افسانہ نمبر 781 : حاجی هوتک کا آسیب || مصنف: جمیل جان کوچی (افغانستان/امریکہ) || ترجمہ: حنظلہ خلیق (لاہور)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 781 : حاجی
هوتک کا آسیب
مصنف: جمیل جان کوچی (افغانستان/امریکہ)
ترجمہ: حنظلہ خلیق (لاہور)
تمہیں ٹھیک سے معلوم نہیں کہ کیلیفورنیا کے ویسٹ سیکرامنٹو
میں، اس مخصوص گھر اور اس مخصوص خاندان کی نگرانی پر تمہیں کیوں تعینات کیا گیا
ہے۔ ویسے بھی یہ جاننا تمہارا کام نہیں ہے۔ تاہم، چند دنوں کے بعد تم یہ اندازہ
لگانے لگتے ہو کہ تمہاری اس تفویض کردہ ذمہ داری (اسائنمنٹ) کے مرکز میں موجود
مشتبہ شخص دراصل اس گھر کا سربراہ ہے، جسے 'حاجی' کا کوڈ نام دیا گیا ہے؛ حالانکہ
تمہارے پاس یہ ماننے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں کہ اس نے کبھی واقعی مکہ جا کر حج کیا
ہو۔ درحقیقت، حاجی بمشکل ہی گھر سے نکلتا ہے۔ وہ گھنٹوں اپنے گھر یا صحن میں آوارہ
گردی کرتا رہتا ہے اور مرمت کے لیے چیزیں تلاش کرتا ہے۔گلی سڑی لکڑیاں، ٹوٹی ہوئی
چھت کی ٹائلیں، جلے ہوئے بلب، خراب گھاس کاٹنے والی مشینیں، ٹوٹے شیشے اور قبضوں
سے اترے دروازے۔ وہ یہ سب تب تک کرتا ہے جب تک اس کی پرانی چوٹیں درد نہ کرنے لگیں،
اور پھر وہ جہاں کام کر رہا ہوتا ہے وہیں لیٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ
اتفاق سے چھت کے نیچے، تہہ خانے یا گھر کے کسی اور تنہا حصے میں ہو، اپنی بیوی،
ماں اور چار بچوں سے دور، تو بعض اوقات وہ خود کو خاموشی سے قرآن کی آیات اور اللہ
کے حضور دعائیں مانگنے کی اجازت دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کا درد کم ہونے لگتا ہے
اور وہ دوبارہ کام پر لگ جاتا ہے۔
جب حاجی خود کو تھکا لیتا ہے تو وہ اکثر دیوان خانے (لیونگ
روم) میں چلا جاتا ہے، جہاں وہ قتل کے معموں پر مبنی کہانیاں یا اسلامی ممالک میں
جاری تنازعات کی غیر ملکی کوریج دیکھتا ہے۔ اگر اس کی بیوی، جس کا کوڈ نام 'حبیبی'
ہے، باورچی خانے میں ہو اور اپنی درجنوں سہیلیوں میں سے کسی سے گپ شپ نہ لڑا رہی
ہو (جن میں سے اکثر سے تم جانتے ہو کہ حاجی کو سخت چڑ ہے)، تو وہ چائے کا ایک کپ
مانگتا ہے اور اپنی ماں کی صحت کے بارے میں پوچھتا ہے، جو کبھی بھی زیادہ اچھی نہیں
ہوتی۔ لیکن حاجی کی بیوی اسے یہ نہیں بتاتی، کیونکہ اس کی ماں، جس کا کوڈ نام 'بی
بی' ہے، محض چند فٹ کے فاصلے پر بیٹھی ہوتی ہے، اور اگرچہ وہ اپنے بیٹے کی موجودگی
کا اقرار نہیں کرتی، مگر بی بی ہمیشہ سب کچھ سن رہی ہوتی ہے۔
پو پھٹنے پر جب وہ نماز کے لیے بیدار ہوتی ہے، وہاں سے
لے کر رات گئے بے چین نیند کے آغوش میں جانے تک، بی بی دیوان خانے کے ایک کونے میں،
دوسرے صوفے کے آخری سرے پر ڈیرہ جمائے رکھتی ہے۔ وہ انتہائی دھیمی آواز میں ٹیلی ویژن
سنتی ہے، باورچی خانے میں اپنے بیٹے اور بہو کی باتیں، فون پر لگے اپنے پوتوں اور
نواسیوں کی آوازیں، اور اس پرانے ریڈیو پر قرآن سنتی ہے جسے وہ چالیس سال قبل
افغانستان سے چھپا کر لائی تھی۔ وہ گھر کے فلش چلنے کی آوازوں، ان درختوں میں چلنے
والی ہوا جو اس کے بیٹے نے اس کی کھڑکی کے قریب لگائے تھے، اس کے آکسیجن ٹینک کے
ہلکے بلبلوں اور گھر کی مسلسل گونج کو سنتی ہے۔ اور وہ یہ سب کچھ اپنے واحد زندہ
بھائی کو جو افغانستان میں ہے، رپورٹ کرتی ہے۔ بی بی کی تیز سماعت اور باریک بینی
کی بدولت، اس کی فون کالز انتہائی مفصل اور بے لاگ ہوتی ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ کب اس
کے پوتے پوتیوں کا پیٹ خراب ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کب اس کا بیٹا اور بہو چھپ کر لڑ
رہے ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ کون واش روم میں زیادہ شور کر رہا ہے، کون امتحانات میں
نقل کر رہا ہے یا کس کی نمازیں قضا ہو رہی ہیں۔ بی بی کی اپنے بھائی کو دی گئی ان
