افسانہ نمبر 787 : ڈر || مصنف : رام سروپ انکھی (انڈیا) || اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق

  افسانہ نمبر 787 :  ڈر 

مصنف :  رام سروپ انکھی (انڈیا)

گورمکھی سے اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق (لاہور)

 


جب کبھی وہ اپنے ’’گدھے‘‘ کو سینے سے لگا کر بھینچ لیتی تو اس کا منہ چومنے لگتی۔ اس کے ’’گدھے‘‘ کو بخار چڑھ جاتا، اسے دست لگ جاتے یا قے آنے لگتی۔ وہ کھانے کو منہ نہ لگاتا اور بیمار پڑ جاتا۔ اس کی دادی پیٹ کر رہ جاتیں۔

 

’’بہو! تجھے کتنی بار سمجھایا ہے کہ بچے کو گلی میں لے کر نہ جایا کر۔ نظر تو ایسی بلا ہے کہ پتھروں کو بھی چیر کر رکھ دیتی ہے۔ میرا جینے جوگا بچہ ہر روز بیمار پڑ جاتا ہے، ہر روز!‘‘

 

شرن پال جانتی تھی کہ اس کا ’’گدھا‘‘ کیوں بیمار پڑ جاتا ہے، مگر وہ کیا کرتی؟ اس کے کلیجے میں ایک ٹیس سی اٹھتی تھی۔ وہ اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتی۔ بے اختیار لپک کر اپنے ’’گدھے‘‘ کا بازو پکڑتی، اسے سینے سے لگاتی اور اس کا منہ چوم لیتی، جیسے اچانک کوئی بات یاد آ گئی ہو۔ پھر فوراً اسے اپنے سے الگ کرتی اور ایک جھٹکے سے پرے دھکیل دیتی، جیسے وہ کسی پرائے کا بیٹا ہو، جیسے اس سے کوئی ایسی بھول ہو گئی ہو جس کی اسے سزا ملنی چاہیے۔

 

اس سال پھر وہی منحوس بخار لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔ جسے بھی چڑھتا، بری طرح چڑھتا۔ کئی کئی دن تک اترنے کا نام نہ لیتا۔ نہ ملیریا تھا، نہ ٹائیفائڈ۔ کوئی اسے وائرل بخار کہتا، کوئی ڈینگی۔

 

لوگوں میں عام چرچا تھا کہ پنجاب کے دیہات میں دھان کی فصل زیادہ کاشت ہونے کے باعث یہ بیماری پھیلتی ہے۔ دھان کے کھیتوں میں پانی کھڑا رہتا ہے، پانی سڑنے لگتا ہے اور پھر مچھر پیدا ہوتے ہیں۔ وہ بھی ایسے کہ پہلے کبھی کسی نے دیکھے نہ ہوں۔ کوئی حشرہ کش دوا ان پر اثر نہیں کرتی تھی۔ لوگ ہنستے ہوئے کہتے کہ جیسے افیون کا عادی شخص کتنا ہی افیون کھا لے، مرتا نہیں، اسی طرح یہ مچھر بھی نشے کا عادی ہو گیا ہے۔ اب تو ڈی ڈی ٹی جیسی دوائیں اس کے لیے محض نشہ پانی بن کر رہ گئی ہیں۔

 

بخار چڑھنے سے پہلے مریض کے ہاتھ پاؤں ٹوٹنے لگتے، پھر آنکھیں سرخ ہو جاتیں۔ کسی کو پہلے سردی لگتی، پھر بخار چڑھتا؛ کسی کو سردی لگے بغیر ہی قے اور دست شروع ہو جاتے۔ دو چار دن میں مریض کا خون گویا خشک ہو جاتا۔ اٹھنے بیٹھنے کی ہمت باقی نہ رہتی۔

 

سب ڈاکٹر ایک ہی طرح کی دوائیں دیتے، گولیاں اور پینے کا شربت۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹروں اور تجربہ کار ویدوں حکیموں کی تو بات ہی کیا، چھوٹے موٹے آر ایم پی بھی خود کو بقراط سمجھنے لگے تھے۔ اس کام سے وابستہ لوگوں کے تو وارے نیارے ہو گئے۔ جن کے پاس کبھی کوئی اسپرین کی گولی لینے بھی نہیں جاتا تھا، وہ بھی اپنے آپ کو بڑے طبیب سمجھنے لگے۔ کہتے تھے، ’’صاحب، یہ تو بیماری کا موسم ہے!‘‘

 

