افسانہ نمبر 737 : بچھیرا پلٹن کا کُوچ || تحریر : وولف دیتریش شنور (جرمنی) || مترجم : خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 737 : بچھیرا پلٹن کا کُوچ ( جرمن کہانی) تحریر : وولف دیتریش شنور (جرمنی) مترجم : خال د فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ) صبح چھ بجے ہی وہ قطار بند ہونے لگے۔ اندھیرا ابھی تک چھایا ہوا تھا۔ وہ چبوترے کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ وہاں ایک جھنڈا لہرا رہا تھا، جس پر صلیب اور کتاب کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ کھمبوں پر قمقمے جگمگا رہے تھے۔ وہ اپنی آنکھیں مل رہے تھے۔ کچھ تو ابھی تک ایک دوسرے سے ٹیک لگائے، کھڑے کھڑے اونگھ رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ ابھی تک انہوں نے بندوقوں کو ٹھیک سے سنبھالنا بھی نہیں سیکھا تھا۔ پھاٹک کے باہر ان کی مائیں خاموش کھڑی تھیں۔ سنتری اوپر نیچے آ جا رہے تھے، ان کے آہنی ٹوپ چمک رہے تھے۔ ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی اور کہرا چھایا ہوا تھا۔ چھاؤنی میں ابھی تک روشنی جل رہی تھی۔ اندر افسران دوڑ دوڑ کر تاخیر سے آنے والوں کو بیرک سے نکال کر لا رہے تھے۔ وہ آنکھیں موندے، ایک ہاتھ میں بندوق اور دوسرے میں کپڑے کا بھالو یا گُڈا تھامے، لڑکھڑاتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے اُتر رہے تھے۔ ’...