افسانہ نمبر 767 : داسی کی شادی || تحریر: آر۔ کے۔نارائن (بھارت) || اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 767 : داسی کی شادی

 تحریر: آر۔ کے۔نارائن (بھارت)

اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

 


    اس کا نام داسی تھا۔ پورے ایکسٹینشن میں اس جیسا دوسرا کوئی نہ تھا۔ وہ ایک بھدا سا آدمی تھا؛ اس کا سر لمبوترا اور تنگ، آنکھیں ابھری ہوئی، اور گردن موٹی تھی۔ گردن کے نیچے اس کا جسم غیر معمولی طور پر بھاری بھرکم اور سراسر پٹھوں سے بنا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ خدا نے اسے رواں اور صاف گفتگو کی نعمت نہیں دی تھی۔ وہ شیر خوار بچے کی طرح ہکلاتا اور تتلاتا تھا۔ اس کی عمر ایک معما تھی۔ وہ بیس برس کا بھی ہو سکتا تھا، اور پچاس کا بھی۔ وہ آخری گلی کے ایک مکان میں رہتا تھا۔ یہ بات ہمیشہ لوگوں کے لیے قیاس آرائی کا موضوع بنی رہتی کہ اس گھر کے مالک سے اس کا کیا رشتہ ہے۔ بعض کہتے تھے کہ وہ اس کا چھوٹا بھائی ہے، اور بعض کا خیال تھا کہ وہ کوئی لاوارث بچہ تھا جسے اس شریف آدمی نے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔

 حقیقت جو بھی تھی، خود داسی بھی اس راز سے پردہ نہیں اٹھا سکتا تھا؛ کیونکہ، جیسا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں، وہ تو اپنی عمر تک درست طور پر نہیں بتا سکتا تھا۔ اگر اس سے پوچھا جاتا تو ایک دن کہتا، "سو برس"، اور دوسرے دن جواب دیتا، "پانچ برس۔" اسے جو کھانا اور پناہ میسر تھی، اس کے بدلے وہ اپنی سی سمجھ کے مطابق گھر والوں کی خدمت کرتا تھا۔ تڑکے سے دوپہر تک کنویں سے پانی کھینچتا، لکڑیاں کاٹتا، اور باغ کی گوڈی کرتا رہتا تھا۔

    دوپہر کے بعد داسی گھر سے باہر نکلتا۔ جوں ہی وہ گلی میں قدم رکھتا، درجنوں بچے اس کے پیچھے لگ جاتے، شور مچاتے، اس کا مذاق اڑاتے اور اس پر آوازے کستے۔ خوانچہ فروش اور راہ گیر بھی رک کر اس پر کوئی نہ کوئی فقرہ چست کرنے سے باز نہ آتے تھے۔ ان میں خاص طور پر ایک مکان، جو "منٹپم" کے نام سے مشہور تھا، اس سلسلے میں بدنام تھا۔ اس کے سامنے والے برآمدے میں بوڑھے آدمیوں کی ایک ٹولی دن بھر بیٹھی رہتی تھی؛ ایسے لوگ، جنھوں نے اپنی جوانی میں بہت کام کیے تھے، مگر اب دن کے کسی بھی حصے میں ان کے پاس کرنے کو کچھ نہ تھا۔ وہ ہمیشہ کسی نئی بات، کسی دلچسپ واقعے یا گپ شپ کی تلاش میں رہتے تھے۔ ان کے لیے داسی تفریح کا ایک نہ ختم ہونے والا ذریعہ تھا۔ جوں ہی داسی دکھائی دیتا، وہ زور سے آواز لگاتے،

   "او بھئی، تمھاری دلھن کا کچھ بندوبست ہوا یا نہیں؟" یہ سوال کبھی بھی داسی کو اپنی طرف کھینچنے میں ناکام نہ ہوتا، کیونکہ وہ اپنی شادی کے بارے میں نہایت سنجیدگی اور دلجمعی سے سوچا کرتا تھا۔ وہ آ کر ان کے درمیان زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتا، تو وہ کہتے،

   "ارے بھائی، شادیوں کا موسم ختم ہونے والا ہے، جلدی کرو!"

