گی دے موپاساں کا افسانہ : کون جانے؟ (Qui Sait ?)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 415 : کون جانے ؟ تحریر : گی دےموپاساں (فرانس) مترجم : شوکت نواز نیازی (راولپنڈی) حصّہ اوّل اوہ میرے خدا ! اوہ میرے خدا ! بالآخر میں وہ واقعہ بیان کرنے لگا ہوں جو میرے ساتھ پیش آیا۔ لیکن میں یہ کیسے بتاؤں ؟ میں یہ بیان کرنے کی کیسے ہمّت کر سکتا ہوں ؟ یہ واقعہ اتنا عجیب و غریب، اتنا ناقابل فہم اور ناقابل یقین ہے، اتنا احمقانہ ہے ! جو کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اگر مجھے اس پر کامل یقین نہ ہوتا، اگر مجھے اپنی عقل و فہم میں کسی فتور، اپنے بیان میں کسی غلطی، اپنے مشاہدے میں کسی ناقابل فہم نقص کی عدم موجودگی پر اعتبار نہ ہوتا تو میں اس سارے معاملے کو صرف واہمے اور کسی بصری دھوکے پر محمول کرتا۔ لیکن کون جانے ؟ کل میں ذہنی امراض کے ایک ہسپتال میں تھا لیکن میں اپنے ہوش و حواس اور اپنے خوف کے مارے اپنی مرضی سے وہاں گیا تھا۔ اس دنیا میں صرف ایک انسان میری ابتلا سے واقف ہے اور وہ اس ہسپتال کا ڈاکٹر ہے۔ میں اسے خط لکھنے لگا ہوں۔ معلوم نہیں کیوں ؟ اپنے بوجھ سے نجات حاصل کرنے ؟ ہاں شاید، مجھ...