افسانہ نمبر789 : آٹھویں بیٹی || مصنفہ: فرشتہ غنی(افغانستان) || اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق
افسانہ نمبر789 : آٹھویں بیٹی مصنفہ: فرشتہ غنی(افغانستان) انگریزی سے اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق دوپہر ڈھل رہی ہے۔ مغرب کی اذان میں ابھی کچھ دیر باقی ہے۔ میں بھوکی ہوں لیکن روزے سے ہوں۔ میری ٹانگیں کمزور ہیں اور ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ باورچی خانے میں ایک عجیب سا سکوت طاری ہے، مگر پریشر ککر کی سیٹی، جو ابھی ابھی ابلنے لگا ہے، اس خاموشی کو توڑ رہا ہے؛ اس کی آواز بلند سے بلند تر اور ہولناک ہوتی جا رہی ہے۔ اس شور نے میرے خوف کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ میں گھڑی دیکھتی ہوں: پانچ بج کر سترہ منٹ ہو چکے ہیں۔ میں گوشت کے نیچے چولہے کی آنچ دھیمی کر دیتی ہوں۔ مہمانوں کے لیے صاف کرنے، کاٹنے اور پکانے کی غرض سے پالک کا ایک بڑا گچھا رکھا ہے۔ باورچی خانہ اتھل پتھل اور بے ترتیب ہے، اور یہ حالت مجھے گھٹن میں مبتلا کر رہی ہے۔ میں پالک کا گچھا کھولتی ہوں، ایک ایک پتہ چن کر صاف کرتی ہوں، اور بڑے چھُرے سے اسے کاٹنے لگتی ہوں۔ بسا اوقات سبزیوں پر اپنا سارا غصہ اتار لینا اور انہیں زور زور سے کاٹنا ایک ہلکا پھلکا سا سکون دیتا ہے۔ میں بالکل ایسا ہی کر رہی ہوں۔ ابھی میں نے پالک کاٹنا ختم بھی ...