Posts

Showing posts with the label بھارتی ادب، کملیشور، افسانے، ہندی ادب

کملیشور کا افسانہ : گرمیوں کے دن

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 105 :گرمیوں کے دن تحریر: کملیشور (ہندوستان) مترجم: عامر صدیقی (کراچی، پاکستان) چنگی دفتر خوب رنگ برنگا، چھیل چھبیلاہے۔ اس کے دروازے پرقوس و قزح جیسے سائن بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ سید علی پینٹر نے اپنے بڑے مشاق ہاتھوں سے ان بورڈوں کو بنایا ہے۔ دیکھتے دیکھتے شہر میں بہت سی ایسی دکانیں ہو گئی ہیں، جن پر سائن بورڈ لٹکنے شروع ہوگئے ہیں۔ سائن بورڈ کا لگنا یعنی اوقاتِ کار کا بڑھنا۔ بہت دنوں پہلے جب دینا ناتھ حلوائی کی دوکان پر پہلا سائن بورڈ لگا تھا تو وہاں دودھ پینے والوں کی تعداد اچانک بڑھ گئی تھی۔ پھر سیلاب سا آ گیا اور نئے نئے طریقے اور بیل بوٹے ایجاد کئے گئے۔ ’’اوم‘‘ یا’’جے ہند‘‘ سے شروع کرکے ’’ایک بار ضرور ہمیں آزمائیں‘‘ یا پھر’’ملاوٹ ثابت کرنے والے کو سو روپیہ نقد انعام‘‘ کے دعووں یا للکاروں پر تحریر ختم ہونے لگی۔ چنگی دفتر کا نام تین زبانوں میں لکھا ہے۔ چےئرمین صاحب بڑی بدھی کے آدمی ہیں، ان کی سوجھ بوجھ کا ڈنکا بج رہا ہے، اس لئے ہر سائن بورڈ ہندی، اردو اور انگریزی میں لکھا جاتا ہے۔ دور دور سے لیڈر حضرات تقریریں کرنے آتے ...

کملیشور کا افسانہ : قصبے کا آدمی (कस्बे का आदमी)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 45:    قصبے کا آدمی تحریر:ہندی زبان کے ادیب،   کملیشور (ہندوستان) مترجم: اعجاز عُبید   ( حیدرآباد، ہندوستان)   صبح پانچ بجے گاڑی ملی۔ اس نے ایک کپارٹمینٹ میں اپنا بستر لگا دیا۔ وقت پر گاڑی نے جھانسی چھوڑا اور چھ بجتے بجتے ڈبے میں صبح کی روشنی اور ٹھنڈک بھرنے لگی۔ ہوا نے اسے کچھ گدگدایا۔ باہر کے مناظر صاف ہو رہے تھے، جیسے کوئی پینٹ آرٹ ورک پر سے دھیرے دھیرے ڈریسنگ پیپر ہٹاتا جا رہا ہو۔ اسے یہ سب بہت بھلا سا لگا۔ اس نے اپنی چادر ٹانگوں پر ڈال لی۔ پیر سکوڑکر بیٹھا ہی تھا کہ آواز سنائی دی، "پڑھو پٹے ستارم ستارم ۔ ۔ ۔ " اس نے مڑ کر دیکھا، تو مقرر کی پیٹھ دکھائی دی۔ کوئی خاص جاڑا تو نہیں تھا، پر طوطے کے مالک، روئی کا کوٹ، جس پر برفی نما سلائی پڑی تھی اور ایک پتلی موہری کے کرتے پاجامے میں ملبوس نظر آئے۔ سر پر ٹوپا بھی تھا اور سیٹ کے سہارے ایک موٹا سا سوٹا بھی ٹکا تھا۔ پر نہ تو ان کی شکل ہی دکھائی دے رہی تھی اور نہ طوطا۔ پھر وہی آواز گونج اٹھی، "پڑھو پٹے ستتارم ستتارم ۔ ۔ ۔ " تمام لوگوں کی آنکھی...