افسانہ نمبر 773: ننھے بید کا تحفہ || مصنفہ: فرانسس ٹاورز (برطانیہ) || ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 773: ننھے بید کا تحفہ

مصنفہ: فرانسس ٹاورز  (برطانیہ)

ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)



پہلی شام شارلٹ کا ایک دوست ، سائمن برن کو گھر لے کر آیا۔ وہ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جن کے ساتھ شارلٹ جنگ کے بعد حساب چکانے کی امید رکھتی تھی، اگرچہ ظاہر ہے کہ جنگ کے بعد کبھی حساب چکانے کی نوبت ہی نہ آئی۔ اجنبی شخص دہلیز پر کھڑا ہوا، اس نے کمرے پر ایک نظر ڈالی اور اس کے چہرے پر ایسی غیر معمولی مسرت پھیل گئی کہ سب سے چھوٹی مس "ایوری" کا دل بے اختیار ہلکا سا اچھل پڑا؛ گویا اس کی عقل و ارادے سے بے نیاز، اس کے دل نے خود ہی اپنے جیسے کسی اور دل کو پہچان لیا ہو۔

یہ کمرہ اپنی بلند چھت اور ایڈم طرز کی آتش دان کے باعث خاصا دل آویز تھا۔ چمکتی ہوئی سفید دیواروں پر ہلکے اور دھندلے رنگوں کے عکس بکھرے ہوئے تھے، اور ایک موٹی سیاہ آتش دان کے قالین پر گہرے گلابی رنگ کے خم دار پھول بنے تھے۔ اٹھارہویں صدی کے اس کمرے میں یہ عجیب سا بلقان طرز کا قالین، کسی سمفنی میں بجنے والے ایک شوخ اور معصوم دھن کی طرح، بے ساختہ خوشی اور معصومیت کا احساس پیدا کرتا تھا۔ قالین، اور عظیم الشان پیانو کے ڈھکن پر رکھی ہوئی تصویریں، میز پر بے ترتیب پڑی کتابوں کا ڈھیر، اور آتش دان کے اوپر دھوئیں سے دھندلا سا دکھائی دینے والا ایک مصنوعی قدیم مصوری کا نمونہ، جس کے ساتھ سوسن سفید کی کچھ پنکھڑیاں بھی آویزاں تھیں ، جیسے نیم تاریکی میں ایک مدھم سوالیہ نشان ہو۔سب مل کر کمرے کو ایک عجیب ڈرامائی کیفیت عطا کرتے تھے۔ لِزبی اکثر سوچا کرتی تھی، ’’یہ ایسا کمرہ ہے جیسے کسی اسٹیج کا منظر، جہاں تین بہنوں کی کہانی ابھی کھِلنے والی ہو۔‘‘

سرخ لباس میں شارلٹ اور سبز لباس میں برینڈا کے چلتے پھرتے عکس دیواروں پر ہلکی سی جھلملاہٹ پیدا کرتے تھے، جیسے پانی میں کسی لمحے کے لیے کسی گھنے سبزہ زار کی سرحد کا عکس لرز اٹھا ہو۔

’’پیاری شارلٹ، میں ایک دوست کو ساتھ لایا ہوں۔ یہ ٹوبرک میں تھا۔ جنوبی افریقہ سے آیا ہے اور یہاں کسی کو بھی نہیں جانتا،‘‘ اسٹیفن ایلائٹ نے کہا۔ ’’ابھی ابھی ہسپتال سے چھٹی ملی ہے۔‘‘

’’مجھے بہت خوشی ہوئی!‘‘ شارلٹ نے شگفتہ انداز میں کہا اور اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔ ’’آپ جب چاہیں، جتنی بار چاہیں، یہاں آ سکتے ہیں۔‘‘

اس کی نظریں شارلٹ کے سیاہ، حسین چہرے پر ٹھہر گئیں۔ اس نے کہا، ’’تم نہیں جانتیں کہ ڈرائنگ روم میں ہونے کا احساس کیسا ہوتا ہے۔‘‘

’’میں بخوبی تصور کر سکتی ہوں۔ یقیناً ایسا ہی محسوس ہوتا ہوگا جیسے خدا کا سکون،‘‘ برینڈا نے اپنی نرم، گہری اور ٹھہری ہوئی آواز میں کہا۔ اس کی آواز ان بامعنی اور الہامی جملوں کے لیے جیسے قدرتی طور پر بنی ہوئی تھی جو بے تکلفی سے اس کے ہونٹوں پر آتے تھے۔

وہ بغیر دل کی ذرا سی دھڑکن بڑھائے ایسی باتیں کہہ سکتی تھی جو فرشتوں کی زبان سے نکلی ہوئی معلوم ہوتیں، مگر تعزیت کا ایک خط لکھنے کے بجائے گلابوں پر کئی پاؤنڈ خرچ کر دیتی۔ اس کی سیلو بجانے کی صلاحیت بھی عجیب تھی۔ وہ اپنے ساز سے سننے والے کے دل کو کس گہرائی سے چھو سکتی تھی، جبکہ خود اس سے بالکل الگ تھلگ دکھائی دیتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتی تھی موسیقی کا مطلب کیا ہے، اور ہر وقت موسیقی ہی کے بارے میں سوچتی رہتی تھی؛ وہ اس بات کے بارے میں نہیں سوچتی تھی کہ وہ خود کیسے بجا رہی ہے یا اس لمحے کیا محسوس کر رہی ہے۔ یہی اس کی شخصیت کا ایک بڑا دل فریب پہلو تھا۔

لِزبی خاموش رہی۔ اس کے پاس اپنی ذات کا کوئی ایسا شاعرانہ تصور نہ تھا جسے وہ دوسروں کے ذہنوں پر مسلط کرنا چاہتی۔ تاہم، اس کی اپنی جگہ ایک اہم افادیت تھی۔ وہ سینڈوچ بناتی، کافی تیار کرتی اور خود کو اس وقت گفتگو میں شامل کر لیتی جب کوئی بے تکلف مہمان یہ محسوس کرنے لگتا کہ شاید اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اور بے تکلف مہمان اکثر ایسے ہی ہوتے تھے۔

