افسانہ نمبر752 : تیل || مصنف: یاسوناری کاواباتا (جاپان) || مترجم: حنظلہ خلیق (شرق پور)
افسانہ نمبر752 : تیل مصنف: یاسوناری کاواباتا (جاپان) مترجم: حنظلہ خلیق (شرق پور) جب میں محض تین برس کا تھا تو میرے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اگلے ہی برس والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اپنے والدین کی کوئی ایک بات بھی یاد نہیں۔ یہاں تک کہ میری ماں کی کوئی ایک تصویر بھی باقی نہ بچی۔ میرے والد ایک طرحدار اور وجیہہ انسان تھے، اس لیے شاید انہیں اپنی تصویریں کھنچوانے کا ذوق تھا۔ جب ہم نے اپنا آبائی مکان بیچا، تو کباڑ خانے سے والد کے مختلف ادوار کی کوئی تیس چالیس تصویریں میرے ہاتھ آئیں۔ مڈل اسکول کے زمانے میں جب میں بورڈنگ میں رہتا تھا، تو ان میں سے سب سے خوبصورت تصویر میں نے اپنی میز پر سجا رکھی تھی، مگر وقت کی دھول اور بار بار کی نقل مکانی کے باعث وہ تمام تصویریں ایک ایک کر کے مجھ سے کھو گئیں۔ تصویر دیکھنے سے میری کوئی یاد تازہ نہیں ہوتی تھی، اس لیے اگرچہ میں یہ تصور تو کر لیتا تھا کہ یہ میرے ہی والد ہیں، مگر اس خیال سے دل میں کوئی حقیقی کسک یا جذباتی وابستگی بیدار نہ ہوتی۔ لوگ مجھے ان کے قصے سناتے، مگر وہ سننا ایسا تھا جیسے کسی اجن...