افسانہ نمبر757 : سبق || تحریر : فرنانڈو سورنٹینو (ارجنٹائن) || مترجم : خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر757 : سبق
تحریر : فرنانڈو سورنٹینو (ارجنٹائن)
مترجم : خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)
ہائی سکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، میں نے بیونس آئرس کی ایک بیمہ کمپنی میں کلرک کی
نوکری حاصل کی اور کام شروع کر دیا۔ یہ کام مجھے کچھ خاص پسند نہیں تھا۔ اس کے
علاوہ، وہاں میرے ساتھی بھی بدمزاج اور اکتا دینے والے لوگ تھے جن کے ساتھ میری
کوئی بات مشترک نہیں تھی۔ لیکن چونکہ میری عمر صرف اٹھارہ سال تھی، اس لیے میں نے اس بات کی زیادہ پرواہ
نہیں کی۔
ہماری کمپنی ایک دس منزلہ عمارت میں واقع تھی جس میں چار لفٹیں تھیں۔ ان
میں سے تین لفٹیں عام اور نچلے درجے کے ملازمین کے استفادے کے لیے تھیں۔ چوتھی
لفٹ، جو پرتعیش اور آراستہ تھی، جس میں تین آئینے لگے تھے اور جو سرخ قالین اور
خاص سجاوٹ سے مزین تھی، صرف کمپنی کے سربراہ، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان اور جنرل
منیجر کے استعمال کے لیے مخصوص تھی، اور دیگر ملازمین کو اسے استعمال کرنے کا حق
حاصل نہیں تھا۔
میرا اب تک کمپنی کے سربراہ اور بورڈ کے ارکان سے آمنا سامنا نہیں ہوا تھا،
حتیٰ کہ فون پر بھی ان سے بات نہیں ہوئی تھی، لیکن میں نے دُور سے کئی بار منیجنگ
ڈائریکٹر کو دیکھا تھا۔ ڈان فرنینڈو تقریباً پچاس سال کی عمر کے ایک انتہائی
باوقار اور نجیب شخص تھے۔ میری نظر میں، اپنی اس خوش وضعی اور جلال کے باعث وہ اس
بات کے لیے قطعی موزوں تھے کہ مثلاً انہیں ملک کا چیف پراسیکیوٹر یا کسی قدیم
عسکری دستے کا کماندار بنا دیا جائے۔ اس کے باوجود کہ میں افسران بالا قسم کے لوگوں سے سخت بیزار ہوں، ڈان فرنینڈو
کے کھچڑی بال، سلیقے سے تراشیدہ مونچھیں، نفیس لباس اور ان کا سنجیدہ اور شائستہ
رویہ دیکھ کر مجھے ان کے بارے میں ایک گونہ انسیت محسوس ہوتی تھی۔ ہر کوئی انہیں
ڈان فرنینڈو کہہ کر مخاطب کرتا تھا اور شاذ و نادر ہی کوئی انہیں ان کے خاندانی
نام سے پکارتا تھا۔ شاید ’ڈان‘ اس لیے کہ انہوں نے منیجنگ ڈائریکٹر سے بڑھ کر
کمپنی کے آقا کے طور پر اپنا کردار مستحکم کر لیا تھا۔
ڈان فرنینڈو، ان کے ساتھیوں اور حاشیہ برداروں کے کمرے پانچویں منزل پر واقع
تھے۔ ہمارا شعبہ تیسری منزل پر قائم تھا، چونکہ میں وہاں سب سے کم اہمیت کا ملازم
تھا، اس لیے وہ مجھے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے ایک منزل سے دوسری منزل پر بھیجتے
رہتے تھے۔ دسویں منزل پر صرف چند بدمزاج بوڑھے اور کچھ بدشکل عورتیں کام کرتی
تھیں، جو ہمیشہ کسی نہ کسی بات پر غصے میں نظر آتے تھے۔ ہر روز دفتر چھوڑنے سے
پہلے، مجھے اپنے شعبے میں دن بھر انجام دیے گئے تمام کاموں کا خلاصہ درج کرنا ہوتا
تھا،اور اسے دسویں منزل پر رکھی ایک فائل میں بلاناغہ سنبھالنا ہوتا تھا۔
ایک سہ پہر معمول کے مطابق دسویں منزل پر کاغذات جمع کروانے کے بعد، میں
گھر جانے کے لیے تیار ہوا اور لفٹ کے اوپر آنے کا انتظار کرنے لگا۔ اس دن میں نے
خالی قمیص نہیں بلکہ جیکٹ بھی پہن رکھی تھی۔ میں نے بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی۔ اور
