افسانہ نمبر 719 : پلیٹ فارم نمبر آٹھ کی عورت، مصنف: رسکن بونڈ(مسوری۔بھارت)، مترجم: عبد الوحید خان۔ لاہور

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 719 : پلیٹ فارم نمبر آٹھ کی عورت
مصنف: رسکن بونڈ(مسوری۔بھارت)

مترجم: عبد الوحید خان۔ لاہور

 


 

یہ میرےبورڈنگ اسکول کا دوسرا سال تھا۔ میں امبالہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر آٹھ پر شمال کی جانب جانے والی گاڑی کا منتظر بیٹھا تھا۔ اس وقت میری عمر کوئی بارہ برس کے لگ بھگ تھی۔ والدین کا خیال تھا کہ اب میں تنِ تنہا سفر کرنے کے قابل ہو چکا ہوں۔ میں شام ہی کو بس کے ذریعے امبالہ پہنچ گیا تھا، مگر میری گاڑی نصف شب، یعنی بارہ بجے آنی تھی، اس لیے خاصا انتظار درپیش تھا۔


کبھی میں پلیٹ فارم پر آہستہ آہستہ ٹہلتا رہا، کبھی کتابوں کے اسٹال پر نظریں دوڑاتا، اور کبھی آوارہ کتوں کو ٹوٹے ہوئے بسکٹ ڈال دیتا۔ گاڑیاں آتی رہیں اور جاتی رہیں۔ بعض اوقات پلیٹ فارم پر گہری خاموشی چھا جاتی، اور پھر جونہی کوئی ریل آ لگتی، ہر سمت شور، ہنگامہ اور مضطرب انسانوں کا سیلاب امنڈ آتا۔ ڈبوں کے دروازے کھلتے ہی مسافروں کا ریلا ٹکٹ چیک کرنے والے گھبرائے ہوئے اہلکار پر ٹوٹ پڑتا، اور اکثر میں بھی اس بھیڑ میں بہہ کر اسٹیشن کے باہر جا نکلتا۔

 

آخر کار اس بھاگ دوڑ اور بے مقصد گردش سے اکتا کر میں اپنے سوٹ کیس پر بیٹھ گیا اور اداس نگاہوں سے پٹریوں کے اُس پار دیکھنے لگا۔

 

سامان سے لدی ٹرالیاں میرے قریب سے گزرتی رہیں۔ دہی اور لیموں بیچنے والوں کی صدائیں، مٹھائی فروش کی آواز، اور اخبار بیچنے والے لڑکے کی پکار میرے کانوں تک پہنچتی رہی، مگر میرا دل ان سب سے اچاٹ ہو چکا تھا۔ میں بوریت اور ہلکی سی تنہائی کے احساس کے ساتھ ریل کی پٹریوں کو تکتا رہا۔



اسی اثنا میں میرے قریب سے ایک نرم اور دھیمی آواز ابھری:


"بیٹا، کیا تم یہاں اکیلے ہو؟"


میں نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ ایک عورت میرے قریب کھڑی تھی۔ وہ ذرا سا جھک کر بات کر رہی تھی۔ اس کا چہرہ سپید، آنکھیں گہری اور نہایت شفیق تھیں۔ اس نے کوئی زیور نہیں پہن رکھا تھا اور نہایت سادہ سفید ساڑھی میں ملبوس تھی۔

"جی ہاں، میں اسکول جا رہا ہوں،" میں نے ادب سے کھڑے ہو کر جواب دیا۔

وہ بظاہر مفلس معلوم ہوتی تھی، مگر اس کی شخصیت میں ایک ایسا وقار تھا جو بے اختیار احترام پیدا کرتا تھا۔

 

میں کچھ دیر سے تمہیں دیکھ رہی ہوں،” اس نے کہا۔ “کیا تمہارے والدین تمہیں رخصت کرنے نہیں آئے؟

میں یہاں کا رہنے والا نہیں ہوں،” میں نے عرض کیا۔ “مجھے ٹرین بدلنی ہے۔ اور ویسے بھی، میں اکیلا سفر کر سکتا ہوں۔

