افسانہ نمبر 703 : کتب فروش، تحریر : الزبیتھ ہارڈوک (امریکہ)، ترجمہ : ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی ( آسٹریلیا)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ
نمبر 703 : کتب فروش (THE BOOKSELLER)
تحریر : الزبیتھ
ہارڈوک (امریکہ) Elizabeth
Hardwick
ترجمہ : ڈاکٹر صہبا
جمال شاذلی ( آسٹریلیا)
نومبر کا سنیچر۔
خدا کا شکر کہ موسم سرما کی آمد ہوچکی۔ ہر ایک انسان کچھ نہ کچھ نیا پہن کر جیسے
خزاں کا استقبال کر رہا ہو۔ کچھ اس طرح کہ اسکرٹس اونچے اور جوتوں کی ایڑھیاں نیچی
دکھائی دینے لگی ہیں۔ کافی عمر رسیدہ خواتین اسکول کی بچیوں جیسے سوئیٹر زیب تن
کیے ہوے ہیں ، اور اپنی جوانی کو بہت پیچھے چھوڑے مرد بے آواز پھسلنے
والے جوتے (roller
skates) پہنے پیچھے کی طرف گھوم کر چکر لگاتے ہوے مہارت کے ساتھ فٹ پاتھ
پر بے آواز رک جانے کا شاندار انداز کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔
نومبر ۔ لوگوں نے اختتام ہفتہ پر
دیہی علاقوں پر جانا چھوڑ دیا ، کیونکہ یہاں ، شہر میں ، اتنا کچھ ہورہا ھیکہ کہیں
اور جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی ۔ کتنی سچائی ہے ؟موسیقی
ریز ڈرامہ میں مشینیں ہنسوں (swans) کو سٹیج سے پیچھے بہا لیجاتی ہیں اور پھر تلواریں ہوا میں اچھالی
جاتی ہیں ؛ رقص کے دلدادہ درمیانی منزل کے فرش پر گپ شپ کرنے میں مصروف ہیں ؛
بہادر اور دلیر لوگ فر(fur) یا بہار کے باغوں کے مطابق گلابی اور کاسنی
رنگ کی دبیز جیکٹس (jackets) پہنے سینما گھروں کے سامنے لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں
۔ شہر کے لوگ کھلاڑیوں کی طرح مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ بلند روحانی
طاقت کے مالک بھی ہیں۔ وہ اندھیرے ہال میں بیٹھے ، سامنے روشنی کے
سیلاب میں دکھائے جانے والے کارکردگی کے مظاہروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ پردے پر
روغنی چہرے ؛ اور اسٹیج پر نفیس اور ملائم ریشمی کپڑوں کے ساتھ وزنی مخمل ۔ وہ
اچھلتا ، کودتا ، اور لڑکی افسردگی کے ساتھ کسی پرندے کے پروں کی طرح
دونوں ہاتھ تہہ کیے ہوے ہے۔ جبکہ ایک اور لڑکی اپنےوالد کی وجہ سے اس کے محبوب کی
بے وفائی پر اونچی آواز میں گاتی ہوئی ، اونچا ، مزید اونچا
۔ سنیچر کی رات ، سارے ٹکٹ فروخت شدہ ۔
کیفے بخارات سے بھرے ہیں ، اور ریستوران کے دروازوں سے لہسن کی
خوشبو بہتی ہوئی ان کاروں کے بوٹ (boot of the cars) تک پہنچ رہی تھی جو سڑک پر ٹریفک لائیٹ کے
انتظار میں رکی ہوئی ہیں۔ بوتھ (booth) پر اگلے دن کے اخبارات سلیقہ سے جما دیے
گئے ہیں اور ، ہمیشہ کی طرح ، کولمبس اوینیو (Columbus Avenue) پر روجر (Roger) کی پرانی کتابوں کی دوکان بھی بیوپار کے
لیے کھل چکی ہے ۔ اس نے دوکان کا نام “ دی پلیڈ“ (The Pleiade) رکھا ہے ، لیکن وہ اسے “play aid” کہنے کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔ اس کا کہنا
ھیکہ اس نے ان اجنبیوں پر نظر رکھنا سیکھ لیا ہے جو اس نام کا صحیح طریقے سے تلفظ
کر سکتے ، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور یقین رکھتے ہیں
کہ وہ اسے بیوقوف بنا سکتےہیں (and they are sure to steal him
blind …)۔ ویسے یہ احتیاط روجر کی طبیعت کا حصہ نہیں ہے ۔ وہ
چوری تک پہنچ جاتا ہے ____ پتلی جلدیں اوورکوٹ (overcoats) کے اندر چھپائی جاتی ہیں ، اور بڑی جلدیں
خریداری کے بڑے تھیلوں میں _____ درد کی ایک ہلکی سی کراہ اور اس کے
تصور میں ایک طویل سفر جہاں وہ ڈھونڈ لیتا ھیکہ کوئی بے چارہ کام چور ، اپنی خودآگاہی
کے تحت پٹتا ہے ، “ Notes
from Underground” کے اس شخص کی طرح جو اپنے خزانہ پر ، دکھتی آنکھوں سے آنسو بہاتا
ہے ۔
صبح کے گیارہ بجے ہم دوکان کے سامنے پہنچ گئے۔ روجر نے بتایا
کہ “ The
Marriage of Maria Braun” کی مانگ امید سے زیادہ شاندار رہی ہے۔
روجر ریت کے رنگ کی جلد اور عجیب طرح کے بھورے رنگ کے بالوں والا ،
کہنیوں پر چمڑے کے پیوند لگے سوتی کپڑے کی جیکٹ پہنے ، ایک اونچے
قد والا شخص ہے ۔ ویسے کہنیوں پر لگے چمڑے کے پیوند اور وہ پائیپ (pipe) جس سے وہ کبھی کبھی تمباکو نوشی کرلیتا ہے
، جس کے باوجود بھی وہ نہ ہی کسی پروفیسر کی طرح دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی کسی
کھلاڑی کی طرح ۔ بلکہ وہ بیمار سا ، شکن آلود ، پھیلی ہوئی ریت کی طرح بکھرا سا
اوربس۔ وہ تو ایک مہربان ، مسکراتا ہوا، غیر معمولی شخصیت کے ساتھ
“The
Pleiade “ کا مالک ، اور وہ اور اسکی دوکان کی جڑیں تو جیسے کولمبس اوینیو
کے مخلوط خطۂ زمین میں گوبھیوں (cabbages) کی طرح پھیل چکی ہیں -
ہاں ، ویسے تو بہت کچھ چل رہا ہے ، لیکن روجر نہ کبھی اوپرا (opera) جاتا ہے اور نہ ہی بیلے (ballet) ،البتہ کبھی کبھار فلم دیکھنے چلا جاتا ہے
۔ وہ تو اپنی دوکان میں گاؤں کےکسی سبزہ زار پر لگے پرچم لہرانے والے کھمبے کی طرح
دھنسا ہوا ہے ۔ وہ ایک انتہائی زبردست جذبہ کا مالک ہے جس کی وجہ سے اس کی شخصیت
کی روانی بنی رہتی ہے ۔ جدید ادبیات عالیہ ( modernist classics)اس کا جنون ہے ۔ تعظیم ، محبت کا
تناؤ ، جستجو کی بے چینی اس کے مقدس ناموں کے تلفظ کو متاثر کرتی ہے ۔ فرانسیسیوں
، روسیوں ، امریکیوں ، اطالویوں ، الہام کے شہداء کی تصاویر “ The Pleiade” کی دیواروں پر فریموں میں سجائی گئی ہیں ،
اور ان کی زیادہ تر سنجیدہ تصاویر جو بنیاد پرستی کی ایجاد ہیں ، روجر کی چمکتی
ہوئی آنکھوں کی شمع سے شبہیوں کی طرح روشن ہیں۔ یادیں آسیب کی طرح اسے
پریشان کرتی ہیں۔ کہاں ہے ؟، اوہ کہاں ہے ؟ “ A Barbarian in Asia” کی گمشدہ کاپی جو قسمت سے (Michaux) میشاؤ کی دستخط کے ساتھ تھی
جو دائرہ میں مخفی ڈرائینگ کی صورت میں دی گئی تھی ؟
