افسانہ نمبر 775 : بونکو بابو کا دوست || تحریر : ستیاجیت رائے (بھارت) || ترجمہ: جسٹس ریٹائرڈ عبدالوحیدخان
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 775 : بونکو بابو کا دوست
تحریر :
ستیاجیت رائے (بھارت)
انگریزی سے اردو میں ترجمہ: جسٹس ریٹائرڈ عبدالوحیدخان
کسی نے کبھی بونکو بابو
کو غصے میں نہیں دیکھا تھا۔ سچ پوچھیے تو یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ اگر کسی دن
انہیں غصہ آ جائے تو وہ کیا کہیں گے یا کیا کریں گے۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ ان کے
پاس آپا کھونے کی کبھی کوئی وجہ نہیں تھی۔ گزشتہ بائیس سالوں سے بونکو بابو
کانکورگاچھی پرائمری اسکول میں جغرافیہ اور بنگالی پڑھا رہے تھے۔ ہر سال طلبہ کا
ایک نیا بیچ پرانے کی جگہ لے لیتا، لیکن نیا بیچ ہو یا پرانا، اسکول کے تمام بچوں
میں غریب بونکو بابو کو ستانے کی روایت بدستور جاری رہتی۔ کچھ بورڈ پر ان کی تصویر
بنا دیتے، کچھ ان کی کرسی پر گوند لگا دیتے، یا کالی پوجا کی رات ایک "پٹاخہ
راکٹ" چلا کر ان کے پیچھے چھوڑ دیتے۔
بونکو بابو ان باتوں سے بددل
نہیں ہوتے تھے۔ بس کبھی کبھی گلا صاف کرتے اور کہتے، "شرم کرو لڑکو!"
ان کے پرسکون رہنے کی ایک
وجہ سادہ سی یہ تھی کہ وہ اس کے علاوہ کچھ اور برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اگر وہ
غصے میں آ کر طیش کے عالم میں نوکری چھوڑ دیتے، تو وہ جانتے تھے کہ اس عمر میں
دوسری نوکری ملنا کتنا دشوار ہو گا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ہر کلاس میں، شوخ بچوں کے
ہجوم کے باوجود، چند اچھے طالب علم ضرور ہوتے تھے۔ ان چند اچھے لڑکوں کو پڑھانا
اتنا تسلی بخش ہوتا تھا کہ بونکو بابو کے لیے ایک استاد کی حیثیت سے زندگی گزارنا
معتبر ہو جاتا۔ وہ اکثر ان بچوں کو اپنے گھر بلاتے، خاطر تواضع کرتے اور غیر ملکی
سرزمیں اور سنسنی خیز مہم جوئی کی کہانیاں سناتے۔ وہ انہیں افریقہ کی زندگی، قطب
شمالی کی دریافت، برازیل کی انسان خور مچھلیوں، اور سمندر میں غرق ہو جانے والے
براعظم ایٹلانٹس کے بارے میں بتاتے۔ وہ ایک بہترین داستان گو تھے اور ان کے سامعین
سحر زدہ ہو جاتے۔
ہفتے کے اختتام پر، بونکو
بابو شام کا وقت دوسرے مستقل حاضری دینے والوں کے ساتھ گزارنے کے لیے وکیل سریپتی
مجمدار کے گھر جاتے۔ کئی بار وہ یہ سوچتے ہوئے واپس لوٹے تھے کہ "بس، اب بہت
ہو گیا، پھر کبھی نہیں!" اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ اسکول کے بچوں کی
شرارتیں تو برداشت کر سکتے تھے، لیکن جب بڑے، یہاں تک کہ ادھیڑ عمر کے مرد ان کا
مذاق اڑانے لگتے، تو یہ برداشت سے باہر ہو جاتا۔ سریپتی بابو کی ان شام کی محفلوں
میں تقریباً ہر شخص بونکو بابو کا مذاق اڑاتا، جس سے بونکو بابو کے صبر کا پیمانہ
لبریز ہونے لگتا۔
ابھی اس دن—دو مہینے سے
بھی کم وقت پہلے—وہ بھوتوں کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ عام طور پر بونکو بابو
خاموش ہی رہتے تھے۔ اس دن، کسی نامعلوم وجہ سے، انہوں نے زبان کھولی اور اعلان کیا
کہ وہ بھوتوں سے نہیں ڈرتے۔ بس اتنا کہنا ہی تھا کہ دوسروں کو ایک سنہرا موقع مل
گیا۔ اس رات بعد میں جب وہ واپس جا رہے تھے، بونکو بابو پر ایک "چڑیل
سائے" نے حملہ کر دیا۔ جیسے ہی وہ املی کے ایک درخت کے پاس سے گزر رہے تھے،
ایک لمبا، پتلا ڈوبتا ہوا سایہ نیچے کودا اور ان کی پیٹھ پر سوار ہو گیا۔ اتفاق
سے، اس سائے نے اپنے پورے جسم پر سیاہ روشنائی مل رکھی تھی، غالباً محفل میں سے ہی
کسی کے مشورے پر۔
بونکو بابو خوفزدہ نہیں
ہوئے، لیکن وہ زخمی ضرور ہوئے۔ تین دن تک ان کی گردن میں درد رہا۔ سب سے بری بات
یہ تھی کہ ان کا نیا کرتہ پھٹ گیا تھا اور اس پر سیاہ دھبے لگ گئے تھے۔ یہ کس قسم
کا مذاق تھا؟
ان پر کم سنگین نوعیت کے
دیگر "مذاق" بھی کیے جاتے تھے۔ کبھی ان کی چھتری یا جوتے چھپا دیے جاتے؛
کبھی پان میں مسالے کے بجائے دھول بھر کر ان کے ہاتھ میں تھما دی جاتی؛ یا پھر
انہیں زبردستی گانے پر مجبور کیا جاتا۔
اس کے باوجود، بونکو بابو
کو ان ملاقاتوں میں آنا پڑتا تھا۔ اگر وہ نہ آتے، تو سریپتی بابو کیا سوچتے؟ وہ نہ
صرف گاؤں کے ایک بہت اہم شخص تھے، بلکہ وہ بونکو بابو کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے
تھے۔ سریپتی مجمدار کے مطابق، محفل میں ایک ایسا شخص ہونا ضروری تھا جو تمسخر کا
نشانہ بنے اور سب کی تفریح کا سامان کرے۔ ورنہ محفل جمانے کا کیا فائدہ؟ چنانچہ
بونکو بابو کو بلا ہی لیا جاتا، چاہے وہ دور رہنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں۔
ایک خاص دن، گفتگو کا
موضوع کافی اونچی سطح کا تھا—یعنی وہ سیارچوں
(Satellites) کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ غروب آفتاب کے
کچھ ہی دیر بعد، شمالی آسمان میں روشنی کا ایک چلتا ہوا نقطہ دیکھا گیا تھا ۔ تین
ماہ پہلے بھی ایسی ہی ایک روشنی دیکھی گئی تھی، جس پر کافی قیاس آرائیاں ہوئی
تھیں۔ آخر کار معلوم ہوا کہ وہ ایک روسی سیارہ تھا، جسے کھوٹکا—یا شاید فوشکا—کہا
جاتا تھا۔ بہرحال، یہ سیارہ زمین کے گرد 400 میل کی بلندی پر چکر لگا رہا تھا اور
سائنسدانوں کو کافی قیمتی معلومات فراہم کر رہا تھا۔
اس شام، بونکو بابو نے سب
سے پہلے اس عجیب و غریب روشنی کو دیکھا تھا۔ پھر انہوں نے نیدھو بابو کو بلا کر
دکھایا۔ تاہم، جب وہ محفل میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ نیدھو بابو نے بڑی بے شرمی سے
سب سے پہلے دیکھنے کا پورا کریڈٹ خود لے لیا تھا اور کافی ڈینگیں مار رہے تھے۔
بونکو بابو کچھ نہ بولے۔
سیارچوں کے بارے میں کوئی
زیادہ نہیں جانتا تھا، لیکن انہیں اپنی رائے دینے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ چندی
بابو نے کہا، "آپ جو چاہیں کہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں سیارچوں کی فکر
میں اپنا وقت ضائع کرنا چاہیے۔ کوئی آسمان کے کسی گمنام کونے میں روشنی کا ایک
نقطہ دیکھتا ہے، اور پریس والے جذباتی ہو جاتے ہیں۔ پھر ہم ایک رپورٹ پڑھتے ہیں، کہتے
ہیں کہ یہ سب کتنا چالاکانہ ہے، اپنے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر پان چباتے ہوئے اس
پر بات کرتے ہیں، اور یوں برتاؤ کرتے ہیں جیسے ہم نے کوئی معرکہ مار لیا ہو۔ فضول
باتیں!"
رام کنائی نے اس بات کی
تردید کی۔ وہ ابھی جوان تھا۔ "نہیں۔ ہو سکتا ہے ہم میں سے کسی نے نہ کیا ہو،
لیکن یہ انسان کی کامیابی تو ہے نا؟ اور واقعی ایک بڑی کامیابی ہے۔"
"ارے
رہنے بھی دو! ظاہر ہے یہ انسان کی کامیابی ہے... انسانوں کے علاوہ سیارہ کون بنائے
گا؟ تم بندر کے بچوں سے تو یہ امید نہیں رکھ سکتے، ہے نا؟"
"چلو
ٹھیک ہے،" نیدھو بابو نے کہا، "سیارچوں کی بات نہیں کرتے۔ آخرکار، یہ
صرف ایک مشین ہے، جو زمین کے گرد گھوم رہی ہے۔ کسی لٹو سے مختلف نہیں ہے۔ اگر آپ
لٹو کو گھما دیں تو وہ گھومنے لگے گا؛ یا اگر آپ سوئچ دبائیں تو پنکھا گھومنا شروع
کر دے گا۔ سیارہ بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن ایک راکٹ کے بارے میں سوچو۔ اسے اتنی آسانی
سے رد نہیں کیا جا سکتا، ہے نا؟"
چندی بابو نے ناک چڑہائی۔
"راکٹ؟ کیوں، راکٹ کا کیا فائدہ ہے؟ ٹھیک ہے، اگر کوئی ہمارے ملک میں بنتا،
کلکتہ کے میدان سے اڑان بھرتا، اور ہم سب ٹکٹ خرید کر یہ شو دیکھنے جاتے... تو
ہاں، وہ اچھی بات ہوتی۔ لیکن..."
"تم
صحیح کہتے ہو،" رام کنائی نے اتفاق کیا۔ "ایک راکٹ کا ہمارے لیے یہاں
کوئی مطلب نہیں ہے۔"
بھیرؤ چکرورتی نے اگلی
بات کی۔ "فرض کرو اگر کسی دوسرے سیارے سے کوئی مخلوق زمین پر آ جائے تو...؟"
"تو
کیا؟ اگر وہ آ بھی جائے، تو تم اور میں اسے کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔"
"ہاں،
یہ بات تو سچ ہے۔"
سب کی توجہ چائے کے
پیالیوں کی طرف منتقل ہو گئی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اب کہنے کو کچھ باقی نہیں رہا۔
خاموشی کے چند لمحوں کے بعد، بونکو بابو نے اپنا گلا صاف کیا اور نرمی سے کہا،
"فرض کریں... فرض کریں وہ یہاں آ جائیں؟"
نیدھو بابو نے مکمل حیرت
کا ڈرامہ رچایا۔ "ارے، بنکم کچھ کہنا چاہتا ہے! تم نے کیا کہا بنکم؟ کون یہاں
آنے والا ہے؟ کہاں سے؟"
بونکو بابو نے اپنے الفاظ
دہرائے، ان کا لہجہ اب بھی نرم تھا: "فرض کریں کسی دوسرے سیارے سے کوئی شخص
یہاں آ جائے؟"
حسبِ عادت، بھیرؤ چکرورتی
نے بونکو بابو کی پیٹھ پر زور سے اور بدتمیزی سے تھپکی دی، بتیسی نکالی اور کہا،
"واہ! کیا بات کہی ہے! دوسرے سیارے کی مخلوق کہاں اترنے والی ہے؟ ماسکو نہیں،
لندن نہیں، نیویارک نہیں، کلکتہ بھی نہیں، بلکہ یہاں؟ کانکورگاچھی میں؟ تم تو
واقعی بہت بڑا سوچتے ہو!"
