افسانہ نمبر 726: ایک دفعہ شہر میں، تحریر : نادیزہ بیلیاکووا۔(روس)، ترجمہ: جاوید بسام۔ کراچی

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 726: ایک دفعہ شہر میں

 تحریر : نادیزہ بیلیاکووا۔(روس)

ترجمہ: جاوید بسام۔ کراچی

 

 


اس دن شہر کے لوگوں نے دھول سے اٹی، اس چھکڑا گاڑی پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جسے ایک اداس اور تھکا ماندہ گدھا کھینچ رہا تھا۔ شہر کے لوگ آس پاس سے گزرتے رہے، لیکن انہوں نے کباڑی کی چیز کے بدلے چیز کی پکار کو نظر انداز کر دیا۔ اگرچہ وہ زور زور سے چلّا رہا تھا: ”ہم پرانی چیزیں لیتے ہیں! ہم اسے .... ہم اسے ٹھیک کرتے ہیں!“

 

اس کی تقریباً گیارہ سالہ پیاری سی بیٹی، گاڑی کے کنارے پر بیٹھی کچھ کام کر رہی تھی۔ کباڑی نے شہریوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے دوہے گائے جو اس نے ابھی تخلیق کیے تھے۔

گاڑی کھڑکھڑاتی اور گدھا آگے ہے!

وہ فیصلہ کرتا ہے کہ جانا کہاں ہے!“

 

لڑکی نے فوراً اپنے والد کا ساتھ دیا۔

گھر ہمارا پہیوں پر اور آسمان،چھت ہے!

بادشاہی ہماری کھڑکی سے گزرتی ہے!“

 

پھر انہوں نے ایک دوسرے کی ہمت افزائی کرتے ہوئے دو گانا گایا۔

ہماری کوششوں کا تھوڑا صلہ!

چنچل قسمت پھر مہربان ہوگی!

آج نہ سہی....!

کل سہی، یقیناً!

کل سہی، یقیناً!“

 

جب ایک خوش لباس خاتون جاتی نظر آئیں تو وہ اس کے پیچھے چلائے۔

ہم برتن مرمت کرتے ہیں!

 ہم سلائی کرتے ہیں!

ہماری محنت سے!

آپ کا گھر سج جائے گا!“

 

 

لیکن آج ان کی منڈلی سے راہگیروں کو بالکل بھی دلچسپی نہیں تھی۔ شہر کے باسیوں میں سے کوئی بھی ان کی گاڑی کی طرف نہیں آیا۔ یہاں تک کہ گدھا بھی افسردہ ہوگیا۔ وہ چلتے چلتے رک جاتا اور سوچ بچار میں گم ہو جاتا۔ آخر کباڑی نے اسے راضی کرنے کی کوشش کی۔ اس نے گدھے کو بڑے ادب اور احترام سے مخاطب کیا: ”پیارے دراز گوش! میں التجا کرتا ہوں کہ خواب سے جاگ جائیں۔ یہاں سڑک پر آپ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں، کوئی ہری گھاس نہیں، کوئی تازہ پانی کا تالاب نہیں... لیکن آگے، اس سڑک کے اختتام پر مجھے آپ کی محنت کا شاندار صلہ نظر آرہا ہے، آہا دیکھو ! وہاں کتنی رسیلی اور تازہ سبز گھاس موجود ہے۔

 

گدھے نے سمجھ داری سے جواب دیا: ”ڈھینچوں... ڈھینچوں....“

 

کباڑی نے بات جاری رکھی۔ ”میں ہریالی سے بھرا ایک قطعہ زمین دیکھ رہا ہوں۔ اس کے جوہر پانی سے یوں سجے ہیں جیسے سورج کی روشنی میں محل کے آئینے چمکتے ہیں۔ خدا کی قسم! آپ کو جلدی کرنی چاہیے۔

 

گدھے نے یہ سن کر اس پر غور کیا اور چلایا۔ ”ڈھینچوں!.... ڈھینچوں!... “ پھر تیزی سے چل دیا۔ پہلے اس کے کھروں کی آواز آئی، پھر گاڑی کے پہیوں کی کھڑکراہٹ اور چرچراہٹ سنائی دی۔

 

کباڑیے کی بیٹی حیرت سے چلائی۔ ”ہاہاہا! ابا آپ کتنے خواب دکھاتے ہیں، گدھے کو کتنی آسانی سے منالیتے ہیں، اب ہمارا ضدی دراز گوش فرمانبرداری سے چلتا ہے۔

 

بیٹی! میں نے سچ کہا ہے، اُدھر دور دیکھو۔“ والد نے کہا۔

 

لڑکی نے دیکھا اور بولی۔ ”واہ، خوبصورت چراگاہ! اتنی گھاس! ہمارا گدھا آرام سے پیٹ بھرے گا۔

