افسانہ نمبر : 774 ایک بات اور || تحریر : ریمنڈ کارور (امریکہ) || اردو ترجمہ: شگفتہ گمی لودھی

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر  : 774   ایک بات اور

 تحریر : ریمنڈ کارور (امریکہ)

اردو ترجمہ: شگفتہ گمی لودھی



میکسین، ایل ڈی کی بیوی، جب کام سے گھر لوٹی تو اس نے دیکھا کہ ایل ڈی باورچی خانے کی میز پر اپنی پندرہ سالہ بیٹی، رے سے بحث کر رہا ہے۔ بحث کے دوران وہ رے کو مسلسل ذلیل کر رہا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اس نے آج بھی پی رکھی تھی۔ وہ اپنا کوٹ اتارتی اور پرس کو کہیں رکھتی، اسے اتنا وقت بھی نہ ملا۔ اس نے اپنا پرس لٹکائے ہوئے اور بغیر کوٹ اتارے ہی فرمان جاری کر دیا کہ آج کی رات، اسی پل وہ گھر چھوڑ کر چلا جائے۔

’’ماں، انہیں بتاؤ ہم نے کیا بات کی۔‘‘ رے نے کہا۔

ایل ڈی ہاتھ میں گلاس لیے مڑا اور میکسین اسے گھور کر دیکھتی ہوئی بولی:’’تم ہمارے جھگڑے میں مت بولو کیونکہ تم جانتی نہیں ہو ہم کس موضوع پر بات کر رہے ہیں—اور ویسے بھی میں رے کی بچکانہ باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ یہ کرتی ہی کیا ہے دن بھر بستر پر اوندھے منہ پڑی علمِ نجوم کی کتاب پڑھتی رہتی ہے، بس۔‘‘

’’مگر اس بات کا میرے علمِ نجوم سے کیا تعلق؟‘‘ رے نے کہا، ’’آپ مجھے اس طرح ذلیل نہیں کر سکتے۔‘‘

’’جہاں تک رے کا سوال ہے، وہ پچھلے کئی ہفتوں سے اسکول نہیں جا رہی ہے۔ اور اس نے کہا ہے کہ کوئی دوسرا اسے اسکول جانے کے لیے کہہ بھی نہیں سکتا۔‘‘ میکسین نے کہا، ’’یہ ایک الگ المیہ ہے۔‘‘

’’تم دونوں اپنا منہ بند کیوں نہیں رکھتے؟‘‘ میکسین نے کہا۔ ’’خدایا، مجھے پہلے سے ہی سر درد ہو رہا ہے۔‘‘

رے نے کہا، ’’ان سے کہو۔ ان سے کہو یہ سب ان کے دماغ کی اختراع ہے۔ جس کو تھوڑی سی بھی سمجھ ہے اس سے پوچھو، وہ بھی ان کے بارے میں یہی کہے گا۔‘‘

ایل ڈی نے کہا، ’’ذیابیطس اور مرگی؟ کیا ان پر بھی قوتِ ارادی سے قابو پایا جا سکتا ہے؟‘‘

اس نے میکسین کی آنکھوں کے عین سامنے جام کو نچاتے ہوئے پورا گھونٹ بھر لیا۔

’’ذیابیطس بھی۔ مرگی بھی۔ سب کچھ۔ آپ کی معلومات کے لیے بتا دوں کہ ہمارے جسم کا سب سے اہم حصہ دماغ ہی ہے۔‘‘

اس نے اپنے لیے ایک سگریٹ سلگائی۔

’’کینسر۔ کینسر کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ ایل ڈی نے کہا۔

کچھ دیر کی خاموشی۔ ایل ڈی کو لگا اس نے اپنی جوان بیٹی کو بحث میں ہرا دیا ہے، اب وہ میکسین سےمخاطب ہوا۔ اسے پتہ نہیں تھا کہ بیٹی سے اس کی بحث کس بات پر چھڑی تھی۔

’’کینسر؟‘‘ رے بولا اور اپنا سر  ہلاتے ہوئے کہا، ’’ہاں، ہاں، کینسر بھی دماغی خلل سے پیدا ہونے والی بیماری ہے۔‘‘

’’کیا پاگل پن ہے!‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے میز پر زوردار مکا مارا۔ اتنے زور سے کہ میز پر رکھی ایش ٹرے اُچھل کر دُور جا گری۔ گلاس گر کر لڑھکتا ہوا اس کی طرف آیا۔ ’’تم بالکل پاگل ہو؟ کیا تمہیں پتہ ہے! چپ رہو!‘‘ میکسین نے کہا۔

