie) کو اپنے کمرے کے باہر تعینات کردیتیں ، تاکہ وہ ہر آنے والے کو روکے اور اس وقت تک کمرے ...