بونکو بابو خاموش ہو گئے۔
لیکن ان کے ذہن میں کئی سوال اٹھے۔ کیا یہ واقعی ناممکن تھا؟ اگر کسی خلائی مخلوق (Alien) کو زمین کی سیر کرنی
ہوتی، تو کیا واقعی اس سے فرق پڑتا تھا کہ وہ پہلے کہاں پہنچتا ہے؟ اس کا مقصد
شاید دنیا کے کسی دوسرے حصے میں سیدھا جانا نہ ہو۔ ٹھیک ہے، اس بات کا امکان بہت
کم تھا کہ ایسا واقعہ کانکورگاچھی میں پیش آئے گا، لیکن کون یقینی طور پر کہہ سکتا
تھا کہ ایسا بالکل نہیں ہو سکتا؟
سریپتی بابو اب تک خاموش
تھے۔ اب، جیسے ہی وہ اپنی نشست پر ہل جل ہوئے، سب نے ان کی طرف دیکھا۔ انہوں نے
اپنا کپ نیچے رکھا اور دانشمندانہ انداز میں بولے: "دیکھو، اگر کوئی دوسرے
سیارے سے زمین پر آتا ہے، تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ اس خدا کی ماری ہوئی
جگہ پر نہیں آئے گا۔ وہ لوگ احمق نہیں ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ وہ صاحب لوگ (گورے)
ہیں، اور وہ کسی مغربی ملک میں اتریں گے، جہاں تمام صاحب رہتے ہیں۔ سمجھے؟"
بونکو بابو کے علاوہ ہر شخص
نے اتفاق کیا۔ چندی بابو نے بات کو تھوڑا آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے
خاموشی سے نیدھو بابو کو کوہنی ماری، بونکو بابو کی طرف اشارہ کیا اور معصومیت سے
بولے: "کیوں، مجھے لگتا ہے بونکو بالکل صحیح کہہ رہا ہے۔ کیا یہ فطری نہیں ہے
کہ خلائی مخلوق کسی ایسی جگہ آنا چاہے جہاں ہمارے بونکو بہاری جیسا آدمی رہتا ہو؟
اگر وہ کسی نمونے (Specimen) کو
لے جانا چاہتے، تو کیا انہیں اس سے بہتر کچھ مل سکتا تھا؟"
"نہیں۔
مجھے نہیں لگتا!" نیدھو بابو شامل ہوئے۔ "ان کی شکل و صورت پر غور کریں،
ان کے دماغ کی تو بات ہی چھوڑ دیں... ہاں، بنکم ایک بہترین نمونہ ہے!"
"بالکل۔
کسی عجائب گھر میں رکھنے کے لیے مناسب۔ یا کسی چڑیا گھر میں،" رام کنائی نے
لقمیہ دیا۔
بونکو بابو نے کوئی جواب
نہیں دیا، لیکن دل ہی دل میں سوچا: اگر کوئی نمونے کی تلاش میں ہوتا، تو کیا دوسرے
بھی اتنے ہی مناسب نہیں تھے؟ سریپتی بابو کو ہی دیکھ لیں۔ ان کی ٹھوڑی اونٹ جیسی
تھی۔ اور وہ بھیرؤ چکرورتی، اس کی آنکھیں کچھوئے کی آنکھوں جیسی تھیں۔ نیدھو بابو
چھچھوندر کی طرح لگتے تھے، رام کنائی بکری کی طرح، اور چندی بابو چمگادڑ کی طرح۔
اگر واقعی کسی چڑیا گھر کو بھرنا ہوتا تو...
ان کی آنکھوں میں آنسو آ
گئے۔ بونکو بابو محفل میں اس امید سے آئے تھے کہ ایک بار کے لیے لطف اندوز ہوں گے۔
لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔ وہ اب یہاں مزید نہیں رک سکتے تھے۔ وہ اپنے قدموں
پر کھڑے ہو گئے۔
"کیوں،
کیا بات ہے؟ کیا تم اتنی جلدی جا رہے ہو؟" سریپتی بابو نے فکر مندانہ انداز
میں پوچھا۔
"ہاں،
دیر ہو رہی ہے۔"
"دیر؟
ارے، ابھی بالکل دیر نہیں ہوئی۔ ویسے بھی کل چھٹی ہے۔ بیٹھو، تھوڑی اور چائے پیو۔"
"نہیں۔
شکریہ۔ مجھے جانا چاہیے۔ مجھے کچھ پرچے چیک کرنے ہیں۔ نمسکار۔"
"دھیان
سے جانا، بونکو دا،" رام کنائی نے خبردار کیا، "آج چاندنی کے بغیر رات
ہے، یاد رکھنا۔ اور آج ہفتہ ہے۔ بھوتوں اور سائیوں کے لیے بہت منحوس/موزوں رات ہے!"