 

دن ڈھل رہا ہے۔ اب آرام کرنا بہتر ہے تو میرے دراز گوش دوست، آگے بڑھو! آگے!“ کباڑی نے مزید کہا۔

 

اس کی گدھے سے بات چیت، بیٹی کو ہمیشہ خوش کرتی تھی۔ اس لیے اکثر اس کی گاڑی سے ہنسی کی گھنٹیاں سنائی دیتی تھیں۔ راستے میں لڑکی شہر کی گلیوں، دکانوں اور راہ سے گزرنے والے لوگوں کا مشاہدہ کرتی رہتی۔ جب بھی وہ شہر کی طرف دیکھتی اسے خیال آتا۔ ہم ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، سڑکیں اور راستے ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ ہماری گاڑی کھڑکھڑاتی رہتی ہے، لیکن جب ہم ایک اجنبی شہر میں پہنچتے ہیں، تو ہمیشہ کسی معجزے کی امید کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہاں ہمیں زندگی کی خوشی ملے گی۔ ابا صرف کباڑی نہیں ہیں، وہ ہر فن مولا ہیں۔ وہ ایسی چیزوں کو بھی ٹھیک کر دیتے ہیں جو بالکل بیکار لگتی ہیں۔ وہ مضبوط ٹانکے لگاتے اور ٹن کے برتن جوڑتے ہیں۔ لوگ اکثر ٹوٹی پھوٹی چیزوں کے ساتھ ان کے پاس آتے ہیں۔ وہ کام کرتے اور اجرت لیتے ہیں۔ یہی ان کا روزگار ہے۔ ہم ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتے ہیں اور لوگوں کی توجہ اور کام حاصل کرنے کے لیے اونچی آواز میں گانا گاتے ہیں۔ 

 

لڑکی کے خیالوں میں والد کے ایک نئے گانے نے خلل ڈالا جو اس نے ابھی تخلیق کیا تھا اور فوراً ہی گانا شروع کر دیا تھا۔

 

گاڑی بھری ہوئی ہے!

اس میں کیا نہیں ہے!

استعمال شدہ تاج.....!

چالیس بادشاہتوں کے لیے!

ایک مرمت کیا قالین!

یہ محل کو سجائے گا!

قلعی شدہ برتن!

گیتوں کا ایک البم!

ایک تازہ لطیفوں کا کتابچہ!

ہم خوشی سے تبادلہ کریں گے!

لیکن... کون انہیں لے گا؟

 

 

لڑکی کو یہ گانا بہت پسند آیا۔ وہ خوشی سے کھل اٹھی، لیکن پھر اسے اپنی زندگی کا خیال آیا اور اس نے آہ بھرتے ہوئے سوچا کہ یہ اشعار اور گیت ہر بار لطف دیتے ہیں۔ کیوں کہ ابا ایک بہترین تخلیق کار ہیں۔ وہ ہمیشہ خوش رہتے ہیں، چاہے حالات کتنے ہی گھمبیر کیوں نہ ہو۔

 

لیکن اس دن باپ بیٹی نے چاہے کتنے ہی گانے گائے، چاہے کتنی ہی اونچی آواز میں شعر سنائے، مگر کوئی بھی ان کی گاڑی کی طرف نہیں آیا۔ دن بھر نہ کوئی کام ملا اور نہ کوئی اجرت۔

 

کباڑی نے کچھ اور اشعار تخلیق کیے اور اس امید پر فوراً گانے لگا کہ شہر کے لوگ اس کے کام میں دلچسپی لیں گے۔

 

میں پرانی چیزوں کو!

نئی سے بدلتا ہوں!

گھوڑوں کی بناتا ہوں نعلیں!

لباس پر اگر ہیں سوراخ!

لگاتا ہوں شاہی پیوند!

میں خواتین کے برتن جوڑوں گا!

ان پر قلعی کروں گا!

معاوضہ، چند سکے اور چائے کا ایک کپ!

 

لڑکی نے مشترکہ مقصد کی حمایت میں خود بھی ایک مصرع تخلیق کیا:

 

ایک مہربان لفظ!

 اداس دل کے لیے!