روجر اور اس کی کتابیں ۔ اس کے پرانے دوست اس بات سے واقف ہیں کہ وہ
صرف ان کتابوں کو پڑھتا ہی نہیں ہے ، بلکہ یہ کہ اس کی متجسس طبیعت کو
واضح کرنے لیے کوئی لفظ پوری طرح درست نہیں ہے ۔ وہ بڑی نفاست سے اور
احتیاط سے ان کتابوں کی ورق گردانی کرتا ہے ، ایک طرح سے ذہنی اور روحانی خلفشار
کے ساتھ ۔ اس کی کلاسیکی کتب ، قریب قریب آئینی اختیار کے ساتھ ، اس کی
تعریفی نظروں میں ، ایک قسم کے شیشے میں رہتی ہیں۔ نئی کتابیں ، چاہے ماضی قریب کی
ہوں یا کچھ سال پرانی ہوں ، وہ انھیں فراخ دلانہ امید کے ساتھ ، انتہائی شائستہ
انداز میں قبول کرتا ہے ، اور پھر بڑی عجلت کے ساتھ انھیں چھانٹ
کر ان کتابوں کو ڈھونڈ نکالتا ہے جو مستقبل کی ، طویل العمری کی
سرگوشیاں لیے ہوتی ہیں ۔ لیکن یہ سچ نہیں ھیکہ روجر کو اپنی کتابوں کا علم نہیں ہے
۔ سچ تو یہ ھیکہ وہ انھیں قریب سے عجیب و غریب انداز میں جانتا ہے ۔ ہر
لذت ، ہر خصوصیت ، ہر دائرہ کار اور ہر خواہش و تمنا کے
معیار کو وہ اچھی طرح جانتا ہے ۔ اس کے خوش مزاج دل میں جدید فن کی تمام ستم ظریفی
، الٹ پھیر ، بے اعتنائیوں کے غمگین سُر بجنے لگتے ہیں جو اس کے دل کو مسرت سے بھر
دیتے ہیں۔
اگر کوئی کہے کہ : روجر ، کیا تم برونو شُلز (Bruno Schulz) کو پسند کرتے ہو ؟ ، اس کا جواب ہوتا : اوہ
ہاں ، ہاں ۔اور پھر کچھ غور و خوض کے ساتھ مزید کہے گا : لیکن مجھے “ Santorium “ (سیناٹوریم ) سے زیادہ “Crocodile
Street “ (کروکو ڈائل سٹریٹ ) پسند ہے ۔ اپنے دماغ میں محفوظ
علمی تحقیق کے ذریعہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ، ان مختلف قسم
کے سارے پر اسرار صفحات کو ، ان کے عنوانات ، ان کی ابتدا اور
اختتام ، اور تازہ حروف صحیح (consonants) اور حروف علت (vowels) کی طرح چمکتے ہوے ان جگھوں کے ناموں کے
ساتھ ، واپس زندگی بخش دیگا ۔ اور وہ جانتا ھیکہ زندگیوں کا جاننا کیا ہوتا ہے
_____ تصنیف و تالیف کی خوفناک جدوجہد جس نے کئی زندگیوں کو ختم کردیا
۔
دی پلیئڈ ( The Pleiade ) کے پیچھے ایک دبلی پتلی سی نوجوان لڑکی ،
کسی بھیگی ہوئی ٹوپی کی طرح ، گیلے اور چمکتے ہوے بالوں
کو ، بڑی بڑی مستحکم آنکھوں کے اوپر جماۓ ہو ۓ ، لانبی میز کے پاس بیٹھی کافی پی رہی
ہے ۔ لوئس (Lois) ، روجر نے کہا ۔
وہاں سامنے
، ایک انوکھا انسان ، کالی پتلون اور ہلکے سرخ رنگ کا
جیکٹ پہنے ، فی الحال پیروں میں اپنے ناپ سے لانبے تکلیف دہ
جوتے پہننے کی کوشش کرتے ہوے ، پنجوں پر کھڑا ،
کتب خانہ کا محافظ تو دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ یہ قابل رحم شخص نے اپنی آنکھوں سے
کچھ فاصلہ پر ایک کتاب پکڑ رکھی ہے ۔ بیوقوف ، روجر نے کہا ۔
ایک بہت بڑا
کتا ، دھول کی ایک بڑی گیند کی مانند ، دکان کے درمیان سویا ہوا ہے اور اس کے
اطراف دائرے کی شکل میں گاہک کھڑے ہیں ۔ تو یہ ہیں ، کچھ
معمولی تغیرات کے ساتھ ہفتہ کی سات راتیں جو دی پلیئڈ میں گزرتی ہیں۔
اور اب ایک نوجوان جوڑا ، سرگوشیاں کرتے ہوے ، شیلف پر رکھی کتابوں کے عنوانات کی
جانچ کر رہے ہیں۔ روجر کی بےتابی ان کی نظروں کا پیچھا کرتی ہیں ۔ وہ روح کی تلاش
میں ہے ، اور نوجوان جوڑے کی روح ظاہر ہوتی ہے جب ایک ہاتھ آگے
بڑھ کر ایک کتاب آگے کی طرف کھسکاتا ہے ، اور پھر آہستہ سے اسے اپنی جگہ پر پیچھے
سرکا دیتا ہے ۔روجر وہاں پہچان کی روشنی اور جہالت کے خالی پن کا مشاہدہ کرتا ہے
۔
پاؤنڈ کی “ اے۔ بی ۔ سی “ (“Pond’s “ABC) ، نوجوان نے لڑکی کے کان میں سرگوشی کی ۔
پچیس ڈالرس۔ قیمتی ہیرا ایک لمحہ کے لیے نوجوان کے ہاتھ میں رہا اور پھر حروف تہجی
کی آرام گاہ میں واپس رکھ دیا گیا ۔
روجر
انھیں دیکھے جارہا ہے اور اسے لگ رہا ھیکہ جیسے وہ اپنی آپ
بیتی کے اوراق پلٹ رہے ہوں ۔ روجر ان میں گہری دلچسپی لے رہا ہے ، اگرچہ کہ اس
جوڑہ نے عام روش سے انحراف کرتے ہوے کوئی انوکھا طرز عمل نہیں دکھایا ، اور انکا
سفر ، شاعری ، تنقید ، تخلیقی صلاحیتوں اور فن افسانہ نگاری کو لیکر غیر دلچسپ
سا ہے ۔ لیکن وہیں پر ایک آرزو ، شائد نزاکت اور تعجب ، ابتدائی امریکن
شمارہ اور حقیقی انگریزی شمارہ سے پہلے ، اور اس سے
پہلے کہ اس کے غیر مطبوعہ ہونے پر ، دستخط شدہ ہونے پر اور اس کی چھپوائی محدود
کردیے جانے پر غور و فکر کیا جاۓ۔
بالآخر لڑکی ایک پیپربیک دو ڈالر اور
پچاس سینٹس میں خرید لیتی ہے ۔ “کافکا کی ڈائیریاں،” جلد ۱ (Kafka’s
Diaries” “Volume 1) ۔ روجر کی مسکراہٹ کچھ پھیکی پڑنے لگی ، لیکن اس سے
مراد کافکا کی توہین ہرگز بھی نہیں ، بلکہ جن کے بارے میں
وہ محسوس کرتا ھیکہ محبت ان کے لیے مجرمانہ امر ہے ۔ یہاں مسکراہٹ کے
پھیکے ہونے سے مراد اس نوجوان جوڑے کا کتاب کی اس جلد سے محرومی پر
ناامیدی کا احساس ہے ۔
وہ اپنی میچنگ اسکیی(ski jacket) جیکٹس پہنے ، ہلکے سے دوڑتے ہوے اور سنہرے
بالوں کو پیچھے اڑاتے ہوے گزرگاہ ( avenue) سے نیچے چلے گئے ۔ اور روجر ان کے متعلق
اپنی قطعی آراء کو اکٹھا کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے ۔ شعرا ، وہ کہتا ہے ۔ میرے
خیال سے وہ شہر کے وسطی علاقہ میں رہتے ہیں ، ایسٹ ولیج (East Village New York City) میں نہیں۔کچھ کچھ مغربی دسویں
سڑک (Western
Tenth Street) کی طرح۔ باعزت قسم کے ، امہرسٹ (Amherst) اور ویلزلی (Wellesley) کی طرح۔ وہ دونوں کسی صفحہ کی
درمیانی جگہ کی طرح تھے۔
روجر ۔ میں دوبارہ اس کا بڑا سا ، جھکا ہوا سر دیکھ سکتا ہوں ،
شائد صدمہ میں ہو ، جیسے چند سال پہلے کولمبیا میں ملٹن (Milton) پر ہونے والے سیمینار میں ہوا تھا ۔ اپنی
مستحکم لیکن سست روی اور ٹال مٹول کرنے والی طبیعت کے باوجود ، اپنے قلم اور نوٹ
بک کے ساتھ گریجویشن تک پڑھائی کرچکا تھا ۔ وہ جدیدیت پسند ٹی۔ ایس
ایلیٹ (T.