دھڑا دھڑ اموات ہو رہی تھیں۔ پورے کے پورے گاؤں اٹھ کر شہروں کی طرف روانہ ہو جاتے۔ ٹریکٹروں کی ٹرالیوں میں چارپائیاں رکھی ہوتیں اور ان پر نیم مردہ مریض پڑے ہوتے۔

 

شرن پال کو ابھی بخار نہیں چڑھا تھا۔ گوردیو سنگھ اور اس کی ماں اپنی اپنی باری بھگت چکے تھے۔ ساس کہتی:

 

’’بہو، اب تو اپنا خیال رکھ۔ اگلی باری تیری ہے۔‘‘

 

شرن پال کا جی چاہتا کہ کہہ دے، ’’چھوڑو، مجھے کچھ نہیں ہوتا۔ چڑھنا ہے تو چڑھ جائے بخار، میں بہت کچھ سہہ لوں گی۔ بس میرا ’گدھا‘ ٹھیک ٹھاک رہے۔‘‘ مگر وہ زبان سے کچھ نہ کہتی۔ اس طرح بولنے سے تو اس کا اپنے ’’گدھے‘‘ کے لیے پیار ظاہر ہو جاتا۔

 

پھر ایک دن اس کے ’’گدھے‘‘ کو بھی بخار چڑھ گیا۔ ایسا تیز کہ بدن بھٹی کی طرح تپنے لگا۔ آنکھیں بالکل سرخ ہو گئیں۔ چارپائی پر پڑا ٹانگیں پٹختا رہتا۔ دادی گاؤں کے ڈاکٹر سے گولیاں لے آئیں۔ بخار تو کچھ ہلکا پڑ گیا، مگر قے شروع ہو گئی۔ پانی کا ایک قطرہ بھی معدے میں نہ ٹھہرتا۔ قے کرنے کے بعد وہ بری طرح بے حال ہو جاتا۔ دادی اس کا سر مضبوطی سے تھام لیتیں، مگر قے کے ساتھ اندر سے کچھ بھی نہ نکلتا۔ محض خشک ابکائیاں آتیں، جیسے بچے کا کلیجا پھٹ کر باہر آ جائے گا۔

 

لڑکا پانچ چھ برس کا ہو چکا تھا اور اسکول جانے لگا تھا۔ اس کی پرورش دادی نے کی تھی۔ شرن پال نے تو بس اسے جنم دیا تھا۔ اس نے اسے زیادہ عرصے تک دودھ بھی نہیں پلایا تھا۔ جب وہ دودھ پیتا تو شرن پال اس کی طرف دیکھنے سے بھی گریز کرتی اور منہ دوسری طرف پھیر لیتی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کے دل میں بچے کے لیے محبت کی کوئی چنگاری نہ سلگ اٹھے۔

 

اب جب وہ بیمار تھا تو دادی ہی اسے سنبھال رہی تھیں، مگر وہ دیکھتے دیکھتے مٹھی بھر کا رہ گیا تھا۔ گاؤں کے ڈاکٹر کی دواؤں نے بھی کوئی خاص اثر نہیں دکھایا تھا۔ اگر اس کی حالت اسی طرح رہی تو وہ مر بھی سکتا تھا۔

 

شرن پال کے کلیجے سے ایک ہوک اٹھتی۔ وہ اپنے آپ کو بڑی مشکل سے سنبھالنے کی کوشش کرتی، مگر یہ ہوک اس کے سارے بدن کو تھرتھرا دیتی۔ اسے لگتا کہ اس کی ساس ’’گدھے‘‘ کی ٹھیک طرح دیکھ بھال نہیں کر رہی۔ قے کے بعد وہ اسے اپنے سینے سے لگا کر کیوں نہیں بھینچ لیتیں؟ اس کا ننھا سا بچہ کبوتر کے بچے کی طرح تڑپتا تھا، مگر وہ بے بس تھی۔

 

اگر وہ خود ’’گدھے‘‘ کو سنبھالنے لگتی تو یہ بہت خطرناک بات ہوتی۔ اس کا دل اس کے لیے بے قابو ہو جاتا، اور وہ اپنی اس بے قراری پر قابو نہ رکھ پاتی۔ چنانچہ وہ بچے کو قے کرتے اور بے حال ہوتے دیکھ کر بھی اس کی طرف نگاہ نہ اٹھاتی۔ کہیں دور جا کر بیٹھ جاتی اور کوشش کرتی کہ اس کی حالت کو ذہن سے نکال دے۔

