انتخاب افسانہ نمبر 730 : عظمتِ انسان، مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی)، مترجم: خالد فرہاد دھاریوال

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

 انتخاب افسانہ نمبر 730 : عظمتِ انسان

مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی)

مترجم: خالد فرہاد دھاریوال


 

شام کا اندھیرا گہرا ہو چکا تھا جب اُس تاریک کوٹھڑی کا دروازہ کھلا اور پہرے داروں نے ایک پستہ قد، با ریش بوڑھےکو اندر دھکیل دیا۔

بوڑھے کی بہت لمبی، سفید داڑھی سے زنداں کی تیرگی میں نور کا ہیولیٰ سا پھوٹتا محسوس ہو رہا تھا، جس نے وہاں قید مجرموں کے دِلوں پر  عجیب اثر کیا۔

بوڑھےکو شروع میں اندھیرے کےباعث اندازہ نہیں ہوا کہ اِس کال کوٹھڑی میں کوئی اور بھی موجود ہے، چنانچہ اُس نے نحیف آواز میں سوال کیا:

’’کیا کوئی ہے؟‘‘

جواب میں تضحیک آمیز قہقہوں اور تمسخرانہ آوازوں کا طوفان اُٹھا۔ پھر روایت کے مطابق تعارف کا سلسلہ شروع ہوا۔

ایک بھاری آواز آئی: ’’ریکارڈون، مارچیلی؛ سنگین ڈکیتی۔‘‘

ایک دوسری آواز، جو قدرے رندھی ہوئی تھی، گونجی:

’’بیتزیدا، کارمیلو؛ عادی مجرم، دھوکہ دہی۔‘‘

اور پھر:

’’مارفی، لوسیانو؛ عصمت دری۔‘‘

’’لاواتارو، میکس؛ بے گناہ!‘‘

کوٹھڑی قہقہوں سے گونج اُٹھی۔ اس بذلہ سنجی کو بہت سراہا گیا کیونکہ سبھی جانتے تھے کہ لاواتارو بدنامِ زمانہ سفاک ترین ڈاکوؤں میں سے ایک ہے۔ جب ہنسی کا غلغلہ تھما، تو تعارف دوبارہ شروع ہوا:

’’اسپوزیتو ،اینیا؛ قتل۔‘‘ اس کے لہجے میں تفاخر نمایاں تھا۔

’’موٹیرونی، وِنچنزو۔‘‘ اس کا انداز فاتحانہ تھا ’’ پدر کُشی……۔ اور اے بوڑھے کھسوٹ! تم؟‘‘

’’میں……۔‘‘ نو وارد نے جواب دیا، ’’ ……میں ٹھیک سے نہیں جانتا۔ انہوں نے مجھے راہ چلتے روکا، مجھ سے شناختی ثبوت مانگا، اور میرے پاس کبھی ایساکوئی کاغذ رہا ہی نہیں۔‘‘

’’اچھا، آوارہ گردی کےمعمولی جرم میں آئے ہو،تھو!‘‘ ایک شخص نےحقارت سےتھوکا۔ ’’اور تمہارا نام کیا ہے؟‘‘

’’میں ……میں مُورّو ہوں…… خلقِ خُدا مجھے ’مورّوئے اعظم‘ کےنام سے پکارتی ہے۔‘‘

’’مورّوئے اعظم! نام تو خاصا پُر شکوہ ہے،‘‘ کونے سے ایک نادیدہ قیدی نے تبصرہ کیا۔ ’’مگر اسم با مسمی نہیں ہو۔ یہ نام تم جیسے دس آدمیوں کو اپنے اندر سمو سکتا ہے۔‘‘

’’بجا فرمایا،‘‘ ضعیف شخص نے کمالِ انکساری سےکہا۔ ’’مگر اس میں میرا کیا قصور؟ یہ نام لوگوں نے مذاق اڑانے کے لیے مجھ پر تھوپ دیا ہے، اور میں اِس کا کچھ نہیں کر سکتا۔ اُلٹا یہ میرے لیے باعثِ آزار بھی رہا ہے۔ مثلاً ایک دفعہ…… خیر، یہ لمبی کہانی ہے……۔‘‘

’’سناؤ، سناؤ، سب اُگل دو۔‘‘ اُن شریر آدمیوں میں سے ایک نے اُسے شہ دی، ’’یہاں وقت کی کوئی قلت نہیں۔‘‘

