افسانہ نمبر 762 : تربوز کا ذائقہ || تحریر : بورڈن ڈیل (امریکہ) || ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 762 : تربوز کا ذائقہ
تحریر : بورڈن ڈیل (امریکہ)
ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق
پور)
جب میں اس موسمِ گرما کو یاد کرتا ہوں
جب میں سولہ برس کا تھا، تو بہت سی یادیں ذہن میں ہجوم کرنے لگتی ہیں۔ ہم ایک سال
پہلے ہی وہاں منتقل ہوئے تھے، اور سولہ سال کی عمر اتنی کم ضرور ہوتی ہے کہ ہم
جولیوں کی ٹولی کا حصہ ہونا اہمیت رکھتا ہے۔ میری بھی ایک ٹولی تھی، لیکن وہ ابھی
تک میرے بارے میں پوری طرح پراعتماد نہیں تھے۔ مجھے نہیں معلوم کیوں۔ شاید اس لیے
کہ میں شہر سے آیا تھا، اور میرے والد دیگر لڑکوں کے آباء کی طرح کھیتی باڑی کرنے
کے بجائے اب بھی وہیں شہر میں کام کرتے تھے۔ میرے جاننے والے لڑکے، حتیٰ کہ فریڈی
گرے اور جے ڈی بھی، مجھ سے قدرے فاصلہ رکھتے تھے۔
پھر ویلاڈین ولز کا ذکر آتا ہے۔ اس سے
پہلے مجھے لڑکیوں میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن مجھے خود سے یہ تسلیم کرنا پڑا
کہ ویلاڈین میں میری خاصی دلچسپی تھی۔ وہ میری ہم عمر تھی، قد میں تقریباً میرے
برابر، اور فریڈی گرے کے بقول، ایک سال پہلے تک وہ 'گلی کیپر' اور 'اینٹی اوور'
جیسے کھیل کھیلنے میں بہت ماہر تھی۔ مگر اس سال وہ ایسے کھیل نہیں کھیلتی تھی۔ وہ
لمبی اور دبلی پتلی تھی، اور فریڈی گرے، جے ڈی اور میں نے اس کے چلنے کے انداز پر
کئی بار بحث کی تھی۔ میرا ماننا تھا کہ وہ جان بوجھ کر ایسا انداز اپناتی ہے، جبکہ
جے ڈی کا دعویٰ تھا کہ یہ اس کی فطرت ہے۔ فریڈی گرے کا تبصرہ تھا کہ پچھلے سال وہ
اس طرح نہیں، بلکہ کسی بھی عام انسان کی طرح چلتی تھی۔ تب میں نے کہا کہ چاہے یہ
بناوٹ ہو یا نہیں، مجھے اس کے چلنے کا انداز پسند ہے، جس پر وہاں ایک طویل خاموشی
چھا گئی۔
یہ کوئی آرام دہ خاموشی نہیں تھی، اور
اس کی وجہ ویلاڈین کے والد، مسٹر ولز تھے۔ ہم سب مسٹر ولز سے خوفزدہ تھے۔ وہ ایک
قد آور اور بھاری بھرکم آدمی تھے۔ ان کی گھنی بھنوؤں کے نیچے چمکدار اور غضبناک
آنکھیں تھیں، اور جب وہ گھور کر دیکھتے، تو انسان سہم جاتا تھا۔ یہ خیال ہی روح کو
کپکپا دینے کے لیے کافی تھا کہ وہ ہم میں سے کسی پر براہِ راست اور فوراً غصہ ہو
سکتے ہیں۔ ان پوری گرمیوں میں ویلاڈین سڑک پر چلتی پھرتی یا اپنے سامنے والے پورچ
میں جھولنے والی کرسی پر بیٹھی رہتی، اور اس کا لباس اس کے گرد پھیلا ہوتا، مگر ہم
میں سے کسی کی اتنی ہمت نہ ہوتی کہ اسے صبح بخیر کہنے سے زیادہ کچھ کہہ سکے۔
مسٹر ولز علاقے کے بہترین کسان تھے۔
میرے والد کہا کرتے تھے کہ وہ زمین میں ایک چھڑی گاڑ کر اس میں سے بھی درخت اگا
سکتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ وہ جب زمین پر کام کرتے تو
گویا اس سے لڑتے تھے۔ جب وہ اپنے کھیتوں میں ہل چلاتے، تو ان کی چیخ و پکار ایک
میل دور سے سنی جا سکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ زمین کو للکار رہے ہوں کہ وہ
انہیں رزق دینے سے انکار کر کے دکھائے۔ ان سب سے بڑھ کر، مسٹر ولز کمال کے تربوز
اگاتے تھے۔ اب، تربوز بھی بڑی عجیب چیز ہیں۔ کچھ لوگ بہترین بیج منگوا کر اعلیٰ
ترین زمین میں بوتے ہیں، انتہائی احتیاط سے دیکھ بھال کرتے ہیں، پھر بھی دو مٹھیوں
سے بڑا تربوز نہیں اگا پاتے۔ جبکہ مسٹر ولز جیسے لوگ، زمین پر بیج پھینکتے، ان پر
مٹی ڈالتے، اور چھوڑ کر چلے جاتے، اور پھر ان کے ہاں ایسے خوبصورت اور بڑے تربوزوں
کی فصل تیار ہوتی جو آپ نے پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں۔
وہ ہمیشہ اپنے گودام کے بالکل پیچھے
والے چھوٹے کھیت میں تربوز بوتے تھے۔ یہ کھیت گودام سے لے کر ندی تک پھیلا ہوا
تھا، جس کی ریتلی زمین تربوز کی کاشت کے لیے بالکل موزوں تھی۔ اور ایسا محسوس ہوتا
تھا جیسے تربوز ان کے لیے خود بخود زمین سے ابھر آتے ہوں۔ لیکن وہ مسٹر ولز کے
تربوز تھے؛ ان کا محلے کے لڑکوں کے ساتھ انہیں بانٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا
تھا۔ وہ کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ اپنے تربوزوں کے معاملے میں سخت مزاج تھے۔ اگر
آپ کا گزر ان کے کھیت کے قریب سے ہوتا، تو آپ مسٹر ولز کو وہاں کھڑے، چہرے پر غصے
کے تاثرات لیے گھورتے ہوئے پاتے۔ اور غالب امکان یہی ہوتا کہ ان کی بندوق ان کے
بازو کے نیچے دبی ہوتی۔
ہر کوئی یہ جانتا تھا کہ ان کے تربوزوں
کا کچھ حصہ کچھوؤں کی نذر ہو گا اور کچھ لڑکوں کے حصے آئے گا ۔ کسی کی تربوز کی
فصل میں چپکے سے گھسنا اور پیداوار کا نمونہ 'حکمت عملی کے ساتھ ادھار' لینا چوری
نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اگر آپ پکڑے جاتے تو آپ کی پتلون کی پچھلی جیب میں نمک کا
ایک فائر داغا جا سکتا تھا، لیکن یہ سب کھیل کا حصہ تھا۔ آپ کو صرف اسی صورت میں
حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا جب آپ بدنیتی کا مظاہرہ کرتے اور بہت سے تربوزوں کو
اپنے پیروں تلے روند کر برباد کر دیتے۔ لیکن مسٹر ولز کی سوچ ایسی نہیں تھی۔
ان گرمیوں میں مسٹر ولز نے علاقے کا
سب سے بڑا تربوز اگایا۔ یہ ان کے کھیت کے بالکل درمیان میں اُگا تھا، اور اس کا
حجم اب تک دیکھے گئے کسی بھی تربوز سے تین گنا زیادہ تھا۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے
میلوں دور سے آتے تھے۔ مسٹر ولز انہیں کھیت میں جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے،
