افسانہ نمبر 768 : امرتسر آ گیا ہے || تحریر : بھیشم ساہنی (بھارت) || ترجمہ: انعام ندیم (کراچی)

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 768 : امرتسر آ گیا ہے

تحریر : بھیشم ساہنی (بھارت)

ترجمہ: انعام ندیم (کراچی)

 


گاڑی کے ڈِبّے میں زیادہ مسافرنہیں تھے۔ میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھے سردار جی دیر سے مجھے لام کے قصے سنارہے تھے۔ وہ لام کے دنوں میں برما کی لڑائی میں حصہ لے چکے تھے اور بات بات پر کھی کھی کرکے ہنسنے اور گورے فوجیوں کا مذاق اڑ۱نے لگتے تھے۔ ڈِبّے میں تین پٹھان تاجر بھی تھے، ان میں سے ایک سبز رنگ کی پوشاک پہنے اوپر والی برتھ پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ آدمی بڑا خوش مزاج تھا اور بڑی دیر سے میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ایک دُبلے سے بابو کے ساتھ اس کا مذاق چل رہا تھا۔ چھریرے بدن کاوہ بابو پشاور کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا کیونکہ کسی کسی وقت وہ آپس میں پشتو میں باتیں کرنے لگتے تھے۔ میرے سامنے دائیں طرف کونے میں، ایک بڑھیا منھ  سر ڈھانپے بیٹھی تھی اور دیر سے مالا جپ رہی تھی۔ یہی کچھ لوگ رہے ہوں گے۔ ممکن ہے دو ایک اور مسافر بھی رہے ہوں، لیکن وہ واضح طور پر مجھے یاد نہیں۔

گاڑی دھیمی رفتار سے چلی جا رہی تھی۔ گاڑی میں بیٹھے مسافرباتیں کر رہے تھے اور باہر گندم کے کھیتوں میں ہلکی ہلکی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ میں دل ہی دل میں بڑا خوش تھا کیونکہ میں دلّی میں ہونے والی یومِ آزادی کی تقریب دیکھنے جا رہا تھا۔

ان دنوں کے بارے میں سوچتا ہوں، تو مجھے لگتا ہے، ہم کسی جھٹپٹے میں جی رہے ہیں۔ شاید وقت گزر جانے پر ماضی کا سارا کاروبار ہی جھٹپٹے میں گزرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے  جیسے مستقبل کے پٹ کھلتے جاتے ہیں، یہ جھٹپٹا اور بھی گہرا ہوتا چلاجاتاہے۔

انھی دنوں پاکستان کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا اور لوگ طرح طرح کے اندازے لگانے لگے تھے کہ مستقبل میں زندگی کا خاکہ کیسا ہوگا۔ لیکن کسی کا بھی تصّور بہت دور تک نہیں جا پاتا تھا۔ میرے سامنے بیٹھے سردار جی بار بار مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ پاکستان بن جانے پر جناح صاحب بمبئی میں ہی رہیں گے یا پاکستان میں جاکر بس جائیں گے، اور میرا ہر بار یہی جواب ہوتا، ’’بمبئی کیوں چھوڑیں گے، پاکستان میں آتے جاتے رہیں گے، بمبئی چھوڑ دینے میں کیا تک ہے!‘‘ لاہور اور گرداس پور کے بارے میں بھی اندازے لگائے جا رہے تھے کہ کون سا شہر کس طرف جائے گا۔ مل بیٹھنے کے انداز میں، گپ شپ میں، ہنسی مذاق میں کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا۔ کچھ لوگ اپنے گھر چھوڑ کر جا رہے تھے، جبکہ دوسرے لوگ ان کا مذاق اُڑا رہے تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ کون سا قدم ٹھیک ہوگا اور کون سا غلط۔ ایک طرف پاکستان بن جانے کا جوش تھا تو دوسری طرف ہندوستان کے آزاد ہو جانے کا جوش۔ جگہ جگہ فسادات بھی ہو رہے تھے، اور یومِ آزادی کی تیاریاں بھی چل رہی تھیں۔ اس افراتفری میں لگتا، ملک آزاد ہو جانے پر فسادات اپنے آپ بند ہو جائیں گے۔ فضا میں آزادی کی سنہری دھول سی اڑ رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ بے یقینی بھی تھی، اور اسی بے یقینی کی حالت میں کسی کسی وقت مستقبل کے رشتوں کے خاکے کی جھلک دکھائی دے جاتی تھی۔

شاید جہلم کا اسٹیشن پیچھے چھوٹ چکا تھا جب اوپر والی برتھ پر بیٹھے پٹھان نے ایک پوٹلی کھولی اور اس میں سے ابلا ہوا گوشت اور نان روٹی کے ٹکڑے نکال نکال کر اپنے ساتھیوں کو دینے لگا۔ پھر وہ ہنسی مذاق کے درمیان میرے برابر میں بیٹھے بابو کی طرف بھی نان کا ٹکڑا اور گوشت کی بوٹی بڑھا کر کھانے کا اصرار کرنے لگا ،’’ کھالے، بابو، طاکت آئے گی۔ ام جیسا او جائے گا۔ بیوی بی تیرے سات کش رئے گی۔ کالے دال کور، تو دال کاتا اے، اس لیے دبلا اے…‘‘

ڈِبّے میں لوگ ہنسنے لگے تھے۔ بابو نے پشتو میں کچھ جواب دیا اور پھر مسکراتا اور سر ہلاتا رہا۔اس پر دوسرے پٹھان نے ہنس کر کہا،’’او ظالم، امارے ہاتھ سے نئیں لیتا اے تو اپنے ہاتھ سے اٹھا لے۔ خدا قسم بکرے کا گوشت اے، اور کسی چیز کا نئیں‘‘۔

