Posts

افسانہ نمبر 770 : ہنگامہ || تحریر : انتون چیخوف۔ (روس) || ترجمہ: جاوید بسام۔ (کراچی)

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 770 :     ہنگامہ   تحریر   : انتون چیخوف۔ (روس) ترجمہ:   جاوید بسام۔ (کراچی)   ماشینکا پاولٹسکی جس نے کچھ عرصے پہلے دارالاقامہ سے تعلیم مکمل کی تھی اور کُشکن خاندان کے ہاں بطور گورنَس کام کر رہی تھی، ایک دن سیر سے واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ پورا گھر شدید اضطراب اور ہنگامے کی لپیٹ میں ہے۔ دربان میخائیلو غیر متوقع طور پر پریشان اور کیکڑے کی طرح سرخ نظر آرہا تھا اوربالائی منزل سے بلند آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔   ” مسز کُشکن کو غالباً دورہ پڑا ہے یا پھر ان کی شوہر سے لڑائی ہوگئی ہے۔“ ماشینکا نے سوچا۔   ہال اور راہداری میں اسے کئی خادمائیں ملیں۔ ان میں سے ایک رو رہی تھی۔ اسی اثنا میں اس نے گھر کے مالک نکولائی سرگئیچ کو اپنے کمرے سے باہر دوڑ کر آتے دیکھا۔ وہ چھوٹے قد، پلپلے چہرے اور گنجے سر والا آدمی تھا، حالاں کہ وہ ابھی اتنا سن رسیدہ نہیں ہوا تھا۔ اس کا چہرہ غصے اور گھبراہٹ سے تمتما اور جسم کانپ رہا تھا۔ وہ ماشینکا کی طرف دیکھے بغیر گزر گیا۔ پھر دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے چلّای...

افسانہ نمبر 769 : سویا ہوا ناگ || مصنف: رام سروپ انکھی (ہندوستان) || گورمکھی سے اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 769 : سویا ہوا ناگ مصنف: رام سروپ انکھی (ہندوستان) گورمکھی سے اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق     جیتو کو مکلاوے (رخصتی کے بعد پہلی بار میکے آنا) پر آئے بمشکل بیس دن ہی ہوئے تھے۔ " بے بے کی یاد سے میرے دل کو ہول اٹھتے ہیں۔ چلو مجھے چھوڑ آؤ۔ پھر آ جاؤں گی، دس دن لگا کر۔" جیتو نے ایک دن مکندے سے کہا۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ مکندے کو جیسے کوئی انوکھی چیز مل گئی ہو۔ وہ اس سے بے پناہ محبت کرتا تھا، لیکن جیتو کبھی سیدھے منہ اس سے بات نہ کرتی تھی۔ جیتو کا دل شاید اندر سے اداس تھا۔ مکندا اسے رج کر پیار دیتا، لیکن وہ ہاں ہوں سے بڑھ کر کچھ نہ کہتی تھی۔ یہ ساری بات مکندے کی سمجھ سے باہر تھی۔ مکندا ہر بات میں اس کی مرضی پر خوش رہتا تھا۔ آج جیتو نے میکے جانے کے لیے کہا تو ان بیس دنوں میں یہ پہلا موقع تھا جب وہ کھل کر بولی تھی۔ مکندا خوش تھا کہ چلو وہ کچھ تو بولی ہے۔ جیتو کو میکے چھوڑنے آئے مکندے کو اس رات اس کے سسرال والوں نے وہیں رکھ لیا۔ اسوج کاتک کا موسم تھا۔ مکندا سوتے وقت گھر والوں سے الگ ذرا دور جا کر لیٹ گیا۔ آدھی رات کو جی...

افسانہ نمبر 768 : امرتسر آ گیا ہے || تحریر : بھیشم ساہنی (بھارت) || ترجمہ: انعام ندیم (کراچی)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 768 : امرتسر آ گیا ہے تحریر : بھیشم ساہنی (بھارت) ترجمہ: انعام ندیم (کراچی)   گاڑی کے ڈِبّے میں زیادہ مسافرنہیں تھے۔ میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھے سردار جی دیر سے مجھے لام کے قصے سنارہے تھے۔ وہ لام کے دنوں میں برما کی لڑائی میں حصہ لے چکے تھے اور بات بات پر کھی کھی کرکے ہنسنے اور گورے فوجیوں کا مذاق اڑ ۱ نے لگتے تھے۔ ڈِبّے میں تین پٹھان تاجر بھی تھے، ان میں سے ایک سبز رنگ کی پوشاک پہنے اوپر والی برتھ پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ آدمی بڑا خوش مزاج تھا اور بڑی دیر سے میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ایک دُبلے سے بابو کے ساتھ اس کا مذاق چل رہا تھا۔ چھریرے بدن کاوہ بابو پشاور کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا کیونکہ کسی کسی وقت وہ آپس میں پشتو میں باتیں کرنے لگتے تھے۔ میرے سامنے دائیں طرف کونے میں، ایک بڑھیا منھ   سر ڈھانپے بیٹھی تھی اور دیر سے مالا جپ رہی تھی۔ یہی کچھ لوگ رہے ہوں گے۔ ممکن ہے دو ایک اور مسافر بھی رہے ہوں، لیکن وہ واضح طور پر مجھے یاد نہیں۔ گاڑی دھیمی رفتار سے چلی جا رہی تھی۔ گاڑی میں بیٹھے مسافرباتیں کر رہے تھے ...