افسانہ نمبر 744 : بھولی ماریا || تحریر : ایزابیل ایلندے (چلی) || اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 744  : بھولی ماریا

تحریر : ایزابیل ایلندے (چلی)

اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

 


  بھولی ماریا محبت پر یقین رکھتی تھی۔ یہی بات اسے ایک زندہ داستان بنا گئی تھی۔ اس کے تمام پڑوسی اس کے جنازے میں آئے، حتیٰ کہ پولیس والے اور وہ نابینا آدمی بھی جو کھوکھے پر بیٹھتا تھا اور جو تقریباً کبھی اپنا کام نہیں چھوڑتا تھا۔ کالے ریپبلِکا (Calle República) سڑک سنسان ہو گئی تھی اور سوگ کی علامت کے طور پر بالکونیوں سے سیاہ فیتے لٹک رہے تھے اور گھروں کی سرخ بتیاں بجھا دی گئی تھیں۔ہر شخص کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے، اور اس محلے میں یہ کہانیاں عموماً اداس کن ہوتی تھیں٬ غربت، بڑھتی ہوئی ناانصافی، ہر طرح کے تشدد، وقت سے پہلے مر جانے والے بچوں اور بھاگ جانے والے عاشقوں کی کہانیاں۔ مگر ماریا کی کہانی مختلف تھی؛ اس میں ایک نزاکت کی چمک تھی جو تخیل کو پرواز دیتی تھی۔ وہ خاموشی سے٬ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے معاملات سنبھالتی ہوئی اپنی پیشہ ورانہ زندگی خود مختاری کے ساتھ گزارنے میں کامیاب رہی تھی ۔ اسے شراب یا منشیات میں ذرّہ برابر دلچسپی نہ تھی، وہ تو پڑوس کی قسمت کا حال بتانے والی عورتوں کی پانچ پیسو والی تسلیوں میں بھی دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔ وہ امید کی اذیت سے بھی ماورا دکھائی دیتی تھی، گویا اپنی تخلیق کردہ محبت کے زرہ بکتر میں محفوظ ہو۔ وہ ایک چھوٹی، بے ضرر عورت تھی، قد میں پست، مگر رکھ رکھاؤ اور انداز میں نفاست تھی۔ لیکن اگر کوئی دلال اسے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتا تو وہ خود کو ایک درندہ صفت وجود کے سامنے پاتا٬ پنجوں اور کچلیوں سے لیس، وار کا وار سے جواب دینے کو تیار، چاہے اس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ انھوں نے سیکھ لیا تھا کہ اسے اکیلا چھوڑ دیں۔ جبکہ دوسری عورتیں اپنی آدھی زندگی سستے میک اپ کی موٹی تہوں کے نیچے زخم چھپانے میں گزار دیتی تھیں، ماریا وقار کے ساتھ بوڑھی ہوئی، گویا چیتھڑوں میں ملبوس کوئی ملکہ ہو۔ وہ اپنے نام کی شہرت سے بے خبر تھی، اور نہ ہی اسے اس داستان کا علم تھا جو اس کے گرد بُن دی گئی تھی۔ وہ ایک بوڑھی طوائف تھی، مگر اس کے اندر ایک لڑکی کی روح تھی۔

اس کی یادوں میں ایک خونی صندوق اور ایک سانولے رنگ کا آدمی، جس سے سمندر کی سی بو آتی تھی، نمایاں تھے۔ اس کی سہیلیوں نے ایک ایک کر کے اس کی زندگی کے بارے میں چھوٹی چھوٹی معلومات اکٹھی کیں اور خالی جگہوں کو تخیل سے بھر کر صبر سے انھیں جوڑتی گئیں،  یہاں تک کہ انھوں نے اس کے لیے ایک ماضی تعمیر کر لیا۔ ظاہر ہے، وہ اس جگہ کی دوسری عورتوں جیسی نہ تھی۔ وہ ایک دُور کی دنیا سے آئی تھی جہاں رنگت گوری ہوتی ہے اور ہسپانوی زبان سخت حروف اور اسپین کی بازگشت کے ساتھ بولی جاتی ہے۔ ماریا ایک معزز خاتون بننے کے لیے پیدا ہوئی تھی؛ یہی نتیجہ دوسری عورتوں نے اس کے نوابانہ اندازِ گفتگو اور منفرد طرزِ عمل سے اخذ کیا، اور اگر کوئی شک باقی رہ بھی گیا تھا تو اس کی موت کے وقت وہ بھی ختم ہو گیا۔ وہ اپنی عزتِ نفس کے ساتھ مری۔ اسے کوئی تشخیص شدہ بیماری نہ تھی؛ وہ خوفزدہ نہ تھی، نہ ہی اس نے عام لوگوں کی طرح مرتے وقت کانوں کے راستے ہانپنا شروع کیا۔ اس نے بس یہ اعلان کیا کہ وہ اب زندگی کی یکسانیت مزید برداشت نہیں کر سکتی۔