لاتعداد رپورٹس کے ذریعے، تم حاجی کی تاریخ کے مختلف ٹکڑے جوڑنا شروع کرتے ہو:
افغانستان میں ایک مجاہد کے طور پر اس کی سابقہ زندگی؛ لوگر سے پشاور، پھر کراچی
اور پھر کیلیفورنیا تک کا اس کا سفر؛ اس کی شادی؛ اس کے بچوں کی پیدائش؛ بچوں کا
رفتہ رفتہ پشتو زبان سے دور ہونا؛ ان کی گستاخیوں میں بتدریج اضافہ؛ وہ ٹرک کا
حادثہ جس نے حاجی کی گردن اور کندھے کے اعصاب کو تباہ کر دیا؛ وہ عدالتی مقدمات جن
کا کوئی نتیجہ نہ نکلا؛ وہ دھوکہ جو اس نے تب محسوس کیا جب اس کے دوسرے بڑے بیٹے،
جس کا کوڈ نام 'کارل' ہے، نے برکلے میں تعلیم کے دوران مارکسسٹ بننے کا فیصلہ کیا؛
اس کی ذہنی تنزلی؛ امریکی نظامِ انصاف سے اس کی مکمل مایوسی؛ اس کا غصہ؛ اس کا غضب؛
اور اس کے اندر خاموشی سے ابلتا ہوا طیش۔
تم سوچتے ہو کہ اگر زندگی کچھ اور ہوتی، تو بی بی ایک
بہترین جاسوس بن سکتی تھی۔
حاجی کا سب سے بڑا بیٹا، مو، شام کو ظفر کی قصاب کی
دکان سے کام کر کے گھر آتا ہے۔ وہ خون آلود لباس، عربی ثوب، اور گھنی داڑھی میں
ملبوس ہوتا ہے۔ ہر رات، مو کی ماں اسے اپنا لباس نہ دھونے پر ڈانٹتی ہے، جس سے
قتلِ عام جیسی بو آتی ہے، اور ہر رات حاجی اپنے بیٹے کا دفاع کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
اس میں سے ایک 'مرد' کی بو آتی ہے۔ مو ہنستے ہوئے اپنی ماں سے معافی مانگتا ہے اور
اپنے باپ کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔ مو انگریزی میں حاجی سے امت کی موجودہ حالت کے بارے
میں پوچھتا ہے، جس کا عمومی ترجمہ تو "کمیونٹی" بنتا ہے، لیکن دراصل اس کا
اشارہ اسلامی دنیا کے ماورائے ریاست اجتماعی تصور کی طرف ہوتا ہے۔
تم اپنے ریکارڈ میں حاجی کو انگریزی میں یہ کہتے ہوئے
درج کرتے ہو: "وہ ہماری امت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔" اس کے بعد وہ
گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ہونے والے تمام بم دھماکوں، قتلِ عام، جنگی جرائم،
مظاہروں، فائرنگ، اغوا اور ٹارگٹ کلنگز کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ مو خاموشی سے سنتا
ہے، اور بس کبھی کبھار کوئی سوال پوچھ لیتا ہے یا انتقام کی کوئی دعا بڑبڑا دیتا
ہے۔
رات کے کھانے کا وقت ہوتے ہی حاجی کے باقی بچے بھی
آجاتے ہیں۔
للی، جو سب سے چھوٹی ہے، دبے پاؤں باورچی خانے میں جاتی
ہے اور اپنی ماں سے پوچھتی ہے کہ کون سے کھانے بغیر گوشت کے بنائے گئے ہیں۔
للی حال ہی میں، اور رازدارانہ طور پر، سبزی خور (Vegetarian) بن گئی ہے۔ دو ہفتے قبل،
وہ سڑک پار کرتی ہوئی ایک بطخ اور اس کے بچوں کو گاڑی کے نیچے کچلتے ہوئے دیکھ کر
روتی ہوئی گھر آئی تھی۔ للی نے موت کی کشمکش میں مبتلا اس بطخ کو گود میں اٹھا لیا
تھا، جس کے گرد اس کے چھوٹے چھوٹے بچے جمع تھے اور للی قسم کھا کر کہتی تھی کہ وہ
بچے اپنی ماں کے لیے رو رہے تھے۔ حبیبی اور للی دونوں مل کر ان یتیم بطخ کے بچوں
کے لیے روئیں۔ اسی دن بعد میں، للی نے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ اس کا بنایا ہوا
چکن قورمہ نہیں کھا سکتی، اور حبیبی نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے نہیں ڈانٹے گی (یہ ایسا
فیصلہ تھا جس پر اسے بعد میں پچھتاوا ہوا)۔ پہلے پہل یہ صرف چکن تک محدود تھا، لیکن
پھر للی نے اپنی ماں کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ اب گائے یا بھیڑ کا گوشت بھی ہضم
نہیں کر سکتی، جو حاجی کے گھر کے کھانوں کی بنیادی تکون کا حصہ تھے۔ حبیبی نے اپنی
بیٹی کو یہ سمجھانے کی بھرپور کوشش کی کہ سبزی خوری دراصل حقوقِ نسواں (Feminism)، مارکسزم، کمیونزم، دہریت، لذت پرستی، اور
بالآخر آدم خوری کی طرف جانے والی ایک خطرناک ڈھلوان ہے۔ اس کی ماں نے بڑی مہارت
سے سمجھایا، "جانور جانور ہیں اور انسان انسان، اور جب تم ان دونوں کو ملانا
شروع کر دو گی تو تم خود کو مرغیوں کو چومتے اور بچوں کو کھاتے ہوئے پاؤ گی۔"
للی نے قسم کھائی کہ یہ اخلاقیات کا مسئلہ نہیں بلکہ
