افسانہ نمبر 751 : جھولا || تحریر : محمد خضیر (عراق) || ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی
عالمی
ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ
نمبر 751 : جھولا
تحریر
: محمد خضیر (عراق)
ترجمہ:
اسد اللہ میر الحسنی
کھجور کے پتوں کے
پنکھوں سے سایہ فگن خاموش راستے پر ایک سر منڈا لڑکا اپنی سائیکل پر اس طرح رواں
تھا، جیسے کوئی سویا ہوا شخص چل رہا ہو۔ اس کے بائیں جانب ایک نشیبی نہر بہہ رہی
تھی، جس کے پانی پر صابن کے جھاگ جیسی سفید لکیریں تیر رہی تھیں، جبکہ دائیں طرف
مٹی کی ایک بوسیدہ اور شکستہ دیوار کھڑی تھی۔ نہر کے گھاس سے ڈھکے ہوئے کنارے کے
اس پار ایک ایسی زمین پھیلی ہوئی تھی جہاں کھجور کے تنے، جڑی بوٹیاں اور خودرو
جنگلی گھاس جا بجا بکھرے ہوئے تھے۔ دوسری جانب مٹی کی وہ دیوار ایک نشیبی قطعۂ
زمین کو گھیرے ہوئے تھی، جہاں کئی چھوٹی ندیاں آ کر آپس میں مل جاتی تھیں اور وہ
جگہ باریک نیلگوں پھولوں، جنگلی جھاڑیوں، انار کے درختوں اور تنوں پر چڑھتی ہوئی
انگور کی بیلوں سے پوری طرح ڈھکی ہوئی تھی۔
راستے پر تیز دھوپ چمک
رہی تھی۔ کھجوروں کے جھنڈ کی گھاس اور اس کے محصور و تنگ راستوں پر ایک گرم اور
بوجھل سایہ چھایا ہوا تھا۔ وہ لڑکا کسی نیم خوابیدہ مسافر کی طرح گرد آلود راستے
پر اپنی سائیکل چلاتا جا رہا تھا۔ اس قدر محوِ سکوت تھا کہ اسے اپنی سائیکل کے
دونوں پہیوں کی آواز تک سنائی نہیں دے رہی تھی۔ البتہ مٹی کی دیوار کے نیچے اور
جھاگ اڑاتی نہر کے اس پار، سر سبز نباتات سے بہرہ ور کھائی سے اٹھنے والی کنیر اور
جنگلی پھولوں کی خوشبو اس کے مشامِ جاں کو معطر کر رہی تھی۔
دیوار کے روزنوں سے
جھانکتے ہوئے انار کے سرخ پھول، جو پتوں کے گہرے سائے میں چھپے ہوئے تھے اور
فاختاؤں کے خاکستری پروں کی لرزش، کھجور کے پتوں کے درمیان سے چھن کر آنے والی تیز
دھوپ میں اس کی خیرہ ہوتی نگاہوں کو اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ ادھر نہر کے دھیمے
بہاؤ میں کنیر کی جھکی ہوئی شاخیں اور کھجور کے پتوں کے سائے پانی کی سطح پر ایسے
نقش و نگار بنا رہے تھے جیسے کسی دھاری دار کپڑے پر نفیس کڑھائی کی گئی ہو۔
ایک گہرے سائے دار حصے
میں شہتوت کے ایک بہت بڑے درخت کی شاخیں دیوار کو پھاند کر راستے کے عین درمیان تک
آ نکلی تھیں۔ لڑکے نے سائیکل روکی، ایک پاؤں دیوار پر ٹکایا اور کالے، رسیلے شہتوت
توڑ توڑ کر بڑے شوق سے کھانے لگا۔ پھر وہ سائیکل سے اترا، اسے دیوار کے سہارے کھڑا
کیا اور راہ عبور کرکے گھاس والے کنارے کی طرف اتر گیا تاکہ نہر کے پانی سے اپنی
لیس دار اور چپچپی انگلیاں دھو سکے۔ اس کے بعد اس نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کا چلو
بنا کر پانی پیا اور اپنے منڈے ہوئے سر پر پانی کے چھینٹے مارے۔
اتنے میں اسے ایک مدھم
سی آہٹ سنائی دی۔ اس نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ مٹی کی دیوار کے ایک دراڑ سے تین
کتے نکل کر اس نشیبی زمین میں داخل ہو رہے ہیں۔