اس نے اپنا بہترین لباس پہنا، ہونٹوں پر شوخ سرخ رنگ لگایا، اور پلاسٹک کے پردے ہٹا دیے جو اس کے کمرے تک رسائی دیتے تھے، تاکہ سب لوگ اس کے ساتھ ہو سکیں۔

     "میرا وقت آ گیا ہے کہ میں مر جاؤں،"

 یہی اس کا واحد جملہ تھا۔

  وہ اپنے بستر پر تین تکیوں کا سہارا لیے لیٹ گئی،  جن کے غلاف اس موقع کے لیے خاص طور پر استری کیے گئے تھے، اور گاڑھی چاکلیٹ سے بھرا ایک بڑا جگ ایک ہی سانس میں پی گئی۔ دوسری عورتیں اس پر ہنسیں، مگر جب چار گھنٹے بعد وہ اسے جگا نہ سکیں تو انھیں احساس ہوا کہ اس کا فیصلہ اٹل تھا، اور وہ یہ خبر پورے محلے میں پھیلانے کے لیے دوڑ پڑیں۔ کچھ لوگ محض تجسس میں آئے، مگر اکثر واقعی غم زدہ تھے اور اس کے پاس ٹھہر گئے۔ اس کی سہیلیوں نے آنے والوں کی خاطر مدارات کے لیے کافی بنائی، کیونکہ انھیں شراب پیش کرنا بدذوقی محسوس ہوا؛ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہ سوگ کسی جشن کے مشابہ بنا دیا جائے۔ شام کے قریب چھ بجے، ماریا کے بدن میں ایک کپکپی سی دوڑی، اس نے آنکھیں کھولیں، اردگرد دیکھا مگر چہروں کو پہچان نہ سکی، اور فوراً جان دے دی۔ بس یہی کچھ ہوا۔ کسی نے کہا کہ شاید اس نے چاکلیٹ میں زہر ملا کر پی لیا ہو، ایسی صورت میں سب اس بات کے قصوروار ہوتے کہ اسے بروقت ہسپتال نہ لے گئے، مگر کسی نے اس طرح کی تہمت آمیز باتوں پر زیادہ توجہ نہ دی۔

 

   "اگر ماریا نے اس دنیا کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تو یہ اس کا حق تھا، کیونکہ اس کے نہ بچے تھے نہ والدین جن کی وہ ذمہ دار ہوتی،" یہ گھر کی مالکن کا فیصلہ تھا۔

 

 ماریا کی سہیلیاں اسے کسی مردہ خانے میں نہیں لے جانا چاہتی تھیں، کیونکہ اس کی موت کی پُرسکون پیش بندی کالے ریپبلِکا کی گلی کے لیے ایک سنجیدہ واقعہ تھی، اور یہ مناسب تھا کہ دفن ہونے سے پہلے اس کے آخری لمحات اسی جگہ گزریں جہاں وہ جیتی رہی تھی نہ کہ کسی اجنبی کی طرح جس پر کوئی سوگ نہ منائے۔ اس بات پر مختلف آراء تھیں کہ گھر میں تعزیتی اجتماع رکھنے سے مرنے والے کی روح یا گاہکوں کی روحوں کے لیے بدشگونی تو نہیں ہوگی، اور احتیاطاً کیا انھیں آئینہ توڑ کر اس کے ٹکڑے تابوت کے گرد رکھنے چاہییں، یا سیمیناری کے گرجا گھر سے مقدس پانی لا کر کونوں میں چھڑکنا چاہیے۔

اس رات کوئی کام نہ ہوا، موسیقی تھی نہ ہنسی، مگر آنسو بھی نہ تھے۔ انھوں نے تابوت کو بیٹھک میں ایک میز پر رکھا؛ پڑوسیوں نے کرسیاں ادھار دیں، اور وہیں آنے والے لوگ بیٹھ گئے، کافی پیتے رہے اور دھیمی آواز میں باتیں کرتے رہے۔ بیچ میں ماریا لیٹی تھی، اس کا سر ریشمی تکیے پر ٹکا ہوا، ہاتھ بندھے ہوئے، اور سینے پر اس کے مردہ بچے کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ رات کے دوران اس کی جلد کا رنگ بدلتا گیا، حتّٰی کہ وہ اسی چاکلیٹ کی طرح سیاہ ہو گیا جو اس نے پی تھی۔