آئینے میں خود کو دیکھ کر اپنی ٹائی بھی درست کر لی تھی اور اپنا چرمی بیگ مضبوطی
سے تھام رکھا تھا۔
اچانک میں نے ڈان فرنینڈو کو اپنے پاس کھڑے دیکھا اور لگ رہا تھا جیسے وہ
بھی لفٹ اوپر آنے کے منتظر ہوں۔
میں نے انتہائی احترام کے ساتھ انہیں سلام کیا اور کہا: ’’سہ پہر بخیر جناب
ڈان فرنینڈو۔‘‘
ڈان فرنینڈو نے انکساری سے مجھ سے ہاتھ ملایا اور جواب دیا: ’’تمہارا دِن
کیسا رہا نوجوان؟ تمہیں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کام کے بہترین
اوقات گزار چکے ہو اور اب جا کر اپنے باقی ماندہ دن سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو۔‘‘
ان کے جملوں، جو مجھے طنزیہ محسوس ہوئے، سے مجھے تھوڑی گھبراہٹ ہوئی۔ میں
نے محسوس کیا کہ میرا چہرہ سرخ ہو گیا ہے اور دِل کی دھڑکن تیز ہو گئی ہے۔ خوش
قسمتی سے اسی لمحے عام لوگوں کے لیے مخصوص لفٹوں میں سے ایک اوپر آ گئی اور اس کا
دروازہ کھل گیا۔ اس کے اندر کوئی نہیں تھا۔ میں نے لفٹ کے پاس لگے بٹن پر انگلی
رکھی اور مسٹر فرنینڈو سے کہا: ’’تشریف لائیے، پہل کیجئے۔‘‘
ڈان فرنینڈو نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ’’نہیں، یہ ناممکن ہے نوجوان، پہلے
آپ تشریف لے چلیں۔‘‘
’’نہیں
جناب، میں گزارش کرتا ہوں، یہ ممکن نہیں... آپ کے بعد میں۔‘‘
’’براہِ
کرم! اندر تشریف لے جائیے۔‘‘
انہوں نے ’براہِ کرم‘ لفظ کی ادائیگی کچھ یوں کی کہ اس میں التجا سے زیادہ
حکم کا انداز تھا۔ میں نے احتراماً سر جھکایا اور لفٹ میں داخل ہو گیا۔ ڈان
فرنینڈو میرے پیچھے داخل ہوئے اور لفٹ کا دروازہ بند ہو گیا۔
میں نے پوچھا: ’’ڈان فرنینڈو، کیا آپ پانچویں منزل پر جا رہے ہیں؟‘‘
انہوں نے جواب دیا: ’’نہیں، گراؤنڈ فلور پر جا رہا ہوں۔ تمہاری طرح گھر جا
رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ مجھے بھی تھوڑا آرام کرنے کا حق ہے، ہے نا؟‘‘
مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہوں۔ کمپنی کے سربراہ اور مختارِ کل کے
پاس کھڑا ہونا میرے لیے بے چینی اور اذیت کا باعث تھا۔ مجھے یہ تشویشناک صورتحال
نویں منزل سے گراؤنڈ فلور تک خاموش رہ کر برداشت کرنی پڑی۔ مجھے اتنی گھبراہٹ تھی
کہ میں ڈان فرنینڈو کے چہرے کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔ اسی لیے میں نے سر
نیچے کر لیا اور اپنے جوتوں کو گھورنے لگا۔
ڈان فرنینڈو نے خاموشی توڑی: ’’نوجوان، تم کس شعبے میں کام کرتے ہو؟‘‘
’’شعبہ
پیداواری مسئلولیت، جناب۔‘‘
تبھی میں نے محسوس کیا کہ ڈان فرنینڈو کا قد مجھ سے تھوڑا چھوٹا ہے۔
اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے اپنی ٹھوڑی کو پکڑتے ہوئے انہوں نے
پوچھا: ’’اس وقت تمہارے موجودہ مدیر المہام مسٹر بیوٹی ہیں۔ اگر میں غلطی پر نہیں
ہوں؟‘‘
’’جی
جناب، بالکل درست... مسٹر بیوٹی ہی ہیں۔‘‘
میں مسٹر بیوٹی سے سخت نفرت کرتا تھا۔ میری نظر میں وہ ایک احمق اور مغرور
انسان تھے۔ لیکن میں نے ڈان فرنینڈو سے اس بابت کچھ نہیں کہا۔
ڈان فرنینڈو نے بات جاری رکھی: ’’مسٹر بیوٹی نے تمہیں اب تک نہیں بتایا کہ
تمہیں کمپنی کے تمام تحریری اور غیر تحریری قوانین اور ہدایات کا احترام کرنا
چاہیے؟‘‘
’’جی...