اور بدلے میں تھوڑی سی اجرت!“

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

اب شام ہوگئی تھی۔ شہر پیچھے رہ گیا تھا۔ کباڑی اور اس کی بیٹی ایک جگہ آرام کرنے کے لیے بیٹھ گئے اور دن بھر کی ناکامی پر تبادلہ خیال کرنے لگے۔

 

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“ کباڑی نے گدھے کی ایال میں کنگھی کرتے ہوئے اونچی آواز میں کہا۔ اس کے لہجے میں حیرت عیاں تھی۔

 

ہاں، ہمیں کچھ سوچنا ہوگا۔“ لڑکی نے باپ کی بات سے اتفاق کیا۔

 

اس شہر میں بظاہر سب کچھ ٹھیک، سب کچھ درست ہے، کسی کو میری خدمات کی ضرورت نہیں۔ آخر میں لوگوں کو کیا پیش کروں جو ان کے پاس نہ ہو؟ اور انہیں ضرورت بھی ہو؟

 

خوشی! صرف خوشی، غالباً... “

لڑکی نے گاڑی سے دھول جھاڑتے ہوئے اداسی سے مذاق کیا۔

 

یہ سن کر کباڑی غیر متوقع طور پر خوش ہوگیا۔ ”بالکل! بالکل، سمجھدار لڑکی! خوشی! یہ ہمیشہ ہر ایک کو درکار ہوتی ہے۔

 

ابا، لیکن ہم لوگوں کو وہ چیز پیش نہیں کرسکتے جو ہمارے پاس نہیں ہے اور آج ہمارے پاس روٹی بھی نہیں ہے۔“ لڑکی نے اداسی سے کہا۔

 

بستر پر جاؤ، میری بیٹی! کل ہم جشن منائیں گے۔ میں تم کو لوری سناتا ہوں۔“ اس نے گاڑی کے اندر اپنی بیٹی کے لیے بستر بچھاتے ہوئے کہا۔

 

آپ کے تکیے کے نیچے!

نیند کی بادشاہی چھائی ہوئی ہے!

معجزے وہاں رہتے ہیں!

سو جاؤ، سو جاؤ!

خوش نواں مجلس! تم سے ملیں گے!

نیند بخشیں گے، تمہیں صبح تک!

رات کی خاموشی سے!

اور چاند کی چمک سے!

وہ جمع کرتے ہیں!

ان کہی کہانیاں!

اور بے مثال خواب!“

 

کباڑیے نے بیٹی کو لوری سنائی اور یہ سوچ کر کہ وہ سوگئی ہے، باہر چلا گیا۔ لڑکی اپنے باپ سے پیار کرتی تھی۔ وہ اس پر ترس بھی کھاتی تھی اور اسے ایک ناقابل تصور خواب دیکھنے والا سمجھتی تھی۔

 

اور کل ہم جشن منائے گے... “ اسے اپنے والد کے الفاظ یاد آئے۔ ”اچھا یہ خیال اور خواب اسے آج کی ناکامی میں سہارا دیں گے۔“ لڑکی نے سوچا اور گاڑی میں دبک کر سوگئی۔

 

صبح جب وہ بیدار ہوئی تو ایک روشن اور پرسکون دن اس کا منتظر تھا۔ اس کے والد دریا میں نہا رہے تھے۔ گدھا تاذہ گھاس چبا رہا تھا۔ لڑکی نے گاڑی سے اتر کر دیکھا کہ گاڑی ناقابلِ شناخت ہو چکی تھی۔ اُس کی دیواریں نئے اشعار سے سجی تھیں اور ہر حرف کو مختلف رنگوں میں لکھا گیا تھا، جس سے الفاظ کی ایک خوش رنگ کہکشاں پیدا ہو رہی تھی۔ لڑکی نے پنجوں پر کھڑے ہوکر حیرت سے بلند آواز میں پڑھا۔

 

ہم ختم کرتے ہیں، پریشانیوں کو!

آپ کے کھانے بے ذائقہ ہیں!

تمام بیزاری اور بری بیماریاں!

پڑوسیوں کی خوشی اور نفع کے لیے!

کسی کی قسمت اور دولت!

ماضی کی خوبیاں، فتوحات!

اب وہ آپ کے لیے ہیں!

اور ایک کھنکتا سکہ ادائیگی ہے!

عظیم جادوگر کے کام!“

 

یہ پڑھ کر وہ خوشی سے اچھل پڑی اور تالیاں بجائیں۔ اس نے توقع کی کہ اس کے والد کا نیا منصوبہ بہت مزے کا ہے، چاہے وہ اس بار بھی کوئی پیسہ کمانے میں کامیاب نہ ہوں۔

 

صبح بخیر!“اس نے باپ کی آواز سنی۔

 

لڑکی نے گھوم کر دیکھا اور اس کے کپڑوں کی چمک سے اس کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ وہ صبح کے غسل سے تروتازہ ہوکر ایک شاندار لباس اور شاہی تاج پہننے کھڑا تھا۔ 

 

واہ بابا! کتنا خوبصورت تاج ہے۔ میں اس شاہی تاج کو پہچان گئی ہوں۔“ لڑکی نے اس کا ستائشی نظروں سے جائزہ لیتے ہوئے کہا۔

 