اس نے اپنا پرس میز پر رکھا اور کوٹ کے بٹن کھولتے ہوئے گویا ہوئی۔ اس نے ایل ڈی سے کہا، ’’میرے لیے اب یہ بہت ہو چکا۔ ہم دونوں نے ہی سوچ لیا ہے کہ بس اب بہت ہو چکا۔ اب ہم تمہیں مزید برداشت نہیں کر سکتیں۔ تمہارے بارے میں دنیا جانتی ہے۔ میں نے اس بابت بہت سوچا ہے۔ میرا فیصلہ یہی ہے کہ تم گھر سے فوری طور پر، اسی پل، آج رات ہی نکل جاؤ۔ اسی وقت نکلو، جاؤ!‘‘

ایل ڈی کہاں جاتا؟ اس کا ارادہ کہیں جانے کا نہ تھا۔ اس نے ایک بار میز پر رکھے شیشے کے مرتبان کے پار کھڑی میکسین کو دیکھا۔ وہ شیشے کا مرتبان جو دوپہر کے کھانے کے بعد سے میز پر ہی رکھا تھا، اسے اٹھایا اور بڑے ہی جارحانہ انداز میں باورچی خانے کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔

رے اپنی کرسی سے اچھل کر کھڑی ہو گئی۔ ’’خدایا! بالکل پاگل ہیں۔‘‘

وہ گھبرا کر اپنی ماں کے پاس جا کھڑی ہوئی۔

میکسین چلا کر بولی، ’’پولیس کو بلاؤ، یہ آدمی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ باورچی خانے سے باہر نکلو۔‘‘ وہ دونوں ایک ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے باورچی خانے سے باہر نکلنے لگیں۔

’’میں جا رہا ہوں،‘‘ ایل ڈی نے کہا۔ ’’میں نکل ہی رہا ہوں، ابھی، بالکل ابھی۔‘‘

اس نے کہا، ’’میرے لیے یہی ٹھیک بھی ہے۔ ویسے بھی یہاں پاگل رہتے ہیں۔ یہ گھر نہیں، پاگل خانہ ہے۔ اس کے باہر ہی زندگی ہے۔ یہ دراصل جہنم ہے، رہنے کے لائق جگہ ہی نہیں ہے۔‘‘

اس نے اپنے چہرے پر ہوا کا ایک جھونکا محسوس کیا جو ایک سوراخ سے اس کے چہرے پر آئی تھی۔ اس نے کہا وہ وہیں جا رہا ہے جہاں سے ہوا کا یہ ہلکا سا جھونکا آیا ہے۔

’’بہت خوب۔‘‘ میکسین نے تائید کرتے ہوئے کہا۔

’’ہاں، ہاں میں بس جا رہا ہوں۔‘‘ ایل ڈی نے کہا۔

اس نے زور سے میز پر اپنا ہاتھ مارا اور کرسی کو پیچھے دھکیلتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔

’’تم لوگ اب مجھے کبھی نہیں دیکھ پاؤ گے۔‘‘ ایل ڈی نے کہا۔

’’تم نے بہت سی یادیں ہمیں دی ہیں، وہ یاد رکھنے کے لیے کافی ہیں۔‘‘ میکسین نے کہا۔

’’ٹھیک ہے۔‘‘ ایل ڈی نے کہا۔

’’جاؤ! نکلو بھی یہاں سے۔ یہ میرا گھر ہے، میں اس کا کرایہ دیتی ہوں۔‘‘

’’جا رہا ہوں۔ بس جا ہی رہا ہوں۔ مجھے دھکا مت دو۔‘‘ ایل ڈی نے کہا۔

’’جاؤ!‘‘ میکسین نے کہا۔

’’میں اس پاگل خانے سے نکل رہا ہوں۔‘‘ ایل ڈی نے کہا۔

یہ کہتے ہوئے وہ کمرے میں گیا اور الماری سے ایک سوٹ کیس نکالا۔ سوٹ کیس جو چمڑے کا نہیں تھا، سفید رنگ کا تھا جس کا اوپری حصہ خراب تھا۔ اس سوٹ کیس میں اس کے سویٹر رکھے تھے جنہیں وہ اپنے کالج جانے کے لیے استعمال کرتی تھی۔ اس نے اس سوٹ کیس کو بستر پر پٹخا اور اپنا زیر جامہ، پاجامے، اپنی پتلون قمیص، اپنے سویٹر، اور پیتل کے بکسوے والی اپنی پرانی چمڑے کی بیلٹ، اپنے موزے اور دیگر سامان ٹھونس لیا۔ پھر اس نے کچھ رسالے رکھے، ایش ٹرے رکھی، اسے اپنی مزید ضرورت کی چیزیں یاد آئیں تو وہ غسل خانے کی طرف گیا۔ اس نے ہیٹ کے پیچھے رکھی ہوئی اپنی شیونگ کٹ اٹھائی۔ اس میں ریزر، شیونگ کریم، ٹیلکم پاؤڈر، اپنا ڈیوڈورنٹ، ٹوتھ برش، یہاں تک کہ ٹوتھ پیسٹ بھی رکھ لیا۔ پھر اس نے ڈینٹل فلاس رکھا۔

