افسانہ نمبر 778 : ایک ذرا سی کج خلقی || تحریر : رے براڈ بری۔ (امریکہ) || ترجمہ : جاوید بسام۔ (کراچی)

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

 افسانہ نمبر 778 :  ایک ذرا سی کج خلقی

 تحریر  : رے براڈ بری۔ (امریکہ)

ترجمہ : جاوید بسام۔ (کراچی)

 


مئی کی ایک عام سی شام، جوناتھن ہیوز کی انتیسویں سالگرہ سے ایک ہفتہ قبل اپنی تقدیر سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ ایک ایسے مسافر کی صورت میں جو کسی اور زمانے، کسی اور برس، کسی اور زندگی سے سفر کرتا ہوا وہاں پہنچا تھا۔ ابتدا میں ہیوز اپنی تقدیر کو نہیں پہچانا۔ وہ اسی دوران پنسلوانیا اسٹیشن سے ریل میں سوار ہوا اور لانگ آئی لینڈ کے سفر کے دوران ہیوز کے ساتھ رات کے کھانے کے لیے بیٹھ گیا۔ ہیوز کی نگاہ اس کے ہاتھ میں پکڑے اخبار پر پڑی، اخبار نے اسے پہلے چونکایا، پھر گھورنے پر مجبور کیا۔ آخرکار اسے بات کرنی پڑی۔ ”جناب! معاف کیجیے گا، آپ کا نیویارک ٹائمز میرے اخبار سے کچھ مختلف ہے۔ پہلے صفحے کا حرفی انداز زیادہ جدید ہے۔ کیا یہ کوئی بعد کا ایڈیشن ہے؟

 

نہیں۔“بوڑھے نے توقف کیا۔ پھر ہچکچا کر بولا۔ ”ہاں، بہت بعد کا ایڈیشن۔

 

ہیوز نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ ”معاف کیجیے گا، مگر باقی تمام ایڈیشن تو ایک جیسے ہیں۔ کیا آپ کا اخبار مستقبل میں ہونے والی کسی تبدیلی کا آزمائشی نسخہ ہے؟

 

مستقبل؟“ بوڑھے کے ہونٹ بمشکل ہلے۔ اس کا جسم کپڑوں میں یوں سکڑ گیا جیسے ایک سانس میں سارا وزن گھٹ گیا ہو۔واقعی، مستقبل کی تبدیلی۔ خدایا! کیا مذاق ہے۔“ وہ زیر لب بڑبڑایا۔

 

جوناتھن ہیوز نے اخبار کی تاریخ پر نگاہ ڈالی۔ 2 مئی 1999

 

ٹھہریے۔“ وہ احتجاج کرنے والا تھا کہ نگاہ پہلے صفحے کے اوپری کونے میں ایک مختصر سی خبر پر پڑی، جس کے ساتھ کوئی تصویر نہیں تھی۔ لکھا تھا۔

 

عورت قتل۔

پولیس کو شوہر کی تلاش۔  

"مسز ایلس ہیوز کی لاش دریافت، گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

 

ریل گرجتی ہوئی ایک پل پر سے گزری۔ کھڑکی کے باہر لاتعداد درخت لہراتے نظر آئے، ان کی سبز شاخیں ہوا کے جھونکوں میں ڈول رہی تھیں، پھر یوں غائب ہوگئیں جیسے کاٹ کر زمین پر پھینک دی گئی ہوں اور ریل ایک اسٹیشن پر یوں لپکی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ہیوز کی آنکھیں پھر اس متن پر لوٹ گئیں۔ ”جوناتھن ہیوز، مصدقہ عوامی محاسب، 112 پلانڈوم ایونیو، پلانڈوم۔

 

میرے خدا! ... دفع ہو جاؤ!“ وہ چیخا۔

 

