افسانہ نمبر 702 : سیاہ عقاب کی گمشدگی، تحریر : اوہنری (امریکہ)، مترجم : فیروز عالم (امریکہ)
افسانہ نمبر 702 : سیاہ عقاب کی گمشدگی
تحریر : اوہنری (امریکہ)
مترجم : فیروز عالم
(امریکہ)
کچھ سال پہلے ایک خوف ناک ڈا کو جو سیاہ عقاب کے نام سے
مشہور تھا، نے ٹیکساس اور میکسیکو کے سرحدی علاقے میں دہشت پھیلائی ہوئی تھی۔ اس
کی دہشت نا کی ، سفا کی اور قتل و غارت گری کی کہانیاں گاؤں گاؤں مشہور تھیں ۔ پھر
ایسا ہوا کہ اچانک چند لمحوں میں وہ ایسا غائب ہوا جیسے اسے زمین نگل گئی یا آسمان
کھا گیا۔ پھر کسی کو نہ وہ نظر آیا نہ ہی کسی نے اس کے متعلق کچھ سنا۔ اسکے اپنے
گروہ کو بھی اس معمہ کا کوئی سراہاتھ میں نہیں آیا لیکن اسکے باوجو د سرحدی
آبادیوں کو مستقل اس خطرے نے گھیرے رکھا کہ وہ کسی بھی لمحے
پھر نمودار ہو کر ان پر تباہی لاسکتا ہے۔ مگر مجھے معلوم ہے اب وہ کبھی واپس نہیں
آئیگا۔ یہ کہانی میں اسی لئے لکھ رہا ہوں تا کہ اس پر سرار کہانی کا انجام لوگوں
تک پہنچاؤں ۔ یہ کہانی میں نے اس گاؤں کے چھوٹے سے شراب خانے کے بار ٹینڈر سے سنی
تھی۔ اسکا اصلی نام تو شاید کچھ اور تھا مگر لوگ اسے مرغا کہتے تھے۔ اسکی وجہ یہ
تھی کہ اسکی ناک بیحد پتلی اور نوک دار تھی اور وہ کھاتے ہوئے رکابی پر اسقدر جھک
جاتا تھا جیسے کہ وہ مرغے کی طرح دانہ چگ رہا ہو۔ پھر اسکی آنکھیں بھی گول گول تھی
جنہیں وہ ادھر ادھر گھماتا رہتا تھا۔ وہ"ہو بو" تھا۔ یعنی بچپن میں اپنے
شرابی باپ کی مار سے اکتا کر وہ گھر سے بھاگ نکلا تھا اور اس نے اپنی نو جوانی کا
زیادہ وقت مال گاڑیوں کی مفت سواریوں میں گزارا تھا۔ چھوٹے چھوٹے دیہاتی اسٹیشنوں
سے گزرتی ہوئی یہ گاڑیاں اس میں ایک عجب رومانوی احساس جگاتی تھیں ۔ وہ بھاگ کر
کسی ڈبے میں سوار ہو جاتا اور بغیر کسی مقصد کے ادھر سے ادھر گھومتا پھرتا ۔ ان
ڈبوں کے فرش پر بکھری ہوئی گھاس پھوس اسے محمل کے گدوں سے زیادہ پیاری لگتی تھی۔
پھر اس گھاس سے اٹھنے والی خوشبو ا سے بڑی مرغوب تھی اور اس میں اس کے لئے ایک
انجانی اپنائیت پوشیدہ تھی۔ وہ ان پر لیٹ کر سو جاتا اور جب کبھی آنکھ کھلتی کسی
دوسری گاڑی میں سوار ہو جاتا۔ اسٹیشن پر بنی کینٹین کوئی
اسے روٹی اور پنیر کے کچھ ٹکڑے دے دیتا اور کبھی کبھی کوئی اسے سستی شراب کا ایک مگ
تھما دیتا جو اس کے لئے بہت بڑی عیاشی ہوتی ۔ ریلوے کا عملہ بھی اس طبقے سے واقف
تھا اور اس بات کو قبول کر لیا گیا تھا کہ یہی انکا طرز زندگی ہے اور معاشرے کی یہ
سماجی ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کو سہارا دیا جائے۔
اس
شراب خانے میں پیٹ بھر کے کھانا کھانے اور بیئر کا گلاس پینے کے بعد جب اسکی روح
