Posts

Showing posts with the label بھارتی ادب، خوشونت سنگھ، انگریزی ادب، افسانے

خوشونت سنگھ کا افسانہ : انٹرویو (The Interview)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر   462 : انٹرویو تحریر : خوش ونت سنگھ (بھارت) مترجم : صفدر سحر(گھڑی اختیار خان، رحیم یار خان)   دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، قبل اس کے کہ میں اندر آنے کا کہتا، دروازہ کھلا اور استقبالیہ پر موجود لڑکی آہستگی سے کمرے میں داخل ہوئی، دروازہ بند کیا اور میرے قریب آکر سرگوشی کرتے ہوئے کہا: "سر! کوئی مسٹر ٹاور ہیں۔ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ " " کیا انہوں نے ملنے کے لیے وقت لے رکھا ہے۔ " " نہیں سر! نہ ہی وہ یہ بتا رہے ہیں کہ وہ کس سلسلے میں ملنا چاہتے ہیں، بس ان کا اصرار ہے کہ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔ کیا میں کہہ دوں کہ آپ مصروف ہیں۔ " دستک ہوئے بغیر دروازہ ایک بار پھر کھلا۔ بے ڈول اور بھاری جسامت کا حامل ایک شخص جس نے ڈھیلی قمیض پہن رکھی تھی، اندر داخل ہوا۔۔۔ بھورے بالوں والی ایک ادھیڑ عمر عورت، جس کی عمر 40 سال کے لگ بھگ ہوگی اور ایک چھوٹی سی بچی بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں آگئے۔ " ہیلو! غالباً آپ صبح کی کافی پینے کا پروگرام بنارہے ہیں۔ ہمیں آپ کے ساتھ کافی پی کر بڑی خوشی ہوگی۔...

خوشونت سنگھ کا افسانہ : فلسفۂ عمل (KARMA )

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 295 : فلسفۂ عمل تحریر : خوشونت سنگھ ( بھارت) ترجمہ : ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی (نیوزیلینڈ) سر موہن لال نے ریلوے اسٹیشن کی فرسٹ کلاس انتظار گاہ کے آئینہ میں اپنے آپ پر ایک نظر ڈالی۔آئینہ چونکہ ہندوستان میں بنا تھا ، لہٰذا اس کے پیچھے لگا سرخ آکسائیڈ ( red oxide ) جگہ جگہ سے نکل چکا تھا۔اور آئینہ کی بیرونی نیم شفاف سطح پر آڑی ترچھی لکیریں ابھر آئی تھیں۔ سر موہن نے ایک رحم دلانہ اور مشفقانہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا۔ " تم بھی اس ملک کی اور چیزوں کی طرح نااہل ، آلودہ اور لاتعلق ہو ۔" وہ بدبداے۔ آئینہ بھی جواب میں سر موہن کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔ "تم ، بیوقوف شخص ، شایدکچھ حد تک صحیح ہو ۔" آئینہ نے کہا۔"ممتاز ، قابل ، یہاں تک کہ وجیہہ۔ان سنوری ہوئی موچھوں کے ساتھ ، سیول رو( Saville Row ) کے گلابی پھول سے سجے اس سوٹ کے ساتھ ___او ڈو کولون( eau de cologne ) ، ٹیلکم پاؤڈر ، اور خوشبو دار صابن کی مہک کے ساتھ تم ! ہاں تم ، بیوقوف شخص ، تم کسی حد تک صحیح ہو۔" سر موہن نے سینہ کو پھیلا کر اپنی بیلیل ( ...

خشونت سنگھ کا افسانہ : ایک خاتون کی تصویر (The Portrait of A Lady)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 252 : ایک خاتون کی تصویر تحریر : خشونت سنگھ ( Khushwant Singh ) ترجمہ : ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی (نیوزیلینڈ) میری دادی ماں ، کسی اور کی دادی کی طرح ، ایک ضعیف خاتون تھیں۔بیس سال سے میں نے انھیں ضعیف اور جھریوں سے بھری ہوئی ہی جانا۔لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ کبھی جوان اور خوبصورت تھیں ، اور شوہر بھی رکھتی تھیں۔لیکن میرے لیے یقین کرنا مشکل تھا۔ویسے میرے دادا کی تصویر ڈرائینگ روم میں آتشدان کے اوپر ہمیشہ لٹکتی رہتی______بڑی سی پگڑی، ڈھیلے کپڑے ، سینہ تک لٹکتی سفید داڑھی ،عمر تقریباً سو برس۔وہ ایسے شخص تو نہیں لگتے تھے کہ ان کے بیوی اور بچے ہونگے۔ بلکہ وہ تو بہت سارے پوتے ،پوتیوں اور نواسے ، نواسیوں والے دکھائی دیتے تھے۔جب کہ میری دادی ماں ، جوان اور خوبصورت ، حقیقت سے بغاوت والا خیال تھا۔وہ ہمیں ان کے بچپن کے کھیلوں کے بارے میں بتایا کرتیں جو وہ اپنے بچپن میں کھیلا کرتی تھیں ۔ ویسے ہمیں یہ مضحکہ خیز اور ان کے وقار سے کم درجہ کا محسوس ہوتا لیکن ہم اسی لحاظ اور عزت کے ساتھ سنتے جیسے ہم انکے کہے ہوے نبیوں کے واقعات سنا کرتے تھے۔...