اوپر بیٹھا پٹھان چہک کر بولا ،’’او خنزیر کے تخم، ادر تمیں کون دیکھتا اے؟ ام تیری بیوی کو نئیں بولیگا۔ او تو امارے ساتھ بوٹی توڑ۔ ام تیرے ساتھ دال کائے گا…‘‘

اس پر قہقہہ اٹھا، لیکن دبلاپتلا بابو ہنستا، سر ہلاتا رہا، کبھی کبھی دو ایک لفظ پشتو میں بھی کہہ دیتا۔

’’او کتنا برا بات اے، ام کھاتا اے، اور تو امارا منھ دیکھتا اے…‘‘تمام پٹھان مگن تھے۔

’’یہ اس لیے نہیں لیتا کہ تم نے ہاتھ نہیں دھوئے ہیں۔‘‘سردار جی بولے اور بولتے ہی کھی کھی کرنے لگے! نیم دراز حالت میں بیٹھے سردار جی کی آدھی توند سیٹ کے نیچے لٹک رہی تھی ۔

’’تم ابھی سوکر اٹھے ہو اور اٹھتے ہی پوٹلی کھول کر کھانے لگ گئے ہو، اسی لیے بابو جی تمھارے ہاتھ سے نہیں لیتے، اور کوئی بات نہیں۔‘‘اور سردار جی نے میری طرف دیکھ کر آنکھ ماری اور پھر کھی کھی کرنے لگے۔

’’گوشت نئیں کھاتا اے، بابو تو جاؤ زنانہ ڈِبّے میں بیٹھو، ادر کیا کرتا اے؟‘‘پھر قہقہہ اٹھا۔

ڈِبّے میں اور بھی کئی مسافر تھے لیکن پرانے مسافر یہی تھے جو سفر شروع ہوتے وقت گاڑی میں بیٹھے تھے۔ باقی مسافر اترتے چڑھتے رہے تھے۔ پرانے مسافر ہونے کے ناتے ان میں ایک طرح کی بے تکلفی آ گئی تھی۔

’’او ادر آکر بیٹھو۔ تم امارے ساتھ بیٹھو۔ آؤ ظالم، قصّہ خوانی کی باتیں کریں گے۔‘‘

تبھی کسی اسٹیشن پر گاڑی رکی اور نئے مسافروں کا ریلا اندر آ گیا۔ بہت سے مسافر ایک ساتھ اندر گھس آئے ۔

’’کون سا اسٹیشن ہے؟‘‘کسی نے پوچھا۔

’’وزیرآباد ہے شاید۔‘‘میں نے باہر کی طرف دیکھ کر کہا۔

گاڑی وہاں تھوڑی دیر کے لیے کھڑی رہی۔ مگر روانہ ہونے سے پہلے ایک چھوٹاسا واقعہ پیش آیا۔ ایک آدمی ساتھ والے ڈبّے میں سے پانی لینے اترا اور نل پر جاکر پانی لوٹے میں بھر رہا تھا تبھی وہ بھاگ کر اپنے ڈِبّے کی طرف لوٹ آیا۔ چھلکتے ہوئے لوٹے میں سے پانی گر رہا تھا۔ لیکن جس طریقے سے وہ بھاگا تھا، اسی نے بہت کچھ بتا دیا تھا۔ نل پر کھڑے اور لوگ بھی—تین  چار آدمی ہوں گے ،اِدھر اُدھر اپنے اپنے ڈِبّے کی طرف بھاگے۔ اس طرح گھبراکر بھاگتے لوگوں کومیںدیکھ چکا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پلیٹ فارم خالی ہو گیا۔ مگر ڈبّے کے اندر اب بھی ہنسی  مذاق چل رہا تھا۔

’’کہیں کوئی گڑبڑ ہے۔‘‘ میرے پاس بیٹھے دبلے بابو نے کہا۔

کہیں کچھ تھا، لیکن کیا تھا، کوئی بھی واضح طورپر نہیں جانتا تھا۔ میں کئی فسادات دیکھ چکا تھا اس لیے ماحول میں ہونے والی چھوٹی سی تبدیلی بھی بھانپ گیا تھا۔ بھاگتے لوگ، کھٹاک سے بند ہوتے دروازے، گھروں کی چھتوں پر کھڑے لوگ، خاموشی اور سناٹا، یہ تمام فساد کی نشانیاں تھیں۔

تبھی پچھلے دروازے کی جانب سے، جو پلیٹ فارم کی طرف کھلنے کے بجائے دوسری طرف کھلتا تھا، ہلکا سا شور ہوا۔ کوئی مسافر اندر گھسنا چاہ رہا تھا۔

’’کہاں گھسا آ رہا ہے، نہیں ہے جگہ! بول دیا جگہ نہیں ہے ۔‘‘کسی نے کہا۔

’’بند کرو جی دروازہ۔ یوں ہی منھ اٹھائے چڑھ آتے ہیں۔‘‘آوازیں آ رہی تھیں۔

جتنی دیر کوئی مسافر ڈِبّے کے باہر کھڑا اندر آنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، اندر بیٹھے مسافر اس کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ایک بار جیسے تیسے وہ اندر آ جائے تو احتجاج ختم ہو جاتا ہے، اور وہ مسافر جلدی ہی ڈبّے کی دنیا کا باشندہ بن جاتا ہے، اور اگلے اسٹیشن پر وہی سب سے پہلے باہر کھڑے مسافروں پر چلّانے لگتا ہے، نہیں ہے جگہ، اگلے ڈِبّے میں جاؤ…چلے آتے ہیں

دروازے پر شور بڑھتا جا رہا تھا۔ تبھی میلے کچیلے کپڑوں اور لٹکتی مونچھوں والا ایک آدمی دروازے میں سے اندر گھستا دکھائی دیا۔ چیکٹ، میلے کپڑے، ضرور کہیں حلوائی کی دکان کرتا ہوگا۔ وہ لوگوں کی ناراض آوازوں کی جانب توجہ دیے بغیر دروازے کی طرف گھوم کر بڑا سا سیاہ رنگ کا صندوق اندر کی طرف گھسیٹنے لگا۔

