Posts

افسانہ نمبر 737 : بچھیرا پلٹن کا کُوچ || تحریر : وولف دیتریش شنور (جرمنی) || مترجم : خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 737 : بچھیرا پلٹن کا کُوچ ( جرمن کہانی) تحریر : وولف دیتریش شنور (جرمنی) مترجم : خال د فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)     صبح چھ بجے ہی وہ قطار بند ہونے لگے۔ اندھیرا ابھی تک چھایا ہوا تھا۔ وہ چبوترے کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ وہاں ایک جھنڈا لہرا رہا تھا، جس پر   صلیب اور   کتاب کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ کھمبوں پر قمقمے جگمگا رہے تھے۔ وہ اپنی آنکھیں مل رہے تھے۔ کچھ تو ابھی تک ایک دوسرے سے ٹیک لگائے، کھڑے کھڑے اونگھ رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ ابھی تک انہوں نے بندوقوں کو ٹھیک سے سنبھالنا بھی نہیں سیکھا تھا۔ پھاٹک کے باہر ان کی مائیں خاموش کھڑی تھیں۔ سنتری اوپر نیچے آ جا رہے تھے، ان کے آہنی ٹوپ چمک رہے تھے۔ ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی اور کہرا چھایا ہوا تھا۔ چھاؤنی میں ابھی تک روشنی جل رہی تھی۔ اندر افسران دوڑ دوڑ کر تاخیر سے آنے والوں کو بیرک سے نکال کر لا رہے تھے۔ وہ آنکھیں موندے، ایک ہاتھ میں بندوق اور دوسرے میں کپڑے کا بھالو یا گُڈا تھامے، لڑکھڑاتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے اُتر رہے تھے۔ ’...

انتخاب افسانہ نمبر 736 : غسل || تحریر : جینیٹ فریم (نیوزی لینڈ)|| اردو ترجمہ : حنظلہ خلیق (لاہور)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) انتخاب افسانہ نمبر 736 : غسل   تحریر :   جینیٹ فریم (نیوزی لینڈ) اردو ترجمہ : حنظلہ خلیق (لاہور)   جمعے کی دوپہر اس نے نرگس، انیمون، کے تازہ پھول اور سرخ گلاب کی چند شاخیں خریدیں ، جو گلابی موم کے کاغذ میں لپٹی ہوئی تھیں، کیونکہ ہفتے کے دن اس کے شوہر کی وفات کو سترہ برس مکمل ہو رہے تھے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی وہ ان کی قبر پر جانے کا ارادہ رکھتی تھی، جہاں وہ خود جھاڑ جھنکار صاف کرتی، اور کتبے کے دونوں جانب رکھے مربے والے دو مرتبانوں میں تازہ پھول سجاتی۔ لیکن اس سال یہ معمول کی سی ملاقات کچھ زیادہ ہی اس کے ذہن پر سوار تھی۔ اس نے ان پھولوں کو اسی لیے خریدا تھا تاکہ خود کو اس سفر پر مجبور کر سکے...ایسا سفر جو ہر گزرتے برس کے ساتھ کچھ زیادہ دشوار ہوتا جا رہا تھا: بس اسٹاپ تک پیدل چلنا، آکٹاگون پر بس تبدیل کرنا، اور پھر ان قبروں کی قطاروں پر کھلے سمندر کی جانب سے آتی بےرحم ہواؤں کا سامنا کرنا؛ اور واپسی کے وقت وہ تھکن جو اسے اس قدر گھیر لیتی کہ وہ چاہتی، بس یہیں کہیں قبروں کے پہلو میں، نرم گھاس پر لیٹ جائے اور سو جائے۔...

افسانہ نمبر 733 : دُنیا کا اختتام || مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی) || مترجم: خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)  افسانہ نمبر 733 : دُنیا کا اختتام مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی) مترجم: خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)   ایک صبح، تقریباً گیارہ بجے، شہر کے آسمان پر ایک بہت بڑا مُکا نمودار ہوا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ ایک پنجے کی طرح کھلتا گیا اور موت کے ایک عظیم چنگل کی مانند فضا میں ساکت ہو گیا۔ بظاہر وہ گوشت کا بنا ہوا معلوم ہوتا تھا، مگر نہیں، وہ گوشت نہیں تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے پتھر سے تراشا گیا ہو، مگر وہ پتھر بھی نہیں تھا۔ گمان گزرتا تھا کہ بادلوں سے بنا ہے، مگر وہ بادل بھی نہیں تھا۔ وہ قیامت کی نشانی  تھا۔ ایک سرگوشی جو تھوڑی ہی دیر میں آہ و بکا اور پھر چیخ و پکار میں بدل گئی، ہر طرف پھیل گئی۔ یہ آواز ایک مربوط، اور ہولناک صدا کی صورت اختیار کر گئی اور صور کی گونج بن کر آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ لوئیزا اور پیئترو، اس پہر کی ملائم دھوپ میں ایک ایسے چوراہےپر موجود تھے جو شاندار عمارتوں اور باغات سے گھرا ہوا تھا۔ آسمان میں، ایک غیر معین بلندی پر وہ ہاتھ اب بھی معلق تھا۔ کھڑکیاں داد خواہی اور دہشت بھری چیخوں کے ساتھ کھل رہی تھیں اور نازک لباس ...

انتخاب افسانہ نمبر 735 : آناگور کی فصیل || تحریر : دینو بوتزاتی (اٹلی) || مترجم: خالد فرہاد (سیالکوٹ)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) انتخاب افسانہ نمبر 735 : آناگور کی فصیل تحریر : د ینو بوتزاتی (اٹلی) مترجم: خالد فرہاد (سیالکوٹ)   تبیستی کے عین قلب میں، ایک مقامی سیاحتی راہ نما نے مجھے پیشکش کی کہ اگر میں آناگور شہر کی فصیل دیکھنا چاہوں تو وہ میری ہمراہی کر سکتا ہے۔ میں نے نقشے پر نظر دوڑائی، لیکن وہاں آناگور نام کا کوئی شہر نہیں تھا۔ یہاں تک کہ سیاحتی کتابچوں میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں تھا، جو کہ عموماً تفصیلات سے بھرے ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا، ’’یہ کیسا شہر ہو گا، نقشوں پر جس کا کوئی نام و نشان تک نہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’یہ ایک عظیم شہر ہے، نہایت خوشحال اور طاقتور، پھر بھی یہ کسی نقشے پر موجود نہیں، کیونکہ ہماری حکومت اس سے اغماض برتتی ہے، یا کم از کم نظر انداز کرنے کا دکھاوا کرتی ہے۔ یہ خودمختار شہر   ہے اور کسی کا باج گزار نہیں۔ یہ اپنی ہی دنیا میں مگن ہے، اور بادشاہ کے وزراء تک اس میں داخل نہیں ہو سکتے۔ دور   و نزدیک، کسی بھی ملک کے ساتھ اس کی کوئی تجارت نہیں۔ یہ قلعہ بند شہر ہے۔ یہ صدیوں سے اپنے مضبوط حصار میں آباد ہے۔ اور حقیقت یہ ہے ک...