افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

  افسانہ نمبر  711 :جرم و سزا

تحریر : آر کے نارائن (بھارت)

اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

 

 


"سولہ کو تین سے ضرب دو تو کیا بنتا ہے؟"

اُستاد نے پوچھا۔

لڑکا پلکیں جھپک کر دیکھنے لگا۔ استاد نے سوال دہرا دیا تو لڑکے نے فوراً جواب دیا: "چوبیس" اور استاد کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر شریر سی مسکراہٹ ابھر آئی۔ لڑکا یقیناً اسے بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہا تھا اور جان بوجھ کر الٹی بات کر رہا تھا۔ وہ اس غلطی کی بار بار اصلاح کرا چکا تھا، مگر لڑکا پھر بھی "چوبیس" کہے جا رہا تھا۔ اسے پچاس نمبر دلا کر جماعت میں ڈبل پروموشن کے ذریعے پہلی جماعت میں بھیجنا اس کے والدین کی تمنا تھی مگر یہ لڑکا…! "چوبیس" کا لفظ سنتے ہی استاد کے تن بدن میں خون کی روانی تیز ہو گئی۔ اُس نے خود کو قابو میں رکھا اور آخری موقع دیتے ہوئے پھر پوچھا: "کتنا؟" اور جب لڑکے نے اسی ضدی انداز سے دوبارہ کہا "چوبیس"، تو استاد کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کی انگلی نے بندوق کا گھوڑا چھوڑ دیا ہو۔ اُس نے میز کے پار جھک کر ایک زور دار تھپڑ لڑکے کے گال پر رسید کر دیا۔ لڑکا چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اب استاد کو ہوش آیا۔ اپنے ہی فعل سے کانپ اٹھا اور گھبرا کر التجا کی: "نہیں بیٹا، مت رو… پلیز مت رو…" 

"میں بتاؤں گا سب کو…" لڑکے نے سسکتے ہوئے کہا۔ 

"اوہ نہیں ... نہیں ... نہیں!" استاد نے گھبرا کر اردگرد دیکھا۔ شکر تھا کہ یہ نرسری مرکزی عمارت سے کچھ فاصلے پر تھی۔

"میں امی کو بتاؤں گا…" لڑکے نے روتے ہوئے کہا۔

  والدین کے خیال میں لڑکا تو ایک ننھافرشتہ تھا۔سارے گالوں پر ڈمپل، ہونٹوں پر مسکراہٹیں اور مٹھاس — بس نکلنے کو پر ہی کم تھے۔ وہ ان کا اکلوتا بچہ تھا؛ محبت بے تحاشا تھی اور دولت بھی وافر۔انھوں نے اُس کے لیے نرسری بنوائی، مہنگے کھلونے خریدے، ننھی سی کرسی میز کا مکمل سیٹ لگایا، اور باغ میں ادھر اُدھر گھومنے کے لیے ایک ننھی پیڈل کار تک دلوا دی۔ اس کی الماری طرح طرح کی مٹھائیوں اور بسکٹوں سے بھر دی گئی اور یہ اس کی ’’خوش سلیقگی‘‘ پر چھوڑا گیا کہ وہ انہیں اعتدال کے ساتھ کھائے۔

وہ اس بات کے قائل تھے کہ "بچے کے دل میں کسی بھی طرح کی ضد یا جبر کبھی نہ پیدا ہونے دو۔ ورنہ زندگی بھر کے لیے اسے نقصان پہنچے گا۔ یقیناً اس میں ہمیں بہت ضبط سے کام لینا پڑتا ہے، مگر یہی صحیح طرزِ تربیت ہے۔ ہم ایک صحت مند شہری تیار کر رہے ہیں۔"

"جی جی…"

استاد ظاہراً متفق ہوتا،مگر دل ہی دل میں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس بات پر زیادہ یقین کر رہا تھا کہ اس بچے کو نارمل شہری بنانے کے لیے منت سماجت نہیں، محض دو آنے کی ایک چھڑی کافی ہے — اور وہ یہ سرمایہ لگانے کو بالکل تیار تھا۔