میں نے ماریا کی کہانی اُن طویل گھنٹوں میں جانی جب ہم اُس کے تابوت کے پاس بیٹھے تھے۔ اُس کی ساتھی کارکنوں نے مجھے بتایا کہ وہ جنگ عظیم کے زمانے کے آس پاس ایک جنوبی صوبے میں پیدا ہوئی تھی،  جہاں سال کے بیچوں بیچ درخت اپنے پتے جھاڑ دیتے ہیں اور سردی ہڈیوں تک اتر جاتی ہے۔ وہ ہسپانوی مہاجرین کے ایک باوقار خاندان کی بیٹی تھی۔ جب اُنھوں نے اُس کے کمرے کی تلاشی لی تو ایک بسکٹ کے ڈبے میں کچھ زرد، بوسیدہ کاغذات ملے؛ اُن میں ایک پیدائش کا سرٹیفکیٹ، چند تصویریں اور خطوط شامل تھے۔ اُس کے والد ایک جاگیر دار تھے اور ایک پرانے، وقت کی گرد سے داغدار اخباری تراشے کے مطابق، شادی سے پہلے اُس کی ماں ایک پیانسٹ تھی۔ جب ماریا بارہ برس کی تھی تو وہ بے دھیانی میں ریلوے لائن پار کرتے ہوئے ایک مال گاڑی کی زد میں آ گئی۔ اسے پٹریوں کے درمیان سے اٹھایا گیا، بظاہر محفوظ ٬ صرف چند خراشیں آئی تھیں اور اُس کی ٹوپی کھو گئی تھی۔ تاہم جلد ہی واضح ہو گیا کہ اس ٹکر نے لڑکی کو ایسی معصومیت کی حالت میں پہنچا دیا تھا جہاں سے وہ کبھی واپس نہ آ سکے گی۔ وہ حادثے سے پہلے کی معمولی ترین تعلیم بھی بھول گئی؛ اُسے بمشکل اپنے پیانو کے اسباق یا کڑھائی کی سوئی استعمال کرنا یاد رہتا، اور جب کوئی اُس سے بات کرتا تو یوں لگتا جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو۔ اس کے برعکس، جو چیز اُس کو کبھی نہیں بھولی، وہ اُس کی شائستگی تھی، جو اُس کے آخری دن تک سلامت رہی۔

انجن سے ٹکرانے کے بعد ماریا سوچنے سمجھنے کے قابل نہ رہی؛ وہ بے دھیان اور کسی عناد سے خالی تھی۔ درحقیقت وہ خوش رہنے کے لیے موزوں تھی، مگر خوشی اُس کے مقدر میں نہ تھی۔ جب وہ سولہ برس کی ہوئی تو اُس کے والدین، جو اپنی کچھ کم عقل بیٹی کا بوجھ کسی اور پر منتقل کرنے کے خواہاں تھے، انھوں نے اُس کی خوبصورتی ماند پڑنے سے پہلے ہی اُس کی شادی کر دینے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے اُنھوں نے ڈاکٹر گیوارا کا انتخاب کیا۔ایک ریٹائر ہونے والا آدمی، جو شادی کے لیے زیادہ موزوں نہ تھا، مگر اُن کا مقروض تھا اور اُن کے تجویز کردہ اس رشتے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔

شادی اسی سال خاموشی سے انجام پائی، جیسا کہ ایک دماغی مریض دلھن اور اس سے کئی دہائیاں بڑے دلھے کے شایانِ شان تھا۔

 

ماریا عروسی بستر پر ایک بچے کے ذہن کے ساتھ آئی، حالانکہ اس کا جسم پختہ ہو چکا تھا اور وہ ایک عورت کا جسم تھا۔ ٹرین نے اس کے فطری تجسس کو مٹا دیا تھا مگر اس کے حواس کی بے قراری کو ختم نہیں کیا تھا۔ وہ بس اتنا جانتی تھی جتنا اس نے اپنے والدین کی حویلی میں جانوروں کو دیکھ کر سیکھا تھا؛ اسے معلوم تھا کہ ٹھنڈا پانی ان کتوں کو جدا کرنے کے لیے اچھا ہوتا ہے جو ملاپ کے بعد الگ نہیں ہو پاتے، اور یہ بھی کہ مرغا جب مرغی کو راغب کرنا چاہتا ہےتو وہ اپنے پر پھڑپھڑاتا ہے اور بانگ دیتا ہے ۔ مگر اسے ان باتوں کا کوئی عملی فائدہ سمجھ میں  نہیں آیا تھا۔ اپنی شادی کی رات اس نے ایک کانپتے ہوئے بوڑھے آدمی کو اپنی طرف آتے دیکھا، اس کا فلالین کا جامۂ غسل لہرا رہا تھا اور ناف کے نیچے کچھ ایسا تھا جو غیر متوقع تھا۔ اس حیرت نے اسے قبض جیسی کیفیت میں مبتلا کر دیا جس کے بارے میں وہ بات کرنے میں جھجک محسوس کرتی تھی، اور جب وہ غبارے کی طرح پھولنے لگی تو اس نے آگوا دے لا مارگاریتا کی پوری بوتل پی لی۔ یہ ایک ایسا شربت تھا جو عام طور پر غدود کے مرض کے لیے استعمال ہوتا تھا مگر زیادہ مقدار میں جلاب کا کام دیتا تھا اور پھر بائیس دن بیت الخلا میں ہی بیٹھی رہی، اس قدر نڈھال کہ قریب تھا وہ اپنے کئی اہم اعضا کھو دیتی۔ مگر اس آزمائش نے بھی اسے دبلا نہ کیا۔ جلد ہی وہ اپنے کپڑوں کے بٹن بند کرنے کے قابل نہ رہی اور وقت آنے پر اس نے ایک سنہرے بالوں والے بیٹے کو جنم دیا۔ ایک مہینہ بستر پر گزارنے کے بعد، جس میں وہ مرغی کا شوربہ پیتی اور روزانہ دو لیٹر دودھ پیتی رہی، وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور صاف ذہن کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔ یوں لگا جیسے اس کی  نیند میں چلنے کی پرانی بیماری ختم ہو گئی ہو، اور اس میں اتنی ہمت بھی آ گئی کہ اپنے لیے کچھ نفیس کپڑے خرید سکے۔ مگر اسے اپنی نئی پوشاک دکھانے کا موقع نہ ملا، کیونکہ اس کا ڈاکٹر شوہر اچانک فالج کا شکار ہو کر کھانے کے کمرے میں، ہاتھ میں سوپ کا چمچ لیے، مر گیا۔ ماریا نے سیاہ لباس اور نقاب دار ٹوپیوں میں سوگ منانے کو اپنا مقدر بنا لیا، جیسے وہ کپڑے کے کسی مقبرے میں دفن ہو گئی ہو۔ اس نے دو سال تک سیاہ لباس پہنے گزارے، غریبوں کے لیے بنیانیں بنتی رہتی، اور اپنے پالتو کتوں اور اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتی رہتی، جسے وہ ایک چھوٹی لڑکی کے روپ میں سجاتی تھی اور اس کے لمبے گھنگھریالے بال تھے _جیسا کہ بسکٹ کے ڈبے میں ملنے والی ایک تصویر سے ظاہر ہوتا ہے، جہاں اسے روشنی کی ایک مافوق الفطرت کرن کے نیچے ریچھ کی کھال کے قالین پر بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

