افسانہ نمبر 744 : بھولی ماریا || تحریر : ایزابیل ایلندے (چلی) || اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 744 : بھولی ماریا تحریر : ایزابیل ایلندے (چلی) اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان) بھولی ماریا محبت پر یقین رکھتی تھی۔ یہی بات اسے ایک زندہ داستان بنا گئی تھی۔ اس کے تمام پڑوسی اس کے جنازے میں آئے، حتیٰ کہ پولیس والے اور وہ نابینا آدمی بھی جو کھوکھے پر بیٹھتا تھا اور جو تقریباً کبھی اپنا کام نہیں چھوڑتا تھا۔ کالے ریپبلِکا ( Calle República ) سڑک سنسان ہو گئی تھی اور سوگ کی علامت کے طور پر بالکونیوں سے سیاہ فیتے لٹک رہے تھے اور گھروں کی سرخ بتیاں بجھا دی گئی تھیں۔ہر شخص کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے، اور اس محلے میں یہ کہانیاں عموماً اداس کن ہوتی تھیں٬ غربت، بڑھتی ہوئی ناانصافی، ہر طرح کے تشدد، وقت سے پہلے مر جانے والے بچوں اور بھاگ جانے والے عاشقوں کی کہانیاں۔ مگر ماریا کی کہانی مختلف تھی؛ اس میں ایک نزاکت کی چمک تھی جو تخیل کو پرواز دیتی تھی۔ وہ خاموشی سے٬ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے معاملات سنبھالتی ہوئی اپنی پیشہ ورانہ زندگی خود مختاری کے ساتھ گزارنے میں کامیاب رہی تھی ۔ اسے شراب یا منشیات میں ذرّہ برابر دل...