      داسی فوراً جواب دیتا،"ہاں، ہاں، میں ابھی پنڈت کے پاس جا رہا ہوں۔ اس نے وعدہ کیا ہے کہ آج ہی سب طے کر دے گا۔"

"آج ہی؟"

    "ہاں، آج رات میری شادی ہو جائے گی۔

 اس نے یہی کہا ہے۔"

"کس نے کہا؟"

"میرے چچا نے۔۔۔"

"تمھارے چچا کون ہیں؟"

       "میرا بڑا بھائی ہی میرا چچا ہے۔ میں اسی کے گھر رہتا ہوں، اور اسی کے کنویں سے پانی کھینچتا ہوں۔ دیکھو، میرے ہاتھ کا کیا حال ہو گیا ہے۔۔۔ ساری کھال اتر گئی ہے۔۔۔"

یہ کہتے ہوئے وہ اپنی انگلیاں پھیلا کر ہتھیلیاں دکھاتا۔ وہ اس کی ہتھیلیاں ٹٹولتے اور کہتے، "ارے، یہ تو لکڑی کی طرح سخت ہو گئی ہیں! بےچارا! یہ تو اچھا نہیں۔ میرے بھائی، تمھیں جلد از جلد شادی کر لینی چاہیے، تاکہ اس مصیبت سے نجات مل جائے۔"

یہ سنتے ہی داسی کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھتیں، اور اس کے ہونٹ پھیل جاتے۔ اس کی مسکراہٹ میں سامنے کا ایک بہت بڑا دانت نمایاں ہو جاتا۔ یہ دیکھ کر سب لوگ ہنس پڑتے، اور داسی بھی ان کے ساتھ جھوم جھوم کر قہقہے لگانے لگتا۔

     پھر کوئی پوچھتا، "اچھا، تمھاری دلھن کہاں ہے؟"

 داسی جواب دیتا، "وہ وہاں ہے۔۔۔ مدراس میں۔۔۔ مدراس میں۔۔۔"

"اچھا، وہ دیکھنے میں کیسی ہے؟"

    "اس کی آنکھیں ایسی ہیں۔۔۔" داسی اپنی انگلی سے ہوا میں ایک بڑا سا دائرہ بناتے ہوئے کہتا۔

"اور اس کا رنگ کیسا ہے؟"

"بہت، بہت گورا۔"

"اس کے بال لمبے ہیں؟"

داسی نے ہاتھ کے اشارے سے لمبے، گھنے

 اور لہراتے ہوئے بالوں کا نقشہ کھینچ دیا۔

"وہ بہت خوب صورت ہے؟"

"ہاں۔۔۔ ہاں، بہت۔"

یہ کہتے ہوئے داسی نے شرم سے اپنا

چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا، پھر کنکھیوں سے سب کی طرف دیکھ کر دھیمے لہجے میں بولا،

"ہاں۔۔۔ ہاں، مجھے بھی وہ بہت پسند ہے۔"

   "لیکن شادی کے لیے تمھارے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے؟"

      "انھوں نے مجھے تین ہزار روپے دینے

ہیں۔" داسی نے جواب دیا۔

       اس پر ایک شخص نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی برسوں کی مزدوری جمع ہو چکی ہے۔"

