Posts

افسانہ نمبر 739 : حریف || مصنف: پی ۔پدمراجو || اردوترجمہ: حنظلہ خلیق الرحمٰن

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 739 : حریف (The Rivals) مصنف: پی ۔پدمراجو (تیلگو ، ہندوستان) اردوترجمہ: حنظلہ خلیق الرحمٰن   گوداوری اپنے جوبن پر تھی۔ اس کا مٹیالا پانی، جو دھوئیں کی مانند گھومتی ہوئی لہروں میں لپٹا بہتا تھا، بڑے سے بڑے دلیر کو بھی خوف زدہ کر دینے کے لیے کافی تھا۔ مگر دھوبی ایسے نہ تھے کہ اس ہیبت سے مرعوب ہو جائیں؛ وہ بے دھڑک بیچ دھار میں اتر جاتے، بہتے ہوئے درختوں اور ٹہنیوں کو قابو میں لا کر کنارے تک لے آتے۔ وہ طلوعِ سحر کے ساتھ ہی دریا میں اترتے اور شام ڈھلتے ڈھلتے کنارا لکڑیوں اور شاخوں سے بھر جاتا۔ جب مرد بیچ دھار میں جا کر اپنی جرأت کا امتحان دیتے، تو عورتیں کنارے پر کھڑی ہو کر کانٹے دار ڈنڈوں کی مدد سے بہتی لکڑیوں کو اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کرتیں۔ ان دنوں گوداوری گویا ایک ہنگامہ برپا کیے ہوئے تھی؛ پھولا ہوا دریا پورے کے پورے جنگلات کو جڑ سے اکھاڑ کر اپنے ساتھ بہائے لیے جاتا، اور انسان اس کے بہاؤ کو روک کر ان ٹکڑوں کو کنارے پر جمع کرنے کی تدبیر کرتا۔ یوں آدمی اپنی فطرت پر بالادستی قائم رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا۔ یہ...

افسانہ نمبر 738 : ممنوعہ لفظ || مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی) || مترجم: خالد فرہاد (سیالکوٹ)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 738 : ممنوعہ لفظ ( اطالوی افسانہ) مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی) مترجم: خالد فرہاد   (سیالکوٹ)   محتاط اشاروں کنایوں، ذومعنی چٹکلوں، نپی تلی گفتگوؤں، اور پراسرار سرگوشیوں کے بعد، بالآخر مجھے یہ اندازہ ہو ہی گیا   کہ اس شہر میں—جہاں منتقل ہوئے مجھے تین ماہ ہو چلے ہیں— ایک خاص لفظ کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔ وہ کونسا لفظ ہے؟ یہ میں نہیں جانتا۔ممکن ہے کہ وہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی لفظ ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ روزمرہ استعمال کا کوئی عام سا لفظ ہو۔ اگر ایسا ہے، تو میرے جیسے پیشے سے وابستہ شخص کے لیے کچھ دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ خوفزدہ ہونے کی بجائے مضطرب اور متجسس ہو کر میں اس صورتحال پر اپنے دوست ’ہیرونیمو‘ سے مشورہ کرنے گیا۔ وہ میرے تمام جاننے والوں میں سب سے زیادہ دانا ہے؛ چونکہ وہ اس شہر میں بیس سال سے زائد عرصے سے مقیم ہے لہذٰا یہاں کی زندگی اور اس کے تمام تر عجائبات سے بخوبی واقف ہے۔ ’’ ہاں یہ سچ ہے۔‘‘ میری بات سنتے ہی ہیرونیمو نے فوراً کہا، ’’واقعی یہاں ایک ایسا ممنوعہ لفظ ہے جس سے ہر...

افسانہ نمبر 737 : بچھیرا پلٹن کا کُوچ || تحریر : وولف دیتریش شنور (جرمنی) || مترجم : خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 737 : بچھیرا پلٹن کا کُوچ ( جرمن کہانی) تحریر : وولف دیتریش شنور (جرمنی) مترجم : خال د فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)     صبح چھ بجے ہی وہ قطار بند ہونے لگے۔ اندھیرا ابھی تک چھایا ہوا تھا۔ وہ چبوترے کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ وہاں ایک جھنڈا لہرا رہا تھا، جس پر   صلیب اور   کتاب کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ کھمبوں پر قمقمے جگمگا رہے تھے۔ وہ اپنی آنکھیں مل رہے تھے۔ کچھ تو ابھی تک ایک دوسرے سے ٹیک لگائے، کھڑے کھڑے اونگھ رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ ابھی تک انہوں نے بندوقوں کو ٹھیک سے سنبھالنا بھی نہیں سیکھا تھا۔ پھاٹک کے باہر ان کی مائیں خاموش کھڑی تھیں۔ سنتری اوپر نیچے آ جا رہے تھے، ان کے آہنی ٹوپ چمک رہے تھے۔ ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی اور کہرا چھایا ہوا تھا۔ چھاؤنی میں ابھی تک روشنی جل رہی تھی۔ اندر افسران دوڑ دوڑ کر تاخیر سے آنے والوں کو بیرک سے نکال کر لا رہے تھے۔ وہ آنکھیں موندے، ایک ہاتھ میں بندوق اور دوسرے میں کپڑے کا بھالو یا گُڈا تھامے، لڑکھڑاتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے اُتر رہے تھے۔ ’...