افسانہ نمبر 704 : کام، تحریر : اورحان کمال (ترکی)، ترکی سے اردو ترجمہ : کرنل (ر) مسعود اختر شیخ
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 704 : کام
تحریر : اورحان کمال (ترکی)
ترکی سے اردو ترجمہ : کرنل (ر) مسعود اختر شیخ
ایک روز کیمسٹری کے پیریڈ میں دروازہ بڑے زور سے کھٹکا۔
بڑا سخت ہاتھ تھا کھٹکھٹانے والے کا۔ یوں کہہ لیجئے کہ کسی بھی ڈکٹیٹر کا ہاتھ ہو سکتا
تھا۔ نہایت کروفر والے ایک صاحب اندر داخل ہوئے ۔ ان کا جثہ دروازے پر دستک کے عین
مطابق دکھائی دیتا تھا۔ کیمسٹری کے ٹیچر سمیت پوری کلاس یہی سمجھی کہ یہ سکولوں کے
انسپکٹر صاحب ہیں۔ لاجوردی رنگ کا سوٹ، کلف لگا ہوا کالر، بالوں پر کریم لگی ہوئی ،
ہاتھوں پر دستانے ، وغیرہ وغیرہ۔
ٹیچر نے زور سے کہا:
"کلاس، ہوشیار!"
پوری کلاس کھڑی ہو گئی ۔ کروفر والی شخصیت نے بڑی متانت
سے کلاس کی طرف منہ پھیر کر ایک تجربہ کار سکول انسپکٹر کی طرح ہاتھ کے اشارے سے طلباء
کو بیٹھ جانے کا کہا اور پھر ٹیچر سے اپنا تعارف کرایا:
"آپ کا یہ بندہ ایک اور سکول سے ٹرانسفر
ہو کر یہاں آیا ہے جناب !"
ساری کلاس کو، خاص طور پر ٹیچر کو یخ کر دینے والا صدمہ
ہوا۔ تو گویا یہ حضرت، یہ حضور اعلیٰ ، یہ سکول انسپکٹر کے بھیس میں ملبوس آدمی دراصل
ایک طالب علم تھا !
کیمسٹری کے ٹیچر نے حیرت سے پوچھا: ” تو گویا تم ایک طالب
علم ہو ؟“
"طالب علم ہوں جناب ۔"
پوری کلاس نے اس زور سے قہقہہ لگایا جیسے کسی نے توپ چلا
دی ہو۔ کیمسٹری کے ٹیچر کی بدقسمتی دیکھیے کہ قہقہے تو ایک طرف ، اگر کلاس میں کوئی
بڑے شریفانہ طریقے سے ہنس بھی دیتا تو یہ غصے سے لال پیلے ہو جایا کرتے تھے، مگر اس
وقت وہ سب کچھ بھول چکے تھے۔ ساری کلاس ہنس ہنس کر دو ہری ہو رہی تھی اور ساتھ ہی طلباء
ہاتھ پاؤں کے اشاروں کا بھی سہارا لے رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں سے کچھ سٹوڈنٹ تو
کتوں کی آوازیں بھی نکال رہے تھے۔ کیمسٹری کے ٹیچر خود بھی ہنس رہے تھے۔
وہ ، یعنی ایک جنٹلمین کی شکل کے نئے طالب علم لگا تار برف
کی کی ٹھنڈی متانت کے ساتھ کھڑے رہے تھوڑی دیر بعد کلاس کی طرف پلٹے ، اپنی موٹی موٹی
مخمور آنکھیں غصے سے نہیں، حیرت سے کھولتے ہوئے بولے:
"جناب مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آپ لوگ کسی
بات پر قہقہے لگا رہے ہیں ۔"
کلاس کے بالکل آخر سے ایک آواز آئی: ”بھئی سمجھ کی بڑی ہی
قلت ہے!“
ایک اور سٹوڈنٹ: ”ابے کافر، اس ٹھاٹھ باٹ کے سٹوڈنٹ بھی
ہوتے ہیں کیا ؟ تم تو سکول انسپکٹر لگتے ہو “
قہقہے، زمین پر زور زور سے قدم مارنے کا شور اور کتوں کے
بھونکنے کی سی آوازیں دیر تک آتی رہیں۔ آخر میں کیمسٹری کے ٹیچر ذرا سنبھلے اور بولے:
”بس کافی ہے!“
کلاس آہستہ آہستہ خاموش ہو گئی۔ نئے سٹوڈنٹ نے بھی اپنی
خاکستری رنگ کی پتلیوں والی موٹی موٹی مخمور آنکھیں نیچے کر لیں۔