جسمانی کراہت کا معاملہ ہے، اور وقت کے ساتھ، انشاءاللہ، وہ اپنے تمام پسندیدہ
کھانے دوبارہ کھا سکے گی۔ حبیبی مان گئی، اور کچھ دنوں تک یہ راز صرف ماں بیٹی کے
درمیان رہا۔ یہاں تک کہ ایک دوپہر میری، جو حاجی کی بڑی بیٹی ہے، اس کمرے میں جو
وہ للی کے بچپن سے اس کے ساتھ بانٹ رہی تھی، اپنی بہن کی طرف مڑی اور پوچھا کہ اس
کا کتنا وزن کم ہوا ہے۔
اس نے جلدی سے ہنستے ہوئے کہا، "بالکل نہیں، میں
پہلے جیسی ہی موٹی ہوں۔"
لیکن اس کا وزن کم ہوا تھا۔ پورے دو پاؤنڈ۔
"پھر
تم اتنی پیلی اور ہلکی کیوں لگ رہی ہو؟" میری نے اپنی تفتیش جاری رکھتے ہوئے
پوچھا۔ تیز فہم، اٹل، اور کمزوری بھانپنے کی بہترین نظر رکھنے والی(ایک ایسی خوبی
جو تمہارے خیال میں اس نے اپنی دادی سے وراثت میں پائی تھی) میری کے پاس بہت سی
صلاحیتیں تھیں (دھوکہ دہی، خود شناسی، جوڑ توڑ، درد سہنے کی اعلیٰ صلاحیت، اور
کڑھائی کرنا) جو حاجی کے گھر میں ضائع ہو رہی تھیں، جہاں لڑکیوں کو صرف سکول یا
مسجد جانے کی اجازت تھی اور وہاں سے انہیں سیدھا گھر آنا ہوتا تھا۔
تم سوچتے ہو کہ یہ واقعی ایک المیہ ہے۔ وہ ایک بہترین
جاسوس بن سکتی تھی۔
آخر کار، للی نے میری کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کر
لیا، جس نے فوراً اس کا مذاق اڑایا۔ اس نے کہا، "بے وقوف۔ تمہارا قد ویسے ہی
چھوٹا ہے۔ تم پروٹین کے بغیر لمبا ہونے کی توقع کیسے کر سکتی ہو؟"
"میں
لوبیا کھا لوں گی۔"
"لوبیا؟
کتنا لوبیا کھاؤ گی؟ اس کمرے میں اتنی ہوا کی نکاسی نہیں ہے کہ تم سارا دن لوبیا
کھاتی رہو۔"
للی نے کہا، "پلیز، کسی کو مت بتانا۔"
میری ہنسی اور وعدہ کیا کہ وہ جتنا جلدی ہو سکا اس کی
چغلی کھائے گی، جو یقیناً ایک جھوٹ تھا، کیونکہ میری اس قسم کی لڑکی نہیں تھی۔
رات کے کھانے کے دوران، للی ہمیشہ احتیاط سے اپنے لیے
چکن، کباب یا کوفتے کا ایک بڑا حصہ نکالتی، لیکن جب وہ اپنے چاول اور تلی ہوئی سبزیاں
کھا رہی ہوتی، تو گوشت خوری کی شوقین میری، بڑی بے نیازی سے للی کا گوشت صاف کر دیتی۔
خوش قسمتی سے حاجی کبھی اس پر دھیان نہیں دیتا۔ وہ پوری توجہ سے کھانا کھاتا ہے۔
مکمل خاموشی میں۔ اور اپنی انگلیوں سے۔
دوسری طرف، حبیبی بمشکل ہی کچھ کھاتی ہے۔ وہ بس سوالات
اور کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ وہ مو کے قصاب خانے، میری کی پڑھائی، للی کی سہیلیوں
اور یہاں تک کہ مارون کی ویڈیو گیمنگ کے بارے میں جاننا چاہتی ہے۔ جواب میں، بچے
اسے چھیڑتے ہیں، جو کبھی کبھار حاجی کو پریشان کر دیتا ہے، لیکن حبیبی ہمیشہ اسے
خوش دلی سے لیتی ہے۔ تمہارے پیشہ ورانہ اندازے کے مطابق وہ اس گھر کا دھڑکتا ہوا
دل ہے۔ وہ نہ صرف گھر کے زیادہ تر کام سنبھالتی ہے، بلکہ وہ خاندان کی پوری سماجی
زندگی کو بھی فعال طور پر منظم کرتی ہے؛ دعوتیں، پارٹیاں، محفلیں، میل جول اور یہاں
تک کہ کبھی کبھار کی اجتماعی دعائیں۔ اپنے چھوٹے سے گھر میں پھیلی سو طرح کی خاموشیوں
سے بظاہر جنگ کرتے ہوئے، وہ پشتو، فارسی، انگریزی یا کبھی کبھی اردو میں لگ بھگ ہر
وقت اونچا بولتے ہوئے توپ کے دہانے پر ہوتی ہے۔ وہ صحن میں، باورچی خانے میں، اپنے
اداس شوہر کے ساتھ، اپنی طعنہ زن ساس، اپنے مختلف المزاج بچوں، اور اپنی بے شمار
سہیلیوں کے ساتھ فون پر اتنی زیادہ گپ شپ کرتی ہے کہ تمہیں اپنا آدھا وقت دفتر میں
حبیبی کی گپ شپ کے گھنٹوں طویل آڈیو ریکارڈنگز کھنگالنے میں گزارنا پڑتا ہے۔ ان ریکارڈنگز
کا ترجمہ افغان-امریکی مترجمین کی ایک باقاعدہ منظور شدہ ٹیم کرتی ہے، جنہیں اس کے
بیانات کے صرف کچھ حصے ہی فراہم کیے جاتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ وہ یہ اندازہ نہ
لگا سکیں کہ وہ دراصل کس کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ تاہم، حبیبی کی یہ مسلسل بک بک
بالکل بے کار نہیں ہے۔ ہر رات، سونے سے پہلے، وہ افغانستان میں اپنے خاندان کو فون