S Eliot ) ہی تھا جس کے مابعدالطبیعاتی شعرا کے احیاء نے روجر کی سترھویں
صدی میں چلے جانے کی تباہ کن حد تک قیادت کی ۔ کچھ بدعنوان اقتدار کے مالک اداروں
نے ، روجر کو ملٹن کے مطالعہ کے دوران نمایاں صفات اور
خصوصیات کو پیش کرنے پر اسے بے دردی سے گھسیٹا کیونکہ اس وقت ایلیٹ کے مد مقابل
ملٹن اس اونچائی کا شاعر نہیں تھا ۔ روجر نے کچھ مہینوں کے لیے سب برداشت کیا
۔ پھر اس نے “The Student’s Milton” کے حاشیہ میں لکھا : “ Cf. Virgil” ، ( ورجل کے ساتھ موازنہ کریں ) ایک سطر کے
بعد ؛ اور اگلی سطر کے بعد لکھتا ہے ؛ “ See Pliny the Elder” ( ایک رومن مصنف ) ، اور صفحہ کے آغاز میں
، “پائتھاگورس صرف ایک ہی تھا جس نے جرم سماوی ( خلا میں پاۓ جانے والے تمام قدرتی اجسام
) کی موسیقی سنی تھی.” ( Pythagoras was the only one who
had heard the spheres’ music)
لیکن اس کا سر تو غیر معمولی بڑا تھا لیکن آنکھیں اسقدر چھوٹی
کہ سطروں کے بیچ باریکی سے دیکھ نہیں پارہی تھیں ، اور وہ متن (text) کو لیکر کچھ اس طرح تذبذب میں
پڑ چکا تھا جیسے کوئی اکیلی بھیڑ اپنے احاطہ میں اداس اور افسردہ سی گھوم رہی ہو ۔
آخر وہ دستبردار ہو گیا اور خوشی خوشی ، لمبے لمبے ڈگ مارتا اوپری سڑک
( upper
Broadway) کے سبزہ زار میں چلا گیا ۔ اور پھر کئی سالوں بعد The Pleiade کے مالک کی حیثیت سے ٹھہر گیا ۔ اور اب بھی
، روجر اپنی دوکان کے دروازہ پر کھڑا کسی دوست کا استقبال کرتے ہوے کہتا ہوا سنا
جا ئیگا ، “!Hail,
holy light” اس کی یادداشت میں باقی رہنے والا “Paradise Lost “ کا تنہا فقرہ
۔
اس
کی دوکان پر مستقل آنے والے ملاقاتیوں میں وہ کئی لوگوں سے اچھی طرح واقف ہے ،اور
جن میں کولمبیا کے اسکے طالب علمی کے زمانہ کے دوست بھی ہیں جو کسی
ادبی مجموعہ کی طرح ہیں۔ وہ ایک فرانسیسی محقق کو جانتا ہے جو ایک سماج
وادی ، عیسائی ( کیتھولک) شاعر ، اور پیشہ سے وکیل ، اور وائلین بجانے
کا شوقین بھی رکھتا ہے اور اس کے علاوہ کلیسٹ (Kleist) اور نووالس (Novalis ) جیسی جرمن ادبی شخصیات کو
پڑھتا رہتا ہے ۔
______________________________
رات
ختم ہورہی ہے اور لوئیس میز کے پاس بیٹھی اونگ رہی ہے ۔ لوئیس سے پہلے ماؤرین ( Maureen ) کچھ مہینوں تک اسی طرح میز کے پاس بیٹھا
کرتی تھی خاموش ، خوبصورت اور غافل سی __ بالکل لوئیس کی طرح ۔
ماؤرین کہاں
ہے ؟
مینار کی سب سے
اونچی بغیر چھت والی منزل پر کسی قسم کا جادوئ ورد کرنے کے
لیے ، روجر نے بتایا ۔ کیا اس کے لہجہ میں کسی قسم کے پچھتاوے کا یا
افسوس کا انداز ہے ؟ بالکل بھی نہیں ۔ معمولی یا پرتشدد تبدیلی کو خوش اخلاقی سے
ہم آہنگ کرتے ہوے قسمت کا سامنا کرنے کا یہ روجر کا اپنا طریقہ ہے ۔ گہری غیر
فعالی ، کچھ تعجب اور یہاں ،وہاں پر حیرانی اور بد حواسی کی ایک کوند ( flash) ، اور اس کے داخلی انتظامات کے پرسکون بہاؤ
نے سمندر کی طرف اپنا راستہ بنا لیا۔ اور اس کے لیے وہ تمام پریشان
لوگ تیرتے ہوے اس کی طرف چلے آے جیسے وہ ان کے لیے پشتہ یا گھاٹ کی طرح
ہو جہاں اچانک لنگراندازی کی جاسکتی ہو ، اور اس کے لیے وہ سب شائد اس
کے شکرگذار تھے ۔
بغیر چھت والے
مینار دراصل ماؤرین کے آبائی شہر ٹراے ، نیویارک ( Troy, New York) کے لیے دیا گیا اعزازی خطاب تھا ۔ اس کی
فطرتاً پرامن جگہ تھوڑی بھی دائیں یا بائیں مڑ جاۓ اور وہ اپنا
سب کچھ کھو دے تب وہ وہاں چلی جایا کرتی ۔
لوئیس ، ماؤرین کی دوست ہے
، روجر نے وضاحت دی ۔ اور وہ کام کی تلاش میں ہے ۔
لوئیس نے سر ہلایا
، اور اس کی فکر انگیز نظر یں جو بظاہر تو اتنی بے فکر اور مطمئن
دکھائی دے رہی ہیں لیکن وہ خود ہی پریشانی کے اثر کا اشارہ دے
رہی ہیں ۔
وقتاً فوقتاً ، دی پلئیڈ
کے سامنے لگی آہنی گیٹ دوپہر کے بعد بند رہنے لگی تھی ، جس کی وجہ سے روجر کے
تجارتی پڑوسی تجسس میں مبتلا ہو گئے ۔ چائینیز ریستوران کا باورچی اکثر ایپرن (apron) میں ہی باہر آکر گیٹ کی کھڑکیوں سے جھانکتا
جہاں اسے صرف کتے کے بے چین جبڑے ہی دکھائی دیتے۔ فربہ دست شناس (palmist) ، اس انخلاء کے انتظار میں ہے جو یقیناً
وقوع پذیر ہوجائیگا جب زمیندار ، جو کئی سالوں سے لاوارث جائیداد کے مسلہ میں
پھنسا ہوا ہے ، یہاں پہنچ جائیگا ۔ وہ فیصلہ کر سکتا ھیکہ کیا شاندار اور خوشحال
حالات ہوسکتے ہیں اگر اس دست شناس کی سڑک کے سامنے رکھی جھاڑو کی الماری ، اچھی
نیت کے ساتھ مقفل گیٹوں کے سامنے رکھ دیا جاے تاکہ وہ لعنت جس کی پیشین گوئی کی
گئی تھی وہ پوری ہو جاۓ ۔ ویسے روجر اور دست شناس
کے درمیان کوئی ہمدردی اور خلوص کا رشتہ تو نہیں تھا ، کیونکہ وہ پراسرار یا مافوق
الفطرت اور فحش نگاری سے سخت نفرت کرتا تھا ۔ اور اس کی نظر میں ، دست شناس
نے دونوں خصوصیات کو اکٹھا کیا ہوا ہے ، اپنے سیاہ بالوں کی کنڈلی اور
التجائی انداز میں بار بار آوازیں دیکر راستہ سے گذرنے والوں کو اپنی
طرف متوجہ کرنا ۔
لیکن جلد ہی روجر
ٹیکسی میں چلا آتا ہے ، اور ٹیکسی سے کتابوں سے بھرے ہوۓ کئی تھیلے نکل آۓ جو وہ دیوالیہ
ہو چکے اپنے مد مقابل (hole- in -the- wall )سے خرید لایا تھا ۔ گیٹس بند کردی گئیں ،
کٹوتی کی ٹوکری کھینچ کر فٹ پاتھ پر رکھ دی گئی ، اور بدقسمت ، طنزیہ انداز میں
دست شناس نے دیکھا کہ دی پلئیڈ کا Mostly Mozart poster دوبارہ جی اٹھا ۔ پتلی جلدیں شام
