افسانہ نمبر 713 : بے لوث دوست، تحریر : آسکر وائلڈ (آئر لینڈ)، مترجم : عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی)

 

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 713 : بے لوث دوست

تحریر   : آسکر وائلڈ (آئر لینڈ)

مترجم :  عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی)



ایک صبح بوڑھے  آبی چوہے نے اپنے بل سے منہ باہر نکالا ۔اس کی   آنکھیں  روشن چمکدار  اور چھوٹی تھیں ۔ اس کی مونچھیں سخت اور سرمئی تھیں ۔ اور اس کی دم  سیاہ ہندوستانی ربڑ جیسی تھی ۔چھوٹی بطخیں تالاب میں ادھر ادھر تیر رہی تھیں ۔ وہ بہت ساری پیلی چڑیوں جیسی نظر آ رہی تھیں ۔ ان کی ماں جو خالص سفید اور اس کی ٹانگیں سرخ تھیں ،ان کو پانی میں سر کے بل کھڑا ہونا سکھا رہی تھی ۔

تم کبھی بھی بہترین سماجی حیثیت حاصل نہیں کر سکتیں ،جب تک تمھیں اپنے سر کے بل کھڑا ہونا نہیں آتا”۔ وہ مسلسل انہیں یہی بات سمجھا رہی تھی ۔ساتھ ساتھ وہ انہیں اس کا عملی مظاہرہ کر کے دکھا رہی تھی ۔ لیکن چھوٹی بطخیں اس کی بات پر دھیان نہیں دے رہی تھیں ۔ وہ اس کچی عمر میں تھیں جس میں سماجی حیثیت کی اہمیت کا انہیں کچھ اندازہ نہیں تھا ۔

نا فرمانبردار بچے ! “ بوڑھے آبی چوہے نے چلا کر کہا ، “ یہ ڈبوۓ جانے کے لائق ہیں ۔

ایسا کچھ نہیں ہے ۔ “ بطخ نے جواب دیا ، “ ہر ایک کو کہیں  نہ کہیں سے آغاز کرنا ہوتا ہے اور والدین کو صبر کرنا چاہیے ۔

آہ ، مجھے والدین کے احساسات کی  کچھ  سوجھ بوجھ نہیں ، میں بال بچے دار نہیں ہوں ۔  در اصل میں نے شادی ہی نہیں کی ،اور نہ ہی شادی کرنے کا کوئی ارادہ ہے ۔ محبت اپنے طور پر اچھی چیز ہے لیکن دوستی بہت بڑھیا / اعلی جذبہ ہے ۔ حقیقتا” مجھے دنیا میں بے لوث دوستی سے بڑھ کر عظیم اور نادر رشتہ کوئی نہیں ملا ۔ “ آبی چوہے نے کہا ۔

معاف کرنا ،تمھارے خیال میں مخلص دوست کی ذمہ داریاں کیا ہیں ؟ “ قریب ہی بید مجنوں پر بیٹھے ا یک  سبز رنگ کے پرندے  نے  پوچھا جس نے ان کی گفتگو اتفاقاً”  سن  لی تھی ۔

ہاں ، بالکل یہی بات میں بھی جاننا چاہتی ہوں ،” بطخ یہ کہتے ہوۓ تالاب کے دوسرے سرے تک تیر تے ہوۓ گئی اور  اپنے بچوں کو سکھانے کے لئیے اپنے سر کے بل پانی میں کھڑی ہو گئی ۔

واہ ،کتنا بےوقوفانہ سوال ہے۔ “ آبی چوہے نے کہا ، “ مجھے اپنے مخلص دوست سے اس کے مکمل خلوص کی توقع ہونی چاہیے ۔

اور جوابا” تم کیا کرو گے ؟ “ چھوٹے  پرندے نے  صبح کی  روشنی میں  پتوں پر چمکتی شبنم کی پھوار پر جھولتے اور اپنے نازک پروں کو پھڑ پھڑاتے ہوۓ سوال کیا ۔

مجھے تمھاری بات سمجھ نہیں آئی ، “ آبی چوہے نے جواب دیا ۔

چلو میں تمھیں اس حوالے سے ایک کہانی سناتا ہوں ،” پرندے نے کہا ۔

کیا یہ کہانی میرے بارے میں ہے ؟ “ آبی چوہے نے پوچھا ، “ اگر ایسا ہے تو میں ضرور سنوں گا ،میں فکشن ( افسانوی ادب )  کا دلدادہ  ہوں ۔

یہ تمھارے اوپر لاگو ہوتی ہے ۔” پرندے نے جواب دیتے ہوۓ اڑان  بھری اور تالاب کے کنارے پر بیٹھتے ہوۓ اس نے بے لوث دوست کی کہانی سنانا شروع کی ۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، “ پرندے نے کہا ، “ایک ایماندار  لڑکا تھا جس کا نام ہانس  تھا ۔

