افسانہ نمبر 707 : ایک قدیم مخطوطه || تحریر : فرانز کافکا (چیکوسلواکیہ) || اردو ترجمہ : نیر مسعود (بھارت)
افسانہ نمبر 707 : ایک قدیم مخطوطه
تحریر : فرانز کافکا (چیکوسلواکیہ)
اردو ترجمہ : نیر مسعود (بھارت)
ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے دفاعی نظام میں بہت سی کوتاہیاں
رہنے دی گئی ہیں۔ اب تک ہم نے اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں رکھا تھا اور اپنے روزمرہ
کے کاموں میں لگے رہتے تھے لیکن حال میں جو باتیں ہونے لگی ہیں، انہوں نے ہمیں تنگ
کرنا شروع کر دیا ہے۔
شاہی
محل کے سامنے والے چوک میں میری جوتے بنانے کی دکان ہے۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ جوں
ہی میں دکان کھولتا ہوں مجھے چوک کو آنے والی ہر سڑک کے ناکے پر مسلح سپاہی تعینات
نظر آتے ہیں لیکن یہ ہمارے سپاہی نہیں ہیں۔ بظاہر یہ شمال کے صحرانشین ہیں۔ کسی ایسے
طریقے سے جو میری سمجھ سے باہر ہے، یہ صحرانشین دارالسلطنت کے اندر
گھس آئے ہیں، حالانکہ دارالسلطنت سرحد سے بہت فاصلے پر ہے۔ کچھ بھی ہو، یہ سپاہی یہاں
موجود ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر
صبح ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
جیسی
کہ ان کی سرشت ہے، یہ کھلے آسمان کے نیچے پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ اس لیے کہ انہیں مکانوں سے
نفرت ہے۔ یہ سپاہی تلواروں پر باڑھ رکھنے، تیروں کی نوکیں بنانے اور گھڑ سواری کی مشقیں
کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
یہ
پر امن چوک جس کی صفائی ستھرائی کا ہمیشہ خاص خیال رکھا جاتا تھا ۔ اس کو ان صحرائیوں
نے صحیح معنوں میں اصطبل بنا کر رکھ دیا ہے ۔ کچھ کچھ وقفے کے بعد ہم لوگ کوشش کرتے
ہیں کہ اپنی دکانوں سے جھپٹ کر باہر نکلیں اور کم از کم بدترین ہی غلاظتوں کو ہٹا دیں
لیکن ایسا بھی کم ہو پاتا ہے۔ اس لیے کہ ہماری محنت کا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور اس کے
علاوہ اس کوشش میں اس کا بھی اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں ہم گھوڑوں کی ٹاپوں تلے نہ آجائیں
یا کوڑوں کی مار سے اپاہج نہ ہو جائیں۔
ان
صحرائیوں سے گفتگو کرناممکن نہیں ہے۔ وہ ہماری زبان نہیں جانتے ۔ واقعہ یہ ہے کہ ان
کی اپنی زبان بھی برائے نام ہی ہے۔ ان کا آپس میں بولنے کا انداز بہت کچھ کوؤں سے ملتا
ہوا ہے۔ کوؤں کی تیز کر یہہ چیخ کی سی کوئی نہ کوئی آواز برابر ہمارے کانوں میں آتی
رہتی ہے۔ ہمارا رہن سہن اور ہمارے رسم و رواج ان کی سمجھ میں نہیں آتے اور ان کو انہیں
سمجھنے کی فکر بھی نہیں ہے، اسی لیے اگر ہم ان سے اشاروں میں بات کرتے ہیں تو وہ اسے
بھی سمجھنے پر تیار نہیں ہوتے ۔ آپ ان کے سامنے اشارے کرتے رہیے، یہاں تک کہ آپ کے
جبڑے بیٹھ جائیں اور کلائیوں کی ہڈیاں اتر جائیں، پھر بھی وہ آپ کی بات نہیں سمجھیں
گے کبھی نہیں سمجھیں گے ۔ اکثر وہ طرح طرح کے منہ بنانے لگتے ہیں۔ اس وقت ان کی پتلیاں
پھر جاتی ہیں اور ان کے ہونٹوں پر جھاگ آجاتا ہے لیکن اس سے ان کی مراد کچھ نہیں ہوتی
