افسانہ نمبر 743 : طوطے || مصنف: ہَردیش || ترجمہ: خورشید عالم (انڈیا)
عالمی ادب کےاردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 743 : طوطے مصنف: ہَردیش ( ہندی ناول نگار و افسانہ نگار) ترجمہ: خورشید عالم (انڈیا) یہ کہنا مشکل تھا کہ پہلے لالہ اشرفی لال جاگتے تھے یا طوطا اور کس کے جاگنے سے اُس گھر میں صبح ہوتی تھی، یعنی صبح ہونے کا احساس۔ کبھی اشرفی لال کی نیند طوطے کی آواز سے ٹوٹتی تھی اور کبھی طوطے کی اپنی نرم پنکھوں میں چھپی ہوئی گردن، کھاٹ چھوڑ کر برآمدے میں آگے اشرفی لال کے قدموں سے ہی اٹھتی تھی۔ طوطا پنجرے کے دو تین چکر کاٹ کر آواز کرتا تھا، "ٹائیں ٹائیں ٹوں۔ں پڑھو پٹے سیتارام سیتارام"۔ آواز میں پھر ایک لے گھل جاتی تھی، "ٹائیں ٹائیں ٹوں پڑھو پٹے سیتارام سیتارام" اور تب اشرفی لال خود اپنا کنٹھ کھولتے تھے، "پڑھو پٹے سیتارام سیتارام"۔ اور کبھی اشرفی لال کی آنکھ کا کھلنا اور طوطے کی آواز کا پھوٹنا ایک ساتھ ہی ہوتا تھا۔ فرق رہتا بھی تھا تو معمولی سا، اتنا باریک کہ پہچانا نہ جاسکے۔ اور آج بھی اشرفی لال اور طوطا ساتھ ساتھ جاگے تھے۔ اشرفی لال کی نیند ہٹی، آنکھیں کھلی کھڑکی سے باہر اُجاس کے سوتے میں گھل رہے اندھیرے کا جا...