Posts

افسانہ نمبر 753 : دانیال عادل || مصنف: ہائنرش بول (جرمنی) || مترجم : خالد فرہاد دھاریوال

Image
افسانہ نمبر 753 : دانیال عادل (جرمن کہانی) مصنف: ہائنرش بول (جرمنی) مترجم : خالد فرہاد دھاریوال   جب تک تیرگی چھائی رہی، اس کے پہلو میں لیٹی ہوئی عورت اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی اور یہی بات صورتحال کو برداشت کرنا قدرے آسان بنا رہی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے سے وہ عورت اسے کچھ نہ کچھ کہے جا رہی تھی اور مرد کو مسلسل یہ کہنے میں کوئی دِقت محسوس نہیں ہو رہی تھی: ’’ہاں‘‘ یا ’’ہاں، بالکل‘‘ یا ’’ہاں، تم ٹھیک کہتی ہو۔‘‘ اس کے پہلو میں لیٹی عورت اس کی بیوی تھی، لیکن وہ جب بھی اپنی بیوی کے بارے میں سوچتا، اپنے ذہن میں اسے ہمیشہ ’عورت‘ ہی پکارتا تھا۔ وہ عورت خوبصورت بھی تھی، اور ایسے لوگ موجود تھے جو اس عورت کے سبب اس پر رشک کرتے تھے، لہٰذا اگر وہ مرد حسد کا شکار بھی ہوتا تو یہ کوئی اتنی بے جا بات نہ تھی۔ اس سب کے باوجود اس میں کوئی حسد دکھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ خوش تھا کہ تاریکی نے عورت کا چہرہ چھپا رکھا ہے اور اسے یہ مہلت میسر تھی کہ وہ تناؤ سےآزاد تاثرات اپنے چہرے پر سجا سکے۔ اس سے زیادہ مشکل اور کوئی کام نہیں تھا کہ دِن بھر کے اُجالے میں، انسان ایک مصنوعی چہرہ اوڑھے رکھے؛ اور سارا دن ...

افسانہ نمبر752 : تیل || مصنف: یاسوناری کاواباتا (جاپان) || مترجم: حنظلہ خلیق (شرق پور)

Image
  افسانہ نمبر752 : تیل   مصنف: یاسوناری کاواباتا (جاپان) مترجم: حنظلہ خلیق   (شرق پور)   جب میں محض تین برس کا تھا تو میرے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اگلے ہی برس والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اپنے والدین کی کوئی ایک بات بھی یاد نہیں۔ یہاں تک کہ میری ماں کی کوئی ایک تصویر بھی باقی نہ بچی۔ میرے والد ایک طرحدار اور وجیہہ انسان تھے، اس لیے شاید انہیں اپنی تصویریں کھنچوانے کا ذوق تھا۔ جب ہم نے اپنا آبائی مکان بیچا، تو کباڑ خانے سے والد کے مختلف ادوار کی کوئی تیس چالیس تصویریں میرے ہاتھ آئیں۔ مڈل اسکول کے زمانے میں جب میں بورڈنگ میں رہتا تھا، تو ان میں سے سب سے خوبصورت تصویر میں نے اپنی میز پر سجا رکھی تھی، مگر وقت کی دھول اور بار بار کی نقل مکانی کے باعث وہ تمام تصویریں ایک ایک کر کے مجھ سے کھو گئیں۔ تصویر دیکھنے سے میری کوئی یاد تازہ نہیں ہوتی تھی، اس لیے اگرچہ میں یہ تصور تو کر لیتا تھا کہ یہ میرے ہی والد ہیں، مگر اس خیال سے دل میں کوئی حقیقی کسک یا جذباتی وابستگی بیدار نہ ہوتی۔ لوگ مجھے ان کے قصے سناتے، مگر وہ سننا ایسا تھا جیسے کسی اجن...

افسانہ نمبر 751 : جھولا || تحریر : محمد خضیر (عراق) || ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 751 : جھولا تحریر : محمد خضیر   (عراق) ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی   کھجور کے پتوں کے پنکھوں سے سایہ فگن خاموش راستے پر ایک سر منڈا لڑکا اپنی سائیکل پر اس طرح رواں تھا، جیسے کوئی سویا ہوا شخص چل رہا ہو۔ اس کے بائیں جانب ایک نشیبی نہر بہہ رہی تھی، جس کے پانی پر صابن کے جھاگ جیسی سفید لکیریں تیر رہی تھیں، جبکہ دائیں طرف مٹی کی ایک بوسیدہ اور شکستہ دیوار کھڑی تھی۔ نہر کے گھاس سے ڈھکے ہوئے کنارے کے اس پار ایک ایسی زمین پھیلی ہوئی تھی جہاں کھجور کے تنے، جڑی بوٹیاں اور خودرو جنگلی گھاس جا بجا بکھرے ہوئے تھے۔ دوسری جانب مٹی کی وہ دیوار ایک نشیبی قطعۂ زمین کو گھیرے ہوئے تھی، جہاں کئی چھوٹی ندیاں آ کر آپس میں مل جاتی تھیں اور وہ جگہ باریک نیلگوں پھولوں، جنگلی جھاڑیوں، انار کے درختوں اور تنوں پر چڑھتی ہوئی انگور کی بیلوں سے پوری طرح ڈھکی ہوئی تھی۔ راستے پر تیز دھوپ چمک رہی تھی۔ کھجوروں کے جھنڈ کی گھاس اور اس کے محصور و تنگ راستوں پر ایک گرم اور بوجھل سایہ چھایا ہوا تھا۔ وہ لڑکا کسی نیم خوابیدہ مسافر کی طرح گرد آلود را...