افسانہ نمبر 753 : دانیال عادل || مصنف: ہائنرش بول (جرمنی) || مترجم : خالد فرہاد دھاریوال
افسانہ نمبر 753 : دانیال عادل(جرمن کہانی)
مصنف: ہائنرش بول (جرمنی)
مترجم : خالد فرہاد دھاریوال
جب تک تیرگی چھائی
رہی، اس کے پہلو میں لیٹی ہوئی عورت اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی اور یہی بات
صورتحال کو برداشت کرنا قدرے آسان بنا رہی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے سے وہ عورت اسے
کچھ نہ کچھ کہے جا رہی تھی اور مرد کو مسلسل یہ کہنے میں کوئی دِقت محسوس نہیں ہو
رہی تھی: ’’ہاں‘‘ یا ’’ہاں، بالکل‘‘ یا ’’ہاں، تم ٹھیک کہتی ہو۔‘‘ اس کے پہلو میں
لیٹی عورت اس کی بیوی تھی، لیکن وہ جب بھی اپنی بیوی کے بارے میں سوچتا، اپنے ذہن
میں اسے ہمیشہ ’عورت‘ ہی پکارتا تھا۔ وہ عورت خوبصورت بھی تھی، اور ایسے لوگ موجود
تھے جو اس عورت کے سبب اس پر رشک کرتے تھے، لہٰذا اگر وہ مرد حسد کا شکار بھی ہوتا
تو یہ کوئی اتنی بے جا بات نہ تھی۔ اس سب کے باوجود اس میں کوئی حسد دکھائی نہیں
دیتا تھا۔ وہ خوش تھا کہ تاریکی نے عورت کا چہرہ چھپا رکھا ہے اور اسے یہ مہلت
میسر تھی کہ وہ تناؤ سےآزاد تاثرات اپنے چہرے پر سجا سکے۔ اس سے زیادہ مشکل اور
کوئی کام نہیں تھا کہ دِن بھر کے اُجالے میں، انسان ایک مصنوعی چہرہ اوڑھے رکھے؛
اور سارا دن وہ جو رُوپ اختیار کیے رکھتا تھا، وہ ایک مصنوعی چہرہ ہی تھا۔
عورت نے کہا: ’’اگر اُولی کامیاب نہ
ہوا، تو آفت آ جائے گی۔ ماری صدمے سے مر جائے گی، تم خود جانتے ہو کہ اس عورت نے
کتنی سختیاں جھیلی ہیں، ہے نا؟‘‘
مرد نے کہا: ’’ہاں، بالکل۔ میں
جانتا ہوں۔‘‘
’’ایک طویل عرصے تک
وہ روکھی سوکھی پہ گزارا کرنے پرمجبور رہی، کیا ہی صبر تھا اس کا۔ وہ ہفتوں بستر
پر پڑی رہی اور کوئی ایسا نہ تھا جو اس کی دیکھ بھال کر سکے۔ اور جب اُولی پیدا
ہوا، ایرش ابھی تک لاپتہ تھا۔ خدا جانے اگر وہ لڑکا داخلہ امتحان میں پاس نہ ہوا
تو ماری پر کیا گزرے گی؟ ہے نا؟‘‘
مرد نے کہا: ’’ہاں، تم ٹھیک کہتی
ہو۔‘‘
’’تم قطعی طور پر،
لڑکے کے امتحان میں بیٹھنے سے پہلے اس سے ملو اور اسےتسلی دو، مجھے یقین ہے جو کچھ
تمہارے بس میں ہوا تم اس کے لیے ضرور کرو گے، ہے نا؟‘‘
مرد نے کہا: ’’ہاں، میں کروں گا۔‘‘
وہ خود تیس سال پہلے موسمِ بہار کے
ایک دِن داخلہ امتحان میں شرکت کرنے کے لیے شہر آیا تھا۔ اُس دِن شام کے وقت جس
خیابان میں اُس کی خالہ رہتی تھی، اُس کے اوپر ڈوبتے سورج کی لالی پھیلی ہوئی تھی
اور اس کی سرخی پگھلی ہوئی دھات کی طرح سینکڑوں کھڑکیوں میں اس طرح دہک رہی تھی کہ