**********
اس روز کے بعد اس نئے طالب علم کا نام اصیل زادہ پڑ گیا۔
یہ ہمیں بڑے عرصے کے بعد پتہ چلا کہ وہ ایک بڑے زمیندار وکیل کا بیٹا تھا جو اکلوتا
ہونے کے باعث بڑے ناز و نیاز سے پالا گیا تھا۔ وہ عمدہ لباس پہنتا تھا اور تھا بھی
بڑا شاہ خرچ ۔ اس کی شروع شروع کی متانت بھی جلد ہی گھل کر ختم ہو گئی۔ اس کی جگہ ایسے
خلوص نے لے لی جس میں دغا فریب، ناشائستگی ، چھیڑ چھاڑ اور پھوہڑ پن سب جائز تھے۔ الٹائےگئے
پرانے کوٹ، جوتے جن کے تلوؤں میں سوراخ ہو چکے ہوں، اوورکوٹ جن کے باز و آگے سے گھس
چکے ہوں، یا ٹائیاں جو استعمال سے بالکل ڈوری کی طرح ہو چکی ہوں، یہ سب کچھ اس کی نظروں
میں ایک دہشت ناک مذاق کا سامان تھا۔ وہ غریب طلباء کو اپنے پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتا
تھا۔ ہاتھ کی پشت سے ہی انہیں دھتکار دیا کرتا تھا۔ ایک روز میں نے اس سے اس طرز عمل
کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا:
"مسٹر، یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ طبیعات
کا مسئلہ ہے ۔ مجھے گندگی ، غربت، اور سفالت سےنفرت ہے!“
"وہ تو ٹھیک ہے مگر کوئی شخص جان بوجھ کر
تو سفیل نہیں بنتاناں" میں نے اسے کہا،
مگر اس نے میرے کہے کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کہنے لگا :
"معاملے کے اس پہلو کا میرے ساتھ ہرگز کوئی
تعلق نہیں ! خواہ میں چاہوں یا نہ چاہوں، اہم بات یہ ہےکہ بندہ سفیل نہ ہو۔ اور اس
مقصد کے لئے انسان جو کچھ کر سکتا ہے اسے کرنا چاہیے ۔ جو نیچے دبارہ جاتا ہے اس کی
جان تو نکلتی ہی ہے۔“
اس کے اور پڑھائی کے درمیان رشتہ خاصہ کمزور تھا۔ کلاس میں
سب سے آخر والی قطاروں میں سے ایک قطار میں بیٹھا ، سارا پیریڈ یا اپنے سامنے آئینہ
اور ہاتھوں میں کنگھی لئے نظر آتا، اور یا پھر فیشن میگزینوں کے صفحے الٹتا پلٹتا رہتا
تھا۔
ایک روز وہ بات ہوئی جو اس کے حساب کتاب میں بالکل نہ تھی۔
الجبرے کے ٹیچر نے اسے کھڑا ہونے کو کہا۔ ما۔ اصیل زادہ جو اپنی قطار میں مشکل سے پھنسا
ہوا ہے سا ہوا بیٹھا تھا کھڑا ہو گیا : ” لیجئے جناب عالی۔"
"چلو بلیک بورڈ کے پاس جاؤ!“
"میں جاؤں؟“
" نہیں، آپ کی ذات عالی بورڈ تک تشریف لے
چلے !"
"استغفراللہ
!"
" ہاں ہاں، ذات عالی، بشرطیکہ انہیں زحمت
نہ ہو ۔"
"معاف کیجئے گا جناب ۔"
کلاس پھر قہقہوں سے توپ کی طرح پھٹ پڑی۔ دراصل اس طرح کے
بلند قہقے اب کلاس میں اکثر بلندہوتے تھے جس سے کلاس تھوڑی
دیر کے لئے بھان متی کے اکھاڑے میں تبدیل ہو جاتی تھی۔
اصیل زادہ کسی طور بلیک بورڈ تک جانے کو تیار نہ تھا۔ الجبرے
کا ٹیچر خاصہ سنجیدہ تھا۔ بولا :
"کیوں نہیں جارہے ہو بلیک بورڈ تک ؟"
اس نے اپنی خاکستری رنگ کی پتلیوں والی مخمور آنکھیں بھینچتے
ہوئے کہا: ” آج آپ مجھے معاف رکھئیےجناب۔"
ٹیچر نے حیران ہو کر پوچھا: ” سبب؟“
"میں نے تیاری نہیں کی ہوئی ، اس لئے “
"اللہ ! اللہ!"
