افسانہ نمبر 731 : محاصرۂ برلن || مصنف: الفانسو دودے (فرانس) || مترجم: خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)

 

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 731 : محاصرۂ برلن

مصنف: الفانسو دودے (فرانس)

مترجم: خالد فرہاد دھاریوال  (سیالکوٹ)

 

 


 

 ہم ڈاکٹر وی. کے ہمراہ خیابان شانزے لیزے پر گامزن تھے؛ گولیوں سےچھلنی دیواریں اور گولہ باری سے اُدھڑی ہوئی پگڈنڈیاں جنگ کی ستم گری کی گواہی دے رہی تھیں۔ ’یادگارِ لیتوال‘ تک پہنچنے سے ذرا پہلے ڈاکٹر اچانک رُک گیا۔ اُس نے ’محرابِ فتح‘ کے پاس ایستادہ پُرشکوہ مکانات میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

’’اُس بالکونی کے وہ چار بند دریچے دیکھ رہے ہو؟ گزشتہ برس اگست، اُس پُر آشوب اگست کے آغاز میں، مجھے وہاں ایک مفلوج کا معائنہ کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ مریض کرنل ژوو تھا؛ نپولین اوّل کے عہد کا ایک سابقہ جنگجو شہسوار، جو حُب الوطنی اور رزم آرائی کے جذبے سے سرشار تھا۔ جنگ چھڑتے ہی وہ اِس علاقے میں سڑک کی جانب کھلنے والی کھڑکیوں والے مکان میں آن بسا تھا، جانتے ہو کیوں؟ اس لیے کہ اپنی فوج کی فاتحانہ واپسی کا جشن اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کر سکے۔ بیچارہ بوڑھا! ایک دن وہ ابھی کھانے کی میز سے اُٹھا ہی تھا کہ وسیمبرگ سے شکست کی خبر آ پہنچی۔ شہنشاہ کے دستخط کے ساتھ سرکاری اخبار میں چھپی یہ خبر پڑھتے ہی وہ غش کھا کر گر پڑا۔

میں نے جا کر دیکھا تو وہ سابقہ شہسوار فرش پر چِت پڑا تھا۔ منہ سے خون بہہ رہا تھا اور تن بدن یوں بے حس و حرکت گویا لاٹھی سے کاری ضرب لگائی گئی ہو۔ وہ یقیناً قد آور انسان تھا، لیٹا ہوا بھی عظیم الجثہ معلوم ہو رہا تھا۔ چہرے کےنقوش بے حد وجیہ تھے، دانتوں کی سالم قطار دیدہ زیب تھی اور سر پر سفید گھنگھریالے گھنے بال تھے۔ اسی سال کی عمر، مگر دیکھنے میں ساٹھ کا لگتا تھا۔ اُس کے پہلو میں اُس کی پوتی گھٹنوں کے بل بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی۔ وہ اپنے دادا کی ہم شکل تھی۔ اُن دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر گمان ہوتا تھا جیسے وہ ایک ہی سانچے سے ڈھلے ہوں، فرق بس اتنا تھا کہ ایک چہرہ ضعیفی کے باعث مرجھایا ہوا اور بے رونق تھا، جبکہ دوسرا شباب کی تازگی اور تابندگی سے منور تھا۔

اُس بچی کو غمزدہ دیکھ کر میرا دِل بھر آیا۔ وہ ایک سپاہی کی بیٹی اور سپاہی ہی کی پوتی تھی۔ اُس کا والد سپہ سالار میک میہن کے معتمدینِ خاص میں شامل تھا۔ بوڑھے دادا کو اپنے سامنے بے ہوش پڑا دیکھ کر لڑکی کے دِل میں وسوسے پیدا ہو رہے تھے۔ میں نے اُسے تسلی دینے کی بھرپور کوشش کی، حالانکہ حقیقت میں مجھے خود کوئی امید نہ تھی۔ معاملہ جسم کے ایک حصے کے مکمل فالج کا تھا، اور ضعیف العمری میں بہت کم لوگ اِس سے جانبر ہو پاتے ہیں۔