بونکو بابو نے اس وقت روشنی
دیکھی جب وہ بانس کے جنگل سے تقریباً آدھے راستے پر تھے۔ پونچا گھوش اس پورے علاقے
کا مالک تھا۔ بونکو بابو نے کوئی ٹارچ یا لالٹین نہیں لے رکھی تھی۔ اس کی ضرورت
بھی نہیں تھی۔ سانپوں کے باہر نکلنے کے لیے بہت سردی تھی، اور وہ اپنا راستہ بہت
اچھی طرح جانتے تھے۔ عام طور پر، زیادہ لوگ یہ راستہ نہیں لیتے تھے، لیکن یہ ان کے
لیے ایک چھوٹا راستہ (Short-cut) تھا۔
پچھلے کچھ منٹوں میں وہ
کسی غیر معمولی بات سے آگاہ ہوئے تھے۔ پہلے تو وہ اس پر انگلی نہیں رکھ سکے۔ کسی
نہ کسی طرح، آج رات چیزیں مختلف تھیں۔ کیا غلط تھا؟ کیا غائب تھا؟ اچانک، انہیں
احساس ہوا کہ جینگور خاموش تھے۔ ایک بھی نہیں چہچہا رہا تھا۔ عام طور پر، جیسے
جیسے وہ بانس کے جنگل میں گہرے جاتے، جینگوروں کی آواز تیز ہوتی جاتی تھی۔ آج صرف
ایک خوفناک خاموشی تھی۔ جینگوروں کو کیا ہو گیا تھا؟ کیا وہ سب سو گئے تھے؟
الجھن میں پڑے بونکو بابو
مزید بیس گز چلے، اور پھر انہوں نے روشنی دیکھی۔ پہلے تو انہوں نے سوچا کہ آگ لگ
گئی ہے۔ بانس کے جنگل کے بالکل وسط میں، ایک چھوٹے سے تالاب کے قریب کھلی جگہ پر،
ایک بڑا علاقہ گلابی رنگ سے چمک رہا تھا۔ ایک مدھم روشنی ہر شاخ اور ہر پتے پر چمک
رہی تھی۔ نیچے، تالاب کے پیچھے کی زمین اس سے کہیں زیادہ تیز گلابی روشنی سے روشن
تھی۔ لیکن یہ آگ نہیں تھی، کیونکہ یہ ساکت تھی۔
بونکو بابو چلتے رہے۔
جلد ہی، ان کے کان سائیں
سائیں کرنے لگے۔ انہیں ایسا لگا جیسے کوئی بلند آواز میں گنگنا رہا ہو—ایک لمبی،
مسلسل آواز—جسے روکنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ بونکو بابو کے روئیں کھڑے ہو گئے،
لیکن ایک ناقابلِ ضبط تجسس انہیں مزید آگے لے گیا۔
جیسے ہی وہ بانس کے تنے
کے ایک جھرمٹ کے پاس سے گزرے، ایک شے نظر آئی۔ یہ شے شیشے کے ایک بہت بڑے پیالے
جیسی لگ رہی تھی، جو الٹا رکھا ہوا تھا اور تالاب کو پوری طرح ڈھانپے ہوئے تھا۔ اس
کے نیم شفاف سایہ دار شیشے میں سے ہی ایک تیز، لیکن نرم گلابی روشنی نکل رہی تھی،
جس نے پورے علاقے کو منور کر دیا تھا۔
خواب میں بھی بونکو بابو
نے ایسا عجیب منظر نہیں دیکھا تھا۔
کچھ منٹوں تک حیرت سے اسے
گھورنے کے بعد، انہوں نے محسوس کیا کہ اگرچہ وہ شے ساکت تھی، لیکن وہ بے جان نظر
نہیں آتی تھی۔ اس میں ہلکی سی تھر تھراہٹ تھی؛ اور شیشے کا وہ گنبد اوپر نیچے ہو
رہا تھا، بالکل اسی طرح جیسے سانس لیتے وقت کسی کا سینہ پھولتا اور بیٹھتا ہے۔
انہوں نے بہتر طور پر
دیکھنے کے لیے چند قدم بڑھائے، لیکن اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے جسم سے بجلی
کا کرنٹ گزر گیا ہو۔ اگلے ہی لمحے، وہ مکمل طور پر ساکت ہو گئے۔ ان کے ہاتھ اور
پاؤں ایک نادیدہ رسی سے باندھ دیے گئے تھے۔ ان کے جسم میں کوئی طاقت نہیں بچی تھی۔
وہ نہ آگے بڑھ سکتے تھے، نہ پیچھے۔
کچھ لمحوں بعد، بونکو بابو
نے—جو ابھی بھی اسی جگہ سختی سے کھڑے تھے—دیکھا کہ اس شے نے آہستہ آہستہ
"سانس لینا" بند کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی، ان کے کانوں میں سائیں سائیں کی
آواز ختم ہو گئی اور گنگناہٹ بند ہو گئی۔ ایک سیکنڈ بعد، ایک آواز ابھری، جس نے
رات کی خاموشی کو پارہ پارہ کر دیا۔ یہ انسان کی طرح لگتی تھی، لیکن غیر معمولی
طور پر باریک تھی۔
"میلیپی-پنگ
کروک! میلیپی-پنگ کروک!" اس نے بلند آواز میں کہا۔ بونکو بابو چونک اٹھے۔ اس
کا کیا مطلب تھا؟ یہ کون سی زبان تھی؟ اور بولنے والا کہاں تھا؟
اگلے الفاظ جو اس آواز نے
ادا کیے، انہوں نے ان کے دل کو دوبارہ دھڑکا دیا۔ "تم کون ہو؟ تم کون ہو؟"
ارے، یہ تو انگریزی کے
الفاظ تھے! کیا یہ سوال ان سے پوچھا گیا تھا؟ بونکو بابو نے تھوک نگلا۔ "میں
بونکو بہاری دت ہوں، جناب۔ بونکو بہاری دت،" انہوں نے جواب دیا۔
"کیا
تم انگریز ہو؟ کیا تم انگریز ہو؟" آواز جاری رہی۔ "نہیں۔ جناب!"