شارلٹ اور برینڈا کے دوست بھی غیر معمولی ذہانت اور صلاحیت رکھنے والے لوگ تھے؛ موسیقار، فن کار اور ادیب۔ ان لڑکیوں کے بارے میں سب سے سچی بات یہی تھی کہ وہ مسحور کن تھیں۔ ان کی ہر دوسری خوبی اس ایک برتر وصف کے سامنے ماند پڑ جاتی تھی۔ اگرچہ دونوں کی اپنی اپنی شخصیت نہایت نمایاں اور ایک دوسرے سے مختلف تھی، لیکن ایک بات دونوں میں مشترک تھی: چراغوں کی روشنی میں، اپنے ڈھیلے ڈھالے، لہراتے لباسوں میں وہ ایک ایسی لازوال صورت اختیار کر لیتی تھیں، جیسے کسی بھی عہد کی دل فریب عورت کے نمونے کے طور پر کھڑی ہوں۔ وہ کسی جدید لڑکی جیسی نہ تھیں، بلکہ ایسی نازک مخلوق تھیں جو زمانوں کے سفر میں انسانی خوب صورتی کا گلاب، یا اس کے عشق و جذبات کا پیالہ رہی ہو۔

اور ہمیشہ، دوستی کو برباد کرنے والی یہی کشش تھی؛ ان کی چمک، ان کی خوشبو، اور وہ نہ جانے کیا چیز، جو جلد یا بدیر ہر نوجوان کو اپنے جادو میں گرفتار کر لیتی اور اسے دونوں بڑی مس "ایوریز" میں سے کسی ایک کا اسیر بنا دیتی۔

’’پیاری شارلٹ،‘‘ اسٹیفن ایلائٹ نے ہاتھ میں کافی کا پیالہ لیے کمرے میں ٹہلتے ہوئے کہا، ’’مجھے حیرت ہے کہ اتنے نفیس ذوق کے باوجود تم نے وہ تصویر یہاں کیوں لٹکا رکھی ہے! میری عزیز، جیسا کہ میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں، یہ سب بالکل غلط ہے۔ واٹو یہاں چل سکتا تھا، یا فریگونارڈ؛ اٹھارہویں صدی کے اس کمرے کے لیے وہی موزوں ہوتے۔ اور پھر بھی، اسٹیج کے لیے تمہاری سجاوٹ بے مثال ہے! تم تو میری پسندیدہ ڈیزائنر ہو۔‘‘

’’اگر ہم یہ تصویر یہاں سے ہٹا دیں تو لِسبی مر جائے گی۔ یہ نسلوں سے ہمارے خاندان میں چلی آ رہی ہے،‘‘ شارلٹ نے کہا۔

’’اسے ان لوگوں نے چاہا ہے جو اب مر چکے ہیں، اس لیے کہ ان کے لیے یہ تقدس کی علامت تھی، جمالیاتی وجوہ کی بنا پر نہیں؛ اور یہی چیز اسے روحانی اعتبار سے قیمتی بناتی ہے،‘‘ سائمن برن نے دھیمی آواز میں لِسبی سے کہا، جس کے پاس اتفاقاً وہ بیٹھا ہوا تھا۔

لِزبی ذرا سی چونک گئی۔ کنول کے پھول کی موٹی سفید پتیاں اور اس کی سنہری زبان بچپن ہی سے اسے مسحور کرتی آئی تھی، کیونکہ ان دونوں کے امتزاج سے اسے ایسا بالکل نہ لگتا تھا جیسے تمام کنول کے پھول بالکل زمینی اور عام چیزیں ہوں۔ مگر اسے اتنی جلدی کیسے معلوم ہو گیا کہ سفید کمرے میں لگی ہوئی اس تاریک تصویر نے اس میں روحانی اقدار داخل کر دی تھیں۔

اس نے اپنی ماں کو ایک بار یہ کہتے سنا تھا، ’’ہاں، جان! شاید فرشتے کا چہرہ کچھ ایسا ہی ہوتا ہو۔ شاید وہ مس نیٹلٹن سے کچھ مشابہ ہو۔ یہ بھی تو کتنی دلچسپ بات ہے کہ ہمارا کوئی جانا پہچانا شخص ایسا چہرہ رکھتا ہو جسے کسی قدیم مصور نے فرشتۂ جبرائیل کے لیے منتخب کیا ہو! میں تو ہمیشہ مس نیٹلٹن کو ایک نہایت خاص قسم کی شخصیت سمجھوں گی۔‘‘

اس نے سوچا، ’’کچھ یوں لگتا ہے جیسے شاید وہ میری ہی طرح کا آدمی ہو۔‘‘ اگر کوئی اس چہرے کو اس نگاہ کے بغیر دیکھتا تو شاید اسے عام سا ہی سمجھتا۔ ’’اس نے خوف اور تشدد کو جانا ہے، اور حسن کے سامنے وہ بے حد ناتواں ہے،‘‘ اس نے اپنی بصیرت کی ایک جھلک میں خود سے کہا۔

اس شام برینڈا نے ساز بجایا اور سائمن برن نے ایک لمحے کے لیے بھی اس سے نظریں نہ ہٹائیں۔ اپنے لمبے سبز لباس میں، سنہری بالوں کو مکئی کے خوشوں کی طرح گندھا ہوا لیے، وہ اسے جیسے مسحور کیے بیٹھی تھی۔ یا شاید یہ موسیقی تھی جس نے اسے اپنے سحر میں لے رکھا تھا۔

اس رات جب لِزبی سونے کے لیے گئی تو اسے بڑی شدت سے یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید حقیقت میں وہ موسیقی ہی تھی۔ اور اس امید کے پیچھے بھی کیا احمقانہ سی وجہ تھی! اس لیے کہ رخصت ہوتے وقت سائمن نے اس کا بلور سے بنا، ننھا سا بید کا درخت اپنی لمبی، پتلی انگلیوں میں اٹھا لیا تھا۔

’’کتنا ٹھنڈا ہے،‘‘ اس نے کہا، ’’اور پانی جیسا۔ بید کے درخت اور پانی۔۔۔ میں کبھی ان کے خواب دیکھا کرتا تھا۔‘‘

’’صحرا میں؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’جب میں راستہ بھول گیا تھا،‘‘ اس نے کہا، ’’اور پیاس سے حلق سوکھ رہا تھا، اور میں بری طرح خوف زدہ تھا۔‘‘

’’یہ میری سب سے پیاری چیز ہے،‘‘ اس نے کہا۔ ’’یہ سنگِ یشم (جیڈ) اور بلور سے بنا ہے اور ہال میں رکھی لکڑی کی الماری پر کھڑا رہتا ہے۔‘‘