تین دن تک مریض کی حالت جوں کی توں رہی۔ اسی دوران رائیشوفن سے خبر آئی، تمہیں یاد ہو گا؟ وہ کیسی عجیب و غریب خبر تھی! ہم شام تک یہی یقین کیے بیٹھے رہے کہ ہماری عظیم فتح ہوئی ہے، بیس ہزار جرمن زخمی ہوئے ہیں اور جرمن ولی عہد کو قیدی بنا لیا گیا ہے۔

وہ بے چارہ مریض اب تک بیرونی دنیا کے واقعات سے بے خبر تھا، مگر نجانے کس مقناطیسی قوت کے زیرِ اثر اس قومی مسرت کی بازگشت اُس کے کانوں تک پہنچی۔ اُس رات جب میں مریض کے پاس پہنچا تو وہ ایک بدلا ہوا انسان تھا۔ آنکھیں تقریباً صاف ہو چکی تھیں، بولنے میں بھی اب خاص دِقت نہ تھی؛ ہونٹوں پر مسکراہٹ کی ایک لکیر نمایاں تھی اور وہ ہکلاتے ہوئے کہہ رہا تھا: ’’فتح… مبارک!‘‘

’’جی ہاں کرنل، ایک بہت بڑی فتح ہوئی ہے!‘‘ پھر جب میں نے اُسے سپہ سالار میک میہن کے عظیم کارنامے کی تفصیلات مبالغہ آرائی کے ساتھ سنانا شروع کیں، تو اس کا نحیف جسم توانا ہو اُٹھا اور چہرہ دمکنے لگا۔

میں کمرے سے نکلا تو مریض کی پوتی میری منتظر تھی۔ اُس کا چہرہ فق تھا اور وہ خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی۔ میں نے اُس کے دونوں ہاتھ تھام کر کہا: ’’کرنل اب خطرے سے باہر ہے۔‘‘

اُس بدقسمت بچی میں جواب دینے کی سکت نہ تھی۔ کچھ دیر پہلے ہی اُسے جنگ کی حقیقی خبر مل گئی تھی کہ میک میہن پسپا ہو چکا ہے اور تمام فرانسیسی فوج عبرتناک شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو دہشت زدہ نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ وہ اپنے باپ کے لیے سخت پریشان تھی اور مجھے اُس بوڑھے کی تشویش تھی۔

میں نے کہا: ’’یقیناً کرنل اِس نئے صدمے کو جھیل نہیں پائے گا۔ اب چارہ کیا ہے؟ جس خبر نے اُسے نئی زندگی دی ہے، وہ اسی خوش فہمی میں رہے۔ ہاں، ہمیں اس کے ساتھ مصلحت آمیز فریب سے کام لینا ہوگا۔‘‘

’’ٹھیک ہے، تو یہ دروغ گوئی میں کر لوں گی۔‘‘ اُس باہمت لڑکی نے فوراً اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا اور مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ اپنے دادا کے کمرے میں داخل ہو گئی۔