انہیں صرف کنارے پر ہی کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ جس وقت وہ عظیم الجثہ تربوز پکنے والا
تھا، پورے چاند کی ایک رات آئی۔
جے ڈی، فریڈی گرے اور میں نے ندی میں
تیراکی کے لیے جانے کا فیصلہ کیا، چنانچہ چاند نکلتے ہی میں گھر سے نکلا اور ان سے
ملنے چل پڑا۔ چاند آسمان پر ابھر آیا تھا، جس نے ہر چیز کو لگ بھگ دن کی طرح روشن
کر دیا تھا، مگر ساتھ ہی یہ روشنی دن کے اجالے سے کہیں زیادہ نرم اور لطیف تھی۔ یہ
ایک ایسی رات تھی جب آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ دنیا کا کوئی بھی کام کر سکتے ہیں،
یہاں تک کہ دلیری سے ویلاڈین ولز کو اپنے ساتھ وقت گزارنے کی پیشکش بھی کر سکتے ہیں۔
ایسی رات میں آپ یہ محسوس کیے بنا نہیں رہ سکتے کہ وہ خوشی خوشی اسے قبول کر لے
گی۔
علاقے کے دیگر نڈر لڑکوں کی طرح، ہم
نے بھی اس دیو ہیکل تربوز کو چرانے کے بارے میں سرسری سی بات کی تھی۔ لیکن ہم سب
جانتے تھے کہ یہ محض زبانی جمع خرچ ہے۔ ہم نہ صرف مسٹر ولز کے غصے سے خوفزدہ تھے،
بلکہ ہم یہ بھی جانتے تھے کہ وہ ہر رات اپنی بندوق لیے گودام کی بالائی منزل کی
کھڑکی میں اس تربوز کی پہرے داری کے لیے بیٹھتے ہیں۔ یہ ان کا بیج والا تربوز تھا۔
ان کا ارادہ اس بڑے تربوز سے اگلے سال کی فصل بونے کا تھا تاکہ وہ ایسے ہی تربوزوں
کا ایک پورا کھیت اگا سکیں۔ مسٹر ولز اس خوف سے پاگل ہوئے جا رہے تھے کہ کوئی اسے
چرا لے گا۔ بھئی، انہیں آپ کا ویلاڈین کو چرا لینا تو منظور ہو سکتا تھا، مگر ان
کا تربوز نہیں۔ کم از کم وہ ویلاڈین کی پہرے داری اپنی بندوق سے تو نہیں کرتے تھے۔
ہر رات میں اپنے پورچ میں بیٹھ کر مسٹر ولز کو ان کے گودام کی کھڑکی میں بیٹھے،
اپنے کھیت پر غضبناک نظریں جمائے دیکھ سکتا تھا۔ میں گھنٹوں وہاں بیٹھ کر انہیں
دیکھتا، ان کے بازو میں بندوق دبی ہوتی، اور میں اپنی ریڑھ کی ہڈی میں خوف اور
سنسنی کی لہریں دوڑتی ہوئی محسوس کرتا تھا۔
میرے والد کہا کرتے، "اسے دیکھو۔
موت کے خوف سے ڈرا ہوا ہے کہ کوئی اس کا بیج والا تربوز چرا لے گا۔ بھلا کوئی کسی
کا بیج والا تربوز کیوں چرائے گا؟" میری والدہ تلخی سے کہتیں، "اسے گھر
کے اندر اپنی اس بیمار بیوی کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ وہ سارا سال بیمار رہی ہے۔"
مسز ولز مشکل ہی سے کبھی نظر آتی تھیں۔ وہ ایک کمزور، نحیف سی عورت تھیں، جن کا
رنگ مکھن کی ڈلی کی طرح زرد تھا۔ کبھی کبھار وہ دن کے ٹھنڈے پہر میں گھنٹہ دو
گھنٹہ اپنے پورچ میں بیٹھ جاتیں۔ تاہم، ان کا کسی کے ساتھ ملنا جلنا نہیں تھا۔
میرے والد نرمی سے کہتے، "ویلاڈین تو ہے نا۔" میری والدہ بیزاری سے
کہتیں، "اسے اپنی بیوی سے زیادہ اس بیج والے تربوز کی پرواہ ہے۔ کاش کوئی اسے