پھر اٹھا اور بوڑھے سے چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔ ریل کو اچانک جھٹکا لگا اور وہ ایک خالی نشست پر جا گرا اور کھڑکی کے باہر تیزی سے گزرتے سبز روشنی کے دریا کو وحشت سے دیکھنے لگا۔ خدارا! ایسا کون کرے گا؟ کون ہمیں تکلیف دے گا؟ کیا مذاق ہے۔ ایک حسین عورت کی شادی کا مذاق اڑانا، لعنت۔ وہ سوچ رہا تھا۔ ریل نے موڑ کاٹا اور جھٹکے سے اسے اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا۔ وہ سفر کی تھکن، کشش ثقل اور غصے سے مدہوش لڑکھڑاتا ہوا بوڑھے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ بوڑھا اخبار پر جھکا ہوا تھا، گویا زمین میں دھنس گیا ہو، چھپے ہوئے لفظوں کے اندر پناہ لے رہا ہو۔ ہیوز نے اخبار ایک طرف جھٹک کر اس کے کندھے کو پکڑ لیا۔ اس نے گھبرا کر اوپر دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ دونوں کچھ دیر تک خاموش رہے جیسے سفر کی گھن گرج نے انہیں ساکت کر دیا ہو۔ ہیوز کو لگا کہ اس کی روح جسم سے نکلنے والی ہے۔ ”تم کون ہو؟“ اس نے تیز آواز میں پوچھا۔

 

ریل ڈگمگائی جیسے ابھی پٹری سے اتر جائے گی اور بوڑھا یوں اٹھا جیسے اس کے دل میں گولی لگی ہو۔ اس نے ہیوز کی مٹھی میں کچھ تھمایا اور لڑکھڑاتا ہوا اگلے ڈبے میں جا گھسا۔ ہیوز نے مٹھی کھولی۔ ایک تعارفی کارڈ تھا۔ اس نے الفاظ پڑھے۔

 

جوناتھن ہیوز۔ سی پی اے 679-4990۔ پلانڈوم۔

 

نہیں! کیا وہ بوڑھا آدمی میں ہوں۔“ وہ چلا اٹھا۔

 

یہ ایک نہیں، کئی سازشیں تھیں۔ کسی نے قتل کا کھیل رچایا اور اسے نشانہ بنایا تھا۔ ریل پانچ سو مسافروں کو لیے دھڑدھڑاتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ وہ اپنی کتابوں اور اخباروں کی نقاب کے پیچھے نشہ کیے دانش وروں کی طرح جھوم رہے تھے، اور بوڑھا ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے میں بھاگا جارہا تھا، جیسے کوئی عفریت اس کا پیچھا کر رہا ہو۔ جب ہیوز کا غصے سے خون کھول اٹھا تب تک بوڑھا گرتا پڑتا مسافر گاڑی کے آخری سرے تک پہنچ چکا تھا۔ دونوں آخری ڈبے میں آمنے سامنے تھے جو تقریباً خالی پڑا تھا۔ ہیوز اس کے سر پر جا کھڑا ہوا۔ بوڑھے نے نظریں نہیں اٹھائیں۔ وہ اس طرح رو رہا تھا کہ بات کرنا ممکن نہ تھا۔

 

بس کرو… خدا کے لیے، بس کرو۔“آخر ہیوز نے کہا۔

 

بوڑھے نے حکم کی تعمیل میں خود کو سیدھا کیا، آنکھیں پونچھیں، ناک صاف کی اور نحیف آواز میں بولنے لگا۔ آواز ہیوز کو قریب کھینچ لائی، وہ بیٹھ کر اس کی سرگوشیاں سننے لگا۔ ”ہم پیدا ہوئے تھے۔

 

ہم؟“ ہیوز کراہا۔

 

ہاں ہم۔“ بوڑھے نے کھڑکی سے باہر شفق اور دھویں میں ڈھلتی شام کو دیکھتے ہوئے کہا۔

 

ہم دونوں، ہم بائیس اگست انیس سو پچاس کو کوئنسی میں پیدا ہوئے۔ 49 واشنگٹن اسٹریٹ پر رہتے تھے، سینٹرل اسکول میں پڑھتے اور ازابیل پیری نامی لڑکی کے ساتھ پہلی جماعت میں پیدل اسکول جاتے تھے۔

 

ازابیل، ہیوز نے سوچا۔

 

ہمارے لکڑی کے کام کے استاد مسٹر بِسبی اور تاریخ کی استاد، مس مونکس تھیں۔ دس برس کی عمر میں برف پر اسکیٹنگ کرتے ہوئے ہمارا دایاں ٹخنہ ٹوٹ گیا۔ گیارہ برس کی عمر میں ہم تقریباً ڈوب گئے تھے والد نے بچایا۔ بارہ برس کی عمر میں پہلی بار ... اِمپی جانسن سے محبت ہوئی۔