لڑکی نے خود اِس کٹھن کام کا بیڑا اٹھایا۔ ابتدائی چند دن تو یہ کام سہل تھا کیونکہ بوڑھے کا ذہن اُس وقت مضمحل تھا، وہ ایک بچے کی طرح ہر اُلٹی سیدھی بات پر یقین کر لیتا۔ مگر جوں جوں صحت بحال ہوئی، اُس کا ذہن بھی صاف ہوتا گیا۔ اب اُسے فوجوں کی نقل و حمل سے باخبر رکھنا پڑتا۔ چنانچہ فرضی خبریں گھڑ کر سنانا پڑتی تھیں۔ وہ معصوم لڑکی دن رات جرمنی کے نقشے پر جھکی رہتی۔ یہ منظر دیکھ کر ترس آتا تھا۔ وہ چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں گاڑ کر ایک عظیم مہم جوئی کا نقشہ ترتیب دینے کی تگ و دو کر رہی تھی: کماندار بازین، برلن کی طرف بڑھ رہا ہے، فروسارڈ، باویریا میں ہے، اور میک میہن بحیرہ بالٹک پر پہنچ چکا ہے، وغیرہ۔ ان تمام امور میں وہ مجھ سے مشورہ لیتی اور میں بھی مقدور بھر اُس کی معاونت کرتا۔ مگر اِس فرضی جنگ کے معاملے میں ہمیں سب سے زیادہ رہنمائی اُس کے دادا ہی سے ملی؛ وہ نپولین اوّل کے دؤر میں جرمنی کو فتح کرنے والی فوج کا حصہ رہا تھا، لہٰذا بوڑھا سپاہی جنگی چالوں سے بخوبی واقف تھا۔ ’اب وہ یہاں جائیں گے‘، ’اب وہ یہ کریں گے‘۔ اور اپنی پیش گوئیاں ہمیشہ پوری ہوتے دیکھ کر اُسے بہت فخر ہوتا۔ بدقسمتی سے، ہم چاہے جتنے شہروں پر قبضہ کر لیتے یا جنگ جیت جاتے، اُسے تسلی نہ ہوتی۔ ہم اُس کی خیالی فتوحات کا تعاقب ہی نہ کر پاتے، وہ اور آگے بڑھ جاتا۔ کسی طرح بھی اُس کی یہ تشنگی دُور نہ ہوتی تھی۔ روز جب میں وہاں پہنچتا، مجھے کسی نئے کامیاب معرکے کا پتہ چلتا۔ وہ لڑکی کسی نئی فتح کی نوید سنا کر میرا استقبال کرتی۔ دِل چیر دینے والی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر وہ مجھ سے ملتی۔ اور دروازے کی اوٹ سے مجھے ایک پُرمسرت آواز سنائی دیتی: ’’ہم سہولت سے آگے بڑھ رہے ہیں، اور ایک ہفتے میں ہماری فوجیں برلن میں ہوں گی!‘‘

دراصل اُس وقت جرمن فوج زیادہ دُور نہ تھی، شاید ایک ہفتے میں وہ پیرس پہنچ جاتی۔ پہلے ہم نے سوچا کہ بوڑھے کو دیہات کی طرف لے چلنا بہتر ہے، مگر باہر نکلتے ہی ملکی حالات دیکھ کر حقیقت آشکار ہو جاتی۔ اُس وقت بھی وہ اِس قدر ناتواں تھا کہ اصل بات جان کر جانبر نہ رہ پاتا۔ لہٰذا طے پایا کہ یہیں ٹکے رہیں۔

پیرس کے محاصرے کے پہلے دن میں مریض کی عیادت کرنے گیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اُس وقت سخت فکر مند تھا۔ پیرس کے دروازے بند کر دیے گئے تھے۔ شہر کی فصیل کے نیچے جنگ چھڑ چکی تھی۔ ہمارے محلے ہماری سرحدوں میں بدل گئے تھے، یہ سوچ کر میرا دِل خون کے آنسو رو رہا تھا، اور ہر شخص اسی شدید کرب میں مبتلا تھا۔

وہاں جا کر دیکھا کہ کرنل نہایت مسرور اور فخر سے لبریز ہے۔ اُس نے کہا: ’’تو محاصرہ شروع ہو گیا ہے!‘‘