ہاں، یہ ہمیں بہت دور ایک سلطنت میں، جہاں ہم سفر کر رہے تھے، محل کے باقی سامان کے ساتھ ملا تھا۔ ان دنوں شاہی محل کی تزئین و آرائش کی جا رہی تھی۔

 

ہاں، ہاں!“ بیٹی نے یاد کا دریچہ کھولا۔ ”ہماری چھکڑا گاڑی کتنی شاندار ہوگئی تھی۔ اس دن محل کے توشہ خانے اور تخت شاہی سے متروک چیزیں نکالی جا رہی تھیں۔ یہ چمکتا ہوا تاج ہمیں ایک قابل فخر شہزادی نے دیا تھا۔ کیوں کہ اس کی تاجپوشی کے پروقار دن جب وہ ملکہ بن کر تخت پر بیٹھنے والی تھی، اس نے اس قدیم تاج کی بجائے جو خاندان میں صدیوں سے چلا آرہا تھا، ایک نیا تاج پہننے کو ترجیح دی تھی۔ جو جدید فیشن کے مطابق بنایا گیا تھا۔ وہ اسے پرانی چیز سمجھتی تھی۔ ہم کتنے خوش قسمت تھے؟ اور یہ لباس، ابا، یہ بھی... شاندار ہے۔ بہت خوبصورت، بہت چمکدار ہے۔

 

ہاں، یہ بھی ہمارے پاس غیر متوقع طور پر آیا تھا۔“ کباڑی نے لباس کی تاریخ کو یاد کرتے ہوئے آہ بھری۔” اس سے پہلے کہ کیڑے اس پر دعوت اڑا کر ختم کردیتے۔ یہ میرے پاس آگیا۔ دیکھو! یہ اب بھی شاندار ہے۔ میں نے کتنی مہارت سے تمام سوراخوں اور چنٹوں کو چمکدار ستاروں سے چھپا دیا ہے۔“ کباڑی نے کہا۔

 

ہاں، یہ ہمیں سفر میں مزاحیہ فنکاروں نے دیا تھا۔ ہماری گاڑی کے پہیے کے بدلے میں۔ ان کی گاڑی کا پہیہ ٹوٹ گیا تھا۔ ہمارا پہیہ اس میں فٹ آیا۔ واہ! وہ کتنے خوش تھے۔ وہ ہمیں شہر سے بہت دور ملے تھے۔ آپ نے ان کی مدد کی۔ انہوں نے ہمارا پہیہ استعمال کیا اور آگے بڑھ گئے۔

 

بالکل! وہ جلدی شہر پہنچنا چاہتے تھے، جہاں وہ نواب کے محل میں ڈراما کرنے والے تھے، بہت سے معزز مہمان ان کے منتظر تھے۔ ہمارے پہیے کی وجہ سے وہ وقت پر پہنچے تھے۔

 

پھر آپ نے ان کی گاڑی کا پہیہ ٹھیک کیا۔ وہ ہماری گاڑی کے لیے موزوں تھا۔ ہم بھی ان سے جاملے تھے۔ بابا آپ یہ لباس لینا نہیں چاہتے تھے، جس فنکار نے آپ کو یہ دیا تھا اس کا کہنا تھا کہ اس نے کوئی خاص کردار اس لباس میں کئی بار ادا کیا ہے... اوہ، میں بھول گئی۔

میکسیکن نواب؟

اسی طرح کا کچھ....

یا شاید بابلی بادشاہ؟

ہاں غالباً... وزیر یا شہنشاہ۔

 

پیاری بیٹی! اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن تم جانتی ہو، مجھے یہ لینے میں واقعی عار محسوس ہوئی تھی۔ میں نے دل سے ان کی مدد کی تھی۔ وہ مزاح نگار اچھے لوگ تھے، مصیبت میں گرفتار تھے اور ادائیگی کے لیے ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ ایسا ہوتا ہے۔ تم خود جانتی ہو۔

 

ہاں، یہ ہوتا ہے، لیکن وہ آپ کی مدد سے بہت خوش تھے اور آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے آپ کو کیسے قائل کیا تھا... کیا آپ کو یاد ہے؟

 

ہاں،“ وہ بولے۔ ”براہ کرم یہ لے لیں، ہو سکتا ہے یہ مخمل، ریشم، بروکیڈ اور ستاروں کا ڈھیر مشکل وقت میں آپ کے کام آئے۔ بیٹی تم جانتی ہو، وہ صحیح کہہ رہے تھے۔ آج یہ عظیم جادوگر اور قسمت کے مالک کا لباس بننے جارہا ہے۔

 

واہ... بہت خوب ابا۔

 

تو آج کے لیے یہ لباس بالکل موزوں رہے گا۔“ باپ نے رازدارانہ انداز میں کہا۔

 