  بیوہ کے لیے وقت ایک ابدی لمحے میں منجمد ہو چکا تھا؛ کمرے کی فضا جوں کی توں تھی، اب بھی اس کے شوہر کی باسی بو سے بوجھل۔ وہ وفادار نوکروں کی دیکھ بھال میں، اسی گھر میں رہتی رہی ۔ اس کے والدین اور بھائی اس پر کڑی نظر رکھتے تھے، جو باری باری روزانہ اس سے ملنے آتے تاکہ اس کے اخراجات کی نگرانی کریں اور اس کے لیے معمولی سے معمولی فیصلے بھی خود کریں۔ موسم گزرتے رہے؛ باغ کے درختوں سے پتے جھڑتے رہے اور گرمیوں کے چہچہاتے پرندے مڑ کر آتے رہے، مگر اس کی روزمرہ زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ کبھی کبھی وہ سوچتی کہ وہ سیاہ لباس کیوں پہنے ہوئے ہے، کیونکہ وہ اس کمزور شوہر کو مکمل طور پر بھول چکی تھی جس نے کبھی کبھار بستر کی چادروں کے بیچ اسے کمزوری سے گلے لگایا تھا، پھر اپنی ہوس پر نادم ہو کر مریم مقدس کے قدموں میں گر پڑتا اور خود کو کوڑے مارتا تھا۔ وقتاً فوقتاً وہ اپنی الماری کھولتی اور اپنے خوبصورت کپڑوں کو جھاڑتی؛ وہ اس لالچ کو روک نہ پاتی کہ اپنا سیاہ لباس اتار کر چپکے سے موتیوں کی کڑھائی والے گاؤن، فر کے اسکارف، ساٹن کی چپلیں اور بکری کے چمڑے کے دستانے پہن کر دیکھے۔ آئینے کے تینوں پٹ میں وہ خود کو دیکھتی اور ایک ایسی عورت کو سلام کرتی جو  محفلِ رقص کے لیے سجی ہوئی تھی٬ ایک ایسی عورت کا روپ جس میں اسے خود کو پہچاننا بہت مشکل لگتا۔

              دو برس کی تنہائی کے بعد، اس کے جسم میں دوڑتے ہوئے خون کی آواز اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ اتوار کے دنوں میں، وہ چرچ کے دروازے پر پیچھے رک کر مردوں کو گزرتے ہوئے دیکھتی، جو اپنی بھاری آوازوں، اپنے تازہ منڈوائے ہوئے گالوں اور تمباکو کی بو کی وجہ سے اس کی توجہ کا مرکز بنتے۔ وہ چوری چھپے اپنا نقاب اٹھاتی اور مسکرا دیتی۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اس کے والد اور بھائیوں نے اس رویّے کو نوٹ کر لیا اور یہ سمجھتے ہوئے کہ امریکی ماحول نے بیواؤں کی شرافت تک کو بگاڑ دیا ہے، انھوں نے خاندان کے مشورے سے فیصلہ کیا کہ ماریا کو ایک خالہ اور خالو کے پاس اسپین میں بھیج دیا جائے؛ جہاں بلا شبہ، کلیسا کی مضبوط روایات کے سائے میں وہ فضول ترغیبات سے محفوظ رہے گی۔ اور یوں اس بحری سفر کا آغاز ہوا جس نے بھولی ماریا کی تقدیر بدلنا تھی۔

