افسانہ نمبر 723 : طوفان، تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا)، مترجم : محمد فیصل (کراچی)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 723 : طوفان
تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا)
مترجم : محمد
فیصل (کراچی)
یہ میرا فیصلہ ہے، میرا انتخاب۔ خالصتاً میرا ذاتی فیصلہ اور میں کسی کو بھی اس کی وجہ بتانے کی پابند نہیں۔
میں اس بات کا حق رکھتی ہوں ۔کیوں ٹھیک ہے نا؟ میں نے یہ فیصلہ نوے کی دہائی کے
اواخر میں کیا تھا ۔ اس وقت میری عمر بائیس تئیس برس تھی۔ اب مجھے اپنی عمر ٹھیک
سے یاد نہیں مگر میں نے یہ فیصلہ مکمل ہوش و حواس میں کیا تھا۔ مکمل ہوش و حواس یہ
ہرگز مطلب نہیں کہ میں کبھی کبھار ہوش میں نہیں بھی ہوتی۔ خیر آپ جو مرضی سوچیں ،
میں اب صفائیاں دیتے دیتے تنگ آ چکی ہوں۔
پہلا موقع مجھے سمندری طوفان "مشیل" کی بدولت
اکتوبر 2001 میں ملا ۔ میری والدہ دل کی بیماری کی وجہ سے فوت ہو چکی تھیںاور خدا
بھلا کرے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا ، جن کی بدولت میرے والد کو جیل سے رہائی
ملی(اگرچہ انھیں جلا وطن کیا گیا تھا)۔ وہ آج کل لاس اینجلس میں مقیم ہیں ۔ میرے
بڑے بھائی نینے کو گردن میں گولی مار دی گئی۔ نینے ہی کیوں؟ میں نہیں جانتی۔ اس کا
کسی کوئی لینا دینا نہیںتھا۔ اسے نہ سیاست سے دل چسپی تھی، نہ منشیات سے اور نہ ہی
شراب سے۔ وہ ہماری والدہ کی طرح ایک غائب دماغ اور بے ضرر سا آدمی تھاجسے پڑھنا
بے حد پسند تھا۔وہ زیادہ تر شاعری پڑھتا اور W
H Audenاس کا پسندیدہ شاعر تھا۔ وہ بہت دھیمے مزاج
کا حامل تھا۔ میرا خیال ہے وہ کسی غلط موقع پر کسی غلط جگہ پر موجود تھا۔ کم ازکم
مجھے یہی بتایا گیاتھا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی اور کے دھوکے میں مارا گیا۔
میں واقعی نہیں جانتی۔ اب میں اپنے چھوٹے بھائی بیبو کے ساتھ ایل ویدادو میں اپنے
پرانے مگر مضبوط گھر میں رہتی ہوں۔
یہ صبح کے تین کے آس پاس کا وقت تھا ۔ اکتوبر کے
ابتدائی دن تھے۔ بیبو اپنے کمرے میں سو رہا تھااور میں لائونج میں بیٹھی ٹی وی
دیکھ رہی تھی۔ اس وقت ٹی وی پر عموماََ اولمپک مقابلے دکھائے جاتے تھے۔ مگر اس رات
وہاں ایک خطرناک سمندری طوفان کی خبر تھی جو پڑوسی ملکوں میں تباہی مچا رہا تھا۔
سمندری طوفان"مشیل"۔ ایک عفریت کو کتنا خوب صورت نام دیا گیا تھا۔ سکیل
کے مطابق اس کی شدت پانچ تھی۔ اس شدت کے طوفان کی بدولت ہوائیں اڑھائی سو کلو میٹر
کی رفتار سے چلنے لگتی ہیں۔ شدید بارشیں اور مہیب لہریں اس کے علاوہ تھیں۔
سو اب ہوانا کی باری تھی۔ جزیرے کےمغربی اور مرکزی حصے
اور کئی قریبی علاقے طوفان کی زد میں تھے۔ چند ہی گھنٹوں میں طوفان کیوبا کےساحل
سے ٹکرانے والا تھا۔ مگر یہ کوئی نہ جانتا تھا کہ یہ کس حصے سے پہلے ٹکرائے گا۔