’’آ جاؤ، آ جاؤ، تم بھی چڑھ جاؤ!‘‘وہ اپنے پیچھے کسی سے کہے جا رہا تھا۔ تبھی دروازے میں ایک پتلی سوکھی سی عورت نظر آئی اور اس کے پیچھے سولہ سترہ برس کی سانولی سی ایک لڑکی اندر آگئی۔ لوگ اب بھی چلّائے جا رہے تھے۔ سردار جی کو کولہوں کے بل اٹھ کر بیٹھنا پڑا۔

’’بند کرو جی دروازہ، بغیر پوچھے چڑھ آتے ہیں، اپنے باپ کا گھر سمجھ رکھا ہے۔ مت گھسنے دو جی، کیا کرتے ہو، دھکیل دو پیچھے…‘‘ اور لوگ بھی چلّا رہے تھے۔

وہ آدمی اپنا سامان اندر گھسیٹے جا رہا تھا اور اس کی بیوی اور بیٹی پاخانے کے دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑے تھے۔

’’اور کوئی ڈبا نہیں ملا؟ عورت ذات کو بھی یہاں اٹھا لایا ہے؟‘‘

وہ آدمی پسینے سے تر تھا اور ہانپتا ہوا سامان اندر گھسیٹے جا رہا تھا۔ صندوق کے بعد رسیوں سے بندھی کھاٹ کی پٹیاں اندر کھینچنے لگا۔

’’ٹکٹ ہے جی میرے پاس، میں بے ٹکٹ نہیں ہوں۔‘‘اس پر ڈِبّے میں بیٹھے بہت  سے لوگ چپ ہو گئے، لیکن برتھ پر بیٹھا پٹھان اچک کر بولا ،’’نکل جاؤ ادر سے، دیکھتا نئی اے، ادر جگا نئیں اے۔‘‘

اور پٹھان نے آئو دیکھا نہ تائو، آگے بڑھ کر اوپر سے ہی اس مسافر کے لات جما دی، لیکن لات اس آدمی کو لگنے کے بجائے اس کی بیوی کے کلیجے پر لگی اور وہیں ’ہائے  ہائے‘کرتی بیٹھ گئی۔

اس آدمی کے پاس مسافروں کے ساتھ الجھنے کے لیے وقت نہیں تھا۔ وہ برابر اپنا سامان اندر گھسیٹے جا رہا تھا۔ ڈِبّے میں خاموشی چھا گئی۔ چارپائی کی پٹیوں کے بعد بڑی بڑی گٹھریاں آئیں۔ اس پر اوپر بیٹھے پٹھان کی برداشت جواب دے گئی۔ ’’نکالو اسے، کون اے یہ؟‘‘ وہ چلایا۔ اس پر دوسرے پٹھان نے، جو نیچے کی سیٹ پر بیٹھا تھا، اس آدمی کا صندوق دروازے میں سے نیچے دھکیل دیا، جہاں لال وردی والا ایک قلی کھڑا سامان اندر پہنچا رہا تھا۔

اس کی بیوی کے چوٹ لگنے پر کچھ مسافر چپ ہو گئے تھے۔ صرف کونے میں بیٹھی بڑھیا کرلائے جا رہی تھی ، ’’اے نیک بختو، بیٹھنے دو، آ جا بیٹی، تو میرے پاس آ جا۔ جیسے تیسے سفر کاٹ لیں گے۔ چھوڑو بے ظالمو، بیٹھنے دو‘‘

ابھی آدھا سامان ہی اندر آ پایا ہوگا جب اچانک گاڑی سرکنے لگی۔

’’چھوٹ گیا! سامان چھوٹ گیا۔‘‘وہ آدمی بدحواس سا ہوکر چلایا۔

’’پتِا جی، سامان چھوٹ گیا۔‘‘پاخانے کے دروازے کے پاس کھڑی لڑکی سر سے پاؤں تک کانپ رہی تھی اور چلّا ئے جا رہی تھی۔

’’اُترو، نیچے اُترو۔‘‘وہ آدمی ہڑبڑاکر چلّایا اور آگے بڑھ کر چارپائی کی پٹیاں اور گٹھریاں باہر پھینکتے ہوئے دروازے کا ڈنڈا پکڑ کر نیچے اُتر گیا۔ اس کے پیچھے اس کی پریشان بیٹی اور پھر اس کی بیوی، کلیجے کو دونوں ہاتھوں سے دبائے ہائے ہائے کرتی نیچے اُتر گئی۔

’’بہت بُرا کیا ہے تم لوگوں نے، بہت برا کیا ہے۔‘‘ بڑھیا اونچااونچا بول رہی تھی ، ’’تمھارے دل میں درد مر گیا ہے۔ چھوٹی سی بچی اس کے ساتھ تھی۔ بے رحمو، تم نے بہت برا کیا ہے، دھکے دے کر اُتار دیا ہے۔‘‘

گاڑی سونے پلیٹ فارم کو پار کرتی آگے بڑھ گئی۔ ڈِبّے میں بے چین سی خاموشی چھاگئی۔ بڑھیا نے بولنا بند کر دیا تھا۔ پٹھانوں کی مخالفت کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔

تبھی میری بغل میں بیٹھے دبلے بابو نے میرے بازو پر ہاتھ رکھ کر کہا — ’’آگ ہے، دیکھو آگ لگی ہے۔‘‘

گاڑی پلیٹ فارم چھوڑ کر آگے نکل آئی تھی اور شہر پیچھے چھوٹ رہا تھا۔ تبھی شہر کی جانب سے اٹھتے دھوئیں کے بادل اور ان میں لپلپاتی آگ کے شعلے نظر آنے لگے۔