   جب وہ گھر واپس پہنچتا، تو اس سے پوچھا جاتا، "کہاں گئے تھے؟" وہ مختصر سا جواب دیتا، "اپنی شادی کے لیے۔" پھر جا کر برآمدے سے متصل چھپر میں اپنی چٹائی پر بیٹھ جاتا، جو اس دنیا میں اس کی واحد ذاتی ملکیت تھی۔ وہ دیر تک اپنی شادی کے خیالوں میں گم رہتا، یہاں تک کہ اسے کھانے کے لیے بلایا جاتا۔ وہ ہمیشہ سب سے آخر میں کھانا کھاتا، کیونکہ وہ غیر معمولی مقدار میں چاول کھاتا تھا، اور گھر والوں کو اندیشہ رہتا تھا کہ اگر اسے پہلے بٹھا دیا گیا تو دوسروں کے لیے شاید کچھ نہ بچے۔ کھانے کے بعد وہ پانی سے بھرے بڑے بڑے دیگچے اٹھا کر لاتا، باورچی خانے اور کھانے کے کمرے کا فرش دھوتا، اور پھر اپنی چٹائی پر جا کر سو جاتا۔ سحر ہوتے ہی بیدار ہوتا اور حسبِ معمول کنویں سے پانی کھینچنے لگتا۔

  یہ سلسلہ نہ جانے کتنے برسوں سے اسی طرح چلا آ رہا تھا۔ اس کی زندگی کی بھی ایک اپنی لے، ایک اپنا آہنگ تھا۔ نہ کبھی اسے کسی چیز کی خواہش کرتے دیکھا گیا، نہ وہ کسی کے معاملات میں مداخلت کرتا تھا۔ وہ کسی سے خود بات نہ کرتا، جب تک کوئی اس سے مخاطب نہ ہوتا۔ اسے کبھی یہ احساس تک نہ ہوا کہ لوگ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ وہ ہر شخص کی بات پوری سنجیدگی سے لیتا تھا۔ جب ایکسٹینشن اسکول کے بچے اس کے پیچھے شور مچاتے اور اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے دوڑتے، تو وہ یوں چلتا رہتا جیسے اسے ان کی موجودگی کا احساس ہی نہ ہو۔ وہ بیل جیسی قوت رکھتا تھا، مگر اس کے ساتھ ساتھ  دھرتی ماں جیسا صبر و تحمل بھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی کوئی بات اسے کبھی برہم یا مشتعل نہیں کر سکتی۔

      تیسری گلی کا وہ چھوٹا سا کاٹیج، جو ازل سے خالی پڑا تھا، اچانک اس کے دروازے سے "کرایہ کے لیے خالی ہے" کا بورڈ اتر گیا۔

ایک صبح اخبارات اور خطوط لے کر آنے والی ریل گاڑی مدراس سے ایک فلمی اداکارہ بھی ساتھ لے آئی، جس کا نام بامنی بائی تھا؛ ایک نوجوان عورت، جو مسکراہٹ، ریشمی لباس اور پاؤڈر میں لپٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ اس نے اسی چھوٹے سے کاٹیج میں سکونت اختیار کر لی۔

  جلد ہی ایکسٹینشن کے لوگوں کو اس کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو گیا۔ وہ کچھ عرصہ مالگوڈی میں رہنے والی تھی تاکہ شہر کے ایک مشہور موسیقار سے تربیت حاصل کر سکے۔ اس کی بوڑھی ماں بھی اس کے ساتھ رہتی تھی۔ ایکسٹینشن کے لوگوں کو بھی اس کی روزمرہ کی تمام نقل و حرکت کا پورا علم تھا۔ وہ صبح سویرے گھر سے نکلتی، دوپہر کو واپس آتی، تین بجے تک سوتی، پھر پانچ بجے ٹرنک روڈ پر چہل قدمی کے لیے نکل جاتی، اور اسی طرح اس کا معمول جاری رہتا تھا۔

      ایک دن منٹپم میں کسی نے داسی سے کہا٬ "داسی، تمھاری بیوی آ گئی ہے۔"

 "کہاں؟" داسی نے بےتابی سے پوچھا۔ وہ گھبرا گیا۔ اس کا گلا خشک ہو گیا اور وہ اپنے دل کی بےچینی اور خوشی کو الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ وہاں موجود لوگوں نے نہایت سنجیدہ چہرے بنا کر کہا٬ "کیا تم اگلی گلی والے اس چھوٹے سے گھر کو جانتے ہو؟"