اس گیارہ سالہ بچے کو یہ گمان ہوا تھا کہ کوئی چھتوں کے اوپر سے آگ کے شعلے برسا
رہا ہے۔
کچھ دیر بعد، جب وہ کھانا کھانے میں
مشغول ہوئے، اس آدھے گھنٹے کے دوران جس میں عورتیں بتیاں جلانے میں ہچکچاہٹ اور
تاخیر سے کام لیتی ہیں، ایک نیلگوں تاریکی نے کھڑکی کے چوکھٹے کو بھر دیا۔ خالہ نے
بھی روشنی کرنے میں پس و پیش کیا اور بالآخر جب اس نے سوئچ دبایا، تو گویا اس نے
سینکڑوں عورتوں کو اشارہ دے دیا ہو، یکایک تمام کھڑکیوں سے اس نیلگوں تاریکی کے
قلب میں ایک زرد روشنی بکھر گئی؛ ان روشنیوں کی کرنیں کچے پھلوں کی مانند، جن پر
لمبے اور زرد کانٹے ہوں، رات کے دامن میں آویزاں ہو گئیں۔
خالہ نے پوچھا: ’’تم یہ کر لو گے؟‘‘
اور خالو، جو اخبار ہاتھ میں لیے کھڑکی کے پاس بیٹھے تھے، نے اس طرح سر ہلایا جیسے
ایسا سوال اُن کی توہین ہو۔
خالہ نے باورچی خانے کے چبوترے پر
لڑکے کے لیے سونے کی جگہ بنائی۔ خالو نے لحاف اور خالہ نے ایک تکیہ لڑکے کے حوالے
کیا؛ ایک کمبل اس کے نیچے بچھانے کے لیے بھی دیا گیا۔ خالہ نے کہا: ’’انہی دنوں میں
تم اپنا بستر لے آؤ گے، اب سکون سے سو جاؤ، شب بخیر۔‘‘
لڑکے نے کہا: ’’شب بخیر۔‘‘ خالہ نے
بتی بجھائی اور خوابگاہ میں چلی گئی۔
خالو باورچی خانے میں ہی رُکے رہے
اور ایسا ظاہر کیا جیسے وہ کچھ ڈھونڈ رہے ہوں؛ ان کے ہاتھ کچھ ٹٹولتے ہوئے، لڑکے
کے چہرے کے اوپر سے کھڑکی کی چوکھٹ تک گئے، اگلے ہی لمحے وہ ہاتھ جن سے تیزاب اور
وارنش کی بو آ رہی تھی، کھڑکی کو چُھو کر واپس آئے اور دوبارہ لڑکے کا چہرہ ٹٹولنے
لگے۔ خالو کے شرمیلے پن کی وجہ سے فضا سیسے کی طرح بھاری ہو گئی تھی اور وہ بالآخر
جو کچھ کہنا چاہتے تھے، وہ کہے بغیر ہی خوابگاہ میں غائب ہو گئے۔
لڑکے نے تنہائی میں سوچا: ’’میں یہ
کر لوں گا۔‘‘ اس نے اپنی ماں کا تصور کیا؛ اس وقت، ماں گھر میں، انگیٹھی کے پاس
پشمینہ بُننے میں مصروف ہو گی، اور گاہے بگاہے وہ اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھ کر اپنے
کسی محبوب ولی کے حضور کوئی دُعا گنگناتی ہو گی، مقدس یہوداہ تدیوس کے حضور—یا
شاید اس کے معاملے میں، یعنی ایک دیہاتی لڑکے کے لیے جسے شہر کے ہائی سکول جانا
تھا، سینٹ ڈان باسکو زیادہ کارگر ثابت ہوں؟
اس کے پہلو میں لیٹی ہوئی عورت نے
کہا: ’’کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں کبھی رونما نہیں ہونا چاہیے،‘‘ اور چونکہ
وہ جواب کی منتظر دکھائی دے رہی تھی، مرد نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا: ’’ہاں۔‘‘ اور
ناگواری سے یہ محسوس کیا کہ اب پو پھٹ رہی ہے۔ دِن آ پہنچا تھا اور اس کے لیے
نہایت کٹھن ذمہ داریاں ساتھ لا رہا تھا؛ اسے دوبارہ اپنا روزمرہ والا چہرہ اوڑھنا