اس کے ماں باپ نے اسے  بحرِ اوقیانوس پار کرنے والے ایک جہاز پر رخصت کیا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا، ایک خادم، اور اس کے پالتو کتے تھے۔ اس کے بے شمار سامان میں، آرام گاہ  کا فرنیچر اور پیانو کے علاوہ، ایک گائے بھی شامل تھی جو جہاز کے نچلے حصے میں سفر کر رہی تھی تاکہ بچے کے لیے تازہ دودھ مہیا کیا جا سکے۔ اس کے متعدد سوٹ کیسوں اور کلاہ دانوں کے ساتھ ایک بہت بڑا پیتل جڑا ہوا اور موتیوں سے مزین صندوق بھی تھا، جس میں رقص کے وہ ملبوسات رکھے ہوئے تھے جنھیں اس نے کِرم کُش گولیوں کے ساتھ محفوظ رکھا تھا۔ خاندان کو یقین نہیں تھا کہ خالہ اور خالو کے گھر میں ماریا کو انھیں پہننے کا کوئی موقع ملے گا، مگر وہ اس کی دل شکنی بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ پہلے تین دن وہ سمندری بیماری کے باعث بستر سے سر نہ اٹھا سکی، لیکن پھر وہ جہاز کی ہچکولوں بھری حرکت کی عادی ہو گئی اور بستر سے اٹھنے کے قابل ہو گئی۔ اس نے اپنے خادم کو بلایا تاکہ طویل سفر کے لیے کپڑے کھول کر ترتیب دے سکے۔

    ماریا کی زندگی اچانک آنے والی بد قسمتیوں سے عبارت تھی، بالکل اس ریل گاڑی کی طرح جس نے اس کی عقل سلب کر لی تھی اور اسے ایک ناقابلِ واپسی بچپن میں دھکیل دیا تھا۔ وہ جہاز کے کمرے میں اپنی پوشاکیں ترتیب دے رہی تھی کہ اس کا بیٹا کھلے ہوئے صندوق میں جھانکنے لگا۔ اسی لمحے جہاز زور سے ہچکولا کھا گیا اور بھاری دھاتی کناروں والا ڈھکن زور سے بند ہو گیا، جس سے بچے کی گردن ٹوٹ گئی۔ ماں کو اس منحوس صندوق سے دور کھینچنے کے لیے تین طاقتور ملاحوں کی ضرورت پڑی، اور اسے لاڈینم کی ایسی شدید مقدار دی گئی جو کسی کھلاڑی کو بھی گرا دینے کے لیے کافی ہوتی، تاکہ وہ اپنے بال نوچنے اور چہرہ زخمی کرنے سے باز رہے۔ وہ گھنٹوں چیختی رہی، پھر ایک دھندلکے جیسی غشی میں ڈوب گئی، اور اسی طرح پہلو بہ پہلو جھولتی رہی جیسے ان دنوں میں جب اسے احمق سمجھے جانے کی شہرت حاصل ہوئی تھی۔ جہاز کے کپتان نے لاؤڈ اسپیکر پر اس افسوسناک خبر کا اعلان کیا، مرنے والے کے لیے مختصر دعا پڑھی، اور پھر حکم دیا کہ چھوٹی سی لاش کو پرچم میں لپیٹ کر سمندر میں اتار دیا جائے، کیونکہ وہ سمندر کے عین وسط میں تھے اور اگلی بندرگاہ تک اسے محفوظ رکھنے کا کوئی طریقہ نہ تھا۔

 

  سانحے کے کئی دن بعد ماریا پہلی بار عرشے پر تازہ ہوا لینے کے لیے ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ باہر نکلی۔ رات گرم تھی، اور سمندری گھاس، سیپ اور ڈوبے ہوئے جہازوں کی ایک بے چین کر دینے والی بو سمندر سے اٹھ کر اس کے نتھنوں میں داخل ہوئی اور اس کی رگوں میں اس طرح دوڑنے لگی جیسے زلزلے کی لرزش۔ وہ افق کو گھورتی رہ گئی، اس کا ذہن خالی تھا اور اس کی جلد ایڑیوں سے لے کر گردن کی جڑ تک سنسنا رہی تھی، جب اس نے ایک مسلسل سیٹی کی آواز سنی۔ وہ آدھی مڑی اور چاندنی میں ایک سیاہ سایہ دیکھا جو اس سے دو عرشے نیچے اسے اشارہ کر رہا تھا۔ وہ جیسے کسی تنویمی حالت میں سیڑھی سے اتری، اس سیاہ فام آدمی کے پاس گئی جس نے اسے بلایا تھا، اطاعت کے ساتھ اسے اپنا سیاہ نقاب اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے اتارنے دیے، اور اس کے پیچھے رسی کے ایک بڑے گولے کے عقب میں چلی گئی۔ ایک ایسے تصادم سے گزر کر جو کسی حد تک ریل گاڑی کے جھٹکے جیسا تھا، اس نے تین منٹ سے بھی کم وقت میں اس فرق کو سمجھ لیا جو خدا کے خوف سے دبے ہوئے ایک بوڑھے شوہر اور کئی ہفتوں کی سمندری پرہیزگاری سے پیدا ہونے والی خواہش میں جلتے ایک یونانی ملاح کے درمیان ہوتا ہے۔ نیم بیہوشی کے عالم میں، ماریہ نے اپنی ہی صلاحیت کو پہچانا؛ اس نے اپنے آنسو پونچھے اور مزید کی خواہش کی۔انھوں نے رات کا خاصا حصہ ایک دوسرے کو جاننے میں گزارا، اور صرف اس وقت جدا ہوئے جب انھوں نے جہاز کا ہنگامی سائرن سنا٬ "آدمی سمندر میں گر گیا۔" کی ایک ہولناک گونج، جس نے مچھلیوں کی خاموش حالت کو بھی بدل ڈالا۔ خادم نے خطرے کی اطلاع پھیلا دی، یہ سمجھ کر کہ غم سے نڈھال ماں نے خود کو سمندر میں جھونک دیا ہے، یونانی ملاح کے سوا سارا عملہ اسے تلاش کرنے میں لگ گیا۔