جب وہ دوبارہ سائیکل پر
سوار ہوا تو اس کے ذہن پر پھر وہی پرسکون، مخمور سی غنودگی چھا گئی اور وہ اس
مہکتی ہوئی خاموشی کو اپنے وجود میں جذب کرنے لگا۔ اپنی نیم وا پلکوں کے درمیان سے
اسے یوں محسوس ہوا جیسے مٹی پر اس کی سائیکل کے پرزے ایک دوسرے سے الگ ہو گئے ہوں۔
دونوں ٹیڑھے پہیے دیوار پر چڑھتے، اس کے گڑھوں اور سوراخوں میں ڈگمگاتے اور پھر اس
گہرے سکوت میں پورے توازن کے ساتھ تیرنے لگتے۔
اب وہ لڑکا گویا کھجور
کے درختوں کی چوٹیوں پر چل رہا تھا اور اپنی غنودگی کے عالم میں پوری یکسوئی سے ان
پوشیدہ اور متحرک زندگیوں کا مشاہدہ کر رہا تھا جو ان دونوں گھاس زار کھائیوں میں
چھپی ہوئی تھیں: جھاڑیوں کے خشک گولوں کی زندگی، کھجور کے کچے خوشوں کی زندگی، نہر
کے جانداروں کے انڈوں کی زندگی اور پھر وہ سب سے زیادہ پُر اسرار اور متحرک زندگی،
جو سائیکل کے ہینڈل سے لٹکے ہوئے تھیلے میں بند تھی۔
اچانک ان پوشیدہ
زندگیوں نے ایک ہجوم کی صورت دھاوا بول دیا اور قریب تھا کہ وہ لڑکے کو راستے سے
نیچے نہر میں گرا دیتیں۔ مٹی کی دیوار بائی پاس ہو کر ختم ہو چکی تھی اور اس کی
جگہ خاردار تاروں کی ایک باڑ نے لے لی تھی، جو لوہے کے کھونٹوں پر تنی ہوئی تھی۔
ان تاروں کے درمیان ایک آدھا کھلا دروازہ تھا۔ لڑکا سائیکل سے اترا، اسے دو
کھونٹوں کے درمیان جڑے ہوئے اس دروازے سے گزارا اور ایک تنگ راستے پر چل پڑا، جہاں
مرجھائی ہوئی جنگلی گھاس اگی ہوئی تھی۔
باقاعدہ قطاروں میں
کھڑے کھجور کے تنوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی بند ندیاں بہہ رہی تھیں، جو گہرے سبز،
بلبلے اگلاتے پانی، درختوں کے پتوں اور کھجور کے پات کے درمیان جھلکتے ہوئے آسمان
کے عکس سے لبریز تھی۔
پھر وہ انگور کی بیلوں
کے ایک ایسے چھپر کے نیچے داخل ہوا جس پر انگور کے بے شمار گچھے لٹک رہے تھے، مگر
ابھی پوری طرح پکے نہ تھے۔ وہاں سے نکل کر وہ ایک ایسے کنارے پر جا پہنچا جو ایک
پتلی مگر تیز رو ندی کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا تھا۔ اس نے ندی کے دوسرے کنارے پر ایک
تندور میں دہکتی ہوئی لکڑیوں کی آگ دیکھی، جس کا عکس پانی میں ایک مستقل روشن
دائرے کی صورت جھلملا رہا تھا۔
اس نشیبی ہریالی کے
درمیان مٹی کے دو کمرے اور سرکنڈوں کا ایک چھپر یوں ایستادہ تھے، جیسے انہیں ندی
کی تہہ سے نکال کر وہیں کنارے کے پاس ہندسے "6" کی شکل میں ترتیب دے دیا
گیا ہو۔ اس نے اپنی سائیکل گھر کی طرف موڑ دی۔ دہکتے ہوئے تندور کے پیچھے سے سیاہ
لباس میں لپٹی ایک عورت نمودار ہوئی۔ سرمنڈے لڑکے نے ندی کے پار سے آواز دی:
"اماں! کیا تمہارا کوئی
بیٹا فوج میں ہے؟"
"ہاں، میرا بیٹا علی۔"
"علی قاسم؟"
"ہاں، وہی۔ کیا تم اسے
جانتے ہو؟"
لڑکے نے اپنے سر پر
ہاتھ پھیرا اور سائیکل کے ہینڈل سے لٹکے ہوئے تھیلے کی طرف دیکھا۔
"میں وہیں سے آ رہا ہوں۔
وہ میرا دوست ہے، ہم دونوں ایک ہی یونٹ میں ہیں۔"
"وہ کیسا ہے؟ ایک عرصہ
بیت گیا، اس نے ہمیں کوئی خط نہیں لکھا۔ وہ کیسا ہے؟"
"اماں! تمہارا بیٹا تو..."