لاجواب ابا!“ بیٹی نے خوشی سے اچھلتے اور تالیاں بجاتے ہوئے جواب دیا۔

 

اب آپ کے تیار کردہ لباس کی باری ہے...“

 

بےشک، میں جانتی ہوں کہ آپ کے سنہری ہاتھ بہت ہنرمند ہیں، لیکن آج... مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا ہے۔ آپ نے پھولدار لیس اور کپڑے کے رنگین ٹکڑوں سے کیسا شاندار لباس بنایا ہے۔

 

اس لباس کے اندر ایک راز ہے، لیکن پہلے تم دریا پر جاؤ، اچھی طرح غسل کر کے یہ لباس پہن لو۔ یہاں آستینوں میں ایک آلہ چھپا ہوا ہے ...“

 

یہ ڈور کیسی ہے؟

 

اگر تم انہیں کھینچو گی تو برف کی طرح دو سفید پنکھ کھل جائیں گے اور سب سے اہم بات، آج تم کباڑی کی بیٹی نہیں ہو، بلکہ اس طاقتور جادوگر کے عظیم رازوں کی وارث ہو، جو تقدیر کے راز جانتا ہے۔“ خوش باش کباڑی نے کہا۔

 

پھر لڑکی کی نظر سفید تھیلوں کے ڈھیر پر پڑی۔”اوہ، آپ نے کل رات واقعی محنت کی ہے۔ ابا، ایک رات میں اتنے تھیلے کیسے سل گئے؟ ارے! ان سے تو پوری گاڑی بھری ہے۔ ابا یہ کس لیے ہیں؟

 

میں راستے میں اس کی وضاحت کروں گا۔“ کباڑی نے گدھے پر پرکشش پنکھ کے ساتھ زین کستے ہوئے کہا۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

چھکڑا گاڑی تیزی سے دوڑ رہی تھی اور گدھے کی ایال میں بندھے ہوئے ربن ہوا میں اڑ رہے تھے۔ راستے میں باپ نے لڑکی کو اپنا منصوبہ سمجھایا۔ جلد ہی وہ خوشی سے گنگناتے شہر میں چلے گئے۔

 

اس بار ان کی آمد کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ بازار میں جب تماشائیوں کا ہجوم گاڑی کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہوگیا تو کباڑی گاڑی سے باہر آیا۔ اس نے بڑی شان سے جھک کر سب کو سلام کیا۔ پھر اس نے کچھ مبہم الفاظ ادا کیے: ”بو، او، او، او،او!“

 

بعد ازاں اس نے اجنبی زبان میں ایک لمبی تقریر کی۔ ہجوم نے ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے اسے سننے کی کوشش کی۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے، ”کیا؟ … یہ کیا کہہ رہا ہے؟

 

پھر لڑکی نمودار ہوئی اور پراسرار اجنبی زبان سے ترجمہ کرنے کا بہانہ کرتے ہوئے ایک تان لگائی۔ اس کے ساتھ ہی وہ وقتاً فوقتاً اپنے کف پر ڈور کھینچتی تھی، جس سے اس کے پیچھے چمکتے پنکھ کھل جاتے اور ہوا میں لہرانے لگتے تھے۔ آخر وہ بولی۔ ”آج خواہشات کی تکمیل کی جادوئی شب ہے۔ آپ میں سے کوئی بھی یہ سفید تھیلا ہم سے لے سکتا ہے اور جیسے ہی نئے چاند کی آدھی شب گزرے، آپ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوں اور تھیلے کو کھول کر کہیے۔

 

مسئلہ! مسئلہ

 تھیلے میں چھلانگ!

میں تمہیں گرہ لگا دوں گا!

میں تمہیں چھکڑے میں ڈالوں گا!

گھر سے نکلو، پرانے کباڑ !

میں تمہیں جادوگر کو دوں گا!

صبح اپنا نیا مقدر لوں گا۔

 

پھر اس نے پروں کو پھڑپھڑاتے ہوئے بستی کے چوک میں جمع ہونے والوں کو سمجھایا۔ ”یہ جادوئی منتر آپ کی تمام پریشانیوں کو ایک تھیلے میں جمع کردے گا۔ آپ تھیلے کو باندھیں گے اور اسے دوسرے انجان قسمت کے تھیلے سے بدل لیں گے۔

 

لوگ حیران ہوکر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے۔ ”کیا واقعی وہ وقت آگیا ہے جب تقدیر کو بازار میں موجود سامان کی طرح بدلا جا سکے؟

 