استاد کے لیے یہ نوکری سراسر مشقت بھری زندگی تھی —جس کا واحد تسلی بخش پہلو یہ تھاکہ ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو اسےتیس روپے تنخواہ مل جاتی تھی۔روزانہ شام کو تین گھنٹے یہ ڈیوٹی بجا لانی ہوتی، اور پہلے آدھے گھنٹے میں لازماً والدین کی طرف سے ’’بچوں کی نفسیات‘‘ پر لیکچر سننا پڑتا۔باپ نے ایم۔اے کے لیے شیر خوار بچوں کی نفسیات پر مقالہ لکھ رکھا تھا، اور خاتون نے بھی بی۔اے میں اس موضوع کا خوب مطالعہ کیا تھا۔ وہ روزانہ اسے اپنے نظریات سناتے، اور استاد کو روز بروز یہ احساس شدید ہوتا گیا کہ اُسے لڑکے کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا ہے جیسے وہ نازک شیشے سے بنا ہوا ہو۔ اور اُسے ہر بار ظاہر یہی کرنا پڑتا کہ وہ ان کی ہر بات سے اتفاق کرتا ہے حالا‌نکہ دل کی گہرائیوں میں اُس کا خیال یہ تھا کہ وہ کسی ننھے گوریلے کی نگرانی پر مامور ہے۔

 

استاد کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ لڑکےکو کیسے چپ کرائے۔ وہ برابر سسکیاں لے لے کر روئے جا رہا تھا۔ وہ ہمت ہارنے لگا۔ اس نے نرمی سے کہا: "اتنی معمولی باتوں پر رویا نہیں کرتے، تمھیں سپاہی کی طرح مضبوط ہونا چاہیے…" 

لڑکے نے ترنت جواب دیا:"سپاہی کو اگر کوئی مارے تو وہ بندوق سے گولی چلاتا ہے!" استاد نے اس بات کو مذاق میں اڑا کر مصنوعی ہنسی ہنس دی۔ لڑکا بھی اس سے متاثر ہو کر ہنسا. یوں فضا کچھ ہلکی ہوئی۔

استاد نے تجویز دی:"جاؤ، منہ دھو آؤ۔"

نرسری کے ساتھ ہی نہایت خوبصورت نیلے چینی مٹی کے برتنوں والا غسل خانہ بنا ہوا تھا۔ لڑکے نے بات نہیں مانی اور حکم دیا:

"آج کا سبق بند کرو!" استاد سناٹے میں آ گیا۔

"نہیں، نہیں!"وہ گھبرا کر بولا۔

لڑکے نے کہا:"پھر میں امی کو بتانے جارہا ہوں." وہ کرسی کو پیچھے دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا۔ استاد لپک کر اس تک پہنچا اور اسے پکڑ کر واپس بٹھا دیا۔ "میری جان، مجھے یہاں ابھی ایک گھنٹہ مزید رہنا ہے…"استاد نے التجا کی۔ لڑکا بولا:"اچھا ٹھیک ہے ٬ آؤ دیکھو میں انجن پٹری پر چڑھاتا ہوں."استاد نے کہا: "اگر تمہارے ابو آ گئے تو…؟"لڑکے نے فوراً کہا:

"انھیں بتا دینا، آج انجن کا سبق ہو رہا ہے!"اور شرارت کے ساتھ مسکرایا۔ وہ اپنی الماری کے پاس گیا، ٹرین سیٹ نکالا، پٹری جوڑنے لگا، پھر چابی دے کر انجن چھوڑا جو گھوم گھوم کر چکر لگانے لگا۔ "اب آپ اسٹیشن ماسٹر ہیں!" لڑکے نے باقاعدہ اعلان کیا۔"نہیں، نہیں"، استاد گھبرا اٹھا "تمھارا پرسوں امتحان ہے!" لڑکے نے محض تفاخرانہ انداز میں مسکرا کر پھر پوچھا: "تو کیا آپ اسٹیشن ماسٹر بنیں گے یا نہیں؟" استاد جھنجھلا گیا "میں اسٹیشن ماسٹر نہیں بنوں گا!" اس نے ڈٹ کر کہا۔ لڑکا آہستہ سے بولا: "اچھا؟ یہی کہنا ہے؟ "پھر اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر بولا:"یہاں بہت درد ہو رہا ہے… مجھے ابھی امی کو دکھانا ہے!"

وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ استاد نے بےبسی سے اسے دیکھا۔ لڑکے کے گال پر اب بھی سرخی باقی تھی۔ اس نے جلدی سے کہا: "رکو بیٹا… اچھا، تم چاہو تو میں اسٹیشن ماسٹر بن جاتا ہوں… مجھے کیا کرنا ہوگا؟"

لڑکے نے فوراً حکم دیا:"جب ٹرین آپ کے اسٹیشن پر آئے، تو سیٹی بجا کر زور سے کہنا: انجن ڈرائیور صاحب، گاڑی روک دیجیے آج بہت سے لوگوں نے ٹکٹ خریدے ہیں....!"

استاد کونے میں سمٹ کر بیٹھ گیا اورحکم کی تعمیل شروع کر دی۔ تیس منٹ میں ہی اُس کی کمر اکڑ گئی اور کھیل سے شدید اُکتا گیا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ جس پر شاگرد سخت ناراض ہوا۔ خوش قسمتی سے عین اُسی لمحے انجن نے بھی چلنا بند کر دیا۔ لڑکے نے انجن اٹھا کر استاد کے ہاتھ میں تھمایا اور اپنی جگہ بیٹھتے ہوئے حکم دیا: "اسے ٹھیک کریں، سر۔"استاد نے انجن کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور مایوسی سے کہا:"میں نہیں کر سکتا مجھے اس کا کچھ علم نہیں!" لڑکے نے اصرار کیا: "یہ چلنا چاہیے!" استاد پر بےبسی طاری تھی اسے مشین کے کام کا ذرا بھی سلیقہ نہ تھا اپنی جان بچانے کے لیے بھی اگر پیچ کھولنا پڑتا تو وہ نہ کھول سکتا۔ لڑکے نے بے صبری سے پاؤں پٹخے اور ایک آمرانہ انداز میں چپ کھڑا رہا۔ استاد نے حتمی فیصلہ کرتے ہوئے انجن ایک طرف رکھ دیا: "میں نہیں کر سکتا اور نہ کروں گا۔" فوراً ہی لڑکا ایک اور مطالبے پر آ گیا: "کہانی سنائیں!" 

"تم نے ایک سوال بھی حل نہیں کیا . ساڑھے آٹھ بج رہے ہیں!"

لڑکے نے لا پروائی سے کہا: "مجھے سوال نہیں کرنے ٬ کہانی سنائیں!"

نہیں…” استاد نے سختی دکھائی۔

لڑکا زور سے چیخا:

اپّا! اپّااا!”

استاد گھبرا گیا:

"کیوں چیخ رہے ہو ؟ ابّا کو ایسے کیوں بلا رہے ہو؟"

لڑکا سکون سے بولا: "مجھے انھیں کچھ بتانا ہے… بہت ضروری بات

سواستاد کو مجبوراً ایک جنگلی بھینس اور شیر کی کہانی شروع کرنی پڑی۔ 

پھر وہ باتوں باتوں میں علی بابا چالیس چوروں تک جا پہنچا، اور وہاں سے الہ دین کے چراغ تک۔ لڑکا پوری محویت سے سنتا رہا اور پھر حکم دیا:"مجھے وہ جنگلی بھینس والی کہانی دوبارہ سنائیں وہ مزے کی ہے!"