بونکو بابو نے واپس چلاتے ہوئے کہا۔ "بنگالی، جناب۔ ایک بنگالی کائستھ۔"
اس کے بعد ایک مختصر وقفہ
آیا۔ پھر آواز واپس آئی، صاف بولتے ہوئے: "نمسکار!"
بونکو بابو نے سکون کا
سانس لیا اور سلام کا جواب دیا۔ "نمسکار!" انہوں نے کہا، اچانک یہ محسوس
کرتے ہوئے کہ جن نادیدہ بندھنوں نے انہیں سختی سے جکڑ رکھا تھا، وہ غائب ہو گئے
تھے۔ وہ بھاگنے کے لیے آزاد تھے، لیکن وہ نہیں بھاگے۔ اب ان کی حیران آنکھیں دیکھ
سکتی تھیں کہ شیشے کے گنبد کا ایک حصہ ایک طرف کھسک رہا تھا، اور دروازے کی طرح
کھل رہا تھا۔
اس دروازے سے ایک سر
نمودار ہوا—ایک سادہ، ہموار گیند کی طرح—اور پھر ایک عجیب مخلوق کا جسم۔ اس کے
ہاتھ اور ٹانگیں حیرت انگیز طور پر پتلی تھیں۔ اس کے سر کے علاوہ، اس کا پورا جسم
ایک چمکدار، گلابی لباس سے ڈھکا ہوا تھا۔ کانوں کے بجائے، اس کے سر کے دونوں طرف
ایک چھوٹا سا سوراخ تھا۔ اس کے چہرے پر دو سوراخ تھے جہاں ناک ہونی چاہیے تھی، اور
منہ کے بجائے ایک اور بڑا سوراخ تھا۔ کہیں بھی بالوں کا کوئی نشان نہیں تھا۔ اس کی
آنکھیں گول اور چمکدار پیلی تھیں۔ وہ اندھیرے میں چمکتی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔
وہ مخلوق آہستہ آہستہ بونکو
بابو کی طرف بڑھی، اور صرف چند فٹ کے فاصلے پر رک گئی۔ پھر اس نے انہیں ایک تکٹکی
باندھ کر، بغیر پلک جھپکائے دیکھا۔ خود بخود، بونکو بابو نے اپنے ہاتھ جوڑ لیے۔
تقریباً ایک منٹ تک انہیں گھورنے کے بعد، وہ اسی آواز میں بولی کسی بھی اور چیز سے زیادہ بانسری کی طرح لگتی
تھی: "کیا تم انسان ہو؟"
"ہاں۔"
"کیا
یہ زمین ہے؟"
"ہاں۔"
"آہ،
میں نے بھی یہی سوچا تھا۔ میرے آلات ٹھیک سے کام نہیں کر رہے ہیں۔ مجھے پلوٹو (Pluto) جانا تھا۔ مجھے یقین نہیں
تھا کہ میں کہاں اترا ہوں، اس لیے میں نے پہلے آپ سے اس زبان میں بات کی جو وہ
پلوٹو پر استعمال کرتے ہیں۔ جب آپ نے جواب نہیں دیا، تو میں سمجھ گیا کہ میں زمین
پر اترا ہوں۔ وقت اور کوشش کا مکمل ضیاع۔ ایسا پہلے بھی ایک بار ہوا تھا۔ مریخ (Mars) جانے کے بجائے، میں راستہ
بھٹک کر مشتری (Jupiter) پر
چلا گیا۔ اس نے مجھے پورا ایک دن لیٹ کر دیا تھا، ہیہ ہیہ ہیہ!"
بونکو بابو کو سمجھ نہیں
آرہا تھا کہ کیا کہیں۔ وہ کافی بے آرامی محسوس کر رہے تھے، کیونکہ اس مخلوق نے
اپنی لمبی، پتلی انگلیوں سے ان کے بازوؤں اور ٹانگوں کو دبانا شروع کر دیا تھا۔ جب
وہ فارغ ہوا تو اس نے اپنا تعارف کرایا۔ "میں اینگ
(Ang) ہوں، سیارہ کرینیئس
(Craneus) سے۔ انسان سے کہیں زیادہ اعلیٰ مخلوق۔"
کیا! یہ مخلوق، بمشکل چار
فٹ لمبی، اتنے پتلے اعضاء اور عجیب چہرے والی، انسان سے برتر تھی؟ بونکو بابو کی
بس ہنسی چھوٹنے ہی والی تھی۔ اینگ نے فوراً ان کا ذہن پڑھ لیا۔ "اتنا شک کرنے
کی ضرورت نہیں ہے۔ میں یہ ثابت کر سکتا ہوں۔ تم کتنی زبانیں جانتے ہو؟"
بونکو بابو نے اپنا سر کھجایا۔
"بنگالی، انگریزی اور... ارے... ہندی... تھوڑی سی ہندی... میرا مطلب ہے..."