"ہاں، ہاں۔"

        "وہ وہیں ہے۔ کیا تم نے اسے نہیں دیکھا؟"

    داسی نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا اور وہاں سے چل دیا۔ وہ اگلی گلی میں پہنچا۔ دوپہر کا تقریباً ایک بج رہا تھا، مگر فلمی اداکارہ کہیں دکھائی نہ دی۔ داسی کچھ دیر تک سڑک پر کھڑا اس گھر کو تکتا رہا۔ پھر وہ واپس منٹپم آ گیا۔ انھوں  نے پر شور انداز میں اس کا استقبال کیا۔ "کیسی لگی وہ؟" داسی نے جواب دیا، "میری آنکھیں اسے دیکھ نہ سکیں، دروازہ ہی نہ کھلا۔"

        "کھڑکی سے جھانکنے کی کوشش کرو، وہ تمھیں نظر آ جائے گی۔"

     "میں کھڑکی سے دیکھوں گا،" داسی نے کہا اور پھر چلنے لگا۔

  "نہیں، نہیں، ٹھہرو۔ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ میری بات سنو۔ کیا تم ویسا ہی کرو گے جیسا میں کہتا ہوں؟"

"ہاں، ہاں۔"

 "دیکھو، وہ ہر روز پانچ بجے باہر نکلتی ہے۔ اگر تم ٹرچی روڈ پر جا کر انتظار کرو گے تو وہ تمھیں ضرور نظر آ جائے گی۔"

 داسی کا سر شرم سے جھک گیا۔ لوگوں نے اسے اور اُکسایا، چنانچہ وہ ٹرنک روڈ پر جا کر انتظار کرنے لگا۔ وہ سڑک کنارے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ ابھی دو بھی نہیں بجے تھے اور اسے تقریباً چھ بجے تک انتظار کرنا تھا۔ دھوپ پوری شدت سے اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ درخت کے تنے سے ٹیک لگائے گہری سوچ میں ڈوبا بیٹھا رہا۔ چند موٹر گاڑیاں گرد اُڑاتی ہوئی گزریں، بیل گاڑیاں اپنی گھنٹیوں کی جھنکار کے ساتھ چلتی رہیں، اور دیہاتی شاہراہ پر آتے جاتے رہے، مگر داسی نے  کسی کو دیکھا نہ کسی چیز پر دھیان دیا۔ اس کی نظریں مسلسل سڑک پر جمی رہیں۔ آخرکار وہ آتی ہوئی دکھائی دی۔ اسے دیکھتے ہی داسی کا گلا خشک ہو گیا۔ اس کی کنپٹیاں دھڑکنے لگیں اور پیشانی پر پسینہ چھلک آیا۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں ایسی حسین صورت کبھی نہیں دیکھی تھی۔ حسن اور شباب کا وہ پیکر اسے خیرہ کر گیا۔ وہ حیران، ششدر اور بےخود ہو گیا۔ یکایک اچھل کر کھڑا ہوا اور پوری رفتار سے گھر کی طرف دوڑ پڑا۔ جا کر چھپر میں اپنی چٹائی پر لیٹ گیا۔ وہ اپنے خیالوں میں اس قدر کھو گیا تھا کہ جب اسے کھانے کے لیے بلایا گیا تو بھی نہ اٹھا۔ آخر اس کا مالک خود چھپر میں آیا، اسے جھنجھوڑ کر اٹھایا اور پوچھا٬

"تمھیں کیا ہو گیا ہے؟"

داسی نے مدھم آواز میں کہا،

    "میری شادی۔۔۔ وہ وہاں ہے۔۔۔ وہ بالکل ویسی ہی ہے۔۔۔"

اس کے مالک نے جھڑکتے ہوئے کہا،

"اچھا، اچھا! اب اٹھو، جا کر کھانا کھاؤ اور اپنا کام کرو، احمق کہیں کے!"