 

ساتویں جماعت… خوب صورت لڑکی… جو بہت پہلے دنیا سے رخصت ہوگئی۔ ہیوز یہ سب سوچتے ہوئے خود بوڑھا ہونے لگا۔

 

بوڑھا اگلے دو تین منٹ تک مسلسل بولتا اور دھیرے دھیرے جوان ہوتا گیا، اس کے گالوں پر سرخی لوٹ آئی اور آنکھیں روشن ہو گئیں۔ جب کہ نوجوان پرانی آگہی کے بوجھ تلے، اپنی نشست میں دھنستا اور زرد پڑتا گیا۔ گفتگو کے ایک جادوئی لمحے میں وقت کا فاصلہ مٹ گیا اور ماضی اور مستقبل ایک دوسرے کا عکس بن گئے، ہیوز کو یقین تھا کہ اگر اس نے اوپر دیکھنے کی کوشش کی تو وہ رات کے آئینے میں ایک جیسے جڑواں بچوں کو دیکھے گا۔ بوڑھا بول چکا تو اس کا جسم سیدھا اور سر کسی اندرونی قوت سے بلند ہوگیا، جیسے ان بھولی بسری باتوں کو زبان پر لانے سے زندگی مل گئی ہو۔ ہیوز سوچنے لگا۔ مجھے اسے مارنا، الزام دینا، اس پر چیخنا چاہیے۔ پھر میں ایسا کیوں نہیں کر رہا؟ کیوں کہ....

 

بوڑھے نے سوال بھانپ لیا۔ ”تم جانتے ہو کہ میں وہی ہوں جس کا دعویٰ کر رہا ہوں۔ میں سب کچھ جانتا ہوں جو ہمارے بارے میں جاننے کے لیے ضروری ہے۔ اب مستقبل... “

 

میرا؟“ ہیوز نے بات کاٹی۔

ہمارا۔“ بوڑھے نے کہا۔

ہیوز نے سر ہلایا۔

 

اس کی نظریں بوڑھے کے ہاتھ میں دبے اخبار پر جمی ہوئی تھیں۔ بوڑھے نے اخبار تہہ کر کے ایک طرف رکھ دیا اور سلسلہ کلام جاری رکھا۔ ”تمہارا کاروبار رفتہ رفتہ تنزلی کا شکار ہو جائے گا۔ کیوں؟ کون جانتا ہے؟ ایک بچہ پیدا ہوگا اور گزر جائے گا۔ ایک داشتہ ہوگی، وہ چھن جائے گی۔ بیوی رفتہ رفتہ بری ہوتی جائے گی اور آخرکار تم  اس مقام تک پہنچو گے جہاں۔۔۔ میں کیسے کہوں ۔۔۔۔ تمہیں اس کی موجودگی سے نفرت ہونے لگے گی۔ آہ ...  میں نے تمہیں پریشان کر دیا ہے۔ اچھا میں خاموش ہو جاتا ہوں۔

 

وہ کچھ دیر تک خاموشی سے سفر کرتے رہے۔ بوڑھا پھر بوڑھا ہوتا گیا اور ساتھ ہیوز بھی۔ پھر اس نے سر کے اشارے سے بات جاری رکھنے کو کہا، مگر اس کی طرف دیکھنے سے گریز کیا۔ بوڑھا گویا ہوا۔ ”یہ ناممکن لگتا ہے نا، تمہیں شادی کیے ابھی صرف ایک برس ہوا ہے۔ ایک شاندار برس۔ یہ سوچنا مشکل ہے کہ صاف شفاف، تازہ پانی سے بھرے ایک گھڑے کو سیاہی کا ایک قطرہ کیسے رنگ سکتا ہے؟ مگر رنگ سکتا ہے، اور اس نے رنگ دیا۔ آخر پوری دنیا بدل گئی، صرف ہماری بیوی نہیں، صرف وہ حسین عورت نہیں، وہ خوب صورت خواب نہیں۔

 

تم نے... تم نے...اسے قتل کر دیا؟“ جوناتھن ہیوز نے پوچھا۔

 