وہ ہینڈل سے لٹکے تھیلے
کی طرف پھر سے متوجہ ہوا، پھر اس نے گھر، چھت، ندی کے بہاؤ اور آگ کے شعلوں سے
تمتماتے ہوئے عورت کے چہرے کو دیکھا۔ سیاہ لباس میں لپٹی عورت نے پوچھا:
"کیا یہ اسی کا تھیلا
ہے؟"
"یہ؟ نہیں، یہ میرا
تھیلا ہے۔"
"اس کے پاس بھی ایسا ہی
ایک تھیلا ہے... وہ کیسا ہے؟"
"وہ ٹھیک ہے، اس نے آپ
کو اور اپنی چھوٹی بچی حلیمہ کو سلام بھیجا ہے۔"
وہ کچھ دیر اپنے اردگرد
دیکھتا رہا۔ تندور کے شعلوں کے پیچھے سے ہلکا خاکستری دھواں اٹھ رہا تھا اور دونوں
کمروں کے کونے سے چھ سال کی ایک بچی نکل کر ندی کی طرف بڑھ گئی۔
"وہ اپنے پرندوں کے بارے
میں پوچھ رہا تھا۔"
"پرندے اوپر چھت پر بنے
ڈربے میں ہیں۔ کیا تمہیں وہ ڈربہ نظر آ رہا ہے؟"
"مجھے اس کا ایک حصہ نظر
آ رہا ہے جیسے صحن کی طرف جھکتی ہوئی ٹین کی چادریں دکھائی دیتی ہیں۔ مجھے اندازہ
نہیں تھا کہ اس کے پاس اتنے سارے پرندے ہیں۔"
"تم ہمارے پاس اس پار
کیوں نہیں آ جاتے؟ پل وہیں ہے۔ اس کے ابا کھجور کے درختوں کی چھانٹی کے لیے گئے
ہیں اور ان کے ساتھ ان کی بہو بھی گئی ہے۔"
"میں اپنی سائیکل یہیں
چھوڑ دیتا ہوں۔"
اس نے سائیکل کو کھجور
کے ایک تنے کے سہارے کھڑا کیا، پھر کھجور کے تنوں سے بنے اور جمی ہوئی مٹی سے ڈھکے
ہوئے پل کو پار کیا۔ احتیاط سے چلتے ہوئے اس نے دیکھا کہ دونوں کمروں کے پہلوؤں
اور ان کے ملنے والے کونے پر لگی ٹین کی چادروں کے درمیان سے کبوتر نکل کر اڑ رہے
تھے۔
پل کے نیچے پانی لہروں
کی صورت تیزی سے بہہ رہا تھا اور کنارے پر تندور کے ساتھ ایک اونچا درخت اور کھجور
کے تین بلند قامت درخت کھڑے تھے، جن میں سے دو کے درمیان ایک جھولا بندھا ہوا تھا۔
کمرے سے نکلنے والی وہ بچی جھولے کی گدی پر چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
"بیٹے، یہاں آرام کرو۔
تم لوگ اب کہاں ہو؟"
مسافر نے بچی کی مدد کی
تاکہ وہ ٹاٹ کی بوری سے بنے جھولے کی گدی پر ٹھیک سے بیٹھ سکے، پھر خود اس چٹائی
پر بیٹھ گیا جو بوڑھی عورت نے اس گھنے سائے والے درخت کے نیچے بچھا رکھی تھی۔
"ہم اب سرحد پر ہیں۔ حال
ہی میں محاذ پر ہماری ڈیوٹی تبدیل ہوئی ہے۔"
"اور میرے بیٹے کو چھٹی
کب ملے گی؟"
"چھٹی؟ جلد ہی۔ شاید
اگلے مہینے تک۔ کیا آپ لوگوں نے ریڈیو پر نہیں سنا؟"
"نہیں۔ وہ اپنا چھوٹا
ریڈیو یہیں چھوڑ گیا تھا، مگر اسے کوئی نہیں چلاتا۔ لاؤ، میں تمہارے لیے کچھ کھانے
پینے کو لے آؤں۔"
وہ صحن پار کر کے چھپر
کی طرف چلی گئی۔ اس کے سیاہ لباس کا دامن مٹی پر گھسٹ رہا تھا۔ چھپر کے پیچھے سے
ایک مرغی اس کے پیچھے دوڑنے لگی، جبکہ کبوتر کبھی گھر کے آسمان میں اڑ رہے تھے اور
کبھی صحن میں جو کچھ ملتا، چگ رہے تھے۔
"بچی، تمہارا نام کیا
ہے؟"
"حلیمہ۔"
"حلیمہ! بابا نے مجھ سے
کہا تھا کہ میں تمہیں پیار کروں۔"
مسافر اٹھا اور اسے
بوسہ دیا۔ وہ مضبوط رسیوں سے بندھے جھولے کی گدی میں دھنسی ہوئی تھی اور اس نے
اپنا سر اس بازو پر ٹکا رکھا تھا جس سے وہ جھولے کی رسی تھامے ہوئے تھی۔ اس کے
چھوٹے بال سرخ لہروں کی مانند جھلملا رہے تھے اور اس کی پتلی گردن نمایاں ہو رہی
