افسانہ نمبر 775 : بونکو بابو کا دوست || تحریر : ستیاجیت رائے (بھارت) || ترجمہ: جسٹس ریٹائرڈ عبدالوحیدخان
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 775 : بونکو بابو کا دوست تحریر : ستیاجیت رائے (بھارت) انگریزی سے اردو میں ترجمہ: جسٹس ریٹائرڈ عبدالوحیدخان کسی نے کبھی بونکو بابو کو غصے میں نہیں دیکھا تھا۔ سچ پوچھیے تو یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ اگر کسی دن انہیں غصہ آ جائے تو وہ کیا کہیں گے یا کیا کریں گے۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ ان کے پاس آپا کھونے کی کبھی کوئی وجہ نہیں تھی۔ گزشتہ بائیس سالوں سے بونکو بابو کانکورگاچھی پرائمری اسکول میں جغرافیہ اور بنگالی پڑھا رہے تھے۔ ہر سال طلبہ کا ایک نیا بیچ پرانے کی جگہ لے لیتا، لیکن نیا بیچ ہو یا پرانا، اسکول کے تمام بچوں میں غریب بونکو بابو کو ستانے کی روایت بدستور جاری رہتی۔ کچھ بورڈ پر ان کی تصویر بنا دیتے، کچھ ان کی کرسی پر گوند لگا دیتے، یا کالی پوجا کی رات ایک "پٹاخہ راکٹ" چلا کر ان کے پیچھے چھوڑ دیتے۔ بونکو بابو ان باتوں سے بددل نہیں ہوتے تھے۔ بس کبھی کبھی گلا صاف کرتے اور کہتے، "شرم کرو لڑکو !" ان کے پرسکون رہنے کی ایک وجہ سادہ سی یہ تھی کہ وہ اس کے علاوہ کچھ اور برداشت نہیں کر ...