ہم نے، ہم دونوں نے کیا، لیکن اگر تم میری مانو، اگر میں تمہیں قائل کر سکوں، تو کوئی ایسا نہیں کرے گا۔ وہ زندہ رہے گی، اور تم بڑھاپے میں مجھ سے زیادہ خوش اور بہتر انسان بنو گے۔ میں اس کے لیے دعا کرتا اور روتا ہوں۔ ابھی وقت ہے۔ میں برسوں پار سے تمہیں جھنجھوڑنے، ذہن کو بدلنے اور سوچ کو نئی شکل دینے آیا ہوں۔ خدایا ! کاش لوگوں کو معلوم ہوتا کہ قتل کیا چیز ہے؟ کتنا عجیب، احمقانہ اور بد نما فعل ہے، لیکن امید باقی ہے، میں آگیا ہوں، تمہیں ڈھونڈ لیا ہے، تبدیلی کی ابتدا کر دی ہے جو ہماری روحوں کو بچا سکتی ہے۔ سنو۔ تم مانتے ہو نا کہ ہم جڑواں انسان ہیں، جو وقت کی اس گھڑی، اس رات، اس ریل میں سفر کر رہے ہیں؟

 

ریل ان کے آگے سیٹی بجاتی ہوئی دوڑ رہی تھی، جیسے برسوں کے کسی بوجھ کو پٹری سے ہٹاتی جا رہی ہو۔ ہیوز نے سر کو خفیف سی جنبش دی۔ بوڑھے نے بات جاری رکھی۔ ”میں بھاگ آیا۔ میں یہی کر سکتا تھا۔ اسے دنیا سے رخصت ہوئے صرف ایک دن ہوا ہے، میں بھاگ آیا۔ میں کہاں جاتا؟ چھپنے کی کوئی جگہ نہیں تھی، سوائے وقت کے۔ کس سے فریاد کرتا، نہ کوئی قاضی، نہ عدالت، نہ کوئی گواہ، سوائے تمہارے۔ تم ہی خون دھو سکتے ہو، سمجھ رہے ہو؟ تم نے مجھے بلایا ہے۔ تمہاری جوانی، تمہاری معصومیت، تمہارے اچھے دن، تمہاری عمدہ زندگی جسے ابھی کسی الم نے نہیں چھوا، وہ چیز ہے، جس نے مجھے وقت کی پٹری پر گھسیٹ لیا۔ میری ساری عقل، میری ساری ہوش مندی تم میں ہے۔ اگر تم نے منہ موڑا تو میں ختم ہو جاؤں گا، نہیں... ہم ختم ہو جائیں گے۔ ہماری ایک ہی قبر ہوگی، ہم اس سے کبھی نہیں اٹھیں گے، ہمیشہ بدبختی میں دفن رہیں گے۔ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ کیا کرنا ہوگا؟

 

پلانڈوم!“ ایک آواز سنائی دی۔ ”پلانڈوم!“

 

ہیوز اٹھ کھڑا ہوا۔

 

وہ پلیٹ فارم پر اتر گئے۔ بوڑھا پیچھے پیچھے چل رہا تھا، جبکہ ہیوز لوگوں اور سامان سے ٹکراتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا، اسے لگ رہا تھا کہ اس کے اعضاء ابھی جسم سے الگ ہو کر بکھر جائیں گے۔”رکو!“ بوڑھے نے پکارا مگر وہ چلتا رہا۔

 

کیا تم نہیں جانتے؟ ہم شراکت دار ہیں۔ ہمیں مل کر اسے سوچنا اور حل کرنا ہوگا، تاکہ تم مجھ جیسے نہ ہو۔ آہ، یہ سب پاگل پن ہے، دیوانگی ہے، میں جانتا ہوں، مگر سنو!“

 

نوجوان پلیٹ فارم کے کنارے جا کر رک گیا، جہاں گاڑیاں آ کر رک رہی تھیں، کہیں خوشی بھری صدائیں، کہیں ہلکی پھلکی ملاقاتیں، کہیں مختصر ہارن، کہیں انجنوں کی گڑگڑاہٹ، اور کہیں روشنیاں اندھیرے میں غائب ہو رہی تھیں۔

 