میں ایک بالیدگی کا احساس جاگا تھا عین اسی وقت ریلوے یارڈ سے ایک مال گاڑی ایک
جغادری انجن کے ساتھ ٹیکساس کے جنوبی علاقوں کی جانب جانے کے لئے اس کے سامنے
رینگتی ہوئی گزری ابھی تک اسکی رفتار آہستہ تھی مرغے نے بھاگ کر اسکا ڈنڈا پکڑا اور چھلانگ لگا کر غپ سے ڈبے کے اندر
کود گیا ۔ مرغے کے لئے نرم گھاس پھوس کا بستر پہلے ہی تیار تھا اور اس پر خوش
قسمتی یہ تھی کہ شاید پہلے سوار ہونے والا ہو ہو اپنی بچی ہوئی شراب کی آدھی بوتل
اور ایک سینڈوچ چھوڑ گیا تھا۔ مرغے نے پیٹ بھرا ہونے کے باوجود پہلے سینڈوچ پر
ہاتھ صاف کیا اور اس کے بعد غٹاغٹ شراب کی بوتل کو منہ سے لگا کر ایک ہی گھونٹ میں
خالی کر دیا۔ اب اسے ایسا لگا کہ یہ مال گاڑی کا ڈبہ صرف اس کے لئے بنائی گئی
سیلون ہے اپنے گھاس پر پیر پھیلائے اور چند منٹ میں خراٹے بھر نے لگا ۔ جب وہ جاگا
تو گاڑی ٹیکساس کے مویشی پالنے والے وسیع و عریض کھیتوں اور فارمز سے گذر رہی تھی۔
اسے اندازہ ہوا کہ وہ کئی سو میل آچکا ہے اور شاید قسمت اچھی ہو کہ وہ مشہور شہر
سان انٹونیو پہنچ جائے ۔ اس نے سن رکھا
تھا کہ سان انٹونیو ایک با رونق اور خوشحال شہر ہے جہاں ۔ بارٹینڈر فراخ دل ہیں
اور ہو بو کو ایک سینڈوچ اور شراب کا ادھا دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ رات
کے وقت شہر کے چوک جاگ اٹھتے ہیں اور ہسپانوی جپسی لڑکیاں ہاتھ میں رباب لیکر رقص
کرتی ہیں۔ پھر موسم اتنا اچھا ہے کہ سردیوں میں کھلے آسمان کے نیچے سویا جا سکتا
ہے۔
اسی
سوچ میں اس پر ایک بار پھر غنودی طاری ہو گئی اور وہ گہری نیند سو گیا۔ گاڑی
ہچکولے کھاتی پٹری پر چلتی رہی اور ایک پل پار کر کے سان انٹونیو کے مال گاڑی یارڈ
میں رکی ، وہاں کچھ سامان اتارا گیا اور وہ پھر مزید جنوبی علاقے کی
جانب رواں ہو گئی جو بے حد ویران اور امریکا کی جنوبی سرحد کی طرف جاتا ہے۔ ایک
چھوٹے سے شہر لا ریڈو پر جس کے بعد میکسیکو کا علاقہ غیر شروع ہو جاتا ہے ، کچھ
دیر رک کر آخری پڑاؤ کے لئے مال گاڑی بہت دور یارڈ میں شہر گئی جہاں اسے کئی دن ٹہر
نا تھا۔ جب مرغے کی آنکھ کھلی تو اسے احساس ہوا کہ گاڑی رک چکی ہے۔ اس نے جھریوں
سے باہر جھانکا۔ اس نے دیکھا کہ تین ڈبے جن میں سے ایک میں وہ سوار تھا گاڑی سے
کاٹ کر ایک دور دراز سائڈ لائین پر کھڑے کر دئے گئے ہیں اور دور دور تک جنگل یا
ریت کے تو دے اور چھوٹی موٹی بنجر پہاڑیاں ہیں جن پر چاندنی پھیلی ہوئی ہے۔ گہرا
سناٹا تھا۔ اس نے گھبرا کر گاڑی کی دیواروں کو پیٹا مگر کسی طرف سے کوئی جواب نہیں
آیا اس نے قریب لگے کچھ بورڈ پڑھے جس سے اسے معلوم ہوا وہ لا ریڈیو سے بھی کچھ میل
