Posts

افسانہ نمبر 751 : جھولا || تحریر : محمد خضیر (عراق) || ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 751 : جھولا تحریر : محمد خضیر   (عراق) ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی   کھجور کے پتوں کے پنکھوں سے سایہ فگن خاموش راستے پر ایک سر منڈا لڑکا اپنی سائیکل پر اس طرح رواں تھا، جیسے کوئی سویا ہوا شخص چل رہا ہو۔ اس کے بائیں جانب ایک نشیبی نہر بہہ رہی تھی، جس کے پانی پر صابن کے جھاگ جیسی سفید لکیریں تیر رہی تھیں، جبکہ دائیں طرف مٹی کی ایک بوسیدہ اور شکستہ دیوار کھڑی تھی۔ نہر کے گھاس سے ڈھکے ہوئے کنارے کے اس پار ایک ایسی زمین پھیلی ہوئی تھی جہاں کھجور کے تنے، جڑی بوٹیاں اور خودرو جنگلی گھاس جا بجا بکھرے ہوئے تھے۔ دوسری جانب مٹی کی وہ دیوار ایک نشیبی قطعۂ زمین کو گھیرے ہوئے تھی، جہاں کئی چھوٹی ندیاں آ کر آپس میں مل جاتی تھیں اور وہ جگہ باریک نیلگوں پھولوں، جنگلی جھاڑیوں، انار کے درختوں اور تنوں پر چڑھتی ہوئی انگور کی بیلوں سے پوری طرح ڈھکی ہوئی تھی۔ راستے پر تیز دھوپ چمک رہی تھی۔ کھجوروں کے جھنڈ کی گھاس اور اس کے محصور و تنگ راستوں پر ایک گرم اور بوجھل سایہ چھایا ہوا تھا۔ وہ لڑکا کسی نیم خوابیدہ مسافر کی طرح گرد آلود را...