’’فساد ہوا ہے۔ اسٹیشن پر بھی لوگ بھاگ رہے تھے۔ کہیں فساد ہوا ہے۔‘‘

شہر میں آگ لگی تھی۔ بات سارے ڈبّے کے مسافرو کو پتا چل گئی اور وہ لپک لپک کر کھڑکیوں میں سے آگ کا منظر دیکھنے لگے۔

جب گاڑی شہر چھوڑ کر آگے بڑھ گئی تو ڈبّے میں سناٹا چھا گیا۔ میں نے گھوم کر ڈِبّے کے اندر دیکھا، دُبلے بابو کا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا اور ماتھے پر پسینے کی پرت کسی مردے کے ماتھے کی طرح چمک رہی تھی۔ مجھے لگا، جیسے اپنی اپنی جگہ بیٹھے تمام مسافروں نے اپنے آس پاس بیٹھے لوگوں کا جائزہ لے لیا ہے۔ سردار جی اٹھ کر میری سیٹ پر آ بیٹھے۔ نیچے والی سیٹ پر بیٹھا پٹھان اٹھا اور اپنے دو ساتھی پٹھانوں کے ساتھ اوپر والی برتھ پر چڑھ گیا۔ یہی عمل شاید ریل گاڑی کے دوسرے ڈبوں میں بھی چل رہا تھا۔ ڈبّے میں کشیدگی آ گئی۔ لوگوں نے باتیں کرنا بند کر دیا۔ تینوں کے  تینوں پٹھان اوپروالی برتھ پر ایک ساتھ بیٹھے چپ چاپ نیچے کی طرف دیکھے جا رہے تھے۔ تمام مسافروں کی آنکھیں پہلے سے زیادہ کھلی کھلی، مزید خوفزدہ سی لگ رہی تھیں۔ یہی کیفیت گاڑی کے تمام ڈبوں میں رونما ہو رہی تھی۔

’’کون سا اسٹیشن تھا یہ؟‘‘ڈبّے میں کسی نے پوچھا۔

’’وزیرآباد!‘‘کسی نے جواب دیا۔

جواب ملنے پر ڈبّے میں ایک اور ردعمل ہوا۔ پٹھانوں کے دل کا دباؤ فوراً ڈھیلا پڑ گیا۔ جبکہ ہندو سکھ مسافروں کی خاموشی مزید گہری ہو گئی۔ ایک پٹھان نے اپنی واسکٹ کی جیب میں سے نسوار کی ڈبیا نکالی اور ناک میں نسوار چڑھانے لگا۔ دیگر پٹھان بھی اپنی اپنی ڈبیاں نکال کر نسوار چڑھانے لگے۔ بڑھیا برابر مالا جپے جا رہی تھی۔ کسی کسی وقت اس کے ہونٹ ہلتے نظر آتے، لگتا ان میں سے کوئی کھوکھلی سی آواز نکل رہی ہے۔

اگلے اسٹیشن پر جب گاڑی رُکی تو وہاں بھی سناٹا تھا۔ کوئی پرندہ تک نہیں پھڑک رہا تھا۔ ہاں، ایک بہشتی، پیٹھ پر پانی کی مشک لادے، پلیٹ فارم الانگھ کر آیا اور مسافروں کو پانی پلانے لگا۔’’لو، پیو پانی، پیو پانی۔‘‘ عورتوں کے ڈِبّے میں سے عورتوں اور بچوں کے کئی ہاتھ باہر نکل آئے۔

’’بہت مار کاٹ ہوئی ہے، بہت لوگ مرے ہیں۔‘‘ لگتا تھا، وہ اس مار کاٹ میں اکیلا ثواب کمانے چلا آیا ہے۔

گاڑی سرکی تو اچانک کھڑکیوں کے پلّے چڑھائے جانے لگے۔ دوردور تک، پہیوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ، کھڑکیوں کے پلّے چڑھائے جانے کی آواز آنے لگی۔

کسی نامعلوم محرّک پر چھریرے بدن والا بابو میرے پاس والی سیٹ پر سے اٹھا اور دو سیٹوں کے درمیان فرش پر لیٹ گیا۔ اس کا چہرہ اب بھی مردے جیسا زرد ہو رہا تھا۔ اس پر برتھ پر بیٹھا پٹھان اس سے ٹھٹھولی کرنے لگا، ’’او بے غیرت، تم مرد اے کہ عورت اے؟ سیٹ پر سے اُٹ کر نیچے لیٹتا اے۔ تم مرد کے نام کو بدنام کرتا اے۔‘‘وہ بول رہا تھا اور بار بار ہنسے جا رہا تھا۔ پھر وہ اس سے پشتو میں کچھ کہنے لگا۔ بابو خاموشی سے لیٹا رہا۔ دیگر تمام مسافربھی چپ تھے۔ ڈبّے کی فضا بوجھل تھی۔

’’ایسے آدمی کو اَم ڈبّے میں نئیں بیٹھنے دے گا۔ او بابو، اگلے اسٹیشن پر اتر جاؤ، اور زنانہ ڈبّے میں بیٹو۔‘‘

مگر بابو کی حاضرجوابی اس کے حلق میں سوکھ چلی تھی۔وہ ہکلا کر چپ ہو رہا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد وہ اپنے آپ اٹھ کر سیٹ پر جا بیٹھا اور دیر تک اپنے کپڑوں کی دھول جھاڑتا رہا۔ وہ کیوں اٹھ کر فرش پر لیٹ گیا تھا؟ شاید اسے ڈر تھا کہ باہر سے گاڑی پر پتھرا ؤ ہوگا یا گولی چلے گی، شاید اسی وجہ سے کھڑکیوں کے پلّے چڑھائے جا رہے تھے۔