دور ایک جنگل میں ہے، اسے یہ تو معلوم تھا کہ لا ریڈیو سے قریب ترین آبادی بھی ایک
سو میل ہے۔ وہ سوتے ہوئے سان انٹونیو کو پیچھے چھوڑ آیا ہے۔
دور
دور تک صرف خودرو جھاڑیاں تھیں یا چھوٹے موٹے پتھر یلے ٹیلے۔ وہ اپنی زندگی میں
بہت تکلیف دہ اور صبر آزما حالات سے گذرا تھا مگر اس لمحے اس پر جو تنہائی اور بے
بسی کا عالم طاری ہوا وہ نا قابل بیان تھا وہ ابھی اس کیفیت سے گذر ہی رہا تھا کہ
اس نے قریب ہی کسی گھوڑے کی ہلکی سی ہنہنانے کی آواز سنی۔ اس سے اس پر مزید خوف
طاری ہو گیا۔ اس جنگل میں جہاں دور دور کسی ذی نفس کا امکان نہیں تھا گھوڑے کی
ہنہناہٹ نے ماحول کی پر اسراریت میں مزید اضافہ کر دیا۔ وہ اپنے ڈبے سے اترا اور
بہت احتیاط سے زمین پر پیر رکھتے ہوئے ، کہ اسے خوف تھا کہ اس جگہ سانپ ، بچھو،
ریگستانی چو ہے ، گھر کٹ اور نہ جانے کیسی کیسی مخلوقات ہونگی ، اس طرف چلا جہاں
سے یہ آواز آئی تھی۔ کوئی پچاس گز دور سے ایک گھوڑا جس کی لگام اس کے پیچھے گھسٹتی
آرہی تھی نظر آیا۔ ریگستان میں یقینا ایسی کئی جنگلی مخلوقات تھیں جن سے اسے خوف
آسکتا تھا مگر گھوڑ ان میں سےنہیں تھا کیونکہ وہ تو بچپن میں پلا ہی فارم پر تھا
جہاں اس نے گھوڑوں کو سدھانا ، ان کا خیال رکھنا اور ان پر سواری سیکھی تھی۔ اس نے
بہت آہستگی ، بہت خاموشی کے ساتھ گھوڑے کی طرف بڑھنا شروع کیا اس کے ساتھ اس نے دھیرے
دھیرے اور ہولے ہولے اسے چپکارنا شروع کیا۔ گھوڑا پہلے تو اس کی موجودگی سے چونکا
مگر پھر مرغے کے پیار بھرے سلوک سے اس سے مانوس ہونے لگا چند ہی منٹ میں مرغا
چھلانگ لگا کر گھوڑے کی پیٹھ پر سوار تھا۔ اسنے لگام سنبھالی مگر گھوڑے کو کسی طرف
چلنے کے بجائے اس کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ اس کا خیال تھا کہ گھوڑا خود ہی اسے کسی
ایسی آبادی کی طرف لے جائیگا جس سے وہ واقف ہے۔
گھوڑا
پہلے آہستہ آہستہ چلتا رہا پھر خود ہی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان سے نکلتا ایک
کچی پگڈنڈی پر ہو لیا اور ہلکے ہلکے دوڑنے لگا۔ کوئی بیس منٹ بعد وہ پیڑوں کے ایک
جھنڈ کے نزدیک پہنچ گیا۔ یہاں مویشیوں کا ایک باڑہ تھا، کونے میں ایک بیلوں کا
پرانا چھکڑا کھڑا تھا، قریب ہی ایک بڑے سے زنگ آلود ناند میں پانی بھرا تھا اور
سامنے ایک میکسیکن طرز کا چھوٹا سا رانچ ہاؤس تھا۔ مرغا گھوڑے سے اترا اور گھوڑے
کو قریبی درخت سے باندھ دیا۔ اس نے ”ہیلو۔۔ ہیلو کی چند آوازیں لگا ئیں مگر اسے
کوئی جواب نہیں ملا ، دور دور تک سناٹا تھا۔ عمارت کا دروازہ آدھا کھلا تھا۔ اس نے
اندازہ لگا لیا کہ مکان خالی ہے۔ کھڑکیوں سے چاند کی روشنی اندر آ رہی تھی۔ داخلی