کرتی ہے، جن میں سے کچھ اب بھی صوبہ لوگر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہیں، جو
تمہاری تحقیق کے مطابق، فی الحال طالبان کے کنٹرول میں ہے۔
یہ لفظ حبیبی کی پشتو اور فارسی کی بوچھاڑ کے درمیان
کبھی کبھار ابھرتا ہے۔ اس کے "بلے"، "بچیم"، "چھیکا"
اور "کیر" کے درمیان۔
وہ اپنے فون پر سرگوشی کے انداز میں کہے گی،
"طالبان"، گویا وہ جانتی ہو کہ تم سن رہے ہو۔
صرف اس لفظ کی آواز تمہارے دل کی دھڑکن تیز کر دیتی ہے۔
رات کے کھانے کے بعد، مارون اور لڑکیاں اپنے کمروں کی
طرف بھاگ جاتے ہیں جبکہ مو، اس کے والدین، اور بی بی دیوان خانے میں چائے پیتے ہیں۔
لامحالہ، گفتگو کا رخ مو کی شادی کے امکانات کی طرف مڑ جاتا ہے۔ حبیبی کی کابل میں
ایک بھانجی ہے، جو ایک دائی ہے اور بے حد خوبصورت ہے، اور انگریزی، پشتو، فارسی،
اور اردو بولتی ہے۔ "وہ تمہارے لیے کچھ زیادہ ہی اچھی ہے،" حبیبی ہنستے
ہوئے کہتی ہے۔ حاجی کی لوگر میں ایک بھتیجی ہے، صرف سولہ سال کی، پاک دامن، اور نیک۔
اس نے آدھا قرآن حفظ کر لیا ہے، اور اس کا باپ گاؤں میں ایک معزز مُلا ہے۔ مو کے
والدین کو یہ نہیں معلوم کہ مو پہلے ہی سیکرامنٹو سٹیٹ یونیورسٹی کی ایک لڑکی کی
محبت میں گرفتار ہے۔ وہ مسلسل ایک دوسرے کو میسج کرتے، باتیں کرتے اور سنیپ چیٹ پر
رابطے میں رہتے ہیں۔ مو اپنے لیپ ٹاپ پر اس کے لیے خفیہ محبت کی نظمیں لکھتا ہے۔ ایسی
خوفناک حد تک بری نظمیں جن پر اسے بجا طور پر شرمندگی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی، جب اسے
لگتا ہے کہ وہ اکیلا ہے، تو وہ اپنی نظمیں خاموشی سے گنگناتا ہے۔
اس کی محبت، تمہیں امید ہے، کہ اسے بچا لے گی۔
رات کو، حاجی اور اس کی بیوی سب سے پہلے سوتے ہیں۔ اگلی
صبح، وہ فجر کے وقت جاگ جائیں گے، حاجی اپنے درد کی وجہ سے، اور حبیبی حاجی کے درد
کی وجہ سے۔ مارون اور مو دونوں سونے کا ڈرامہ کرتے ہیں، لیکن جب مو کو لگتا ہے کہ
مارون سو گیا ہے، تو وہ اپنا لیپ ٹاپ لے کر دبے پاؤں نیچے چلا جاتا ہے، اور جیسے ہی
وہ ایسا کرتا ہے، مارون اپنے بستر سے نکلتا ہے، وضو کرتا ہے، اور دن بھر کی قضا
ہونے والی تمام نمازیں پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ اگرچہ مارون نے کیلیفورنیا یونیورسٹی،
ڈیوس (یو سی ڈیوس) میں اپنے پہلے سمسٹر میں 3.8 جی پی اے حاصل کیا ہے، اگرچہ وہ
پارٹ ٹائم کام کرتا ہے اور افغانستان پیسے بھیجتا ہے، اس کے والدین اکثر اسے نماز
نہ پڑھنے اور قرآن کی تلاوت نہ کرنے پر ڈانٹتے ہیں، اور مارون اپنے دفاع میں کبھی
ایک لفظ بھی نہیں بولتا۔ اور پھر بھی وہ یہاں ہے، آدھی رات کو، اپنی ماں، باپ،
بھائی اور دادی کی تعریفی نگاہوں سے دور، تنہائی اور راز داری میں نماز ادا کر رہا
ہے، اور قرآن کی ایک کے بعد ایک آیت ایسی نرم اور سریلی آواز میں پڑھ رہا ہے کہ
تمہاری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔
نیچے، مو انٹرنیٹ کے فورمز میں گم ہو جاتا ہے۔ اپنے باپ
کی اونی شال میں لپٹا ہوا( وہی شال جو حاجی اپنے پرانے جہاد کے دنوں میں پہنا کرتا
تھا)۔مو عراقی شہروں پر گرنے والے امریکی بموں، ایساف
(ISAF) کے ہاتھوں ہونے والی سزائے موت کے چشم دید
افغان گواہوں، اور گجرات میں زندہ جلائے جانے والے مسلمان لڑکوں کی ویڈیوز دیکھتا
ہے۔ وہ یہ کلپس گھنٹوں دیکھتا رہتا ہے، اس کا سر ہلتا رہتا ہے، اس کی آنکھیں
دھندلا جاتی ہیں، یہاں تک کہ اس کی محبوبہ، خدا کا شکر ہے، دیکھ لیتی ہے کہ وہ آن
لائن ہے اور اسے سونے کا حکم دیتی ہے۔ اوپر، میری، مو کے پیغامات پڑھ رہی ہوتی ہے۔
اس نے اس کا فیس بک اکاؤنٹ ہیک کر لیا ہے اور ان کی گفتگو کو اسی وقت پڑھ رہی ہوتی
ہے۔ وہ اس کی پروفائل پر ایک سائے کی طرح ہے، جو ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتی ہے کہ
وہ صرف وہی پڑھے جو مو پہلے ہی پڑھ چکا ہے اور باقی سب کچھ ویسے ہی چھوڑ دے۔ اتنی