"مجھے یقین ہے کہ تم کر سکتے ہو،"  اس نے نرمی سے کہا۔


اس کے یہ الفاظ مجھے اچھے لگے۔ اس کی سادگی، اس کی پُرسکون آواز اور اس کے چہرے کی شرافت نے میرے دل میں اس کے لیے ایک مانوس سا احساس پیدا کر دیا۔



تمہارا نام کیا ہے؟” اس نے پوچھا۔

ارون،” میں نے کہا۔

اور تمہاری گاڑی آنے میں کتنا وقت باقی ہے؟

کوئی ایک گھنٹہ۔ بارہ بجے آتی ہے۔

تو میرے ساتھ آؤ، کچھ کھا لیتے ہیں۔

 

میں جھجک اور اجنبیت کے باعث انکار کرنا چاہتا تھا، مگر اس نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ اب ہاتھ چھڑانا مجھے نامناسب محسوس ہوا۔ اس نے ایک قلی کو میرا سوٹ کیس دیکھنے کی ہدایت کی اور مجھے پلیٹ فارم کے ساتھ ساتھ لے چلی۔


اس کا ہاتھ نہ حد سے زیادہ سخت تھا نہ بے حد ڈھیلا—بس ایک معتدل، مانوس سا لمس۔ میں نے دوبارہ اسے غور سے دیکھا۔ وہ نہ جوان کہلا سکتی تھی، نہ بوڑھی۔ غالباً تیس برس سے اوپر کی ہوگی، مگر اگر پچاس کی بھی ہوتی تو شاید اسی طرح نظر آتی۔

 

وہ مجھے اسٹیشن کےطعام خانے میں لے گئی۔ اس نے چائے، سموسے اور جلیبیاں منگوائیں۔ میں ایک بھوکا اسکولی لڑکا تھا؛ بھوک نے ساری جھجک دور کر دی۔ میں جتنا کھا سکتا تھا، شائستگی کے ساتھ کھاتا رہا۔ وہ خاموش مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھتی رہی۔


چائے اور مٹھائی کے اثر سے میرے دل کی گرہیں کھل گئیں۔ میں نے اسے اپنے اسکول، اپنے دوستوں، اپنی پسند اور ناپسند سب کچھ بتا دیا۔ وہ کبھی کبھار سوال کرتی، مگر زیادہ تر توجہ سے سنتی رہتی۔ اس نے بڑی مہارت سے مجھے باتوں میں لگا لیا، یہاں تک کہ میں یہ بھول ہی گیا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں۔

 

نہ اس نے میرے گھر کا پوچھا، نہ میں نے اس سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے اسے بس اسی حیثیت سے قبول کر لیا—ایک خاموش، مہربان اور شفیق عورت، جو ایک تنہا بچے کو ریلوے پلیٹ فارم پر کچھ لمحوں کی شفقت عطا کر رہی تھی۔

 

تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہم طعام خانے سے نکلے اور واپس پلیٹ فارم کی طرف چل پڑے۔ پلیٹ فارم نمبر آٹھ کے ساتھ ایک انجن آگے پیچھے ہو رہا تھا۔ اسی لمحے ایک لڑکا پلیٹ فارم سے کود کر پٹریوں پر اترا اور دوسرے پلیٹ فارم کی طرف دوڑ پڑا۔

 

وہ انجن سے محفوظ فاصلے پر تھا، مگر جیسے ہی اس نے پٹریاں عبور کیں، عورت نے میرا بازو زور سے پکڑ لیا۔ اس کی انگلیاں میرے بازو میں دھنس گئیں اور میں درد سے چونک اٹھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا—اس کے چہرے پر خوف، کرب اور ایک گہری اداسی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

 

وہ لڑکے کو دیکھتی رہی، یہاں تک کہ وہ بھیڑ میں گم ہو گیا۔ تب جا کر اس نے میری گرفت ڈھیلی کی۔ اس نے مجھے تسلی آمیز مسکراہٹ دی، مگر اس کے ہاتھ اب بھی لرزاں تھے۔