ہال میں میز پر ایک لیمپ رکھا تھا۔ مرغے نے ماچس جلا کر اس لیمپ کو روشن کیا۔ اس
نے احتیاط سے گھر کا چکر لگایا۔ اس کو معلوم ہوا کہ اس گھر میں کوئی تنہا اور چھڑ
ا فارمر رہتا ہے جس کی زندگی بہت سادہ ہے اور اسکی ضروریات بہت مختصر مگر مرغے کو
یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ کچن میں کا ڈنٹر پر شراب کا ایک جگ رکھا تھا اور ساتھ
ہی کچھ پنیر اور نان کا ایک ٹکڑا بھی۔ وہ تھکا ہوا بھی تھا اور بھوکا بھی اسے یہ
سادہ غذا کسی نعمت سے کم نہیں لگی۔ کچھ آرام کے بعد وہ پھر گھر سے نکلا مگر اب
اسکی جون بدل چکی تھی۔ اس نے مالک مکان کا شکاری لباس پہنا تھا۔ کمر کے گرد ایک
بیلٹ تھا جس میں کیلیں جڑی تھیں، دونوں طرف پستول کے ہولسٹر تھے، اور گھٹنوں تک
چمڑے کے بوٹ پہنے ہوئے تھے۔ سر پر ایک بڑا ہیٹ جو میکسکن زمیندار پہنتے ہیں تھا۔
اسے ایک کونے میں پرانے کمبل، زمین اور رکا بیں بھی مل گئی تھیں اس نے گھوڑے پر
زین کسی رکاب میں پیر ڈالا اور اچھل کر ایک ماہر گھڑ سوار کی طرح اس پر سوار ہو
گیا گھوڑے کو ایڑھ لگائی۔ گھوڑا سرپٹ دوڑنے لگا۔ اس وقت مرغااس قدر مسرور تھا کہ
اس نے گھوڑے پر ہچکولے کھاتے ہوئے ایک لوک گیت چھیڑ دیا۔
اسی
زمانے میں میکسکو اور ٹیکساس کے سرحدی علاقے میں ایک ڈاکو" بڑ کنگ " نے
دہشت پھیلائی ہوئی تھی۔ امریکی حکومت نے رینجرز کے کیپٹن جیفرسن کو ہدایت کی تھی
کہ وہ اس کا قلع قمع کرنے کے لئے اس علاقے میں پہنچے۔ بڑ کنگ جس رانچ پر چھاپہ مار
کر گھوڑوں اور مویشیوں کی چوری کرنا چاہتا تھا کیپٹن جیفرسن کی پلاٹون اس کے راستے
میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھی۔ اگر چہ ماضی میں بڑ کینگ نے امریکی رینجرز سے کئی دفعہ
مقابلہ کیا تھا اور انہیں خون چٹایا تھا مگر اب اسکی ڈھلتی عمر تھی اس کے علاوہ
وقت اور اسکے تجربے نے اسے سکھایا تھا کہ غیر ضروری خطرہ مول نہیں لیا جائے ۔ اس
لئے اس نے فیصلہ کیا کہ راستہ بدل کر کچھ دن ریو گرانڈ دریا کے کنارے ایک نشیبی
وادی میں شہر کر انتظار کیا جائے کچھ دنوں بعد کیپٹن جیفرسن وہاں سے چلا جائیگا۔
اس کا یہ فیصلہ جنگی حکمت عملی کے لحاظ سے صحیح بھی تھا۔ اس کے علاوہ اسکی جرأت،
بہادری اور جانبازی کی درجنوں مثالیں موجود تھیں مگر اس دفعہ اس فیصلے نے ان کے
گروہ میں اختلافات پیدا کر دئے نیا خون چاہتا تھا کہ اب قیادت میں تبدیلی ہونی
چاہئے ۔ انکا خیال تھا کہ سیاہ عقاب اب انکی زیادہ جرتمندی اور بے جگری سے قیادت
کر سکتا ہے جس سے گروہ کی آمدنی اور لوٹ میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
سیاہ