ہاں!“ لڑکی نے جواب دیا۔ ”ہم ایک دور دراز ملک سے آئے ہیں۔ اس سرزمین سے جہاں جادوگر اور دانا لوگ رہتے ہیں۔ وہ لوگوں کی زندگیوں پر ستاروں کے اثرات کے بارے میں قدیم سائنس کے راز جانتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ آج رات آپ کے شہر پر ایک پر اثر ستارہ طلوع ہوگا جو لوگوں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج جو لوگ اپنی مشکلات کو ناقابل برداشت سمجھتے اور چھٹکارا چاہتے ہیں۔ وہ انہیں اپنے ہمسایہ سے بدل سکتے ہیں، اگر ان کی مشکلات آپ کو آسان معلوم ہوں۔

 

یہاں اس کے والد نے اسے روکا اور ایک پراسرار نعرہ لگایا:”آ آ آ آ...بو بو بو بو! اوبی بو با بو بو بو!.... “

 

 لڑکی نے توجہ اور احترام سے اس کی بات سنی اور کہا۔ ”ہم نے یہ سفر آپ کو ایک خوشگوار موقع سے آگاہ کرنے کے لیے کیا ہے۔ تین سو سال میں صرف ایک دفعہ اس ستارے کی مہربان کرن کسی جگہ کو چھوتی ہے۔ دوسرا موقع جلد نہیں آئے گا، لیکن ہماری گاڑی میں ماضی کی پریشانیوں کے ساتھ تھیلے واپس کرنے سے پہلے، آپ کو یہاں چوک میں اپنی پریشانی کے بارے میں بلند آواز میں بتانا ہوگا۔ پھر تھیلا گاڑی میں رکھیں اور اس کی جگہ دوسرا لے جائیں۔ گھر جاکر گرہ کھولیں، اسے ہلائیں، اسے باہر نکالیں اور اپنی نئی زندگی کی راحتوں کا انتظار کریں۔

 

شہر کے لوگ بے چین ہوگئے۔ وہ سوچنے لگے کہ انہیں ایسا تھیلا ملے گا بھی یا نہیں؟ ہجوم میں بڑبڑاہٹیں سنائی دینے لگیں۔ لڑکی نے ان کو مطمئن کیا۔” فکر مت کریں، ہماری گاڑی تھیلوں سے بھری ہوئی ہے جو سب کے لیے کافی ہیں۔ آپ کے شہر میں زیر گردش سب سے چھوٹے سکے کے عوض ہم باخوشی آپ کو تھیلا دیں گے۔

 

یہ سن کر شہر کے ہر فرد نے سوچا۔ ”مجھ سے زیادہ مشکل حالات میں کوئی نہیں ہے۔ میری مصائب سب سے بدتر ہیں۔ ان کو آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ پھر میں ایسا کیوں نہ کروں۔

 

شہریوں نے جلدی جلدی تھیلے خرید لیے جو کباڑی نے ایک رات پہلے سلائی کیے تھے اور آدھی رات کا انتظار کرنے لگے۔ ان کا چھوٹا سا شہر جو عام طور پر کسی بھی واقعہ سے متاثر نہیں ہوتا تھا۔ آج ان کی وجہ سے پر جوش ہوگیا تھا۔

 

سب خوش تھے، تقریباً ہر کوئی اپنی تقدیر بدلنا چاہتا تھا۔ اس شہر میں بہت کم لوگ تھے جو اپنی زندگی سے مطمئن اور شکر گزار تھے۔

 

چنانچہ جیسے ہی رات ہوئی شہر کے لوگ چاروں طرف سے کباڑی کی گاڑی کی طرف آنے لگے۔ کچھ لوگ مشعلیں لیے ہوئے تھے، کچھ مٹی کے تیل کے لیمپ اور کچھ اپنے ہاتھوں سے موم بتی کے شعلے کو ہوا سے بچا رہے تھے۔ ان سب کے پاس گرہ بندھے کباڑی کے سفید تھیلے تھے۔ سب گاڑی کے گرد گھیرا ڈال کر کھڑے ہوگئے اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگے۔ تاکہ اپنی ماضی کی کہانیاں اور ناکامیوں کی داستان سنائیں۔ چوک میں آگ کے الاؤ جل رہے تھے۔ وہ خود کو گرماتے، اور پڑوسیوں کی مصیبتیں سن کر حیران ہوتے کہ ان کے گاؤں کے لوگ کتنے دکھی ہیں۔ پھر بہت سے لوگوں کو اپنی زندگی کی مشکلات پڑوسیوں کی مشکلات کے مقابلے کم محسوس ہونے لگیں۔ جب آخری شخص نے بھی اپنی پرانی تقدیر والا تھیلا نئے تھیلے سے بدل لیا اور خوشگوار تبدیلیوں کی امید لیے اپنے اپنے گھر جانے لگے۔ اسی لمحے کباڑی نے جادوئی مہارت سے پھول جھڑیاں، پٹاخے اور دھوئیں کے بم یوں چلائے کہ پورا چوک گھنے دھوئیں میں چھپ گیا اور اس میں رہ رہ کر رنگ برنگی روشنیاں چمکنے لگیں۔کباڑی کی بیٹی فوراً گاڑی پر چڑھ گئی اور اپنے پروں کو آگے پیچھے ہلانے لگی، جس سے تماشائیوں کو لگا کہ وہ اڑنے والا فرشتہ ہے۔ کباڑی گاڑی پر کودا اور اپنے گدھے کو ہکایا۔ شکر ہے اس بار گدھے نے انہیں مایوس نہیں کیا۔ وہ چھکڑا گاڑی کو کھینچتا ہوا سرپٹ بھاگا اور انہیں لے کر جلد ہی شہر سے باہر صبح کی دھند میں غائب ہوگیا۔ 