کچھ بھی کہنا مشکل تھا۔ ممکن ہے کسی ایک مسافر نے کسی وجہ سے کھڑکی کا پلّہ چڑھایا ہو۔ اس کی دیکھا دیکھی، بغیر سوچے سمجھے، دھڑادھڑ کھڑکیوں کے پلے چڑھائے جانے لگے تھے۔

بوجھل اور بے چینی کی فضا میں سفر کٹنے لگا۔ رات ہونے لگی تھی۔ ڈِبّے کے مسافر ساکت اورخاموش، جوں کے توں بیٹھے تھے۔ کبھی گاڑی کی رفتار اچانک ٹوٹ کر دھیمی پڑ جاتی تو لوگ ایک  دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے۔ کبھی راستے میں ہی رُک جاتی تو ڈبّے کے اندر کا سناٹا اور بھی گہرا ہو جاتا۔ صرف پٹھان اطمینان سے بیٹھے تھے۔ ہاں، باتیں کرناانھوں نے بھی چھوڑ دیا تھا، کیونکہ ان کی بات چیت میں شامل ہونے والا کوئی بھی نہیں تھا۔

دھیرے دھیرے پٹھان اونگھنے لگے جبکہ دیگر مسافر پھٹی پھٹی آنکھوں سے خلا میں دیکھے جا رہے تھے۔ بڑھیا منھ سر لپیٹے، ٹانگیں سیٹ پر چڑھائے، بیٹھی بیٹھی سو گئی تھی۔ اوپروالی برتھ پر ایک پٹھان نے، نیم دراز ہی، کرتے کی جیب میں سے کالے منکوں کی تسبیح نکال لی اور اسے دھیرے  دھیرے ہاتھ میں چلانے لگا۔

کھڑکی کے باہر آسمان پر چاند نکل آیا اور چاندنی میں باہر کی دنیا اور بھی غیریقینی، اور بھی زیادہ پُراسرار ہو اٹھی۔ کسی کسی وقت دور کسی طرف آگ کے شعلے اٹھتے نظر آتے، کوئی شہر جل رہا تھا۔ گاڑی کبھی چنگھاڑتی ہوئی آگے بڑھنے لگتی، کسی وقت اس کی رفتار دھیمی پڑ جاتی اور میلوں تک دھیمی رفتار سے ہی چلتی رہتی۔

اچانک چھریرے بدن والا بابو کھڑکی میں سے باہر دیکھ کر اونچی آواز میں بولا’’ہربنس پورہ نکل گیا ہے ۔‘‘ اس کی آواز میں جوش تھا، وہ جیسے چیخ کر بولا تھا۔ ڈبّے کے سبھی لوگ اس کی آواز سُن کر چونک گئے۔ اسی وقت ڈبّے کے زیادہ تر مسافروں نے گویا اس کی آواز کو ہی سُن کر کروٹ بدلی۔

’’او بابو، چلاتا کیوں اے؟‘‘ تسبیح والا پٹھان چونک کر بولا، ’’ادر اترے گا تم؟ زنجیر کھینچوں؟‘‘اور کھی کھی کرکے ہنس دیا۔ ظاہر ہے وہ ہربنس پورہ کی اہمیت سے یا اس کے نام سے ناواقف تھا۔

بابو نے کوئی جواب نہیں دیا، صرف سر ہلا دیا اور ایک نظر پٹھان کی طرف دیکھ کر پھر کھڑکی کے باہر جھانکنے لگا۔

ڈبّے میں پھر خاموشی چھا گئی۔ تبھی انجن نے سیٹی دی اور اس کی ہموار رفتار ٹوٹ گئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد کھٹاک کی سی آواز بھی سنائی دی۔ شاید گاڑی نے پٹری بدلی تھی۔ بابو نے جھانک کر اس سمت میں دیکھا جس طرف گاڑی بڑھی جا رہی تھی۔

’’شہر آ گیا ہے۔‘‘ وہ پھر اونچی آواز میں چلّایا، ’’امرِتسَر آگیا ہے ۔‘‘اس نے پھر سے کہا اور اُچھل کر کھڑا ہو گیا، اور اوپر والی برتھ پر لیٹے پٹھان کو مخاطب کرکے چلایا، ’’او بے پٹھان کے بچے! نیچے اُتر تیری ماں کی… نیچے اُتر، تیری اس پٹھان بنانے والی ماں کی میں…‘‘

بابو چلّانے لگا اور چیخ چیخ کر گالیاں بکنے لگا تھا۔ تسبیح والے پٹھان نے کروٹ بدلی اور بابو کی طرف دیکھ کر بولا، ’’او کیا اے بابو؟ ام کو کچ بولا؟‘‘

بابو کو مشتعل دیکھ کر دیگر مسافر بھی اٹھ بیٹھے۔

’’نیچے اُتر، تیری میں…ہندوعورت کو لات مارتا ہے! حرام زادے! تیری اس…‘‘

’’او بابو، بک بک نئیں کرو۔ او خنزیرکے تخم، گالی مت بکو، اَم نے بول دیا۔ ام تمارا زبان کھینچ لے گا۔‘‘

’’گالی دیتا ہے مادر…‘‘بابو چلّایا اور اچھل کر سیٹ پر چڑھ گیا، وہ سر سے پاؤں تک کانپ رہا تھا۔

’’بس بس ۔‘‘ سردار جی بولے، ’’یہ لڑنے کی جگہ نہیں ہے۔ تھوڑی دیر کا سفر باقی ہے، آرام سے بیٹھو۔‘‘

’’تیری میں لات نہ توڑدوں تو کہنا، گاڑی تیرے باپ کی ہے؟‘‘بابو چلّایا۔

’’او ام نے کیا بولا!سبی لوگ اس کو نکالتا تھا، ام نے بی نکالا۔ یہ ادر ام کو گالی دیتا اے۔ ام اس کا زبان کھینچ لے گا۔‘‘