عقاب ان کے گروہ میں صرف تین مہینے پہلے ہی شامل ہوا تھا۔ ایک رات جب انکا کے گروه
سان میکائل کی نشیبی گھاٹی میں پڑاؤ کئے ہوئے تھا اور رات کے وقت الاؤ روشن کر کے
گوشت کے سکے ہوئے پارچوں اور گھٹیا شراب کے مزے لوٹ رہا تھا ایک گھوڑ سوار بڑی
بہادری اور انتہائی خود اعتمادی سے انکے جتھے میں در آیا۔ وہ بہت ہی تنومنڈ گہرے
کتھئی رنگ کے گھوڑے پر نہایت تمکنت سے بیٹھا تھا، لباس شکاریوں والا تھا جس میں
بیلٹ کے ساتھ کارتوسوں کی پٹی اور دونوں جانب پستول لٹکے تھے ۔ اونچے اونچے بوٹ
رکاب میں پیوست تھے ۔ اسکی چیل جیسی خمیدہ ناک اسکی گھنی سیاہ داڑھی اور مونچھوں
پر چھلی تھی اور اسکی عقاب نما گول گول آنکھیں اتنی کالی تھیں اور ان میں ایسی چمک
تھی کہ انہیں دیکھ کر ہی خوف آتا تھا۔ اس زمانے میں ریو گرانڈ کے علاقے میں شاید
ہی کوئی اتنا دلیر ہو کہ وہ بڑ کنگ کے جتھے میں اس طرح بے خوف گھس آنے کی جرأت
کرتا مگر اس نے بے خوف اپنا گھوڑا ایک درخت سے باندھا۔ بھاری بھاری قدم رکھتا وہ
ان کے پاس آیا اور تحکمانہ لہجے میں ان سے کھانے اور شراب کی طلب کی ۔ ان سرحدی
ڈاکوؤں میں بھی کچھ روایات تھیں اور وہ یہ کہ کسی بھی اجنبی کی تواضع سے انکار
نہیں کرتے تھے۔ ان کا اصول تھا کہ اگر وہ ایسے کسی اجنبی پر اپنی پستول کی گولیاں
خارج بھی کرتے تو بھی پہلے اسے اچھی طرح کھلا پلا دیا کرتے تھے۔ اس لئے انہوں نے
ہنسی اور قہقہوں کے درمیان اسکو اپنے ساتھ سکے ہوئے پارچوں
اور شراب میں شامل کر لیا۔ قدرت نے اسے یہ وصف عطا کیا تھا کہ اسکی پستول سے زیادہ
تیز اسکی زبان چلتی تھی۔ الاؤ کے چہار طرف
بیٹھے لٹیروں کا پیٹ بھرا تھا، آگ کی حدت انہیں گرما رہی تھی اور شراب کا نشہ
انہیں کیف و سرور میں ڈبو رہا تھا ایسے میں اس اجنبی کی قصہ گوئی نے انہیں مسحور
کر دیا۔ اسنے انہیں مشیکن کے مرغزاروں ، کولیراڈو کے برف پوش پہاڑوں اور
پینسلوانیا کے گھنے جنگلوں کے ایسے دلفریب قصے سنائے جس سے گروہ کے ارکان پر جیسے
جادو کا اثر ہو گیا اور انہوں نے اس سے کوئی پوچھ گچھ کئے بغیر اسے اپنے گروہ میں
شامل کر لیا۔ ان تین مہینوں میں کوئی کی معرکہ بھی نہیں ہو مگر "سیاہ عقاب"
نے اپنی چرب زبانی سے انہیں قائل کر دیا کہ میکسکو سرحد پر اس سے اچھا کوئی اور
بند وقچی نہیں ہو سکتا اس لئے اب گروہ کے بیشتر لوگ چاہتے تھے کہ جتھے کی قیادت وہ
کرے۔
یہ
حالات تھے جب بڑ کنگ نے کیپٹن جیفرسن سے مقابلے سے بچنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مگر
جتھے میں اپنے خلاف ہونے والے جذبات کا اسے احساس ہو گیا تھا۔ اس نے اپنے خاص
معتمد کیکٹس کو بلایا اور اس سے اس صورت حال پر تبادلہ خیالات کیا۔ بڑ کنگ نے کہا
