Posts

افسانہ نمبر 773: ننھے بید کا تحفہ || مصنفہ: فرانسس ٹاورز (برطانیہ) || ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 773: ننھے بید کا تحفہ مصنفہ: فرانسس ٹاورز   (برطانیہ) ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور) پہلی شام شارلٹ کا ایک دوست ، سائمن برن کو گھر لے کر آیا۔ وہ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جن کے ساتھ شارلٹ جنگ کے بعد حساب چکانے کی امید رکھتی تھی، اگرچہ ظاہر ہے کہ جنگ کے بعد کبھی حساب چکانے کی نوبت ہی نہ آئی۔ اجنبی شخص دہلیز پر کھڑا ہوا، اس نے کمرے پر ایک نظر ڈالی اور اس کے چہرے پر ایسی غیر معمولی مسرت پھیل گئی کہ سب سے چھوٹی مس "ایوری" کا دل بے اختیار ہلکا سا اچھل پڑا؛ گویا اس کی عقل و ارادے سے بے نیاز، اس کے دل نے خود ہی اپنے جیسے کسی اور دل کو پہچان لیا ہو۔ یہ کمرہ اپنی بلند چھت اور ایڈم طرز کی آتش دان کے باعث خاصا دل آویز تھا۔ چمکتی ہوئی سفید دیواروں پر ہلکے اور دھندلے رنگوں کے عکس بکھرے ہوئے تھے، اور ایک موٹی سیاہ آتش دان کے قالین پر گہرے گلابی رنگ کے خم دار پھول بنے تھے۔ اٹھارہویں صدی کے اس کمرے میں یہ عجیب سا بلقان طرز کا قالین، کسی سمفنی میں بجنے والے ایک شوخ اور معصوم دھن کی طرح، بے ساختہ خوشی اور معصومیت کا احساس پیدا کرتا ت...

افسانہ نمبر 770 : ہنگامہ || تحریر : انتون چیخوف۔ (روس) || ترجمہ: جاوید بسام۔ (کراچی)

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 770 :     ہنگامہ   تحریر   : انتون چیخوف۔ (روس) ترجمہ:   جاوید بسام۔ (کراچی)   ماشینکا پاولٹسکی جس نے کچھ عرصے پہلے دارالاقامہ سے تعلیم مکمل کی تھی اور کُشکن خاندان کے ہاں بطور گورنَس کام کر رہی تھی، ایک دن سیر سے واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ پورا گھر شدید اضطراب اور ہنگامے کی لپیٹ میں ہے۔ دربان میخائیلو غیر متوقع طور پر پریشان اور کیکڑے کی طرح سرخ نظر آرہا تھا اوربالائی منزل سے بلند آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔   ” مسز کُشکن کو غالباً دورہ پڑا ہے یا پھر ان کی شوہر سے لڑائی ہوگئی ہے۔“ ماشینکا نے سوچا۔   ہال اور راہداری میں اسے کئی خادمائیں ملیں۔ ان میں سے ایک رو رہی تھی۔ اسی اثنا میں اس نے گھر کے مالک نکولائی سرگئیچ کو اپنے کمرے سے باہر دوڑ کر آتے دیکھا۔ وہ چھوٹے قد، پلپلے چہرے اور گنجے سر والا آدمی تھا، حالاں کہ وہ ابھی اتنا سن رسیدہ نہیں ہوا تھا۔ اس کا چہرہ غصے اور گھبراہٹ سے تمتما اور جسم کانپ رہا تھا۔ وہ ماشینکا کی طرف دیکھے بغیر گزر گیا۔ پھر دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے چلّای...