چرا لے۔ شاید تب..." لیکن والد انہیں ٹوکتے ہوئے کہتے کہ ایسی بات سوچنی بھی
نہیں چاہیے۔
جب میں ان سے ملا تو جے ڈی نے کہا،
"یار، کیا شاندار چاند ہے!" فریڈی گرے بولا، "کیا تم ایسی رات میں
ویلاڈین کو اپنے ساتھ باہر نہیں لے جانا چاہو گے؟" ہم نے اس کا مذاق اڑایا،
لیکن دل ہی دل میں ہم سب جانتے تھے کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے۔ ہم اتنے بڑے ضرور
ہو رہے تھے کہ یہ سوچنے لگیں کہ چاندنی رات میں تیراکی کرنے سے زیادہ اس قسم کے
کاموں میں زیادہ مزہ آسکتا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، میں اس ٹولی کا حصہ تھا۔
جے ڈی اور فریڈی گرے میرے اچھے دوست تھے۔ لیکن چونکہ میں ابھی نیا تھا، اس لیے کچھ
خاص احساسات ایسے تھے جہاں مجھے الگ رکھا جاتا تھا۔ وہ ڈرتے تھے کہ چونکہ میں ویلاڈین
کے لیے قدرے اجنبی تھا، اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ ان دونوں کے مقابلے میں میرے ساتھ
وقت گزارنے کے خیال کو زیادہ پسند کرے۔ یہ سب باتیں سطح کے بہت نیچے دبے ہوئے
احساسات تھے، کیونکہ ہم میں سے کسی نے بھی خود سے یہ تسلیم نہیں کیا تھا کہ ہم
ویلاڈین کا بوائے فرینڈ بننا چاہتے ہیں۔ لیکن جذبات کتنے ہی گہرے کیوں نہ دبے ہوں،
میں اور وہ سب انہیں محسوس کر سکتے تھے۔
ہم ندی میں تیراکی کے مقام پر پہنچے
اور کپڑے اتار کر پانی میں کود پڑے۔ چاندنی کی وجہ سے ہم سب پرجوش تھے۔ پانی ٹھنڈا
تھا، لیکن ہم نے پانی کی ایک تیز جنگ کے ذریعے اس سردی کو بھگا دیا۔ بالآخر ہم
سستانے کے لیے باہر نکلے اور کنارے پر بیٹھ گئے۔ چاند سکون سے ہمارے سروں پر تیر
رہا تھا، اور ہم اپنی پیٹھ کے بل لیٹ کر اسے دیکھنے لگے۔ فریڈی گرے نے کہا کہ اتنی
روشن رات میں کوئی بوڑھے ولز کا تربوز چرانے کی جرات نہیں کرے گا۔ جے ڈی نے تائید
کی کہ وہ گودام میں چھروں سے بھری بندوق لیے بیٹھا ہے اور تربوز بینک کی طرح محفوظ
ہے۔ میں نے تمسخرانہ لہجے میں کہا کہ اس کی بندوق میں محض نمک کا کارتوس ہوگا۔
لیکن فریڈی گرے نے مغرورانہ انداز میں کہا، "خود کو دھوکے میں مت رکھو، اس نے
میرے والد کو بتایا تھا کہ اس کی بندوق بڑے چھروں (بک شاٹ) سے بھری ہے۔" میں
نے حیرت سے کہا کہ اس سے تو کسی کی جان جا سکتی ہے۔ فریڈی گرے نے جواب دیا کہ اگر
کوئی اس تربوز کے قریب پھٹکا تو اس کا یہی ارادہ ہے۔
اس بات نے مجھے پریشان کر دیا۔ میرا
تو کبھی اس تربوز کو چرانے کا ارادہ تھا ہی نہیں۔ میں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ
وہ ایک تربوز کے پیچھے کسی کی جان نہیں لے گا۔ جے ڈی نے اصرار کیا کہ وہ ایسا ہی
کرے گا۔ فریڈی گرے مجھے بغور دیکھ رہا تھا، اس نے پوچھا، "تم اتنے پریشان