تھی۔
حلیمہ نے کنکھیوں سے
مسافر کو دیکھا اور جھولا جھلانے کی فرمائش کی۔ وہ اس کی پیٹھ کے پیچھے جھکا اور
ہلکا سا دھکا دیا، مگر اس نے ضد کی کہ وہ اسے اتنی زور سے جھلائے کہ وہ ہوا میں
اڑنے لگے۔
جب جھولا واپس اس کی
طرف آیا تو اس نے بچی کے جسم کو تھاما، اس کی کمر سنبھالی اور جھولے کو ایک زوردار
دھکا دیا، جس سے وہ کھجور کے سائے سے نکل کر پانی کے اوپر جا پہنچا اور دھوپ میں
نہا گیا۔ پھر جب جھولا واپس آیا تو مسافر ایک طرف ہٹ گیا اور وہ اسے چھوئے بغیر
کنارے سے باہر نکل گیا۔
"اسے اچھی طرح تھامے
رکھنا، میں تمہیں ہوا کی سیر کراؤں گا۔"
جھولا سائے سے بڑی تیزی
سے باہر نکلا اور دھوپ حلیمہ کی گردن پر تلوار کی دھار کی طرح تیز چبھی۔ وہ کھجور
کی چوٹیوں کی لکیر کو پار کر گیا، پھر تیزی سے واپس لوٹا اور دوسری سمت سے دوبارہ
سائے میں داخل ہو گیا۔ حلیمہ کا منہ کھلا ہوا تھا مگر وہ ہنس نہیں رہی تھی، اوپر
جاتے ہوئے اس کے بال چہرے سے اڑ رہے تھے اور اچانک پڑنے والی تیز روشنی بالوں کی
اس سرخی کو مزید گہرا کر رہی تھی جو مہندی کے رنگ سے آئی تھی۔ لیکن جیسے ہی جھولا
نیچے آیا اور بال دوبارہ اس کے چہرے پر گرے، وہ چمک ماند پڑ گئی۔ مسافر کھجور کے
تنے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔
"حلیمہ، اس درخت کا نام
کیا ہے؟"
"بمبر (لسوڑا)۔"
"اس کا نام کیا ہے؟"
بوڑھی عورت نے، جو لسی
کا پیالہ لیے لوٹی تھی، جواب دیا:
"بمبر۔ یہ اس کا نام
ٹھیک سے نہیں لے پاتی۔"
اور پیالہ اس کی طرف
بڑھاتے ہوئے کہا:
"اس میں برف نہیں ہے۔
یہاں ہم تک برف نہیں پہنچ پاتی۔"
"لسی برف کے بغیر بھی
بہت اچھی ہے۔ تمہاری کتنی گائیں ہیں؟"
حلیمہ بول پڑی:
"تین! میری امی انہیں
چرانے کے لیے گھر کے پیچھے لے گئی ہیں۔"
اس کے دونوں ہاتھ جھولے
کی رسیوں کو تھامنے کے لیے پوری طرح کھچے ہوئے تھے اور اس کے چھوٹے بال نیچے لٹک
رہے تھے، کیونکہ اس نے اپنا سر پیچھے کی طرف گرایا ہوا تھا اور جب بھی جھولا نیچے
آتا، وہ کنکھیوں سے مسافر کو دیکھتی۔ جب مناظر کے ہجوم اور پانی کے تیز بہاؤ نے
بچی کے سر کو بوجھل کر دیا، تو مسافر نے اس کے جھولے کو چھونا چھوڑ دیا اور اسے
پورے توازن کے ساتھ خود ہی جھولنے کے لیے آزاد کر دیا۔
"دھوپ میری آنکھوں کو
چندھیا رہی ہے۔"
تندور کے پاس سے, جہاں
آگ اب ٹھنڈی ہو چکی تھی، اس کی دادی نے کہا:
"یہ لفظوں کا تلفظ ٹھیک
سے نہیں کرتی، حالانکہ اگلے سال ہم اسے اسکول میں داخل کروائیں گے۔"
مسافر نے کہا:
"علی مجھ سے اکثر اس
درخت کا ذکر کیا کرتا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ اپنے بچپن کے ابتدائی برسوں میں
اس کی شاخوں کے بیچ سویا کرتا تھا۔"
حلیمہ نے کہا:
"مجھے اس کا پھل بالکل
پسند نہیں۔"
اس کی دادی نے پوچھا:
"کیا تم نے بمبر کھایا
ہے؟"
"نہیں۔ لیکن اس نے مجھے
بتایا تھا کہ اس کے اندر ایک لیس دار مادہ ہوتا ہے۔"
حلیمہ بول پڑی:
"اس کی گٹھلی انگلیوں سے
چپک جاتی ہے اور جھٹکنے سے بھی نہیں چھوٹتی۔"
"لیکن یہ ابھی کچا ہے۔