میامی اور کاسا بلانکا کے موسمیاتی سٹیشن بھی اس بارے میں پیشین گوئی نہیں کر پا
رہے تھے۔ ٹی وی پر محکمہ موسمیات کا ڈائریکٹر مسلسل بولتا چلا جارہا تھا۔ وہ نقشوں
اور کچھ خلائی سیاروں سے لی گئی تصاویر کے پاس کھڑا کچھ ڈگری، شمال اور جنوب کی
باتیں کر رہا تھا۔ اس کی باتوں سے زیادہ اس کی حالت خطرے کی گھنٹی بجا رہی تھی۔ وہ
پسینے میں ڈوبا ہوا تھااور بار بار اپنی آستین سے ماتھے کا پسینہ پونچھ رہا تھا۔
’’طوفانی ہوائیں، اتنے ملی میٹر بارش، کئی
ہیکٹرپاسکلز وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے کئی دہائیوں سے اتنی شدت کے طوفان کا سامنا
نہیںکیا۔ مگر آپ پُر سکون رہیے۔ اور کسی بھی ایمر جنسی کی صورت میں محکمہ شہری
دفاع کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں‘‘۔
اس کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ بے حد خوف زدہ ہے
اور اس کا بس چلے تو وہ شہری دفاع اور چینل والوں پر لعنت بھیج کر کہیں غائب ہو
جائے ۔ پھر سی این این ہسپانیہ پر طوفان کی تباہ کاریوں کی تصویریں آنے لگیں۔
"مشیل" کیریبین کے ساحل پر بربادیوں کی نئی داستانیں سناتا بڑھتا چلا
جارہا تھا اور سی این این کے نمائندے اس کے تعاقب میں تھے۔منظر بے حد دہشت ناک
تھے۔ بپھرے ہوئے دریا، تباہ حال گھر، جڑوں سے اکھڑے درخت، چاروں سمت پانی اور اس
میں تیرتے مردہ انسانی وجود اور جانور۔ بچ جانے والوں کی آنکھوں میں ثبت درماندگی
طوفان کی کہانی کرتی نظر آتی تھی۔ صحافی اس تباہی سے متاثر ہوئے بغیر جذبات سے
عاری آواز میں ہیلی کاپٹر سے مسلسل کمنٹری کر رہا تھا:
’’یہ نکارا گوا ہے، یہ ہنڈراس ، یہ گوئٹے
مالا اور اب ہم شمالی برازیل سے گزر رہے ہیں۔ جلد ہی یہ طوفان کیریبین کی طرف رُخ
موڑ لے گا اور اس کی شدت اور حجم میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ فی الوقت یہ کیوبا
کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘۔۔۔
اور اسی سمے بجلی غائب ہوگئی۔مجھے کچھ کچھ اندازہ ہو
رہا تھا کہ اس وقت لاکھوں لوگ کس ذہنی کیفیت سے گزر رہے ہوں گے۔ مجھے کہیں دور سے
چیخوں کی آواز بھی سنائی دی، یا ہوسکتا ہے کہ شایدہ وہ میرا وہم ہو۔
میں بالکل بھی خوف زدہ نہ تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ
میں بہت بہادر ہوں۔ نہیں ، بالکل نہیں۔ بچپن سے ہی میں نے خوف کو اتنے بہروپوں میں
دیکھ لیا تھا کہ میں مستقل سرد رد کی مریض بن چکی تھی اور اپنے ناخن چبانا میری
عادت تھی۔بولتے وقت میرے گلے میں پھندا لگ جاتامگر جب میں نے وہ فیصلہ کر لیا تو
گویا سارے خوف ختم ہوگئے۔ میرے اندر ایک نئے وجود نے جنم لیا۔ مجھے ڈرائونے خواب
آنا بھی ختم ہو گئے۔ جب بجلی غائب ہوئی تو مجھے صرف ایک ہی فکر لاحق تھی کہ گرمی