آپ نے کیا فرمایا؟‘‘
’’تمہارا
نام کیا ہے؟‘‘
’’رابرٹو
کرسکووچ۔‘‘
’’اوہ...
ایک پولش نام۔‘‘
’’نہیں
جناب، یہ نام کروشین ہے، پولش نہیں۔‘‘
بالآخر ہم گراؤنڈ فلور پر پہنچ گئے۔ ڈان فرنینڈو جو دروازے کے پاس کھڑے
تھے، ایک طرف ہو گئے تاکہ میں باہر نکل سکوں۔
میں نے شدید گھبراہٹ کے عالم میں کہا: ’’نہیں جناب، میری گزارش ہے کہ پہلے آپ پدھاریے۔‘‘
ڈان فرنینڈو نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا۔ ان کی نگاہ خوفناک تھی۔ لگ رہا
تھا گویا وہ میری آنکھیں حلقے سے باہر نکال لینا چاہتے ہوں۔ انہوں نے سرد لہجے میں حکم دیا: ’’نوجوان، براہِ کرم لفٹ سے
باہر جاؤ۔‘‘
میں نے تعمیل کی۔ جب وہ مجھ سے آگے گلی میں داخل ہو رہے تھے تو انہوں نے
کہا: ’’نوجوان... سیکھنے کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا۔
کیا ہم ایک ساتھ کافی پی سکتے ہیں؟‘‘
اپنی دِلی خواہش کے برعکس میرے پاس ان کی پیشکش قبول کرنے کے علاوہ کوئی
چارہ نہیں تھا۔ ہم کمپنی کے آس پاس موجود ایک کیفے ٹیریا میں گئے۔ ڈان فرنینڈو آگے
آگے چل رہے تھے اور میں ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ ہم کیفے ٹیریا میں داخل ہوئے اور
بیٹھ گئے۔ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کے بالکل سامنے! خدایا، یہ کون سوچ سکتا تھا؟
ڈان فرنینڈو نے پوچھا: ’’تمہیں اس کمپنی میں کام کرتے ہوئے کتنا عرصہ ہو
گیا ہے؟‘‘
’’گزشتہ
سال دسمبر سے، جناب۔‘‘
’’یعنی
ابھی یہاں کام کرتے ہوئے ایک سال بھی نہیں ہوا۔‘‘
’’اگلے
مہینے نو ماہ پورے ہو جائیں گے... ڈان فرنینڈو۔‘‘
انہوں نے پھر اسی گہری نگاہ سے دیکھتے ہوئےاور بوجھل لہجے میں کہا: ’’میں
اس کمپنی میں ستائیس سال سے کام کر رہا ہوں۔‘‘
مجھے محسوس ہوا کہ وہ میری طرف سے کسی ردعمل کے منتظر ہیں۔ چنانچہ میں نے
اپنا سر اس انداز میں ہلایا جیسے مجھے بہت حیرت ہوئی ہو۔
ڈان فرنینڈو نے اپنی جیب سے کیلکولیٹر نکالا اور حساب لگانے لگے: ’’ستائیس
ضرب سال کے بارہ مہینے... کل بنتے ہیں تیس سو چوبیس ماہ۔ تین سو چوبیس ماہ کو نو
ماہ پر تقسیم کریں تو جواب آتا ہے چھتیس۔ یعنی اس کمپنی میں میرے کام کا تجربہ کل
ملا کر تم سے چھتیس گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، تمہاری عمر زیادہ سے زیادہ انیس یا
بیس سال ہوگی اور میری باون سال ہے، درست؟‘‘
’’جی۔
بالکل۔‘‘
’’اس
کے ساتھ ساتھ تم یونیورسٹی میں بھی پڑھتے ہو، درست؟‘‘
’’جی
ڈان فرنینڈو، میں یونانی اور لاطینی زبان و ادب کا طالب علم ہوں۔‘‘
وہ ناراض ہو گئے۔ بظاہر انہوں نے سوچا تھا کہ اپنے اس جواب سے میں اپنی
تعلیم پر فخر جتا رہا ہوں۔ انہوں نے دُرشتی سے کہا: ’’پہلے اس مضمون میں گریجویشن
کر لو، پھر اپنی ڈگری کی دھاک بٹھانا۔ ویسے تمہیں بتا دُوں کہ میرے پاس معاشیات
میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے، اور وہ بھی میں نے امتیازی درجے کے ساتھ حاصل کی ہے۔‘‘
میں نے احترام اور انکساری سے اپنا سر جھکا لیا اور انہوں نے بات جاری رکھی:
’’ہر چیز کا ایک حساب ہونا چاہیے۔ اس حساب سے کہ میں تم سے تیس سال بڑا ہوں، میرا