کیا وہ بہت کامیاب و کامران اور معزز تھا ۔” آبی چوہے نے پوچھا ۔

نہیں ،میرا نہیں خیال کہ وہ کسی بھی طرح سے ممتاز تھا ،ماسواۓ اس کے مہربان دل ،اور  مزاحیہ  گول خوش مزاج چہرے کے۔    وہ ایک چھوٹے سے کاٹیج میں تن تنہا رہتا تھا ۔ہر روز اپنے باغ میں کام کرتا ۔اس پورے   علاقے / گاؤں میں اس سے خوبصورت اور کوئی باغ نہیں تھا ۔ اس میں سویٹ -ولیم ( اس میں خوشبودار ،گچھوں کی شکل میں پھول لگتے ہیں ) گلی - فلاورز ( گلاب نما پھول ) / گل  قرنفل ( لونگ کی خوشبو والے )  فرانس کے خوبصورت پھول ۔ چرواہے کا پرس کے علاوہ ڈ ماسک گلاب ،پیلے گلاب ،زعفران کے پھول اور سنہری ،ارغوانی اور بنفشی ہر رنگ اور قسم کے پھول کھلتے تھے ۔ سب پھول اپنے اپنے موسم کے مطابق آگے پیچھے ایک دوسرے کی جگہ کھلتے رہتے ۔ اس طرح اس کے باغ میں ہر وقت کسی نہ  کسی پھول کی  بہار اپنے رنگ اور خوشبو کے ساتھ  دکھائی دیتی رہتی تھی ۔

چھوٹے ہانس  کے بہت سارے دوست تھے ۔لیکن سب سے مخلص دوست   بھاری بھرکم ہیگ  چکی والا   تھا ۔ یہ امیر چکی والا اتنا بے لوث تھا کہ وہ اس کے باغ سے گزرتے وقت ضرور دیوار سے جھک کر بہت سارے  گلدستے  چن لیتا یا میٹھی جڑی بوٹیاں اٹھا لیتا یا  اگر پھلوں کا موسم ہوتا تو اپنے جیب آلو چوں اور چیری سے بھر لیتا ۔

حقیقی دوستوں میں ہر چیز مشترکہ ہونی  چاہیے ۔” چکی والا   اکثر یہی کہتا تھا ۔ جواب میں چھوٹا ہانس  سر ہلاتا اور مسکراتا اور اس بات پر فخر کرتا کہ اس کے ہاس اتنے اچھے خیالات رکھنے والا دوست ہے ۔

بعض اوقات ہمسایوں کو یہ بات بہت عجیب محسوس ہوتی کہ امیر  چکی والا   چھوٹے  ہانس  کو بدلے میں کبھی کچھ نہیں دیتا تھا اگرچہ اس کے پاس  اس کی مل میں سینکڑوں آٹے کے تھیلے محفوظ پڑے ہوتے ۔اس کے پاس چھ عدد  دودھ دیتی گائیں تھیں ۔ اور اونی کھال والی بھیڑوں کا بڑا غول تھا ۔لیکن ہانس کبھی بھی اپنے دماغ میں ان خرافات کو جگہ نہ دیتا ۔ بلکہ  اسے  چکی والے  کی بے غرض دوستی کے بارے میں  کہی گئی  حیرت انگیز باتوں سے بہت خوشی ملتی تھی ۔

اس طرح چھوٹا ہانس  اپنے باغ میں کام کرتا رہا ۔ بہار ، گرمیوں اور خزاں کے موسم میں وہ بہت خوش رہا ۔لیکن جب سردیاں آئیں اور اس کے پاس  منڈی میں لے جا کر بیچنے کے لئیے کوئی پھل یا پھول نہ رہے تو اسے ٹھنڈ اور بھوک سے بہت تکلیف اٹھانی پڑی اور بعض اوقات اس کے پاس   عشائیے  کے لئیے کچھ سخت اخروٹ  یا خشک ناشپاتیوں کے سوا کچھ نہ ہوتا ۔ سردیوں میں وہ بہت تنہائی محسوس کرتا اس لئیے کہ چکی والا  بھی سردیوں میں آنا بند کر دیتا تھا ۔

جب تک برفباری ہو رہی ہے میرا چھوٹے  ہانس  کے پاس جانا اچھا نہیں ہے “ ۔چکی والا  اکثر و بیشتر اپنی بیوی سے کہتا ۔”جب لوگ مصیبت میں ہوں تو انہیں تنہا چھوڑ دینا چاہیے اور مہمانوں کو انہیں تکلیف نہیں دینی چاہیے ۔ دوستی کے بارے میں میرا یہی نظریہ ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ میں درست ہوں ۔ اس لئیے میں بہار کے آنے کا انتظار کروں گا ،تب میں اسے ملنے جاؤں گا ۔اس وقت وہ مجھے بسنتی گلابوں  کی ٹوکری بھر کر دینے کے قابل ہو گا ،جس سے اسے خوشی ملے گی ۔

تم بے شک دوسروں کے بارے میں اچھا سوچتے ہو ۔” اس کی بیوی  جو  جلتی چیڑ کی آگ  کے پاس آرام کرسی پر بیٹھی  تھی ، نے کہا ،” تم بہت ہمدردانہ سوچ رکھتے ہو۔تمھاری دوستی کے بارے میں  گفتگو سننا کسی ضیافت سے کم نہیں ہوتا ۔مجھے یقین ہے کہ پادری بھی تم سے اچھی گفتگو نہیں کر سکتا ،اگرچہ وہ تین منزلہ مکان میں رہتا ہے اور اپنی  چھنگلی     میں سونے کی انگوٹھی پہنتا ہے ۔،

