Posts

افسانہ نمبر 707 : ایک قدیم مخطوطه || تحریر : فرانز کافکا (چیکوسلواکیہ) || اردو ترجمہ : نیر مسعود (بھارت)

Image
    افسانہ نمبر 707 : ایک قدیم مخطوطه تحریر : فرانز کافکا (چیکوسلواکیہ) اردو ترجمہ : نیر مسعود (بھارت) ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے دفاعی نظام میں بہت سی کوتاہیاں رہنے دی گئی ہیں۔ اب تک ہم نے اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں رکھا تھا اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں لگے رہتے تھے لیکن حال میں جو باتیں ہونے لگی ہیں، انہوں نے ہمیں تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔                 شاہی محل کے سامنے والے چوک میں میری جوتے بنانے کی دکان ہے۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ جوں ہی میں دکان کھولتا ہوں مجھے چوک کو آنے والی ہر سڑک کے ناکے پر مسلح سپاہی تعینات نظر آتے ہیں لیکن یہ ہمارے سپاہی نہیں ہیں۔ بظاہر یہ شمال کے صحرانشین ہیں۔ کسی ایسے طریقے سے جو میری سمجھ سے باہر ہے، یہ صحرانشین دارالسلطنت     کے اندر گھس آئے ہیں، حالانکہ دارالسلطنت سرحد سے بہت فاصلے پر ہے۔ کچھ بھی ہو، یہ سپاہی یہاں موجود ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر صبح ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔          ...

افسانہ نمبر 703 : کتب فروش، تحریر : الزبیتھ ہارڈوک (امریکہ)، ترجمہ : ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی ( آسٹریلیا)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 703 :  کتب فروش ( THE BOOKSELLER ) تحریر : الزبیتھ ہارڈوک      (امریکہ)   Elizabeth Hardwick   ترجمہ :   ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی ( آسٹریلیا)                                           نومبر کا سنیچر۔ خدا کا شکر کہ موسم سرما کی آمد ہوچکی۔ ہر ایک انسان کچھ نہ کچھ نیا پہن کر جیسے خزاں کا استقبال کر رہا ہو۔ کچھ اس طرح کہ اسکرٹس اونچے اور جوتوں کی ایڑھیاں نیچی دکھائی دینے لگی ہیں۔ کافی عمر رسیدہ خواتین اسکول کی بچیوں جیسے سوئیٹر زیب تن کیے ہوے ہیں ،  اور اپنی جوانی کو بہت پیچھے چھوڑے مرد بے آواز پھسلنے والے جوتے ( roller skates ) پہنے پیچھے کی طرف گھوم کر چکر لگاتے ہوے مہارت کے ساتھ فٹ پاتھ پر بے آواز رک جانے کا شاندار انداز کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔                               ...