"تمہارا
مطلب ہے ڈھائی؟"
"ہاں۔"
"میں
14,000 زبانیں جانتا ہوں۔ تمہارے شمسی نظام
(Solar System) میں ایک بھی ایسی زبان نہیں ہے جو میں
نہ جانتا ہوں۔ میں تمہارے نظام سے باہر کے سیاروں پر بولی جانے والی اکتیس زبانیں
بھی جانتا ہوں۔ میں ان میں سے پچیس سیاروں پر جا چکا ہوں۔ تمہاری عمر کتنی ہے؟"
"میں
پچاس سال کا ہوں۔"
"میں
833 سال کا ہوں۔ کیا تم جانور کھاتے ہو؟"
بونکو بابو نے حال ہی
میں، کالی پوجا کے دن ہی گوشت کا سالن کھایا تھا۔ وہ اس سے کیسے انکار کر سکتے
تھے؟
"ہم
نے چند صدیاں پہلے گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا،" اینگ نے انہیں بتایا۔ "اس
سے پہلے، ہم زیادہ تر مخلوقات کا گوشت کھاتے تھے۔ ہو سکتا ہے میں تمہیں بھی کھا
جاتا۔"
بونکو بابو نے مشکل سے تھوک
نگلا۔
"اسے
دیکھو!" اینگ نے انہیں ایک چھوٹی سی شے پیش کی۔ یہ ایک کنکر کی طرح لگتی تھی۔
بونکو بابو نے ایک پل کے لیے اسے چھوا، اور محسوس کیا کہ وہی بجلی کا کرنٹ ان کے
جسم سے گزرا۔ انہوں نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
اینگ مسکرایا۔ "کچھ
دیر پہلے، تم ایک انچ بھی نہیں ہل سکتے تھے۔ جانتے ہو کیوں؟ یہ صرف اس لیے تھا کہ
میرے ہاتھ میں یہ چھوٹی سی چیز تھی۔ یہ کسی کو بھی بغیر کسی جسمانی نقصان کے،
بالکل بے بس کرنے میں اس سے زیادہ موثر کچھ نہیں ہو سکتا۔"
اب بونکو بابو واقعی
حیران رہ گئے۔ ان کا ذہن اب کافی کم سن ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
اینگ نے کہا، "کیا
کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تم جانے کی تمنا رکھتے ہو، یا کوئی ایسا منظر جو تم عرصے سے
دیکھنا چاہتے ہو، لیکن کبھی دیکھ نہ سکے ہو؟"
بونکو بابو نے سوچا: کیوں،
پوری دنیا دیکھنا باقی تھی! وہ جغرافیہ پڑھاتے تھے، لیکن انہوں نے بنگال کے چند
دیہاتوں اور شہروں کے علاوہ کیا دیکھا تھا؟ بنگال میں ہی اتنا کچھ تھا جو انہوں نے
کبھی نہیں دیکھا تھا۔ برفیلا ہمالیہ، دیگھا میں سمندر، سندر بن کے جنگلات، یا شیب
پور کا وہ مشہور برگد کا درخت۔
تاہم، انہوں نے ان خیالات
میں سے کسی کا ذکر اینگ سے نہیں کیا۔ "بہت کچھ ہے جو میں دیکھنا چاہوں
گا،" انہوں نے آخر کار اعتراف کیا، "لیکن سب سے بڑھ کر... مجھے لگتا ہے
کہ میں قطب شمالی کی سیر کرنا چاہوں گا۔ آپ جانتے ہیں، میں ایک گرم ملک سے تعلق
رکھتا ہوں، اس لیے..."
اینگ نے ایک چھوٹی سی
ٹیوب نکالی، جس کا ایک سرا شیشے کے ٹکڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔ "اس میں سے
دیکھو!" اینگ نے دعوت دی۔ بونکو بابو نے شیشے سے جھانکا، اور محسوس کیا کہ ان
کے تمام روئیں کھڑے ہو گئے ہیں۔ کیا یہ سچ ہو سکتا تھا؟ کیا وہ واقعی اپنی آنکھوں
پر یقین کر سکتے تھے؟ ان کے سامنے برف کا ایک لامحدود پھیلاؤ تھا، جس میں بڑے بڑے
ڈیلے تھے، وہ بھی برف سے ڈھکے ہوئے۔ ان کے اوپر، ایک گہرے نیلے آسمان کے پس منظر
میں، قوسی قزح کے تمام رنگ مختلف پیٹرن بنا رہے تھے، جو ہر سیکنڈ بدل رہے تھے۔
شفقِ شمالی (Aurora Borealis)! وہ
کیا تھا؟ ایک اگلو (Igloo)۔
وہاں قطبی ریچھوں کا ایک گروہ تھا۔ ٹھہریں، وہاں ایک اور جانور تھا۔ ایک عجیب،
مختلف مخلوق... ہاں! وہ ایک والرس (Walrus) تھا۔
درحقیقت وہاں دو تھے۔ اور وہ لڑ رہے تھے۔ ان کے دانت ننگے تھے—مولیوں کی طرح
بڑے—اور وہ ایک دوسرے پر حملہ کر رہے تھے۔ روشن سرخ خون کے دھارے نرم سفید برف پر
بہہ رہے تھے...
یہ دسمبر کا مہینہ تھا،
اور بونکو بابو برف کی تہو کے نیچے چھپے ہوئے علاقے کو دیکھ رہے تھے۔ پھر بھی، ان
کے پسینے چھوٹ گئے۔
"برازیل
کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا تم وہاں نہیں جانا چاہتے؟" اینگ نے پوچھا۔
بونکو بابو کو فوراً یاد آیا—پیرانہا (Piranhas)، وہ مہلک گوشت خور مچھلیاں! حیرت انگیز۔ اس
اینگ کو کیسے معلوم ہوا کہ وہ کیا دیکھنا چاہیں گے؟
بونکو بابو نے دوبارہ ٹیوب
کے ذریعے جھانکا۔ وہ ایک گھنا جنگل دیکھ سکتے تھے۔ گھنی پتوں کے درمیان سے سورج کی
صرف تھوڑی سی چھنی ہوئی روشنی اندر آئی تھی۔ وہاں ایک بہت بڑا درخت تھا، اور ایک
شاخ سے لٹکا ہوا... وہ کیا تھا؟ اے خدا، وہ اتنے بڑے سانپ کا تصور بھی نہیں کر
سکتے تھے۔ ایناکونڈا! یہ نام ان کے ذہن میں کوندا۔ ہاں، انہوں نے اس کے بارے میں
کہیں پڑھا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ اژدہے سے بھی بہت، بہت بڑا ہوتا ہے۔
لیکن مچھلی کہاں تھی؟
اوہ، یہاں ایک نہر تھی۔ مگرمچھ اس کے کناروں پر قطار بنائے دھوپ میں سو رہے تھے۔
ان میں سے ایک ہلا۔ وہ پانی میں جانے والا تھا۔ چھپاک! بونکو بابو تقریباً اس کی
آواز سن سکتے تھے۔ لیکن... وہ کیا تھا؟ مگرمچھ بہت تیزی سے پانی سے باہر کود پڑا
تھا۔ کیا... کیا یہ وہی ہو سکتا ہے جو صرف کچھ سیکنڈ پہلے اندر گیا تھا؟ اپنی
آنکھیں پھاڑے، بونکو بابو نے نوٹ کیا کہ مگرمچھ کے پیٹ پر تقریباً کوئی گوشت نہیں
بچا تھا، ہڈیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ باقی ماندہ گوشت سے پانچ مچھلیاں جڑی ہوئی
تھیں جن کے دانت حیرت انگیز طور پر تیز تھے اور زبردست بھوک تھی۔ پیرانہا!