کیا ہم چھوٹے ہانس کو یہاں نہیں بلا سکتے ؟ “ چکی والے  کے چھوٹے بیٹے نے کہا، “اگر بے چارہ چھوٹا ہانس مصیبت میں ہے تو میں اسے اپنا آدھا دلیہ دوں گا اور اسے اپنے سفید خرگوش دکھاؤں گا ۔

تم کتنے بے وقوف لڑکے ہو ۔” چکی والے  نے غصے سے کہا ،” مجھے سمجھ نہیں آتی تمھیں سکول بھیجنے کا کیا فائدہ ہے ؟ تم کچھ سیکھتے دکھائی نہیں دیتے ۔تمھیں معلوم نہیں ،اگر چھوٹا ہانس  یہاں آۓ گا ،ہماری گرم آگ ،ہمارا شاندار کھانا اور ہماری سرخ شراب کا  بڑا ڈرم دیکھے گا تو اس کے دل میں حسد پیدا ہو سکتا ہے ۔حسد سب سے خوفناک چیز ہے جو کسی بھی شخص کی فطرت تباہ کر سکتا ہے ۔ میں کسی بھی صورت چھوٹے  ہانس  کی فطرت تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا ۔میں اس کا بہترین دوست ہوں ۔اس لئے میں ہمیشہ اس پر نظر رکھوں گا کہ وہ کبھی حرص کا شکار نہ ہو ۔مزید یہ کہ اگر کبھی ہانس یہاں آ جاۓ تو ہو سکتا ہے وہ مجھ سے آٹا ادھار مانگ لے ،جو میں نہیں دے سکتا ۔آٹا ایک چیز ہے دوستی الگ چیز ہے ۔انہیں آپس میں گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے ۔ دیکھو تو ،ان لفظوں کے ہجے بھی مختلف ہیں اور معنی بھی الگ ۔ یہ تو سب کو دکھائی دیتا ہے ۔

تم کتنی اچھی گفتگو کرتے ہو ،” چکی والے  کی بیوی نے اپنے لئیے   جو کی شراب کا بڑا گرم گلاس انڈیلتے ہوۓ کہا ۔ “ مجھ پر غنودگی طاری  ہو رہی  ہے ۔ایسا لگتا ہے میں چرچ میں بیٹھی ہوں ۔

  بہت سارے لوگ بہت اچھے کام کرتے ہیں لیکن بہت تھوڑے لوگ اچھی گفتگو کرتے ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ اچھی گفتگو کرنا بہت مشکل لیکن عمدہ کام ہے ۔ “ اس نے  میز کے  سامنے  بیٹھے اپنے بیٹے کو کڑی نگاہ سے دیکھا جو اپنے آپ سے اتنا شرمندہ تھا کہ اس نے اپنا سر  جھکایا ہوا تھا  وہ  شرم کے  مارے سرخ ہو رہا تھا۔اور  اس کے آنسو اس کے چاۓ کے پیالے میں گر رہے تھے ۔

تاہم وہ ابھی بچہ تھا ۔اسے معاف کیا جا سکتا تھا ۔

کیا کہانی ختم ہو گئی؟ “ آبی چوہے نے پوچھا

بالکل بھی نہیں ۔” پرندے نے جواب دیا ۔ “ کہانی تو اب شروع ہوئی ہے ۔

تو پھر تم زمانے سے بہت پیچھے ہو ۔” آبی چوہے نے کہا ،” آج کل اچھا کہانی کار انجام سے شروع کرتا ہے،پھر ابتدا کی طرف بڑھتا ہے اور وسط میں ختم کرتا ہے ۔ نیا طریقہ یہی ہے ۔ میں نے یہ سب کل ایک  نقاد  کو کہتے سنا ۔وہ کل اسی تالاب کے پاس سے ایک نوجوان کے ساتھ گزر رہا تھا ۔اس نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی تھی ۔مجھے یقین ہے وہ درست کہہ رہا تھا ۔اس لئیے کہ اس نے نیلے چشمے پہنے ہوۓ تھے اور اس کا سر  گنجا تھا اور جب کبھی نوجوان کچھ کہتا تو وہ ہمیشہ کہتا ،  او نہہ ۔ تاہم تم کہانی جاری رکھو ۔  مجھے  چکی والا  بہت پسند آ رہا ہے ۔چونکہ میرے پاس بھی بے شمار خوبصورت جذبات ہیں ،اس لئیے ہم دونوں کے درمیان گہری ہمدردی کا تعلق قائم ہو گیا ہے ۔

اچھا ،” پرندے نے  ایک ٹانگ سے دوسری ٹانگ پر اچھلتے ہوۓ کہا ۔

جونہی سردیاں ختم ہوئیں ، تو ہلکے زرد رنگ کے  بسنتی گلاب   ستاروں کی مانند کھلنے لگے ، تب  چکی والے نے اپنی بیوی سے کہا  کہ وہ نیچے چھوٹے ہانس  کے پاس ملنے جا رہا ہے ۔

تم کتنے اچھے دل کے مالک ہو “ اس کی بیوی نے کہا ،” تم ہمیشہ دوسروں کے بارے میں سوچتے ہو ،اور ہاں ! اپنے ساتھ پھول لانے کے لئیے بڑی ٹوکری  لے کر جانا ۔