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

اگلی صبح شہر نے اپنی معمول کی زندگی دوبارہ شروع کی، لوگ خوش کن تبدیلیوں کے منتظر تھے۔ دھیرے دھیرے وقت گزرتا رہا۔ مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ کئی دن تک سب خاموشی سے انتظار کرتے رہے۔ پھر ان میں چہہ میگوئیاں شروع ہوگئی جو رفتہ رفتہ بحث میں تبدیل ہوگئیں۔

 

نہیں، نہیں، ہمیں امید رکھنی چاہیے۔ اچھا وقت آئے گا۔“ کوئی بولا 

 

وہ کوئی جادوگر نہیں تھا، نہ ہی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ تھی۔ وہ دھوکے باز اور فریبی تھے۔ آپ خود فیصلہ کریں، میں نہ امیر ہوا اور نہ ہی جوان، جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔“ کسی نے کہا۔

 

ایک خاتون نے دوسری سے سرگوشی کی۔ ”جب میں نے اپنی بوری گاڑی میں ڈالی تو دل میں ندامت کا احساس ہوا تھا۔

 

اس کی پڑوسن نے اعتراف کیا۔ ”جب ماضی کو چھوڑنے کا وقت آیا تو میں نے نا شکرا پن محسوس کیا۔

 

کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں نے گھر آکر جب نئی قسمت کا تھیلا کھولا تو خواہش کی کہ سب کچھ پہلے جیسا رہے تو کتنا اچھا ہو۔

 

شہر کے بہت سے گھروں میں خوشی کا سماں بھی تھا۔ کیونکہ جب جادو کا کلمہ پڑھ کر تھیلے کھولے گئے اور انہوں نے دریافت کیا کہ کچھ بھی نہیں بدلا تو انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا۔

 

لیکن ایسے بھی تھے جو مطمئن تھے۔ وہ توقع کر رہے تھے کہ ان کے پڑوسیوں جیسی خوشحالی، صحت اور خوشی ان کے گھروں میں جلد آجائے گی۔

 

وہ لوگ جو اس رات جادوگر کی گاڑی کے پاس تھیلے لے کر نہیں گئے تھے، وہ ہنستے تھے، ان پر بھی جو تبدیلی نہ ہونے پر خوش تھے اور ان پر بھی جو ابھی خوشی کے انتظار میں تھے۔ 

 

لوگ یہ سوال کر رہے تھے کہ اس رات کون ان کے پاس آیا تھا۔ ایک طاقتور جادوگر؟ یا

شہر کے کچھ لوگوں نے اس پر برہمی کے ساتھ جواب دیا: ”دھوکے باز اور فریبی۔۔۔

 

تب سے شہر کے لوگ ہر سال اسی دن چوک میں جمع ہوتے ہیں اور نہ صرف بھرپور طریقے سے رائے کا تبادلہ کرتے ہیں، بلکہ گانے بھی گاتے ہیں۔

 

مثال کے طور پر چوکیدار گاتا ہے۔

 

جادوگر نے خواہشوں کو!

پورا کرنے کا وعدہ کیا!

بری قسمت کی تبدیلی!

خوشی بکھیرتی عظیم کامیابی!

میں اب تک اس کا انتظار کر رہا ہوں!

کہاں ہے میری جوانی؟

کہاں ہے میرا پیسہ؟ کہاں؟ کہاں؟ کہاں؟

 

بوڑھا ڈاکیا جو شہر میں اس غیر متوقع چھٹی پر دل ہی دل میں خوش تھا۔ اس نے گایا:

 

دولت کی امید میں!

میں نے اپنا کام چھوڑ دیا!

بیوی روتی ہے!

اور میں منتظر ہوں تبدیلی کا!

لیکن دن بہ دن میری جیب کا!

خالی پن بلیک ہول کی طرح بڑھتا ہے!

 

ایک گھوسن نے اپنا غصہ یوں نکالا۔

 

سب کچھ جس کا وعدہ کیا گیا!

ہم نے ایک طویل انتظار کیا!

