افسانہ نمبر745 : میری بیٹی مونا || تحریر : رخسانہ احمد(پاکستان) || مترجم:افشاں نور
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر745 : میری بیٹی مونا تحریر : رخسانہ احمد(پاکستان) مترجم:افشاں نور ” تمہیں پتہ ہے میں کیا سوچتا رہا ہوں؟“ایک شام عباس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ”میرا خیال ہے کہ شاید ہمیں مونا کو بتا دینا چاہیے۔ “ اس موضوع پر سوچ بچار کرنے اورکچھ دیر تک خود اپنے آپ سے بحث کرنے کے بعد اس نے آخر کار اس امید پر یہ موضوع چھیڑ دیا کہ شایدان گزشتہ برسوں میں اس کی بیوی کا مزاج کچھ نرم پڑ گیا ہواور اس کا موقف بدل گیا ہو مگر زیتون ہمیشہ کی طرح تندی سے مڑی اور غضبناک ہو کر بولی : ” عباس! تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم مداخلت نہیں کرو گے۔ “ عباس نے اس کی زمردرنگ شعلہ بار آنکھوں کو دیکھا۔اس کا چہرہ ہمالیہ کی طرح بے لچک تھا اور غصے کی روانی سے دوڑتا ہوا خون اس کی گوری گردن میں جھلک رہا تھا۔اسے ہمیشہ اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ وہ سفید فام لوگوں کی طرح سرخ کیسے ہوجاتی تھی۔ بنا مزید جھگڑا کیے اس نے اس نمایاں اور غضبناک غصے کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔اس کی اتنی آسان جیت پر تھوڑی سی خفگی کے ساتھ وہ بڑبڑائے بنا نہ رہ سکا : ” تب حالات مختلف تھے۔ مجھے مع...