Posts

Showing posts with the label فرانسیسی ادب، گی دے موپاساں، افسانے

گی دے موپاساں کا افسانہ : کون جانے؟ (Qui Sait ?)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 415 : کون جانے ؟ تحریر : گی دےموپاساں (فرانس) مترجم   : شوکت نواز نیازی (راولپنڈی)     حصّہ اوّل   اوہ میرے خدا ! اوہ میرے خدا ! بالآخر میں وہ واقعہ بیان کرنے لگا ہوں جو میرے ساتھ پیش آیا۔ لیکن میں یہ کیسے بتاؤں ؟ میں یہ بیان کرنے کی کیسے ہمّت کر سکتا ہوں ؟ یہ واقعہ اتنا عجیب و غریب، اتنا ناقابل فہم اور ناقابل یقین ہے، اتنا احمقانہ ہے ! جو کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اگر مجھے اس پر کامل یقین نہ ہوتا، اگر مجھے اپنی عقل و فہم میں کسی فتور، اپنے بیان میں کسی غلطی، اپنے مشاہدے میں کسی ناقابل فہم نقص کی عدم موجودگی پر اعتبار نہ ہوتا تو میں اس سارے معاملے کو صرف واہمے اور کسی بصری دھوکے پر محمول کرتا۔ لیکن کون جانے ؟ کل میں ذہنی امراض کے ایک ہسپتال میں تھا لیکن میں اپنے ہوش و حواس اور اپنے خوف کے مارے اپنی مرضی سے وہاں گیا تھا۔ اس دنیا میں صرف ایک انسان میری ابتلا سے واقف ہے اور وہ اس ہسپتال کا ڈاکٹر ہے۔ میں اسے خط لکھنے لگا ہوں۔ معلوم نہیں کیوں ؟ اپنے بوجھ سے نجات حاصل کرنے ؟ ہاں شاید، مجھ...

گی دے موپاساں کا افسانہ : بغاوت (Coup d’Etat )

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 367 : بغاوت تحریر : گی دے موپاساں (فرانس)   مترجم : شوکت نواز نیازی (راولپنڈی) سیداںؔ میں شاہی فوج کی شکست فاش کی اطلاع پیرس پہنچ چکی تھی۔ جمہوریہ کے قیام کا اعلان ہو چکا تھا۔ پورا فرانس اس دیوانگی کے دہانے پر کھڑا تھا جو جو پیرس کمیون کے قیام تک جاری رہی۔ ملک کے ایک کونے سے دوسرے تک ہر شخص سپاہی بنا ہوا تھا۔ ٹوپیاں بنانے والے کرنل بن بیٹھے اور جرنیلوں کے فرائض سر انجام دینے لگے۔بھرے پُرے پیٹوں کے گرد سرخ کمر بندوں کے ساتھ پستول اور تلواریں بندھ گئیں۔ چھوٹے موٹے تاجر شہرت و رتبے کے حصول کے لئے لڑنے مرنے پر تیار رضاکار جتھوں کے کمانڈر بن گئے۔ آتشیں اسلحے کے حصول اور اس کی نمائش کی خواہش میں وہ تمام لوگ بھی پاگل ہوئے جاتے تھے جنہوں نے ساری عمر صرف ترازو سنبھالے تھے اور یوں اپنے ارد گرد سب کے لئے بلا وجہ خطرے کا باعث بن چکے تھے۔ محض یہ ثابت کرنے کے لئے یہ انہیں بندوق چلانا آتا ہے، وہ بے گناہوں پر گولی چلا دیتے تھے۔ جس جنگل ویرانے میں کبھی کسی جرمن نے قدم بھی نہ رکھا تھا وہاں آوارہ کتّے، چرتی ہوئی گائیں بھینسیں ...