بڑھیا درمیان میں پھر بولے اٹھی، ’’وے جیون جوگیو، آرام نال بیٹھو۔ وے رب دے بندیو، کچھ ہوش کرو۔‘‘

اس کے ہونٹ کسی بھوت پریت کی طرح پھڑپھڑائے جا رہے تھے اور ان میں سے کمزور سی پھسپھساہٹ سنائی دے رہی تھی۔

بابو چلاے جا رہا تھا، ’’اپنے گھر میں شیر بنتا تھا۔ اب بول، تیری میں اس پٹھان بنانے والے کی…‘‘

تبھی گاڑی امرتسر کے پلیٹ فارم پر رکی۔ پلیٹ فارم لوگوں سے کھچاکھچ بھرا تھا۔ پلیٹ فارم پر کھڑے لوگ جھانک جھانک کر ڈبوں کے اندر دیکھنے لگے۔ بار بار لوگ ایک ہی سوال پوچھ رہے تھے، ’’پیچھے کیا ہوا ہے؟ کہا ں پر فساد ہوا ہے؟‘‘

کھچاکھچ بھرے پلیٹ فارم پر شاید اسی بات کا ذکر چل رہا تھا کہ پیچھے کیا ہوا ہے۔ پلیٹ فارم پر کھڑے دو تین خوانچے والوں پر مسافر ٹوٹے پڑ رہے تھے۔ سب کو اچانک بھوک اور پیاس پریشان کرنے لگی تھی۔ اسی دوران تین چار پٹھان ہمارے ڈبّے کے باہر نمودار ہو ئے اور کھڑکی میں سے جھانک جھانک کر اندر دیکھنے لگے۔ اپنے پٹھان ساتھیوں پر نظر پڑتے ہی وہ ان سے پشتو میں کچھ کہنے لگے۔ میں نے گھوم کر دیکھا، بابو ڈبّے میں نہیں تھا۔ نہ جانے کب وہ ڈِبّے میں سے نکل گیا تھا۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ غصے میں وہ پاگل ہوا جا رہا تھا۔ نہ جانے کیا کر بیٹھے! پر اس دوران ڈبّے کے تینوں پٹھان، اپنی اپنی گٹھڑی اٹھا کر باہر نکل گئے اور اپنے پٹھان ساتھیوں کے ساتھ گاڑی کے اگلے ڈِبّے کی طرف بڑھ گئے۔ جو بٹوارہ پہلے ہر ڈِبّے کے اندر ہوتا رہا تھا، اب ساری گاڑی کی سطح پر ہونے لگا تھا۔

خوانچے والوں کے ارد گرد بھیڑ چھٹنے لگی۔ لوگ اپنے اپنے ڈبوں میں لوٹنے لگے۔تبھی اچانک ایک طرف سے مجھے وہ بابو آتا دکھائی دیا۔ اس کا چہرہ اب بھی بہت زرد تھا اور ماتھے پر بالوں کی لٹ جھول رہی تھی۔ نزدیک پہنچا تو میں نے دیکھا، اس نے اپنے داہنے ہاتھ میں لوہے کی ایک سلاخ اٹھا رکھی تھی۔ جانے وہ اسے کہاں مل گئی تھی! ڈِبّے میں گھستے وقت اس نے سلاخ کو اپنی پیٹھ کے پیچھے کر لیا اور میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے سے پہلے اس نے ہولے سے سلاخ کو سیٹ کے نیچے سرکا دیا۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس کی آنکھیں پٹھان کو دیکھنے کے لیے اوپر اٹھیں۔ پر ڈبّے میں پٹھانوں کو نہ پا کر وہ ہڑبڑاکر چاروں طرف دیکھنے لگا۔

’’نکل گئے حرامی، مادر… سب  کے سب نکل گئے!‘‘پھر وہ سٹپٹا کر اٹھ کھڑا ہوا، چلا کر بولا، ’’تم نے انھیں جانے کیوں دیا؟ تم سب نامرد ہو، بزدل!‘‘

لیکن گاڑی میں بھیڑ بہت تھی۔ بہت سے نئے مسافر آ گئے تھے۔ کسی نے اس کی طرف خاص توجہ نہیں دی۔

گاڑی سرکنے لگی تو وہ پھر میری والی سیٹ پر آ بیٹھا، لیکن وہ بڑے جوش میں تھا اور مسلسل بڑبڑاے جا رہا تھا۔

دھیرے دھیرے ہچکولے کھاتی گاڑی آگے بڑھنے لگی۔ ڈبّے میں پرانے مسافروں نے پیٹ بھر کے پوریاں کھالی تھیں اور پانی پی لیا تھا اوراب گاڑی اس علاقے میں آگے بڑھنے لگی تھی جہاں ان کے جان مال کو خطرہ نہیں تھا۔

نئے مسافر باتیں کر رہے تھے۔ دھیرے دھیرے گاڑی پھر ہموار رفتار سے چلنے لگی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد لوگ اونگھنے لگے تھے لیکن بابو اب بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔ بار بار مجھ سے پوچھتا کہ پٹھان ڈِبّے میں سے نکل کر کس طرف کو گئے ہیں۔ اس کے سر پر جنون سوار تھا۔