چکی والے  نے جانے سے قبل  پون  چکی کے بادبان مضبوط لوہے کی زنجیر سے کس کر باندھ دیے ۔اور ٹوکری لئیے پہاڑ سے نیچے اترنے لگا ۔

صبح بخیر ، چھوٹے ہانس  ،”  چکی والے  نے کہا

صبح بخیر ،” ہانس  نے اپنے بیلچے پر جھکتے ہوۓ مسکراتے ہوۓ جواب دیا ۔ مسکراہٹ اس کے ایک کان سے دوسرے کان تک پھیلی ہوئی تھی ۔

تم نے سردیاں کیسے گزاریں ؟ “  چکی والے  نے پوچھا ۔

 ارے ،ہاں واقعی ،تمھاری بڑی مہربانی ،تم نے پوچھا ،  تمھارا پوچھنا اچھا لگا ۔ “  ہانس  نے جواب دیا ۔“ اب بہار آ گئی ہے ،میں بہت خوش ہوں ۔میرے سارے پھول کھلنے لگے ہیں۔

ہم  سارے موسم سرما میں تمھیں یاد کرتے رہے  اور پریشان رہے   کہ تم کیسے گزارا کر رہے ہو ۔ “ چکی والے  نے کہا ۔

تمھاری مہربانی ہے ،میں تو ڈرتا رہا کہ تم مجھے بھول چکے ہو۔” ہانس  نے کہا ۔

ہانس  ، میں تم پر حیران ہوں ، “ چکی والا  بولا ،  “ دوستی کبھی بھولتی نہیں ۔یہی اس کی خوبی ہے ۔لیکن میرا خیال ہے کہ تم زندگی کی شاعری سمجھ نہیں سکے ۔ ویسے تمھارے بسنتی گلاب کتنے خوبصورت ہیں ۔

یقینا” یہ بہت خوبصورت ہیں ۔اور یہی میری خوش قسمتی ہے کہ یہ بہت زیادہ ہیں ۔میں انہیں منڈی لے کر جاؤں گا اور انہیں  بلدیہ کے مئیر کی بیٹی کو بیچوں گا اور اس رقم سے اپنی   ریڑھی  واپس  خریدوں گا ۔

اپنی ریڑھی  واپس خریدو گے ؟ تمھارے کہنے کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم نے اسے بیچ دیا ہے ؟ کتنی بےوقوفانہ حرکت کی ہے ! “

بات دراصل یہ ہے ، “ ہانس  نے کہا ، مجھے ایسا کرنا پڑا ۔ تم جانتے ہو  جاڑا میرے لئیے کتنا مشکل تھا اور میرے ہاس روٹی خریدنے  کے لئیے پیسے نہیں تھے۔اس لئیے میں نے سب سے پہلے اپنے اتوار کے کوٹ کے چاندی کے  بٹن  فروخت کئیے ،اس کے بعد اپنی چاندی کی زنجیر   اس کے بعد اپنا   تمباکو نوشی کا بڑا پائپ  اور آخر میں اپنی ریڑھی فروخت کر دی ۔  لیکن اب میں وہ سب دوبارہ خرید لوں گا ۔

ہانس  ، میں تمھیں اپنی  ریڑھی  دے دوں گا ۔اگرچہ اس کی حالت کوئی خاص اچھی نہیں ۔اس کا ایک طرف کا حصہ بیکار ہو چکا ہے اور اس کے  پہیوں کے تاروں  میں بھی مسلۂ ہے ۔لیکن اس سب کے باوجود وہ میں تمھیں دے دوں گا ۔ مجھے معلوم ہے یہ میری  تم  پر  بڑی مہربانی  ہو گی اور بہت سارے لوگ مجھے اسے تمھیں دینے پر  بےوقوف کہیں گے ،لیکن میں باقی دنیا سے مختلف ہوں ۔ میرا نظریہ ہے کہ فیاضی دوستی کی روح ہے ۔علاوہ ازیں میں اپنے لئیے نئی  ریڑھی   خرید چکا ہوں ۔ اس لئیے اب تم پرسکون ہو جاؤ ۔میں تمھیں اپنی  ریڑھی           دے دوں گا ۔

او ،واقعی ،یہ تمھاری بڑی مہربانی ہے ،” اس کا مزاحیہ گول چہرہ خوشی سے دمکنے لگا ۔میں اس کی مرمت کر لوں گا ۔میرے پاس لکڑی کا تختہ  ہے

لکڑی کا تختہ ! “ چکی والے  نے کہا ، ہاں ،بالکل ایسا ہی مجھے اپنے  گودام  کی چھت کے لئیے چاہیے ۔اس میں بہت بڑا سوراخ ہے ۔اگر اسے میں نے بند نہ کیا تو ساری مکئی  میں نمی آجاۓ گی ۔ میری خوش قسمتی  ہے کہ تم نے ذکر کر دیا !یہ واقعی قابل ذکر بات ہے ،کہ  ایک اچھا کام نئے اچھے کام کو جنم دیتا ہے ۔ میں نے تمھیں اپنی ریڑھی   دی اب تم مجھے اپنا تختہ  دو گے ۔ بے شک  ریڑھی   تختے سے زیادہ قیمتی ہے ۔ لیکن سچی دوستی ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کرتی ۔ مہربانی سے جلدی سے  تختہ لے آؤ اور میں ابھی جا کر چھت کا کام شروع کر دوں گا” ۔