استاد ہانپ چکا تھا۔ وہ اسکول میں پہلے ہی چھ گھنٹے کی کلاسز پڑھا کر آیا تھا۔ اس نے بےچارگی سے کہا: "کل سنا دوں گا ابھی سانس ہی نہیں بچی…"

لڑکے نے کہا: "اچھا ٹھیک ہے . تو میں ابھی جا کر بتاتا ہوں!"یہ کہہ کر وہ اچانک گھر کی طرف دوڑا۔ استاد گھبرا کر پیچھے لپکا۔ مگر لڑکا بجلی کی طرح دائیں بائیں ہوتا، کبھی سامنے، کبھی پیچھے چکر کاٹتا٬ اور یوں استاد کو پورے باغ میں تین چکر دلوا دیے۔ استاد تھک کر نڈھال ہو گیا۔ لڑکے کو بھی رحم آ گیا۔ وہ گلاب کے پودے کے پاس رک گیا۔لیکن جونہی استاد نے آگے بڑھ کر اسے پکڑنا چاہا وہ پھرتی سے نکل کر پھر بھاگ گیا! یہ تعاقب مکمل طور پر مایوس کن تھا اور لڑکا بے تحاشا قہقہے لگاتا مزے لے رہا تھا۔ استاد کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ٬ سانس بےقابو ٬ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔ وہ لاچار ہو کر ڈیوڑھی کی سیڑھی پر بیٹھ گیا۔

اسی لمحے ماں اور باپ گھر سے باہر نکل آئے۔ "کیا بات ہے؟" دونوں نے گھبرا کر پوچھا۔ استاد جھینپتے ہوئے لڑکھڑاتا ہوا کھڑا ہوا۔ وہ ابھی بھی بری طرح ہانپ رہا تھا ۔

اس سے بولنا مشکل تھا۔ لیکن ذہن میں فیصلہ کر چکا تھا کہ آج سچ بول دے گا چاہے نتیجہ کچھ بھی نکلے ۔اس ننھے ظالم کی بلیک میلنگ سے بہتر ہے بندہ خود کو بڑوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے۔انھوں نے لڑکے سے پوچھا:

"رات گئے باغ میں کیوں دوڑ رہے ہو؟" لڑکے نے شرارتی نظروں سے استاد کو دیکھا۔ استاد نے گلا صاف کیا اور کہا:"میں ... میں بتاتا ہوں…"

وہ اپنے جملے کے الفاظ جوڑنے ہی والا تھا کہ باپ نے پوچھا:"تو حساب کے امتحان کی تیاری کیسی جا رہی ہے…؟" "امتحان" کا لفظ سنتے ہی لڑکے کا چہرہ اتر گیا۔ وہ چپکے سے والدین کے پیچھے سِمٹ گیا اور آنکھوں کےاشاروں میں استاد کی منت کرنے لگا کہ اسے نہ پھنسائے۔ اس کی بےچارگی اور گھبراہٹ اتنی سچی تھی کہ استاد نے بڑی نرمی سے جواب دیا: "بس ذرا سولہ کا پہاڑا ٹھیک سے رٹوا دیجیے گا… باقی سب ٹھیک ہے ٬ نکل جائے گا۔"لڑکے نے سکھ کی سانس لی ۔ اس کے چہرے پر شکرگزاری کی جھلک صاف نظر آ رہی تھی۔ استاد کو اس کی ممنونیت بھری نظروں سے یقین ہو گیا کہ اب یہ بچہ اسے نہیں پھنسائے گا۔ وہ بولا:"شب بخیر صاحب ! آج ہم نے سبق کچھ جلدی ختم کر لیا تھا باقی وقت میں ٬ میں بچے کے ساتھ ذرا کھیل رہا تھا… اس کا حوصلہ بلند رکھنے کے لیے، آپ توسمجھتے ہیں یہ بات۔"

 

 

Original Title: 

CRIME AND PUNISHMENT

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 678 : وہ ملک جس میں کوئی کبھی نہیں مرتا || تحریر : اورنیلا وورپسی (البانیہ) || اردو ترجمہ : ظفر قریشی