گاڑی کے ہچکولوں میں میں خود اونگھنے لگا تھا۔ ڈبّے میں لیٹنے کے لیے جگہ نہیں تھی۔ بیٹھے  بیٹھے ہی نیند میں میرا سر کبھی ایک طرف کو لڑھک جاتا، کبھی دوسری طرف کو۔ کسی کسی وقت جھٹکے سے میری نیند ٹوٹتی اور مجھے سامنے کی سیٹ پر بے ڈھنگے پن سے پڑے سردار جی کے خرّاٹے سنائی دیتے۔ امرتسر پہنچنے کے بعد سردار جی پھر سے سامنے والی سیٹ پر ٹانگیں پسارکر لیٹ گئے تھے۔ ڈِبّے میں طرح طرح کے آڑے ترچھے انداز میں مسافرپڑے تھے۔ انھیں اس طرح پڑے دیکھ کر لگتا، ڈ بّا لاشوں سے بھرا ہوا ہے۔ پاس بیٹھے بابو پر نظر پڑتی تو کبھی وہ کھڑکی کے باہر منھ کیے دیکھ رہا ہوتا، کبھی دیوار سے پیٹھ لگائے تن کر بیٹھا نظر آتا۔

کسی کسی وقت گاڑی کسی اسٹیشن پر رکتی تو پہیوں کی گڑگڑاہٹ بند ہونے پرطمانیت سی چھا جاتی۔ پھر لگتا، جیسے پلیٹ فارم پر کچھ گرا ہے یا جیسے کوئی مسافر گاڑی میں سے اترا ہے اور میں جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ جاتا۔

اسی طرح جب ایک بار میری نیند ٹوٹی تو گاڑی کی رفتار سست پڑ چکی تھی، اور ڈبّے میں اندھیرا تھا۔ میں نے اسی طرح نیم دراز کھڑکی میں سے باہر دیکھا۔ دور، پیچھے کی طرف کسی اسٹیشن کے سگنل کے لال قمقمے چمک رہے تھے۔ ظاہر تھا کہ گاڑی کوئی اسٹیشن پار کر کے آئی تھی لیکن اب تک اس نے رفتار نہیں پکڑی تھی۔

ڈبّے کے باہر مجھے دھیمی سی، بے ربط سی آوازیں سنائیں دیں۔ دور ایک دھندلا سا سیاہ تودہ نظر آیا۔ نیند کے خمارمیں میری آنکھیں کچھ دیر تک اس پر لگی رہیں، پھر میں نے اسے سمجھنے کا خیال چھوڑ دیا۔ ڈِبّے کے اندر اندھیرا تھا، بتیّاں بجھی ہوئی تھیں، لیکن باہر لگتا تھا، پَو پھٹنے والی ہے۔

میری پیٹھ پیچھے، ڈبّے کے باہر کسی چیز کے کھرچے جانے کی سی آواز آئی۔ میں نے دروازے کی طرف گھوم کر دیکھا۔ ڈِبّے کا دروازہ بند تھا۔ مجھے پھر سے دروازہ کھرچنے کی آواز سنائی دی۔ پھر، میں نے صاف صاف سنا، لاٹھی سے کوئی ڈِبّے کا دروازہ پیٹ رہا تھا۔ میں نے جھانک کر کھڑکی کے باہر دیکھا۔ سچ مچ ایک آدمی ڈِبّے کی دو سیڑھیاں چڑھ آیا تھا۔ اس کے کندھے پر ایک گٹھری جھول رہی تھی، اور ہاتھ میں لاٹھی تھی اور اس نے بدرنگے سے کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کے داڑھی بھی تھی۔ پھر میری نظر باہر نیچے کی طرف آ گئی۔ گاڑی کے ساتھ  ساتھ ایک عورت بھاگتی چلی آ رہی تھی، ننگے پاؤں، اور اس نے دو گٹھریاں اٹھا رکھی تھیں۔ بوجھ کی وجہ سے اس سے دوڑا نہیں جا رہا تھا۔ ڈِبّے کے پائیدان پر کھڑا آدمی بار بار اس کی طرف مڑ کر دیکھ رہا تھا اور ہانپتا ہوا کہے جا رہا تھا، ’’آ جا، آ جا، تو بھی چڑھ آ، آ جا!‘‘

دروازے پر پھر سے لاٹھی ٹھوکنے کی آواز آئی، ’’کھولو جی دروازہ، خدا کے واسطے دروازہ کھولو۔‘‘

وہ آدمی ہانپ رہا تھا، ’’خدا کے لیے دروازہ کھولو۔ میرے ساتھ میں عورت ذات ہے۔ گاڑی نکل جائے گی…‘‘

اچانک میں نے دیکھا، بابو ہڑبڑاکر اٹھ کھڑا ہوا اور دروازے کے پاس جا کر دروازے میں لگی کھڑکی میں سے منھ باہر نکال کر بولا، ’’کون ہے؟ ادھر جگہ نہیں ہے۔‘‘

باہر کھڑا آدمی پھر گڑگڑانے لگا، ’’خدا کے واسطے دروازہ کھولو۔ گاڑی نکل جائے گی…‘‘

اور وہ آدمی کھڑکی میں سے اپنا ہاتھ اندر ڈال کر دروازہ کھولنے کے لیے چٹخنی ٹٹولنے لگا۔

’’نہیں ہے جگہ، بول دیا، اتر جاؤ گاڑی پر سے۔‘‘ بابو چلّایا اور اسی لمحے لپک کر دروازہ کھول دیا۔

’’یا اللہ! اس آدمی کے مبہم سے الفاظ سنائی دیے۔ دروازہ کھلنے پر جیسے اس نے اطمینان کی سانس لی ہو۔‘‘

اور اسی وقت میں نے بابو کے ہاتھ میں سلاخ چمکتے دیکھی۔ ایک ہی بھرپور وار بابو نے اس مسافر کے سر پر کیا۔ میں دیکھتے ہی ڈر گیا اور میری ٹانگیں لرز گئیں۔ مجھے لگا، جیسے سلاخ کے وار کا اس آدمی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے دونوں ہاتھ اب بھی زور سے ڈنڈے کو پکڑے ہوئے تھے۔ کندھے پر لٹکتی گٹھری کھسک کر اس کی کہنی پر آ گئی تھی۔