  اگلے دن دوپہر کے بعد داسی پھر ٹرنک روڈ پر جا بیٹھا۔ یہ اس کا روز کا معمول بن گیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی ہمت بڑھتی گئی۔

آخر ایک دن ایسا آیا جب وہ اس کی طرف بھرپور نظر سے دیکھ سکا۔ جب وہ اس کے سامنے سے گزری تو داسی کے چہرے پر نرمی آ گئی اور اس کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھل گئے۔ مگر اس نوجوان عورت کے ذہن میں اور ہی خیالات تھے؛ اس نے داسی کی طرف دیکھا تک نہیں۔ وہ اس کے واپس آنے تک انتظار کرتا رہا اور جب وہ لوٹی تو ایک بار پھر اس کی طرف دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی، اگرچہ اندھیرا چھانے لگا تھا اور اس کی نظریں دوسری سمت تھیں۔ داسی خوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ اس کے پیچھے چل پڑا۔ وہ اپنے کاٹیج کا پھاٹک کھول کر اندر داخل ہوئی۔ داسی ایک لمحہ جھجکا، پھر وہ بھی اس کے پیچھے اندر چلا گیا۔ وہ برآمدے میں جلتے ہوئے برقی قمقمے کے نیچے جا کھڑا ہوا۔ اسی اثنا میں بامنی بائی کی ماں باورچی خانے سے باہر آئی اور بولی،

"تم کون ہو؟"

   داسی نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر بوڑھی عورت گھبرا گئی۔ اس نے بلند آواز میں پکارا، "باما! ذرا دیکھو، برآمدے میں یہ آدمی کون کھڑا ہے؟" بامنی بائی اپنے کمرے سے باہر آئی۔

"تم کون ہو؟" اس نے پوچھا۔ داسی اسے دیکھتے ہی جیسے پگھل گیا۔ اظہار کی جتنی بھی معمولی صلاحیت اس میں تھی، وہ بھی جواب دے گئی۔ وہ بار بار پلکیں جھپکنے لگا، تھوک نگلنے لگا، اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سانس گھٹ رہی ہو۔ اس کی آنکھوں میں بے پایاں محبت جھلک رہی تھی، اور اس کے ہونٹ بڑی مشکل سے مسکراہٹ کی صورت اختیار کر سکے۔ آخر بڑی دقت سے اس کے منہ سے الفاظ نکلے،

"بیوی۔۔۔ بیوی۔۔۔ تم ہی میری بیوی ہو۔۔۔"

     بامنی بائی نے حیرت سے کہا،"یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟"

   "تم میری بیوی ہو،" داسی نے پھر کہا اور اس کی طرف ایک قدم بڑھایا۔ یہ سن کر بامنی بائی دہشت زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئی اور اس نے داسی کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ رسید کر دیا۔ پھر وہ اور اس کی ماں اس زور سے چیخنے چلانے لگیں کہ آس پاس کے تمام ہمسائے اور راہ گیر دوڑے چلے آئے۔ کسی نے پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو بھی بلا لیا۔ داسی کو پکڑ کر پولیس تھانے لے جایا گیا۔ بعد میں منٹپم کے بزرگوں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا، اور رات گئے اسے رہا کروا لیا۔ وہ خاموشی سے گھر آیا اور اپنی چٹائی پر جا لیٹا۔ شام کے ہنگامے میں اسے نہ جانے کتنے لوگوں کے ہاتھوں کتنی ہی مار پڑی تھی، مگر اسے ان ضربوں کا احساس تھا، نہ ان کی کوئی یاد باقی تھی۔ البتہ اس کے چہرے پر پڑنے والے اس ایک طمانچے کی یاد نے اس کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

جب اسے کھانے کے لیے بلایا گیا تو اس نے اٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس کا مالک اس کے پاس آیا اور سخت لہجے میں بولا،

"اٹھو، داسی، جا کر کھانا کھاؤ۔ تم مجھے لوگوں کے سامنے رسوا کر رہے ہو، احمق کہیں کے! آئندہ اس گھر سے باہر قدم مت رکھنا۔"

