Posts

افسانہ نمبر 781 : حاجی هوتک کا آسیب || مصنف: جمیل جان کوچی (افغانستان/امریکہ) || ترجمہ: حنظلہ خلیق (لاہور)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 781   :   حاجی هوتک کا آسیب   مصنف: جمیل جان کوچی (افغانستان/امریکہ) ترجمہ: حنظلہ خلیق (لاہور) تمہیں ٹھیک سے معلوم نہیں کہ کیلیفورنیا کے ویسٹ سیکرامنٹو میں، اس مخصوص گھر اور اس مخصوص خاندان کی نگرانی پر تمہیں کیوں تعینات کیا گیا ہے۔ ویسے بھی یہ جاننا تمہارا کام نہیں ہے۔ تاہم، چند دنوں کے بعد تم یہ اندازہ لگانے لگتے ہو کہ تمہاری اس تفویض کردہ ذمہ داری (اسائنمنٹ) کے مرکز میں موجود مشتبہ شخص دراصل اس گھر کا سربراہ ہے، جسے 'حاجی' کا کوڈ نام دیا گیا ہے؛ حالانکہ تمہارے پاس یہ ماننے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں کہ اس نے کبھی واقعی مکہ جا کر حج کیا ہو۔ درحقیقت، حاجی بمشکل ہی گھر سے نکلتا ہے۔ وہ گھنٹوں اپنے گھر یا صحن میں آوارہ گردی کرتا رہتا ہے اور مرمت کے لیے چیزیں تلاش کرتا ہے۔گلی سڑی لکڑیاں، ٹوٹی ہوئی چھت کی ٹائلیں، جلے ہوئے بلب، خراب گھاس کاٹنے والی مشینیں، ٹوٹے شیشے اور قبضوں سے اترے دروازے۔ وہ یہ سب تب تک کرتا ہے جب تک اس کی پرانی چوٹیں درد نہ کرنے لگیں، اور پھر وہ جہاں کام کر رہا ہوتا ہے وہیں لیٹنے پر مجبور ہو جا...

افسانہ نمبر 778 : ایک ذرا سی کج خلقی || تحریر : رے براڈ بری۔ (امریکہ) || ترجمہ : جاوید بسام۔ (کراچی)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)   افسانہ نمبر 778 :   ایک ذرا سی کج خلقی   تحریر   : رے براڈ بری۔ (امریکہ) ترجمہ : جاوید بسام۔ (کراچی)   مئی کی ایک عام سی شام، جوناتھن ہیوز کی انتیسویں سالگرہ سے ایک ہفتہ قبل اپنی تقدیر سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ ایک ایسے مسافر کی صورت میں جو کسی اور زمانے، کسی اور برس، کسی اور زندگی سے سفر کرتا ہوا وہاں پہنچا تھا۔   ابتدا میں ہیوز اپنی تقدیر کو نہیں پہچانا۔ وہ اسی دوران پنسلوانیا اسٹیشن سے ریل میں سوار ہوا اور لانگ آئی لینڈ کے سفر کے دوران ہیوز کے ساتھ رات کے کھانے کے لیے بیٹھ گیا۔   ہیوز کی نگاہ اس کے ہاتھ میں پکڑے اخبار پر پڑی، اخبار نے اسے پہلے چونکایا، پھر گھورنے پر مجبور کیا۔ آخرکار اسے بات کرنی پڑی۔ ”جناب! معاف کیجیے گا، آپ کا نیویارک ٹائمز میرے اخبار سے کچھ مختلف ہے۔ پہلے صفحے کا حرفی انداز زیادہ جدید ہے۔ کیا یہ کوئی بعد کا ایڈیشن ہے؟ “   ” نہیں۔“بوڑھے نے توقف کیا۔ پھر ہچکچا کر بولا۔ ”ہاں، بہت بعد کا ایڈیشن۔ “   ہیوز نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ ”معاف کیجیے گا، مگر باقی تمام ایڈیشن تو ا...