 

ماریا ہر رات رسیوں کے گولوں کے پیچھے اپنے محبوب سے ملتی رہی، یہاں تک کہ جہاز کیریبین کے ساحلوں کے قریب پہنچ گیا، جہاں ہوا میں گھلی پھولوں اور پھلوں کی خوشبو اس کے حواس پر آخری حملہ تھی۔ اس نے اپنے محبوب کی اس تجویز کو قبول کر لیا کہ وہ جہاز چھوڑ دیں وہ جگہ جہاں اس کے مردہ بچے کی روح بھٹکتی تھی اور جہاں وہ بہت سی تاک جھانک کرتی نگاہوں کا نشانہ تھے۔ اس نے سفر کے اخراجات کے لیے رقم اپنے پیٹی کوٹ میں ٹھونس لی اور ایک معزز ماضی کو الوداع کہہ دیا۔ انھوں نے ایک لائف بوٹ اتاری اور نوکر، کتے، گائے اور وہ خونی صندوق پیچھے چھوڑ کر فجر کے وقت روانہ ہو گئے۔ وہ آدمی اپنے مضبوط بازوؤں سے چپو چلاتا ہوا اسے ایک شاندار بندرگاہ تک لے گیا جو صبح کی روشنی میں ان کی آنکھوں کے سامنے یوں ابھری جیسے کسی اور دنیا کا منظر ہو: جھونپڑیاں، کھجور کے درخت، اور شوخ رنگوں کے پرندے۔ دونوں مفرور وہیں ٹھہر گئے اور ارادہ کیا کہ جب تک ان کے وسائل اجازت دیں، قیام کریں گے۔

 

معلوم ہوا کہ وہ ملاح جھگڑالو اور شرابی

 تھا۔ وہ ایسی زبان بولتا تھا جو نہ ماریا سمجھ سکتی تھی نہ مقامی لوگ، مگر وہ چہرے کے تاثرات اور مسکراہٹوں کے ذریعے بات چیت کر لیتا تھا۔ ماریا صرف اس وقت پوری طرح چوکنا ہوتی جب وہ اس کے ساتھ وہ کرتب آزمانے آتا جو اس نے سنگاپور سے لے کر والپاریسو تک کے قحبہ خانوں میں سیکھے تھے؛ باقی وقت وہ ایک مہلک سستی میں ڈوبی رہتی۔ استوائی پسینے میں نہائی ہوئی، اس عورت نے اپنے ساتھی کے بغیر ہی محبت کو دریافت کیا، اور بے باکی کے ساتھ تنہا وہم و خیال کی دنیا میں قدم رکھ دیا، جیسے کوئی خطرات سے ناواقف ہو۔ اس یونانی میں اتنی بصیرت نہ تھی کہ سمجھ سکتا کہ اس نے ایک سیلابی دروازہ کھول دیا ہے، کہ وہ خود محض انکشاف کا ذریعہ ہے، یا یہ کہ وہ اس عطیے کی قدر کرنے سے قاصر ہے جو یہ عورت اسے پیش کر رہی تھی۔ اس کے پہلو میں ایک ایسی مخلوق تھی جو ناقابلِ شکست معصومیت کے برزخ میں قید تھی، ایک عورت جو اپنے حواس کو ایک معصوم بچے کی سی شوخی کے ساتھ دریافت کرنے میں مگن تھی، مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے کھیل میں اس کا ساتھ کیسے دے۔ اس سے پہلے وہ کبھی لذت کے اس پہلو سے واقف نہ تھی، بلکہ اس کا تصور بھی نہ کیا تھا، حالانکہ وہ ہمیشہ اس کے خون میں ایک بھڑکتے بخار کے جرثومے کی طرح موجود تھی۔ جب اس نے لذت کو دریافت کیا تو اسے یقین ہوا کہ یہ جنت کی وہ نعمت ہے جس کا وعدہ اس کے مدرسے کی راہباؤں نے نیک لڑکیوں سے کیا تھا۔ اسے دنیا کے بارے میں تقریباً کچھ معلوم نہ تھا، اور وہ نقشہ دیکھ کر بھی زمین پر اپنی جگہ کا تعین نہیں کر سکتی تھی، مگر جب اس نے گڑھل کے پھول اور طوطے دیکھے تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ جنت میں ہے،  وہ اس سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ وہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا؛ اسے پہلی بار سکون محسوس ہو رہا تھا، اپنے گھر سے دور، اپنے والدین اور بھائیوں کی ناگزیر نگرانی سے دور، سماجی دباؤ اور دعائیہ تقاریب کے پردوں سے آزاد، اور بالآخر ان جذبات کے طوفان سے لطف اندوز ہونے کے لیے آزاد جو اس کی کھال سے شروع ہوئے اور پور پور سے ہوتے ہوئے اس کے باطن کی گہرائیوں میں اتر گئے، جہاں وہ شور مچاتے آبشاروں میں ہچکولے کھاتی رہی جس نے اسے تھکا تو دیا مگر سرشار بھی کر دیا۔