بوڑھے نے نوجوان کی کہنی پکڑ لی۔ ”خدایا ! تمہاری ... میری بیوی، ابھی ایک لمحے بعد یہاں ہوگی۔ بتانے کو بہت کچھ ہے۔ تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں۔ ہمارے درمیان بیس برس کی دوری بے، بے شمار باتیں ہیں جو ابھی پوشیدہ ہیں، ہمیں انہیں ایک دوسرے سے بانٹنا اور سمجھنا ہوگا، سن رہے ہو؟ خدایا تمہیں یقین ہی نہیں آ رہا۔

 

ہیوز سڑک کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بہت دور ایک آخری گاڑی آتی دکھائی دی۔ اس نے کہا:”یہ بتاؤ انیس سو اٹھاون کے موسمِ گرما میں میری دادی کے گھر کی اٹاری میں کیا ہوا تھا؟ یہ بات میرے سوا کوئی نہیں جانتا۔

 

بوڑھے کے شانے ڈھے گئے۔ اس نے گہری سانس لی اور یوں بولنے لگا جیسے کسی ہدایت نامے سے پڑھ رہا ہو۔ ”ہم اکیلے دو دن تک وہاں چھپے رہے، کسی کو معلوم نہ تھا کہ ہم کہاں ہیں، سب یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم بھاگ کر جھیل میں ڈوب گئے یا دریا میں گر گئے ہیں۔ مگر ہم روتے ہوئے اس احساس سے مغلوب اوپر چھپے ہوئے تھے کہ ہمیں کوئی نہیں چاہتا… ہم ہوا کی آواز سنتے رہے اور مر جانا چاہتے تھے۔

 

نوجوان آخرکار پلٹا اور اپنے بوڑھے روپ کو گھور کر دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ”تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟

 

ہاں، میرے پاس تمہارے سوا ہے ہی کیا؟“ بوڑھے نے کہا۔

 

گاڑی اسٹیشن پر آ کر رک گئی۔ شیشے کے پیچھے ایک نوجوان خاتون مسکرا کر ہاتھ ہلا رہی تھی۔ ”جلدی کرو۔“ بوڑھے نے دھیمی آواز میں کہا۔ ”مجھے گھر لے چلو۔ مجھے دیکھنے دو، تمہیں دکھانے اور سکھانے دو، یہ معلوم کرنے دو کہ چیزیں کیسے بگڑیں، انہیں درست کرنے دو، میں شاید تمہیں ایک اچھی دائمی زندگی دے سکوں، مجھے.... “

 

گاڑی نے ہارن بجایا اور رک گئی۔ نوجوان خاتون نے اپنا سر کھڑکی سے باہر نکالا۔

ہیلو ڈئیر !“ وہ چلائی۔

 

جوناتھن ہیوز بے اختیار ہنس پڑا اور دیوانہ وار آگے بڑھا۔ ”ہیلو ڈئیر.... “

 

رکو ! “ بوڑھا چلایا۔

 

وہ رک گیا اور مڑ کر اخبار تھامے کانپتے ہوئے بوڑھے کو دیکھا جو پلیٹ فارم پر کھڑا تھا۔ بوڑھے نے سوالیہ انداز میں ہاتھ بلند کیا۔ ” تم کوئی چیز بھول تو نہیں گئے؟

 

ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔

 

تمہیں... ہاں تمہیں۔“آخرکار ہیوز نے کہا۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

کچھ دیر بعد وہ رات کی تاریکی میں گاڑی میں محو سفر تھے۔ گاڑی نے موڑ کاٹا تینوں اس کی حرکت کے ساتھ جھول گئے۔

 

آپ نے اپنا نام کیا بتایا تھا؟“ نوجوان خاتون نے دیہی سڑک اور تیزی سے گزرتے منظر کے شور سے بلند آواز میں پوچھا۔

 

انہوں نے کوئی نام نہیں بتایا۔“ ہیوز نے فوراً کہا۔

 

ویلڈن۔“بوڑھے نے پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا۔

 

ارے! یہ تو میرا کنوار پن کا نام ہے۔“ ایلس ہیوز نے کہا۔

 

بوڑھا اچانک ہانپنے لگا، پھر سنھبل کر بولا۔ ”اچھا؟ واقعی؟ کتنی عجیب بات ہے۔

 

شاید ہمارے درمیان کوئی رشتہ ہو، کیا خیال ہے؟

 

یہ سینٹرل ہائی میں میرے استاد تھے۔“ ہیوز نے جلدی سے کہا۔

 