یقینا” ،چھوٹا ہانس  خوشی سے چلایا ،دوڑ کر شیڈ سے تختہ گھسیٹ کر لے آیا ۔

یہ کوئی خاص بڑا نہیں ہے ، “ مل مالک نے تختہ دیکھتے ہوۓ کہا ۔” میرا خیال ہے کہ  چھت   کی مرمت کے بعد اس میں سے کچھ نہیں بچے گا کہ تم اس سے  ریڑھی   کی مرمت   کر سکو ۔لیکن یہ میری غلطی نہیں ۔اور اب جبکہ میں تمھیں اپنی ریڑھی    دے چکا ہوں ،مجھے یقین ہے کہ تم مجھے  بدلے میں کچھ پھول دو گے ۔ یہ رہی ٹوکری اور خیال رکھنا کہ اسے مکمل بھرنا ہے ۔

مکمل بھرنا ؟ ،چھوٹے ہانس  نے افسردگی سے کہا ،کہ وہ واقعی بہت بڑی ٹوکری تھی ۔ اسے علم تھا کہ اسے مکمل بھرنے کے بعد اس کے  پاس بیچنے کے لئیے پھول نہیں بچیں گے ۔اسے اپنے  چاندی کے   بٹن واپس خریدنے کی بے تابی تھی ۔

ہاں ،بالکل ،”  چکی والے  نے جواب دیا ۔ “ چونکہ میں تمھیں  اپنی ریڑھی  دے چکا ہوں ۔تو کچھ پھول مانگنا کوئی بڑی بات نہیں ۔میں غلط ہو سکتا ہوں لیکن میں نے سوچا کہ دوستی ،سچی دوستی ہر قسم کی خود غرضی سے پاک ہونی چاہیے ۔

میرے پیارے دوست ، میرے پیارے دوست ، “ چھوٹا  ہانس   گڑگڑا کر بولا ۔” تمھارے لئیے میرے باغ کے سارے پھول قربان ، تمھاری کسی بھی دن میرے بارے میں اچھی راۓ میرے لئیے میرے چاندی کے بٹنوں سے زیادہ قیمتی ہو گی۔ “ اور اس نے بھاگ بھاگ کر باغ کے سارے اچھے پھول توڑ کر  چکی والے  کی ٹوکری بھر دی ۔

خدا حافظ ،  چھوٹے ہانس  ، “  چکی والے  نے کہا اور وہ اپنے کندھے پر تختہ اٹھائے اور ہاتھ میں پھولوں سے بھری ٹوکری پکڑے پہاڑ چڑھنے لگا۔

خدا حافظ ، “ چھوۓ ہانس  نے جواب دیا ۔اور خوشی خوشی زمین کھودنے لگا ۔وہ  ریڑھی کے تصور سے بہت خوش تھا ۔

اگلے دن جب وہ  لونیسرا  /  honeysuckle  کی بیل برآمدے میں کیلیں ٹھونک کر باندھ رہا تھا تو  اس نے  چکی والے   کی آواز سنی جو سڑک سے اسے پکار رہا تھا ۔ جسے سن کر وہ سیڑھی سے کود کر اترا ، بھاگ کر باغ سے گزرا اور دیوار سے باہر دیکھا ۔ وہاں  چکی والا  آٹے کا بڑا تھیلا اٹھائے کھڑا تھا ۔

پیارے چھوٹے  ہانس  ،کیا تم میرے لئے یہ تھیلا بازار لے جاؤ گے ؟

اوہ ،مجھے افسوس ہے ،کہ میں آج بہت مصروف ہوں ۔ مجھے اپنی تمام بیلیں باندھنی ہیں ،تمام پودوں کو پانی لگانا ہے اور تمام گھاس کاٹنی ہے ۔،

او، اچھا ، “  چکی والے نے کہا ،” میں نے سوچا کہ میں تمھیں اپنی  ریڑھی  دے رہا ہوں تو تمھارا انکار دوستی کے منافی ہو گا ۔

او، ایسا مت کہو  ،” ہانس  نے کہا ، “ اور  اندر سے اپنی ٹوپی اٹھانے بھاگا ۔یہ ایک گرم دن تھا اور سڑک بہت گرد آلود تھی چھٹے میل کے نشان تک پہنچتے پہنچتے ہانس شدید تھک چکا تھا کہ اسے بیٹھ کر آرام کرنا پڑا ۔ تاہم وہ بہادری سی چلتا رہا اور آخرکار وہ  بازار  پہنچ  ہی گیا ۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد اس نے بہت اچھی قیمت پر آٹا فروخت کیا اور فورا” گھر واپس آ گیا ،اسے ڈر تھا کہ اگر دیر ہوئی تو واپسی پر  لٹیرے اس سے رقم چھین نہ لیں ۔

یہ یقینا” بہت سخت دن تھا ۔” چھوٹے ہانس  نے  بستر پر جاتے ہوۓ اپنے آپ سے کہا ۔لیکن میں خوش ہوں کہ  میں نے  چکی والے کو  ،جو میرا بہترین دوست ہے  ، انکار نہیں کیا ۔ وہ مجھے اپنی  ریڑھی  دے گا ۔

