افسانہ نمبر 769 : سویا ہوا ناگ || مصنف: رام سروپ انکھی (ہندوستان) || گورمکھی سے اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ
نمبر 769 : سویا ہوا ناگ
مصنف:
رام سروپ انکھی (ہندوستان)
گورمکھی
سے اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق
جیتو کو مکلاوے (رخصتی
کے بعد پہلی بار میکے آنا) پر آئے بمشکل بیس دن ہی ہوئے تھے۔
"بے بے کی یاد سے میرے
دل کو ہول اٹھتے ہیں۔ چلو مجھے چھوڑ آؤ۔ پھر آ جاؤں گی، دس دن لگا کر۔" جیتو
نے ایک دن مکندے سے کہا۔
وہ بہت خوبصورت تھی۔
مکندے کو جیسے کوئی انوکھی چیز مل گئی ہو۔ وہ اس سے بے پناہ محبت کرتا تھا، لیکن
جیتو کبھی سیدھے منہ اس سے بات نہ کرتی تھی۔ جیتو کا دل شاید اندر سے اداس تھا۔
مکندا اسے رج کر پیار دیتا، لیکن وہ ہاں ہوں سے بڑھ کر کچھ نہ کہتی تھی۔ یہ ساری
بات مکندے کی سمجھ سے باہر تھی۔ مکندا ہر بات میں اس کی مرضی پر خوش رہتا تھا۔ آج
جیتو نے میکے جانے کے لیے کہا تو ان بیس دنوں میں یہ پہلا موقع تھا جب وہ کھل کر
بولی تھی۔ مکندا خوش تھا کہ چلو وہ کچھ تو بولی ہے۔
جیتو کو میکے چھوڑنے
آئے مکندے کو اس رات اس کے سسرال والوں نے وہیں رکھ لیا۔
اسوج کاتک کا موسم تھا۔
مکندا سوتے وقت گھر والوں سے الگ ذرا دور جا کر لیٹ گیا۔
آدھی رات کو جیتو کو
محسوس ہوا جیسے مکندا گہری نیند سویا ہوا ہے۔ وہ چپکے سے اٹھی۔ مکندے کے سینے پر
ہاتھ رکھ کر دیکھا۔ وہ ہلا تک نہیں۔ جیتو کو یقین ہو گیا، لیکن دراصل مکندا
'جاگومیٹی' (سونے کا ناٹک) کر رہا تھا۔
جیتو نے دبے پاؤں صحن
پار کیا اور دروازے کی کنڈی کھول کر گھر سے باہر نکل گئی۔ مکندے کو جیسے کوئی خواب
آ رہا ہو۔ وہ اٹھا اور کھونٹی پر لٹکتی کرپان اتار کر جیتو کے پیچھے چل پڑا۔ اس سے
پچاس ساٹھ قدم پیچھے۔ جیتو کو بالکل خبر نہ تھی کہ اس کے پیچھے کون آ رہا ہے۔ اس
کا سایہ تو بیابانوں (روہیوں) کی طرف بڑھتا جا رہا تھا۔ راستے میں ایک نالہ (کَسّی)
آیا۔ اسے پار کرنے میں اسے کچھ دیر لگی۔ مکندا سہم کر اپنی جگہ کھڑا رہا۔ پھر آگے
جا کر مٹی کی ایک اونچی بھڑِیں (باڑ نما ٹیلا) آئی، جس کے اوپر سے کوئی بھینسا بھی
نہیں گزر سکتا تھا۔ وہ ناک کی سیدھ میں چلتی جا رہی تھی۔ اتنی بڑی باڑ والی
'بھڑیں' پار کرنے لگی تو اس کے ہاتھ پیر چھل گئے۔ مکندا اس کے پیچھے تھا کہ دیکھے
بھلا یہ کہاں جاتی ہے؟
گاؤں سے کوس بھر دور جا
کر ایک باغ آیا۔ سنگترے، انار اور امرودوں کا باغ۔ باغ کے اردگرد لگی کانٹے دار
تار پار کر کے وہ سیدھی باغ کے اندر داخل ہو گئی۔
مالی چادر (کھیس) تانے
سو رہا تھا۔ جیتو نے جاتے ہی اس کے اوپر سے کھیس کھینچ لیا۔ شیرو کو لگا جیسے کوئی
بلا آ چمٹی ہو۔ پہلے تو وہ ڈر گیا، لیکن جب آنکھیں مل کر دیکھا تو جیتو کسی ستون
(تھملے) کی طرح اس کے سامنے گڑی کھڑی تھی۔
پورے ایک مہینے بعد وہ
سائے کی طرح اسے پھر سے آ لپٹی۔
"جنگل چیر کر آ گئی ہوں
شیرو۔" جیتو کے دھک دھک کرتے کلیجے سے آواز نکلی۔
"تیرے بغیر اب میں نے
بھی کبھی طوطوں کو نہیں اڑایا۔" شیرو نے کہا۔
"تیرے باغ میں اب وہ
رونق نہیں رہی؟" جیتو نے پوچھا۔
"جس مالی کے دل کا باغ
اجڑ گیا ہو، اس کے پودوں پر کیا رونق چڑھے۔" شیرو پوری طرح جذباتی ہو گیا۔
"شیرو، میری طرف
دیکھ!" دونوں ہاتھوں میں شیرو کا چہرہ تھام کر جیتو نے اپنی طرف کیا اور پورے
دل سے کہنے لگی، "میں نے مکندے کا بھتہ (کھانا) نہیں ڈھونا، میں تو شیرو کی