کے باعث میرا چھوٹابھائی جاگ نہ جائے۔
بیبو کوئی چھوٹا بچہ نہ تھا۔ وہ مجھ سے صرف دو برس
چھوٹا تھا اور میرے منصوبےمیں رخنے ڈال سکتا تھا۔ وہ یقیناََ مجھے روکنے کی کوشش
کرتااور اس نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ غصیلا ہے یا شدت پسند
ہےیا مجھ سے بد تمیزی کرتا ہےمگر وہ مجھے اپنی حرکتوں سے اشتعال دلا دیتا ہے۔ وہ
کٹر کیتھولک ہے اور ہر وقت اپنی کھردری آواز میں
’’خدا سب سے محبت کرتا ہے اور ہمیں بھی سب سے
محبت کرنی چاہیے اور اپنی روح کے نجات کے لیے ‘‘۔۔۔۔۔
پتا نہیں کیا کیا بولتا رہتا ہے۔ اگر میں اسےکہہ دیتی
کہ مجھے اکیلا چھوڑ دوتو وہ ٹیپ ریکارڈر کی طرح شروع ہوجاتا
’’کیا کہا، تمھیں اکیلا چھوڑ دوں۔ خدا کو
اپنے دل میں جگہ دو‘‘۔۔۔
اور پھر ایک نیا وعظ۔ اسی لیے اس کا سوتے رہنا ہی بہتر
تھا۔میں نے لان کی طرف کھلنے والی کھڑکی کھولی ۔ مکمل خاموشی یہاں تک کہ جھینگروں
کے بولنے کی آواز بھی نہ آرہی تھی۔ میں نے کہیں سنا تھا کہ جانوراور پرندےطوفان
کی آمد بھانپ لیتے ہیں اور ہم انسان تمام تر ٹیکنالوجی کے ساتھ لاعلم رہ
جاتے ہیں۔ ہلکی سی ہوا بھی نہیں چل رہی تھی۔ مطلع صاف اور چاند ستارے اپنی روشنی
پھیلا رہے تھے۔ اگر ٹی وی پر خبر نہ آتی تو اس بات پر یقین کرنا بے حد مشکل تھا
کہ کوئی طوفان آنے والا ہےاور وہ بھی اتنا تند اور مہیب۔ میری آنکھیں اندھیرے کی
عادی ہو گئیں۔ میں کئی گھنٹے وہاں بیٹھی سگریٹ پھونکتی رہی۔ بیبو ابھی تک سو رہا
تھا۔
صبح صادق کے وقت میں اٹھی، اپنی ٹانگیں سیدھی کیں۔ میرے
منصوبے کےمطابق کام کرنے کا وقت ہو چلا تھا۔ بغیر آواز پیدا کیے میں بھائی کےکمرے
میں داخل ہوئی۔ وہ سکون سے سو رہا تھا۔ اس کے کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی
اور وہ یقیناََ اس وقت کوئی حسین خواب دیکھ رہا تھا۔ ہم دونوں کوئی کام نہیں
کرتے تھے۔ ہمارے ملک کے قانون کے مطابق ہم صرف مزدوری کر سکتے تھے۔ اس کا یہ مطلب
نہیں کہ ہم دونوں مجرم تھے ۔ بس نقطۂ نظر کا فرق ہے۔ وہ کام جو کئی ممالک میں
قانونی ہیں ، ہمارے یہاں غیر قانونی قرار دیے گئے ہیں۔ ہمارا گزارا ان ڈالروں پر
تھا جو ہمارے والد ہمیں امریکا سے بھیجتے تھے۔ میرے والد اس کوشش میں بھی تھے کہ
وہ ہمیں بھی کسی طرح اپنے پاس بلا لیںمگر ابھی تک ہمارا ویزہ نہیں مل سکا تھا۔ یہ
بھی اچھا تھا کہ بیبو کی کمر میں تکلیف تھی ورنہ اسے فوج میں بھرتی کر لیا جاتا۔
مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ ویزہ نہ ملنے کی کیا وجوہات تھیں۔ خیر بہت سی
باتیں ہیں جو میں آج تک نہیں سمجھ سکی۔
یہ بیبو کا وہم تھا یا حقیقت ، اسے محسوس ہوتا کہ اس کی
نگرانی ہو رہی ہے۔ ہمارے گھر کی نگرانی ہو رہی ہے۔ وہ کہیں باہر جاتا تو اسے کچھ
