Posts

افسانہ نمبر 724 : گم شدہ ڈاک، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 724  : گم شدہ ڈاک تحریر : آر کے نارائن (بھارت) اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)   اگرچہ اس کا علاقۂ تقسیم ونایک مُدالی اسٹریٹ اور اس کے ساتھ متوازی چار سڑکوں پر مشتمل تھا، پھر بھی اسے اپنا چکر مکمل کرنے اور کھاتے جمع کرانے کے لیے مارکیٹ روڈ پر واقع ہیڈ آفس واپس پہنچنے میں قریب چھ گھنٹے لگ جاتے۔ وہ خود بھی اُن لوگوں کی قسمتوں اور حالات میں شامل ہو جاتا تھا جن کے نام وہ خطوط لے کر جاتا تھا۔ کبیر اسٹریٹ نمبر 13 پر وہ شخص رہتا تھا جو برسوں سے آدھ رستے تک آ کر خط کا پوچھا کرتا تھا۔ تھناپا نے اسے نوجوانی میں دیکھا تھا، اور پھر روز بہ روز اسے تھڑے پر بیٹھے دیکھتا رہا٬ بال آہستہ آہستہ سفید ہوتے گئے، اور وہ وہیں بیٹھا اس آس میں کراس ورڈ پہیلیاں حل  کرتارہا کہ کے صلے میں کسی دن کوئی بڑا انعام اسکی قسمت میں ہو گا۔ " ابھی تک کوئی انعام نہیں،" وہ روز اسے بتاتا۔ “ مگر دل چھوٹا نہ کیجیے۔ " کسی دوسرے سے وہ کہتا، "اس مہینے آپ کا سود کسی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ " " حیدرآباد سے آپ کے بیٹے کا پھر خ...

افسانہ نمبر 723 : طوفان، تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا)، مترجم : محمد فیصل (کراچی)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 723 : طوفان تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا) مترجم :   محمد فیصل (کراچی)   یہ میرا فیصلہ ہے، میرا انتخاب۔ خالصتاً   میرا ذاتی فیصلہ اور   میں کسی کو بھی اس کی وجہ بتانے کی پابند نہیں۔ میں اس بات کا حق رکھتی ہوں ۔کیوں ٹھیک ہے نا؟ میں نے یہ فیصلہ نوے کی دہائی کے اواخر میں کیا تھا ۔ اس وقت میری عمر بائیس تئیس برس تھی۔ اب مجھے اپنی عمر ٹھیک سے یاد نہیں مگر میں نے یہ فیصلہ مکمل ہوش و حواس میں کیا تھا۔ مکمل ہوش و حواس یہ ہرگز مطلب نہیں کہ میں کبھی کبھار ہوش میں نہیں بھی ہوتی۔ خیر آپ جو مرضی سوچیں ، میں اب صفائیاں دیتے دیتے تنگ آ چکی ہوں۔ پہلا موقع مجھے سمندری طوفان "مشیل" کی بدولت اکتوبر 2001 میں ملا ۔ میری والدہ دل کی بیماری کی وجہ سے فوت ہو چکی تھیںاور خدا بھلا کرے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا ، جن کی بدولت میرے والد کو جیل سے رہائی ملی(اگرچہ انھیں جلا وطن کیا گیا تھا)۔ وہ آج کل لاس اینجلس میں مقیم ہیں ۔ میرے بڑے بھائی نینے کو گردن میں گولی مار دی گئی۔ نینے ہی کیوں؟ میں نہیں جانتی۔ اس کا کسی کو...