Posts

افسانہ نمبر 745 : الْمعتصم کی تلاش || تحریر : خورخے لوئیس بورخیس (ارجنٹائن) || ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 745 : الْمعتصم کی تلاش   تحریر : خورخے لوئیس بورخیس   (ارجنٹائن) ترجمہ: حنظلہ خلیق   (شرق پور)     فلپ گویڈیلا (Philip Guedalla) ہمیں خبر دیتا ہے کہ بمبئی کے ایک بیرسٹر میر بہادر علی کا ناول "الْمعتصم کی تلاش" دراصل ان اسلامی تمثیلوں، جو اپنے ہی مترجمین کو مرعوب کرنے سے کبھی نہیں چوکتی، اور جاسوسی کہانیوں کی اس صنف کا ایک ایسا بے چین سا امتزاج ہے جو ناگزیر طور پر ڈاکٹر واٹسن کو بھی مات دے دیتا ہے اور انسانی زندگی کی اس ہولناکی کو مزید بڑھاوا دیتا ہے جو برائٹن کی نہایت معزز قیام گاہوں میں پائی جاتی ہے۔ اس سے قبل مسٹر سیسل رابرٹس بھی بہادر علی کی اس کتاب پر یہ کہہ کر کڑی تنقید کر چکے تھے کہ اس میں ولکی کولنز اور بارہویں صدی کے معروف فارسی صوفی فرید الدین عطار کا ایک ناقابلِ فہم دوہرا اثر دکھائی دیتا ہے، یہ ایک بالکل سادہ سا مشاہدہ تھا جسے گویڈیلا نے محض ایک طوطے کی طرح دہرایا، گو کہ ذرا زیادہ غضب ناک اور تلخ اصطلاحات کے لبادے میں۔ بنیادی طور پر، یہ دونوں تبصرہ نگار ایک ہی نقطے پر متفق ہیں، وہ د...

افسانہ نمبر 744 : بھولی ماریا || تحریر : ایزابیل ایلندے (چلی) || اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 744   : بھولی ماریا تحریر : ایزابیل ایلندے (چلی) اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)     بھولی ماریا محبت پر یقین رکھتی تھی۔ یہی بات اسے ایک زندہ داستان بنا گئی تھی۔ اس کے تمام پڑوسی اس کے جنازے میں آئے، حتیٰ کہ پولیس والے اور وہ نابینا آدمی بھی جو کھوکھے پر بیٹھتا تھا اور جو تقریباً کبھی اپنا کام نہیں چھوڑتا تھا۔ کالے ریپبلِکا ( Calle República ) سڑک سنسان ہو گئی تھی اور سوگ کی علامت کے طور پر بالکونیوں سے سیاہ فیتے لٹک رہے تھے اور گھروں کی سرخ بتیاں بجھا دی گئی تھیں۔ہر شخص کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے، اور اس محلے میں یہ کہانیاں عموماً اداس کن ہوتی تھیں٬ غربت، بڑھتی ہوئی ناانصافی، ہر طرح کے تشدد، وقت سے پہلے مر جانے والے بچوں اور بھاگ جانے والے عاشقوں کی کہانیاں۔ مگر ماریا کی کہانی مختلف تھی؛ اس میں ایک نزاکت کی چمک تھی جو تخیل کو پرواز دیتی تھی۔ وہ خاموشی سے٬ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے معاملات سنبھالتی ہوئی اپنی پیشہ ورانہ زندگی خود مختاری کے ساتھ گزارنے میں کامیاب رہی تھی ۔ اسے شراب یا منشیات میں ذرّہ برابر دل...

افسانہ نمبر 743 : طوطے || مصنف: ہَردیش || ترجمہ: خورشید عالم (انڈیا)

Image
عالمی ادب کےاردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 743 :   طوطے   مصنف: ہَردیش ( ہندی ناول نگار و افسانہ نگار) ترجمہ: خورشید عالم (انڈیا)   یہ کہنا مشکل تھا کہ پہلے لالہ اشرفی لال جاگتے تھے یا طوطا اور کس کے جاگنے سے اُس گھر میں صبح ہوتی تھی، یعنی صبح ہونے کا احساس۔ کبھی اشرفی لال کی نیند طوطے کی آواز سے ٹوٹتی تھی اور کبھی طوطے کی اپنی نرم پنکھوں میں چھپی ہوئی گردن، کھاٹ چھوڑ کر برآمدے میں آگے اشرفی لال کے قدموں سے ہی اٹھتی تھی۔ طوطا پنجرے کے دو تین چکر کاٹ کر آواز کرتا تھا، "ٹائیں ٹائیں ٹوں۔ں پڑھو پٹے سیتارام سیتارام"۔ آواز میں پھر ایک لے گھل جاتی تھی، "ٹائیں ٹائیں ٹوں پڑھو پٹے سیتارام سیتارام" اور تب اشرفی لال خود اپنا کنٹھ کھولتے تھے، "پڑھو پٹے سیتارام سیتارام"۔ اور کبھی اشرفی لال کی آنکھ کا کھلنا اور طوطے کی آواز کا پھوٹنا ایک ساتھ ہی ہوتا تھا۔ فرق رہتا بھی تھا تو معمولی سا، اتنا باریک کہ پہچانا نہ جاسکے۔ اور آج بھی اشرفی لال اور طوطا ساتھ ساتھ جاگے تھے۔ اشرفی لال کی نیند ہٹی، آنکھیں کھلی کھڑکی سے باہر اُجاس کے سوتے میں گھل رہے اندھیرے کا جا...