شکلیں بار بار نظر آتیں۔ اس نے کئی بار مجھ سے ان کا ذکر کیا اور میں ہر دفعہ اس
سے پوچھتی کہ کیا اسے پورا یقین ہے؟ کہیں یہ اس کا وہم تو نہیں ؟ اور وہ تنک کر
کہتا
’’اوہ ! ماریا دیلاس مرسیدس!ہمیشہ کی طرح
تمھارا دماغ بادلوں میں ہے۔ تم بابل کےمعلق باغات سے نیچے اُتر آئو۔ کیا میں
تمھیں پاگل نظر آرہا ہوں‘‘۔
نینے کی پُراسرار موت اور اس نگرانی کی بدولت کئی بار
ایسا لگا کہ بیبو پاگل ہو جائے گا۔میں نے اس کے کمرے سے گاڑی کی چابی اور ٹارچ
اٹھائی۔ باہر تیز ہوا چلنا شروع ہو چکی تھی مگر ہوا کے کم دبائو کی وجہ سے ابھی
بھی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ ایک لحظے کو خیال آیا کہ کھڑکی بند کردوںمگر پھر میں
نے اسے کھُلا رہنے دیا۔ میں نے سوچا کہ جب وہ جاگے گا تو کیا سوچے گا؟ کیا میں کچھ
لکھ دوں کہ میں تمھاری وجہ سےنہیںبلکہ ۔۔۔ یا پھر یہ لکھوں کہ میں ان وجوہات پر
گھر چھوڑ کر جارہی ہوں۔ نینے میری تحریروں کو پسند کرتا تھا اور میری تحریریں کیا
تھیں؟ صرف چھ کہانیاں ،جن میں سے ایک کسی رسالے میں شائع ہوئی تھی۔ میں نے کچھ نہ
لکھنے کا فیصلہ کیا اور کچھ دیر خاموشی سے بیبو کو دیکھتی رہی۔ میں نے اسے اپنے
ذہن میں پیار کیا، ایک جپھی ڈالی اور پھر دوبارہ اس کو پیار کیا۔میں بہت زیادہ
جذباتی نہیں مگر میں پتھر بھی نہیں تھی۔میرا دل چاہا کہ اسے گلے لگالوں مگر اس میں
اس کے جاگ جانے کا اندیشہ تھا۔ میں نے اسے دل ہی دل میں خدا حافظ کہااوریہ بھی کہا
کہ میں اس سے بہت پیار کرتی ہوں اور وہ میرےلیے اداس نہیں ہوگا۔ میں نے دعا کی کہ
ویزہ آجائے اور وہ پاپا کے پاس چلا جائے۔ اس سے پہلےکہ ہوا مزید تند ہوتی اور
کھڑکیاں بجنا شروع ہو جاتیں ، میں گھر سے نکل آئی۔ اس کے بعد ہم دونوں نے ایک
دوسرے کو نہیں دیکھا۔
صبح ہو چکی تھی مگر ابھی تک روشنی پھیل نہ پائی تھی۔
ہوا میں نمی بڑھتی جا رہی تھی اور بارش بس ہونے ہی والی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ
"مشیل" جزیرے سے ٹکراچکا ہے۔ یہ کیا تباہی پھیلائے گا؟ کوئی نہیں جانتا۔
اگر یہ پوری شدت سے ہوانا سے ٹکرایا تو یہ پچھلے پچاس برسوں میں ہونے والا سب سے
بڑا انسانی المیہ ہوگا۔ مجھے یہ طوفان بہت بُرا لگا۔میں گیراج کی طرف بڑھی۔ ساتھ
والے گھر کی کھڑکیاں بند تھیں۔ یہ اچھا تھا کہ مجھے جاتے ہوئے کسی نے نہ دیکھا۔
میں نےآہستگی سے گیراج کا دروازہ کھولا۔ ٹارچ جلائی اور اپنی فورڈ پک اپ میں بیٹھ
گئی۔ یہ گاڑی بھی خوب تھی۔ اسے اب تک کسی عجائب گھر کی زینت ہونا چاہیے تھا ۔ جو
سیاح بھی اسے دیکھتا وہ اس کے ساتھ ایک تصویر ضرور بنواتا۔ کم و بیش سبھی اسے
خریدنے کے خواہش مند ہوتے۔ اس گاڑی کا چلنا بھی کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ چالیس برس
سے اس کا کوئی پرزہ بھی تبدیل نہیں ہوا تھااور یہ ابھی تک رواں دواں تھی۔ اگر یہ