تھا۔
اُس نے سوچا: ’’نہیں، ایسے واقعات
کچھ کم نہیں ہوتے جنہیں وقوع پذیر نہیں ہونا چاہیے اور وہ پیش آ جاتے ہیں۔‘‘ اس
وقت یعنی تیس سال قبل باورچی خانے کی تاریکی میں اسے خود پر بہت اعتماد تھا۔ وہ
ریاضی کے امتحان کے بارے میں سوچ رہا تھا، مضمون نگاری کے بارے میں، اور اسے یقین
تھا کہ سب کچھ بخوبی انجام پا جائے گا۔ اسے کامل یقین تھا کہ مضمون کا عنوان ’ایک
حیرت انگیز یاد‘ ہو گا، اور وہ بالکل ٹھیک ٹھیک جانتا تھا کہ وہ کیا لکھے گا: اس
پاگل خانے کا دورہ جہاں چچا تھامس رہ رہے تھے۔ ملاقاتی کمرے میں سبز اور سفید
دھاری دار کرسیاں اور چچا تھامس، جنہیں تم جو کچھ بھی کہتے وہ بس اسی ایک جملے کی
تکرار کرتے:’’ کاش زمین پر انصاف کا وجود ہوتا۔‘‘
ماں نے کہا تھا: ’’میں نے تمہارے
لیے ایک خوبصورت لال سویٹر بُنا ہے۔ تمہیں ہمیشہ سے ہی سُرخ چیزیں پسند
تھیں۔‘‘
’’کاش زمین پر انصاف
کا وجود ہوتا۔‘‘
انہوں نے موسم کے بارے میں باتیں کی
تھیں، گایوں کے بارے میں اور تھوڑی بہت گفتگو سیاست پر بھی، اور تھامس نے مسلسل
یہی ایک جملہ دہرایا تھا: ’’کاش زمین پر انصاف کا وجود ہوتا۔‘‘
اور بعد ازاں، جب وہ اس راہداری سے
گزر رہے تھے جس کی دیواریں سبز رنگ کی تھیں، لڑکے نے کھڑکی کے پاس ایک دُبلے پتلے
مرد کو دیکھا تھا جس کے کندھے ڈھلکے ہوئے تھے اور جو خاموشی سے باغ کو تاک رہا تھا۔
بیرونی دروازے کی دہلیز پر، ایک
انتہائی خوش اخلاق آدمی دوستانہ مسکراہٹ کے ساتھ ان کی جانب لپکا تھا اور کہا تھا:
’’محترمہ، یاد رکھیے گا مجھے ’جہاں پناہ ‘کہہ کر پکاریں،‘‘ اور ماں اس کی جانب منہ
کر کے آہستہ سے بولی تھیں: ’’جہاں پناہ۔‘‘ پھر جب وہ اسٹیشن پر ٹرام کا انتظار کر
رہے تھے، لڑکے نے ایک بار پھر اس سبز رنگ کی عمارت کی طرف مڑ کر دیکھا جو درختوں
کے جُھنڈ میں چھپی ہوئی تھی، اور اس ڈھلکے ہوئے کندھوں والے آدمی کو کھڑکی کے پاس
کھڑا دیکھا؛ اور باغ کے عین درمیان سے ہنسی کی ایک ایسی آواز بلند ہوئی گویا کوئی
کُند قینچی سے لوہے کی چادر کاٹ رہا ہو۔
وہ عورت جو اس کی بیوی تھی، بولی:
’’تمہاری کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی روٹی کا ایک نوالہ بھی کھا لو۔‘‘
مرد نے کافی کا پیالہ ہونٹوں سے
لگایا اور نوالہ بھی منہ میں رکھ لیا۔
عورت نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
اور کہا: ’’میں جانتی ہوں کہ تم پھر اپنے اسی نام نہاد انصاف کی سوچ میں گم ہو،
لیکن ایک چھوٹے بچے کی مدد کرنا کہاں کی ناانصافی شمار ہوتی ہے؟ تمہیں تو اُولی سے
پیار ہے۔ ہے نا؟‘‘
مرد نے کہا: ’’ہاں‘‘ اور یہ ہاں سچی
