Posts

Showing posts from October, 2026

افسانہ نمبر 786 : رنگ اور شکلیں || مصنف: البرٹو موراویا (اٹلی) || اردو ترجمہ: شگفتہ گمی لودھی

Image
  افسانہ نمبر 786 : رنگ اور شکلیں مصنف: البرٹو موراویا (اٹلی) اردو ترجمہ: شگفتہ گمی لودھی   معاملہ کچھ یوں شروع ہوا: آدھی رات کے بعد، حسبِ معمول میں اپنے کتے کو ہوا خوری کے لیے گھر سے باہر لے گیا۔ میرے گھر سے کچھ فاصلے پر گھنے درختوں والا ایک چھوٹا سا پارک ہے؛ کچھ راتوں سے یہ پارک تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے کیونکہ آوارہ لڑکوں نے اس کے قمقمے توڑ دیے ہیں۔ یہ جگہ چند طوائفوں کے انتظار گاہ یا یوں کہیے کہ ان کا اڈا ہے۔ یہ تمام تر جزئیات بہت اہم ہیں، آپ کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ کیسے۔ ہاں، میں سڑک پر آگے بڑھا، کتے کا پٹہ کھولا اور اسے آزاد چھوڑ دیا تاکہ وہ کیاریوں میں اچھل کود کر سکے۔ تاہم، میں دور سے اس پر نظر رکھے ہوئے تھا۔   میری توجہ پارک کی جانب مبذول ہوئی۔ یہ مطلق تاریکی سے بنا ہوا ایک چوکور حجم تھا۔ میں اس میں داخل ہوا؛ کتا جو اپنی تھوتھنی سے زمین پر ادھر ادھر سونگھ رہا تھا، بمشکل دکھائی دے رہا تھا۔ لیکن پارک کے اس پار، شاخوں اور جھاڑیوں کے درمیان، ایک حصہ اس قمقمے کی روشنی سے منور تھا جو آوارہ لڑکوں کے ہاتھوں محفوظ رہ گیا تھا۔ ایک مکان کی زیریں منزل اپنی کھڑکی...

افسانہ نمبر 787 : ڈر || مصنف : رام سروپ انکھی (انڈیا) || اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق

Image
    افسانہ نمبر 787 :  ڈر   مصنف :  رام سروپ انکھی (انڈیا) گورمکھی سے اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق (لاہور)   جب کبھی وہ اپنے ’’گدھے‘‘ کو سینے سے لگا کر بھینچ لیتی تو اس کا منہ چومنے لگتی۔ اس کے ’’گدھے‘‘ کو بخار چڑھ جاتا، اسے دست لگ جاتے یا قے آنے لگتی۔ وہ کھانے کو منہ نہ لگاتا اور بیمار پڑ جاتا۔ اس کی دادی پیٹ کر رہ جاتیں۔   ’’ بہو! تجھے کتنی بار سمجھایا ہے کہ بچے کو گلی میں لے کر نہ جایا کر۔ نظر تو ایسی بلا ہے کہ پتھروں کو بھی چیر کر رکھ دیتی ہے۔ میرا جینے جوگا بچہ ہر روز بیمار پڑ جاتا ہے، ہر روز !‘‘   شرن پال جانتی تھی کہ اس کا ’’گدھا‘‘ کیوں بیمار پڑ جاتا ہے، مگر وہ کیا کرتی؟ اس کے کلیجے میں ایک ٹیس سی اٹھتی تھی۔ وہ اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتی۔ بے اختیار لپک کر اپنے ’’گدھے‘‘ کا بازو پکڑتی، اسے سینے سے لگاتی اور اس کا منہ چوم لیتی، جیسے اچانک کوئی بات یاد آ گئی ہو۔ پھر فوراً اسے اپنے سے الگ کرتی اور ایک جھٹکے سے پرے دھکیل دیتی، جیسے وہ کسی پرائے کا بیٹا ہو، جیسے اس سے کوئی ایسی بھول ہو گئی ہو جس کی اسے سزا ملنی چاہیے۔   اس سال پھ...