اسے یہ ایک قدیم نوادرات کی دکان میں پسند آ گیا تھا اور اس نے اس پر اپنی استانی کی حیثیت سے کمائی پہلی مدت کی پوری تنخواہ، نہایت بے دریغ انداز میں، خرچ کر ڈالی تھی۔ شارلٹ اور برینڈا کو اس کی یہ حرکت سراسر بے وقوفی بلکہ تقریباً بدتمیزی تک محسوس ہوئی تھی۔ دن کے وقت سورج اور رات کو چاند اس کا ایک حسین سا سایہ دیوار پر ڈالتے تھے۔ وہ یہ وضاحت نہیں کر سکتی تھی کہ جس چیز سے اسے محبت تھی، وہ دراصل ایک بید کے درخت کا وہ تصور تھا جو چینی مصور کے ذہن میں ابھرا ہوگا؛ اس کی چمک، اس کی ٹھنڈک اور اس کا جادو۔ لیکن سائمن یہ بات سمجھ سکتا تھا۔

وہ کئی بار آیا۔ ’’ظاہر ہے،‘‘ لِزبی نے سوچا، ’’آدمی کو یہ گھر پسند آئے گا، کیوں نہ آئے؟‘‘ اس کی قدامت اور سکون، اور شارلٹ کی سلیقے سے سجائی ہوئی پھولوں کی ترتیب، پھر موسیقی اور گفتگو۔ برینڈا اور اس کے دوست اپنے چوکڑی کے سازوں کی محفلوں کے لیے مشق کرتے اور شارلٹ کے دوست فنونِ لطیفہ پر گفتگو کرتے۔ ہر شخص کے لیے یہ نعمت خانہ ایسی جگہ بن سکتا تھا جہاں جنگ کو کچھ دیر کے لیے بھلا دیا جائے۔ لندن کے اتنے قریب ہو کر بھی اس جگہ میں ایک عجیب سی دوری تھی؛ گزشتہ چند برسوں میں اس کے گرد پھیل جانے والی مکانوں کی قطاروں اور نئی آبادی کے بیابان میں یہ جنگل کے اندر چھپا ہوا ایک نخلستان معلوم ہوتا تھا۔ چھٹی پر آئے ہوئے بہت سے نوجوانوں کے لیے یہ ایک پناہ گاہ بن گیا تھا۔

وہ ایسا شخص تھا جس سے بات کی جا سکتی تھی۔ جو چیزیں لِزبی کو ہنساتیں، اسے بھی ہنسا دیتیں۔ کبھی کبھی اچانک ان کی نظریں ملتیں اور دونوں کسی ایسی مضحکہ خیز بات پر خاموشی سے ہنسنے لگتے جس پر کسی اور کی نظر تک نہ گئی ہوتی۔ ایک آدھ بار لِسبی نے اپنے ذہن میں تاروں کے چھیڑے جانے جیسا وہ عجیب احساس بھی محسوس کیا تھا، جب سائمن کا کوئی اتفاقی لفظ یا معمولی سا اشارہ اسے چھو جاتا۔ اسے ایک دھن گنگنانے کی بھی عادت تھی جو ایک عرصے سے لِسبی کے ذہن میں بھٹک رہی ہوتی، حتیٰ کہ کبھی کوئی ایسی موسیقی بھی، جو وہ مدتوں سے نہیں سن پائی تھی، اچانک اسے نیند اور بیداری کے درمیان بالکل واضح طور پر یاد آ جاتی؛ جیسے کسی نے اس کے ذہن میں گراموفون کا ریکارڈ چلا دیا ہو۔

پھر ایک دن برینڈا نے اپنی مخصوص نازنین نزاکت کے ساتھ اس کی دوستی کو اپنے حق میں موڑ دیا۔ برینڈا کے انداز و اطوار سے واقف شخص اندازہ لگا سکتا تھا کہ اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔ جب وہ ذرا بناوٹ کے ساتھ دل لبھانے والی باتیں کہتی، جیسے برف میں ٹھنڈی کی ہوئی گارڈینیا کی کلی کسی کے سامنے پیش کر رہی ہو، اور ایک لمحے اپنی آنکھوں اور مسکراہٹ میں خیرہ کر دینے والی شیرینی بھر دیتی، اگلے ہی لمحے نہایت سرد مہری سے اپنی بھنویں اٹھا لیتی، تو سمجھنے والے کے لیے اس کے دل کی بات جان لینا مشکل نہ تھا۔ وہ(لزبی) ایک ایسی صورتِ حال سے نمٹ رہی تھی جس میں نزاکت اور احتیاط دونوں درکار تھے۔ محبت سر اٹھا چکی تھی، اگرچہ وہ ناپسندیدہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس ننھی سی لو کو بجھنے نہیں دینا تھا۔ چنانچہ ایک لمحے اس پر پھونک مار کر اسے بھڑکایا جاتا اور دوسرے لمحے اسے دبا دیا جاتا۔ کیونکہ اگر یہ شعلہ بھڑک اٹھتا تو سب کچھ ختم ہو جاتا، اور اس کا مطلب اس دل کو روند ڈالنا تھا جس میں وہ جل رہا تھا۔ مگر جنگ کے زمانے میں کوئی ایسا کیسے کر سکتا تھا؟

اس نے کہا، ’’تم جانتے ہو، سائمن خاصا پُراسرار آدمی ہے۔ جب آدمی اس کے ساتھ تنہا ہو تو وہ بڑی دل نشیں باتیں کر سکتا ہے۔ خاموش پانی گہرا ہوتا ہے، عزیزم۔‘‘

ہاں۔ وہ اپنے دل کو کبھی یوں نمایاں نہ کرتا کہ سب اسے دیکھ سکیں۔ لیکن جس شخص سے وہ ایسی ’’دل نشیں باتیں‘‘ کرتا، اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ خود کو ایک ناقابلِ بیان حسن اور لذت میں ڈوبا ہوا محسوس کرے۔

اس رات جب فضائی حملے کا خطرہ ٹلنے کا اعلان ہوا تو سب لوگ باغ میں نکل آئے۔ تمباکو کے پودوں کی خوشبو اس قدر شیریں تھی کہ وہ کسی موجودگی کی طرح محسوس ہوتی تھی، جیسے کوئی برہنہ پری ان کے پیچھے پیچھے چل رہی ہو۔ چاند اتنا روشن تھا کہ سرخ گلاب اپنی سرخی برقرار رکھے ہوئے تھے، جبکہ سفید پھول پروانوں کی مانند جگمگا رہے تھے۔