تھی؛ وہ اُولی سے محبت کرتا تھا۔ وہ لڑکا نازک مزاج، پیارا اور اپنی حد تک ذہین
بھی تھا، لیکن ہائی سکول میں تعلیم حاصل کرنا اس کے لیے سراسر تکلیف دہ کام ثابت
ہوتا۔ لڑکا پرائیویٹ ٹیوشنوں کے زور پر، اپنی بلند پرواز ماں کی کثیر ترغیبات کی
بدولت، در در کی ٹھوکروں اور پے در پے سفارشوں کے بعد، بالآخر ایک اوسط درجے کا
طالب علم ہی بن پاتا، جسے ناگزیر طور پر زندگی بھر ایک بوجھ اور ناموافق توقعات کو
اپنے کاندھوں پر اٹھانا پڑتا۔
’’تو تم اُولی کی
مدد کرنے کا وعدہ کرتے ہو، ہے نا؟‘‘
مرد نے کہا: ’’ہاں، میں اس کے لیے
کچھ کرتا ہوں۔‘‘ پھر اس نے اپنی بیوی کے خوبصورت چہرے کو چوما اور گھر سے نکل گیا۔
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا آگے بڑھا۔ اس نے ہونٹوں میں سگریٹ دبائی؛ اپنے چہرےکے
مصنوعی پن کو ایک طرف ہٹایا اور چہرے کی جلد پر اپنے حقیقی روپ کو محسوس کر کے لطف
اندوز ہوا۔ اس نے کھالیں بیچنے والی ایک دکان کی آرائشی کھڑکی میں اپنے چہرے کا
بغور جائزہ لیا؛ اودبلاؤ کی سرمئی کھال اور چیتے کی چتکبری کھال کے درمیان،
اس نے اپنا چہرہ اس سیاہ مخمل پر دیکھا جس نے کانچ کے فرش کو ڈھانپ رکھا تھا؛
چالیس کی دہائی کے وسط میں پہنچے ہوئے ایک مرد کا زرد اور قدرے سُوجا ہوا چہرہ—ایک
قنوطی یا شاید نکتہ چیں مرد کا چہرہ۔ سگریٹ کا دودھیا دُھواں اس زرد اور قدرے
سُوجے ہوئے چہرے کے گِرد بل کھا رہا تھا۔ اس کا دوست الفریڈ، جو پچھلے سال وفات پا
گیا تھا، ہمیشہ کہا کرتا تھا: ’’تم کبھی بھی اپنی تلخ کامی پر قابو نہیں پا سکے
اور تم جو بھی کام کرتے ہو، جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہو۔‘‘
الفریڈ کا ارادہ نہ صرف کوئی بُرا
نہیں تھا بلکہ وہ صائب رائے دینےکی کوشش کرتا تھا۔ لیکن کیا انسانی خصلتوں
کو الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے؟ اس کے علاوہ وہ خود بھی قائل تھا کہ ’تلخ کامی‘
بھی
ایسے ہی بے معنی اور پیش پا افتاد الفاظ میں سے ایک ہے۔
اس وقت تیس سال پہلے، دانیال نے
اپنی خالہ کے باورچی خانے کے چبوترے پر سوچا تھا: کوئی بھی شخص ایسا مضمون نہیں
لکھے گا کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ کسی کے پاس ایسی حیران کن یاد ہو۔ اور سونے سے
پہلے اس کے ذہن سے اور بھی بہت سی باتیں گزری تھیں۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ پورے نو
سال اسی چبوترے پر سوئے گا اور پورے نو سال اسی میز پر اپنا ہوم ورک مکمل کرے گا
اور اس نہایت طویل عرصے کے دوران ماں گھر میں انگیٹھی کے پاس بیٹھی پشمینہ بُنتی
رہے گی اور زیرِ لب دعائیں پڑھتی رہے گی۔
اُس نے سنا کہ ساتھ والے کمرے میں