وہ سب کہاں ہے؟ 

کہاں؟ کہاں؟ کہاں؟

 

اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈاکیے نے اپنی مخصوص ٹوپی اتاری اور شکوہ کیا۔

 

میرے بال کہاں ہیں؟

میں گھٹنے کی طرح گنجا ہوں!

جس طرح پیدائش کے دن تھا!

ارے اوہ جادوگر!“

 

مگر دوسرے گلوکار بھی تھے۔ وہ کباڑی اور اس کی بیٹی کی شہر میں پھیلائی ہوئی افراتفری کو پیار سے یاد کرتے تھے۔

 

جادوگر نہیں!

بلکہ ایک دانا، سمجھدار!

ہاں اس نے تقدیر بدلنے کا وعدہ کیا!

مگر کس نے کہا کہ تبدیلی

ہمیشہ اور ہر جگہ قسمت لاتی ہے؟

حماقت کا علاج ہونا چاہیے،

ایک دائمی بیماری کی طرح!

آپ کی بے وقوفی، پڑوسیوں سے حسد!

جادوگر نے سب کچھ الٹ دیا!

ہمارا کام ہے سب کو ہنسانا!

پڑوسی کے نفع سے حسد!

اسے کوڑے کی طرح جھاڑ دیں!

 

 

سالوں سے شہر کے باشندے اس واقعے پر بحث کرتے آرہے ہیں۔ ان گرما گرم بحثوں کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، لیکن شہر کے کچھ لوگ اختلاف بھی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔ ”وہ قابل فخر فنکار تھے۔ انہوں نے اپنے عملی مذاق سے ہمارے خواب زدہ شہر کو ایک گونجتے چھتے میں تبدیل کردیا۔ اس طرح پورے شہر کو تفریح فراہم کرنا اور بے وقوف بنانا ناقابل یقین ہے اور سب سے اہم بات انہوں نے اس چیز کی قدر اور محبت کرنا سکھایا جو قسمت نے ہمیں دی ہے۔

 

وہ اب بھی بحث کرتے رہتے ہیں، لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ تھیلے بہت مہارت سے تیار کیے گئے تھے۔ آج تک بہت سی گھریلو خواتین انہیں چینی، نمک اور آٹا ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان پر خرچ کیے گئے سکوں پر کبھی کسی کو افسوس نہیں ہوا۔ اس بارے میں ایک گانا بھی بے ساختہ تخلیق ہوگیا جو شہر کے لوگ اس یادگار دن کے اختتام پر گاتے ہیں جو اب برسوں سے اس شہر کا تہوار بن گیا ہے۔

 

نہیں! نہیں، ہمیں افسوس نہیں...

وہ حیرت انگیز موسم گرما تھا!

تھیلے عمدہ سلے ہوئے تھے!

ہم آج بھی ان میں ذخیرہ کرتے ہیں!

کچھ نمک، کچھ آٹا کچھ چینی!

خوابوں اور فضولیات پر یقین کرنا!

یہ کمال کی بات ہو سکتی ہے!

جادوگر نے ہمیں سکھایا!

کہ حال میں جیئوں!

 آج نئے دن کی خوشی میں!

اس بارے میں سخت فیصلہ نہ کریں۔

اس کی بیٹی کتنی پیاری تھی!

بس ایک فرشتہ!

نہیں! ہمیں سکّوں پر افسوس نہیں!

وہ شاندار موسم گرما تھا!

 

 

ختم شد۔

 

 

 

مصنفہ کے بارے میں۔

نادیزہ بیلیاکووا 2 مارچ 1956 کو ماسکو روس میں پیدا ہوئیں، ان کے والد، الیگزینڈر لیوانوف، ایک مصنف اور یو ایس ایس آر رائٹرز یونین کے رکن تھے، والدہ، مارگریٹا بیلیاکووا، کزنٹسکی موسٹ پر آل یونین ہاؤس آف ماڈلز میں فیشن ڈیزائنر تھیں، اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ ماسکو پرنٹنگ انسٹی ٹیوٹ میں داخل ہوئی، اپنی تعلیم کے دوران انہوں نے ماسکو کے کئی پبلشنگ ہاؤسز کے ساتھ بطور مصور اور کتاب ڈیزائنر تعاون کیا۔1981 میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ سینٹرل ٹیلی ویژن میں کام کرنے چلا گئی، جہاں انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے مرکزی ادارتی دفتر میں پروڈکشن ڈیزائنر اور گرافک آرٹسٹ کے طور پر کئی سال گزارے۔ انہوں نے بچوں کی کہانیاں اور نظمیں آغاز سے لکھنا شروع کردی تھیں۔ ان کی تقریباً 2000 کہانیاں شائع ہوچکی ہیں۔

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)