بونکو بابو مزید نہیں
دیکھ سکے تھے۔ ان کے اعضاء کانپ رہے تھے، ان کا سر درد سے چکرا رہا تھا۔
"کیا
اب تم مانتے ہو کہ ہم برتر ہیں؟" اینگ جاننا چاہتا تھا۔
بونکو بابو نے اپنے خشک ہونٹوں
پر زبان پھیری۔ "ہاں۔ اوہ ہاں۔ بالکل۔ یقیناً!" وہ دبی آواز میں بولے۔
"بہت
اچھے۔ دیکھو، میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔ اور میں نے تمہارے بازوؤں اور ٹانگوں کا
معائنہ کیا ہے۔ تم ایک بہت ہی کمتر نوع سے تعلق رکھتے ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
تاہم، بحیثیت انسان، تم اتنے برے نہیں ہو المعنیٰ۔ میرا مطلب ہے، تم ایک اچھے آدمی
ہو۔ لیکن تمہاری ایک بڑی غلطی ہے۔ تم بہت زیادہ نرم اور مسکین ہو المعنیٰ۔ یہی وجہ
ہے کہ تم نے زندگی میں اتنی کم ترقی کی ہے۔ تمہیں ہمیشہ ناانصافی کے خلاف بولنا
چاہیے، اور اگر کوئی تمہیں بلاوجہ نقصان پہنچائے یا تمہاری توہین کرے تو احتجاج
کرنا چاہیے۔ اسے خاموشی سے برداشت کرنا غلط ہے، نہ صرف انسان کے لیے، بلکہ کہیں
بھی کسی بھی مخلوق کے لیے۔ بہرحال، تم سے مل کر اچھا لگا، اگرچہ مجھے اس وقت یہاں
نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تمہاری زمین پر مزید وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
مجھے اب جانا چاہیے۔"
"خدا
حافظ، مسٹر اینگ۔ مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی..."
بونکو بابو اپنا جملہ پورا
نہ کر سکے۔ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں، اس سے پہلے کہ وہ سمجھ پاتے کہ کیا ہو
رہا ہے، اینگ اپنے خلائی جہاز میں کودا اور پونچا گھوش کے بانس کے جنگل کے اوپر
اٹھ گیا۔ پھر وہ مکمل طور پر غائب ہو گیا۔ بونکو بابو نے محسوس کیا کہ جینگوروں نے
دوبارہ چہچہانا شروع کر دیا تھا۔ واقعی کافی دیر ہو چکی تھی۔
بونکو بابو نے اپنے گھر کی
طرف دوبارہ چلنا شروع کیا، ان کا ذہن ابھی بھی ایک حیرت انگیز دھند میں تھا۔ آہستہ
آہستہ، حالیہ واقعات کے تمام اثرات ذہن میں بیٹھنے لگے۔ ایک شخص—نہیں۔ وہ شخص نہیں
تھا، وہ اینگ تھا—کسی نامعلوم سیارے سے یہاں آیا، کون جانتا ہے کہ کسی نے کبھی اس
کا نام بھی سنا تھا یا نہیں، اور اس سے بات کی۔ کتنا غیر معمولی! کتنا مکمل طور پر
ناقابل یقین! دنیا میں اربوں انسان تھے۔ لیکن اس شاندار تجربے کا موقع کسے ملا؟
بونکو بہاری دت، کانکورگاچھی پرائمری اسکول میں جغرافیہ اور بنگالی کے استاد۔ کسی
اور کو نہیں۔ آج سے، کم از کم اس خاص معاملے میں، وہ اس پوری دنیا میں منفرد تھے۔
بونکو بابو نے محسوس کیا
کہ وہ اب صرف چل نہیں رہے تھے۔ ہر قدم میں ایک لچک کے ساتھ، وہ درحقیقت ناچ رہے
تھے۔
اگلا دن اتوار تھا۔ تمام لوگ
سریپتی بابو کے گھر اپنی معمول کی محفل کے لیے جمع ہو چکے تھے۔ مقامی اخبار میں
ایک عجیب روشنی کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی، لیکن یہ صرف ایک چھوٹی سی
رپورٹ تھی۔ یہ روشنی بنگال میں صرف دو جگہوں پر چند لوگوں نے دیکھی تھی۔ اس لیے
اسے اڑن طشتریوں (Flying Saucers) کے
مشاہدات کے زمرے میں ہی رکھا جا رہا تھا۔
آج رات پونچا گھوش بھی
محفل میں موجود تھا۔ وہ اپنے بانس کے جنگل کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ لکڑی کے
وسط میں تالاب کے ارد گرد کے تمام بانس کے پتے جھڑ گئے تھے۔ سردیوں میں پتوں کا
گرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، لیکن اتنے سارے پودوں کا راتوں رات مکمل طور
پر ننگا ہو جانا یقیناً ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔
سب لوگ اس کے بارے میں
بات کر ہی رہے تھے کہ اچانک بھیرؤ چکرورتی نے کہا، "آج بونکو کو اتنی دیر
کیوں ہو رہی ہے؟"
سب نے بات کرنا بند کر دی۔
اب تک، کسی نے بونکو بابو کی عدم موجودگی پر توجہ نہیں دی تھی۔
"مجھے
نہیں لگتا کہ بنکم آج یہاں اپنا منہ دکھائے گا۔ کیا کل جب اس نے منہ کھولنے کی
کوشش کی تھی تو اسے ڈانٹ نہیں پڑی تھی؟" نیدھو بابو نے کہا۔
"نہیں۔
نہیں،" سریپتی بابو فکر مند نظر آئے، "ہمیں بونکو کو بلانا چاہیے۔ رام
کنائی، جاؤ اور دیکھو کہ کیا تم اسے لا سکتے ہو۔"
"ٹھیک
ہے، میں چائے پینے کے بعد چلا جاؤں گا،" رام کنائی نے جواب دیا اور جیسے ہی
وہ ایک گھونٹ لینے والا تھا، بونکو بابو کمرے میں داخل ہوئے۔
نہیں۔ 'داخل ہوئے' کہنا
غلط ہوگا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ایک چھوٹا سا طوفان ایک چھوٹے، سانولے آدمی کے روپ
میں اندر آ گیا ہو، جس نے سب کو حیرت زدہ خاموشی میں مبتلا کر دیا۔
پھر انہوں نے عمل شروع کیا۔
بونکو بابو نے ایک زوردار قہقہہ لگایا، اور پورے ایک منٹ تک اتنی زور سے ہنسے کہ
ایسا قہقہہ پہلے کسی نے نہیں سنا تھا، خود بونکو بابو نے بھی نہیں۔
جب وہ بالآخر ہنسی روک
سکے، تو انہوں نے اپنا گلا صاف کیا اور بولنا شروع کیا:
"دوستو!