کہ وہ ریٹائر ہو کر گوشہ نشینی اختیار کرنے اور قیادت سیاہ عقاب کو دینے کے لئے
تیار ہے مگر اسے خوف ہے کہ سیاہ عقاب کی صرف باتیں ہی باتیں ہیں اور ہم نے اسے
کبھی ایسے خونی مقابلے میں جوانمردی دکھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ اسے خوف ہے کہ
سیاہ عقاب کی نا تجربہ کاری اور جوانی کا جوش کہیں اس کے ساتھیوں کے غیر ضروری خوں
ریزی کا سبب نہ بن جائے اور زندہ بچ رہنے والے ارکان کو باقی عمر وفاقی حکومت کے
قید خانے میں نہ گزارنی پڑ جائے ۔ کیکٹس نے یہ سن کر کہا کہ اگر چہ یہ صحیح ہے مگر
وہ اس زور شور سے اپنی جنگجوئی اور دلیری کے قصے
سناتا ہے اور اسکی زبان میں کچھ اتنا زور اور اثر ہے کہ گروہ کے تمام لوگ اس پر نہ
صرف یقین کر لیتے ہیں بلکہ اسی وقت وفاقی رینجرز سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار ہو
جاتے ہیں۔
جس
وقت بڑ کنگ اور کیکٹس یہ باتیں کر رہے تھے اس وقت سیاہ عقاب اپنی باتوں سے الاؤ کے
گرد بیٹھے اپنے ساتھیوں کو جو پہلے ہی شراب کے نشے میں نیم مدہوش تھے سحر زدہ کر
رہا تھا۔ پھر وہ کہنے لگا یہ جو چھوٹی چھوٹی وارداتیں ہیں جہاں ہم چند سستی گائیں
اور مویشی اور بہت ہوا تو چند گھوڑے چوری کر کے معمولی سا نفع کماتے ہیں یہ کوئی
قابل ذکر نہیں بہادری اور عقلمندی تو یہ ہے کہ ایک بڑا ڈا کا مار کر جس میں بہت مال ہاتھ
لگے، کچھ دنوں بلکہ سال بھر آرام کیا جائے ۔ اس نے بتایا کہ اصل میں اب دورا
ایکسپریس ریل گاڑیوں کو لوٹنے کا ہے جن میں ہزروں ڈالر کی رقمیں ٹرانسفر کی جاتی
ہیں۔ اس نے ملک کے چند مشہور ایسے ڈاکوؤں کی مثالیں دیں جو کامیابی سے ریل گاڑیوں
کو لوٹ رہے تھے۔ گروہ فورا اس نئی حکمت عملی پر تیار ہو گیا اور انکا وفد فورا بڈ
کنگ کے پاس پہنچا۔ پھر بھی انہیں ہمت نہیں ہوئی کہ اس سے کھل کر استعفا کا مطالبہ
کرتے کیونکہ اب بھی ان کے دل میں اس کے لئے عزت تھی اور انہیں بڑ کے جذبات کا بھی
احساس تھا مگر بڑ جو کہ جہاں دیدہ تھا سمجھ گیا کہ اب یہ جتھا بڑے فائدے کے لئے
بڑا خطرہ مول لینے کو تیار ہے۔ اس نے خود ہی اس بات کی پیشکش کی کہ وہ سیاہ عقاب
کو قیادت سونپ کر اسکے نائب کے طور پر پہلی مہم میں حصہ لینے کو تیار ہے۔
اب
انہوں نے کئی نقشے اور ٹرینوں کی آمد ورفت کے جدول دیکھے، راستوں اور مختلف
اسٹیشنوں کے جغرافیہ کا مطالعہ کی۔ اس زمانے میں خشک سالی کی وجہ سے امریکا کی
جنوبی سرحدی ریاستوں اور میکسیکو میں کئی ہزار مویشی ہلاک ہو گئے تھے۔ ان علاقوں
میں غذا کی قلت تھی اور منڈیوں کا کاروبارمندی کا شکار تھا اس لیے ایکسپریس گاڑیوں