اسے دیوان خانے سے دونوں کی سرگوشیوں کی آواز آ رہی تھی۔ اس نے منہ دھویا۔ پھر صابن اور تولیے کو بھی اپنے شیونگ بیگ کے اندر رکھ لیا۔ وہاں اس کا نیل کلپر اور آئی لیش کرلر بھی رکھا تھا۔ اس کا شیونگ بیگ سامان بھرا ہونے کی وجہ سے بند نہیں ہو پا رہا تھا، مگر ٹھیک ہے۔ اس نے اپنا کوٹ پہنتے ہوئے سوٹ کیس اٹھایا اور دیوان خانے میں آ گیا۔ جیسے ہی اس نے اسے آتے دیکھا، اپنی بیٹی کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔

’’تو بس سب ختم ہو گیا۔کیا کہوں پر ہاں، ہمیشہ کے لیے جا رہا ہوں۔ اب تم سے کبھی نہیں ملوں گا۔ رے، تم سے بھی نہیں۔‘‘تم اور تمہاری حماقتیں تمہیں مبارک ہوں۔‘‘

’’جاؤ!‘‘ میکسین نے کہا۔ اس نے رے کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا، ’’ویسے بھی تم نے اس گھر کے بہت سے سامان کی توڑ پھوڑ کی ہے۔ جاؤ اور ہمیں سکون سے جینے دو۔‘‘

’’یاد رکھنا، تمہارے سر میں.‘‘ رے نے کہا۔

’’میں جا رہا ہوں،‘‘ ایل ڈی نے کہا۔ ’’کہیں بھی، یہاں سے دور، اس پاگل خانے سے باہر۔‘‘

اس نے کہا، ’’یہ سب سے اچھی بات ہے۔‘‘

اس نے ایک آخری بار دیوان خانے کی طرف دیکھا اور ایک ہاتھ سے چھوڑ کر دوسرے ہاتھ سے سوٹ کیس تھاما، اور بغل میں شیونگ بیگ دبائے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ پھر رُک کر کہا، ’’میں تم سے رابطے میں رہوں گا رے۔ میکسین تمہارے لیے بھی بہتر ہوگا کہ اس پاگل خانے سے آزاد ہو جاؤ۔‘‘

’’تمہی نے اسے پاگل خانہ بنا رکھا تھا،‘‘ میکسین نے کہا۔ ’’یہ اگر پاگل خانہ ہے تو تمہاری وجہ سے۔‘‘

اس نے سوٹ کیس نیچے رکھا اور ایک بار پھر ان کی طرف مخاطب ہوا، دونوں دو قدم پیچھے ہٹ گئیں۔

’’ماں، سنبھلو!‘‘ رے نے کہا۔

میکسین نے کہا، ’’میں اس آدمی سے نہیں ڈرتی، بالکل بھی نہیں ڈرتی۔‘‘

ایل ڈی نے اپنا شیونگ بیگ اپنی بغل میں دبایا اور ایک بار پھر نیچے رکھا ہوا سوٹ کیس اٹھا لیا۔

اس نے کہا، ’’مجھے صرف ایک بات اور کہنی ہے۔‘‘

لیکن پھر وہ سوچ ہی نہیں پایا کہ اسے کون سی بات کہنی تھی۔

°°°

: One More Thing  English Title   

 

ریمنڈ کارور



ریمنڈ کارور 25 مئی 1938 کو دریائے کولمبیا پر واقع ایک صنعتی شہر اوریگون، ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پیدا ہوا۔ وہ افسانہ نگار، شاعر اور ناول نگار تھا۔ وہ یاکیما، واشنگٹن میں پلا بڑھا۔ ریمنڈ نے یاکیما کے ایک مقامی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس نے 1958ء میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ وہ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں اپنے ادبی کیریئر عروج پر کئی سالوں تک امریکی یونیورسٹیوں میں پڑھاتا رہا۔ وہ 1980 سے 1983 تک سائراکیز یونیورسٹی میں انگریزی ادب کا پروفیسر رہا۔ اسے امریکہ کے عظیم ترین مصنفین میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا 2 اگست 1988 کو  پچاس سال کی عمر میں پورٹ اینجلس، واشنگٹن میں پھیپھڑوں کے کینسر سے انتقال ہو گیا۔ اسی سال امریکن اکیڈمی آف آرٹس اینڈ لیٹرز کے لیے وہ منتخب ہوا تھا۔

 

 

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

رابندر ناتھ ٹیگور کا افسانہ : کابلی والا (Kabuliwala)

افسانہ نمبر 723 : طوفان، تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا)، مترجم : محمد فیصل (کراچی)