کی روشنی میں سو گئیں۔ اور “ High Renaissance “ اور “ The History of Egyptian Art “ جیسی بڑی جلدیں ایک بار
پھر ۱۱
نمبر کی بس کے گیس سے لگنے والے بریکس کو سن رہی تھیں۔ سب ٹھیک ہی تھا ، سواے روجر
کے جو مختصر مدت کے لیے کتابوں کی قیمتوں میں گراوٹ کی پریشانی سے گذر
رہا تھا ، اور جس کی وجہ اس کی احمقانہ خریداری تھی ۔
_______________________
رو
جر کبھی شراب نہیں پیتا، البتہ بہت سارے سیب ، پیزاس ( pizzas) ، اور ہیم برگرس (hamburgers) کھاتا ہے اور اپنی بجلی سے چلنے والی کیتلی
میں بہت ساری کافی بنایا کرتا ہے۔ وہ اپنی دوکان کے اوپر ایک بوسیدہ عمارت میں بڑے
سے مکان میں رہتا ہے ۔ وہ ان خوش نصیب لوگوں میں سے تھا جن کی پرورش ایک خوشحال
گھرانے میں ہوئی ، اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی ، ہر گرما میں فرانس جایا کرتا
تھا اپنی چھٹیاں گذارنے کے لیے __ اور وہی شخص کے پاس اب اس جسمانی راحت کی کوئی
یادگار باقی نہیں سواے ایک سگ مرغزار (prairie dog ) کے ۔
ایک بار
روجر کا ایک وکیل دوست اسکی دوکان پر آیا اور خواہش ظاہر کی کہ وہ اس کے فلیٹ میں
جا کر اس وائلن (violin) کو دیکھنا چاہتا تھا جو روجر خرید لایا تھا
۔ مہلک گندگی ، وہ دہراتا رہا ، مہلک گندگی ۔ پھر بھی اس نے ، اس جنگجویانہ
بےترتیبی سے ادھر ادھر بکھرے سامان میں اس نے اس عمدہ اور نفیس وائلن ، ایک قدیم
حیرت انگیز پینٹنگ ، کالے دھبوں سے بھری پیتل کی اشیاء ، نایاب کتب ،
تراشی ہوئی لکڑیاں دیکھ لیں : ردی کی دوکانوں سے پچیس سالوں سے خریدا
گیا غیر ضروری سامان ہاتھی جیسی بڑی بڑی گاڑیوں میں لاد کر لانا ، اور بالآخر
انھیں ٹھکانے لگا کر بھلا دینا ۔ اس وکیل نے باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور اس
نتیجہ پر پہنچا کہ روجر کبھی بھوکا تو نہیں رہیگا ، البتہ کسی زنگ آلود
کیل پر قدم رکھ کر ضرور مر جائیگا ۔
روجر کے اطراف اس کا کتا
اپنی خوابیدہ وضع پر توجہ مرکوز کیے ہوے ، اور اس کی مؤرینس (Maureens) اور لویسیس ( Loises) اپنی غیر مرتکز خوابیدہ بھاری
آنکھوں کے ساتھ اس کے اطراف ہوتے ہیں۔ روجر کی اپنی دوکان
ہے جہاں وہ اپنا جاگتا وقت گذارتا ہے ، اور ختم ہونے پر وہ آرام کرنے کے لیے اوپر
چلا جاتا ہے ، جیسے کوئی کسان غروب آفتاب کے ساتھ ہی اپنی جھونپڑی میں واپس آرہا
ہو ۔ شائد وہ لکڑی کے تختہ پر بھیڑ کی کھال کا بنا گرم لحاف اوڑھ کر ، ناقابل یقین
اندھیرے میں سوجاتا ہے ، جہاں یہ تصور کیا جا سکتا ھیکہ اس کی روشن ،دن والی
مسکراہٹ اس جگہ سارے انتشار اور بے ترتیبی میں چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ، رات
میں استعمال کیے جانے والے ہلکی روشنی کے بلب(bulb) کی طرح۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ _____
اس کے اندر کا تقسیم کار مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ ایک دوستانہ
منتقلی کی صورت میں جاری رہا ، اور اس کی قناعت پسندی میں وہ جس حال میں
ہے اسی انداز میں چلتا رہا ، قیمتوں کو بڑھانا جیسے ہی کرایوں میں
اضافہ ہو ، سڑک کی ہواؤں کو روکنے کے لیے ، خریداری کے تھیلوں کو مال غنیمت سے
بھرنے کے لیے ، اور فروخت کی لیے یقینی طور پر بے چینی اور الجھن کو
محسوس کرنا ۔ اس کے والد نے کافی پیسہ رکھ چھوڑا تھا لیکن روجر نے کوئی حساب کتاب
کو قائم رکھنا مناسب نہیں سمجھا ۔ بجاۓ
اس کے وہ اس بات پر فخر کرتا رہا کہ اس کی ماں چھیانوے (96) سال کی ہے ، اور اپنی
جائیداد کا صحیح استعمال کرتی ہے ، بیمہ ، اور آہستہ آہستہ گھاس چرتے ، قابل ستائش
جانوروں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔
_____________________
اچانک دریا کی طرف سے آنے والی تیز ہواؤں نے ہفتہ کی رات کا پڑا کوڑا
کرکٹ بکھیر دیا ۔ اخبار ، مٹھائیوں کے ملفوف اوراق ، تمباکو کے پتے ،
اور سڑک کے کنارے رکے ہوے پانی میں سمندر کے مد و جزر سے متاثر چاند کی روشنی میں
ہلچل ہونے لگتی ہے ۔ کتابوں کی دوکان خالی ہوجانے پر روجر نے ملے جلے
احساسات کے تحت ، اس طویل جشن کے اختتام کے دوسرے دن ، ایک گہری سانس لی ۔ وہ
لوئیس کو ہدایت دیتا ھیکہ ، سڑک کے دوسری طرف جا کر ، ساری رات کھلی رہنے والی
پورٹو ریکن (Puerto
Rican) کرانہ کی دوکان سے مکئی کا دلیا ( cornflakes) لے آے ۔ سڑک کے دوسری جانب جانے کے متعلق
کچھ غیر یقینی انداز میں وہ دیکھنے لگی لیکن پھر پانچ ڈالر کی نوٹ لیکر ، کاروں کے
درمیان تیز تیز جانے لگی کوئی صدیوں پہلے سڑک پر جھاڑو
لگانے والی کی طرح جو چوراہے پر ٹریفک کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام میں
مصروف ہوا کرتی تھی۔
روجر نے بتایا کہ
اس نے فنون لطیفہ میں تعلیم حاصل کی ہے ۔ اور پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوے جہاں ان
گنت کمروں سے آنے والی روشنیاں زرد تاروں کی طرح جھلملا رہی تھیں، روجر ایک لمحہ
کے لیے سحرزدہ سا ، قیاس آرائی کے انداز میں بہتا چلا جاتا
ہے ۔ ان کمروں میں ، اس نے بتایا کہ اس کے خیال میں ہر نیند سے اونگھتے ہوے دماغ
میں ناقص قسم کے حسابات چل رہے ہوتے ہیں ، ہندسوں کی جمع اور تفریق ، اسی جگہ کو
فروخت کردینے کا خواب جس پر بستر رکھا ہو اور اس پر سونے والے کا
دماغ بے چینی سے ریاضی کے دھندلے پن میں پڑا ہوا ہے ۔ اس نے غور کیا کہ