کے ذریعہ نقدی اور اشرفیوں کی بڑی مقدار کی ترسیل کی جارہی تھی۔ کافی سوچ بچار کے
بعد فیصلہ کیا گیا کہ "اسپینا “ کا اسٹیشن جولا ریڈو سے چالیس میل شمال میں
تھا اس مقصد کے لئے بہترین ہوگا۔ یہاں کے اطراف صرف غیر آباد جنگل تھا اور اسٹیشن
صرف ایک کمرے کے چھوٹی سی عمارت پر مشتمل تھا جہاں ریلوے کا صرف ایک اکیلا ملازم
رہتا تھا۔ ٹرین یہاں صرف ایک منٹ کے لئے رکتی تھی۔ سیاہ عقاب کا جتھا ایک رات پہلے
اپنے گھوڑوں پر نکلا ، رات بھر سفر کر کے انہوں نے اسپینا کے بالکل قریب جھاڑیوں
میں ڈیرہ ڈال دیا۔ دن پھر خود بھی آرام کیا اور گھوڑوں کو بھی چرنے کے لئے آزاد
چھوڑ دیا۔ گاڑی کو رات دس بج کر پچیس منٹ پر آتا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ گاڑی
کو لوٹ نے کے بعد صبح سے پہلے پہلےمیکسکو کی سرحد پار کر جائینگے ، سیاہ عقاب پر
جوش اور چاق و چو بند تھا اور اپنے انداز سے مکمل طور پر اسکا اظہار کر رہا تھا کہ
وہ اس اعزاز اور ذمہ داری کا بخوبی حقدار ہے جو اس پر ڈالی گئی ہے۔ اس نے اپنے
آدمیوں کو خاص خاص مورچوں پر بٹھا دیا۔ انہیں بار بار ہدایات دیں اور انکی ذمہ
داریاں سمجھائیں۔ راجرز کو اسٹیشن ماسٹر کو گرفت میں لینا تھا، چارلی کو گھوڑوں کے
پاس تیار رہنا تھا تا کہ لوٹ کا مال جلدی سے ان پر لا دا جائے ، جس جگہ انجن کو
رکنا تھا وہاں ایک طرف بڑ کنگ اور دوسری جانب سیاہ عقاب زمین پر لیٹ گئے ۔ ان کا ارادہ
تھا کہ وہ گاڑی رکتے ہی انجن میں گھس کر ڈرائیور اور فائر مین کو قابو کرینگے اور
انہیں مجبور کر کے گاڑی کے پچھلے حصے میں جا کر تجوریاں کھل وائینگے ۔ اس کے بعد
وہ ڈرائیور کے ہاتھ باندھ کر وہیں چھوڑ کر گھوڑوں پر لوٹ کا مال لاد کر فرار ہو
جائینگے۔ اس سے پہلے کہ قانون نافظ کرنے والوں کو خبر ہو وہ سرحد پار کر چکے ہونگے
۔ یہ منصوبہ کسی بھی نقص سے پاک تھا اور اس کے ناکام ہونے کا کوئی بھی امکان نہیں
تھا۔
گاڑی
کے آنے سے دس منٹ پہلے ہر فرد اپنی جگہ پر تیار اور چاق و چوبند تھا۔ سیاہ عقاب بے
چینی سے ٹہل رہا تھا اور وہ ایک چیل کی طرح جھپٹا مارنے کو تیار تھا۔ ٹہلتے ٹہلتے
کبھی کبھی وہ اپنی کمر سے بندھی بوتل کھول کر شراب کے چند گھونٹ بھرتا اور پھر
ریلوے لائین پر نظریں جما دیتا۔ تھوڑی ہی دیر میں دور کہیں ایک ننھی سی روشنی ،
جیسے اندھیرے میں ایک تارا چمکا ہو نظر آئی جو قریب آکر انجن کی ہیڈ لائٹ بن گئی
اور اسکے بعد انجن اپنی پوری چنگھاڑ کے ساتھ نمودار ہوا سیاہ عقاب فوراً زمین پر
لیٹ گیا ۔ اب گاڑی پڑی پر ان کے سامنے رینگ رہی تھی مگر یہ کیا ؟ اس کے بجائے کہ
انجن سیاہ عقاب اور بڑ کنگ کے درمیان مقرر جگہ پر رکتا یہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا
گیا اور کوئی پچاس گز دور جا کر ٹہرا۔ سیاہ عقاب کے ساتھی اسکے اشارے یعنی پستول
کی گولی چلنے کا انتطار کر رہے تھے۔ کچھ حیران ہو کر سیاہ عقاب کھڑا ہوا اور گاڑی
کی طرف چلا مگر یہ گاڑی جیسا انہوں نے سوچا تھا کہ مسافر گاڑی ہوگی دراصل مخلوط
گاڑی تھی اور اس میں کچھ مال گاڑیوں کے ڈبے بھی تھے۔ مگر جس چیز نے سیاہ عقاب کی
توجہ اپنی طرف کھینچ لی وہ یہ تھی کہ اس کے بالکل سامنے مال گاڑی کا جوڈ بہ رکا
تھا وہ ایسا ہی تھا جس میں اس نے زندگی بھر بے مقصد ادھر سے ادھر سفر کیا تھا۔ اس
ڈبے کے دروازے بھی نیم وا تھے ۔ اس نے بڑھ کر ان دروازوں کو اور کھول دیا۔ ایک
خوشبو، اسی گھاس کی خوشبو جس سے وہ خوب مانوس تھا ، وہی ہلکی سی نمی ، ویسی ہی
پراسرار ٹھنڈک کایک جھونکا سا آیا جس کے ساتھ ماضی کی بیحد خوشگوار یادوں نے اسے
اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر گھاس کو مٹھی میں لے لیا، اُف یہ تو وہی
گھاس ہے جس پر اسے بڑی میٹھی نیند آتی تھی ۔ اسی وقت انجن نے سیٹی بجائی ، گاڑی
میں ایک جھٹکے کے ساتھ جنبش ہوئی ۔ یہ فیصلے کی گھڑی تھی ابھی گاڑی رینگ ہی رہی
تھی ۔ سیاہ عقاب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک چھلانگ لگائی اور ڈبے کے اندر کود گیا۔
گاڑی کی رفتار اب تیز ہو رہی تھی۔ اسے ایسا لگا وہ واپس گھر آ گیا ہو۔ اس نے کمر
سے پیلٹ کھولی اور پستول سمیت گاڑی کے باہر پھینک دی، پھر اپنے بوٹ، سر پر پہنا
بڑا میکسکن ٹوپ، اور اسکے بعد شکاری جیکٹ اتار کر باہر پھینکے۔ اس نے ڈبے کا
دروازہ بند کیا ، اب گاڑی مزید رفتار پکڑ رہی تھی۔ اس نے پیر پھیلائے اور اس خاص
گھاس پر لیٹ گیا جسکی نرمی اور خوشبو سے وہ محروم ہو گیا تھا۔ اسے لگا کہ مہینوں
بعد کسی نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔ چند ہی منٹ میں وہ گہری نیند کی آغوش میں
چلا گیا۔ حقیقتاً وہ آج پلٹ کر واپس اپنے گھر آگیا تھا۔
حواشی:
HOBO
: امریکا میں بے گھر لوگوں کا ایک خاص طبقہ جو ساری زندگی مال گاڑیوں میں گھومتے
پھرتے گزاردیتے ہیں۔
اصل عنوان: The Passing of Black Eagle
مصنف کا تعارف:
او ہنری ۔ ۔ ویلیم سڈنی پورٹر کا
قلمی نام ہے۔ یہ استمبر ۱۸۷۳ میں نارتھ کیرولینا میں پیدا ہوا تھا اور ۴ جون
۱۹۱۰ کو
نیو یارک میں انتقال کر گیا۔ اس نے زندگی کا ایک بڑا عرصہ امریکی ریاست ٹیکساس میں
گزارا مگر آخری دور میں یہ نیو یارک میں بس گیا تھا ۔ کچھ لوگ اس کو شورٹ سٹوری“ کا
موجد بھی کہتے ہیں۔ اس کی تحریر میں خاص تیکھا پن ہوتا ہے اور یہ کردار نگاری میں خاص
مہارت رکھتا ہے۔

Comments
Post a Comment