اگلے دن علی اصبح چکی والا  اپنی رقم لینے پہنچ گیا۔  لیکن  چھوٹا ہانس شدید تھکاوٹ کے باعث ابھی تک بستر میں تھا ۔

بخدا ، چکی والے  نے کہا تم بہت سست ہو ۔ یہ  ذہن میں رکھتے ہوۓ کہ میں تمھیں اپنی ریڑھی  دوں گا ، میں نے سوچا کہا تم محنت سے کام کرو گے ۔ سستی اور بے کاری  بہت بڑا گناہ ہے اور میں اپنے دوستوں  میں سے کسی کو بھی سست یا بے کار دیکھنا نہیں چاہتا ۔تم میری کھری کھری باتوں کا برا نہ منانا ۔ظاہر ہے اگر میں تمھارا دوست نہ ہوتا تو تمھیں یہ سب نہ کہتا ۔لیکن دوست کا کیا فائدہ اگر  وہ  جو کہنا چاہتا ہے کہہ نہ سکے ۔؟ ہر کوئی دوسروں کو خوش یا خوشامد کرنے کے لئیے  دلکش باتیں  کرسکتا ہے لیکن ایک سچا دوست ہی غیر دلکش باتیں کرنے اور دکھ دینے سے نہیں ڈرتا ۔اگر وہ صحیح معنوں میں سچا دوست ہے تو وہ  سچ کو ترجیح دے گا کیونکہ  وہ جانتا ہے کہ وہ اچھائی کر رہا ہے ۔

مجھے بہت افسوس ہے ،” چھوٹے ہانس  نے اپنی آنکھیں ملتے ہوۓ اور اپنی رات کی ٹوپی اتارتے ہوۓ کہا  ،” لیکن میں اتنا تھک گیا تھا کہ میں نے سوچا کہ مزید کچھ دیر بستر پر پڑا رہوں اور پرندوں کو گنگناتا سنوں ۔ کیا تمھیں معلوم ہے کہ پرندوں کے گانے سننے کے بعد میں بہتر کام کرتا ہوں ۔

ہاں ،میں خوش ہوں ، “ چکی والے نے چھوٹے ہانس  کی پیٹھ پر تھپکی دیتے ہوۓ کہا ۔ “ میں چاہتا ہوں کہ تم لباس بدل کر فورا” چکی پہنچو اور میرے گودام کی چھت مرمت کر دو ۔

بیچارہ ہانس  اپنے باغ میں جانے اور کام کرنے کے لئیے پریشان تھا کہ اس کے پھولوں کو دو دن سے پانی نہیں لگایا گیا تھا ۔لیکن وہ چکی والے کو  انکار بھی نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس کا بہترین دوست تھا ۔

اگر میں یہ کہوں کہ میں مصروف ہوں تو کیا تم اسے بے مروتی تو نہیں سمجھو گے ؟ “ اس  نے شرمندگی سے نحیف آواز سے پوچھا ۔

اچھا ، واقعی ، “ چکی والے نے جواب دیا ،” میرا نہیں خیال کہ میں نے تم سے کچھ زیادہ مانگ لیا ،جب کے میں تمھیں اپنی ریڑھی دے رہا ہوں ۔لیکن بے شک تمھارے انکار کی صورت میں ،میں خود ہی یہ کام کر وں گا ۔

اوہ ، نہیں ، کسی قیمت پر نہیں ۔” چھوٹا ہانس  بولا ،اور چھلانگ لگا کر بستر سے نکل آیا ۔لباس تبدیل کیا اور گودام پر کام کرنے چلا گیا ۔ سارا دن سورج غروب ہونے تک اس نے وہاں کام کیا ۔تب چکی والے نے وہاں  آ کر  کام دیکھا اور خوشگوار آواز میں پوچھا ، “ چھوٹے ہانس  ،کیا تم نے مرمت کر دی ؟

چھت مرمت ہو گیا ہے ۔” چھوٹے ہانس  نے سیڑھیاں اترتے ہوۓ جواب دیا ۔

آہا ، “ چکی والے نے کہا ،” کوئی بھی کام اس کام سے زیادہ خوشگوار نہیں جو کسی دوسرے کے لئیے کیا گیا ہو ۔

تمھاری گفتگو سننا خصوصی سعادت ہے ۔” چھوٹے ہانس  نے زمین پر بیٹھتے اور پیشانی پونچھتے ہوۓ کہا ۔” لیکن میرا خیال ہے میرے پاس کبھی بھی تمھارے جیسے خوبصورت خیالات نہیں ہوں گے ۔

او، یہ تمھارے پاس بھی آ جائیں گے ۔” چکی والے نے کہا ،لیکن اس کے لئیے تمھیں تھوڑی زیادہ محنت کرنی ہو گی ۔ فی الحال تمھیں  صرف دوستی نبھانے کی مشق ہے ،ایک دن تمھارے پاس اس کی نظریاتی سمجھ بھی ہو گی ۔