میں حیرت سے اُس کا منہ تکنے لگا۔ پھر پوچھا: ’’آپ کو کیسے معلوم ہوا، کرنل؟‘‘

اُس کی پوتی نے میری طرف مڑ کر کہا: ’’جی ہاں ڈاکٹر، یہی تو آج کی بڑی خبر ہے۔ ہماری فوج نے برلن کا محاصرہ کر لیا ہے۔‘‘ سلائی میں مگن اُس لڑکی نے جس متانت سے یہ کہا تھا، بوڑھے کو کسی بات کا شک کیسے ہو سکتا تھا؟ اُس نے توپوں کی آوازیں نہیں سنیں؛ پیرس کی وہ سوگوار فضا اور اُجڑی ہوئی حالت بھی نہیں دیکھی۔ وہ اپنی خواب گاہ میں لیٹے لیٹے جو کچھ دیکھ رہا تھا، اُس کے وہم کی تقویت کے لیے وہی کافی تھا۔ کھڑکی سے باہر ’محرابِ فتح‘ تھی اور کمرے میں نپولین اوّل کے عہد کی قدیم اشیاء کا نادر ذخیرہ تھا۔ جس میں فرانسیسی سپہ سالاروں کی تصاویر، شاہِ رُوم کی ایام طفولیت کی تصویر، شاہی تبرکات، جنگی نقشے، کانسی کے مجسمے اور شیشے کے غلاف میں بند جزیرہ ’سینٹ ہیلینا‘ (جہاں نپولین نے ایامِ اسیری گزارے تھے) کا ایک پتھر موجود تھا۔ آہ! وہ سادہ لوح کرنل! ہم چاہے کچھ بھی کہتے، نپولین کی فتوحات کی نشانیوں کے سحر میں جکڑے، اُس نے سچے دِل سے یقین کر لیا تھا کہ فرانسیسی فوج نے برلن کا محاصرہ کر لیا ہے۔

اُس دن سے جنگ کے بارے میں ہماری گفتگو آسان ہو گئی۔ اب صرف برلن کی تسخیر کے لیے صبر کرنا تھا۔ جب کبھی بوڑھا زیادہ بیزار ہونے لگتا، ہم اُسے اُس کے بیٹے کا خط پڑھ کر سناتے، ظاہر ہے وہ ایک فرضی خط ہوتا، کیونکہ اُس وقت پیرس میں کسی بھی چیز کے داخلے کی اجازت نہ تھی۔ اور سیڈان کے معرکے کے بعد سے میک میہن کا وہ معتمدِ خاص ایک جرمن قلعے میں قید تھا۔ آپ اُس بیچاری بچی کی اذیت کا اندازہ کر سکتے ہیں، اُسے اپنے باپ کی کوئی خبر نہیں مل رہی تھی؛ وہ جانتی تھی کہ باپ جنگی قیدی ہے، آرام و آسائش سے محروم، اور شاید بیمار بھی! مگر اُسے یوں ظاہر کرنا پڑتا جیسے وہ خوشی بھرے خط لکھ رہا ہو۔ ویسے ہی خط جیسے محاذِ جنگ پر موجود فاتح سپاہی لکھتا ہے۔ اسی کی زبان سے مختصر خطوط کی صورت میں یہ جھوٹ بولنا پڑ رہا تھا کہ وہ مقبوضہ ملک میں فتوحات کے جھنڈے گاڑتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔

کبھی کبھی جب مریض زیادہ نحیف ہو جاتا تو نئی خبر آنے میں کئی ہفتے بیت جاتے۔ پھر جب وہ سخت بے چین ہوتا اور اُسے نیند نہ آتی، تبھی اچانک جرمنی سے بیٹے کا خط موصول ہوتا؛ وہ لڑکی اپنے دادا کے سرہانے بیٹھ کر، اپنے آنسوؤں کو ضبط کئے، نہایت مسرت اور ہشاش بشاش انداز میں وہ خط پڑھ کر سناتی۔ کرنل بڑے انہماک سے سنتا، اور فخریہ انداز میں مسکراتا۔ کبھی خط کے کسی نکتے کی تائید کرتا، کبھی کوئی غلطی نکالتا اور کبھی تبصرہ فرماتا۔ اُس کا سب سے نمایاں وصف تب ظاہر ہوتا جب وہ اپنے بیٹے کو جوابی خط لکھواتا۔ وہ لکھواتا: ’’یہ کبھی مت بھولنا کہ تم ایک فرانسیسی ہو، ان بدقسمت جرمنوں کے ساتھ ہمیشہ فراخدلی کا مظاہرہ کرنا! یہ یلغار اُن پر زیادہ گراں نہ ہو۔‘‘ اور نصیحتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہوتا؛ املاک کا تحفظ اور خواتین کے ساتھ شائستگی، الغرض کہ بوڑھے نے فاتح کے طرزِ عمل کے لیے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کر رکھا تھا۔ وہ اِن خطوط میں سیاسی امور پر بھی کچھ عمومی رائے کا اظہار کرتا۔ مفتوح قوم پر صلح کی کیا شرائط عائد ہوں گی، یہ سب باتیں بھی درج ہوتیں۔ یہ ماننا پڑے گا کہ بوڑھے نے غنیم سے کبھی غیر ضروری مطالبات نہیں کیے۔ اِس معاملے میں وہ زیادہ سخت گیر نہ تھا۔ اُس نے لکھوایا: ’’جنگ کا تاوان صرف مالی جرمانہ ہے، اِس کے سوا کچھ نہیں؛ کسی ملک پر قبضہ کر لینے سے کوئی فائدہ نہیں۔ کیا جرمنی کو کبھی کوئی فرانس بنا سکتا ہے؟‘‘

وہ یہ سب پُرعزم لہجے میں املاء کرواتا۔ اُس کے الفاظ اِس قدر سچائی اور حُب الوطنی کے جذبے سے معمور ہوتے کہ انہیں سن کر متاثر ہوئے بغیر رہنا ناممکن تھا۔

اسی دوران محاصرہ طول پکڑتا گیا، مگر ہائے! یہ برلن کا محاصرہ نہ تھا۔ یہ شدید سردی، گولہ باری، وبائی امراض اور قحط کے عروج کا زمانہ تھا۔ پیرس کی حالت ناگفتہ بہ ہو چکی تھی۔ مگر ہماری تگ و دو اور انتھک خدمت کےباعث بوڑھے کے سکون میں ایک لمحے کے لیے بھی خلل نہ آیا۔ آخری وقت تک میں نے اُس کے لیے، صرف اُس کے لیے، سفید آٹے کی ڈبل روٹی اور تازہ گوشت کا انتظام کیا۔ بوڑھے کا صبح کا ناشتہ بڑا رقت آمیز ہوتا۔ اندازه کیجئے وہ کتنی معصومانہ خود غرضی پر مبنی ہوتا ہو گا؟ کرنل کے چہرے پر تازگی اور مسکراہٹ ہوتی۔ وہ بستر پر اُٹھ کر بیٹھتا، ٹھوڑی کے نیچے ایک بڑا رومال بندھا ہوتا۔ بستر کے پہلو میں اُس کی پوتی، جو فاقہ کشی اور بھوک سے پیلی پڑ چکی تھی، اپنے دادا کا ہاتھ تھام کر نوالہ اُس کے منہ تک لے جاتی اور وہ تمام لذیذ اشیاء کھانے میں اس کی مدد کرتی جو عدم دستیابی کے باعث عام لوگوں کے لیے ممنوع تھیں۔

کھانے پینے کے بعد طبیعت کچھ بحال ہوتی تو وہ اپنے گرم کمرے میں استراحت فرماتا۔ کھڑکیوں کے باہر برف روئی کے گالوں کی طرح اُڑتی۔ بند دروازوں کے پیچھے سرد ہوا سیٹیاں بجا رہی ہوتی۔ ایسے وقت میں وہ شمالی یورپ کی اپنی مہمات کو یاد کرتا۔ اُسے جنگی قصے سنانا پسند تھا۔ اور ہمیں وہ سوویں بار روس کی ہولناک پسپائی کا حال سناتا، جہاں ان کے پاس کھانے کے لیے جمے ہوئے بسکٹوں اور گھوڑے کے گوشت کے سوا کچھ نہ تھا۔

’’ننھی، کیا تم سمجھ سکتی ہو؟ ہم لوگ گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے!‘‘