صلاحیت، تم سوچتے ہو، اور کتنا افسوسناک ضیاع۔ للی، میری کے ساتھ والے بستر پر،
بطخوں، ان کے بچوں اور تالابوں کے خاکے بنا رہی ہے۔ روتی ہوئی بطخیں، تالاب جو
سمندروں میں بدل رہے ہیں، اڑتی ہوئی بطخیں، چلتی ہوئی بطخیں، مرتی ہوئی بطخیں۔ وہ
کوئلے سے بنے ان خاکوں کی تصویریں کھینچتی ہے اور انہیں ایک پرائیویٹ انسٹاگرام
اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتی ہے، جس تک میری کی بھی، خفیہ طور پر، رسائی ہے۔ لڑکیوں کے
کمرے سے متصل کمرے میں، حاجی اور اس کی بیوی کے درمیان بیوی کے بھائیوں کے حوالے
سے ایک خاموش سی بحث چل رہی ہے۔ تم ان کے نام پہچانتے ہو اور تمہیں شک ہوتا ہے کہ
اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر
کام کرتے تھے۔ حاجی، جیسا کہ تم جانتے ہو، ان آدمیوں کو غدار سمجھتا ہے۔ آخر کار،
حبیبی اپنے شوہر سے منہ پھیر لیتی ہے، زیرِ لب کچھ بڑبڑاتی ہے، اور خاموشی سے روتے
روتے سو جاتی ہے۔ حاجی اسے تسلی دینے کے لیے کچھ نہیں کرتا۔ وہ بستر پر اٹھ کر بیٹھ
جاتا ہے، درد یا پچھتاوے سے ہانپتا ہے، اور کھڑکی سے باہر اندھیری سڑک کو گھورتا
ہے، جہاں مو اب سٹریٹ لائٹ کے نیچے فرضی دشمنوں کے ساتھ مکے بازی کر رہا ہے۔ گھر
کے کونے میں چھپی ہوئی بی بی بھی اسی لمحے، اسی انداز میں اٹھ کر بیٹھتی ہے، اور
اسی سٹریٹ لائٹ کو کھڑکی سے باہر گھورتی ہے۔ وہ بھی مو کو ان نظر نہ آنے والے
دشمنوں پر وار کرتے ہوئے دیکھتی ہے۔
جب یہ خاندان بالآخر سو جاتا ہے، تو تم ان کے خوابوں کو
سنتے ہو۔
اگلے چند ہفتوں کے دوران، تم برے ارادوں کے سراغ، نشانیاں
یا شواہد تلاش کرتے ہو۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ زندگی بس یوں ہی گزرتی رہتی
ہے۔
حاجی وہ کھڑکی ٹھیک کرتا ہے جو اس نے اپنی ماں کے کمرے
میں دوبارہ پینٹ کرنے کی کوشش کے دوران توڑ دی تھی۔
سردی پورے گھر میں پھیل جاتی ہے۔
بی بی لڑکوں کے کمرے میں منتقل ہو جاتی ہے، اور لڑکے دیوان
خانے میں سوتے ہیں۔ چونکہ اب وہ ایک دوسرے سے چھپ نہیں سکتے، اس لیے وہ سونے سے
پہلے طویل گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان کے مالی حالات پر بات کرتے ہیں، اور اس
شک پر کہ ان کا باپ ان سے بل چھپا رہا ہے۔ وہ اس کا سامنا کرنے کی منصوبہ بندی
کرتے ہیں لیکن کبھی ایسا کر نہیں پاتے۔
جب وہ سوتے ہیں، تو دونوں لڑکے خراٹے لیتے ہیں، مارون سیٹی
جیسی آواز نکالتا ہے اور مو ایک طرح سے غراتا ہے، اور لڑکیاں، جن کا کمرہ دیوان
خانے کے سب سے قریب ہے، ساری رات ایک دوسرے سے شکایت کرتی رہتی ہیں۔ لڑکوں کے
خراٹوں کا وقت بڑا عجیب و غریب ہوتا ہے۔ اس میں ایک خاص تال ہوتی ہے۔ جب مو کی
آواز دھیمی پڑتی ہے، تو مارون پھٹ پڑتا ہے، اور جب مارون خاموش ہوتا ہے، تو مو
دہاڑنے لگتا ہے۔ لڑکیاں اسے "خراٹوں کی سمفنی" کہتی ہیں۔ آخر کار، لڑکیاں
سو جاتی ہیں اور تم یہ سب سننے والے واحد سامع رہ جاتے ہو۔
مو کو اپنے فضلے میں خون نظر آتا ہے لیکن وہ ڈاکٹر کے
پاس نہیں جاتا۔
میری سمسٹر میں 4.3 جی پی اے حاصل کرتی ہے، اور حاجی
پورے خاندان کے لیے ڈونٹس خریدتا ہے۔ وہ سب دیوان خانے میں بیٹھے ڈونٹس کھا رہے ہیں
اور چائے پی رہے ہیں، اور بی بی مذاق کرتی ہے کہ اب انہیں میری کو بکریوں کے ایک
جوڑے کے بدلے فروخت نہیں کرنا پڑے گا۔ پورا خاندان ایسے ہنستا ہے جیسے کسی مزاحیہ
ڈرامے کا منظر ہو۔
جب حبیبی کا شوہر(حاجی) ہارڈویئر سٹور سے سامان خریدنے
باہر گیا ہوتا ہے، تو اسے کابل میں اپنے والدین کی کال آتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ
اس کی ماں سخت بیمار ہے۔ وہ کسی کو کچھ نہیں بتاتی اور شہر کے دوسرے حصے میں اپنے
بھائیوں سے ملنے چلی جاتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد، حاجی گھر واپس آتا ہے تو اسے غائب
پاتا ہے۔ وہ کمرے کمرے جا کر اسے آوازیں دیتا ہے۔ ہفتوں میں پہلی بار، بی بی اپنے
بیٹے سے بات کرتی ہے اور اسے بتاتی ہے کہ اس کی ساس بیمار ہے۔