”جی ہاں، مجھے افسوس ہے۔“
"اور اگر مجھے یہ مجبوری ہو کہ میں نے ذات
عالی کو نمبر دینے ہوں تو پھر ؟“
اصیل زادے بھی ناراض تھے۔
اس نے کہا: "مجھے
صفر دے دو بھائی!"
در اصل اس کی عمر ہی اتنی زیادہ تھی کہ وہ ٹیچر کو "برادر"
کہنے میں حق بجانب تھا۔ ایک مرتبہ اس نے کلاس
میں عمر میں سب سے بڑے طالب علم سے اپنے آپ کو بڑا بھائی کہلوایا تھا۔ موٹی گردن، سرخ
گال، چوڑے کندھے، بھاری بھر کم جسم جس سے چلتے وقت فرش کی لکڑی چوں چراں کرنے لگ جاتی
تھی.
وہ ٹیچروں کے ساتھ، یہاں تک کہ ٹیچروں میں سے محض سب سے
زیادہ غصیلے ٹیچر کے ساتھ ہی نہیں، بلکہ اس ٹیچر کے ساتھ بھی بے تکلفی سے ملا کرتا
تھا جس سے صرف کلاس ہی نہیں بلکہ پورا سکول تھر تھر کانپتا تھا۔ اور یہ تھا فزکس کا
ٹیچر ۔
ایک روز شاید تاریخ کا ٹیچر تھا جس نے اُسے کہا تھا: ”اچھا
تو پھر کیا حشر ہو گا تمہارا ؟“
اصیل زادے نے کندھے جھٹک کر کہا تھا : " خدا کی قسم
مجھے خود پتہ نہیں میرا کیا بنے گا !"
"کیا تم طالب علم نہیں ہو؟“
"تم جو کہنا چاہتے ہو کہہ دو برادر۔"
"کیا کہا، برادر؟"
"تم میرے بڑے بھائی تو یقینا نہیں ہو ناں۔"
"گستاخ!"
" مجھے کہہ رہے ہو گستاخ ؟"
کلاس برف کی طرح منجمد ہو چکی تھی۔ اصیل زادہ اپنی سیٹ سے
آہستہ آہستہ اٹھا۔ ہاتھ پیٹھ پیچھے ، سیدھا ٹیچر کے پہلو میں جا پہنچا۔ ہم سب نے سانس
روک کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا شروع کر دیا۔ یوں لگتا تھا کہ اصیل زادے کے ہاتھوں
کوئی حادثہ پیش آجائے گا۔ ٹیچر کا رنگ بھی پیلا زرد پڑ چکا تھا۔ وہ جا کر ٹیچر کےبالکل
سامنے کھڑا ہو گیا ! اور بولا: ” گستاخ تم ہو !"
اور پھر کلاس سے نکل کر نہ جانے کہاں چلا گیا۔
وہ دن اور آج کا دن کئی سال، غالباً سولہ برس گزر چکے ہیں
مگر وہ نہیں لوٹا۔ اپریل کا ایک نہایت روشن دن تھا۔ سورج چمک رہا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں
کہ وہ میرے سامنے کھڑا ہے۔ ایک گندی سی ٹوپی کے نیچے اس کا مشین سے تراشا ہوا سر دکھائی
دیا۔ اس کالباس بری حالت میں تھا، جوتے بری طرح پھٹے ہوئے تھے۔ کہاں چلی گئی وہ لال
سرخ گالیں جن میں سے عمدہ صحت پھوٹی پڑتی تھی؟ کہاں گیا اس کا بھاری بھر کم ، پلا ہوا
جثہ جس سے فرش لرزا کرتے تھے؟ اس کے چہرے کی پیلاہٹ، اس کے رخساروں کے کھڑے، وہ ہر
لحاظ سے بے چارگی کی مثال نظر آرہا تھا۔ اس نے مجھے پہچان لیا تھا۔
"ہاں جناب عالی ، تو گویا سالہا سال بعد
آپ سے...۔۔۔"
"قسمت میں لکھا تھا کہ ہماری ملاقات ہوگی
مسٹر برہان ۔ مگر آپ۔۔۔۔"
یوں لگا جیسے وہ پیچکی بھر رہا ہے:
"ہاں۔۔۔۔۔ ہاں میں ۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھ لو، جیسا
تمہیں نظر آ رہا ہوں۔۔۔!"