اس کا خیال تھا کہ یہ پک گیا ہوگا اور وہ چاہتا تھا کہ میں اپنے ساتھ کچھ بمبر لے
کر آؤں۔"
دادی نے کہا:
"میرا خیال ہے یہ کسی
اور جگہ نہیں اگتا۔"
"مجھے معلوم نہیں اور اس
نے مجھے اس جھولے کے بارے میں بھی بتایا تھا۔"
"حلیمہ کبھی پنگورے میں
نہیں سوئی۔ وہ اس جھولے میں بہت جلد سو جایا کرتی تھی۔ چھ سال ہو گئے ہیں وہ اسی
میں سوتی ہے۔"
اور حلیمہ نے کہا:
"یہاں پانی کے پاس۔"
"علی ندی میں تیرتا تھا
اور یہ اسے دیکھتی تھی، تب اس کے لیے جھولے میں ٹک کر کھڑا ہونا مشکل ہو جاتا تھا۔"
حلیمہ نے پوچھا:
"کیا تم تیرنا جانتے ہو؟"
"ہاں، میں جانتا ہوں۔"
"کیا وہاں تمہارے پاس
بہت سی ندیاں ہیں؟"
"بہت سی ہیں، مگر وہ اس
سرکش ندی جیسی نہیں ہیں۔ حلیمہ، کیا تمہیں پانی پسند ہے؟"
"مجھے ڈوبنے سے ڈر لگتا
ہے۔ اب مجھے جھولا جھلاؤ۔"
مسافر نے پیچھے سے
جھولے کو تھاما۔ اس نے اپنی دونوں ہتھیلیاں جھولے کی اس نشست کے گرد رکھیں جس میں
بچی کا چھوٹا سا جسم سمایا ہوا تھا اور اسے دھکا دیا، تو وہ ندی کے اوپر پرواز
کرنے لگی اور اس کا عکس پانی کی سطح پر تیرتی ہوئی چیزوں کے اوپر ابھرنے لگا۔
حلیمہ نے ایک تیز اور واضح آواز میں اسے پکارا:
"کیا میرے ابا نے تم سے
تیرنے کو نہیں کہا تھا؟"
"نہیں۔ لیکن اس نے کہا
تھا کہ میں تمہیں پیار کروں۔"
"تم نے مجھے پیار تو کر
لیا، لیکن میں چاہتی ہوں کہ تم تیرو۔"
مسافر نے تندور والی
عورت کی طرف دیکھا جو آٹا گوندھ رہی تھی، تو وہ بولی:
"اپنے جسم کو پانی سے تر
کر لو۔ وہ اپنے ابا سے بھی ہمیشہ یہی فرمائش کرتی ہے۔"
"میں اس کی خواہش پوری
کروں گا۔"
"لیکن اس کی ہر بات مت
سنو، اس کی فرمائشیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔"
اس نے بمبر کے درخت کے
پیچھے اپنا کُرتا اور بنیان اتاری اور انہیں گھنی شاخوں کے بیچ لٹکا دیا۔ اس نے
ندی میں چھلانگ لگائی اور حلیمہ کی خوشی کی ایک چیخ سنی، جو اس کے سبز پانی میں
غوطہ لگاتے ہی تھم گئی۔ جب وہ پانی کی سطح پر نمودار ہوا تو اس نے اپنے منہ سے
فوارے کی طرح پانی نکالا اور وہ بہاؤ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے لگا تاکہ حلیمہ
کے سامنے ایک جگہ ٹک سکے۔
"پانی ابھی تک ٹھنڈا ہے۔"
"وہاں تک تیرو۔ کیا تم
تندور تک تیر سکتے ہو؟"
"یہ تو بہت آسان ہے۔"
"پانی تمہیں بطخ کی طرح
بہا لے جائے گا۔"
اس کے سامنے، چمکتی
ہوئی لہروں کے تیز بہاؤ کے ساتھ، ندی میں کھجور کی دو قطاروں کی ساکت اور آمنے سامنے
چوٹیاں، دونوں کناروں کی گھاس اور درخت تیزی سے پیچھے کی طرف کھنچ رہے تھے۔ ندی
گھر کے پیچھے کچھ دوری پر مڑ رہی تھی اور اس موڑ سے عین پہلے، تنے اس تاریک، سائے
دار اور پرراسرار بہاؤ میں گرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے یا ایک کنارے سے دوسرے
کنارے اپنی جگہیں بدل کر ندی کے ساتھ ہی بڑی تیزی سے غائب ہو رہے تھے۔ ان قطروں کے
بیچ سے، جو اس کی آنکھوں کے سامنے اچھل رہے تھے اور اس کی نظر کو دھندلا رہے تھے،
اس نے اس عورت کو تندور کے دہانے پر کوئلے کے ایک جلے ہوئے تنے کی طرح ساکت کھڑے