کیا تم واقعی ایسا سوچتے ہو کہ مجھے بھی ۔۔۔” ہانس  نے پوچھا ۔

بے شک ،” چکی والے نے جواب دیا ۔” لیکن اب جب تم چھت مرمت کر چکے ہو تو تم گھر جا کر آرام کرو ۔تا کہ کل تم میری بھیڑیں پہاڑ پر چرنے کے لئیے لے جا سکو ۔

بے چارہ ہانس ، اسے کوئی جواب دینے سے خوف زدہ تھا ۔اگلی صبح چکی والا اپنی بھیڑیں لے کر اس کی کاٹیج پہنچ گیا اور ہانس  انہیں لے کر پہاڑ پر چڑھ گیا ۔اس طرح وہاں جانے اور آنے میں اس کا پورا دن گزر گیا   ۔ جب وہ واپس آیا تو اتنا تھک چکا تھا  کہ اپنی کرسی پر بیٹھتے ہی سو گیا اور دن چڑھے تک سوتا رہا ۔

آج باغ میں میرا شاندار دن ہوگا “ ،یہ کہتے ہی وہ باغ میں  کام پر جت گیا ۔لیکن وہ کام نہ کرسکا کہ چکی والا  بار بار آ جاتا اور اسے کسی نہ کسی کام سے بھیج دیتا یا اسے اپنی چکی پر اپنی مدد کے لئیے بلا لیتا ۔

اس طرح ہانس چکی والے کے لئیے کام کرتا رہا ۔ اور چکی والا اسے دوستی کے بارے میں خوبصورت باتیں سناتا رہا ،جنھیں ہانس اپنی  ڈائری میں لکھ لیتا اور رات کے وقت انہیں پڑھتا ۔ وہ بہت اچھا طالبعلم تھا ۔ُ

ایک شام ہانس  آگ سینک رہا تھا ،جب اس کے دروازے پر دستک ہوئی ۔وہ رات بہت خوفناک تھی باہر آندھی پوری شدت سے چل رہی تھی گھر کے گرد اس کی چنگھاڑ سنائی دیتی تھی ۔اس لئیے ہانس نے دستک پر توجہ نہ دی اسے طوفان کی آواز سمجھا لیکن جب دوسری اور پھر سب سے اونچی  تیسری دستک  سے وہ سمجھ گیا کہ کوئی بدقسمت سیاح ہے ۔

اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو دروازے پر چکی والا تھا ۔اس کے ایک ہاتھ میں لالٹین اور دوسرے ہاتھ میں بڑی ساری چھڑی تھی ۔

پیارے چھوٹے ہانس  ،” چکی والے نے کہا ، “ میں بہت بڑی مصیبت میں ہوں ۔میرا چھوٹا بیٹا سیڑھی سے گر گیا ہے اور زخمی ہو گیا ہے ۔میں ڈاکٹر کو لینے جا رہا ہوں ،لیکن وہ بہت دور رہتا ہے اور رات اتنی خوفناک ہے کہ مجھے ابھی یہ خیال آیا کہ یہ زیادہ بہتر ہو گا کہ تم ڈاکٹر کو بلا لاؤ ،تم جانتے ہو کہ میں تمھیں اپنی ریڑھی دینے والا ہوں ۔ اس لئیے انصاف یہی ہے کہ بدلے میں تم میرے لئیے کچھ کرو ۔

بالکل ، “ ہانس  نے کہا ، تمھارے  یہاں آنے کو میں اپنی عزت افزائی سمجھتا ہوں اور میں فورا” روانہ ہو جاؤں گا لیکن تم مجھے اپنی لالٹین سفر کے لئیے دو گے ۔ کیوں کہ رات بہت تاریک ہے اور مجھے ڈر ہے کہ میں کسی کھائی میں نہ گر جاؤں ۔

مجھے بہت افسوس ہے ،” چکی والے کا جواب تھا ، “ لیکن یہ میری نئی لالٹین ہے اور اگر اسے کچھ ہو گیا تو یہ میرے لئیے بہت بڑا نقصان ہو گا ۔

اچھا ،کوئی بات نہیں ،میں اس کے بغیر ہی جاتا ہوں ۔” چھوٹے ہانس  نے اپنا بڑا فر کوٹ نکالا اپنی گم سرخ ٹوپی پہنی ،گردن کے گرد مفلر لپیٹا اور روانہ ہو گیا ۔

اس رات کیا ہی خطرناک طوفان تھا ! رات اتنی تاریک تھی کہ چھوٹے ہانس  کو بمشکل کچھ بھی دکھائی دیتا تھا ۔ اور آندھی اتنی شدید  اور  طاقتور تھی کہ وہ بمشکل کھڑا رہ سکتا تھا ۔تاہم وہ بہت جرات مند تھا اور تین گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد وہ ڈاکٹر کے گھر پہنچا اور دروازے پر دستک دی ۔

کون ہے ؟ “ ڈاکٹر نے  اپنے بیڈ روم کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر چلا کر پوچھا ۔

ڈاکٹر ،  میں چھوٹا ہانس  ہوں ۔

چھوٹے ہانس  ،تمھیں کیا کام ہے ۔؟

چکی والے کا بیٹا سیڑھی سے گر گیا ہے اور زخمی ہو گیا ہے ۔ چکی والا چاہتا ہے کہ تم فورا” پہنچو ۔