، دھمکی بھی نہیں ہوتی ۔ وہ ایسا بس اس لیے کرتے ہیں کہ یہی اُن کی فطرت ہے۔ اُن کو
جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، لے لیتے ہیں۔ آپ اس کو استحصال بالجبر بھی نہیں کہہ سکتے
۔ بس وہ کسی چیز پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں اور آپ چپ چاپ وہ چیز ان کے لیے چھوڑ کر الگ
ہٹ جاتے ہیں۔
میرے
یہاں سے بھی وہ بہت سا بڑھیا مال لے چکے ہیں لیکن میں اس کی شکایت بھی نہیں کر سکتا
، اس لیے کہ میں دیکھتا ہوں کہ مثلا ً قصاب ہی بیچارے پر کیا گزرتی ہے۔ جیسے ہی وہ
گوشت لے کر آتا ہے وحشی سارے کا سارا گوشت اس سے لپک لیتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ہڑپ
کر جاتے ہیں ۔ ان کے گھوڑے بھی خوب گوشت کھاتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھوڑا اور
سوار دونوں برابر برابر لیٹے ہیں اور گوشت کا ایک ہی لوتھڑا، ایک اس سرے سے ، ایک اُس
سرے سے بھنبھوڑ رہے ہیں ۔ قصاب کے اوسان گم ہیں لیکن اُس کی اتنی ہمت نہیں پڑتی کہ
گوشت لانا بند کر دے ۔ ہم لوگ بہر حال اس کی مشکل سمجھتے ہیں اور اس کے لیے کام چلانے
بھر روپے کا بندو بست کر دیتے ہیں۔ اگر ان وحشیوں کو گوشت نہ ملے تو نہ جانے وہ کیا
سوچیں ۔ یوں بھی جب کہ ان کو روزانہ گوشت مل رہا ہے معلوم نہیں وہ کیا سوچتے ہوں ۔
ابھی
کچھ دن ہوئے قصاب کو خیال آیا کہ اور کچھ نہیں تو جانور کاٹنے ہی کے جھنجھٹ سے چھٹکارا
پا لیا جائے ، چنانچہ ایک صبح وہ
ایک زندہ بیل لے آیا لیکن ایسا کرنے کی جرات وہ پھر کبھی نہ کرے گا۔ میں اپنے سارے
کپڑوں، کمبلوں ، گدوں میں سر دیئے دکان کے اندر فرش پر پورے ایک گھنٹے تک پڑا رہا تھا
محض اس لیے کہ مجھے مرتے ہوئے بیل کا ڈ کرانا نہ سنائی دے جس پر وہ وحشی ہر طرف سے
ٹوٹے پڑ رہے تھے اور اس کا جیتا گوشت دانتوں سے نوچ نوچ کر کھا رہے تھے۔ خاموشی ہو
جانے کے بہت دیر بعد میں باہر آنے کی ہمت کر سکا ۔ وہ سب کے سب چھک کر بیل کے ڈھانچے
کے ارد گرد پڑے ہوئے تھے جیسے شراب کے پیپے کے گرد شرابی۔
یہی
وہ موقع تھا جب مجھے خیال سا ہوا کہ میں نے حقیقتاً با دشاہ سلامت کو محل کے ایک دریچے
میں کھڑے دیکھا ہے ۔ عام طور پر وہ محل کے اندر والے باغ میں گزارتے ہیں لیکن اس موقعے
پر وہ ایک در یچے میں کھڑے ہوئے تھے یا کم از کم مجھ کو ایسا ہی لگا اور سر جھکائے
دیکھ رہے تھے کہ ان کے محل کے سامنے کیا ہو رہا ہے ۔
آخر
ہونا کیا ہے؟ ہم سب خود سے پوچھتے ہیں۔ ہم کب تک یہ بوجھ اور اذیت اٹھا سکتے ہیں۔ شہنشاہ
کے محل نے ان وحشیوں کو یہاں کھینچ کر بلایا ہے لیکن اب اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا
کہ ان کو واپس کیوں کر بھگایا جائے ، پھاٹک بند پڑا ہے۔ فوجی محافظ جو ہمیشہ او پچی
بن کر باہر نکلا کرتے تھے اب سلاخوں دار کھڑکیوں کے پیچھے رہتے ہیں۔ ملک کی حفاظت ہم
کا ریگروں اور بیوپاریوں پر چھوڑ دی گئی ہے لیکن یہ کام ہمارے بس کا نہیں ہے، نہ کبھی
ہم نے اس کی اہلیت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کوئی نہ کوئی غلط فہمی ہے اور یہی ہم کو تباہ
کر کے رہے گی۔“
English Title : An Old Manuscript

Comments
Post a Comment