کیوں ہو گئے ہو؟ تمہارا خود تو اس تربوز کو چرانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا؟"
میں نے کہا، "دراصل... ہاں، میرا ارادہ تھا۔" وہاں احترام بھری خاموشی
چھا گئی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں یہ الفاظ ادا کرنے والا ہوں۔ آج تک مجھے سمجھ
نہیں آئی کہ میں نے وہ کیوں کہے۔ یہ سب ویلاڈین کی کشش، مسٹر ولز کی بندوق کے
چھروں کی افواہ، اور لڑکوں کا مجھے اب تک ایک بیرونی شخص سمجھنے کے احساسات کا
ملغوبہ تھا۔ یہ میرے اندر سے ابل پڑا تھا—ایسے کسی کارنامے سے اپنا نام بنانے کا
خیال نہیں، بلکہ دنیا اور مسٹر ولز سے بغاوت کرنے میں مجھے ایک حقانیت کا احساس ہو
رہا تھا۔ اس سب کے ساتھ ہی میرے منہ میں تربوز کا ذائقہ گھلنے لگا۔ میں کھڑا ہو
گیا اور اعلان کیا کہ میں ابھی اسے لانے جا رہا ہوں۔
دوستوں نے مجھے روکنے کی کوشش کی کہ
اتنی روشن رات میں وہ مجھے دیکھ لے گا، اندھیری رات کا انتظار کرو۔ میں نے حقارت
سے کہا کہ اندھیری رات میں تو کوئی بھی اسے چرا سکتا ہے، میں آج رات اسے بالکل اس
کی ناک کے نیچے سے اٹھا کر لاؤں گا۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اب مجھے
تربوز کا نہیں بلکہ خوف کا ذائقہ محسوس ہو رہا تھا۔
ہم تربوز کے کھیت کے سامنے پہنچے اور
کنارے کے نیچے چھپ گئے۔ مسٹر ولز گودام میں بالکل صاف دکھائی دے رہے تھے اور ان کی
بندوق چاندنی میں چمک رہی تھی۔ جے ڈی نے کہا کہ میں ناکام ہو جاؤں گا۔ میں نے زمین
پر لیٹ کر پیٹ کے بل رینگنا شروع کیا۔ میں بالکل سیدھا لیٹا ہوا تھا، جتنا زمین کے
قریب ہو سکتا تھا۔ راستے میں مجھے ایک کچھوا ملا جو تربوز کھا رہا تھا، میں نے اسے
سلام کیا مگر وہ اپنے خول میں سمٹ گیا۔ کھیت کے بیچوں بیچ اس عظیم تربوز تک پہنچنے
میں مجھے یوں لگا جیسے صدیاں بیت گئی ہوں۔ میری ہر حرکت پر، مجھے ڈر لگتا کہ مسٹر
ولز مجھے دیکھ لیں گے۔ آخرکار، وہ تربوز میرے سامنے نمودار ہوا، اور میں اس کی
جسامت دیکھ کر دنگ رہ گیا۔
میں ہانپتے ہوئے لیٹا رہا۔ مجھے ذرا
سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اسے کھیت سے باہر کیسے نکالوں۔ وہ دنیا کا سب سے پھسلنے
والا اور بوجھل تربوز تھا۔ میں نے سوچا کہ اس پر اپنا نام کندہ کر دوں تاکہ اسے
پتہ چل جائے کہ میں اسے چرا سکتا تھا، لیکن رینگ کر جانا، اصل میں اسے چرا لانے کے
برابر ہرگز نہیں تھا۔ میں نے اس کی ڈنڈی توڑی اور اب میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔
میں نے مسٹر ولز کو انگڑائی لیتے اور جمائی لیتے دیکھا؛ چاند اس قدر روشن تھا اور
میں اس قدر قریب تھا۔ میں نے تربوز کے پیچھے بمشکل جگہ بنائی اور اسے دھکا دیا۔ وہ