اچھا ! “ ڈاکٹر نے کہا ۔

ڈاکٹر  نے اپنے گھوڑے اپنے بڑے بوٹوں اور اپنی لالٹین  کا حکم دیا ۔ نیچے آیا اور چکی والے کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا ۔ چھوٹا ہانس  اس کے پیچھے اپنے آپ کو گھسیٹنے لگا ۔ لیکن طوفان شدید سے شدید تر ہوتا گیا اور تیز  بارش  برسنے لگی ۔اب چھوٹے ہانس  کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کدھر جا رہا ہے اور نہ ہی وہ گھوڑے کا ساتھ دے پا رہا تھا  ۔ آخر کار وہ رستہ کھو بیٹھا اور بنجر ویران وسیع میدان میں بھٹکتا پھرتا رہا ۔جو کہ بہت خطرناک تھا کہ وہ جگہ گہری کھائیوں سے بھری ہوئی تھی اور وہاں بے چارہ چھوٹا ہانس پانی میں  ڈوب گیا ۔ اگلے دن چرواہوں کو  اس کی لاش پانی کے تالاب میں تیرتی ہوئی  ملی ۔ وہ اسے واپس اس کی کاٹیج میں لے آۓ ۔ سب لوگ چھوٹے ہانس  کے جنازے میں شامل ہوۓ کہ وہ سب میں ہر دلعزیز تھا اور چکی والا خصوصی  سوگوار تھا ۔

چوں کہ میں اس کا بہترین دوست تھا اس لئیے مجھے بہترین جگہ ملنی چاہیے ۔اس طرح وہ ماتمی جلوس میں سب سے آگے لمبے سیاہ چغے میں چل رہا تھا ۔ وہ  تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے بڑے دستی رومال سے اپنی آنکھیں صاف کرتا رہا ۔

بے شک چھوٹے  ہانس   کا مرنا سب کا نقصان ہے ، “ لوہار نے جنازے کے اختتام پر کہا ۔اور سب نے طعام خانے میں آرام سے بیٹھ کر میٹھے کیک کھاۓ اور مصالحہ دار شراب پی ۔

میرا سب سے زیادہ  نقصان ہوا ۔ “ چکی والے نے جواب دیا ،” میں نے عملا” اسے اپنی ریڑھی دے ہی دی تھی ۔اور اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اس کا کیا کروں ۔یہ میرے گھر میں بے کار پڑی ہے اور وہ اس قدر بری حالت میں ہے کہ میں اگر اسے بیچوں تو بھی مجھے کچھ وصول نہیں ہو گا ۔ میں اب اس بات کا خیال رکھوں گا کہ میں آئندہ کوئی چیز کسی کو نہ دوں ۔ فیاض ہونے کا واقعی نقصان پہنچتا ہے ۔

اچھا ؟ “ کافی دیر گزرنے کے بعد آبی چوہے نے کہا ۔

جی ، یہ انجام ہے ۔” پرندے نے کہا ۔

لیکن چکی والے کا کیا بنا ؟ آبی چوہے نے پوچھا ۔

اوہ ، مجھے واقعی نہیں معلوم ، “ پرندے نے جواب دیا ،” اور مجھے یقین ہے کہ مجھے اس کی پرواہ بھی نہیں ۔

صاف ظاہر ہے کہ تمھاری فطرت میں ہمدردی نام کی کوئی چیز  نہیں ۔” آبی چوہے نے کہا ۔

میرا خیال ہے تم  کہانی کا اخلاقی سبق  سمجھ نہیں سکے ۔ “ پرندے  نے فقرہ کسا ۔

کیا ؟ “ آبی چوہا چینخا ۔

اخلاقی سبق ۔

کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ کہانی کا اخلاقی سبق بھی ہے ؟

یقینا” ، پرندے نے کہا ۔

اوہ ، واقعی ،” آبی چوہے نے غصے سے کہا ،” میرا خیال ہے یہ بات کہانی شروع کرنے سے قبل تمھیں مجھے بتانی چاہیے تھی ۔ اگر تم مجھے بتا دیتے تو میں تمھیں ہر گز نہ سنتا بلکہ  نقاد کی طرح میں کہہ دیتا ،” او نہہ “۔تاہم میں اب بھی کہہ سکتا ہوں ،اور وہ زور سے چلایا ،” او نہہ” اپنی دم ہلائی اور اپنے بل میں واپس چلا گیا ۔

اور تمھیں  آبی چوہے کا کردار کیسا  لگا ؟ “ بطخ  نے پوچھا ،جو کچھ لمحوں بعد وہاں پہنچ گئی تھی ۔ “ اس میں  کافی اچھی  خوبیاں ہیں ۔لیکن میرے اندر ممتا کے جذبات کی وجہ سے میں کبھی بھی کسی پکے کنوارے کو دیکھ کر اپنے آنسو نہیں روک سکتی ۔

مجھے ڈر ہے کہ میں نے اسے ناراض کر دیا ہے ۔بات یوں ہے کہ میں نے اسے ایک کہانی سنائی جس کا ایک اخلاقی سبق تھا ۔

آہ ،! یہ ہمیشہ خطرناک بات ہوتی ہے”  ۔ بطخ نے کہا

اور میں اس ( بطخ ) سے مکمل متفق ہوں ۔

 افسانہ  انگریزی عنوان The devoted friend

 

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)