دیکھا۔
جب وہ تندور کے سامنے
پہنچا، تو اس نے دیکھا کہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کے بیچ پیڑے کو تھپتھپا کر روٹی
بنا رہی تھی، اسے کپڑے کی ایک سیاہ گدی پر پھیلا رہی تھی اور تندور کی گرم، مڑی
ہوئی دیوار کے اندر اس کچی روٹی کو لگانے کے لیے جھک رہی تھی، گویا وہ اپنی ان
دھیمی اور پرسکون حرکات کے دوران کسی بھی وقت ٹوٹ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے گی۔
کنارے کے پاس وہ اپنے پیروں سے ندی کی تہہ کو چھو سکتا تھا اور اب اسے تندور کے
سامنے اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لہروں کے
ساتھ بہتے ہوئے پتے، گھاس اور شہتوت کے پھل اس کے جسم سے ٹکرا رہے تھے، وہ ان
پھلوں کو پکڑتا اور کھا لیتا۔
"پانی ابھی تک ٹھنڈا ہے۔"
"علی ان دنوں میں صبح
سویرے تیرنے کا عادی تھا۔"
"اماں، کیا تم جانتی ہو؟
میں یہاں بالکل ویسے ہی ہوں جیسے وہ تھا۔ مگر یہ جنگ کے دن ہیں..."
وہ تھوڑی دیر کے لیے
رکا تاکہ یقین کر سکے کہ کس طرح اس عورت کی آنکھیں اس کے مرجھائے ہوئے چہرے میں گم
ہو رہی تھیں اور اس کا منہ اس کی مشکوک خاموشی میں یوں غائب ہو رہا تھا جیسے کوئلے
کا کوئی ایسا حصّہ ہو جو بکھرنے سے پہلے زیادہ دیر تک کھڑے رہنے کی سکت نہ رکھتا
ہو۔
"مجھے یہ جگہ بہت پسند
آئی ہے۔ مجھے یوں دیکھو جیسے میں وہی ہوں جو اب تیر رہا ہے اور تم سے باتیں کر رہا
ہے۔ اس کی جدائی کو خود پر زیادہ سوار مت کرو۔"
تندور والی عورت کے منہ
سے کچھ ادھورے، تلخ اور الجھے ہوئے الفاظ نکلے جو ندی کے پانی کی آواز میں بجھ گئے
اور ان پر حلیمہ کی چیخ حاوی ہو گئی:
"واپس آؤ اور مجھے جھولا
دو! کیا تم اپنی پیٹھ کے بل تیر سکتے ہو؟"
"کسی بحری جہاز کی
طرح... یہ تو بہت آسان ہے۔"
اس نے اپنا رخ بہاؤ کے
مخالف سمت میں کیا اور پانی کی سطح پر ٹکے رہنے کے لیے اپنے پیروں کو پانی سے
مارنے اور ہاتھوں کو جسم کے نیچے ہلانے لگا، جس سے پانی کی مسلسل پھواریں اڑنے
لگیں۔ اس نے دیکھا کہ کبوتر چھت پر بنے ڈربے کے اوپر منڈلا رہے ہیں، بمبر کے چوڑے
پتے گہری ہریالی کے ساتھ ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے ہیں اور کھجور کے دو اونچے
درختوں کی ٹہنیاں آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ ان کے درمیان جھولا اب آہستہ آہستہ تھم
رہا تھا اور نیچے کھجور کے پتوں کا سایہ سمٹتا جا رہا تھا۔ وہ درخت کے سائے دار
حصے میں یوں داخل ہوا جیسے کسی کنویں میں اتر رہا ہو۔ اس نے پانی میں لٹکی ہوئی
شاخوں کو تھام لیا، تبھی حلیمہ کی آواز سنائی دی:
"تمہیں معلوم ہے؟ میرے
دادا بھی ایک فوجی تھے۔"
مسافر نے دادی کی آواز
سنی:
"اس نے اپنے دادا کے
بارے میں کیا کہا؟"
حلیمہ نے کہا:
"میں نے اسے بتایا کہ وہ
ایک فوجی تھے۔"
مسافر بولا:
"سب لوگ کسی نہ کسی دن
فوجی بن ہی جاتے ہیں۔"
اس نے دادی کو کہتے سنا:
"انہوں نے جنگِ عظیم میں
حصہ لیا تھا۔ یہ ان کہانیوں سے بہت بہلتی ہے جو وہ اسے سناتے ہیں۔"
حلیمہ نے کہا:
"وہ کتنی پیاری کہانیاں
ہوتی ہیں!"