سستی سے لڑھکا۔ گردوغبار اڑنے لگا اور مجھے چھینک آنے لگی۔ میری ریڑھ کی ہڈی اس
توقع کے ساتھ سنسنا رہی تھی کہ ابھی گولی چلے گی۔ اس تربوز کو کھیت سے باہر
دھکیلنے میں مجھے لگ بھگ سو سال لگ گئے۔ جب میں بالآخر کنارے پر پہنچا تو میں نے
اسے بید کے درختوں میں دھکیلا اور وہیں نڈھال ہو کر گر پڑا۔
دوستوں نے مجھے جھاڑیوں میں کھینچ لیا
اور خوشی سے پاگل ہو گئے۔ ہم نے مل کر اس بھاری بھرکم تربوز کو اٹھایا اور تیراکی
کے مقام پر لے آئے۔ جے ڈی اسے توڑنا چاہتا تھا لیکن میں نے کہا کہ یہ مسٹر ولز کا
بیج والا تربوز ہے، اور یہ مکا مار کر توڑے جانے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے، میں
اسے کاٹوں گا۔ میں نے اپنا چھوٹا جیبی چاقو نکالا، اور جوں ہی وہ چھلکے میں اترا،
تربوز خود بخود بالکل درمیان سے پھٹ گیا۔ اس کا درمیانی گودا میٹھی نمی سے چمک رہا
تھا۔ میں نے ایک بڑا ٹکڑا نکالا اور کھایا؛ میں نے اس سے زیادہ مزیدار تربوز زندگی
میں کبھی نہیں کھایا تھا۔ ہم نے اتنا کھایا کہ ہم بوجھل ہو گئے، مگر پھر بھی اس کا
بہت سا حصہ باقی تھا۔ جب سمجھ نہ آیا کہ باقی کا کیا کریں تو ہم نے بوجھل دل کے
ساتھ اسے پیروں تلے کچل کر برباد کر دیا۔ ہم اداس ہو گئے کہ اتنی جدوجہد اور خطرے
کے بعد، یہ کس قدر ضیاع تھا۔ ہم خاموش کھڑے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور بوجھل
قدموں کے ساتھ گھروں کی طرف لوٹے۔ مجھے کوئی فتح محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
جب میں گھر پہنچا تو والد پورچ پر
بیٹھے تھے۔ میں نے مسٹر ولز کے گودام کی طرف دیکھا۔ وہ کھیت کے وسط میں اس جگہ
پہنچے جہاں تربوز ہونا چاہیے تھا۔ گڑھا دیکھ کر ان کے گلے سے ایک زبردست، گھٹی
ہوئی چیخ نکلی جس نے مجھے کسی جنگلی جانور کی چیخ کی طرح اندر تک دہلا دیا۔ انہوں
نے غصے میں اپنی بندوق دور پھینک دی اور کھیت کے ہر چھوٹے بڑے تربوز کو دیوانہ وار
کچل کر تباہ کرنے لگے۔ میرے والد دوڑتے ہوئے گئے اور انہیں بمشکل روکا۔ مسٹر ولز
غصے سے پاگل ہو رہے تھے، انہوں نے میرے والد کو دھکا دے کر گرا دیا۔ آخر کار وہ
تھک کر رک گئے۔ وہ رو رہے تھے۔ انہوں نے کہا، "انہوں نے میرا بیج والا تربوز
چرا لیا۔ مسز ولز پوری بہار کے موسم میں بیمار رہی ہیں، اور انہیں کھانے کے لیے
تربوز کا ذائقہ بے حد پسند تھا۔ وہ اس کا گودا کھاتیں، اور میں اس کے بیج اگلی
بہار میں بوتا۔ وہ ہر روز مجھ سے پوچھتی تھیں کہ کیا وہ بڑا تربوز تیار ہو گیا
ہے؟" مجھ سے یہ منظر مزید نہ دیکھا گیا اور میں بھاگ کر اپنے کمرے میں آ گیا۔
میں اس رات سو نہیں سکا۔ تربوز چرانا
اس علاقے میں کوئی جرم نہیں سمجھا جاتا تھا، یہ ایک کھیل اور نوجوانوں کی سرکشی کی
