Posts

افسانہ نمبر 755 : چاند || تحریر : یاسوناری کاواباتا (جاپان) || ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 755 : چاند تحریر : یاسوناری کاواباتا (جاپان) ترجمہ: حنظلہ خلیق   (شرق پور)   پاکدامنی، تم کس قدر ناقابلِ برداشت زحمت ہو! تم ایک ایسا بوجھ ہو جس کے کھو جانے کا مجھے کبھی افسوس نہیں ہوگا۔ اور جب میں تاریک پچھلی گلیوں یا پلوں پر چلتا ہوں، تو میرے لیے تمہیں کسی کچرے کے ڈبے یا دریا میں پھینک دینا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ مگر اب جبکہ میں ایک روشن اور پختہ سڑک پر نکل آیا ہوں، تو مجھے ڈر ہے کہ تمہیں ٹھکانے لگانے کی جگہ تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ مزید یہ کہ جب عورتیں میرے اس بوجھ پر حیرت کا اظہار کرتی ہیں اور یہ جاننے کے لیے متجسس ہوتی ہیں کہ اس کے اندر کیا ہے، تو کیا میں شرما نہیں جاتا؟ اور محض اس لیے کہ میں اسے اتنی دور تک اٹھا لایا ہوں، اور میری سوچیں اتنی بوجھل ہو چکی ہیں، کیا مجھے یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں اسے یونہی سڑک کنارے کسی کتے کے آگے نہیں ڈال سکتا؟ لیکن آج کل، جب کہ اتنی ساری عورتوں نے مجھ سے محبت کرنے کی کوشش کی ہے، میری یہ مسلسل بے چینی اور بھی بڑھ گئی ہے، بالکل ایسے جیسے میں نے لکڑی کے اونچے جوتے پہن رکھے ہوں جو چلتے...

افسانہ نمبر 753 : دانیال عادل || مصنف: ہائنرش بول (جرمنی) || مترجم : خالد فرہاد دھاریوال

Image
افسانہ نمبر 753 : دانیال عادل (جرمن کہانی) مصنف: ہائنرش بول (جرمنی) مترجم : خالد فرہاد دھاریوال   جب تک تیرگی چھائی رہی، اس کے پہلو میں لیٹی ہوئی عورت اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی اور یہی بات صورتحال کو برداشت کرنا قدرے آسان بنا رہی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے سے وہ عورت اسے کچھ نہ کچھ کہے جا رہی تھی اور مرد کو مسلسل یہ کہنے میں کوئی دِقت محسوس نہیں ہو رہی تھی: ’’ہاں‘‘ یا ’’ہاں، بالکل‘‘ یا ’’ہاں، تم ٹھیک کہتی ہو۔‘‘ اس کے پہلو میں لیٹی عورت اس کی بیوی تھی، لیکن وہ جب بھی اپنی بیوی کے بارے میں سوچتا، اپنے ذہن میں اسے ہمیشہ ’عورت‘ ہی پکارتا تھا۔ وہ عورت خوبصورت بھی تھی، اور ایسے لوگ موجود تھے جو اس عورت کے سبب اس پر رشک کرتے تھے، لہٰذا اگر وہ مرد حسد کا شکار بھی ہوتا تو یہ کوئی اتنی بے جا بات نہ تھی۔ اس سب کے باوجود اس میں کوئی حسد دکھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ خوش تھا کہ تاریکی نے عورت کا چہرہ چھپا رکھا ہے اور اسے یہ مہلت میسر تھی کہ وہ تناؤ سےآزاد تاثرات اپنے چہرے پر سجا سکے۔ اس سے زیادہ مشکل اور کوئی کام نہیں تھا کہ دِن بھر کے اُجالے میں، انسان ایک مصنوعی چہرہ اوڑھے رکھے؛ اور سارا دن ...

افسانہ نمبر752 : تیل || مصنف: یاسوناری کاواباتا (جاپان) || مترجم: حنظلہ خلیق (شرق پور)

Image
  افسانہ نمبر752 : تیل   مصنف: یاسوناری کاواباتا (جاپان) مترجم: حنظلہ خلیق   (شرق پور)   جب میں محض تین برس کا تھا تو میرے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اگلے ہی برس والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اپنے والدین کی کوئی ایک بات بھی یاد نہیں۔ یہاں تک کہ میری ماں کی کوئی ایک تصویر بھی باقی نہ بچی۔ میرے والد ایک طرحدار اور وجیہہ انسان تھے، اس لیے شاید انہیں اپنی تصویریں کھنچوانے کا ذوق تھا۔ جب ہم نے اپنا آبائی مکان بیچا، تو کباڑ خانے سے والد کے مختلف ادوار کی کوئی تیس چالیس تصویریں میرے ہاتھ آئیں۔ مڈل اسکول کے زمانے میں جب میں بورڈنگ میں رہتا تھا، تو ان میں سے سب سے خوبصورت تصویر میں نے اپنی میز پر سجا رکھی تھی، مگر وقت کی دھول اور بار بار کی نقل مکانی کے باعث وہ تمام تصویریں ایک ایک کر کے مجھ سے کھو گئیں۔ تصویر دیکھنے سے میری کوئی یاد تازہ نہیں ہوتی تھی، اس لیے اگرچہ میں یہ تصور تو کر لیتا تھا کہ یہ میرے ہی والد ہیں، مگر اس خیال سے دل میں کوئی حقیقی کسک یا جذباتی وابستگی بیدار نہ ہوتی۔ لوگ مجھے ان کے قصے سناتے، مگر وہ سننا ایسا تھا جیسے کسی اجن...