مجھے یہ بتاتے ہوئے بڑی مسرت ہو رہی ہے کہ یہ آخری بار ہے جب آپ مجھے اپنی محفل
میں دیکھ رہے ہیں۔ آج میرے یہاں آنے کی واحد وجہ صرف یہ ہے کہ میں جانے سے پہلے آپ
کو چند باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ نمبر ایک—یہ آپ سب کے لیے ہے—آپ بہت زیادہ فضول
باتیں کرتے ہیں۔ صرف احمق ہی ان باتوں کے بارے میں بولتے ہیں جن کے بارے میں وہ
کچھ نہیں جانتے۔ نمبر دو—یہ چندی بابو کے لیے ہے—آپ کی عمر میں، دوسروں کے جوتے
اور چھتریاں چھپانا نہ صرف بچگانہ ہے، بلکہ سراسر غلط ہے۔ برائے مہربانی کل میری
چھتری اور براؤن کینوس کے جوتے میرے گھر پہنچا دیں۔ نیدھو بابو، اگر آپ مجھے بنکم
کہیں گے، تو میں آپ کو 'احمق' کہوں گا، اور آپ کو اس کے ساتھ جینا سیکھنا ہو گا۔
اور سریپتی بابو، آپ ایک اہم آدمی ہیں، ظاہر ہے آپ کے پاس حواشی بردار ہونے
چاہئیں۔ لیکن میں آپ کو بتا دوں، آج سے آپ مجھے باہر ہی سمجھیں۔ اگر آپ چاہیں تو
میں اپنی بلی بھیج سکتا ہوں، وہ پیر چاٹنے میں کافی اچھی ہے۔ اور... اوہ، پونچا
بابو آپ بھی یہاں موجود ہیں! میں آپ کو اور باقی سب کو اطلاع دے دوں کہ کل رات،
سیارہ کرینیئس سے ایک 'اینگ' آیا تھا اور وہ آپ کے بانس کے جنگل میں تالاب پر اترا
تھا۔ ہماری لمبی بات چیت ہوئی۔ وہ آدمی... معاف کیجیے گا، وہ اینگ... بہت خوش
اخلاق تھا۔"
بونکو بابو نے اپنی تقریر
ختم کی اور بھیرؤ چکرورتی کی پیٹھ پر اتنی زور سے تھپکی دی کہ اس کا دم گھٹنے لگا۔
پھر وہ تیزی سے چلتے ہوئے، اپنا سر اونچا کیے باہر نکل گئے۔
اسی لمحے رام کنائی کے
ہاتھ سے کپ چھوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، اور گرم چائے باقی تمام لوگوں پر جا گری۔
*
( یہ افسانہ پہلی
بار بنگالی میں 1962 میں شائع ہوا )
( مشہور بنگلہ کہانی "بونکو بابو کا دوست" (Bonku Babu Bandhu) کا
اردو ترجمہ )
(بنگالی سے
انگریزی میں ترجمہ: گوپا مجمدار)
*
ستیہ جیت رائے (1921–1992) بھارت کے عالمی شہرت یافتہ
بنگلہ فلم ساز، مصنف اور مصور تھے۔
شناخت: 1955 میں اپنی
پہلی ہی فلم "پاتھیر پنچالی" سے عالمی سطح پر نام کمایا۔
ادبی کام: فلم سازی کے
ساتھ بچوں اور نوجوانوں کے لیے مقبول جاسوسی (فیلودا) اور سائنس فکشن کہانیاں
لکھیں۔
اعزاز: انہیں 1992 میں
آسکر ایوارڈ (Life Achievement) اور
بھارت رتن سے نوازا گیا۔
*
اس کہانی کا مختصر لبِ لباب یہ ہے:
ناانصافی اور تحقیر کو
خاموشی سے برداشت کرنا شرافت نہیں بلکہ کمزوری ہے؛ انسان کو ہمیشہ اپنی عزتِ نفس
اور خود داری کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔
جب بونکو بابو کو اپنی
قدر و قیمت اور دنیا کی وسعت کا احساس ہوا، تو ان کا خوف ختم ہو گیا اور انہوں نے
تمسخر اڑانے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے سر اٹھا کر جینا سیکھ لیا۔

Comments
Post a Comment