Posts

افسانہ نمبر 750 : استانی کا مہمان || تحریر : ازابیل آئندے (چلی) || ترجمہ : جاوید بسام (کراچی)

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)  افسانہ نمبر 750  : استانی کا مہمان تحریر : ازابیل آئندے (چلی) ترجمہ : جاوید بسام (کراچی)     اُس دن جب بازار سنسان پڑا تھا، استانی اِنیس، ’مشرق کا موتی‘ نامی دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی کاؤنٹر کی طرف بڑھی۔ جہاں ریاد حلابی شوخ پھول دار کپڑے کا تھان لپیٹ رہا تھا۔ وہ بولی۔ ”میں نے سرائے کے ایک مہمان کا سر قلم کر دیا ہے۔ “   حلابی نے گھبرا کر جیب سے رومال نکالا اور منہ پونچھا۔ پھر بڑبڑایا۔ ” اِنیس، تم کیا کہہ رہی ہو؟ “   ” ترک! وہی جو تم نے سنا ہے۔ “   ” کیا... وہ مر گیا؟ “   ” ہاں۔ “   ” اچھا۔۔۔ اب کیا کرنا ہے؟ “   ” یہی معلوم کرنے تمہارے پاس آئی ہوں۔“ اِنیس نے پیشانی پر بکھری ہوئی لٹ سمیٹتے ہوئے جواب دیا۔   ریاد حلابی نے آہ بھری اور بولا۔ ”ذرا ٹھہرو، میں احتیاطاً دروازہ بند کر دوں۔ “   وہ دونوں اتنے برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے تھے کہ انہیں اب یہ بھی یاد نہیں تھا کہ ان کی دوستی کو کتنا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن پہلی ملاقات کا ہر منظر آج بھی دونوں کے...