سب نے تائید کی۔ زنداں کی اس گھٹن بھری اداس فضا میں کوئی بھی مشغلہ کسی جشن سے کم نہ تھا۔

بوڑھے نے بولنا شروع کیا:

’’قصہ یوں ہے کہ ایک دِن میں  ایسے شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا جس کا نام نہ لینا ہی بہتر ہے، میں نے دیکھا کہ ایک محل کے دروازے سے خادم انواع و اقسام کی نعمتیں اٹھائے آ جا رہے ہیں۔ میں نے گمان کیا کہ شاید اندر کوئی ضیافت ہے، سو بخشیش کی امید لیے قریب جا پہنچا۔ میں دہلیز پر کھڑا ہی تھا کہ چھ فٹ سےبھی بلند قامت ایک قوی ہیکل شخص نے میری گردن دبوچ لی اوروہ دہاڑا: ’چور پکڑا گیا! وہی جس نے کل ہمارے آقا کے گھوڑے کی جھول چرائی تھی۔ اور اس کی جسارت دیکھو کہ دوبارہ یہاں آن دھمکا۔ اب ہم تیری ہڈی پسلی ایک کر دیں گے!‘‘

میں نے گڑگڑا کر کہا: ’’میں؟ لیکن کل تو میں یہاں سےکوسوں دُور تھا۔ جو الزام تم مجھ پر دھر رہے ہو یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟‘‘

وہ بولا: ’’میں نے اپنی آنکھوں سےدیکھا تھا کہ تم وہ جھول کندھے پر ڈالے فرار ہو رہے تھے۔‘‘ اور وہ مجھے محل کے صحن میں گھسیٹ لے گیا۔  میں نے اُس کے پاؤں پکڑ لیے:

’’مہربانی کرو، کل میں یہاں سے کم از کم بیس میل دُور تھا۔ پہلے کبھی اس شہر میں نہیں آیا، میں مورّوئے اعظم یہ حلفاً کہتا ہوں۔‘‘

وہ پاگلوں کی طرح پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگا اور بولا: ’’کیا؟‘‘

’’بے شک میں مورّوئے اعظم ……۔‘‘ میں نے دہرایا۔ اور وہ شخص، جو ابھی کسی بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح دکھائی دے رہا تھا، یکدم ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا۔

اُس نے کہا: ’’مورّوئے اعظم؟‘‘ ذرا اِس فقیر کو دیکھو، یہ خود کو مورّوئے اعظم کہتا ہے۔‘‘ پھر میری جانب مڑ کر بولا: ’’تجھے خبر بھی ہے کہ مورّوئے اعظم کون ہے؟‘‘

میں نے جواب دیا: ’’اپنے سوا میں اِس نام کے کسی اور فرد سے واقف نہیں۔‘‘

اُس دیو قامت شخص نے کہا: ’’مورّوئے اعظم ہمارے انتہائی معزز آقا کے علاوہ کوئی نہیں ہے اور تو بدبخت اِس نام کو استعمال کرنے کی جرات کرتا ہے! اب تیری خیر نہیں۔ وہ دیکھو، آقا تشریف لا رہے ہیں۔‘‘

جیسا کہ متوقع تھا، شور  سن کر محل کا مالک خود صحن میں اتر آیا تھا۔ وہ ایک متمول تاجر تھا، شہر کا اور شاید دنیا کا امیر ترین شخص۔ وہ قریب آیا، ماجرا پوچھا اور مجھے دیکھ کر مسکرانے لگا۔ یہ اُسے بہت دلچسپ لگا کہ مجھ جیسا ایک مفلوک الحال شخص اس کا ہمنام ہے۔ اُس نے خادم کو میری رہائی کا حکم دیا اور مجھےمحل کے اندر آنے کی دعوت دی۔ اس نے مجھےقیمتی اشیاء سےبھرے تمام کمرے دکھائے، حتیٰ کہ وہ مجھے ایک ایسے محفوظ کمرے میں لے گیا جہاں سونے اور جواہرات کے انبار لگے تھے۔ اُس نے میرے لیے پُر تکلف کھانے کا اہتمام کیا اور پھر مخاطب ہوا:

’’اے بوڑھے بھکاری، اتفاق سے تم میرے ہمنام ہو، یہ ایک بہت ہی عجیب بات ہے کہ ہندوستان کی سیاحت کے دوران بعینہ یہی صورتحال میرے ساتھ بھی پیش آئی تھی۔ میں وہاں تجارت کی غرض سےبازار گیا، اور جب لوگوں نے میرے پاس موجود بیش قیمت اشیاء دیکھیں تو ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا اور مجھ سےپوچھا کہ میں کون ہوں؟ میں نے جواب دیا: ’’میرا نام مورّوئے اعظم ہے۔‘‘ یہ سن کر اُن کے ماتھوں پر بل پڑ گئے اور وہ لوگ بولے:

’’مورّوئے اعظم؟ اےمعمولی تاجر، تیری بساط ہی کیا جو تو عظمت کا دعویٰ کرے؟ انسان کی عظمت اُس کے فہم و فراست میں  پنہاں ہے۔ مورّوئے اعظم تو صرف ایک ہے اور وہ اسی شہر میں مقیم ہے۔ وہ ہماری سرزمین کا افتخار ہے، اور اب تجھے اپنی اِس لاف زنی کا جواب اس کے سامنے دینا ہو گا۔‘‘

اُنہوں نے مجھے زنجیروں میں جکڑا اور اُس مورّو کے حضور پیش کر دیا جس کے وجود سے میں بے خبر تھا۔ وہ بہت مشہور سائنسدان، فلسفی، ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات تھا۔ لوگ اُسے دیوتا کی طرح پوجتے تھے۔ خوش قسمتی سے وہ فوراً اس غلط فہمی کو بھانپ گیا، اور ہنسنے لگا۔ اُس نے مجھے آزاد کرنے کا حکم دیا اور اپنی رصد گاہ میں لے جا کر وہ نادر آلات دکھائے جو اُس کی اپنی ایجاد تھے۔ آخر میں اُس نے کہا:

’’اے شریف اجنبی تاجر، یہ بہت ہی حیرت انگیز بات ہے کہ جزائرِ لیوانت کے سفر میں میرے ساتھ بھی یہی ماجرا گزرا۔ میں ایک آتش فشاں کا دہانہ دیکھنے نکلا تھا کہ مسلح دستے نے میرے اجنبی لباس کی بِنا پر مشکوک جان کر مجھے روک لیا۔ سپاہیوں نےمیرا نام پوچھا اور جونہی میں نے اپنا نام بتایا، اُنہوں نے مجھے زنجیروں میں جکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے شہر کی طرف لے گئے۔

وہ کہنے لگے: ’’مورّوئے اعظم؟ بے چارے علامہ، تیری عظمت کی حقیقت کیا ہے؟ انسان کی عظمت تو اُس کے شجاعانہ کارناموں میں ہے۔ مورّوئے اعظم صرف ایک ہی ہے، اِس جزیرے کا فرماں روا، وہ عظیم جنگجو جس کی شمشیرِ براں ہمیشہ سورج کی طرح چمکتی ہے۔ اب وہ تیرا سر قلم کرنے کا حکم دے گا۔‘‘

وہ مجھے فی الواقع اپنےبادشاہ کے دربار میں لے گئے، جو  نہایت مہیب اور رعب دار شخصیت کا مالک تھا۔ خوش قسمتی سے میں اپنی صفائی پیش کرنے میں کامیاب رہا، اور وہ جری جنگجو ناموں کے اتفاق پر کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اُس نے میری زنجیریں کٹوا دیں، مجھے خلعتِ فاخرہ سے نوازا اور اپنے شاہی محل میں بلایا تاکہ دُور و نزدیک کےجزائر کےتمام لوگوں پر اُس کی فتحیابی کے شاندار ثبوتوں کی میں ستائش کر سکوں۔ آخر میں اُس نےمجھ سے کہا:

’’اے ممتاز سائنسدان، تمہارا نام میرے نام کے مماثل ہے۔ یہ انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ جب میں یورپ نامی دُور دراز علاقےمیں برسرِ پیکار تھا، میرے ساتھ بھی یہی حادثہ پیش آیا۔ میں اپنے سپاہیوں کےہمراہ ایک جنگل میں پیش قدمی کر رہا تھا کہ چند گنوار پہاڑی باشندوں نے ہمارا راستہ روک لیا اور مجھ سے پوچھا:

’’تو کون ہے، جو ہمارے جنگل کے سکوت میں ہتھیاروں کو جھنجھنا رہا ہے؟‘‘

میں نےرعب سے جواب دیا: ’’میں مورّوئے اعظم ہوں۔‘‘ مجھے گمان تھا کہ میرا نام سن کر وہ سہم جائیں گے۔ مگر اِس کے برعکس وہ ہمدردانہ انداز میں مسکرائے اور بولے:

’’مورّوئے اعظم؟ لازماً تو مذاق کر رہا ہے۔ اے مغرور جنگجو، تیری عظمت کا معیار کیا ہے؟ انسان کی عظمت نفس کشی اور رُوح کی بالیدگی میں ہے۔ دُنیا میں صرف ایک ہی مورّوئے اعظم ہے، ہم تجھے اُس کے پاس لے چلتے ہیں تاکہ تو انسان کا حقیقی جلال دیکھ سکے۔‘‘

چنانچہ وہ مجھے ایک سنسان وادی میں لے گئے، وہاں ایک شکستہ جھونپڑی کے اندرچیتھڑوں میں ملبوس سفید داڑھی والا چھوٹا سا بوڑھا مقیم تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ ہمہ وقت فطرت کے مشا ہدے اور یادِ الٰہی میں وہ مگن رہتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں اُس سے زیادہ پُر سکون، مطمئن اور شادمان انسان نہیں دیکھا تھا؛ مگر میرے لیے اپنی زندگی کی راہ بدلنے کا وقت گزر چکا تھا۔‘‘

یہ قصہ جزیرے کے طاقتور بادشاہ نے اُس دانشمند سائنسدان کو سنایا تھا، اور سائنسدان نے آگے متمول تاجر کو، اور تاجر نے اُس غریب بوڑھے کو، جو بخشیش لینے اُس کے در پر آیا تھا۔ ان سب کا نام ’مورو‘ تھا۔ اور وہ سب کسی نہ کسی وجہ سے ’عظیم‘ مشہور تھے۔‘‘

جب اداس کوٹھڑی میں بوڑھے نے اپنی کہانی ختم کی تو بدمعاش قیدیوں میں سے ایک نے پوچھا:

’’اِس کا مطلب ہے، اگر میری عقل ماؤف نہیں ہوئی تو وہ جھونپڑی والا بے چارہ بوڑھا، جو ان سب میں سے عظیم تھا، وہ تمہارے سوا کوئی اور نہیں ہے؟‘‘

با ریش بزرگ نے اُس کی بات کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید، بس دبی آواز میں کہا: ’’آہ میرے پیارےبچو، زندگی بھی کتنی مضحکہ خیز شے ہے!‘‘

وہ تمام قیدی جو یہ سب سن رہے تھے، چند لمحوں کے لیے خاموشی میں ڈوب گئے۔ کیونکہ کچھ باتیں بدبخت ترین آدمیوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

 

مصنف کا تعارف:

 

دینو بوتزاتی

دینو بوتزاتی (Dino Buzzati) اٹلی کے ممتاز ادیب تھے۔ وہ16اکتوبر 1906 کو  اٹلی کےشہر بیلّونو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1924میں  میلان یونیورسٹی کے شعبۂ قانون میں داخلہ لیا۔یہاں اِن کےوالدکبھی  تدریسی فرائض انجام دیتے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں انہیں معروف اخبار کوریئرے دِلا سیرہ میں ملازمت مل گئی۔ وہ اپنی وفات تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ جنگِ عظیم دوم کےدوران افریقہ میں جنگی نامہ نگار کےطور پر کام کیا۔ جنگ کے اختتام پر ان کا شہرۂ آفاق ناول بیابانِ تاتار‘شائع ہوا جسےغیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس ناول کا موازنہ البیر کامو کی تصنیف سسی فس کی کہانی ‘سےکیا جاتا ہے۔ان کی متعدد تخلیقات پر فلمیں بنائی گئیں۔

دینو بوتزاتی 28 جنوری 1972 میں چھاسٹھ برس کی عمر میں لبلبے کےسرطان سے وفات پا گئے۔ انہوں نے حقیقت اور تخیل کےامتزاج سےوجودی اضطراب کو ایک منفرد اسلوب میں پیش کرکےبیسویں صدی کے اطالوی ادب کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی نہایت تخیلاتی حکایات حقیقت کے ایک معتبر اور مانوس آہنگ سے آراستہ دکھائی دیتی ہیں۔

اس کہانی کو  Human Greatness کےعنوان سے لارنس وینوتی نے انگریزی میں ترجمہ کیا، یہ اُسی کا اُردو رُوپ ہے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)