مالن ہوں۔" اور پھر وہ باتیں کرتے کرتے ایک ہی چارپائی پہ گہری نیند سو گئے۔
مکندا بیس قدم دور ایک
کھجور کی اوٹ سے یہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا رہا تھا۔ اس کے دل سے ہوکیں اٹھ رہی
تھیں۔ اس کے دماغ پر آندھی سوار تھی۔ یہ اس کے بالکل سامنے کیا ہو رہا ہے؟ اس کی
آنکھوں میں خون اتر آیا۔
دبے قدموں مکندا مالی
کے سرہانے جا کھڑا ہوا۔ اس نے ہاتھ پھیر کر دیکھا، کرپان کی دھار استرے جیسی تھی۔
دونوں ہاتھوں کی مضبوط گرفت کے ساتھ اس نے کرپان لہرائی اور ایک ہی وار میں مالی
کی گردن گاجر کے سرے کی طرح کاٹ کر سر دور دے مارا۔ وہاں سے سرپٹ بھاگ کر مکندے نے
نالے پر آ کر سانس لیا۔ کرپان پر لگا خون دھویا۔ یکدم اس کے کان کھڑے ہو گئے۔
باغ سے چیخیں اٹھ رہی
تھیں، "جس نے میرے یار کو مارا ہے، اب آئے گا میرے سامنے؟ جس نے میرے شیرو کو
مارا ہے، اب آئے میرے باپ کا سالا؟"
مکندا کان لپیٹ کر چپ
چاپ ویسے کا ویسا آ کر گھر سو گیا۔ دن ابھی چڑھا نہیں تھا۔ ابھی منہ اندھیرا تھا۔
جیتو بھی پتھر کا روپ دھار کر گھر آ وڑی۔ آ کر اس نے مکندے کے سینے پر ہاتھ رکھ کر
دیکھا۔ وہ ویسے ہی گہری نیند سویا ہوا تھا، لیکن دراصل مکندا دانت پیسے لیٹا ہوا
تھا۔
"میرا تو یہاں بھی اس
اجڑے گاؤں میں دل نہیں لگنا۔ بے بے سے مل لیا۔ چل چلیں وہیں واپس۔" جیتو نے
صبح سویرے اٹھ کر مکندے سے کہا۔ مکندے نے جیسے سینے پر پتھر رکھا ہوا تھا۔ دوسرے
دن شام کو ہی وہ اپنے گاؤں واپس آ گئے۔
مڑ کر پھر کوئی بات نہ
ہوئی۔ وہ ہنسی خوشی بستے رہے۔ مڑ کر جیتو کبھی میکے نہ گئی۔ مکندا اسے ویسے ہی
پیار کرتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جیتو کی بول چال اب بہتر ہو گئی، لیکن وہ اکھڑی
اکھڑی رہتی۔ جیسے کسی نے اس کے قالب میں سے روح نکال لی ہو۔ مکندا اگرچہ سب کچھ
جانتا تھا، مگر اسے سنبھال سنبھال کر رکھتا، یہ سوچ کر کہ اب اس نے کدھر جانا ہے۔
ادھر مالی کے قتل میں
پولیس نے علاقے کے سات آٹھ نامی گرامی دس نمبریے (بدمعاش) پکڑے ہوئے تھے۔
کوئی کہتا،
"سنگترے توڑنے آئے چور شیرو کو مار کر پھینک گئے۔"
کوئی کہتا، "شیرو
کی کسی سے لاگ ڈاٹ تھی، کسی نے پرانی دشمنی نکالی ہے۔"
کوئی کچھ کہتا، کوئی
کچھ، اور کئی سال تک علاقے کے دس نمبریے عدالتوں میں گھسیٹے جاتے رہے۔
دس بارہ سال گزر گئے۔
جیتو کے تین بچے ہو گئے۔ میاں بیوی کی بہت اچھی نبھ رہی تھی۔
ایک دن شام کو کافی
اندھیرا ہو گیا۔ بھینس کی دھار (دودھ) ابھی نکالنی تھی۔ مکندے نے جیتو سے کہا کہ
وہ دالان سے بالٹی لے آئے۔
"مجھے تو اندر سے ڈر
لگتا ہے۔ گھپ اندھیرا پڑا ہے۔" جیتو نے جواب دیا۔
"اپنے گھر میں کیسا
ڈر؟" مکندا بولا۔
"دن ہو تو لے آؤں،
اندھیرے میں سو طرح کے سانپ سلوتی (کیڑے مکوڑے) ہوتے ہیں۔" جیتو نے پھر انکار
کیا۔
"دن کے وقت بھی تو یہی
گھر ہوتا ہے؟" مکندے کی آواز میں رعب تھا۔
"تم ہی لے آؤ خود۔"
جیتو نے صاف جواب دیا۔
"بڑی آ گئی ڈرنے
والی!"—مکندا جیسے کچھ کہنے ہی والا تھا، "تب ڈر نہیں لگتا تھا جب آدھی
رات کو اٹھ کر مالی کے پاس گئی تھی؟" یہ بات کہہ کر مکندا کھرلی میں بھینس کا
چارہ ٹھیک کرنے لگ پڑا۔
جیتو کے یکدم کان کھل گئے۔
وہ چپ چاپ اندر گئی اور کھونٹی سے لٹکتی کرپان اتار لائی۔
"تو تو ہی ہے جس نے میرا
یار مارا ہے؟"
آنکھ جھپکتے ہی مکندے
کا سر بھینس کے کھروں میں تربوز (متیرے) کی طرح لڑھکتا پھر رہا تھا۔
اصل عنوان:
/ ਸੁੱਤਾ ਨਾਗ(سُتَّا ناگ)

Comments
Post a Comment