 

گوردیو سنگھ گھر پر نہیں تھا۔ باہر سے لوٹا تو ’’ہیپی‘‘ کی اتنی بری حالت دیکھ کر ماں سے اس کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ شرن پال کہیں آس پاس بھی نہیں تھی۔ جانے کہاں دور جا کر بیٹھی تھی۔

 

اسے بیوی پر سخت غصہ آیا۔ دل چاہا کہ تھپڑوں سے اس کا منہ توڑ دے۔ بچے کی یہ حالت ہو رہی ہے اور اسے کوئی پروا ہی نہیں! کتنی بے رحم عورت ہے۔ ایسی بدذات عورت کو کیا معلوم کہ اولاد کیا ہوتی ہے۔ شادی کے چار سال بعد کہیں جا کر یہ بچہ نصیب ہوا تھا۔ ایک ہی تو بیٹا تھا۔ اس کے بعد کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ یہی تو گھر کا اکلوتا چراغ تھا۔

 

گوردیو سنگھ کے اندر غصے کی آگ بھڑک رہی تھی۔ آدمی اپنے پیٹ سے پیدا کیے ہوئے جگر گوشے کو بھی بھلا کبھی یوں بے یار و مددگار چھوڑ سکتا ہے؟

 

مگر کچھ ہی دیر میں اس کا غصہ ٹھنڈا ہونے لگا۔ اسے پچھلے دن یاد آنے لگے۔ جب سے شرن پال بیاہ کر اس کے گھر آئی تھی، اس نے کبھی اس سے ڈھنگ سے بات تک نہیں کی تھی۔ آج تک اس کی ماں ہی اس کے سامنے تھالی میں کھانا ڈال کر رکھتی تھی۔ کپڑے بھی وہی دھوتی تھی۔ شرن پال تو شروع ہی سے خاموش طبع تھی۔ نہ کبھی اس نے گوردیو سنگھ سے لڑائی جھگڑا کیا، نہ کبھی بیٹھ کر دو گھڑی محبت کی باتیں کیں۔

 

گوردیو سنگھ گھر کے کسی معاملے پر ناراض ہوتا تو منہ پھلا کر بیٹھ جاتا۔ کھانا تک نہ کھاتا۔ گھر کے سب لوگ کھا پی چکے ہوتے، مگر اس کی ماں اسے بار بار کھانے کے لیے کہتی اور وہ اپنی ضد پر اڑا رہتا۔

 

اس کے دل کے کسی گوشے میں خواہش جاگتی کہ شرن پال تھالی میں کھانا ڈال کر لائے، اسے منانے کی کوشش کرے، ذرا چھیڑے، ہنسی مذاق کرے اور اسی شوخی میں ایک لقمہ توڑ کر اس کے منہ میں ڈال دے۔ پھر وہ سارا کھانا کھا لے۔

 

مگر شرن پال تو اس کے قریب بھی نہ آتی۔ اسے جیسے یہ خیال ہی نہ رہتا کہ خود کھانا کھاتے ہوئے اپنے شوہر کے کھانے کا بھی پوچھ لے کہ اس نے کھایا ہے یا نہیں۔ وہ اپنا کھانا کھاتی، برتن سمیٹتی اور جا کر چارپائی پر لیٹ جاتی۔

 

گوردیو سنگھ سوچتا رہتا کہ کیا شرن پال کے میکے گاؤں میں اس کی سہیلیاں نہیں تھیں؟ یقیناً اس سے پہلے کچھ سہیلیوں کی شادیاں بھی ہو گئی ہوں گی۔ شادی کے بعد جب لڑکیاں اپنے میکے آتیں تو سہیلیوں کو اپنے گھر کی باتیں سنایا کرتی ہیں۔ کیا شرن پال نے کبھی کسی سے نہیں سنا ہوگا کہ نئی نئی شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان محبت کی گرمی اور بے پناہ لاڈ پیار کیا ہوتا ہے؟ یا کیا اس نے سسرال کے گاؤں میں دوسری عورتوں کو اپنے شوہروں کے قصے سناتے نہیں سنا؟ وہ کس طرح اپنے مردوں سے لڑتی جھگڑتی ہیں اور پھر کس طرح ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں!