اس کی دادی نے کہا:
"اور تمہارے ابا کی
خبریں بھی... بس تم ان کے چھٹی پر آنے کا انتظار کرو۔"
مسافر نے کہا:
"ہاں، وہ کیسی خبریں
ہیں... بڑی عجیب خبریں ہیں، حلیمہ۔"
اس نے حلیمہ کو کہتے
سنا:
"جھولا دھیما ہو گیا ہے،
اب مجھے دوبارہ جھلاؤ۔"
وہ درخت کے سائے سے
باہر نکلا، اس کا چہرہ بھیگا ہوا تھا۔ حلیمہ نے اس سے پوچھا:
"کیا تمہاری آنکھیں سرخ
ہو گئی ہیں؟"
"تیرنے والوں کے ساتھ
ایسا ہی ہوتا ہے۔"
"نہیں! میرے ابا کی
آنکھیں کبھی سرخ نہیں ہوئیں۔"
اس نے جھولے کی نشست پر
بچی کے نچلے دھڑ کو اپنے ہاتھوں کے گھیرے میں لیا اور اسے دھکا دیا، تو وہ دھوپ کی
تیز روشنی میں غائب ہو گئی اور جب وہ واپس آئی تو اس نے جھولے کی حرکت کو روکتے
ہوئے اسے اپنی آغوش میں لے لیا:
"حلیمہ، تم کیسی ہو؟"
"تم نے اسے کیوں روک
دیا؟ وہ بہت اچھا دھکا تھا، مجھے کسی نے اس طرح نہیں جھلایا۔"
وہ پھر سے دھوپ کی حدت
میں کھو گئی اور اپنا سر اپنے پھیلے ہوئے بازو پر ٹکائے ہوئے، بالکل پرسکون چہرے
کے ساتھ اپنی آنکھیں موند لیں:
"میں اپنے ابا کو دیکھ
رہی ہوں... دیکھو، وہ مجھے اپنی گود میں جھلا رہے ہیں۔ لیکن وہ کسی گونگے کی طرح
بات نہیں کرتے۔ انہوں نے تمہاری طرح اپنے سر کے بال منڈوائے ہوئے ہیں۔ جیسے میں ان
کے لیے کوئی اجنبی ہوں، وہ مجھے نہیں پہچانتے اور مجھ سے کبھی بات نہیں کرتے۔"
پھر اس نے اپنی آنکھیں
کھولیں اور کہا:
"وہ کہاں چلے گئے؟ وہ تو
میرے ساتھ تھے، مجھے جھلا رہے تھے۔"
"وہ اب غائب ہو گئے ہیں۔
جب تم اپنی آنکھیں کھولتی ہو، تو وہ غائب ہو جاتے ہیں۔"
"کہاں؟"
"آؤ انہیں ڈھونڈتے ہیں،
حلیمہ۔ کیا میں کھجور کے درخت پر چڑھوں؟ نہیں، ورنہ وہ ہمیں دیکھ لیں گے۔ کیا وہ
پانی میں ڈوب گئے؟ نہیں، اگر وہ زیادہ دیر پانی کے نیچے رہتے تو ان کا دم گھٹ
جاتا۔ آہ، کیا تمہیں معلوم ہے وہ کہاں ہیں؟ اس تھیلے کے اندر... کیا تمہیں وہ نظر
آ رہا ہے، حلیمہ؟"
"کون سا تھیلا؟"
"وہ جو دوسرے کنارے پر
ہے۔ وہ تھیلا جو سائیکل سے لٹکا ہوا ہے۔"
"وہ چھوٹا سا تھیلا؟ اس
میں ان کا جسم کیسے سما سکتا ہے؟"
"لیکن وہ تو دھوئیں کی
طرح ہیں۔ حلیمہ، سمجھ لو، وہ بالکل دھوئیں کی طرح ہیں نا؟"
"میں نے انہیں ٹھیک سے
نہیں دیکھا، میں تو بس ان کی گود میں تھی۔"
"کیا میں تمہارے ساتھ
جھولے میں بیٹھ جاؤں؟"
اس نے جھولتی ہوئی
رسیوں کو روکا اور حلیمہ کو نیچے اتارا، پھر اسے دوبارہ اٹھایا تاکہ وہ جھولے کی
نشست پر اس کی گود میں بیٹھ سکے۔ وہ اپنے پیروں کی مدد سے دونوں کے جسموں کو
جھلانے کی کوشش کرنے لگا، اتنے میں بوڑھی دادی ہاتھ میں ایک روٹی لیے ہوئے آئی:
"کیا تم دونوں کو بھوک
نہیں لگی؟ یہ کھا لو اور دوپہر کے کھانے کا انتظار کرو جب اس کے دادا آ جائیں گے،
تب سب مل کر کھائیں گے۔ میں اوپر جا کر کبوتروں کو دانہ ڈال آتی ہوں۔"
اس نے وہ گرم روٹی ان
دونوں کے درمیان بانٹ دی اور انہوں نے دادی سے فرمائش کی کہ وہ چھت پر جانے سے