سب سے الگ کھڑی لِسثبی زمین پر پڑے سائمن کے سائے سے مسحور تھی۔ وہ دیر تک اسے دیکھتی رہی، پھر سر اٹھایا تو دیکھا کہ وہی سایہ آسمان پر چھپا ہوا، دیوہیکل صورت میں پھیل گیا ہے۔ اس منظر نے اس کے اندر ایک عجیب سی سرد لہر دوڑا دی۔ یوں محسوس ہوا جیسے اس خیال کی تصدیق ہو گئی ہو جو کچھ عرصے سے اس کے ذہن میں پل رہا تھا: جو کچھ یہاں، اسی لمحے ہو رہا ہے، وہ کسی ایسی چیز کا آغاز ہے جو اس دنیا کے دائرے سے باہر بھی جاری رہے گی۔ وہ ہمیشہ اس کی پلکوں کے پیچھے موجود رہے گی۔

اس کے بعد وہ ان مواقع کی تلافی کرنے کی کوشش جاری نہ رکھ سکی جب برینڈا حد سے زیادہ کسی اور کے خیال میں اس قدر گرفتار تھی کہ سائمن کو پریشان کرنا اسے ایک طرح کی تمسخر آمیزی معلوم ہوتی۔ لِسبی کے لیے اب بس یہی بہتر تھا کہ وہ اس کی راہ میں نہ آئے۔

لیکن اس کی رخصتی سے ایک شام پہلے، جب وہ الوداع کہنے آیا، تو اسے دروازے تک چھوڑنے وہی گئی۔ اس رات برینڈا غیر معمولی طور پر خوش تھی، ایک طرح کی بخار زدہ شادمانی میں مبتلا؛ اس کا منظورِ نظر عاشق اڑتالیس گھنٹوں کی چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا اور اسے ؛ اس کے سوا کسی اور کی طرف دیکھنے کی فرصت نہ تھی۔ دوسری طرف شارلٹ بھی رچرڈ ہارکنس کے عشق میں پوری طرح گرفتار تھی۔ جب وہ ایک دوسرے کو الوداع کہتے تو غالباً ایک دوسرے کی بانہوں میں جا سماتے۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں یہ بات صاف پڑھی جا سکتی تھی۔

لِزبی کی نظر اس ننھے بید کے درخت پر پڑی۔ اس نے فوراً اسے اٹھایا اور سائمن کے آگے بڑھے ہوئے ہاتھ میں رکھ دیا۔

’’یہ اپنے ساتھ لے جائیے، خوش بختی کے لیے،‘‘ اس نے کہا۔

’’لیکن آپ اسے مجھے نہیں دے سکتیں، مس ایوری۔ یہ تو۔۔۔ یہ تو بہت ہی قیمتی ہے،‘‘ وہ ہکلاتے ہوئے بولا۔

’’خدارا، لے جائیے۔ یہ مجھ سے زیادہ آپ کا ہے۔‘‘

’’آپ کی بڑی مہربانی ہے۔ آپ کی بہنوں نے بھی۔۔۔ آپ سب نے مجھ پر کتنی مہربانیاں کی ہیں۔ میں اس گھر کا خواب دیکھوں گا۔‘‘

’’لیکن آپ پھر آئیں گے،‘‘ لِسبی نے حتی الامکان ہلکے لہجے میں کہا۔

’’میں کوشش کروں گا۔۔۔ اگر جسمانی طور پر نہیں تو روحانی طور پر ضرور،‘‘ اس نے اپنی ٹیڑھی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

اسے ایسی تباہ کن بات کیوں کہنی تھی؟

’’اُدھر دیکھیے، اورین کو۔۔۔ جیسے آسمان پر کوئی خفیہ نقشہ بنا ہو،‘‘ لِسبی نے کھلے دروازے پر کھڑی ہو کر کہا، کیونکہ اس کے پاس اسے تسلی دینے کے لیے کوئی لفظ نہ تھا۔ ’’اوہ، عزیز! وہ سمجھے گا میں اسے لبھانے کی کوشش کر رہی ہوں، شاعرانہ سی ننھی محبوبہ بننے کی اداکاری کر رہی ہوں، کسی طرح اس کے دل تک پہنچنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ مایوسی سے سوچنے لگی۔ ’’کاش برینڈا ایک لمحے کے لیے باہر آ جائے اور اپنے اسی انداز میں ذرا سی محبت سے پیش آئے!‘‘ وہ اسے کسی کے احساسات کے جواب میں اپنے جذبات کا کوئی ایسا نشان دے سکتی تھی جسے سائمن اپنے ساتھ لے جاتا؛ کوئی پراسرار سا جملہ، جس پر وہ دیر تک غور کرتا اور اسے دل میں سنبھال کر رکھتا، جیسے اس نے اس کے ہاتھ میں ایک ننھی سی کنجی رکھ دی ہو جس سے مستقبل کا کوئی بند دروازہ کھولا جا سکتا ہو۔ مگر وہ اپنے ہی کسی نجی آسمان میں کھو چکی تھی، سو سائمن کو بھی بغیر کسی امید کے رخصت ہونا تھا۔

اس نے سر اٹھا کر اورین کے اس دل شکن جِھلمِلاتے حسن کو دیکھا جو اس اذیت زدہ دنیا کے اوپر نہایت پُرسکون اور فاتحانہ شان سے چمک رہا تھا۔

’’کوئی عاشق اسے ایک رمز کے طور پر استعمال کر سکتا ہے،‘‘ اس نے تقریباً زیرِ لب کہا۔ ’’جیسے ابیلارڈ اپنی محبوبہ ہیلوئیز کو اپنے خطوط میں کوئی خفیہ اشارہ دے رہا ہو۔‘‘

اس نے ایک لمحے توقف کے ساتھ اس کی طرف دیکھا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو۔ پھر ایک آہ بھری اور رخ پھیر لیا۔ دروازے کی طرف بڑھ کر جب اس نے مڑتے ہوئے اسے الوداعی اشارہ کیا تو اس کے ہاتھ میں پکڑا ننھا سا درخت ستاروں کی روشنی میں آ گیا اور ہلکی سی نیلی آگ کی طرح چمک اٹھا۔

اس نے کبھی خط نہیں لکھا۔

 

لِسبی، ڈاک چھانٹتے ہوئے، کبھی کبھی حیرت سے ایسے خط کو دیکھتی جس پر برینڈا کا نام لکھا ہوتا اور خط کی لکھائی اس کے لیے اجنبی ہوتی؛ لیکن لفافے کے اوپر درج نام کبھی سائمن کا نہ ہوتا۔

آخرکار جنگ ختم ہوئی تو رچرڈ ہارکنس، جو جرمنی کے ایک قید خانے سے آزاد ہو چکا تھا، شارلٹ کو واپس لینے آ گیا۔ ان کی شادی خزاں میں طے ہو گئی۔