خلیج کے علاقے سے آئی ٹی کے لوگ پڑوس میں منتقل ہو گئے
ہیں۔ پراپرٹی ٹیکس بڑھ رہے ہیں۔ بلوں کا ڈھیر لگ گیا ہے۔ حاجی کو مدد کی ضرورت ہے
لیکن وہ اپنے بیٹوں کو نہیں بتائے گا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ وہ مزید کام کا
بوجھ اٹھائیں۔ وہ قرض لیتا ہے اور کریڈٹ کارڈز استعمال کرتا ہے۔ وہ رات کو ان بلوں
کو یوں چھپاتا ہے جیسے وہ لاشیں ہوں۔
حبیبی کو اپنے والدین کی ایک اور کال موصول ہوتی ہے۔
آپریشن ہونے والا ہے۔ اور وہ بھی دل کا۔ حبیبی یہ بات صرف حاجی کو بتاتی ہے، لیکن
بی بی، یقیناً، یہ جان لیتی ہے۔
قوت ارادی کے ایک کمزور لمحے میں، للی اپنے سکول کے قریب
ایک گیس اسٹیشن سے چوری کیا ہوا سلم جم (Slim Jim - گوشت
کا ایک سنیک) کھا لیتی ہے۔ گھر
آکر، وہ کئی منٹ تک اس پروسیسڈ گوشت کی الٹیاں کرتی رہتی ہے۔ اگرچہ سب حاجی کو تسلی
دیتے ہیں کہ للی ٹھیک ہو جائے گی، لیکن حاجی اسے ایمرجنسی روم لے جانے پر بضد رہتا
ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ، "جب تک ہمارے پاس میڈیکیل سہولت ہے، تو رسک کیوں لیں؟"
ایک گھنٹے بعد، حاجی اور للی ہسپتال سے گھر لوٹتے ہیں، اور حاجی اپنی بیوی کو
بتاتا ہے کہ للی سبزی خور بن گئی ہے۔ وہ اسے یہ بات راز رکھنے کو کہتا ہے۔ "فی
الحال،" حاجی کہتا ہے، "وہ نہیں چاہتی کہ کسی اور کو یہ بات پتہ
چلے۔" حبیبی کسی سے ذکر نہ کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔
ایک دوپہر، جب اس کا باپ سو رہا ہوتا ہے اور ماں کھانا
پکا رہی ہوتی ہے، میری حاجی کی ڈاک کھنگالتی ہے اور اسے بقایا جات والے بل ملتے ہیں،
جن میں سے تین یا چار ایک ہی کمپنی کے ہوتے ہیں۔ وہ ان میں سے چند انتہائی ضروری
(بجلی اور انٹرنیٹ) بل اٹھاتی ہے اور جلدی سے اوپر چلی جاتی ہے۔ آن لائن ویب سائٹ Poshmark.com پر، وہ اپنے کم استعمال
شدہ سویٹر، جینز اور ٹی شرٹس فروخت کرتی ہے، جن پر اس نے مشہور جاپانی اینیمے (Anime) کرداروں(جیسے سیلر مون،
ٹوٹورو اور ناروٹو)کی کڑھائی کر رکھی ہے، اور ایک ہفتے کے اندر اندر اپنے باپ کے بل
آن لائن ادا کر دیتی ہے۔
حبیبی مارون کو اس کی نانی کی آنے والی سرجری کے بارے میں
بتاتی ہے۔ وہ اس سے پوچھتی ہے، "کیا تمہیں لگتا ہے کہ وہ مجھے اس شہر میں اکیلا
چھوڑ دینے پر معاف کر دے گی؟" مارون اپنی ویڈیو گیم کو روکنے کا ڈرامہ کرتا
ہے، حالانکہ وہ آن لائن اور لائیو کھیل رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنا کنٹرولر ایک طرف رکھ
دیتا ہے اور جواب دیے بغیر اپنی ماں کے خوف اور پریشانیاں سنتا ہے۔ گیم میں وہ بار
بار مارا جاتا ہے۔
بلوں کا ڈھیر کم ہو جاتا ہے، لیکن حاجی بمشکل ہی اس پر
دھیان دے پاتا ہے۔
جب اس کا شوہر باہر ہوتا ہے، حبیبی برکلے میں کارل کو
فون کرتی ہے۔ وہ اس کے معدے، اس کے کرائے، اس کی پڑھائی، اس کے مظاہروں، اور اس کی
نمازوں کے بارے میں گپ شپ کرتے ہیں یہاں تک کہ حبیبی ایک بار پھر اس کی منت کرتی
ہے کہ وہ کمیونزم ترک کر کے گھر واپس آجائے۔ کارل یہ دلیل دیتا ہے کہ اس کے باپ
کو، کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ، اس کے مقصد سے ہمدردی ہونی چاہیے۔ حبیبی رونا
شروع کر دیتی ہے اور کارل کوئی بہانہ بنا کر فون بند کر دیتا ہے۔ تم سوچتے ہو کہ
تمہارے ساتھیوں میں سے کون کارل کی نگرانی کر رہا ہوگا۔
جب حاجی الجزیرہ نیوز دیکھ رہا ہوتا ہے(جس پر ایک آسٹریلوی
فوجی کے ہاتھوں ایک نوجوان افغان کسان کو قتل کیے جانے کی ویڈیو چل رہی ہوتی ہے)میری
اس کے ساتھ سمٹ کر بیٹھ جاتی ہے اور اس کی داڑھی میں سے خشکی کے چھلکے چننا شروع
کر دیتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے وہ چار سال کی عمر میں کیا کرتی تھی۔ حبیبی کے
مطابق، سونے سے پہلے یہ اس کی خاص عادت تھی۔ اب میری کے ہاتھ میں زیتون کے تیل کی
ایک بوتل ہے، جس میں سے ایک چھوٹا سا قطرہ وہ اپنی ہتھیلی پر ڈالتی ہے اور اسے