 

آخر گوردیو سنگھ یہی فیصلہ کرتا کہ اس کی بیوی تو بالکل بے وقوف ہے، ناسمجھ، گنوار اور بھینس جیسی بھاری بھرکم۔ اس پر زمانے کی ہوا تک اثر انداز نہیں ہوئی۔ اسے معلوم ہی نہیں کہ عورت کیا ہوتی ہے، مرد کس مٹی کا بنا ہوتا ہے، اسے خوش رکھنے کے لیے عورت کے پاس کون کون سے ہنر اور کتنے ہی دل لبھانے والے انداز ہوتے ہیں۔

 

شرن پال تین بہنیں تھیں۔ وہ ان سب میں بڑی تھی اور دو بہنیں اس سے چھوٹی تھیں۔ ایک بھائی تھا، سب سے چھوٹا۔ جب ان کا باپ دنیا سے رخصت ہوا تو بھائی کی عمر کوئی دس برس تھی۔ اب گھر میں وہی ایک مرد تھا؛ باقی ماں اور چار بیٹیاں تھیں۔ گھر میں مرد نہ ہو تو عورت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ مرد ہی تو گھر کا ستون ہوتا ہے۔

 

شرن پال کو اپنا بھائی بے حد عزیز تھا۔ بھائی آخر کس کو پیارا نہیں ہوتا، مگر اس کے لیے تو وہی اس کی جان تھا۔

 

وہ ہر وقت اسے اپنے پاس رکھتی، پل بھر کے لیے بھی اس سے غافل نہ ہوتی۔ دس برس کا ہو جانے کے باوجود وہ اس کے ساتھ سوتا تھا۔ دونوں ایک ہی تھالی میں کھانا کھاتے۔ صبح شرن پال اسے نہلاتی اور اسکول چھوڑ کر آتی۔ اسے جو چیز بھی چاہیے ہوتی، شرن پال ہی سے مانگتا۔ ماں سے نہ کچھ پوچھتا، نہ اس کے پاس بیٹھتا اٹھتا۔

 

ایک بار اسے ٹائیفائڈ ہو گیا۔ بہت علاج کرایا گیا، مگر بخار اترنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ شرن پال کا سارا وجود جیسے موم کی طرح پگھلنے لگا۔ بھائی کی تکلیف دیکھ کر وہ خود بھی مرتی جاتی تھی۔ رات بھر سو نہ پاتی۔ اسے سینے سے لگا کر لیٹی رہتی، مگر وہ بچ نہ سکا۔

 

شرن پال نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ غم سے اپنے سر کے بال نوچ ڈالے اور دیواروں سے ٹکریں مارنے لگی۔ اس کی دونوں چھوٹی بہنیں اور ماں اسے سنبھالنے میں لگ گئیں۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ غم میں خود کو بھی نہ کھو بیٹھے۔

 

پھر ان کے گھر ایک لڑکا آنے لگا۔ وہ پڑوس ہی کا رہنے والا تھا۔ اپنی پھوپھی کے پاس رہتا اور شہر کے کالج میں پڑھنے جاتا تھا۔

 

شرن پال دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد پڑھائی چھوڑ چکی تھی۔ دونوں چھوٹی بہنیں اسکول جاتی تھیں۔ وہ لڑکا گھر آتا تو ان کے چھوٹے موٹے کام کر دیتا، شہر سے ضروری چیزیں لا دیتا۔ شرن پال کی ماں اکثر بیمار رہتی تھی۔ وہ ہر مہینے شہر سے اس کے لیے پینے کی دوا کی ایک بوتل بھی لے آتا۔ شرن پال کے پاس بیٹھتا اور چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا رہتا۔

 

ماں کو محسوس ہوتا جیسے ان کا مر چکا بیٹا انہیں دوبارہ مل گیا ہو۔ شرن پال کو بھی لگتا جیسے وہ اس کا بھائی ہی ہو۔ وہ اس سے اپنے بھائی جتنی محبت کرنے لگی۔

 

دونوں طرف سے محبت تھی۔ ایک پاکیزہ، معصوم سا لگاؤ دن بدن گہرا اور گرم جوش ہوتا گیا۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر رہ نہ سکتے تھے۔ شرن پال کے دل سے اپنے بھائی کی یاد کا درد آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔ پھر انہیں خود بھی خبر نہ ہوئی کہ ان کے اس پاکیزہ رشتے کا رنگ کب بدل گیا۔

 