مجھے لگتا تھا کہ لڑکی بخوبی سمجھ رہی تھی، کیونکہ پچھلے دو ماہ سے اُس نے بھی اِس کے سوا کچھ نہ چکھا تھا۔

وہ جیسے جیسے صحت یاب ہونے لگا، ہمارا کام بھی روز بروز مشکل ہوتا گیا۔ کرنل کے حواس کا خمول اور اعضاء کا وہ سکتہ، جس کے سبب ہمیں کچھ سہولت تھی، تدریجاً ختم ہونے لگا۔ اسی دوران، دو بار ’مایو پھاٹک‘ کی توپوں کی ہولناک آواز سے وہ چونک اُٹھا اور جنگی گھوڑے کی طرح کان کھڑے کر لیے۔ مجبوراً ہمیں ایک اور قصہ گھڑنا پڑا؛ ہم نے اُس سے کہا کہ ہماری ایک عظیم فتح کے اعزاز میں توپوں کی سلامی دی گئی ہے۔ ایک اور دن، شاید جمعرات کے دن جب اُس کا پلنگ کھڑکی کے قریب کیا گیا، اُس وقت ’نیشنل گارڈ‘ کا ایک دستہ سامنے میدان میں جمع ہو رہا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ وہ انہیں دیکھ کر کڑھ رہا ہے۔ اُس نے پوچھا: ’’یہ کس دستے کے سپاہی ہیں؟‘‘ پھر ہم نے اُسے بڑبڑاتے ہوئے سنا، ’’اِن کی قواعد بالکل ناقص ہے، بہت بُری، بہت ہی بُری!‘‘

بس اِتنا ہی؛ مگر ہم سمجھ گئے کہ اب ہمیں بہت محتاط رہنا ہو گا۔ لیکن بدقسمتی سے ہم خاطر خواہ احتیاط نہ کر سکے۔

ایک رات جب میں وہاں پہنچا، لڑکی سخت پریشان تھی۔ اُس نے کہا: ’’وہ کل شہر میں داخل ہونے والے ہیں۔‘‘

کیا اُس وقت دادا کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا؟ اب مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ رات بھر اُس کے چہرے پر ایک غیر معمولی تاثر رہا تھا۔ غالباً اُسے ہماری باتوں کی بھنک پڑ گئی تھی۔ ہم جرمنوں کا ذکر کر رہے تھے، مگر وہ سمجھ رہا تھا کہ ہم فرانسیسیوں کی بات کر رہے ہیں۔ اتنے برسوں سے جس گھڑی کا وہ منتظر تھا؛ کہ سپہ سالار میک میہن پھولوں کی بارش میں، بگل کی صداؤں کے ساتھ شہر میں داخل ہو رہے ہیں، اور اُس کا بیٹا اُن کے پہلو میں گھوڑے پر سوار آ رہا ہے، یہ سب وہ کل دیکھ پائے گا، اِس خیال سے اُس نے اپنی کرنل کی وردی پہن کر، بارود کے دھوئیں سے میلے پڑ چکے جنگی پرچم کو سلامی دینے کے لیے بالکونی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

بیچارہ بوڑھا ژوو! اُسے یقیناً گمان تھا کہ ہم یہ سب دیکھنے سے روکیں گے، کہ کہیں جذباتی لمحوں میں دِل کا ہیجان اُس کے لیے نقصان دہ ثابت نہ ہو۔ چنانچہ اُس نے اپنی دِلی خواہش ہم پر ظاہر نہ ہونے دی۔ لیکن اگلے دن جب ’ٹیولریز‘ تک جانے والی شاہراہ پر جرمن فوج احتیاط کے ساتھ پیش قدمی کر رہی تھی، عین اسی وقت دھیرے سے کھڑکی کا دریچہ کھلا، اور بوڑھا کرنل بالکونی میں نمودار ہوا، سر پر ٹوپی پہنے، کمر سے تلوار لٹکائے، وہ شہسوار دستے کی شاندار وردی میں ملبوس تھا!