"ٹھیک ہے مگر۔۔۔۔۔"
اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا: "لمبی داستان ہے۔“
اس کی آنکھیں آنسوؤں میں ڈوب گئیں ۔ دیر تک سوچتا رہا ۔
پھر ایک ہونٹ چباتے ہوئے بولنا شروع ہو گیا :
"میں اس قسم کے لباس والوں سے نفرت کیا کرتا
تھا۔ ٹھیک ہے ناں؟ جوتوں کے تلووں میں سوراخ ، الٹا کرکے پرانے کوٹ کا نیا کوٹ ، اوور
کوٹ کے بازوؤں کے سرے گھسے پٹے ۔ اب میں خود اسی حالت میں ہوں۔ کیوں؟ جواب بڑا آسان
ہے۔ میرے والد ، خدا تمہیں لمبی عمر دے ۔ والدہ بھی انہیں کی طرح چل بسیں ۔ ماں باپ
نے جو کچھ چھوڑا تھا اسے نقدی میں بدلی کروا کر ..."
پھر اس نے اچانک
پوچھا: ”تمہارے والد صاحب تو زندہ ہیں اور اچھی صحت میں ہیں ناں؟“
"خدا تمہاری عمر دراز کرے۔ وہ بھی فوت ہو
چکے ہیں ۔“
"اور والدہ؟"
"وہ بھی۔ بڑا افسوس ہے ۔“
اس کی خاکستری رنگ کی پتلیوں والی آنکھوں میں مسرت کی بجلیاں
کو ند گئیں۔
"اچھا، تو گویا تم بھی میری طرح ہی ہو۔ اچھا
تو کیا کام کرتے ہو؟“
"کوئی کام نہیں کرتا ۔ بس ایک معمولی سا
ملازم ہوں۔"
اس کی خوشی میں اضافہ ہو گیا۔
"تو گویا تم ایک معمولی ملازم ہو؟ اوہ اوہ
! مگر معمولی کیوں؟؟"
”وہ اس لئے برہان صاحب، کہ اعلیٰ ملازمت میرے
ہاتھ نہ لگ سکی !“
وہ آج سے سولہ برس پہلے کے مزاحیہ دور میں واپس جا چکا تھا:
"یہ تو بڑی عجیب بات ہے!“
"وہ کیوں!"
"تمہارے مذاق جو تمہاری ذکا کے شرارے ہوتے
تھے۔۔۔۔"
"اچھا؟"
" غالبا ًتمہارا کوٹ بھی تو الٹایا گیا ہے؟“
" مجھے افسوس ہے کہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو
۔“
وہ بالکل اسی طرح سنگدل ہو گیا جیسا سولہ سال پہلے تھا۔
"کیا تمہیں الٹایا گیا کوٹ پہن کر شرم نہیں
آتی ؟“
مجھے غصہ آرہا تھا۔ میں نے کہا: "تمہارا لباس تو مجھ
سے سو درجے بدتر ہے ؟“
اس کی آنکھوں کی چمک غائب ہوگئی ۔ وہ غمگین سا ہو گیا۔ قریب
تھا کہ رو پڑتا۔
" تمہیں نہیں چاہیے تھا کہ مجھے یہ بات یاد
دلاتے !“
"اور تم ؟ ہاں تم ۔"
"میں نے تو محض تمہاری بات کی تھی
۔"
"اور میں نے بھی محض تمہاری !"