اور اب بھی ہوں۔“ بوڑھے نے کہا۔

 

جلد ہی وہ گھر پہنچ گئے۔

 

بوڑھے کی نظریں خاتون پر جمی تھیں۔ کھانے کے دوران وہ ہاتھ  پر ہاتھ رکھے میز کے دوسری طرف بیٹھی حسین عورت کو تکتا رہا۔ ہیوز بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا، خاموشیوں کو ڈھانپنے کے لیے بلند آواز میں باتیں کرتا اور بہت کم کھا رہا تھا۔ جبکہ بوڑھا ایلس کے ہونٹوں کو ایسے دیکھ رہا تھا، جیسے وہاں سے الفاظ نہیں ہیرے موتی جھڑ رہے ہوں۔ وہ اس کی آنکھوں میں یوں جھانکتا جیسے وہاں دنیا کی تمام پوشیدہ حکمتیں جمع ہوں اور آج پہلی بار دریافت ہوئی ہوں۔ اس کے چہرے سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ حیرانگی میں یہ بھول چکا ہے کہ یہاں کیوں آیا ہے۔

 

کیا میری ٹھوڑی پر کچھ لگا ہوا ہے؟ سب مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں؟“ ایلس ہیوز نے اچانک کہا۔

 

اس پر پر بوڑھے کے آنسو چھلک پڑے، ایلس چونک اٹھی۔ وہ خاموشی سے رو رہا تھا۔ آخر ایلس میز کے گرد گھوم کر آئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔”مجھے معاف کر دیجیے۔

 

آپ بہت اچھی ہیں۔ براہِ کرم بیٹھ جائیے۔“ بوڑھے نے کہا۔

 

انہوں نے میٹھا ختم کیا۔ پھر ہیوز نے بڑے جوش سے کانٹا میز پر ڈالا، رومال سے منہ صاف کیا اور کہا۔ ”کیا مذیدار کھانا تھا، ڈئیر میں تم سے محبت کرتا ہوں۔

 

اس نے ایلس کے گال پر بوسہ دیا، پھر جب لگا کہ یہ کافی نہیں تو دوبارہ جھک کر اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔”دیکھا؟ میں اپنی بیوی سے کتنی محبت کرتا ہوں۔“اس نے بوڑھے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

 

بوڑھے نے سر ہلایا۔ ”ہاں، مجھے یاد ہے۔

 

آپ کو یاد ہے؟“ ایلس نے اسے گھور کر دیکھا۔

 

جام اٹھائیے!“ ہیوز نے فوراً کہا۔ ”ایک اچھی بیوی اور شاندار مستقبل کے نام!“

 

ایلس ہنس دی۔ اس نے اپنا گلاس بلند کیا۔

 

کچھ دیر بعد دونوں نشست گاہ میں چلے آئے۔ بوڑھا دروازے پر کھڑا کمرے کو شناسا نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ”یہ دیکھو!“ اس نے کہا اور آنکھیں بند کر لیں اور پورے اعتماد کے ساتھ کمرے میں چلنے لگا۔

 

یہاں پائپ رکھنے کی جگہ ہے، یہاں کتابیں ہیں۔ نیچے سے چوتھی شیلف پر آئزلی کی دی اسٹار تھروور کی ایک کاپی ہے۔ اس سے ایک شیلف اوپر ایچ جی ویلز کی ٹائم مشین کتنی موزوں کتاب ہے اور یہاں وہ خاص کرسی ہے، اور میں اس پر بیٹھ رہا ہوں۔

 

وہ بیٹھ گیا اور آنکھیں کھول دیں۔

 

تم پھر رونے لگو گے؟“ہیوز نے کہا۔

 

نہیں۔ اب آنسو نہیں ہیں۔

 

باورچی خانے سے برتن دھونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ ایلس دھیمی آواز میں گنگنا رہی تھی۔ دونوں گنگناہٹ کو سننے لگے۔

 

کیا میں واقعی ایک دن اس سے اتنی نفرت کروں گا کہ اسے قتل کر دوں گا؟“ ہیوز نے پوچھا۔

 