لوگ سڑک پر اچانک مڑ جاتے ہیں جیسے کہ مستقبل میں آنے والے انکم ٹیکسیس بہت قریب
آچکے ہوں اور جیب کتروں کی طرح کوٹوں (coats ) کے بہت قریب پہنچ کر تلاشی
لینے کی کوشش کر رہے ہوں ۔
لوئیس واپس آتی ہے ، تاریک کھڑکی
کے سامنے گیٹ کے کھلنے کی آواز آئی ، اور جیسے ہی وہ عمارت کی سیڑھیاں چڑھنے لگے ،
روجر نے اپنی تاریخی محویت کو ختم کردیا۔ وہ جو اندر بیٹھ کر گنتی نہیں کر رہے
ہوتے ہیں ، اس نے کہا ، وہ باہر انمٹ سیاہی سے صاف دیواروں پر نشان لگا رہے ہوتے
ہیں ۔ شب خیر ، شب خیر ۔
___________________
کچھ
دنوں بعد ، دوپہر میں روجر کسی ہنگری (Hungarian) خاتون کو سمجھا رہا ہے جو بائیس سال سے
اکیلے ڈرائی کلیننگ (dry_
cleaning ) کا کاروبار سنبھالے ہوے تھی اور اب اسے وہ جگہ خالی کرنی ہوگی
کیونکہ مالک اس عمارت کی تصوراتی شیشے کی تزئین و آرائش کروانا چاہتا ہے جس سے اس
علاقہ میں اس کی شناخت میں اضافہ ہو جائیگا ، جس کی اس علاقہ میں بڑی توقعات تھیں۔
روجر کہہ رہا تھا : ہم بے زمین کسان ہیں ، اور یہی ہم ہیں ۔ صدیوں تک زمین کو
جوتتے رہتے ہیں اور پھر سینٹ پیٹرسبرگ (St. Petersburg) سے ایک پیغام رساں آکر کہتا
ھیکہ اس کا مالک اس زمین پر لوہے کی چیزیں بنانے کا کارخانہ قائم کرنا
چاہتا ہے ۔
اس ڈرائی کلیننگ
والی خاتون نے بتایا : مسٹر سپیگل ( Mr. Spiegel ) سینٹ پیٹرس برگ میں نہیں رہتا بلکہ بے
ریج ( Bay
Ridge ) میں رہتا ہے ۔
_____________________
روجر ، ایک گھریلو مکھی کی طرح ملنسار اور خوش مزاج شخصیت
کا مالک ، لیکن وہ کبھی اپنے دوستوں کے گھر کھانے پر مدعو نہیں کیا جاتا ، حالانکہ
وہ فنون لطیفہ سے واقف ، اپنی وضع کے اعتبار سے معاشرتی طور پر ایک غیر
روایتی شخص ہے۔ اپنی سماجی ضرورتوں کے لیے اس نے کچھ بھی جمع نہیں کیا ، لہٰذا وہ
کسی چیز کی گہرائی میں پہنچنے کی بجاے ، جس کے لیے اس کی
شخصیت موزوں بھی نہیں ہے ، کسی پھولوں والی جھاڑی سے گذرنے کو ترجیح دیگا ۔ زندگی
میں آنے والے غیر معروف راستوں نے اسے جکڑ رکھا ہے ، یہاں تک کہ اس کے
دماغ کو قید کر لیا ، اور ایسی صورت میں بہت ممکن ھیکہ یہ سوچا جاۓ کہ اس کا اطمینان دراصل
ایسے کاموں سے آتا ہے جیسے کبھی برتنوں کو سلیقہ سے نا جمایا
جاۓ ، نا اوون ( oven) کو دیکھا جاۓ ، نہ ہی مشروبات تیار کیے جاٰئیں ،
نہ برف تیار کی جاۓ ، نہ کافی کے پیالوں کو
تیار رکھا جاۓ اور نہ ہی میز اور کرسیوں
کو ترتیب سے رکھا جاۓ ۔ اور اس کا شوق تجسس تخفیف
اسلحہ سے مطمئین ہوتا ہے __ غیر مضر ، مطمئین ، بے رعونت ، گہرائی کی بجاے چوڑائی ۔
یہ ایک قسم کی سریع الاعتقادی ، سازگار تجسس ، جس نے تپش کی طرح اسے ہر طرف سے گھیر
رکھا ہے ۔
ناموں کے
تعلق سے اس کی یادداشت غیر معمولی ہے ۔ اور یہ نام وہ روزنامہ ٹائیمس (daily Times) سے اکٹھا کرتا ہے ۔ مصوروں کے نام ، بلند
آواز میں گانے والی خواتین کے نام ، بائیں بازو اور دائیں
بازو کے حامیوں کے نام ، قاتلوں کے نام ، معماروں کے نام ، فلم ڈائریکٹروں کے نام
، اور ان سب سے بڑھ کر مصنفین کے نام ان کے خطابات کے ساتھ ۔ یہ سارے نام اس کے
ذہن میں پڑے اس کو دھندلا رہے ہیں ، کچھ اس طرح سے جیسے اس کے فلیٹ میں حاصل کردہ
چیزیں کمبل میں لپٹی پڑی ہوتی ہیں ۔ اس کی مردہ اور زندہ
روحوں کی فہرست، جیسے کہ سکوں کا پینیز (pennies ) میں تبدیل ہونا ، نکل nickle ، اور عظیم شخصیات کے پیسے اکثر گفتگو پر
منحرف اثر ڈالتے ہیں ، اور تمام شناختی معلومات کے باوجود ،جیسے کہ یہ ہیں، تبادلہ
کی شرائط پر اتفاق نہیں کیا جا سکتا ۔
گمنام شخصیات ، وہ ماضی کے کامیاب لوگ جم چکی دھول کے نیچے سو چکے ہیں
، وہ اب روجر کے پراسرار شناخت کے الارم سے خائف ہو گئے ہیں۔ وہ ایک طرح کی
شرمندگی کے ساتھ جاگ جاتے ہیں ، خوف زدہ سے کہ شائد انھیں غلطی سے اس
ڈھیر سے اٹھا لیا گیا ہو ۔
کیا تم نہیں ہو __ ، __ کے
مصنف ؟ روجر مکمل شائستگی کے ساتھ پوچھتا ہے ۔
تم نے کیسے مجھے پہچانا ؟
اور اس پر روجر صرف یہی
کہہ سکتا ھیکہ سچ تو یہ ھیکہ وہ نہیں جانتا ۔ اور وہ اس کی گہری نگاہوں کے بوجھ کو
سہنے کے لیے تیار نہیں ہے ، اور ایک عمیق سلام پیش کیا
گیا اس منکسرالمزاج ، شرمیلے اور کچھ مغرور شخص کو ۔
_____________________
دی پلئیڈ کے پیچھے یہ کیسی
آواز ہے ؟ اپنا کام کرنے میں خوش کسی آسانی سے چلنے والی مشین کی آواز
ہو ۔ یہ روجر ہے اور اس کی عظیم توانائی جو اسے دوستانہ ، صحت مند اور پرسکون
انداز زندگی سے حاصل ہوتی ہے ۔ دوکان کے پچھلے حصہ میں میز پر ہونے
والی بے حساب مشقتیں ۔ دراصل روجر متاثر کن رفتار سے ٹائیپ کیے جارہا ہے ، جیسے
خوداعتمادی کے ساتھ کسی سے مقابلہ کررہا ہو ، کسی عدالت میں بیٹھی چوکنا
اسٹینوگرافر ( stenographer ) کی طرح۔ اس کے پیچھے ، صاف، سیاہ جلدوں
میں تیرہ (۱۳) ناول
سجے ہیں جو روجر نے ٹائیپ رائیٹر پر لکھے ہیں۔ ڈنر سے کچھ پہلے جب وہ سستی محسوس
کرنے لگتا تب وہ کچھ دیر کے لیے ، اس محنت کے دوران سیدھا بیٹھ جاتا
تاکہ اپنی پشت کی حفاظت کر سکے ۔ اس کے قریب رکھی کافی ٹھنڈی ہوجاتی ہے
، اور چیز برگر ( cheeseburger) کاغذ میں لپٹا انتظار کرتا رہتا ہے ۔ کلینگ
، کلینگ ، کلینگ ! اس کی موٹی ، مضبوط انگلیوں سے نکلنے
والی آواز اونچی ہونے لگتی ، پرمسرت کلینگس (clangs) ۔ جیسے ہی کاغذ مشین میں جاتا ہے ، ایک قسم
