افسانہ نمبر 755 : چاند || تحریر : یاسوناری کاواباتا (جاپان) || ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ
نمبر 755 : چاند
تحریر
: یاسوناری کاواباتا (جاپان)
ترجمہ:
حنظلہ خلیق (شرق پور)
پاکدامنی، تم کس قدر
ناقابلِ برداشت زحمت ہو! تم ایک ایسا بوجھ ہو جس کے کھو جانے کا مجھے کبھی افسوس
نہیں ہوگا۔ اور جب میں تاریک پچھلی گلیوں یا پلوں پر چلتا ہوں، تو میرے لیے تمہیں
کسی کچرے کے ڈبے یا دریا میں پھینک دینا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ مگر اب جبکہ میں ایک
روشن اور پختہ سڑک پر نکل آیا ہوں، تو مجھے ڈر ہے کہ تمہیں ٹھکانے لگانے کی جگہ
تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ مزید یہ کہ جب عورتیں میرے اس بوجھ پر حیرت کا اظہار کرتی
ہیں اور یہ جاننے کے لیے متجسس ہوتی ہیں کہ اس کے اندر کیا ہے، تو کیا میں شرما
نہیں جاتا؟ اور محض اس لیے کہ میں اسے اتنی دور تک اٹھا لایا ہوں، اور میری سوچیں
اتنی بوجھل ہو چکی ہیں، کیا مجھے یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں اسے یونہی سڑک کنارے
کسی کتے کے آگے نہیں ڈال سکتا؟ لیکن آج کل، جب کہ اتنی ساری عورتوں نے مجھ سے محبت
کرنے کی کوشش کی ہے، میری یہ مسلسل بے چینی اور بھی بڑھ گئی ہے، بالکل ایسے جیسے
میں نے لکڑی کے اونچے جوتے پہن رکھے ہوں جو چلتے ہوئے برف میں دھنس جاتے ہیں۔ اگر
میں اس برف پر ننگے پاؤں دوڑ سکتا تو میرے احساسات کس قدر ہلکے پھلکے ہو جاتے۔
یہ اس کی سوچیں تھیں۔
ایک عورت اس کے سرہانے
کھڑی تھی، مگر پھر وہ بے ساختہ گھٹنوں کے بل گر گئی۔ وہ اس کے اوپر جھکی اور اس کی
خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتار لیا۔
ایک اور عورت اس سے لپٹ
گئی جب اس نے اسے دھکا دینے کا ڈرامہ کیا۔ وہ دوسری منزل کی بالکونی کی ریلنگ سے
ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ مگر جب اس نے اسے چھوڑ دیا، تو اس نے پیچھے کی طرف جھکتے ہوئے
یوں دیکھا جیسے وہ گرنے والی ہو۔ اپنے ہی سینے کو گھورتے ہوئے، وہ اس کا انتظار
کرنے لگی۔
ایک اور عورت کا ہاتھ
اس کے کندھے کو تھامے ہوئے کانپنے لگا۔ وہ غسل خانے میں اس کی پیٹھ دھو رہی تھی۔
ایک اور عورت سردیوں کے موسم میں جب وہ دونوں کمرے میں بیٹھے تھے، اچانک بھاگ کر
باغ میں چلی گئی۔ وہ باغیچے کے کمرے میں صوفے پر سیدھی لیٹ گئی اور اپنی کہنیوں سے
اپنے چہرے کو مضبوطی سے چھپا لیا۔
اور ایک عورت تو بالکل
سن ہو کر رہ گئی جب اس نے مذاق میں اسے پیچھے سے پکڑ لیا۔
ایک عورت نے اپنے ہونٹ
سختی سے بھینچ لیے، اپنے جسم کو اکڑا لیا اور منہ پھیر لیا جب اس نے اس کا ہاتھ
پکڑا جبکہ وہ سونے کا بہانہ کر رہی تھی۔
ایک رات گئے جب وہ باہر
تھا، ایک اور عورت اپنی سلائی کا سامان لے کر اس کے کمرے میں آئی اور پتھر کی طرح