ایک دن شارلٹ نے اپنے لکھے ہوئے خط سے نظر اٹھائے بغیر بے تکلفی سے کہا، ’’اچھا، برینڈا، ایک بات بتانا بھول گئی تھی۔ رچرڈ کہتا ہے کہ سائمن برن بھی اسی اوف لاگ( جرمن قید خانہ) میں قیدی تھا۔ وہ پچھلے سال مر گیا۔‘‘

’’اوہ، بے چارا عزیز! ، برینڈا نے اس میٹھی مگر کھوکھلی آواز میں کہا جو وہ اس وقت اختیار کرتی تھی جب معاشرتی آداب اس سے غم کا اظہار کرنے کا تقاضا کرتے تھے۔ انسان کا دل بھی آخر کتنی بار ایک ہی طرح توڑا جا سکتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آ جائے کہ اس کی دھڑکنیں جذبات سے خالی جسمانی ارتعاش ہوں فقط!!".

وہ پھول سجانے لگی، چہرے پر وہی متعین سا تاثر لیے۔

لِسبی نے کچھ نہیں کہا۔ وہ بازو والی کرسی کے اندرونی حصے میں بالکل ساکت بیٹھی رہی اور اپنے گھٹنوں کو اس طرح بھینچ لیا کہ ان کی لرزش تھم جائے۔

آخرکار اس نے کہا، ’’اتنی موت۔۔۔ انسان یہ سب کیسے برداشت کرے؟‘‘

پھر کسی نہ کسی طرح خود کو کمرے سے باہر لے گئی۔ وہ ہمیشہ ہر چیز کو اپنے دل پر لے لیتی تھی؛ یوں جیسے نامعلوم لاکھوں انسانوں کی اذیت خود اسی کے جسم میں اتر کر اسے تڑپا رہی ہو۔

برینڈا نے کندھے اچکائے۔ ’’لِسبی کے لیے یہ سب کہنا بہت آسان ہے۔ آخر اس جنگ میں اس نے کوئی ذاتی نقصان تو اٹھایا نہیں، ہماری طرح نہیں۔ میرا مطلب ہے، جب کوئی ایسا شخص مارا جائے جو کسی کے عشق میں مبتلا رہا ہو تو بات ہی کچھ اور ہو جاتی ہے، اس میں ایک ایسی دل گرفتگی پیدا ہو جاتی ہے کہ۔۔۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں بہت کچھ سہہ چکی ہوں، اب مجھ میں مزید محسوس کرنے کی طاقت ہی نہیں رہی۔‘‘

’’وہ بے چارے معصوم!‘‘

اس نے آہ بھری اور اپنا چہرہ گلابوں میں چھپا لیا، جیسے ان پھولوں کے ساتھ اپنے غم کا وہ اظہار بھی چھوڑ دینا چاہتی ہو جسے اب وہ باوقار طریقے سے ترک کر سکتی تھی۔ تقریباً یوں لگتا تھا جیسے وہ انہیں سائمن کی قبر پر چھوڑ رہی ہو، تاکہ اس کے بارے میں اس کے خیالات کی علامت بن جائیں؛ وہ خیالات جو ان پھولوں کی نسبت بھی کہیں زیادہ تیزی سے ماند پڑ جانے والے تھے۔

’’وہ پیارا تو تھا، لیکن کچھ احمق سا،‘‘ اس نے کہا۔

شارلٹ نے اپنے کچھوے کی کھال جیسے فریم والے چشمے کے اوپر سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا، ’’کیا اس نے کبھی۔۔۔؟‘‘

’’اتنے واضح لفظوں میں تو نہیں۔ تم سب نے خود ہی یہ فرض کر رکھا تھا کہ وہ میرے عشق میں مبتلا ہے۔ لیکن شاید، آخرکار، اصل کشش تم ہی تھیں، شارلٹ۔‘‘

مگر اس کے لہجے میں ذرا سا بھی شک کا نشان نہ تھا۔

’’یا لِسبی۔‘‘

’’واقعی، یہ خاصا خوف ناک ہے کہ ہم اسے یوں نظر انداز ہی کر دیتے ہیں۔‘‘

شارلٹ نے اپنا خط بند کیا اور چشمے اتار دیے۔ اس کا چہرہ لا بیلے فیرونیئرے کی تصویر کی عورت سے مشابہ تھا، جس پر چشمہ ایک دل چسپ سی بناوٹی نزاکت معلوم ہوتا تھا۔ لیکن برینڈا کے چہرے میں پیئرو ڈیلا فرانسسکا کے پھول جیسی لطافت تھی۔

 

 

لِزبی نے ان مصوری مشابہتوں کو دیکھا تھا اور اپنی بہنوں کو وہ تحفے میں دے دی تھیں۔ مگر کسی کی نظر اس پر نہ گئی کہ وہ خود ایل گریکو کی تصویر 'کرائسٹ ان دی ٹیمپل' کے پس منظر میں سر پر ٹوکری اٹھائے کھڑی کسی تماشائی لڑکی جیسی لگ رہی تھی۔

شارلٹ نے ٹکٹ چپکاتے ہوئے کہا، "بے شک وہ میں نہیں تھی۔ یہ وہ معاملہ ہے جس میں مجھ سے کبھی غلطی نہیں ہوتی۔ ایک عورت ہمیشہ جانتی ہے۔"

"خیر، میں محبت کے معاملے میں اتنی پر اعتماد نہیں ہوں جتنی تم نظر آتی ہو۔ میرا مطلب ہے، میں خود سے یہ کہنے کی عادی ہوں کہ اگر وہ فلاں فلاں کام کرے، اگر اسے یاد ہو کہ پرسوں میں نے کون سی ہیٹ پہنی تھی، اگر وہ ٹیلی فون ڈائریکٹری میں وہ پتہ ڈھونڈنے کی زحمت کرے جہاں میں ٹھہری ہوں، تب مجھے یقین ہو جائے گا۔ لیکن مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے سائمن کو کبھی اس طرح کی کسوٹی پر پرکھا ہو۔ نہ جانے کیوں ہم کبھی اس مقام تک پہنچے ہی نہیں۔ اگرچہ، مجھے یقیناً کچھ شکوک تھے۔"