اپنے باپ کی داڑھی میں ملتی ہے۔ قتل کی ویڈیو دوبارہ چلائی جاتی ہے۔ ایک کتے کے
کاٹے جانے کے بعد، وہ کسان، جس کا نام داد محمد ہے، ایک کھیت کے بیچوں بیچ اپنی پیٹھ
کے بل لیٹا ہوا ہے۔ اس کے گھٹنے اس کے سینے تک کھنچے ہوئے ہیں، اور اس نے سرخ رنگ
کی تسبیح مضبوطی سے پکڑ رکھی ہے۔ ایک فوجی رائفل لیے اس کے سر پر کھڑا ہے۔ وہ
پوچھتا ہے، "کیا تم چاہتے ہو کہ میں اس حرامزادے کو مار گراؤں؟" ایک گولی
چلنے کی آواز آتی ہے، اور سکرین سیاہ ہو جاتی ہے۔ جب میری چلی جاتی ہے اور خبروں
کا وہ حصہ ختم ہو جاتا ہے، تو حاجی بند ٹی وی کے سامنے دیوان خانے میں اکیلا بیٹھا
رہتا ہے۔ وہ اپنی داڑھی کی نم بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہے اور اس کی نرمی پر حیران
دکھائی دیتا ہے۔
حبیبی کی ماں کی سرجری سے ایک رات پہلے، حبیبی کا ایک
بھائی مہینوں بعد پہلی بار ملنے آتا ہے۔ صرف میری ہی وہ واحد شخص ہے جو اسے گھاس
نہیں ڈالتی۔ اپنے مشترکہ کمرے میں، للی اپنی بہن کو قائل کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ
وہ اپنے ماموں کو اس کی بے شمار بے عزتیوں، حملوں، مذاق، مذاق کے روپ میں کیے گئے
حملوں، اور دھمکیوں کے لیے معاف کر دے۔ لیکن میری انکار کر دیتی ہے۔ "امی
سمجھ جائیں گی،" میری کہتی ہے، لیکن تمہیں اس بات کا یقین نہیں۔ اس رات، حبیبی
اور اس کا بھائی دیوان خانے میں ایک سرخ توشک پر سوتے ہیں اور خاموشی سے اپنی بیمار
ماں کے لیے دعا کرتے ہیں۔ صبح خبر اچھی آتی ہے، اور تم سکون کی سانس لیے بغیر نہیں
رہ پاتے۔
اپنی اسائنمنٹ کے چھٹے مہینے میں، تم اپنے مقصد پر شک
کرنے لگتے ہو۔ حاجی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس کے ڈاکٹر نے اسے ریڑھ کی ہڈی کی سرجری
کروانے کا مشورہ دیا ہے جس سے وہ مفلوج بھی ہو سکتا ہے۔ کسی اور دور میں، کسی
مختلف جسم میں، شاید حاجی خطرناک ہو سکتا تھا۔ لیکن یہاں، اب، درد اور صدمے سے
نڈھال یہ بوڑھا آدمی، کسی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
تمہیں اپنے افسران کو آگاہ کرنا چاہیے۔ تمہیں انہیں یہ
آپریشن (نگرانی) ختم کرنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ لیکن تم ایسا نہیں کرو گے۔ ابھی تو
بالکل نہیں۔ ایسے وقت میں نہیں جب میری کالجوں میں داخلے کی درخواستیں دینے والی
ہے، جب مو شادی کی پیشکش کرنے کا ارادہ کر رہا ہے، جب مارون کیمپس میں نئے دوست
بنا رہا ہے، جب حبیبی کے والدین امریکہ کے ویزے کے لیے درخواست دے رہے ہیں، جب حاجی
یہ فیصلہ کر رہا ہے کہ وہ سرجری کروائے گا یا نہیں، جب بی بی کا اپنے بھائی سے
رابطہ ٹوٹ رہا ہے، اور جب للی اپنے فن کے ایک نئے اور شاندار موڑ پر کھڑی ہے۔
ابھی جاننے کے لیے بہت کچھ باقی ہے....
لیکن پھر، گرمیوں کی ایک خنک رات میں، جب باقی گھر والے
فریمونٹ میں ایک خالہ کے گھر گئے ہوتے ہیں، حاجی ایک پائپ ٹھیک کرنے کے لیے اٹاری
(چھت کے اندرونی حصے) میں جاتا ہے۔ تم اسے اپنے اوزار تیار کرتے، سیڑھی پر چڑھتے
اور پانی سے گیلی اٹاری میں داخل ہوتے دیکھتے ہو۔ رسنے والے پانی کی ہلکی سی پھوار
کے درمیان حاجی پائپ کے ساتھ کشمکش کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پشتو میں کھسیانے
پن سے ایک گالی بڑبڑاتا ہے۔ وہ پانی میں سے رینگتا ہوا واپس لوٹتا ہے، لیکن نیچے
اترتے ہوئے اس کا پاؤں سیڑھی کے سب سے اوپری ڈنڈے سے پھسل جاتا ہے اور وہ نیچے سخت
ٹائلوں پر آ گرتا ہے۔ اگرچہ یہ بلندی بمشکل دس فٹ کے لگ بھگ رہی ہوگی، لیکن حاجی
اس برے انداز میں گرا ہے کہ اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے۔ وہ فرش پر پیٹھ کے بل لیٹا،
اوپر اس اٹاری کو گھور رہا ہے جہاں سے وہ نیچے گرا تھا۔ تم پورے یقین سے جانتے ہو
کہ حاجی کی یہ ٹانگ اس سے پہلے بھی ایک بار ٹوٹ چکی ہے؛ سوویت قبضے کے دور میں، جب
کلاشنکوف کی ایک گولی اس کی پنڈلی کی ہڈی کو چیرتی ہوئی نکل گئی تھی اور اسے چھ