ورلڈ ریکارڈ نہیں تھا تو اگلے چند برسوں میں بننے والا تھا۔
میں گاڑی سڑ ک پر لے آئی۔ گیراج کا دروازہ کھلا رہنے
دیا۔ وہاں چوری کے قابل کوئی چیز نہ تھی۔ دروازہ بند نہ کرنے کی ایک اور وجہ تھی۔
یہ طوفان میں ایک پناہ گاہ بن سکتا تھا۔ ایسے موقعوں پر بہت سے فقیر، بے ٹھکانہ
اور شرابی ہوتے ہیں جن کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں ہوتی۔ اگر آدمی نہیں تو
آوارہ کتے اور بلیاں ہی یہاں پناہ لے سکتے تھے۔ میں نے گاڑی تیزی سے دوڑانا شروع
کردی۔ اب میں اس علاقے سے جلد از جلد نکلنا چاہ رہی تھی۔ بارش باقاعدہ شروع ہو چکی
تھی اور میں دعا کر رہی تھی کہ یہ گاڑی خراب نہ ہو۔میں تیزی سے گاڑی چلاتی
المیندراس کے پُل پر پہنچی اور اسے تیزی اسے پار کر گئی۔ میرے ذہن میں کوئی خاص
جگہ نہیں تھی۔ میں بس گاڑی چلاتی رہی۔ بارش تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی۔ ہوا
پہلے آندھی بنی اور پھر طوفانی جھکڑوں میں تبدیل ہو گئی۔ درخت بری طرح ہل
رہے تھے۔ میں نے رفتار آہستہ کر لی مگر میں رکی نہیں۔ پورا شہر ویران تھا۔ نہ
کوئی ذی روح تھا نہ جانور۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر نصب بتیاں بھی بجھ چکی
تھیں۔ پورے شہر میں اکیلی کسی بھوت کی طرح گشت کر رہی تھی۔ مجھے لگا کہ میں ہوانا
سے نہیں بلکہ کسی ویران کھنڈر سے گزر رہی ہوں۔ مجھے کئی برسوں بعد ایک ان جانی
خوشی کا سا احساس ہوا۔
ونڈ سکرین کے پار کا منظر اب دھندلا گیا تھا۔ چالیس برس
پرانے وائیپرطوفانی بارش کا کیا مقابلہ کرتے۔ میں اب تئیسویں شاہراہ پر آ
چکی تھی۔ بارش کی بدولت مجھے اندازہ نہ ہوا کہ مونتیرو سانچز پر دو مردچل رہے ہیں
یا عورتیں۔ دونوں گر گئے ، کھڑے ہوئے اور پھر گر گئے۔اس کے بعد پانی کا پردہ ایک
دیوار بن گیا اور مجھے علم نہیں کہ ان دونوں کا کیا بنا؟ میں نے گاڑی کی رفتار
بڑھا دی۔ میری چھٹی حِس یہ کہہ رہی تھی کہ کچھ بُرا ہونے والا ہے اور وہی ہوا۔ کچھ
دور جانے کے بعد گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ رُک گئی۔ میں نے سیٹ بیلٹ نہیں پہنی تھی۔
میں ونڈ شیلڈ سے تو نہیں ٹکڑائی مگر میرا ماتھا سٹیرنگ سے جا لگا۔ انجن چل
رہا تھا مگر گاڑی ایک جگہ کھڑی تھی۔ میں نے اسے پیچھے لے جانے کی بھی کوشش کی مگر
بے سود۔ اچانک مجھے اپنے چہرے پر کسی سیال شے بہنے کا احساس ہوا۔ میں نے اسے چھوا۔
وہ خون تھا۔ میں نے آئینے پر نظر دوڑائی۔ میرے ماتھے پر ایک گہرا زخم بن چکا تھا
اور اس میں سے خون بہ رہا تھا۔ میں نے دوبارہ گئیر لگایا اور گاڑی چلانے کی کوشش
کی مگر گاڑی کسی چٹان کی طرح اپنی جگہ کھڑی رہی۔ دل میں خیال آیا کہ باہر نکل کر
دیکھ لوں مگر چاروں طرف پانی تھا۔ بارش کی بوندیں گاڑی پر یوں برس رہی تھیں کہ
جیسے اس میںسوراخ کردیںگی۔
