اوہنری کا افسانہ : سرِراہے (While the Auto Waits)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 489 : سرِ راہے تحریر : او ہنری (امریکہ) مترجم : رومانیہ نور (ملتان) جھٹپٹے کے آغاز کے ساتھ ہی اس پر سکون چھوٹے سے پارک کے خاموش گوشے میں سرمئی رنگ کے لباس میں ملبوس وہ لڑکی پھر سے چلی آئی۔ وہ ایک بنچ پر بیٹھ گئی اور ایک کتاب پڑھنے میں مصروف ہو گئی۔ تاریکی چھانے میں ابھی آدھا گھنٹا تھا لہذا تحریر تب تک مکمل ہو سکتی تھی۔ ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہ اس کا لباس سرمئی تھا اور اس کے بے عیب تناسب اور ناز و ادا کو چھپانے کے لیے کافی سادہ تھا۔ ایک بڑے جالی دار نقاب نے اس کے ہیٹ اور چہرے کو مقید کر دیا تھا جو اس کے اندر شاداں و فرحان و تاباں اپنے جمال سے بے خبر تھا۔ وہ اسی وقت کل اور اس سے پچھلے روز بھی یہاں آئی تھی ؛ اور وہاں کوئی موجود تھا جسے اس بات کی خبر تھی۔ وہ نوجوان جو اس بات سے با خبر تھا آس پاس ہی منڈلا رہا تھا اور من ہی من میں دعا کر رہا تھا کہ اسے اس سے بات کرنے کا موقع مل جائے۔ اس کی دعاؤں کا صلہ یوں ملا کہ ایک ورق پلٹتے ہوئے کتاب اس کی انگلیوں سے پھسلی اور بینچ سے اچھل کر پورے ا...