تجربہ تم سے چھتیس گُنا زیادہ ہے اور میری تعلیمی قابلیت بھی تم سے اعلیٰ ہے، کیا
تمہیں نہیں لگتا کہ تمہیں میرا بہت زیادہ احترام کرنا چاہیے؟‘‘
’’کیوں
نہیں... میرا مطلب ہے، جی جناب۔‘‘
’’تو
پھر تم مجھ سے پہلے لفٹ میں کیوں داخل ہو رہے تھے؟ اور پھر گستاخی اور دیدہ دلیری
کے ساتھ مجھ سے پہلے لفٹ سے باہر کیوں نکل گئے؟‘‘
’’جناب
میں کوئی گستاخی یا ضِد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے آپ نے ہی اصرار کیا تھا۔‘‘
’’میں
اصرار کروں یا نہ کروں، یہ میرا مسئلہ ہے۔ لیکن یہ تمہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ کسی
بھی صورت میں تمہیں مجھ سے پہلے لفٹ میں داخل نہیں ہونا چاہیے تھا یا مجھ سے پہلے
باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا، یا اس سے بھی بری بات یہ کہ تم مجھ سے بحث کرو اور
میری مخالفت کرو۔ جب میں نے تمہیں کہا کہ تمہارا نام پولش ہے تو تم نے یہ کیوں کہا
کہ نہیں، کروشین ہے؟‘‘
’’وہ
اس لیے کیونکہ یہ واقعی کروشین ہے۔ میرے والدین سپلٹ، یوگوسلاویہ میں پیدا ہوئے
تھے۔‘‘
’’میرے
لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ تمہارے والدین کہاں پیدا ہوئے تھے۔ جب میں کہتا
ہوں کہ تمہارا نام پولش ہے، تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے۔ تمہیں میری مخالفت کرنے کا
کوئی حق نہیں ہے۔‘‘
’’معاف
کیجئے گا جناب، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔‘‘
’’بہت
خوب۔ تو ایسا ہے۔ پس تمہارے والدین یوگوسلاویہ میں پیدا ہوئے تھے۔‘‘
’’نہیں
جناب، وہ ان کی جائے پیدائش نہیں ہے۔‘‘
’’تو
پھر کہاں پیدا ہوئے تھے؟‘‘
’’کراکو،
پولینڈ میں۔‘‘
’’کتنی
دلچسپ بات ہے۔‘‘
ڈان فرنینڈو نے اپنے ہاتھ پھیلائے اور حیرت و استعجاب سے پوچھا: ’’یہ کیسے
ممکن ہے کہ تمہارا خاندانی نام کروشین ہو لیکن تمہارے والدین پولش ہوں؟‘‘
’’حقیقت
یہ ہے کہ خاندانی تنازعات اور قانونی مسائل کی وجہ سے میرے دادا دادی اور نانا
نانی نے یوگوسلاویہ سے پولینڈ ہجرت کی تھی اور میرے والدین بھی پولینڈ میں پیدا
ہوئے تھے۔‘‘
ڈان فرنینڈو کا چہرہ بدل گیا۔
’’لگتا
ہے تم بھول گئے ہو کہ میں تم سے بہت بڑا ہوں، میرا تجربہ تم سے چھتیس گُنا زیادہ
ہے، اور سب سے اہم بات، میں معاشیات میں پی ایچ ڈی ہوں۔ تمہیں مجھے بے وقوف سمجھنے
کا کوئی حق نہیں نوجوان۔ تم میرے سامنے اتنے جھوٹ کیسے گھڑ سکتے ہو؟ تم یہ کیسے
سوچ سکتے ہو کہ میں ان مضحکہ خیز کہانیوں پر یقین کر لوں گا؟ تم نے خود ہی پہلے
کہا تھا کہ تمہارے والدین سپلٹ میں پیدا ہوئے تھے؟‘‘
’’جی
جناب، لیکن چونکہ آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھے آپ سے بحث اور مخالفت نہیں کرنی
چاہیے، اس لیے میں نے یہ مان لیا کہ میرے والدین کراکو میں پیدا ہوئے تھے۔‘‘
’’لیکن
یاد رکھو کہ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا۔‘‘
’’جی
جناب، آپ حق بجانب ہیں۔ میں نے آپ سے جھوٹ بولا۔‘‘
’’اپنے
افسرِ اعلیٰ سے جھوٹ بولنا حد درجہ اہانت اور گستاخی ہے، اور عملے کی جانب سے دی
گئی کسی بھی قسم کی غلط معلومات کمپنی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔‘‘