رسم تھی۔ لیکن مسٹر ولز جیسے آدمی سے یہ بیج والا عظیم تربوز چرانا کسی بھی مذاق
کی حد سے باہر تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں نے جو نقصان کیا
ہے اس کی تلافی کروں۔ صبح سویرے، میں ایک کاغذی لفافہ لے کر تالاب پر گیا اور
گھٹنوں کے بل بیٹھ کر وہاں بکھرے ہوئے کالے بیج چننے لگا۔ میں نے کافی دیر لگا کر
ایک ایک بیج جمع کیا حتی کہ وہ لفافہ بھر گیا ۔ جب میں گھر لوٹا تو میرے والد جاگ
چکے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں مسٹر ولز سے ملنا چاہتا ہوں، مجھے ڈر ہے کہ وہ
مجھے گولی مار دیں گے، اس لیے آپ میرے ساتھ چلیں۔ وہ خاموشی سے میرے ساتھ چل پڑے۔
میں نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ مسٹر
ولز نمودار ہوئے، ان کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے۔ میں نے وہ بیجوں والا
لفافہ ان کی طرف بڑھایا اور کانپتی آواز میں اعتراف کیا کہ میں نے ہی ان کا تربوز
چرایا تھا۔ انہوں نے پوچھا، "کیا تم نہیں جانتے تھے کہ وہ میرا بیج والا
تربوز ہے؟" میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ میری طرف جھکے اور کہا کہ ان کی
بیمار بیوی وہ تربوز اس لیے کھانا چاہتی تھی تاکہ پورے محلے کو مدعو کر سکے۔ میں
نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور کہا، "تربوز تو اب ختم ہو گیا ہے، لیکن بیجوں
سے اگلے سال کی فصل تیار ہو سکتی ۔ میں یہ آپ کے پاس اسی لیے ہی لے کر آیا ہوں۔
میں انہیں بونے میں آپ کی مدد کروں گا اور سخت محنت کروں گا۔"
مسٹر ولز کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ انہوں
نے کہا، "گزشتہ رات کی اپنی حرکت پر مجھے بھی اتنی ہی شرمندگی ہے۔ ہم دونوں
قصوروار ہیں۔ میرے جیسے فارم والے آدمی کو ایک بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے۔" انہوں
نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ ہم اگلے سال اسے مل کر اگائیں گے۔ میں نے
ان کے پیچھے کھڑی ویلاڈین کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔ میں نے بے
ساختہ کہا، "لوگوں کو مدعو کرنے کے لیے سب سے بڑے تربوز کی ضرورت نہیں، میں
تو کسی بھی وقت ویلاڈین کے ساتھ پورچ پر بیٹھنے کے لیے آ جاؤں گا۔" سب ہنس
پڑے۔ جاتے ہوئے میں نے مسٹر ولز سے پوچھا کہ کیا واقعی اس بندوق میں بڑے چھرے بھرے
ہوئے تھے؟ انہوں نے بندوق سے کارتوس نکالا اور توڑ کر دکھایا، اس میں صرف سفید نمک
تھا۔ میں نے سکھ کا سانس لیا اور وہاں سے چل پڑا۔ اور اگلا سال اسی دن سے شروع ہو
گیا۔
Title in English: Taste of
Watermelon
Written by Borden Deal
(October 12, 1922 – January 22, 1985) was an American novelist and short story
writer.

Comments
Post a Comment