خالہ اور خالو آپس میں بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کی سرگوشیوں میں سے صرف ایک ہی لفظ،
اس کا اپنا نام اس کے کانوں میں صاف سنائی دیا: دانیال۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ
اسی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ وہ ان کی باتیں سُن تو نہیں پا رہا تھا لیکن اُسے
یقین تھا کہ وہ اُس کی بھلائی کی باتیں کر رہے ہیں۔ خالہ اور خالو اُس سے محبت
کرتے تھے؛ وہ دونوں خود بے اولاد تھے۔اچانک اُس کے دِل میں ایک خوف بیٹھ گیا، اُس
نے پریشانی کے عالم میں سوچا: ’’دو سال بعد یہ چبوترا میرے لیے چھوٹا پڑ جائے گا۔
پھر میں کہاں سوؤں گا؟‘‘ اس تصور نے چند لمحوں کے لیے اس کا سکون غارت کر دیا،
لیکن فوراً ہی اس نے سوچا کہ دو سال کا عرصہ تو بہت طویل ہوتا ہے؛ اس مدت کے ہر
روز میں کتنی ہی تاریکیاں ہوں گی جو روشنی میں بدل جائیں گی، اور پھر یکبارگی وہ
اپنے سامنے موجود قریب ترین تاریکی میں ڈوب گیا: امتحان سے پہلے کی رات۔ نیند میں
وہ تصویر اس کے خوابوں میں آئی جو الماری اور کھڑکی کے درمیان دیوار پر آویزاں
تھی۔ مرجھائے ہوئے چہروں والے کچھ مرد ایک کارخانے کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے
اور ان کے بیچ ایک شخص نے بوسیدہ سا سُرخ پرچم بلند کر رکھا تھا۔ لڑکا اس چیز کو
جسے اس نے باورچی خانے کی نیم تاریک فضا میں بڑی مشکل سے پڑھا تھا، نیند میں بخوبی
پہچان گیا: ہڑتال۔
وہ اپنے زرد اور پریشان حال چہرے کے
تصور سے باہر آیا، جو شوکیس کے اندر اودبلاؤ اور چیتے کی کھال کے بیچوں بیچ لٹک
رہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا گویا اسے کسی سیاہ پارچے پر نقرئی رنگ سے نقش کیا گیا
ہو؛ اس نے بڑی مشکل سے نگاہ ہٹائی کیونکہ اس کے پیچھے اس نے اپنے بچپن کے چہرے کو
دیکھ لیا تھا۔
تیرہ سال بعد سکول کے پرنسپل نے اسے
مخاطب کر کے کہا تھا: ’’کیا تمہارے خیال میں ’ہڑتال‘ ایسا موضوع ہے جو ہمیں ہائی
سکول کے آخری سال کے طالب علموں کو مضمون کے لیے دینا چاہیے؟‘‘ اور اس نے اس مضمون
سے گریز کرنے کا کہا تھا۔ اس وقت تک، یعنی 1934 تک، اس بات کو ایک طویل عرصہ گزر
چکا تھا کہ خالہ کے باورچی خانے میں دیوار پر وہ تصویر نظر آنا بند ہو چکی تھی
لیکن تب بھی چچا تھامس سے ملنے جایا جا سکتا تھا، سبز دھاریوں والی کرسیوں میں سے
ایک پر بیٹھا جا سکتا تھا، سگریٹ کا دُھواں اڑایا جا سکتا تھا اور تھامس کی باتیں
سنی جا سکتی تھیں جو یوں محسوس ہوتی تھیں گویا وہ کسی کی دُعا کا جواب دُہرا رہا
ہو جس کی آواز صرف اُسے ہی سنائی دیتی تھی۔ تھامس چوکنا ہو کر بیٹھتا تھا مگر اس