کی کھڑکھڑاہٹ کی تال پر اسے خوش آمدید کیا جاتا ہے ، اور فوری ، تربیت یافتہ موڑ
اور وہ بہت خوشگوار تیزی کے ساتھ باہر ، اور دوسرا کاغذ اندر لڑھک جاتا
ہے ۔ خالص خوشی سے روجر کا جسم لڑ کھڑانے لگتا جب عمدہ اور مکمل طور پر
ٹائیپ کردہ صفحات کا ڈھیر لگ جاتا ہے ۔ کیا خوشی ہے ہندسوں میں: باب ۷ ، صفحات ۲۱۰ ۔
صفحات چلے آتے ہیں جیسے سیدھی طرف
رکھے فہرست کارڈس (index
cards) سے فون کیا گیا ہو ، جو ان کرداروں پر مشتمل ہیں جو پیغامات
بھجوا رہے ہیں ، اور جن کی روجر نے اپنے عمدہ
مسودہ میں خاکہ نگاری کی ہے ۔
اس کے
ابتدائی کام سے : ڈسمنڈ (Desmond) ،۳۲ ،
O.S.S. میں ، یوروپی محاذ پر ، دوسری جنگ عظیم ۔
وہ انگریز ہے ، لیکن میلیسا (Melissa) سے شادی کرنے کے بعد وہ امریکی شہری ہو گیا
، پوری طرح سے بوسٹن (Bostonian ) پس منظر میں ۔ البتہ متوقع
پیچیدہ صورتحال میں یہ دونوں نا قابل یقین الجھن میں ملوث تھے ۔
حسابات یکجا کرنے والی بڑی کتابیں ___ کیونکہ وہ ایسے ہی نظر آتے ہیں
___ وہ حساب کی کتابیں جس میں ناقابل فہم انداز میں کچھ بھلاۓ جا چکے کاروباری معاملات
کے اعداد و شمار کو نوٹ کیا گیا ، جس میں تباہی کی سازشوں کی تخلیق دیکھی جا سکتی ہے
، کینسر کی سازشیں ، مشہور شخصیات کو بدنام کرنے کے بارے میں سازشیں، علاقائی سازشیں
، بین الاقوامی سازشیں۔ لیکن وہاں ان ڈھیر ساری ، اختراعی پیش قدمی کرنے والی سیاہ
جلدوں میں جدید اور تجرباتی خیالات یا کاموں سے متعلق کوئی ذکر نہیں ہے
، جبکہ جدیدیت تو کتابوں کی الماری کے لیے فخر کا باعث ہے ،
جو مالک کی تسلی کا باعث بھی ہے ۔ شدید اور پرجوش ٹائپنگ ___ اتنے شاندار انداز
میں جیسے کسی سیاسی نظام کو غیر واضح طور پر جاری رکھتے ہوے دوبارہ
توانائی بخشی جاۓ ۔ کرارے کاغذات کا ڈھیر
اکثر اوقات لفافوں میں پہنچایا جاتا ہے ، اور واپسی کسی حوصلہ شکنی کا سبب نہیں بنتی
۔
فرانسیسی
اسکالر ، تنہا اور خوفناک حد تک گھمنڈی اور خود پسند ، مالیخولیا کا شکار ، کچھ
فرانسیسی باوقار ادب پاروں کے متعلق پاگل پن کی حد تک ناراضگی اور غصہ لیے ، جیسے
فرانسیس پانزے (Francis
Ponge ) کی شاعری اور ایمِل چوران (Emil Cioran) کے مضامین ، اکثر کہتا ہے : یہ پراگندہ
ٹائپنگ میری سمجھ میں تو نہیں آتی ۔ یہاں پر نہ شہرت کی امید ہے ، نہ دولت کی اور
نہ ہی اشاعت کی ۔ اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جسے جانا جاۓ ۔
اور اس نے
ایکبار روجر کے بارے میں کہا کہ جب وہ مایوسی کی کیفیت میں اپنے ٹائپ
رائٹر کی کیز ( keys) پر جیسے حملہ کرنے کے لیے تیار تھا ،
سوانحی انداز میں کچھ کام کرنے کا وہ منصوبہ بنا چکا تھا ، لیکن ایک تکلیف دہ دخل
اندازی ، ایک قسم کی سختی ، فالج نے روجر پر حملہ کر دیا جب وہ ایک
درجن سے کچھ ہی زیادہ صفحات کو ٹائپ کر سکا تھا ۔ بڑی افسردگی کے ساتھ روجر نے
اپنی قابل اعتماد انگلیوں سے اور وفادار انجن (
ٹائیپ رائیٹر ) سے درخواست کی ، لیکن انھیں آگے بڑھنے کے لیے مجبور نہیں کر سکا ۔
اور آخر اس نے کہا : “میں “ میرے لیے نہیں ہے ۔ کاغذ باہر آیا ، سیاہ چمڑے کے غلاف
سے ٹائپ رائٹر کو ڈھک دیا گیا ، شکست زدہ سنجیدگی کے ساتھ __ تدفین۔
___________________
ڈسمبر میں دی پلئیڈ پریشان کن
واقعات سے متاثر رہا ۔ ماؤرین اچانک ٹراۓ (Troy) سے واپس آجاتی ہے ایک خوبصورت انداز میں
اپنی خاموش اور پرسکون آنکھوں اور چھوٹے خم دار بالوں کے
ساتھ ، ہندوستانی سوتی کپڑے سے بنے اسکرٹ کو خوش اسلوبی سے
پہنے ۔
ابہام ، روجر کہتا ہے۔
(Sprung, Roger says. )
اب ماؤرین ، لوئیس کے
ساتھ ، جو خود بھی مکمل خوبصورتی لیے ہے ، دوکان کے پچھلے حصہ میں
بیٹھی ہے ، اگر کسی وجہ سے بے ترتیبی کا شکار ہو جائیں تو ان کے پاس
سواے نئے مہنگے ، ہلکے نیلے چمڑے کے جوتوں کی جوڑی کے جن پر
گلابی گلاب مخصوص انداز میں جڑے ہوے ہوں ، کچھ نہیں رہ جائیگا ۔
یہ دونوں شائد روجر کی بیٹیاں ہیں۔ اور وہ ہیں
کون؟ فاحشائیں ؟ وہ اور دل شکستہ بد مزاج جینی (Jenny) نے ، ماؤرین سے پہلے جس کا راج چلتا تھا ،
دیواروں کو تباہ کر دیا تھا ، طاق پر رکھی کتابوں کو مورد الزام
ٹھہرایا ، تیوری چڑھا کر غصہ سے کاغذی جلد والی پرانی نیو ڈائریکشنز (New Directions) اور اینکر بکس (Anchor Books) کے پہلے سو (100) عنوانات کو
گھورتی رہی جنھیں روجر نے ، جو ایک مکمل ایمان دار سردار تھا ، اکٹھا کیا تھا
۔
جینی ، چالیس کی دہائی میں
یوگو سلاویہ (Yogoslavia) سے روجر کے پاس ایک پیغام کی
طرح آئی تھی ____ (A
message in a bottle) ——— وہ یوگوسلاویہ ( Yugoslavia) سے جہاں وہ پیدا ہوئی تھی ،
تیرتی ہوئی ، لندن پہنچی اور وہاں اس نے مختصر سے وقت کے لیے روجر کے رشتہ
کے بھائی سے شادی کی تھی ، اور پھر نیویارک ، اپنے ہاتھ میں دی پلئیڈ
کا پتہ لیے پہنچی ۔
جینی واقعی ہے کہاں
؟
نیو جرسی (New Jersey ) ، روجر نے بتایا ۔ رشتہ دار ۔ سرب لوگ (
سربیا کے باشندے ) پرانی زبانی روایات سے آنے والی لوک کہانیاں سنارہے تھے۔
اس کا کوئی بھی دوست یہ
قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ھیکہ ماؤرین یا لوئیس میں سے کوئی بدکردار ہے ۔ روجر
کی خوش طبعی اور زندہ دلی کی وجہ سے یہ بات ناقابل تصور ہے ۔ ایسے کسی
معاملہ میں روجر کی بے عیب خصوصیت کا بظاہر کوئی داخلہ نہیں۔ اپنے تمام تجسس کے
لیے وہ کبھی تجزیہ اور تفصیل کی طرف مائل نہیں ہوتا ، اور جن کے بارے میں وہ متجسس