پہلے انہیں ایک دھکا دے دے۔
"کیا میں تم دونوں کو
جھلا سکتی ہوں؟"
رسیاں آہستہ آہستہ ہلنے
لگیں، جھولے نے رفتار پکڑی اور سائے کی حد کو تھوڑا سا عبور کر گیا، پھر وہ بہاؤ کے
اوپر پرواز کرنے لگا اور دادی چھپر کے پیچھے غائب ہو گئی۔
"حلیمہ، میرے سینے سے
ٹیک لگا لو اور اپنی آنکھیں بند کر لو۔"
"تمہارا کرتا گیلا ہے۔"
"میں نے اپنے جسم کو
ٹھیک سے خشک نہیں کیا تھا۔"
"کیا تمہیں بمبر پسند
ہے؟"
"ہاں، میرا دل چاہ رہا
ہے کہ میں اسے کھاؤں۔"
"مجھے یہ پسند نہیں ہے۔
اور تمہارا نام کیا ہے؟"
"ستار۔"
"مختار کے بیٹے جیسا
نام۔ ہم غسل خانے کے پیچھے کھیلتے ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اسے بھی کھیل میں
شامل کریں۔"
"جہاں جنازوں کو غسل دیا
جاتا ہے؟"
"ہاں۔ اب مجھے میرے ابا
کو دکھاؤ۔ میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ وہاں تھیلے سے نکل رہے ہیں اور ہماری طرف آ رہے
ہیں۔"
"بغیر سر کے، بغیر
ہاتھوں اور پیروں کے اور بغیر کپڑوں کے... بالکل دھوئیں کی طرح۔"
"ہاں، ہاں!"
"انہیں قریب آنے دو۔ تم
سونے کا ناٹک کرو اور انہیں مت ڈراؤ، کیونکہ وہ صرف ان لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو
مُردوں کی طرح خاموش سوئے ہوئے ہوں۔"
مسافر اپنی آنکھوں کی
نیم بیداری کے ساتھ ندی کے بہاؤ کا مقابلہ کر رہا تھا۔ وہ حلیمہ کو اپنے ساتھ
بھینچے ہوئے تھا اور اسے اٹھائے ہوئے ہوا میں اڑ رہا تھا۔ وہ اس کے ساتھ ان کھلے
ہوئے دروازوں میں داخل ہو رہا تھا جو کھجور کے ان تنوں کے درمیان تھے جن کے چوڑے
پتے پنکھوں کی طرح ہل رہے تھے، جہاں اس نے محسوس کیا کہ ایک خوبصورت، نرم اور نم
آلود غنودگی اس کے بہت قریب آ رہی ہے اور وہ دونوں درختوں کے پتوں، انار کے پھولوں
اور جنگلی گھاس کو چیرتے ہوئے، اس چمکتے ہوئے تیز بہاؤ کی طرف بڑھ رہے تھے۔
"حلیمہ، کیا تم سو گئی
ہو؟"
"وہ تھیلے سے دھوئیں کی
طرح نکلے اور انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔"
"اور وہ اب کہاں ہیں؟"
"مجھے نہیں معلوم... وہ
چلے گئے... وہ ندی میں ڈوب گئے۔"
اور زیادہ دیر نہیں
گزری تھی کہ وہ دونوں بھی، انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، ندی کے اسی گہرے بہاؤ
میں ڈوب کر غائب ہو گئے۔
**
عربی عنوان: الأرجوحة
***
مصنف کا تعارف:
محمد
خضیر (Muhammad Khudayyir) معاصر عربی ادب، خصوصاً عراقی
افسانہ نگاری، کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 1942ء میں بصرہ میں پیدا
ہوئے اور ان کی بیشتر تخلیقات اسی شہر کی فضا، یادداشت، تاریخ اور جنگوں کے اثرات
سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ وہ بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں، اگرچہ ان کے ہاں
افسانہ، یادداشت، اساطیر اور شعری نثر ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔

Comments
Post a Comment