کے کان اپنے ملاقاتیوں کی باتوں پر نہیں ہوتے تھے۔ وہ اپنی سماعت ان غیر مرئی نوحہ
خوانوں کے لیے تیز رکھتا تھا جو اِس دُنیا کے منظر نامے سے پوشیدہ کوئی ایسی
دُعا پڑھتے تھے جس کا صرف ایک ہی جواب ہوتا تھا: تھامس کی یہ بُڑبڑاہٹ کہ ’’کاش
زمین پر انصاف کا وجود ہوتا۔‘‘
وہ آدمی جو ہمیشہ کھڑکی کے پاس کھڑا
رہتا تھا اور باغ میں آنکھیں گاڑے رکھتا تھا، آہستہ آہستہ اس قدر کمزور ہو گیا تھا
کہ ایک دن وہ خود کو جنگلے کے بیچ میں سے گزار کر اس پار پہنچنے اور باغ میں
چھلانگ لگانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس کی باریک ہنسی کی آواز اس کے بدن پر ہی دم
توڑ گئی لیکن جہاں پناہ ابھی زندہ تھا اور ہیمکے اس کے پاس جا کر مسکراتے ہوئے
آہستہ سے اسے ’جہاں پناہ‘ کہنا کبھی نہیں بھولتا تھا۔ اس وارڈ کے نگران نے ہیمکے
سے کہا تھا: ’’یہ لوگ لمبی عمر پاتے ہیں، ایسا شخص اتنی آسانی سے موت کے گھاٹ نہیں
اُترتا۔‘‘
لیکن سات سال بعد جہاں پناہ بھی
زندہ نہیں بچا تھا۔ تھامس کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا؛ انہیں مار دیا گیا تھا اور وہ
نوحہ خوانوں کا گروہ جو دنیا کے منظر نامے سے پوشیدہ ماتم سرائی کر رہا تھا، عبث
ہی اس جواب کا منتظر تھا جو صرف تھامس کے نُطق سے ہی نکل سکتا تھا۔
ہیمکے نے اس سڑک پر قدم رکھا جہاں
ہائی سکول واقع تھا۔ اس کی نگاہ جب داخلہ امتحان کے شرکاء کے ہجوم پر پڑی تو وہ
ٹھٹک گیا۔ داخلہ امتحان دینے والے بچے اپنے والدین کے پہلو میں منتظر کھڑے
تھے اور ایک مصنوعی اور پرجوش اشتیاق، جو ہر امتحان سے پہلے کسی بیماری کی طرح
انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، ان پر غالب آ چکا تھا۔ ماؤں کے چہروں پر بے
تاب مسرت کسی غازے کی طرح پُتی ہوئی تھی اور باپوں کے چہروں پر ایک بخار آلود بے
نیازی نقش تھی۔
اُس کی نظر ایک لڑکے پر پڑی جو سب
سے دُور، ایک ڈھے چکے مکان کے سامنے تنہا زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ ہیمکے چلتے
چلتے رُک گیا اور اُسے یوں محسوس ہوا گویا خوف کسی اسفنج میں جذب ہونے والےپانی کی
مانند اس کے اندر سرایت کر رہا ہے؛ اس نے خود سے کہا: ہوشیارباش، اگر تم غافل ہو
گئے تو تمہارا انجام بھی وہی ہو گا جو چچا تھامس کا ہوا تھا، اور ہو سکتا ہے تم
بھی مستقل طور پر وہی بات دہرانے لگو جو وہ کہا کرتے تھے۔ جو چھوٹا لڑکا اس گھر کی
دہلیز پر بیٹھا ہوا تھا، وہ تیس سال پرانی اس کی اپنی تصویر سے اس قدر مشابہ تھا
کہ اُس نے گمان کیا کہ وہ تیس سال ایسا گرد و غبار تھے جو محض ایک پھونک سے مجسمے
پر سے اڑ گئے ہیں۔
شور و غلغلہ، ہنسی کی آوازیں...