ہے وہ سفر کرتی ہوئی آنے والی اشیاء کی طرح اس کی نظروں کے سامنے آجاتے
ہیں ۔ یہ ایسے ہے جیسے وہ اوپر دیکھے اور کہے : زرد دھاریوں کے ساتھ وہ نیلا ہے
اور یہ سرخ اور سیاہ ہے ، سواۓ اس ظالم جینی کے ۔ سارنگی
نواز (Violinist) کا خیال ھیکہ شائد وہاں کوئی
معاشقہ چل رہا ہے ۔
اور وہ ایسے کیوں سوچتا ہے ؟ صرف
اس کی فرسودہ بد مزاجی کے لیے ، اس نے جواب دیا ۔
دونوں لڑکیاں ، ماؤرین اور لوئیس
بالکل بھی دوستانہ تعلقات نہیں رکھتی تھیں ، اور اس چھوٹی سی دوکان کی
کافی بڑی جگہ گھیرے بیٹھی تھیں ۔ نا وہ کسی قسم کی تبدیلی میں مدد
کررہی تھیں اور نہ ہی عنوان کے وجود میں کوئی مشورہ ، اور نہ ہی چھپنے کے لیے تیار
کتابوں کے کچھ دلچسپ صفحات کو کھول کر پڑھنے کی کوشش کی ۔ روجر خود ہی صبح اور
شام صفائی کرتا ، اکثر غلط بھی کردیا کرتا ۔
پھر کوڑا کرکٹ سے بھرے بڑے بڑے پلاسٹک تھیلے باہر فٹ پاتھ
پر رکھ آتا ۔ دو لڑکیاں ، چھے بھی ہوسکتی تھیں ، اور یہ بڑھتی ہوئی تعداد نے روجر
کو دماغی طور پر اس مقام پر پہنچا دیا کہ اس کی ذہنی کیفیت اس کے لیے غیرمعمولی بن
گئی ، ناخوشگوار اور غصہ کی کیفیت ۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ایک غیر متوازن صورت
حال اس سے کچھ مطالبہ کر رہی تھی ، لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ یہ ‘کچھ ‘ کیا ہوسکتا
ہے ۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ بد قسمت تھیں
یا ان کے پاس گھر یا پیسہ نہیں تھا ، وہ ایک آہ بھر کر ،ٹھنڈی سانس لیتے
ہوے کہےگا ۔ وہ اپنا جملہ دہراتا رہا ، اور حالانکہ لڑکیاں کچھ ہی فٹ
کے فاصلہ پر تھیں ، لیکن ظاہر ایسے کررہی تھیں جیسے انھوں نے کچھ سنا ہی نہ ہو
۔
دونوں لڑکیوں کی پرورش
دراصل ایسے خاندانوں میں ہوئی جو خود ہی الجھے ہوے تھے ۔ انھیں پیسے بھی وصول ہوا
کرتے تھے اور خطوط بھی ۔ حوصلہ افزائی سے بھرے خطوط ، شکرگذاری کا اظہار کرتے ہوے
خطوط بھی کہ انھوں نے دلکش اور پرکشش انداز میں نیو یارک شہر کو اپنا
گرویدہ بنا لیا کہ وہ اپنی زندگیاں آگے بڑھائیں۔ ان کے آبائی
شہر مایوسی اور تنگی کے پیش نظر ترقی کے لیے موزوں نہیں تھے
۔ لوئیس نے بہت جلدی محسوس کر لیا تھا کہ اس کے چھوٹے سے شہر پیٹس برگ (Pittsburgh) میں کچھ ہونے والا نہیں ۔ دونوں
کی ملاقات ایک خانگی سینیٹوریم (private sanatorium) میں ہوئی اور دونوں معالجاتی
شہر نیو یارک چلی آئیں ، اور وہاں وہ پلئیڈ مریض خانہ (Pleiade hospice) پہنچ گئیں ۔ اور یہاں وہ پرامید
تھیں کچھ نہ کچھ ضرور بن جائیگا ۔
بہت زیادہ گنجان آبادی میں روجر
سانس لینے کے لیے ہانپنے لگا ، اس کی پرسکون سانس جیسے کہیں کھو گئی تھی اور وہ
اسے ڈھونڈ نہیں پارہا تھا ۔ مال بردار بڑی سی گاڑی اس کے راستہ میں رکی
کھڑی تھی ان تمام ذرائعوں کو روکتے ہوے جن سے روجر قدرت کی بخشی ہوئی نعمتوں کو
ہاتھ بڑھا کر حاصل کر سکتا تھا ۔ اور اسی وقت اس نے دیکھا کہ دونوں خاموشی سے اس
کی دوکان کے اطراف ارضی منظر کو گھورے جارہی تھیں ، اور نرمی کے ساتھ اس نے مشورہ
دیا : شوُ ! آگے بڑھ جائیں ۔
ہم جڑواں نہیں ہیں ، ماؤرین نے
جواب دیا۔ لوئیس کو ٹہلنے دیں۔
____________________
کرسمس تک دی پلئیڈ تنہائی کا شکار رہا ، جب
لوئیس کے دل میں چھٹیوں کے جذبات ابھرنے لگے تو وہ ایک دن کتابوں کی دوکان اور
اپارٹمنٹ ، دونوں چھوڑ کرپٹس برگ (Pittsburgh ) چلی گئی ۔
ماؤرین نے بتایا کہ وہ واپس نہیں آ ئیگی
۔پتہ یہ چلا کہ لوئیس کا بھائی دی پلئیڈ کے سامنے اوپر ، نیچے چلتا ہوا اندر داخل
ہوا ، پرانے مکان کی مشکل سیڑھی کو حیرت سے کسی جاسوس کی
طرح دیکھتے ہوے جیسے کسی کیس کی اسٹڈی کررہا ہو ، روجر ،
ماؤرین ، کتا ، غیر مہذب اور فیشن ایبل صارفین ، اور پھر اس نے طۓ کر لیا کہ لوئیس کی زندگی
کے لیے یہ سب امیدافزا نہیں ہیں ۔ کرسمس کی چھٹیوں کا بہانہ بنا کر ماؤرین کو آخر گھر
واپس لے گیا ۔
خالی کرسی نے دوبارہ یقین
دلوادیا ، اور پھر ایکبار روجر کے دل میں امید نے جگہ بنا
لی اور ایکبار پھر اس کی مستحکم و آرام دہ دھڑکن واپس آگئی ۔ ٹائپ رائٹر دوبارہ
بجنے لگا ______ صبح چار بجے سے شام چھے بجے تک ۔ نیا کلاسیکی ادب وقت
کی ستم ظریفی کے بعد دوبارہ جادوئی طور پر بحال ہو گیا ۔ سطروں کی لہریں بہنے لگیں
اور روجر ان میں تیرتا چلا جا رہا تھا ۔ ۳۶۹
____________________
دی پلئیڈ پر اس وقت کرسمس
منایا جارہا ہے ۔ روجر کے دن اب بلندی کی طرف پرواز کرنے لگے جیسے جیسے وہ روایات
کے مطابق تحفوں کی ٹوکریاں ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کرتا جاتا
۔
افریقہ کے
داستان گو ، لاطینی امریکہ کی رزمیہ نظمیں ، جاپان کی تکلیف دہ ، ناخوشگوار اور
قابل رحم رسومات ، روس میں بیس کی دہائی کی خواتین شعراء ____ انیس سو بیس ( ۱۹۲۰)
کی دہائی
اس کے شوق و جذبات کا زمانہ تھا ، جو اب ایک مقدس میدان جنگ کے علاوہ کچھ نہیں ،
سواۓ مزاروں پر لگی
عظیم سنگی تختیوں کے ۔ خودکشی ، ابتدائی اموات ، تبدیلی ہئیت ، اور ساری دنیا کی زبانوں
کے صرف الفاظ ، الفاظ اور الفاظ ۔ روجر کا سر ، اس کی جھریوں والی ریتیلی
لہروں اور مقدس موسیقی کے ساتھ اس کی پیشانی کے کناروں پر بالوں کی لپکتی
ہوئی لٹیں اوپر اور نیچے ہونے لگتی ہیں ۔
زمین کا وہ ٹکڑا جہاں کبھی