یہ ممکن نہیں لگتا؟ میں ایک گھنٹے سے اسے دیکھ رہا ہوں، اس میں کوئی بات غلط نہیں ہے۔ کوئی اشارہ نہیں، کوئی سراغ نہیں، ایک معمولی سا نقطہ، کوئی داغ، کوئی بے ترتیبی یا بال تک اپنی جگہ سے ہٹا ہوا نہیں ہے۔ میں تمہیں بھی دیکھ رہا ہوں کہ کہیں اس مصیبت میں تمہارا تو قصور نہیں؟ اور..... “

 

ہیوز نے گلاسوں میں دونوں کے لیے شیری نکالی اور ایک گلاس بوڑھے کو دے دیا۔

 

تم بہت زیادہ شراب پیتے ہو۔ بس اتنی بات ہے۔ اس کا خیال رکھنا۔

 

ہیوز نے گلاس نیچے رکھ دیا۔ ”اور کیا؟

 

میرا خیال ہے کہ مجھے ایک فہرست دے دینی چاہیے۔ اسے سنبھال کر رکھنا، ہر روز دیکھتے رہنا۔ بوڑھے پاگل کی، نوجوان احمق کے لیے نصیحتیں۔

 

تم جو کچھ کہو گے، میں یاد رکھوں گا۔

 

کب تک یاد رکھو گے؟ ایک مہینہ، ایک سال، پھر ہر چیز کی طرح یہ بھی بھول جاؤ گے۔ تم زندگی گزارنے میں مصروف ہو جاؤ گے۔ آہستہ آہستہ… میری طرح بنتے جاؤ گے۔ وہ بھی بتدریج ایسی عورت بن جائے گی جسے دنیا سے بھیجنا جائز لگے گا۔ اسے بتاتے رہنا کہ تم اس سے محبت کرتے ہو۔

 

ہر روز؟“ہیوز نے پوچھا۔

 

ہاں وعدہ کرو، یہ بہت اہم ہے، شاید یہی وہ بات ہے جس میں مِیں ناکام ہوا۔ بس ہر روز، کسی ناغے کے بغیر۔“ بوڑھا آگے جھکا۔ ان الفاظ سے اس کا چہرہ دہکنے لگا تھا۔

 

ایلس دروازے پر قدرے پریشان آکھڑی ہوئی۔ ”سب ٹھیک ہے نا؟“ اس نے پوچھا۔

 

ہاں، ہم فیصلہ کر رہے تھے کہ ہم دونوں میں سے تمہیں کون زیادہ پسند کرتا ہے۔“ ہیوز مسکرایا۔

 

وہ ہنسی، کندھے اچکائے اور چلی گئی۔

 

میرا خیال ہے۔“ ہیوز نے کچھ کہنا چاہا پھر رک گیا اور آنکھیں بند کر لیں، جیسے خود کو تیار کر رہا ہو۔ ”اب تمہارے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔“ آخر وہ بولا۔

 

ہاں وقت۔“ بوڑھے نے کمزور اور غمگین آواز میں کہا۔

 

میں خود کو شکست خوردہ محسوس کر رہا ہوں۔ مجھے کوئی غلط بات نظر نہیں آئی۔ میں تمہیں کوئی نصیحت نہیں کر سکتا۔ مجھے یہاں آکر تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہیے تھا، تمہیں فکر میں مبتلا اور تمہاری زندگی میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے تھا، جب کہ میرے پاس سوائے مبہم تجاویز اور قیامت کے دن کے بے معنی نوحہ کے، پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ میں ابھی سوچ رہا تھا کہ اسے قتل کر دوں، ابھی اس سے جان چھڑا لوں، الزام اپنے سر لے لوں، ایک بوڑھے کی حیثیت سے، تاکہ تم آگے بڑھ سکو، مستقبل میں جا سکو اور اس سے آزاد ہو جاؤ۔ یہ احمقانہ خیال ہے نا؟ کیا یہ کام کرے گا؟ یہ وقت کے سفر کا تضاد ہے نا؟ کیا میں وقت کے بہاؤ، دنیا، کائنات، کسی چیز کو بگاڑ دوں گا؟ فکر مت کرو۔ نہیں، نہیں، اس طرح مت دیکھو۔ اب کوئی قتل نہیں ہوگا۔ یہ سب تمہارے مستقبل میں، بیس برس آگے، پہلے ہی ہو چکا ہے۔ وہ بوڑھا جس نے کوئی مدد نہیں کی، اب دروازہ کھولے گا اور اپنی دیوانگی کی طرف لوٹ جائے گا۔