 

وہ بالکل ٹھیک تھا،” میں نے کہا، گویا اب تسلی دینے کی باری میری تھی۔

وہ خاموشی سے مسکرائی اور میرا ہاتھ تھامے رکھا۔

ہم خاموشی سے اُس جگہ پہنچے جہاں میرا سوٹ کیس رکھا تھا۔ وہاں میرا ہم جماعت ستیش اپنی ماں کے ساتھ موجود تھا۔

ہیلو ارون!” اس نے کہا۔ “ٹرین حسبِ معمول لیٹ ہے۔ ویسے اس سال نیا ہیڈ ماسٹر آیا ہے۔

ہم نے مصافحہ کیا۔ پھر اس نے اپنی ماں سے کہا:

یہ ارون ہے، امّی۔ میرا دوست ہے، اور ہماری کلاس کا سب سے اچھا باولر۔

جان کر خوشی ہوئی،” ستیش کی ماں نے کہا۔ وہ ایک رعب دار، فربہ عورت تھی اور عینک لگائے ہوئے تھی۔ اس نے میرے پاس کھڑی عورت کو دیکھا اور کہا:

اور یہ یقیناً ارون کی والدہ ہوں گی؟

میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس عورت نے بڑے اطمینان سے کہا:

جی ہاں، میں ارون کی ماں ہوں۔

میں حیرت سے گنگ رہ گیا۔ مگر اس کے چہرے پر کوئی جھجک نہ تھی۔

ستیش کی ماں بولتی چلی گئی:

 

آدھی رات کو گاڑی کا انتظار کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ مگر بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بڑے اسٹیشنوں پر طرح طرح کے مشکوک لوگ ہوتے ہیں۔ آج کل بہت احتیاط ضروری ہے۔

ارون اکیلا سفر کر سکتا ہے،” میرے پاس کھڑی عورت نے نہایت وقار سے کہا۔

یہ سن کر میرے دل میں اس کے لیے شکرگزاری کا احساس ابھرا۔


خیال رکھنا، ارون،” ستیش کی ماں نے سخت لہجے میں کہا۔ “اور کبھی اجنبیوں سے بات نہ کرنا!”


میں نے اس کی طرف دیکھا، پھر اس عورت کی طرف۔

مجھے اجنبی اچھے لگتے ہیں،” میں نے صاف صاف کہا۔


وہ چونک سی گئی، جیسے کسی بچے کی مخالفت کی عادی نہ ہو۔

اسی اثنا میں اسٹیشن کی گھنٹی بجی۔ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔ گاڑی آ پہنچی۔


ہم ڈبے میں سوار ہو گئے۔ ستیش کی ماں نصیحتیں کرتی رہی۔ میں خاموش رہا۔ میں نے اپنی “ماں” کا ہاتھ تھام لیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ میں نے جھک کر اس کے گال پر بوسہ دیا۔

 

گاڑی چل پڑی۔

 

خدا حافظ، امّی!” ستیش نے پکارا۔

خدا حافظ… امّی،” میں نے آہستہ سے کہا۔

میں کھڑکی کے سامنے بیٹھا اس عورت کو دیکھتا رہا۔ وہ سفید لباس میں ملبوس، ہجوم کے درمیان کھڑی، مجھے جاتا دیکھتی رہی—حتیٰ کہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔

 

انگلش میں عنوان : A woman on platform number 8

مصنف کا تعارف:

رسکن بونڈ (پیدائش ۱۹۳۴ء) بھارتی انگریزی ادیب ہیں، جو مختصر کہانیوں اور بچوں کے ادب کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا پہلا ناول The Room on the Roof تھا جس پر انہیں انعام ملا۔ ان کی معروف تصانیف میں The Night Train at Deoli اور The Blue Umbrella شامل ہیں۔ حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری اور پدم بھوشن سے نوازا۔ وہ مسوری (بھارت) میں مقیم ہیں۔



مترجم: عبد الوحید خان لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج ہیں ۔

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)