Posts

افسانہ نمبر 733 : دُنیا کا اختتام || مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی) || مترجم: خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)  افسانہ نمبر 733 : دُنیا کا اختتام مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی) مترجم: خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)   ایک صبح، تقریباً گیارہ بجے، شہر کے آسمان پر ایک بہت بڑا مُکا نمودار ہوا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ ایک پنجے کی طرح کھلتا گیا اور موت کے ایک عظیم چنگل کی مانند فضا میں ساکت ہو گیا۔ بظاہر وہ گوشت کا بنا ہوا معلوم ہوتا تھا، مگر نہیں، وہ گوشت نہیں تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے پتھر سے تراشا گیا ہو، مگر وہ پتھر بھی نہیں تھا۔ گمان گزرتا تھا کہ بادلوں سے بنا ہے، مگر وہ بادل بھی نہیں تھا۔ وہ قیامت کی نشانی  تھا۔ ایک سرگوشی جو تھوڑی ہی دیر میں آہ و بکا اور پھر چیخ و پکار میں بدل گئی، ہر طرف پھیل گئی۔ یہ آواز ایک مربوط، اور ہولناک صدا کی صورت اختیار کر گئی اور صور کی گونج بن کر آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ لوئیزا اور پیئترو، اس پہر کی ملائم دھوپ میں ایک ایسے چوراہےپر موجود تھے جو شاندار عمارتوں اور باغات سے گھرا ہوا تھا۔ آسمان میں، ایک غیر معین بلندی پر وہ ہاتھ اب بھی معلق تھا۔ کھڑکیاں داد خواہی اور دہشت بھری چیخوں کے ساتھ کھل رہی تھیں اور نازک لباس ...

انتخاب افسانہ نمبر 735 : آناگور کی فصیل || تحریر : دینو بوتزاتی (اٹلی) || مترجم: خالد فرہاد (سیالکوٹ)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) انتخاب افسانہ نمبر 735 : آناگور کی فصیل تحریر : د ینو بوتزاتی (اٹلی) مترجم: خالد فرہاد (سیالکوٹ)   تبیستی کے عین قلب میں، ایک مقامی سیاحتی راہ نما نے مجھے پیشکش کی کہ اگر میں آناگور شہر کی فصیل دیکھنا چاہوں تو وہ میری ہمراہی کر سکتا ہے۔ میں نے نقشے پر نظر دوڑائی، لیکن وہاں آناگور نام کا کوئی شہر نہیں تھا۔ یہاں تک کہ سیاحتی کتابچوں میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں تھا، جو کہ عموماً تفصیلات سے بھرے ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا، ’’یہ کیسا شہر ہو گا، نقشوں پر جس کا کوئی نام و نشان تک نہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’یہ ایک عظیم شہر ہے، نہایت خوشحال اور طاقتور، پھر بھی یہ کسی نقشے پر موجود نہیں، کیونکہ ہماری حکومت اس سے اغماض برتتی ہے، یا کم از کم نظر انداز کرنے کا دکھاوا کرتی ہے۔ یہ خودمختار شہر   ہے اور کسی کا باج گزار نہیں۔ یہ اپنی ہی دنیا میں مگن ہے، اور بادشاہ کے وزراء تک اس میں داخل نہیں ہو سکتے۔ دور   و نزدیک، کسی بھی ملک کے ساتھ اس کی کوئی تجارت نہیں۔ یہ قلعہ بند شہر ہے۔ یہ صدیوں سے اپنے مضبوط حصار میں آباد ہے۔ اور حقیقت یہ ہے ک...

افسانہ نمبر 731 : محاصرۂ برلن || مصنف: الفانسو دودے (فرانس) || مترجم: خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 731 : محاصرۂ برلن مصنف: الفانسو دودے (فرانس) مترجم: خالد فرہاد دھاریوال   (سیالکوٹ)         ہم ڈاکٹر وی. کے ہمراہ خیابان شانزے لیزے پر گامزن تھے؛ گولیوں سےچھلنی دیواریں اور گولہ باری سے اُدھڑی ہوئی پگڈنڈیاں جنگ کی ستم گری کی گواہی دے رہی تھیں۔ ’یادگارِ لیتوال‘ تک پہنچنے سے ذرا پہلے ڈاکٹر اچانک رُک گیا۔ اُس نے ’محرابِ فتح‘ کے پاس ایستادہ پُرشکوہ مکانات میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’اُس بالکونی کے وہ چار بند دریچے دیکھ رہے ہو؟ گزشتہ برس اگست، اُس پُر آشوب اگست کے آغاز میں، مجھے وہاں ایک مفلوج کا معائنہ کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ مریض کرنل ژوو تھا؛ نپولین اوّل کے عہد کا ایک سابقہ جنگجو شہسوار، جو حُب الوطنی اور رزم آرائی کے جذبے سے سرشار تھا۔ جنگ چھڑتے ہی وہ اِس علاقے میں سڑک کی جانب کھلنے والی کھڑکیوں والے مکان میں آن بسا تھا، جانتے ہو کیوں؟ اس لیے کہ اپنی فوج کی فاتحانہ واپسی کا جشن اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کر سکے۔ بیچارہ بوڑھا! ایک دن وہ ابھی کھانے کی میز سے اُٹھا ہی تھا کہ وسیم...

انتخاب افسانہ نمبر 730 : عظمتِ انسان، مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی)، مترجم: خالد فرہاد دھاریوال

Image
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)   انتخاب افسانہ نمبر 730 : عظمتِ انسان مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی) مترجم: خالد فرہاد دھاریوال   شام کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا جب اُس تاریک کوٹھڑی کا دروازہ کھلا اور پہرے داروں نے ایک پستہ قد، با ریش بوڑھےکو اندر دھکیل دیا۔ بوڑھے کی بہت لمبی، سفید داڑھی سے زنداں کی تیرگی میں نور کا ہیولیٰ سا پھوٹتا محسوس ہو رہا تھا، جس نے وہاں قید مجرموں کے دِلوں پر   عجیب اثر کیا۔ بوڑھےکو شروع میں اندھیرے کےباعث اندازہ نہیں ہوا کہ اِس کال کوٹھڑی میں کوئی اور بھی موجود ہے، چنانچہ اُس نے نحیف آواز میں سوال کیا: ’’کیا کوئی ہے؟‘‘ جواب میں تضحیک آمیز قہقہوں اور تمسخرانہ آوازوں کا طوفان اُٹھا۔ پھر روایت کے مطابق تعارف کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک بھاری آواز آئی: ’’ریکارڈون، مارچیلی؛ سنگین ڈکیتی۔‘‘ ایک دوسری آواز، جو قدرے رندھی ہوئی تھی، گونجی: ’’بیتزیدا، کارمیلو؛ عادی مجرم، دھوکہ دہی۔‘‘ اور پھر: ’’مارفی، لوسیانو؛ عصمت دری۔‘‘ ’’لاواتارو، میکس؛ بے گناہ!‘‘ کوٹھڑی قہقہوں سے گونج اُٹھی۔ اس بذلہ سنجی کو بہت سراہا گیا کیونکہ سبھی جانتے ...