میں نے ٹھنڈے دل سے غور کیا تو یاد آیا کہ اس شاہراہ
پر بہت زیادہ گڑھے ہیں اور میں انھی میں سے ایک پر پھنس چکی ہوں۔ اب کوئی دوسری
گاڑی یا ٹرک ہی مجھے یہاں سے نکال سکتا ہے۔ مگر اس طوفان میں کون آتا۔ گاڑی کے
گرد پانی جمع ہوتا جارہا تھا ۔ پانی بونٹ تک پہنچا اور انجن بند ہو گیا۔ گاڑی کے
اندر اس قدر گھٹن ہو چکی تھی کہ میری سانس رکنے لگی۔ میرے اپنے بہتے خون کی بو
نتھنوں میں گھُسی جا رہی تھی۔ میں نے گاڑی صاف کرنے والے کپڑے سے اپنے زخم کو
دبایا کہ خون رک جائے۔گھٹن اور بو سے تنگ آکر میرا دل چاہا کہ میں دروازہ کھول کر
باہر نکل جائوں مگر اب باہر سے ایسی آوازیں آرہی تھیں جیسے ہزاروں عفریت چنگھاڑ
رہے ہوں۔ اچانک ایک اور شدید جھٹکا لگا اور میرے پورے جسم میں درد کی لہریں دوڑ
گئیں۔ مگر یہ کیفیت صرف چند لمحوں کے لیے محسوس ہوئی۔ اس کے بعد میں نے خود کو بہت
بہتر محسوس کیا۔ بارش اور ہوا کی آواز بہت دور سے سنائی دے رہی تھی۔اس کے بعد
میرے وجود کو اندھیرے نے لپیٹ لیا۔
میری آنکھ فرجادوہسپتال میں کھُلی۔ میرے ایک ہاتھ میں
ڈرپ لگی تھی، منہ پر آکسیجن ماسک اور سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میرے جسم پر
ہسپتال کے کپڑے تھے۔ میرا دل چاہا کہ میں ہر چیز اتار کر یہاں سے بھاگ جائوںمگر
میں ذرا سی حرکت بھی نہ کر پائی۔ میرا سر چکرانے لگا اور جسم میں درد کی لہریں دوڑ
گئیں۔ جیسے ہی ایک نرس نے مجھے ہوش میں دیکھاوہ بھاگ کر ایک ڈاکٹر کو بلا لائی۔
داکٹر عمر کی پانچویں دہائی میں تھا ۔ وہ بے حد موٹا تھا مگر اس کے چہرے پر
بچوں کا سا بھولپن تھا۔اس نے میرا ماسک
اتارا اور میرا نام، پتا اور قریبی رشتے داروں کے بارے میں پوچھنے لگا۔ میں چپ
رہی۔ اس نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا میں اسے سن پا رہی ہوں؟ میں نے آنکھوں سے ہاں
کا اشارہ کیا۔ بہرے پن کی اداکاری کرنا بہرہ ہونے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ ڈاکٹر نے
ماسک لگایا اور کچھ بولنے لگا۔ مجھے بس اتنا یاد رہا کہ گاڑی پر پاپلر کا درخت گرا
تھا۔ پاپلر کے درخت بے حد طویل ہوتے ہیں۔ میری خوش قسمتی کہ یہ درخت پہلے ایک
باڑ پر گرا، پھر ایک کار اور کچلااور پھر اس کا سب سے بلند حصہ میری گاڑی پر گرا۔
اگر کہیں اس کا تنا گاڑی پر گرتا تو میرا ملیدہ بن جاتا۔ میں تین دن بے ہوش
رہی۔میرے ماتھے پر زخم کے علاوہ میرا بقیہ بدن محفوظ تھا۔ انھوں نے ایکس رے کیے،
خون کے کچھ نمونے لیے مگر تمام رپورٹس درست تھیں۔ اس نے اتنا کہا کہ اتنے شدید
حادثے کی وجہ سے میرے حواس متاثر ہو چکے ہیں اسی لیے مجھے کچھ دن زیرِ معائنہ رہنا
پڑے گا۔ میں جلد ہی ٹھیک ہو جائوں گی اور مجھے مکمل آرام کی ضرورت ہے۔
وارڈ میں ایک ٹی وی نصب تھا جس کی آواز شاید پورے
