افسانہ نمبر 742: سزائے موت || افسانہ نگار: زکریا تامر (شام) || اردو ترجمہ : اسداللہ میر الحسنی
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 742: سزائے موت افسانہ نگار: زکریا تامر (شام) عربی سے اردو ترجمہ : اسداللہ میر الحسنی/ کراچی عمر المختار دار کے ڈنڈوں سے لٹک رہا تھا۔ سر جھکا ہوا تھا، آنکھیں موندی ہوئی تھیں۔ وہ مطمئن، خاموش اور باوقار اپنی نگرانی پر مامور برقنداز پہرے دار سے بالکل بے پروا تھا۔ اس لمحے کا چمکتا سورج زرد برف میں بدل گیا۔ عمر المختار نے اپنے سرد لہو کو گرم کرنے کے لیے کوئی دوسرا سورج ڈھونڈنے لگا۔ اس نے ایک تصور بُنا: ایک بھوکا ننھا پرندہ، جو صبح اپنے اسکول جانے سے انکاری ہے اور موسلا دھار بارش کا منتظر ہے تاکہ اس کی خشک روٹی بھیگ جائے۔ ایک سفید گلاب، جو لوہے کی چارپائی پر ٹھٹھرتا ہوا اونگھ رہا ہے اور اتنا نادار ہے کہ ہیٹر خریدنے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ ایک بلی، جو دواخانوں میں قید ہے، پروں کے طوفان کی مالک بننے کا خواب دیکھتی ہے اور بادل، جو گلیوں میں غبار آلود کپڑے پہنے دوڑتے ہیں، بچوں سے الجھتے ہیں اور اپنے سنگریزوں سے کھڑکیوں کے شیشے ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔ اتنے میں پہرے دار نے عمر المختار کو پکارا: "کیا بات ہے؟ کیوں...