برینڈا گلاب کے پھولوں کو کمرے کے اس پار لے گئی اور انہیں پیانو پر رکھ دیا، جہاں وردی میں ملبوس نوجوانوں کی بہت سی تصویریں رکھی تھیں۔ اس نے چپکے سے ایک تصویر کی جگہ بدل دی۔ وہ ہیمبرگ کے فضائی حملے میں مارا گیا تھا، اور اب اس کی جگہ مرنے والوں کے درمیان تھی۔ شاید اس کے سوا کوئی دوسرا، جو خود اس کا ذمہ دار تھا، تصویروں کی اس ترتیب سے واقف نہیں تھا۔ اس کے دل میں اس معاملے کے حوالے سے ایک ایسا احساس تھا جس کا وہ دنیا کی کسی بھی شے کے بدلے ذکر نہ کرتی۔ یہ کوئی باقاعدہ توہم پرستی بھی نہیں تھی۔ شاید اس کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا جتنا کہ وہ اپنی کتابوں کو ان کی متعلقہ اقسام میں انتہائی احتیاط سے تقسیم کرتی تھی۔ اسے دو شعری مجموعوں کے درمیان کسی ناول کو ٹھونسا ہوا دیکھ کر سخت الجھن ہوتی تھی۔ موت شاید شاعری تھی، اور زندگی نثر۔ یا پھر اس کے برعکس تھا؟

شادی کی تیاریوں کے ہنگام میں، ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے بھی سائمن برن کے بارے میں دوبارہ نہیں سوچا۔

"لزبی آج کل کچھ عجیب سی، کچھ کھنچی کھنچی سی لگتی ہے،" ایک دن شارلٹ نے کہا۔ "برینڈا، کیا تمہیں لگتا ہے کہ لاشعوری طور پر اسے میری شادی اور تمہاری منگنی کا برا لگ رہا ہے؟ میرا مطلب ہے، بیچاری بچی کے لیے دوسروں کی آنکھوں سے خوشیاں دیکھنا کوئی خاص لطف کی بات نہیں ہو سکتی، جیسا کہ شیکسپیئر بھی کہہ چکا ہے۔" اس نے دھاگا توڑا اور سلائی سے پنیں نکال لیں"....

برینڈا نے ایک کھوئے ہوئے انداز میں اپنے لمبے زرد ہاتھ پر سجی انگوٹھی کی طرف دیکھا، جو ``کریپ ڈی شین`` کپڑے کی اس تہہ پر رکھا تھا جسے وہ سی رہی تھی۔ اس نے کہا، "ہم کتنی ناقابلِ یقین حد تک خوش قسمت ہیں کہ ہمارے دونوں مرد زندہ بچ کر آ گئے۔ جیرالڈ نہیں جانتا کہ وہ کتنا خوش نصیب ہے، کیونکہ اس کی جگہ جان بھی ہو سکتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم، لیکن میرا خیال ہے کہ ایسا ہو سکتا تھا۔ جب وہ مارا گیا تو میں ٹوٹ کر رہ گئی تھی۔ میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ تم لزبی کے بارے میں درست ہو۔ لیکن ہم کر ہی کیا سکتے ہیں؟"

"تم نے دلہن کی سہیلیوں کے لیے جو کاسنی رنگ چنا ہے، بے شک تم اس میں غضب کی خوبصورت لگو گی، لیکن یہ لزبی کے لیے کڑا امتحان ہے۔ خدا جانتا ہے، اس کی رنگت پہلے ہی کتنی پھیکی پڑ چکی ہے۔"

"لیکن میری جان، میں اور کر بھی کیا سکتی تھی؟ ہمارے پاس کپڑا موجود تھا اور کوپن ختم ہو چکے تھے۔ کاش جیرالڈ واپس آ چکا ہوتا تو ہم دونوں ایک ساتھ شادیاں کر کے لزبی کے راستے سے ہٹ جاتے۔ مجھے لگتا ہے جیسے ہم نے اسے دبا سا دیا ہے، بالکل ایسے جیسے دو تیز روشنیاں چاند کی چاندنی کو ماند کر دیتی ہیں۔ بھلا کیا یہ ہماری لزبی کے لیے ایک خراجِ تحسین نہیں ہے؟"

شارلٹ کی شادی ایک سنہرے دن پر ہوئی۔ جب وہ ڈیوڑھی میں اس کا انتظار کر رہے تھے، لزبی نے سوچا کہ برینڈا ہمیشہ سے کہیں زیادہ کسی قدیم اطالوی پینٹنگ جیسی لگ رہی ہے، ایک فرشتے کی مانند زرد اور روشن ، اس کے ذہن میں ایک ناول کی سطریں گردش کرنے لگیں : ( ہم سب اس نیلے افق اور سنہرے پتوں کے لیے بالکل ناموزوں تھے ، بہت زیادہ شوخ، بالکل بہار جیسے دو قبروں کے کتبوں کے درمیان لٹکتے ہوئے مکڑی کے جالے میں شبنم کے قطروں پر ان کے عکس گلابی رنگ بکھیر رہے ہوں)"۔

ایک گھوڑا گاڑی چرچ کے دروازے تک آئی، اور شارلٹ ایک چچا کے بازو میں بازو ڈالے پگڈنڈی پر چلتی ہوئی آئی، اس کی سیاہ آنکھیں نقاب میں سے چمک رہی تھیں۔ وہ اس قدر پروقار اور خود میں مگن تھی کہ انہیں اس سے بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی، بلکہ وہ گھبراہٹ میں ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہوئے بس اس کا لہنگا پھیلا کر سنبھالتی رہیں۔

رچرڈ ہارکنیس قربان گاہ کی سیڑھیوں پر کھڑا تھا۔ لزبی کو اس کے چہرے پر لومڑی جیسی مکاری نظر آئی۔ یہ شارلٹ کی ایک خاص روحانی بصیرت کی دلیل تھی کہ وہ ظاہری شکل و صورت سے دھوکہ نہیں کھاتی تھی، بلکہ ان خوبیوں کو چن لیتی تھی جو اسے درکار تھیں۔ لیکن وہ سائمن کے مزاج کا آدمی نہیں تھا۔ اس نے لزبی کی موجودگی میں کبھی سائمن کا نام نہیں لیا تھا۔ لزبی اس بات پر اس کی شکر گزار تھی، لیکن وہ اسے معاف نہیں کر سکتی تھی۔

اس نے خوفزدہ سی نظروں سے دولہے کے ساتھی کی طرف دیکھا۔ وہ بھی کیمپ میں رہ چکا تھا، لوگ کہتے تھے کہ وہ ایک ڈاکٹر ہے۔ اس کا چہرہ سانولا اور تارک الدنیا لوگوں جیسا تھا، حساس اور اداس۔ انسان کو اس کے راستے سے دور ہی رہنا چاہیے۔