ہسپتال میں سنائی دے رہی تھی۔ طوفان کی تباہ کاریاں جاری تھیں۔ کیوبا کے بعد
وہ خلیج میکسیکو اور پھر فلوریڈا تک جا پہنچا تھا۔ جہاں تک کیوبا کا معاملہ تھا
طوفان کا مرکز پینار ڈیل ریو سے ٹکرایا۔ اتنی تباہی پھیلی کہ اقوام متحدہ نے اسے
مصیبت زدہ علاقہ قرار دے دیا ۔ ڈاکٹر سمجھ رہا تھا کہ میں جلد ہی اسے اپنے بارے
میں بتادوں گی۔ مگر میں نے اسے کچھ نہ بتایا۔ میں بالکل خاموش رہی۔ اس نے مجھے
دھمکیاں بھی دیں۔ اس نے دھمکایا کہ یہاں بے نامی مریضوں کا علاج نہیں ہوتا۔ ریکارڈ
کے لیے مجھے اپنی تفصیلات دینا پڑیں گی۔ اس نے مجھے دماغی امراض کے ہسپتال منتقل
کرنے کی بھی دھمکی بھی دی۔ میں نے جیسے ہی ذرا سی ہمت پکڑی، وہاں سے چلتی بنی۔
باہر آکر مجھے علم ہوا کہ ہوانا بھی بری طرح تباہ ہو
چکا تھا۔ عمارتیں زمیں بوس ہو چکی تھیں، درخت جڑوں سے اکھڑ چکے تھے، سڑکوں پر بجلی
اور فون کی تاریں بکھری ہوئی تھیں۔ ہر وہ چیز جو طوفانی ہوائوں کے نرغے میں آئی
اپنی جگہ چھوڑ چکی تھی۔ چند سو افراد اپنی جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے مگر تیس لاکھ
کی آبادی والے شہر میں اگر کچھ لوگ مر بھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ مجھے بہت
فرق پڑا کہ مرنے والوں میں میرا چھوٹا بھائی بیبو بھی تھا۔ اس کی لاش گھر سے چند
فرلانگ دور دریافت ہوئی۔ اس کے پورے جسم پر زخموں کے نشان تھے اور گردن ٹوٹی ہوئی
تھی۔ اس کے ساتھ یہ کس نے کیا؟ میں نہیں جانتی اور شاید کبھی جان بھی نہ پائوں۔
اگر جان بھی گئی تو اب وہ واپس تو آنے والا نہیں۔
اب میں اپنے گھر میں تنہا زندگی بسر کر رہی ہوں۔
امریکاسے باقاعدگی سے رقم تو مل رہی ہے، بس ویزہ ابھی تک نہیں مل سکا ہے۔گاڑی میں
نے نہایت مناسب داموں فروخت کر دی ہے۔ میرے ماتھے پر زخم کا نشان بن چکا ہے۔ جسے
میں ایک سکارف سے چھپا لیتی ہوں۔ اب میرا دل کسی کام میں نہیں لگتا۔ نہ کوئی ناول
لکھنے کا، نہ باغ بانی کرنے ۔ بس میں ایک کام کرتی ہوں۔ صرف خبریں سنتی ہوں۔ مجھے
ان خبروں سے پتا چلا ہے کہ پوری دنیا برائی کا گڑھ بن چکی ہے اور ہمارا ملک ہر طرح
کی برائی سے پاک ہے۔ مگر میں سب سے زیادہ شوق سے موسم کا حال سنتی ہوں۔ جی ہاں!
موسم کا حال۔ جیسے پینے لوپی اپنے اوڈیسیس کا انتظار کر ہی ہے ویسے ہی میں ایک
طوفان کی منتظر ہوں۔ شدت سے منتظر۔
مصنف کا تعارف:
اینا لوسیا پورتیلا
Ena
Lucia Portela
-1972
_____________
لاطینی امریکی ادب کی اہم نسوانی آواز جنھوں نے صرف
چوبیس برس کی عمر میں تین ادبی ایوارڈز اپنے نام کیے۔2007 میں انھیں سپین کا ادبی
ایوارڈ تفویض ہوا۔ 2017 میں بگوٹا میں ہونے والے ادبی میلے میں انھیں لاطینی
امریکہ کے 39 اہم ترین ادیبوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

Comments
Post a Comment