Posts

افسانہ نمبر 704 : کام، تحریر : اورحان کمال (ترکی)، ترکی سے اردو ترجمہ : کرنل (ر) مسعود اختر شیخ

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 704 : کام تحریر : اورحان کمال (ترکی) ترکی سے اردو ترجمہ : کرنل (ر) مسعود اختر شیخ   ایک روز کیمسٹری کے پیریڈ میں دروازہ بڑے زور سے کھٹکا۔ بڑا سخت ہاتھ تھا کھٹکھٹانے والے کا۔ یوں کہہ لیجئے کہ کسی بھی ڈکٹیٹر کا ہاتھ ہو سکتا تھا۔ نہایت کروفر والے ایک صاحب اندر داخل ہوئے ۔ ان کا جثہ دروازے پر دستک کے عین مطابق دکھائی دیتا تھا۔ کیمسٹری کے ٹیچر سمیت پوری کلاس یہی سمجھی کہ یہ سکولوں کے انسپکٹر صاحب ہیں۔ لاجوردی رنگ کا سوٹ، کلف لگا ہوا کالر، بالوں پر کریم لگی ہوئی ، ہاتھوں پر دستانے ، وغیرہ وغیرہ۔ ٹیچر نے زور سے کہا: "کلاس، ہوشیار!" پوری کلاس کھڑی ہو گئی ۔ کروفر والی شخصیت نے بڑی متانت سے کلاس کی طرف منہ پھیر کر ایک تجربہ کار سکول انسپکٹر کی طرح ہاتھ کے اشارے سے طلباء کو بیٹھ جانے کا کہا اور پھر ٹیچر سے اپنا تعارف کرایا: "آپ کا یہ بندہ ایک اور سکول سے ٹرانسفر ہو کر یہاں آیا ہے جناب !" ساری کلاس کو، خاص طور پر ٹیچر کو یخ کر دینے والا صدمہ ہوا۔ تو گویا یہ حضرت، یہ حضور اعلیٰ ، یہ سکول انسپکٹر کے بھیس می...

افسانہ نمبر 702 : سیاہ عقاب کی گمشدگی، تحریر : اوہنری (امریکہ)، مترجم : فیروز عالم (امریکہ)

Image
  افسانہ نمبر   702 :   سیاہ عقاب کی گمشدگی تحریر : اوہنری (امریکہ) مترجم : فیروز عالم (امریکہ)   کچھ سال پہلے ایک خوف ناک ڈا کو جو سیاہ عقاب کے نام سے مشہور تھا، نے ٹیکساس اور میکسیکو کے سرحدی علاقے میں دہشت پھیلائی ہوئی تھی۔ اس کی دہشت نا کی ، سفا کی اور قتل و غارت گری کی کہانیاں گاؤں گاؤں مشہور تھیں ۔ پھر ایسا ہوا کہ اچانک چند لمحوں میں وہ ایسا غائب ہوا جیسے اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ پھر کسی کو نہ وہ نظر آیا نہ ہی کسی نے اس کے متعلق کچھ سنا۔ اسکے اپنے گروہ کو بھی اس معمہ کا کوئی سراہاتھ میں نہیں آیا لیکن اسکے باوجو د سرحدی آبادیوں کو     مستقل اس خطرے نے گھیرے رکھا کہ وہ کسی بھی لمحے پھر نمودار ہو کر ان پر تباہی لاسکتا ہے۔ مگر مجھے معلوم ہے اب وہ کبھی واپس نہیں آئیگا۔ یہ کہانی میں اسی لئے لکھ رہا ہوں تا کہ اس پر سرار کہانی کا انجام لوگوں تک پہنچاؤں ۔ یہ کہانی میں نے اس گاؤں کے چھوٹے سے شراب خانے کے بار ٹینڈر سے سنی تھی۔ اسکا اصلی نام تو شاید کچھ اور تھا مگر لوگ اسے مرغا کہتے تھے۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ اسکی ناک بیحد پتلی اور نوک دار تھی اور...

افسانہ نمبر 692 : تاریکی میں ملاقات , تحریر : گوگی وا تھیانگو (کینیا), اردو ترجمہ: جاوید بسام (کراچی)

Image
  افسانہ نمبر 692 : تاریکی میں ملاقات   تحریر : گوگی وا تھیانگو (کینیا) اردو ترجمہ: جاوید بسام (کراچی)   وہ دہلیز پر کھڑا تھا کہ اس نے اپنے بوڑھے، کمزور، لیکن ہر دم مستعد باپ کو آتے دیکھا۔ وہ گلی میں ایک میلا سوتی کپڑے کا تھیلا جھلاتے ہوئے جھونپڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ یہ تھیلا وہ ہر جگہ اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔ جان کو معلوم تھا کہ اس میں کیا ہوگا۔ مقدس بائبل، ایک حمد کی کتاب، شاید ایک نوٹ بک اور ایک قلم۔ اس کے والد ایک مبلغ تھے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ انہوں نے بیوی کو کہانیاں سنانے سے منع کردیا تھا۔ یہ بہت سال پہلے کی بات ہے۔ ماں نے کہا: ”اب مجھ سے کہانی کی فرمائش مت کرنا، ورنہ تمہارے والد ناراض ہوں گے۔“ وہ اس سے بہت ڈرتی تھی۔   جان، جھونپڑی میں داخل ہوا اور ماں کو خبردار کیا کہ بابا آرہے ہیں۔ جب وہ اندر آیا تو جان خاموشی سے ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ پہلے دہلیز پر ہچکچاتا رہا پھر باہر چلا گیا۔   ” جان!... اے جان !“ ” جی بابا؟ “ ” یہاں آؤ !“ وہ پلٹا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس میں وسوسے پیدا ہو رہے تھے کہ کیا راز فاش ہوگیا ہے؟ ” بیٹھ جاؤ۔ تم کہاں ...