شادی کی تقریب بھی کسی بھی دوسری تقریب جیسی تھی، زبردستی کی خوشی، مایوس کن بے ہودگی، جو نہ بہنے والے آنسوؤں کی طرح ایک خطرناک چمک سے روشن تھی۔ بوتلوں کے کارک کھلے، کیک کاٹا گیا، اور نیک تمناؤں کے جام پیش کیے گئے۔ شارلٹ اپنے سحر سے باہر آئی، اور رچرڈ نے اتنی پرکشش تقریر کی کہ اس کی تمام سہیلیوں کو یہ لگنے لگا کہ آخر کار وہ جان گئی ہیں کہ اس نے رچرڈ میں کیا دیکھا تھا۔

کھڑکی کے پاس کھڑی برینڈا، کیپٹن اولیور سے بات چیت کرنے کی بے حد کوشش کر رہی تھی۔ جب اس کی آواز اس طرح اونچی اور کھنچی ہوئی ہوتی، تو کوئی بھی سمجھ سکتا تھا کہ وہ تھک کر نڈھال ہو رہی ہے۔ اور اس کی آنکھوں کے نیچے وہ ہلکے کاسنی حلقے نمایاں تھے۔ وہ آدمی واقعی مشکل تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس میں عام گپ شپ کی کوئی صلاحیت ہی نہیں تھی۔

"ویسے، کیا آپ کی ملاقات میرے ایک دوست، سائمن برن سے ہوئی تھی؟ وہ ٹینکوں والے دستے میں تھا،" اس نے پوچھا۔

برینڈا، ایسا مت کرو، مت کرو! لزبی دل کے کسی جان لیوا کھچاؤ کے ساتھ بے آواز چیخی۔ اس کا نام کمرے میں پازیب کی جھنکار کی طرح گونجتا ہوا محسوس ہوا۔ اسے لگا کہ یہ آواز ہر سینے کو چیر دے گی۔ اس نام نے برینڈا کو ایک اجنبی بنا دیا تھا۔ یہ بات اس کی سمجھ سے بالاتر تھی کہ وہ اسے محض گفتگو کے لیے استعمال کر سکتی ہے، کہ اس کے لیے یہ کسی بھی دوسرے نام جیسا ایک عام سا نام ہو سکتا ہے۔

لزبی نے کیپٹن اولیور کو چونکتے ہوئے دیکھا۔ وہ تیزی سے مڑا اور ایک طویل، کھوجتی ہوئی نظروں سے برینڈا کو دیکھنے لگا۔

"ہاں، میں برن کو جانتا تھا،" اس نے کہا۔

"وہ کتنا پیارا تھا۔ ہم سب اسے بہت پسند کرتے تھے۔ دیکھو، شارلٹ کپڑے بدلنے اوپر چلی گئی ہے۔ مجھے جلدی سے اس کے پیچھے جانا چاہیے۔"

آخرکار وہ چلے گئے۔ شارلٹ نے باہر جھک کر ہاتھ ہلایا۔ کسی نے ٹیکسی کے پیچھے جوتا اچھالا۔

دروازے پر موجود ہجوم میں، لزبی کو احساس ہوا کہ کیپٹن اولیور اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔

"مس ایوری،" اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی، "کیا میں آپ سے ایک لمحے کے لیے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں؟"

"صبح والے کمرے میں،" لزبی نے کہا، اس کا رنگ بالکل زرد پڑ چکا تھا۔ کسی ناقابلِ فہم وجہ کے تحت اس نے اس چھوٹے پیلے کمرے میں جانے سے پہلے ہال کی میز سے اپنا گلدستہ اٹھا لیا۔

کھڑکی کے فریم میں شام کی چمکتی ہوئی ایک تصویر ابھری۔ سامنے کی طرف، شہتوت کے درخت کا سیاہ تنا، جس کے گرد ابھی تک کھٹے سبز رنگ کے چند دل کی شکل کے پتے لٹک رہے تھے، اور دائیں جانب پامپاس گھاس کے لمبے چاندی جیسے پروں کی ایک عجیب سی اہمیت تھی، گویا 'سیاہ، سنہرا، چاندی' کے الفاظ کسی نظم میں دہرائے جا رہے ہوں۔ اکتوبر کی نیلی دھند اس کے پار پھیلی ہوئی تھی جس نے لان کو ڈھانپ رکھا تھا، اور دھند کے کنارے پر سوماق کا ایک چھوٹا سا درخت مشعل کی طرح جل رہا تھا۔ سردیوں کی وجہ سے نغمہ سرائی ترک کر دینے والے ایک پرندے نے ٹڈے جیسی آواز نکالی۔

پامپاس گھاس۔۔۔۔۔شارلٹ نے اسے اکھاڑنے کی کوشش کی تھی، اس نے اسے۔۔۔۔ " بھدی درانداز" کہا تھا۔ لزبی مایوسی کے عالم میں اپنے خیالات سے چمٹی رہی۔ وہ نہیں سننا چاہتی تھی کہ یہ آدمی کیا کہنا چاہتا ہے۔ وہ صوفے پر ڈھے گئی اور مشینی انداز میں اپنے گلدستے کی پتیاں نوچنے لگی۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا، اور وہ اس کاسنی سائے میں بہت بھیانک لگ رہی تھی جو برینڈا پر اس قدر جچتا تھا۔

"تو آپ سائمن برن کو جانتی تھیں،" کیپٹن اولیور نے نیچے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ "میں سوچ رہا ہوں کہ شاید آپ میری مدد کر سکیں، مس ایوری؟ جب اس کا انتقال ہوا تو میں اس کے پاس تھا۔"

"کیا آپ کے پاس، شاید میری بہن کے لیے کوئی پیغام ہے؟" لزبی نے اپنے گھٹنے پر ہیدر (خلنج) کے چھوٹے چھوٹے پھولوں کو ترتیب دیتے ہوئے مدھم آواز میں پوچھا،

"یہی تو میں نہیں جانتا،" اس نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا۔ "کچھ ایسا ہے جو میں کسی کو بتانا چاہتا ہوں، لیکن کسی غلط شخص کو نہیں۔ دیکھیے، سائمن میرے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا۔ کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں، کیا آپ کی بہن نے کبھی اسے کوئی چھوٹا سا درخت دیا تھا، ایک بلور کا بنا بید کا درخت ؟ میرا خیال ہے کہ یہ ان چینی چیزوں میں سے ایک تھا۔"