 

تاہم، کچھ وقت گزرنے کے بعد، ماریا کی معصومیت، گناہ یا ذلت سے اس کی بے نیازی نے ملاح کو خوفزدہ کر دیا۔ ان کے درمیان قربت کے لمحات کم ہونے لگے، مرد کی غیر موجودگی بڑھتی گئی، اور ان کے درمیان ایک خاموشی چھا گئی۔ وہ یونانی اس نم، جذباتی اور مشتعل عورت سے چھٹکارا پانے کی تڑپ رکھنے لگا جس کا چہرہ ایک بچے جیسا تھا اور جو اسے مسلسل پکارتی رہتی تھی۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ جس بیوہ کو اس نے سمندر کی لہروں پر ورغلایا تھا، وہ اب ایک ایسی کریہہ مکڑی بن چکی ہے جو اسے بستر کی اس ہلچل میں ایک بے بس مکھی کی طرح ہڑپ کر جائے گی۔ اپنی خطرے میں پڑی مردانگی کی تسکین کے لیے اس نے طوائفوں کے ساتھ وقت گزارنا، دلالوں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنا اور مرغوں کی لڑائی پر جوا کھیلنا شروع کر دیا، اور اپنی تمام جمع پونجی لٹا دی۔ جب اس کی جیبیں خالی ہو گئیں، تو اس نے مکمل طور پر غائب ہو جانے کا بہانہ ڈھونڈ لیا۔

کئی ہفتوں تک ماریا نے صبر سے انتظار کیا۔ ریڈیو پر وقتاً فوقتاً وہ سنتی کہ کوئی فرانسیسی ملاح جس نے برطانوی جہاز سے فرار اختیار کیا تھا، یا کوئی ڈچ باشندہ جو پرتگالی بحری جہاز سے بھاگا تھا، بندرگاہ کی قریبی کچی بستیوں میں چھرا گھونپ کر مار دیا گیا۔ وہ یہ سب بے حسی سے سنتی، کیونکہ وہ ایک ایسے یونانی کا انتظار کر رہی تھی جو اطالوی بحری جہاز سے بھاگا تھا۔ جب اس کی ہڈیوں کی تپش اور روح کی بے چینی ناقابلِ برداشت ہو گئی، تو وہ تسکین کی تلاش میں باہر نکلی اور پہلے ملنے والے شخص کی طرف بڑھی۔ اس نے اس شخص کا ہاتھ تھاما اور نہایت ہی مہذب اور شائستہ انداز میں اس سے پوچھا کہ کیا وہ اس کی پوشاک اتارنے کی کرم فرمائی کرے گا؟ اجنبی ایک لمحے کے لیے ہچکچایا، اس نوجوان عورت کو دیکھ کر الجھن کا شکار ہو گیا جو کسی بھی طرح اس علاقے کی پیشہ ور عورتوں جیسی نہیں لگتی تھی، لیکن جس کی

پیشکش، چاہے وہ کتنے ہی غیر معمولی انداز میں کیوں نہ کی گئی ہو، بالکل واضح تھی۔ اس نے سوچا کہ وہ اس کے ساتھ دس منٹ گزار کر اپنا دل بہلا لے گا، اور اس کے پیچھے چل دیا، یہ جانے بغیر کہ وہ جلد ہی ایک سچی محبت کے بھنور میں غرق ہونے والا ہے۔

حیرت زدہ اور جذباتی ہو کر، اس نے ماریا کی میز پر کچھ رقم چھوڑی اور ہر جاننے والے کو جا کر بتایا۔ جلد ہی دوسرے مرد بھی وہاں آنے لگے، اس افواہ کے زیرِ اثر کہ ایک ایسی عورت ہے جو چند لمحوں کے لیے ہی سہی، مگر محبت کا سراب بیچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے تمام گاہک مطمئن تھے۔ اور یوں ماریا اس بندرگاہ کی سب سے مشہور طوائف بن گئی؛ ملاحوں نے اپنے بازوؤں پر اس کا نام گدوا لیا اور دوسرے سمندروں پر جا کر اس کے قصے سنائے، یہاں تک کہ اس کی داستان پوری دنیا میں پھیل گئی۔