اب وہ ایک خوب صورت مستقبل کے خواب دیکھنے لگے تھے۔ شرن پال کی خوشی سنبھالے نہ سنبھلتی تھی۔ وہ سوچتی، یہ لڑکا کتنا اچھا ہے! ہمارے گھر کو سنبھال لے گا، میری چھوٹی بہنوں کے لیے سہارا بنے گا، ماں کو آرام دے گا۔ وہ اسے اپنے ہی گھر میں رکھ لے گی۔ ان کے پاس کافی زمین تھی۔ وہ سب مل کر خوش حالی سے زندگی گزاریں گے اور وہ دونوں اپنی چھوٹی بہنوں کے لیے ماں باپ بن کر رہیں گے۔

 

شہر قریب ہی تھا۔ لڑکا سائیکل پر کالج جایا کرتا تھا۔ ایک دن موسلا دھار بارش ہوئی۔ تیز آندھی کے ساتھ ایسی بارش برسی کہ سڑک کے کنارے کھڑے کئی درخت ٹوٹ کر گر گئے۔ بسوں، ٹرکوں، کاروں اور دوسری گاڑیوں کا چلنا دشوار ہو گیا۔ ایک جگہ شیشم کا ایک درخت ٹوٹ کر گرا تھا اور اس کی موٹی شاخ سڑک پر پڑی تھی۔ عین اسی مقام پر لڑکے کی سائیکل کے اوپر ایک ٹرک چڑھ گیا۔

 

اس کے سر پر شدید چوٹ آئی اور کچھ ہی دیر بعد وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا۔

 

شرن پال کی دنیا اجڑ گئی۔

 

بس، وہی دن تھا اور آج کا دن، اس کے دل میں ایک گرہ پڑ گئی کہ وہ جس کسی سے بھی دل کی گہرائیوں سے محبت کرتی ہے، وہ مر جاتا ہے۔ پہلے اس کا بھائی، پھر وہ لڑکا جسے اس نے اپنے بھائی کی جگہ دل میں بسایا تھا۔

 

شرن پال کا بیٹا بری طرح کمزور ہو چکا تھا۔ وہ بڑی مشکل سے بیٹھتا اور آہستہ آہستہ بولتا، جیسے اس کے جسم میں ذرا بھی جان نہ بچی ہو۔ جب شرن پال اس کے پاس سے گزرتی تو وہ ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھتا رہتا۔

 

شرن پال کا دل چاہتا کہ اپنے ’’گدھے‘‘ کو سینے سے لگا کر بھینچ لے، مگر فوراً اسے یاد آتا کہ جب اس کا بھائی ٹائیفائڈ میں اسی طرح بیمار ہوا تھا تو وہ اسے بھی سینے سے لگا کر رکھا کرتی تھی۔

 

شرن پال نے اپنے اٹیچی میں کپڑے رکھے اور ساس سے کہنے لگی:

 

’’بے جی، میں اپنی ماں کے پاس جا رہی ہوں۔ کوئی ہفتہ بھر رہ کر آ جاؤں گی۔‘‘

 

ساس نے حیرت سے کہا:

 

’’ارے بہو، ذرا بچے کی طرف تو دیکھ! تجھے اس حالت میں اسے چھوڑ کر جانے کی کیا سوجھی ہے؟ بچے کی طبیعت تو بہت بگڑی ہوئی لگتی ہے۔ گاؤں گاؤں لوگ مر رہے ہیں۔ کچھ تو سوچ! آخر تجھے جانے کی اتنی جلدی کیوں پڑ گئی ہے؟‘‘

 

شرن پال نے بے رخی سے جواب دیا:

’’بخار ہی تو ہے، خود ہی اتر جائے گا۔ اسے کیا ہو جائے گا؟‘‘

 

ساس بولی:

 

’’تو کتنی ناسمجھ ہے! تجھ جیسی عورت کے پلے آخر اولاد کیوں لگے؟ اتنی بے رحم! جس نے اپنے بیٹے کو کچھ نہ سمجھا، اسے بھلا کسی اور کی کیا پروا ہوگی؟ جا، چلی جا! تو نہیں تو ہم تو ہیں ہی اس کے لیے۔‘‘

ساس کے یہ سخت اور تلخ الفاظ سن کر جیسے شرن پال کو کچھ ڈھارس بندھ گئی۔ اب اس کے لعل کا ایک بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔

اس نے اٹیچی اٹھایا اور اپنے ’’گدھے‘‘ کی طرف دیکھے بغیر گھر سے باہر نکل گئی۔

 

 

اصل عنوان

  ਡਰ

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

رابندر ناتھ ٹیگور کا افسانہ : کابلی والا (Kabuliwala)

افسانہ نمبر 723 : طوفان، تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا)، مترجم : محمد فیصل (کراچی)