تبھی اچانک اس کے چہرے پر لہو کی دو تین دھاریں ایک ساتھ پھوٹ پڑیں۔ مجھے اس کے کھلے ہونٹ اور چمکتے دانت نظر آئے۔ وہ دو ایک بار ’یا اللہ‘ بدبدایا، پھر اس کے پیر لڑکھڑا گئے۔ اس کی آنکھوں نے بابو کی طرف دیکھا، ادھ کھلی سی آنکھیں، جو دھیرے دھیرے سکڑتی جا رہی تھیں، گویا اسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہوں کہ وہ کون ہے اور اس سے کس عداوت کا بدلہ لے رہا ہے۔ اس درمیان اندھیرا کچھ اور چھٹ گیا تھا۔ اس کے ہونٹ پھر سے پھڑپھڑائے اور ان میں سفید دانت پھر سے جھلک اٹھے۔ مجھے لگا، جیسے وہ مسکرایا ہے، پر اصل میں صرف کمزوری کی وجہ سے اس کے ہونٹوں میں بل پڑنے لگے تھے۔

نیچے پٹری کے ساتھ ساتھ بھاگتی عورت بڑبڑائے اور کوسے جا رہی تھی۔ اسے ابھی معلوم نہیں ہو پایا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ وہ اب بھی شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ گٹھری کی وجہ سے اس کا شوہر گاڑی پر ٹھیک طرح سے چڑھ نہیں پا رہا ہے یا اس کا پاؤں جم نہیں پا رہا ہے۔ وہ گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتی ہوئی، اپنی دو گٹھریوں کے باوجود اپنے شوہر کے پیر پکڑ پکڑ کر سیڑھی پر ٹکانے کی کوشش کر رہی تھی۔

تبھی اچانک ڈنڈے سے اس آدمی کے دونوں ہاتھ چھوٹ گئے اور وہ کٹے ہوئے پیڑ کی طرح نیچے جا گرا۔ اور اس کے گرتے ہی عورت نے بھاگنا بند کر دیا، گویا دونوں کا سفر ایک ساتھ ہی ختم ہو گیا ہو۔

بابو ابھی تک میرے قریب، ڈِبّے کے کھلے دروازے میں بُت بنا کھڑا تھا، لوہے کی سلاخ اب بھی اس کے ہاتھ میں تھی۔ مجھے لگا، جیسے وہ سلاخ کو پھینکنا چاہتا ہے لیکن اسے پھینک نہیں پا رہا، اس کا ہاتھ جیسے اٹھ نہیں رہا تھا۔ میری سانس اب بھی پھولی ہوئی تھی اور ڈِبّے کے اندھیرے کونے میں میں کھڑکی کے ساتھ لگ کر بیٹھا اس کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔

پھر وہ آدمی کھڑے کھڑے ہلا۔ کسی نامعلوم محرّک پر وہ ایک قدم آگے بڑھ آیا اور دروازے میں سے باہر پیچھے کی طرف دیکھنے لگا۔ گاڑی آگے نکلتی جا رہی تھی۔ دور، پٹری کے کنارے اندھیرے میں ایک تودہ سا نظر آ رہا تھا۔

بابو کا جسم حرکت میں آیا۔ ایک جھٹکے سے اس نے سلاخ کو ڈِبّے کے باہر پھینک دیا۔ پھر گھوم کر ڈِبّے کے اندر دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ تمام مسافر سوئے ہوئے تھے۔ میری طرف اس کی نظر نہیں اٹھی۔

تھوڑی دیر تک وہ کھڑا ڈولتا رہا، پھر اس نے گھوم کر دروازہ بند کر دیا اس نے غور سے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا، اپنے دونوں ہاتھوں کی طرف دیکھا، پھر ایک ایک کرکے اپنے دونوں ہاتھوں کو ناک کے پاس لے جا کر انھیں سونگھا، گویا جاننا چاہتا ہو کہ اس کے ہاتھوں سے خون کی بو تو نہیں آ رہی ہے۔ پھر وہ دبے پاؤں چلتا ہوا آیا اور میرے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔

دھیرے دھیرے جھٹپٹا چھٹنے لگا، دن کھلنے لگا۔ صاف ستھری سی روشنی چاروں طرف پھیلنے لگی۔ کسی نے زنجیر کھینچ کر گاڑی کو کھڑا نہیں کیا تھا، سلاخ کھا کر گرے ہوئے آدمی کاجسم میلوں پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ سامنے گیہوں کے کھیتوں میں پھر سے ہلکی ہلکی لہریں اٹھنے لگی تھیں۔

سردار جی بدن کھجلاتے اٹھ بیٹھے۔ میرے برابربیٹھا بابو دونوں ہاتھ سر کے پیچھے رکھے سامنے کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔ رات بھر میں اس کے چہرے پر داڑھی کے چھوٹے چھوٹے بال اُگ آئے تھے۔ اپنے سامنے بیٹھا دیکھ کر سردار اس کے ساتھ باتیں کرنے لگا ، ’’بڑے ہمّت والے ہو بابو، دُبلے پتلے ہو، پر بڑے گُردے والے ہو۔ بڑی ہمّت دکھائی ہے۔ تم سے ڈر کر ہی وہ پٹھان ڈِبّے میں سے نکل گئے۔ یہاں جمے رہتے تو ایک نہ ایک کی کھوپڑی تم ضرور درست کر دیتے…‘‘اور سردار جی ہنسنے لگے۔

بابو جواب میں مسکرایا؛ ایک مردے جیسی مسکان، اور دیر تک سردار جی کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا۔

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

رابندر ناتھ ٹیگور کا افسانہ : کابلی والا (Kabuliwala)

افسانہ نمبر 723 : طوفان، تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا)، مترجم : محمد فیصل (کراچی)