میں اب بھی حیران ہوں کہ اُس ناتوانی میں فوجی وردی پہن کر کھڑے ہونے کے لیے اُسے کس قدر قوتِ ارادی صرف کرنا پڑی ہوگی، کیسے ایک اچانک اور ہولناک ہیجان نے اُسے متحرک کر دیا ہو گا؟ مگر وہ حیران تھا کہ سڑک اِس قدر سنسان کیوں ہے، مکانات کی کھڑکیاں کیوں بند ہیں؛ پیرس جیسے کوڑھیوں کا کوئی ہسپتال ہو؛ ہر طرف جھنڈے تو لگے ہیں مگر کتنے عجیب جھنڈے؛ اجنبی، سفید جھنڈوں پر چھوٹی سرخ صلیبیں تھیں۔ اور کوئی بھی اپنے سپاہیوں کے استقبال کے لیے موجود کیوں نہ تھا!

ایک لمحے کے لیے اُسے لگا کہ شاید اُس سے کوئی بھول ہوئی ہے، مگر نہیں! اُدھر ’محرابِ فتح‘ کے پیچھے سے ایک مبہم سا شور اُٹھا۔ طلوع ہوتے سورج کی روشنی میں ایک سیاہ لکیر سی نمودار ہوئی، پھر رفتہ رفتہ آہنی ٹوپ چمک اُٹھے، بھاری قدموں کی منظم چال کے ساتھ تلواریں کھنک گئیں۔ ڈھول بجنے شروع ہوئے اور بعد ازاں شوبرٹ کی بنائی ہوئی دُھن میں جرمن ’فتح کا ترانہ‘ گونج اُٹھا!

تب اُس چوراہے کی مردنی چھائی خاموشی میں ایک چیخ بلند ہوئی، ایک لرزہ خیز چیخ:

’’ہتھیار اُٹھاؤ! ہتھیار اُٹھاؤ!! جرمن آ گئے!!!‘‘

ہراول دستے کے اُن چار جرمن شہسواروں نے اوپر بالکنی میں ایک طویل القامت بوڑھے کو بازو لہراتے ہوئے دیکھا، جو پھر  لڑکھڑایا، اور بالآخر گر پڑا۔

اِس بار کرنل ژوو واقعی مر گیا تھا۔

Title in English:

THE SIEGE OF BERLIN by Alphonse Daudet

***

 

مصنف کا تعارف

 

الفانسو دودے

 

 الفانسو دودے، 13مئی 1840 کو فرانس کے شہر نیمز میں ایک متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد وِنسنٹ دودے، ریشم بُنتے تھے اور زندگی بھر مالی مشکلات سے نبرد آزما رہے۔ دودے کا بچپن تنگ دستی اور محرومیوں میں گزرا۔  تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ بطور استاد کام کیا، پھر 1857 میں وہ اپنے بھائی ارنسٹ کے پاس پیرس منتقل ہو گئے اور وہیں سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ انہوں نے شاعری، ناول، کہانیاں، ڈرامے اور یادداشتوں سمیت تقریباً دو درجن کتابیں لکھیں۔

وہ حقیقت نگاری اور انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی کے لیے مشہور ہیں۔ امید و بیم کی کشمکش میں مبتلا اپنے کرداروں کو وہ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ حقیقی محسوس ہوتے ہیں۔ اپنی زبان اور قومی ثقافت کی قدر و قیمت کے حوالے سے لکھی گئی ان کی کہانی ’آخری سبق‘ عالمی ادب کا شاہکار ہے۔ اسی طرح حُب الوطنی اور قومی وقار کے معاملے پر لکھی ان کی یہ کہانی ’محاصرۂ برلن‘ بھی ایک یادگار تحریر ہے۔ انیسویں صدی کے فرانسیسی ادب میں اہم اور مؤثر ادیب کے طور پر تسلیم کیے جانے والے الفانسو دودے 16 دسمبر 1897 کو پیرس میں فوت ہوئے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)