"کلاس میں ہمارے مضمون میں نہیں تھے تم
۔"
بڑی عجیب بات ہے۔“
"کیا شادی ہو گئی تمہاری؟“ اس نے پوچھا۔
”ہاں“ میں نے جواب دیا۔
"بال بچے؟“
" تمہیں سلام کہتے ہیں ۔"
"اچھا تو تنخواہ؟ کتنی ہے تمہاری تنخواہ
؟"
میں نے بتایا۔ اس کی آنکھیں دہشت سے ابھر آئیں:
” حادثہ عظیم ! اسے ذلت کہتے ہیں، فلاکت کہتے
ہیں۔ فلاکت عظمی کہتے ہیں جناب۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے کیوں اس ذلت کو قبول
کیا ؟“
"میں سمجھا نہیں ۔ کون سی ذلت ؟"
"اتنی حقیر تنخواہ میں گھر بار کا مالک بننا
۔“
"میں اسے ذلت کا نام نہیں دیتا ۔"
"دو گے ، ضرور
دو گے۔ تم مجبور ہوا سے ذلت کا نام دینے پر جناب عالی !“
ٹھیک ہے مگر تم ؟ تم کس حال میں ہو ؟“
وہ لال سرخ ہو گیا : ” میں تھوڑی دیر پہلے وضاحت کر چکا
ہوں ۔ ہمارا موضوع بحث میں نہیں تم ہو۔ اس کے باوجود ، مانا کہ تم مجھے کریدنے پر اصرار
کر رہے ہو، تو لو پھر میں بتاتا ہوں:
"والد کی چھوڑی ہوئی جائیداد کو نقدی میں
تبدیل کروانے اور پھر اس رقم سے ایک فیکٹری خریدنے کا ماجرا۔ بالآخر اس کام میں مجھے
خسارہ ہوا۔ نقصان تو ہوا مگر میری جان بچ گئی جناب ۔ شروع شروع میں تو ایک مکمل، پر
تکلف زندگی کا لطف اٹھاتا رہا ۔ اس کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے:
"غیر معمولی قسم کی عورتیں ، وسکی، شیمپین
۔ میری ذاتی کار اور ڈرائیور ۔ اور اب کی حالت بھی تم دیکھ رہے ہو۔ معمولی ، نہایت
معمولی سی ملازمت بھی ڈھونڈتا ہوں تو نہیں ملتی ، کیونکہ معمولی ملازمت بھی بڑی چیز
ہے۔ اس میں بھی کام کے مطابق مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں معمولی
ملازمت کرنے والوں کے لئے ضروری علم سے محروم ہوں۔ چلو مجھے چھوڑ وہ تمہاری بات کریں۔
تمہاری حالت تو واقعی قابل رحم ہے۔“
وہ تھوڑی دیر سوچ میں پڑا رہا، پھر بولا :
"تمہیں میں زیادہ تنخواہ والا ایک کام دلاتا
ہوں ٹھہرو، ہاں، میرے ذہن میں آگیا ۔ اس نے اپنی اندر کی جیب سے ایک کارڈ نکالا ، اس
پر کچھ لکھ کر میرے حوالے کر دیا:
"یہ لو، اس کمپنی میں جاؤ ۔ مراد بیگ کو
ڈھونڈو، اور یقین رکھو کہ تم خالی ہاتھ نہیں لوٹائے جاؤ گے ۔“
میں نے یونہی وہ کارڈ لے لیا۔ اس نے مجھے کہا تھا کہ اگر
مسٹر مراد میرا پوچھے تو کہہ دینا کہ وہ یورپ کی سیر کو چلے گئے ہیں۔ کہا تو تھا اس
نے مگر بات یہ ہے کہ اگر گنجے کے پاس کوئی مرہم ہوتی تو پہلے وہ اپنے سر پر تھا ہے
کہ تو لگاتا۔
تین روز بعد میں ہے یونہی اس کمپنی میں چلا گیا۔ وہ کارڈ
دیا۔ مراد بیگ نے لے لیا اور لیتے ہی اپنی کرسی سے اچھل کھڑا ہوا :
"مسٹر برہان، جناب بر ہان صاحب؟ کہاں ہیں
وہ ؟ خود کہاں ہیں؟ عرصہ ہوا ہم انہیں گم کر بیٹھے ہیں۔ ان کی کمپنی سے محروم ہو گئے
ہیں ۔“
پھر؟
پھر ایک نہایت حیران کن بات ہوئی ۔ جس جگہ میں کام کر رہا
تھا اس کے مقابلے میں مجھے تین گنا زیادہ تنخواہ پر اس سے کہیں زیادہ آسان کام پر ملازمت مل گئی۔
کئی ہفتے بعد ایک دفعہ پھر مسٹر برہان سے ملاقات ہو گئی۔
میں نے انہیں بتایا ۔ بڑے خوش ہوئے ۔ پھر مجھ سے ایک سیگریٹ مانگا۔ میں نے پیکٹ آگے
کر دیا۔ انہوں نے صرف ایک سیگریٹ نکال لیا۔ میں نے التجاکی کہ سیگریٹ کا پیکٹ ہی پاس رکھ لیجئے مگر انہوں نے میری
التجار د کر دی۔ اور پھر وہاں سے یوں روانہ ہو گئے جیسے جان بچا کر بھاگ رہے ہوں۔
نوٹ:
یہ افسانہ کرنل (ر) مسعود اختر
شیخ کی کتاب "دو شرابی" (عوامی
ترک مصنف اورخان کمال کی منتخب کہانیاں)"
سے لیا گیا ہے۔کتاب کی خریداری کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
0512852721

Comments
Post a Comment