’’درست
ہے جناب، آپ جو بھی کہتے ہیں میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔‘‘
’’اچھی
بات ہے نوجوان۔ تمہاری کمزوریوں کے باوجود، جن میں سب سے بُری دروغ گوئی ہے، بظاہر
تم میں ایک دو خوبیاں بھی ہیں، جن میں سے بہترین خوبی تمہارا فرماں بردار اور
سمجھدار ہونا ہے۔ لیکن میں تمہارا ایک آخری امتحان لینا چاہتا ہوں۔ ہم نے کافی کے
دو کپ منگوائے ہیں۔ اس کا بِل کون ادا کرے گا؟‘‘
’’مجھے
خوشی ہوگی اگر آپ مجھے بِل ادا کرنے کی اجازت دیں۔‘‘
’’تم
نے مجھ سے ایک بار پھر جھوٹ بولا ہے۔ تم جو اتنے کم تنخواہ یافتہ ہو، اپنے منیجنگ
ڈائریکٹر کی کافی کے پیسے دے کر خوش نہیں ہو سکتے۔ کیوں؟ کیونکہ تم جانتے ہو کہ
تمہارے منیجنگ ڈائریکٹر کی ایک مہینے کی آمدنی تمہاری دو سال کی تنخواہ سے بھی
زیادہ ہے۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے سچ بتاؤ، کیا تم واقعی میری کافی کے
پیسے ادا کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’نہیں
ڈان فرنینڈو، سچ کہوں تو میں بالکل بھی ایسا نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
’’لیکن
اپنی دِلی خواہش کے برعکس تم نے آمادگی ظاہر کی؟‘‘
’’جی
جناب، میں پیسے دینے کے لیے تیار ہوں۔‘‘
’’بہت
خوب... تو چلو جا کر رقم ادا کرو، اور خدا
کے واسطے میرا مزید وقت برباد مت کرو۔‘‘
میں نے بیرے کو بلایا اور دونوں کافیوں کا بِل ادا کیا۔ ہم وہاں سے باہر
نکلے۔ ڈان فرنینڈو مجھ سے آگے آگے چل رہے تھے۔ ہم میٹرو کے داخلی دروازے پر پہنچے۔
انہوں نے کہا: ’’نوجوان، اب تم جا سکتے ہو۔ مجھے امید ہے کہ آج تم نے جو
اسباق سیکھے ہیں انہیں اچھی طرح ذہن نشین کر لیا ہوگا اور مستقبل میں انہیں کام
میں لاؤ گے۔‘‘
فرنینڈو نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور فلوریڈا میٹرو اسٹیشن کی سیڑھیوں سے نیچے
اُتر گئے۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ مجھے یہ نوکری پسند نہیں تھی۔ سال ابھی
ختم نہیں ہوا تھا کہ میں نے ایک اور کمپنی میں دوسری ملازمت حاصل کر لی۔
اس کمپنی میں اپنی ملازمت کے آخری دو مہینوں کے دوران، میں نے ڈان فرنینڈو
کو مزید دو بار دیکھا۔ دونوں مرتبہ دُور سے، اور بدقسمتی سے یہ موقع دوبارہ نہیں
مل سکا کہ میں ان سے کوئی اور سبق سیکھ پاتا۔
مصنف
کا تعارف
فرناندو سورنتینو، 8 نومبر 1942 کو ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں پیدا
ہوئے۔ وہ ایک رسالے Lucanor کے مدیر ہیں۔ اب تک ان کے مختصر کہانیوں کے چھ مجموعے،
ایک ناول، بچوں کے لیے چند کتابیں اور انٹرویوز پر مبنی دو کتابیں شائع ہو چکی
ہیں۔ ہسپانوی زبان میں لکھی گئی ان کی کہانیاں اب تک دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ
ہو چکی ہیں۔ ان کی بیشتر کہانیاں روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے عجیب و غریب
واقعات کو ایک منفرد اور خفیف مزاح کے
تڑکے کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ سورنٹینو کی
متعدد کہانیاں فلمی قالب میں ڈھل چکی ہیں۔
یہ ان کی کہانی The Lession کا اردو ترجمہ ہے۔

Comments
Post a Comment