 

وہ اٹھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ ”دیکھتا ہوں، کیا میں اندھیرے میں اپنے گھر سے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ سکتا ہوں۔

 

وہ آگے بڑھا۔ ہیوز اس کے پیچھے تھا، بوڑھے نے بیرونی دروازے کے پاس الماری تلاش کر کے کھولی، اوورکوٹ نکالا اور آہستہ آہستہ پہن لیا۔

 

تم نے میری مدد کی ہے، مجھے یاد دہانی کرائی کہ اسے بتاتا رہوں کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ شکریہ۔ “ ہیوز نے کہا۔

 

ہاں، یہ تو میں نے کہا ہے۔

 

دونوں دروازے کی طرف مڑے۔

 

کیا ہمارے لیے کچھ امید ہے؟“ بوڑھے نے اچانک پوچھا۔

 

ہاں، میں اسے یقینی بناؤں گا۔“ ہیوز نے کہا۔

 

اچھا، مجھے اس پر یقین ہے۔

 

بوڑھے نے ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور اندھوں کی طرح ٹٹولتے ہوئے بیرونی دروازہ کھول دیا۔

 

میں اسے الوداع نہیں کہوں گا۔ مجھ میں اب اس حسین چہرے کو دیکھنے کی ہمت نہیں۔ اس سے کہنا کہ بوڑھا احمق چلا گیا ہے۔ کہاں؟ زندگی کی شاہراہ پر، تمہارا انتظار کرنے۔ تم ایک دن وہاں پہنچو گے۔

 

تم جیسا بننے کا کوئی امکان نہیں۔“ نوجوان نے کہا۔

 

یہ ہمیشہ یاد رکھنا، اور یہ لو۔

 

بوڑھے نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور چڑمڑ ہوئے اخبار میں لپٹی کوئی چیز نکالی۔”یہ تم اپنے پاس رکھو۔ اب مجھ پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ ممکن ہے میں کوئی پاگل پن کر بیٹھوں۔

 

خدا حافظ، کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا تمہارے ساتھ ہو؟

 

بوڑھا ناہموار راستے پر تیزی سے چلتا ہوا رات کے اندھیرے میں گم ہوگیا۔ ہوا درختوں کو ہلا رہی تھی۔ دور اندھیرے میں ایک ریل چل رہی تھی، مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ آرہی ہے یا جا رہی ہے۔

 

جوناتھن ہیوز کافی دیر تک دروازے پر کھڑا یہ دیکھنے کی کوشش کرتا رہا کہ واقعی وہاں کوئی شخص رات کے اندھیرے میں غائب ہوا ہے؟

 

جانِ من!“ اس کی بیوی نے پکارا۔  وہ اس کے پیچھے پارلر کے دروازے پر آکھڑی ہوئی تھی، مگر اس کی آواز دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی جیسے تاریک گلی میں دور ہوتے قدموں کی مدھم چاپ ہو۔ ”تمہارے دروازے پر کھڑے ہونے سے ہوا اندر آرہی ہے۔“ اس نے کہا۔

 

ہیوز نے اخبار کھولا تو حیرت سے ساکت ہوگیا اس کی ہتھیلی پر ایک چھوٹا سا ریوالور رکھا تھا۔ بہت دور ٹرین نے آخری بار ایک چیخ جیسی وسل دی، جو ہوا میں تحلیل ہوگئی۔

 

دروازہ بند کر دو۔“ بیوی نے کہا۔

 

ہیوز کا چہرہ سرد ہو رہا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی آواز… کیا اس میں ذرا سی، ایک نہایت ذرا سی کج خلقی کا رنگ نہیں تھا؟

 

وہ مڑا تو آہستہ سے لڑکھڑا گیا، کندھے نے دروازے کو چھوا تو وہ ذرا سا کھسک گیا۔ پھر.... ہوا نے اسے دھماکے کے ساتھ بند کر دیا۔

 

 

 

A Touch of Petulance

By Ray Bradbury.

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

رابندر ناتھ ٹیگور کا افسانہ : کابلی والا (Kabuliwala)

افسانہ نمبر 723 : طوفان، تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا)، مترجم : محمد فیصل (کراچی)