 

    وقت، غربت، اور مایوسی کو دور رکھنے

 کی تگ و دو نے ماریا کی تازگی کو ختم کر دیا۔ اس کی رنگت پھیکی پڑ گئی، وہ محض ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئی، اور آسانی کی خاطر اس نے اپنے بال کسی قیدی کی طرح چھوٹے کٹوا لیے تھے، لیکن اس نے اپنے شائستہ اطوار اور ہر نئے مرد سے ملنے کا جوش برقرار رکھا؛ اس نے انھیں کبھی گمنام اشیاء کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ انھیں اپنے خیالی محبوب کی بانہوں میں اپنا ہی عکس سمجھا۔ حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے، وہ اپنے عارضی ساتھی کی پست درجے کی عجلت سے بے خبر رہتی تھی، کیونکہ وہ ہر ایک کو اسی غیر سمجھوتہ شدہ محبت کے ساتھ خود کو سونپ دیتی تھی، اور کسی بے باک دلہن کی طرح دوسرے کی خواہشات کا پہلے سے اندازہ کر لیتی تھی۔ عمر کے ساتھ اس کی یادداشت بگڑتی گئی، وہ کبھی کبھی فضول باتیں کرتی تھی، اور جب  وہ دارالحکومت منتقل ہوئی اور 'کالے ریپبلیکا' میں اپنا کام شروع کیا،  تب اسے یہ یاد نہیں رہا تھا کہ کبھی وہ ان اشعار کی دیوی تھی جو ہر نسل کے ملاحوں نے فی البدیہہ کہے تھے، اور وہ اس وقت حیران رہ جاتی جب کوئی شخص بندرگاہ سے شہر تک محض یہ تصدیق کرنے کے لیے سفر کرتا کہ آیا وہ عورت، جس کے بارے میں اس نے ایشیا میں کہیں سنا تھا، اب بھی زندہ ہے۔ جب وہ خود کو اس ننھے ٹڈے، اس قابلِ رحم ہڈیوں کے ڈھیر، اس چھوٹی سی گمنام ہستی کے سامنے کھڑا پاتا، اور جب وہ اس افسانوی شخصیت کو راکھ میں بدلا ہوا دیکھتا، تو کئی مرد گہرے دکھ کے ساتھ مڑ کر چلے جاتے، لیکن کچھ رحم کی بنا پر وہیں رک جاتے۔ جو لوگ رک جاتے، انھیں ایک غیر متوقع انعام ملتا۔

جب ماریا اپنا پلاسٹک کا پردہ گراتی، تو کمرے کی فضا فوراً بدل جاتی۔ بعد میں، وہ ششدر مرد وہاں سے رخصت ہوتا، تو اپنے ساتھ ایک افسانوی لڑکی کا عکس لے کر جاتا، نہ کہ اس بے بس بوڑھی کسبی کا جسے اس نے وہاں پہنچنے پر دیکھا تھا۔

 

ماریا کا ماضی رفتہ رفتہ دھندلا رہا تھا

—اسے صرف ٹرینوں اور صندوقوں کا خوف واضح طور پر یاد تھا—اور اگر دوسری عورتوں کا اصرار نہ ہوتا تو کبھی کوئی اس کی کہانی نہ جان پاتا۔ وہ اس لمحے کی آس میں جی رہی تھی جب اس کے کمرے کا پردہ کھلے گا اور سامنے کوئی یونانی ملاح، یا اس کے تخیل کی پیداوار کوئی ایسی ہی پرچھائی ظاہر ہوگی جو اسے اپنی بانہوں کی محفوظ پناہ گاہ میں لے لے گی اور سمندر کی لہروں پر جہاز کے عرشے پر بیتے ہوئے ان خوشگوار لمحوں کو پھر سے زندہ کر دے گی۔ وہ ہر آتے جاتے ہوئے مرد میں اسی قدیم سراب کو تلاش کرتی، ایک خیالی محبت کی روشنی میں نہائی ہوئی، عارضی آغوشوں سے سایوں کو پیچھے دھکیلتی، ایسی چنگاریوں کے ساتھ جو بھڑکنے سے پہلے ہی بجھ جاتی تھیں۔اور جب وہ بے سود انتظار سے تھک گئی اور اسے محسوس ہوا کہ اس کی روح پر پپڑیاں جم گئی ہیں، تو اس نے فیصلہ کیا کہ اس دنیا کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہوگا۔ تبھی اس نے اسی نفاست اور توجہ کے ساتھ، جو اس کے ہر کام کا خاصہ تھی، گرم چاکلیٹ کا اپنا جگ اٹھایا۔

 

Title in English: Simple Maria



Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)