ماہ تک میدانِ جنگ سے دور رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ لوگر میں لڑائی کا شدید ترین
دور تھا، اور شاید اسی چوٹ نے اس کی جان بچائی تھی۔ اور یہ حقیقت کہ وہ خود زندہ
بچ گیا(جبکہ اس کا بھائی مارا گیا، اس کی بہن ماری گئی، اس کے کزنز، دوست اور پڑوسی
سب مارے گئے) یہ احساس اسے ساری زندگی ایک آسیب کی طرح ستاتا رہا ہے۔
ایک منٹ گزرتا ہے۔ پھر دو۔ تم جانتے ہو کہ حاجی ہمیشہ
اپنا موبائل فون باورچی خانے میں بھول جاتا ہے اور باورچی خانہ اس جگہ سے لگ بھگ بیس
گز کے فاصلے پر ہے جہاں وہ فرش پر بے حس و حرکت لیٹا ہے۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو
کہ اس کے پاس خود کو گھسیٹ کر وہاں تک لے جانے اور مدد کے لیے فون کرنے کے سوا کوئی
چارہ نہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ کوئی حرکت نہیں کرتا۔ تم اس کی سانسوں کی آواز پر
دھیان لگاتے ہو اور تمہیں اس کی اکھڑتی ہوئی خرخراہٹ سنائی دیتی ہے۔ اٹاری کے چور
دروازے سے پانی ٹپک رہا ہے، اور حاجی اپنے ہاتھ اٹھا کر اپنا چہرہ، بازو اور بال یوں
دھوتا ہے جیسے وہ وضو کر رہا ہو۔ بالکل اسی لمحے تم اور حاجی دونوں اس بات پر غور
کرتے ہو کہ اس کے سر کے نیچے خون کا ایک چھوٹا سا جوہڑ بننا شروع ہو گیا ہے۔
حاجی خدا کے حضور گڑگڑاتا ہے، تم اسے سنتے ہو، اور تم
اس کی پکار کا جواب دیتے ہو۔
کچھ ہی دیر بعد ایمبولینس پہنچ جاتی ہے۔
اگلے دن، ہسپتال سے گھر لوٹتے ہی حاجی ایمیزون سے ایک
فون ریکارڈر خریدتا ہے اور جب وہ پہنچ جاتا ہے، تو مارون سے اسے لینڈ لائن کے ساتھ
لگواتا ہے۔ کوئی اس سے سوال نہیں کرتا۔ کوئی بحث نہیں کرتا۔ وہ اپنے کمرے میں
تنہا، یا حبیبی کے ساتھ، گھنٹوں تک ان ریکارڈنگز کو سنتا ہے، اور خاموشی کے عجیب و
غریب لمحات اور گفتگو میں آنے والے وقفوں کے دوران، وہ رکتا ہے، اسے پیچھے (rewind) کرتا ہے اور دوبارہ سنتا
ہے۔ وہ پشتو میں حبیبی کے کان میں سرگوشی کرتا ہے، "کیا تم سن رہی ہو؟ کسی کے
سانس لینے کی آواز؟"
وہ انتظار کرتی ہے، دوبارہ سنتی ہے اور اثبات میں سر
ہلا دیتی ہے۔
تم جانتے ہو کہ یہ ناممکن ہے۔ تم جانتے ہو کہ ان کے لیے
تمہیں سن پانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، اور پھر بھی، جب تم ان کی کوئی گفتگو سن رہے
ہوتے ہو اور اس میں کوئی وقفہ آتا ہے، کوئی خاموشی چھاتی ہے، تو تم خود کو اپنا
سانس روکے ہوئے پاتے ہو۔
حاجی کی یہ دھن ایک انتھک جنون بن جاتی ہے۔
وہ تمہیں فون پر، گلیوں میں، بغیر نمبر پلیٹ والی سفید
ویگنوں میں، پولیس والوں، سادے کپڑوں میں ملبوس جاسوسوں، فوجی اہلکاروں اور اپنے ہی
پڑوسیوں کے چہروں میں تلاش کرتا ہے۔ وہ تمہیں ہسپتال میں، بینک میں، اپنے کمپیوٹر
پر، اپنے بیٹوں کے لیپ ٹاپس پر، ویب کیمز، فون کیمروں اور ٹیلی ویژن پر تلاش کرتا
ہے۔ وہ تمہیں پردوں میں، باورچی خانے کی درازوں میں، اور مکان کے پچھواڑے کے
درختوں میں، بجلی کے ساکٹس میں، دروازوں کے ہینڈلز کے تالوں میں، اور روشنی کے
بلبوں کے تاروں (فلامنٹس) میں ڈھونڈتا ہے۔ اور، اپنے گھر والوں کے احتجاج کے
باوجود، حاجی تمہیں ٹوٹے ہوئے شیشوں میں، ٹوٹی ہوئی ٹائلوں میں، اپنے وال پیپر کی
اتری ہوئی پٹیوں میں، اپنے دروازوں کی کرچیوں میں، اپنے خستہ حال گوشت میں، اپنے
الجھے ہوئے اعصاب میں، اور اپنے ہی دھڑکتے ہوئے دل میں تلاش کرتا ہے... جہاں، ان
تمام چیزوں کے بیچ سنائی دینے والی سرگوشی: 'اس سے محبت کی جاتی ہے! ..'، دراصل
تمہاری ہی ہے۔
(نوٹ: حاجی هوتک ایک افغانی مہاجر ہے جو امریکہ کا شہری
بن گیا ہے ، خفیہ ایجنسی کا اہلکار اس کی زندگی کی جاسوسی کر رہا اور حالات بتا
رہا ، افسانے کا تھیم یہ ہے کہ حاجی آخری سانس تک ہمت و عزم سے بھرپور ہے اور آخر
کار ایجنٹ بھی جان لیتا ہے کہ حاجی اپنے گھر والوں کی جڑ ہے وہ کبھی نہیں ٹوٹ
سکتا)

Comments
Post a Comment