افسانہ نمبر 749 : مسعود کے کزن نے اسے نہال کردیا || تحریر : ایمل حبیبی (مقبوضہ فلسطین) || اردو ترجمہ : محمدافتخارشفیع
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 749 : مسعود کے کزن نے اسے نہال کردیا (فلسطینی افسانہ) تحریر : ایمل حبیبی (مقبوضہ فلسطین) اردو ترجمہ : محمدافتخارشفیع (ساہیوال) بابا! آخر ہم کیوں، آخر ہم کیوں اجنبی ہیں؟ دنیا کی وسعت میں ہمارا کوئی یار، کوئی دلدار نہیں؟ (فیروز کا گایا ہوا ایک گیت) یہ جولائی کی ایک گرم دوپہر تھی۔ آج مسعود بہت خوش تھا۔اسے اپنی زندگی میں اس سے پہلے اتنی خوشی شاید ہی نصیب ہوئی ہوگی۔ آج اس کا گلی میں اس پراعتماد انداز میں داخل ہونا اچھا لگا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس کا اکیلا پن ختم ہو گیا ہے۔ اس کے چچا اور چچازاد بھائی اس کی دنیا میں آنکلے تھے۔ مسعود ہمارے محلے کا ایک عام سا لڑکا ہے۔ ہم پیار سے اسےپھسڈی کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس کی عمر کوئی دس بارہ برس کے لگ بھگ ہوگی۔ لیکن سیدی! اسے محض ایک بچہ سمجھنے کی بھول نہ کیجیے گا۔ اگر آپ کا کوئی نقصان ہو گیا تو میری ذمہ داری نہیں ہوگی۔ ایک چھوٹا بچہ جان کر اس سےمخاطب ہونا خطرے سے خالی نہیں، یہ فوراً ایسی کھری کھری سنائے گا کہ آپ کو اپنی کہے پر پچھتاوا ہونے لگے گا۔ مسعود سیاست کی باریکیوں سے بھی خوب وا...