Posts

افسانہ نمبر 744 : بھولی ماریا || تحریر : ایزابیل ایلندے (چلی) || اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 744   : بھولی ماریا تحریر : ایزابیل ایلندے (چلی) اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)     بھولی ماریا محبت پر یقین رکھتی تھی۔ یہی بات اسے ایک زندہ داستان بنا گئی تھی۔ اس کے تمام پڑوسی اس کے جنازے میں آئے، حتیٰ کہ پولیس والے اور وہ نابینا آدمی بھی جو کھوکھے پر بیٹھتا تھا اور جو تقریباً کبھی اپنا کام نہیں چھوڑتا تھا۔ کالے ریپبلِکا ( Calle República ) سڑک سنسان ہو گئی تھی اور سوگ کی علامت کے طور پر بالکونیوں سے سیاہ فیتے لٹک رہے تھے اور گھروں کی سرخ بتیاں بجھا دی گئی تھیں۔ہر شخص کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے، اور اس محلے میں یہ کہانیاں عموماً اداس کن ہوتی تھیں٬ غربت، بڑھتی ہوئی ناانصافی، ہر طرح کے تشدد، وقت سے پہلے مر جانے والے بچوں اور بھاگ جانے والے عاشقوں کی کہانیاں۔ مگر ماریا کی کہانی مختلف تھی؛ اس میں ایک نزاکت کی چمک تھی جو تخیل کو پرواز دیتی تھی۔ وہ خاموشی سے٬ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے معاملات سنبھالتی ہوئی اپنی پیشہ ورانہ زندگی خود مختاری کے ساتھ گزارنے میں کامیاب رہی تھی ۔ اسے شراب یا منشیات میں ذرّہ برابر دل...

افسانہ نمبر 743 : طوطے || مصنف: ہَردیش || ترجمہ: خورشید عالم (انڈیا)

Image
عالمی ادب کےاردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 743 :   طوطے   مصنف: ہَردیش ( ہندی ناول نگار و افسانہ نگار) ترجمہ: خورشید عالم (انڈیا)   یہ کہنا مشکل تھا کہ پہلے لالہ اشرفی لال جاگتے تھے یا طوطا اور کس کے جاگنے سے اُس گھر میں صبح ہوتی تھی، یعنی صبح ہونے کا احساس۔ کبھی اشرفی لال کی نیند طوطے کی آواز سے ٹوٹتی تھی اور کبھی طوطے کی اپنی نرم پنکھوں میں چھپی ہوئی گردن، کھاٹ چھوڑ کر برآمدے میں آگے اشرفی لال کے قدموں سے ہی اٹھتی تھی۔ طوطا پنجرے کے دو تین چکر کاٹ کر آواز کرتا تھا، "ٹائیں ٹائیں ٹوں۔ں پڑھو پٹے سیتارام سیتارام"۔ آواز میں پھر ایک لے گھل جاتی تھی، "ٹائیں ٹائیں ٹوں پڑھو پٹے سیتارام سیتارام" اور تب اشرفی لال خود اپنا کنٹھ کھولتے تھے، "پڑھو پٹے سیتارام سیتارام"۔ اور کبھی اشرفی لال کی آنکھ کا کھلنا اور طوطے کی آواز کا پھوٹنا ایک ساتھ ہی ہوتا تھا۔ فرق رہتا بھی تھا تو معمولی سا، اتنا باریک کہ پہچانا نہ جاسکے۔ اور آج بھی اشرفی لال اور طوطا ساتھ ساتھ جاگے تھے۔ اشرفی لال کی نیند ہٹی، آنکھیں کھلی کھڑکی سے باہر اُجاس کے سوتے میں گھل رہے اندھیرے کا جا...

افسانہ نمبر 742: سزائے موت || افسانہ نگار: زکریا تامر (شام) || اردو ترجمہ : اسداللہ میر الحسنی

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 742: سزائے موت افسانہ نگار: زکریا تامر (شام) عربی سے اردو ترجمہ : اسداللہ میر الحسنی/ کراچی عمر المختار دار کے ڈنڈوں سے لٹک رہا تھا۔ سر جھکا ہوا تھا، آنکھیں موندی ہوئی تھیں۔ وہ مطمئن، خاموش اور باوقار اپنی نگرانی پر مامور برقنداز پہرے دار سے بالکل بے پروا تھا۔ اس لمحے کا چمکتا سورج زرد برف میں بدل گیا۔ عمر المختار نے اپنے سرد لہو کو گرم کرنے کے لیے کوئی دوسرا سورج ڈھونڈنے لگا۔ اس نے ایک تصور بُنا: ایک بھوکا ننھا پرندہ، جو صبح اپنے اسکول جانے سے انکاری ہے اور موسلا دھار بارش کا منتظر ہے تاکہ اس کی خشک روٹی بھیگ جائے۔ ایک سفید گلاب، جو لوہے کی چارپائی پر ٹھٹھرتا ہوا اونگھ رہا ہے اور اتنا نادار ہے کہ ہیٹر خریدنے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ ایک بلی، جو دواخانوں میں قید ہے، پروں کے طوفان کی مالک بننے کا خواب دیکھتی ہے اور بادل، جو گلیوں میں غبار آلود کپڑے پہنے دوڑتے ہیں، بچوں سے الجھتے ہیں اور اپنے سنگریزوں سے کھڑکیوں کے شیشے ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔ اتنے میں پہرے دار نے عمر المختار کو پکارا: "کیا بات ہے؟ کیوں...

افسانہ نمبر 741 : موسمِ سرما کی باغبانی || تحریر : جینیٹ فریم( نیوزی لینڈ) || اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)

Image
    عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 741 :      موسمِ سرما کی باغبانی   تحریر :     جینیٹ فریم( نیوزی لینڈ) اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق   (شرق پور)   مسٹر پیجٹ کی بیوی دو مہینوں سے بے ہوشی کی گہری حالت میں تھی۔ ہر روز وہ ہسپتال آتا، اس کے بستر کے پاس بیٹھتا، اور خاموشی میں صرف اتنا کہتا، “مریم، میں ہوں، الیٓک، میں تمہارے پاس ہوں”، جبکہ وہ بے حس و حرکت پڑی رہتی، آنکھیں بند، چہرہ زرد اور ساکت۔ عموماً مسٹر پیجٹ آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ وہاں گزارتا، پھر جھک کر بیوی کو بوسہ دیتا، اس کا ہاتھ جو اس نے تھام رکھا ہوتا، آہستگی سے واپس لحاف کے نیچے اس کے پہلو میں رکھ دیتا، چادر کو درست کرتا، اور پھر دوپہر یا شام کی روشنی میں اپنی اس آزادی اور حرکت کے احساس کے ساتھ، گھر لوٹ آتا۔ پہاڑی مضافات میں واقع اینٹوں کا وہ کونے والا گھر اس کا منتظر ہوتا، جہاں وہ کھانا تیار کرتا، کھاتا، اور پھر باہر نکل کر باغ میں کام کرنے لگتا۔ سال کے ہر موسم میں اسے باغ میں کچھ نہ کچھ کرنے کو مل جاتا۔ اس کی زندگی دو حصوں میں بٹ گئی تھی: ہسپتال کے چکر...