Posts

Showing posts with the label امریکی ادب، اوہنری، افسانے

اوہنری کا افسانہ : سرِراہے (While the Auto Waits)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 489 : سرِ   راہے تحریر : او ہنری (امریکہ) مترجم   : رومانیہ نور (ملتان)   جھٹپٹے کے آغاز کے ساتھ ہی اس پر سکون چھوٹے سے پارک کے خاموش گوشے میں سرمئی رنگ کے لباس میں ملبوس وہ لڑکی پھر سے چلی آئی۔ وہ ایک بنچ پر بیٹھ گئی اور ایک کتاب پڑھنے میں مصروف ہو گئی۔ تاریکی چھانے میں ابھی آدھا گھنٹا تھا لہذا تحریر تب تک مکمل ہو سکتی تھی۔ ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہ اس کا لباس سرمئی تھا اور اس کے بے عیب تناسب اور ناز و ادا   کو چھپانے کے لیے کافی سادہ تھا۔ ایک بڑے جالی دار نقاب نے اس کے ہیٹ اور چہرے   کو مقید کر دیا تھا جو اس کے اندر شاداں و فرحان و تاباں اپنے جمال سے بے خبر تھا۔ وہ اسی وقت کل اور اس سے پچھلے روز بھی یہاں آئی تھی ؛ اور وہاں کوئی موجود تھا جسے اس بات کی خبر تھی۔ وہ نوجوان جو اس بات سے با خبر تھا آس پاس ہی منڈلا رہا تھا اور من ہی من میں دعا کر رہا تھا کہ اسے اس سے بات کرنے کا موقع مل جائے۔ اس کی دعاؤں کا صلہ یوں ملا کہ ایک ورق پلٹتے ہوئے کتاب اس کی انگلیوں سے پھسلی اور بینچ سے اچھل کر پورے ا...

اوہنری کا افسانہ : سراغ رساں (The Sleuths)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)   افسانہ نمبر 438 : سراغ رساں تحریر: او ہنری( امریکہ) مترجم: افشاں نور (اوکاڑہ)   بڑے شہر میں ایک آدمی ایسے گم ہوجاتا ہے جیسے کسی موم بتی کے شعلے کو اچانک اور مکمل طور پر بجھا دیا جائے۔ انکوائری کی تمام ایجنسیاں، کھوج لگانے والے شکاری کتے، شہر کی بھول بھلیوں کے سراغ رساں، قیاس آرائیاں کرنے والے نجی جاسوس تلاش کے لیے بلائے جاتے ہیں۔ غالب امکان یہی ہوتا ہے کہ اس شخص کا چہرہ دوبارہ دکھائی نہیں دے گا۔ کبھی کبھار کھویا ہوا شخص شیبوئگن میں یا ٹیری ہاؤٹ کے جنگلات میں، اپنے آپ کو سمتھ پکارتے ہوئے اپنے سودے کے بل سمیت دوبارہ نمودار ہوتا ہے جسے مخصوص وقت کے واقعات کے علاوہ کچھ یاد نہیں ہوتا۔ بعض اوقات دریاؤں کو کھنگالنے اور یہ دیکھنے کے لیے کہ شاید کہیں وہ گائے کے اچھے پکے ہوئے قتلوں کا انتظار کر رہا ہو، ریستورانوں کی چھان پھٹک کرنے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اگلی جگہ پہنچ چکا ہے۔ تختہ سیاہ پر بنے چاک کے انسان کو مٹانے کی طرح انسان کا ایسا خاتمہ ڈرامہ نگاری کے سب سے متاثر کن موضوعات میں سے ایک ہے۔ اس سلسلے میں مریم سنائیڈر کا معا...

اوہنری کا افسانہ : پھٹکار (LORD OAKHURST'S CURSE)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 423 : پھٹکار تحریر : او ہنری (امریکا) ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)     لارڈ اوکہرسٹ , اوکہرسٹ محل کے مشرقی حصے کے اوک چیمبر میں بستر مرگ پر پڑا آخری سانسیں گن رہا تھا۔ موسم گرما کی شام کے سکون آور لمحوں میں کھلی کھڑکی سے موسم کے اولین بنفشی پھولوں اور شگوفے نکالتے ہوئے درختوں کی میٹھی خوشبو آئی اور مرتے ہوئے آدمی کو ایسا لگا جیسے زمین کی محبت اور خوبصورتی کبھی اتنی نمایاں نہیں تھی جتنی اس روشن جون کے دن، اس کی زندگی کے آخری دن نمایاں تھی۔ اس کی نوجوان بیوی، جسے وہ اس عقیدت اور شدت سے چاہتا تھا کہ موت کی آہٹ بھی اس کے جذبات میں کوئی رد و بدل نہیں کر سکتی تھی، روتے ہوئے اور غمگین ہو کر اپارٹمنٹ میں گھومتی رہتی تھی، کبھی بیمار شخص کا تکیہ درست کرتی تھی اور اس سے دھیمے افسردہ لہجے میں پوچھتی تھی کہ کیا اسے سکون دینے کے لئے کچھ کیا جاسکتا ہے، اور پھر، دبی ہوئی سسکیاں لے کر کچھ چاکلیٹ کیرامل کھانے لگتی جو وہ اپنے ایپرن کی جیب میں لیے ہوتے تھی۔ نوکر اس خاموش ماحول میں جو ایک ایسے گھر میں غالب ہوتا ہے جہاں موت متو...