افسانہ نمبر 790 : ساتواں آدمی || تحریر : ہاروکی موراکامی (جاپان) || اردو ترجمہ: قربان چنا
افسانہ نمبر 790 : ساتواں آدمی تحریر : ہاروکی موراکامی (جاپان) اردو ترجمہ: قربان چنا (ڈبھرو، ضلع نوشہرو فیروز، سندھ ) ”ایک بہت بڑی لہر مجھے تقریباً بہا لے گئی تھی،“ ساتویں آدمی نے دھیمی، تقریباً سرگوشی جیسی آواز میں کہا۔ ” یہ ستمبر کی ایک سہ پہر کا واقعہ ہے، جب میری عمر دس برس تھی ۔“ اُس رات اپنی داستان سنانے والوں میں وہ آخری شخص تھا۔ گھڑی کی سوئیاں رات کے دس بجا چکی تھیں۔ چند لوگ ایک دائرے کی صورت میں سمٹ کر بیٹھے تھے۔ باہر اندھیرے میں چلتی ہوا کی گرج اُن کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ ہوا کا رُخ مغرب کی جانب تھا۔ وہ درختوں کو جھنجھوڑتی، کھڑکیوں کو کھڑکھڑاتی اور آخر میں ایک لمبی سی سیٹی بجاتی ہوئی اُس مکان کے پاس سے گزر جاتی۔ ”وہ میری زندگی میں دیکھی گئی سب سے بڑی لہر تھی، اُس نے کہا۔ ایک عجیب و غریب لہر۔ ایک دیوہیکل لہر۔“ وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا۔ ”وہ بس مجھے چھوتے چھوتے رہ گئی، لیکن میری جگہ اُس نے ہر اُس چیز کو نگل لیا جو میرے لیے سب سے زیادہ عزیز تھی، اور اُسے اپنے ساتھ کسی دوسری دنیا میں بہا لے گئی۔ اُسے دوبارہ پانے اور اُس تجربے ...