وہاں جم کر بیٹھ گئی۔ جب وہ لوٹا، تو وہ شرما گئی اور کہنے لگی کہ وہ صرف اس کی
روشنی ادھار لے رہی ہے۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سا بھاری پن تھا، جیسے کوئی جھوٹ
اس کے گلے میں پھنس گیا ہو۔ ایک اور عورت جب بھی اس کے سامنے آتی، ہمیشہ رونے
لگتی۔ اس سے باتیں کرتے کرتے بہت سی کم عمر لڑکیاں رفتہ رفتہ اپنی ذاتی اور جذباتی
کہانیوں میں کھو جاتیں۔ پھر جب ان کے پاس کہنے کو کچھ نہ بچتا، تو وہ یوں بیٹھ
جاتیں جیسے ان میں کھڑے رہنے کی سکت ہی نہ رہی ہو۔
جب ایسا وقت آتا، تو وہ
ایک برفاب خاموشی کی وادی میں اتر جاتا۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا، تو وہ ہمیشہ ایک ہی
بات کہتا:
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ
میں کسی بھی عورت کے لیے اپنے جذبات نہیں پگھلاؤں گا، سوائے اس کے جو اپنی زندگی
میری زندگی کے ساتھ جوڑنے کا ارادہ رکھتی ہو۔
پچیس سال کی عمر کے بعد
ایسی عورتیں اس کی زندگی میں عام ہونے لگیں۔ اور نتیجے کے طور پر، اس کی پاکدامنی
کے گرد موجود دیوار مزید مضبوط ہوتی چلی گئی۔ مگر ایک عورت تو اس حد تک چلی گئی کہ
اس نے کہا کہ اب اسے اس کے چہرے کے سوا کسی اور کا چہرہ دیکھنا گوارا نہیں۔ اس نے
اپنے دن شدید بے قراری اور الجھن میں گزارے۔ اسے لگا کہ اگر اس نے اس عورت کی
پرورش اور دیکھ بھال نہ کی تو وہ بھوکی مر جائے گی۔ اور اسے محسوس ہوا کہ ایسی
عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا جن کی اسے دیکھ بھال کرنی پڑے گی، جو اپنی
زندگیاں اس کے ساتھ نہیں جوڑیں گی، اور جن سے وہ جذباتی طور پر متاثر نہیں ہوگا۔
وہ مسکرا دیا۔
اگر میں نے ایسا کیا،
تو میرے پاس تو پہلے ہی اثاثے بہت کم ہیں، میں تو جلد ہی دیوالیہ ہو جاؤں گا۔
پھر شاید، جیسا کہ اس
نے پہلے بھی کئی بار کیا تھا، وہ ایک بھکاری کی طرح نکل کھڑا ہوتا، اور اپنے ساتھ
صرف اپنی پاکدامنی (کنوارگی) کا بوجھ اٹھائے ہوتا۔ بظاہر خستہ حال، مگر
جذباتی طور پر انتہائی امیر، کیونکہ اس نے ہمیشہ صرف وصول کیا تھا اور بدلے میں
کچھ نہیں دیا تھا، وہ ایک گدھے پر سوار کسی دور دراز دیس کی جانب روانہ ہو جاتا۔
ایسے خوابوں سے کھیلتے
ہوئے، اس کے اندر موجود جذبات سے اس کا سینہ تن گیا۔ مگر اب وہ یہ تصور بھی نہیں
کر سکتا تھا کہ اس دنیا میں اسے کوئی ایسی عورت مل سکے گی جو اپنی زندگی اس کے نام
کر دے۔
اس نے نظریں اٹھائیں تو
اسے پورا چاند دکھائی دیا۔ وہ اتنا روشن تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے آسمان پر اس کے
سوا کوئی اور ہستی موجود ہی نہ ہو۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ چاند کی طرف پھیلا دیے۔
اے چاند! میں اپنے یہ
تمام جذبات تیرے نام کرتا ہوں!
Title in English: Moon
Written by: Yasunari Kawabata
ترجمہ نگار سے رابطے کے لیے لنک:

Comments
Post a Comment