مگر داسی نہ اٹھا۔ اس نے خود کو چٹائی میں لپیٹ لیا اور کہا، "جاؤ۔۔۔ میں نہیں کھاؤں گا۔"

پھر کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔

      اگلے دن اتفاق سے داسی اس وقت گھر سے باہر نکلا جب ابتدائی اسکول کے بچے دوپہر کے وقفے میں باہر آ رہے تھے۔ گزشتہ شام کے واقعے کی خبر سب کو ہو چکی تھی۔

انھوں نے داسی کو گھیر لیا اور آوازے کسنے لگے، "ارے دولھے میاں!" داسی نے ان کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ اس نے بے بسی سے ہاتھ اٹھا کر کہا، "جاؤ۔۔۔ جاؤ۔۔۔ مجھے تنگ نہ کرو۔۔۔ جاؤ۔"

   ایک لڑکا ہنستے ہوئے بولا، "دیکھو، دولھا ابھی تک رو رہا ہے۔ کل اس کی بیوی نے اسے مارا تھا!" یہ سنتے ہی داسی نے ایک ہولناک دھاڑ ماری، لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور زور سے ہجوم کی طرف اچھال دیا۔ پھر وہ دونوں ہاتھ لہرا لہرا کر ہر اس شخص کو مارنے لگا جو اس کے قریب آنے کی کوشش کرتا۔ وہ اسکول میں گھس گیا اور کرسیاں اور میزیں توڑ ڈالیں۔ چار اساتذہ، جنھوں نے اسے روکنے کی کوشش کی، اس کے ہاتھوں زخمی ہو گئے۔ پھر وہ اسکول سے باہر نکلا اور جس شخص سے بھی سامنا ہوا، اس پر حملہ آور ہو گیا۔ وہ دکانوں میں گھس گیا، سامان اٹھا اٹھا کر پھینک دیا۔ وہ چیتے کی سی پھرتی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ چھلانگیں لگاتا ہوا پورے ایکسٹینشن میں آندھی کی طرح پھرنے لگا۔

       لوگوں نے جلدی جلدی اپنے دروازے بند کر لیے اور کنڈیاں چڑھا دیں۔ چند افراد نے اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کی، مگر اکثریت نے خود کو محفوظ جگہوں میں چھپا لینا ہی بہتر سمجھا۔ آخرکار پولیس موقع پر پہنچ گئی، اور بڑی جدوجہد کے بعد داسی پر قابو پا لیا گیا۔

اس رات اسے پولیس کی حوالات میں رکھا گیا، اور اگلے دن ذہنی امراض کے اسپتال بھیج دیا گیا۔ ابتدا میں اسے سنبھالنا آسان نہ تھا، اس لیے کئی ہفتوں تک اسے ایک الگ کوٹھڑی میں رکھا گیا۔ ایک روز اس نے ڈاکٹر سے التجا کی کہ اسے مرکزی دروازے پر کھڑے ہو کر سڑک کی طرف دیکھنے کی اجازت دے دی جائے۔ ڈاکٹر نے وعدہ کیا کہ اگر وہ اچھا رویہ اختیار کرے گا تو اسے انعام کے طور پر یہ اجازت مل جائے گی۔ داسی نے اس انعام کو اس قدر قیمتی سمجھا کہ پورے ایک ہفتے تک ہر وہ کام کرتا رہا جو کوئی اس سے کہتا۔

آخرکار ایک پہرے دار کی نگرانی میں اسے مرکزی دروازے تک لے جایا گیا، جہاں وہ پورا ایک گھنٹہ سڑک پر نظریں جمائے کھڑا٬ اپنی دلھن کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔۔۔

 

Original Title: DASI THE BRIDEGROOM 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

رابندر ناتھ ٹیگور کا افسانہ : کابلی والا (Kabuliwala)

افسانہ نمبر 723 : طوفان، تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا)، مترجم : محمد فیصل (کراچی)