Posts

افسانہ نمبر 741 : موسمِ سرما کی باغبانی || تحریر : جینیٹ فریم( نیوزی لینڈ) || اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)

Image
    عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 741 :      موسمِ سرما کی باغبانی   تحریر :     جینیٹ فریم( نیوزی لینڈ) اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق   (شرق پور)   مسٹر پیجٹ کی بیوی دو مہینوں سے بے ہوشی کی گہری حالت میں تھی۔ ہر روز وہ ہسپتال آتا، اس کے بستر کے پاس بیٹھتا، اور خاموشی میں صرف اتنا کہتا، “مریم، میں ہوں، الیٓک، میں تمہارے پاس ہوں”، جبکہ وہ بے حس و حرکت پڑی رہتی، آنکھیں بند، چہرہ زرد اور ساکت۔ عموماً مسٹر پیجٹ آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ وہاں گزارتا، پھر جھک کر بیوی کو بوسہ دیتا، اس کا ہاتھ جو اس نے تھام رکھا ہوتا، آہستگی سے واپس لحاف کے نیچے اس کے پہلو میں رکھ دیتا، چادر کو درست کرتا، اور پھر دوپہر یا شام کی روشنی میں اپنی اس آزادی اور حرکت کے احساس کے ساتھ، گھر لوٹ آتا۔ پہاڑی مضافات میں واقع اینٹوں کا وہ کونے والا گھر اس کا منتظر ہوتا، جہاں وہ کھانا تیار کرتا، کھاتا، اور پھر باہر نکل کر باغ میں کام کرنے لگتا۔ سال کے ہر موسم میں اسے باغ میں کچھ نہ کچھ کرنے کو مل جاتا۔ اس کی زندگی دو حصوں میں بٹ گئی تھی: ہسپتال کے چکر...

افسانہ نمبر 740 : اللہ کی دنیا || مصنف: نجیب محفوظ || اردو ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 740 :   اللہ کی دنیا مصنف:   نجیب محفوظ، نوبل ایوارڈ یافتہ مصری ادیب   عربی سے اردو ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی/ کراچی     سیکریٹریٹ کے دفتر میں زندگی کی رمق اس وقت دوڑ گئی جب چپراسی چچا ابراہیم اندر داخل ہوا۔ اس نے یکے بعد دیگرے کھڑکیاں کھولیں، پھر کشادہ کمرے کی زمین کو کھوئے ہوئے خیال اور بے پروائی کے ساتھ جھاڑنے لگا۔ اس کا سر آہستگی اور باقاعدگی سے ہل رہا تھا اور جبڑے اس طرح حرکت کر رہے تھے گویا وہ کچھ چبا رہا ہو۔ اس کیفیت میں اس کی داڑھی اور کنپٹیوں کے سفید بال ہلکے ہلکے لرزنے لگتے، جب کہ اس کے گنج پر ایک بال بھی نہ تھا۔ پھر وہ میزوں کی طرف بڑھا، ان پر جمی گرد صاف کی، فائلوں اور اوزار کو ترتیب دیا اور آخر میں پورے کمرے، یعنی دفتر پر ایک جامع نظر ڈالی۔ اس کے بعد وہ میزوں کے درمیان اپنی نگاہیں یوں دوڑانے لگا جیسے ان کے مالکان کی صورتیں اس کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہوں۔ کبھی اس کے چہرے پر اطمینان کی جھلک ابھرتی، کبھی ناگواری کا سایہ چھا جاتا اور کبھی وہ مسکرا اٹھتا۔ پھر پلٹ کر جاتے ہوئے اپنے آپ سے بول...