بازار ہوا کرتا تھا ، وہاں اس پرانی پھلوں کی منڈی پر اب مڈل ویسٹ (
یونائیٹیڈ سٹیٹ کے مرکزی حصہ ) کی پچھلی پیش گاہوں سے ، شاہ بلوط کی الماریوں اور
باورچی خانہ کی میزوں کا مزار بنا ہوا ہے ۔ ان پھلوں کا ذائقہ لگتا ہے سڑک پر ہنسی
کا باعث بن رہا ہے ۔
______________________
جنوری میں ، ماؤرین دھیرے دھیرے
ماند پڑ کر غائب ہوگئی ۔ اور جینی کا تاریک ستارہ ، تیوری چڑھاے اور
ماتھے پر بل ڈالے ، بغیر اطلاع کے اوپر چڑھ گیا ۔اس کے تبصرے گولیوں کی طرح پھٹ
پڑے ۔ اس نے ایک تیز رفتار چلنے والی بندوق کی گولی
داغی اور روجر کے بارے میں کہا کہ وہ ایک زہریلا مشروم ( toadstool) ہے ۔
اس کو ایک جھٹکا لگا ،
لیکن کچھ توقف کے بعد روجر کو اپنا مقصد حاصل ہو گیا ۔ وہ ، “چارٹرہاؤس آف پارما”
( The
Charterhouse of Parma ) کے پہلے صفحہ کو یاد کرتے ہوے خوشی سے چیخ اٹھا ، دیکھیں میں
ایک شہ سوار خدمت گار ہوں ( cavalier servente) ہوں ۔
جینی نے آہستہ آہستہ تنبیہ
کے طور پر چند نشانات کو ظاہر کیا ۔ اس کی گھریلو زندگی میں اس کی مشتعل مزاجی کے
غیر صحت مند تناؤ نے اس کے خیالات پر مضر انداز میں حملہ کیا کہ وہ سبق
حاصل کرے ۔ وہ ایک کونے کا رخ کرچکی تھی ، لیکن وہ نہیں جو اسے پکوان یا خانہ داری
کی طرف لیجاتا ہے ۔ حق ملکیت کے مفادات کو حاصل کرنے کے لیے ، وہ ، جیسے کسی نجی
پیمائش کرنے والے آلہ (private radar ) کے ذریعہ ، اپنا
راستہ خود ہی بنا رہی تھی۔ فوری ، ملکیتی ، چمکتی چیزوں کا احساس ۔ اس
کی آنکھیں کتابوں اور ان مجموعوں کا جائزہ ایسے لے رہی تھیں جیسے کوئی گارڈ اپنی
فلیش لائیٹ لیے آدھی رات کو چکر لگا رہا ہو ۔ خون میں ہلچل ،سرما کے
لیے ذخیرہ اندازی کی منصوبہ بندی ،آلوؤں کو تہہ خانہ میں جمع کرنا ، اس کے خون میں
ہلچل مچا رہے تھے ؛ وہ بوڑھی ہوتی جارہی تھی ۔
کبھی کبھی اسے اپنے گھر سے لاۓ ہوۓ پیتل کے اور چاندی کے ٹکڑوں
کا مطالعہ کرتے ہوے دیکھا جاسکتا ہے ، کسی قرض دینے والے کی نظر کی طرح
، ایک مذموم مسکراہٹ اور بے حسی سے کندھے اچکاتے ہوے ۔ اس کی توجہ کی ان
تبدیلیوں پر روجر خاموش رہا ، البتہ اسے کافی راحت اس حقیقت کو جان کر ہوئی کہ وہ کافی
وقت سے بالائی حصہ میں ، امیدافزا گروپ بندی کرتے ہوے ، سامان کو ڈھکیل کر ایک کونہ
سے دوسرے کونہ میں منتقل کررہی ہے ، ہر سوراخ کے لیے مناسب اسکرو (screw ) تلاش کرتے ہوے ، ایک پرانے منحنی موڑ کے
اندر کیسے ایک سنہرے مصنوعی گلاب کے لیے مناسب جگہ بن سکتی ہے ۔کسی
مرمت کی یا ہموار اور چمکدار بنانے کی ضرورت نہیں۔ اس کے موزوں حساب
کتاب میں سب برابر تھے ، اور وہ خریدار اور فروخت کرنے والے کے
درمیان ، ایک ڈراؤنے خواب میں ہونے والی گفتگو میں
مصروف رہی ہوگی ۔ یہاں ایک لا پتہ ٹانگ مکمل شکل میں پڑی ہے
؛ سبز چینی کی پلیٹ پر پڑا وہ ٹکڑا اژدہے کی سرخ
دم کو مکمل کر سکتا ہے ؛ یہ جلد ۴
ہے ، روجر نے ترتیب دیتے ہوے کہا ۔
مارچ کے وسط میں ، ہمارا
وکیل دوست جو وائیلن اچھا بجاتا تھا اور کلیسٹ (Kleist) اور نوالِس ( Novalis) کو پڑھا کرتا تھا ، انتقال کر گیا ۔ اس کی
موت روجر کے نرم دل پر سختی سے اثرانداز ہوئی ۔ روجر نے ماضی کی طرف
پلٹ کر دیکھا تو اسے یاد آیا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے وہ دی پلئیڈ آیا
ہی نہیں تھا ، اور پچھلے سال سے ہی وہ بہت کمزور اور پتلا دکھائی دے رہا تھا ۔
ریورسائیڈ کے گرجا گھر (Riverside
Chapel ) میں اس ہیرو کی موت کا ماتم منایا گیا اور شدید جذبات کے
احساسات کے ساتھ افسوس کااظہار بھی کیا گیا ۔ وہ شعراء جو اس کے دل کے
قریب ہوا کرتے تھے جن کی زندگیاں اس کے عرصہ حیات سے کم تھیں ، یہ ان کے راستے پر
جلد ہی نکل پڑا ، روجر نے غمگین جذبات کے ساتھ روتے ہوۓ کہا ۔
ان یادگار وں میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ اس کی بجاے
ان کامیابیوں کا ذکر کیا جاے جن سے ہم واقف نہیں ، ایک
مختصر خوبصورت بیوی کا اضافہ اور دو دراز قد بیٹیوں کی پیدائش _____۔
روجر کو افسوس ھیکہ انھوں نے اسے صحیح طور پر سمجھا ہی نہیں ۔ روجر اس
بات پر بھی دکھی ھیکہ خراج تحسین پیش کیا جارہاتھا اس کے ساتھ آفس میں ہونے والے
لطیفوں پر ، اس کے ساتھ ہی ٹینس کورٹ (tennis court) پر ہونے والے حادثات پر ، خیراتی عطیات پر
، اور نوجوانوں کے لیے آگے بڑھاے جانے والے مددگار
ہاتھوں پر ۔
__________________
دی پلئیڈ نے ایک ستارہ ، ایک ہردل عزیز
شخصیت کو کھو دیا ، اور گو کہ وہ دامن شب میں گم ہو کر رہ گیا ، لیکن
اس کا سامنا ایک اور موسم بہار سے ہے ۔ روجر خود تازہ معصومیت کے ساتھ مزین دکھائی
دے رہا ہے ، جب وہ بیگونیا (Begonia) کے پودوں کو دیکھتا ہے اور گل چند (gardenias) کے پودوں کو ، اور جبری طور پر کونڈوں میں
لگے گل داؤدی (chrysanthemums) اور یروشلم چیریز (Jerusalem
cherries) کو پھول فروش کی دوکان سے باہر فٹ پاتھ سے نکال باہر کر دیتا ہے
۔ سارا ہفتہ آسمان صاف رہا ۔ لہٰذا اسٹیٹ تھیٹر اور اوپیرا ہاؤس ، دونوں جگہ بیلے
(ballet) ہو رہا ہے ۔ بمشکل کوئی رات ایسی گذریگی جب
کسی مصنف کی تخلیقات کا اعتراف نہ کیا گیا ہو اور آہستہ آوازوں میں منظوری نہ دی
گئی ہو ، جیسے باد نسیم کا جھونکا کان کے قریب سے گذرتے ہوے سرگوشی کرگیا ہو کہ ،
پیارے ، آخر تم یہاں پہنچ ہی گئے ۔
Elizabeth
Hardwick

Comments
Post a Comment