"نہیں،" لزبی نے بہت دھیمی آواز میں کہا، "اس نے اسے کبھی کچھ نہیں دیا۔"

"میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں،" کیپٹن اولیور نے یوں کہا جیسے اس نے اچانک کوئی فیصلہ کیا ہو۔ "ایک راز آپ کے پاس محفوظ رہے گا، ہے نا؟ آپ کو تو معلوم ہے، وہ بری طرح زخمی تھا۔ اس کا زخم کبھی نہیں بھرا۔ وہ ہر وقت شدید بیمار رہتا تھا، لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اس سب کے باوجود، اس نے اپنے وقار کو کبھی کم نہیں ہونے دیا تھا۔ وہ سائمن کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ وہ اس کی ایک بھی خوبی اس سے نہیں چھین سکے۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس کے اندر خوشی کا کوئی چشمہ ہو، اس کے دل میں سکون کا کوئی مرکز ہو۔ کیمپ میں ڈاکٹروں کی کمی تھی اور وہ میری خدمات حاصل کرنے پر بے حد خوش تھے، اس لیے میں اس کے لیے چیزوں کو قدرے آسان بنانے کے قابل ہو سکا۔"

"مجھے خوشی ہے،" اس نے اپنے پھولوں پر جھکے ہوئے کہا، "کہ اس کی دیکھ بھال کے لیے آپ اس کے پاس تھے۔"

"اس کے مرنے سے ایک رات پہلے،" کیپٹن اولیور نے ایک دھیمی اور ٹھہری ہوئی آواز میں بات جاری رکھی، "اس نے جنوبی افریقہ میں اپنی ماں کے نام ایک خط لکھوایا۔ آپ جانتی ہیں، وہ کسی حد تک ایک شاعر بھی تھا۔ یہ ایک بہت جذباتی خط تھا۔ میرا خیال ہے کہ اب وہ خط اس کے پاس ہوگا، بیچاری۔ میں نے کہا کہ 'کیا کوئی اور نہیں ہے، سائمن؟' اس نے نفی میں سر ہلایا۔ 'ایک لڑکی تھی،' اس نے کہا، 'لیکن اسے کبھی معلوم نہیں تھا کہ وہ میری پیاری تھی، میری محبوبہ' میں نے اس سے کہا کہ مجھے اس کے بارے میں بتائے، یہ سوچ کر کہ شاید اس سے اسے کچھ سکون ملے۔ اس نے کہا کہ 'وہ ایک چھوٹی سی، خاموش سی ہستی ہے، مگنیٹ(mignonette) کے پھولوں جیسی، اور اس کی آنکھیں اس کے خیالات کے ساتھ روشن اور تاریک ہوتی رہتی ہیں۔ میں اپنے رگ و پے میں جانتا تھا کہ وہ میرے لیے ہی بنی ہے۔ ایک بار، جب درد بہت شدید تھا، مجھے لگا کہ وہ آئی اور اس نے مجھے چوما۔ میں نے اپنے گال کے ساتھ اس کے گال کو محسوس کیا۔ وہ نرم اور ٹھنڈا تھا، نئی کلیوں جیسا، بالکل ویسا ہی جیسا میں نے ہمیشہ سوچا تھا۔ اور درد ختم ہو گیا اور میں سو گیا۔ تمہیں معلوم ہے رابرٹ، اسے میرے اس خواب کا برا نہیں لگے گا۔ اس کے اندر کمال کا دردمندی کا احساس ہے۔ جب میں نے اسے الوداع کہا تو اس نے مجھے اپنی سب سے پیاری چیز دی، ایک چھوٹا سا بلوری بید کا درخت۔ جب گولہ ہم پر گرا تو وہ میری کِٹ میں ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔' میں نے دل میں سوچا، 'شاید اسے پرواہ تھی، اس لڑکی کو۔' وہ صبح کے قریب، نہایت سکون سے، دوبارہ کچھ کہے بغیر چل بسا۔"

لزبی بالکل ساکت بیٹھی رہی۔ "کتنے ٹھنڈے، کتنے ٹھنڈے،" اس نے اپنے ہاتھ ملتے ہوئے کہا، جیسے مرنے والے کے ہاتھ اس کے ہاتھوں کے درمیان رکھے ہوں۔

"تو تم اس کی پیاری تھی،" رابرٹ اولیور نے کہا۔

"وہ میری پیاری، بہت پیاری محبت تھا،" لزبی نے سرگوشی کی۔ اس نے اپنے گھٹنوں پر سر جھکایا اور بے آواز رونے لگی۔

اس نے سوچا کہ یہ ایک لڑکی کے لیے کتنی دکھ کی بات ہے جب اسے اپنی محبت کا پہلا اقرار کسی تیسرے شخص کے سامنے کرنا پڑے۔ اور، نرمی سے دروازے کی طرف جاتے ہوئے، اس نے تالے میں چابی گھمائی اور خود کھڑکی کے راستے باہر نکل گیا۔

 

"تمہارے جانے کے بعد لزبی رو رو کر ہلکان ہو گئی،" برینڈا نے شارلٹ کو لکھا۔ "لیکن رات کو وہ اتنی چمکدار اور ہشاش بشاش لگ رہی تھی کہ کوئی بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ یہ اس کی شادی کا دن ہے۔ شام کی ڈاک سے تمہارے لیے درجنوں خطوط آئے تھے (جو میں نے آگے بھجوا دیے ہیں) اور کچھ میرے لیے تھے۔ میں نے انہیں الگ کیا، اور ویسے ہی کہا جیسے عموماً ہم کہتیں ہیں کہ 'مجھے ڈر ہے کہ تمہارے لیے کوئی خط نہیں ہے، میری پیاری لزبی۔' اس نے اتنی عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا، اور کہا کہ 'مجھے میرا خط مل گیا ہے، وہ جو کبھی لکھا ہی نہیں گیا۔' اس کا کیا مطلب ہو سکتا تھا؟ میں نے کہا کہ 'آخر تمہارا مطلب کیا ہے؟' لیکن اس کے چہرے کے تاثرات سے میں جان گئی تھی کہ یہ اس کے خانہء دل ان باتوں میں سے ایک ہے جو وہ کبھی نہیں بتائے گی۔"

 

Original Title:  The Little Willow

Written by Frances Towers

 

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

افسانہ نمبر 723 : طوفان، تحریر : اینا لوسیا پورتیلا (کیوبا)، مترجم : محمد فیصل (کراچی)

رابندر ناتھ ٹیگور کا افسانہ : کابلی والا (Kabuliwala)