Posts

افسانہ نمبر745 : میری بیٹی مونا || تحریر : رخسانہ احمد(پاکستان) || مترجم:افشاں نور

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر745 :  میری بیٹی مونا تحریر : رخسانہ احمد(پاکستان) مترجم:افشاں نور   ” تمہیں پتہ ہے میں کیا سوچتا رہا ہوں؟“ایک شام عباس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ”میرا خیال ہے کہ شاید ہمیں مونا کو بتا دینا چاہیے۔ “ اس موضوع پر سوچ بچار کرنے اورکچھ دیر تک خود اپنے آپ سے بحث کرنے کے بعد اس نے آخر کار اس امید پر یہ موضوع چھیڑ دیا کہ شایدان گزشتہ برسوں میں اس کی بیوی کا مزاج کچھ نرم پڑ گیا ہواور اس کا موقف بدل گیا ہو مگر زیتون ہمیشہ کی طرح تندی سے مڑی اور غضبناک ہو کر بولی : ” عباس! تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم مداخلت نہیں کرو گے۔ “ عباس نے اس کی زمردرنگ شعلہ بار آنکھوں کو دیکھا۔اس کا چہرہ ہمالیہ کی طرح بے لچک تھا اور غصے کی روانی سے دوڑتا ہوا خون اس کی گوری گردن میں جھلک رہا تھا۔اسے ہمیشہ اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ وہ سفید فام لوگوں کی طرح سرخ کیسے ہوجاتی تھی۔ بنا مزید جھگڑا کیے اس نے اس نمایاں اور غضبناک غصے کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔اس کی اتنی آسان جیت پر تھوڑی سی خفگی کے ساتھ وہ بڑبڑائے بنا نہ رہ سکا : ” تب حالات مختلف تھے۔ مجھے مع...

افسانہ نمبر 747 : تعبیر || تحریر : رے براڈبری (امریکہ) || اردو ترجمہ : اخلاق احمد

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 747 : تعبیر تحریر : رے براڈبری (امریکہ) اردو ترجمہ : اخلاق احمد   ایک خواب کی کہانی اس کی تعبیر کے لیے ہم بہت سرگرداں ہیں ... اور تعبیر اتنی دور بھی نہیں!   صبح کا آغاز ہوا۔ اپارٹمنٹ کے خود کار قفل ایک جھٹکے سے کھل گئے ۔ کھڑکیوں کے پردے سمٹ گئے اور اجالا اندر آنے لگا۔ ایک مشینی آواز نے کہا۔ "سات بج چکے ہیں۔ سکول، دفتر اور بازار جانے والے بیدار ہو جائیں ۔"   باورچی خانے کے شمسی چولھے جل اٹھے، خود کار نل کھلا اور اُس کے نیچے رکھی کیتلی میں پانچ کپ پانی بھر گیا۔ نل بند ہو گیا۔ کیتلی چمڑے کے ایک متحرک بیلٹ کے ذریعے پھیلتی ہوئی شمسی چوٹھے کے اوپر جاڑ کی ۔   مشینی آواز نے کہا ۔ "سات بج کر پندرہ منٹ ۔ اگر آپ غسل کر چکے ہوں تو پانچ منٹ بعد ناشتے کی میز پر آجائیے۔"   کھانے کی میز کے ساتھ بنی ہوئی کھڑ کی خود بخود کھلی اور ایک ٹرے پھسلتی ہوئی میز پر آر کی ۔ ٹرے میں ٹوسٹر پر سکے ہوئے تازہ توس باکھن کا پیک اور جام کی شیشی تھی۔ بڑے کے ساتھ ایک فولادی پتری مسلک تھی ۔ پتری نے تمام چیزیں میز پ...

افسانہ نمبر 748 : مہلتِ شب || تحریر : جُھمپا لاہری (امریکہ) || ترجمہ: حنظلہ خلیق (لاہور)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 748 : مہلتِ شب تحریر : جُھمپا لاہری (امریکہ)   ترجمہ: حنظلہ خلیق (لاہور)     انہیں ایک نوٹس کے ذریعے مطلع کیا گیا تھا کہ یہ محض ایک عارضی تعطل ہے۔ آئندہ پانچ روز تک، رات آٹھ بجے سے ایک گھنٹے کے لیے بجلی منقطع رہے گی۔ گزشتہ برفانی طوفان کے باعث بجلی کی ایک تار ٹوٹ کر گر گئی تھی، اور اب مرمت کرنے والا عملہ شام کے قدرے بہتر موسم سے فائدہ اٹھا کر اسے درست کرنے والا تھا۔ اس کٹوتی کا اثر صرف ان گھروں پر پڑنا تھا جو درختوں سے گھری اس پرسکون سڑک پر واقع تھے؛ ایک ایسی سڑک جو اینٹوں سے بنے بازار اور ٹرام اسٹاپ سے چند قدم کے فاصلے پر تھی، جہاں شوبھا اور شکمار گزشتہ تین برسوں سے مقیم تھے۔ " یہ ان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ہمیں پیشگی خبردار کر دیا،" شوبھا نے نوٹس کو بلند آواز میں پڑھتے ہوئے کہا۔ یہ آواز شکمار سے زیادہ اس نے خود کو سنانے کے لیے نکالی تھی۔ اس نے فائلوں سے بھرے اپنے چمڑے کے بیگ کا تسمہ کندھے سے سرکنے دیا اور اسے راہداری میں ہی چھوڑ کر باورچی خانے میں داخل ہو گئی۔ اس نے سرمئی ٹراؤزر اور سفید جوتوں پ...