سورج ان گیلی چھتوں پر چمک رہا تھا جن کی برف پگھل چکی تھی، البتہ ویرانوں کے
سایوں میں ابھی بھی کچھ برف باقی تھی۔
امتحان والے دِن خالو اسے مقررہ وقت
سے بہت پہلے یہاں لے آئے تھے۔ وہ دونوں آپس میں کوئی بات چیت کیے بغیر ٹرام کے
ذریعے پُل سے گزرے تھے؛ اور لڑکے نے، جس کی کالی جرابوں سے خالو اپنی نظریں نہیں
ہٹا رہے تھے، دِل ہی دِل میں سوچا تھا کہ شرمیلا پن ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج
کالی کھانسی کی طرح کیا جانا چاہیے۔ اُس صبح، خالو کے شرمیلے پن نے خود اس کی اپنی
ہچکچاہٹ کے ساتھ مل کر اس کا گلا سختی سے جکڑ لیا تھا۔ وہ اپنے لب سیے، گردن میں
سرخ مفلر لپیٹے اور اوورکوٹ کی دائیں جیب میں کافی کا تھرمس رکھے سنسان سڑک پر اس
کے پاس کھڑا رہا تھا، اور اچانک ایک دبی ہوئی آواز میں ’کام پر جانے‘کی بات کر کے
اپنی راہ چل دیا تھا؛ اس کے جانے کے بعد لڑکا اس گھر کی دہلیز پر دوبارہ زمین پر
بیٹھ گیا تھا۔ اس کے بعد سبزیاں بیچنے والوں کے ٹھیلے پتھریلی سڑک سے ہو کر گزرے
تھے، نان بائی کا شاگرد بسکٹوں کی ٹوکری اٹھائے اس کے سامنے سے گزرا تھا، اور ایک
چھوٹی لڑکی دودھ کی کیتلی ہاتھ میں پکڑے گھر گھر گئی تھی اور ہر گھر کی دہلیز پر
دودھ کا ایک نیلا نشان چھوڑتی گئی تھی۔ وہ مکانات، جو سب کے سب گویا متروک تھے،
لڑکے کی نظر میں بہت پرشکوہ دکھائی دے رہے تھے۔ وہ زرد رنگ، جو اس وقت اسے عظیم
الشان لگا تھا، اب بھی ان کھنڈرات کی دیواروں پر تلاش کیا جا سکتا تھا۔
ایک راہگیر نے کہا: ’’صبح بخیر،
پرنسپل صاحب۔‘‘ ہیمکے نے بمشکل محسوس ہونے والے انداز میں سر ہلایا۔ وہ جانتا تھا
کہ عمارت کے اندر اس کے ساتھی کہہ رہے ہوں گے: ’’بوڑھے کا پھر سے دماغ خراب ہو گیا
ہے۔‘‘
اس نے خود سے کہا: ’’میرے سامنے تین
راستے ہیں؛ میں اس چھوٹے لڑکے کے قالب میں ڈھل سکتا ہوں جو وہاں مکان کی دہلیز پر
بیٹھا ہے؛ میں زرد اور سُوجے ہوئے چہرے والا آدمی بنا رہ سکتا ہوں؛ نیز میں چچا
تھامس بھی بن سکتا ہوں۔‘‘ اسے سب سے کم ترغیب اس بات کی تھی کہ وہ جو ہے، وہی بنا
رہے، یعنی ایک مصنوعی چہرے کا بھاری بوجھ برداشت کرتا رہے—ایک چھوٹا لڑکا بننا بھی
کچھ زیادہ خوشگوار نہیں لگتا تھا؛ وہ کتابیں جو اسے پسند تھیں، وہ کتابیں جن سے وہ
بیزار تھا؛ باورچی خانے کی میز کے پاس اس نے ان سب کو نگل لیا تھا اور اپنے اندر
اتار لیا تھا؛ اور ہر ہفتے کاغذ کے حصول کے لیے کی جانے والی تگ و دو، تاکہ اسے
مشق کی کاپیاں مل سکیں جنہیں وہ اپنے نوٹس، ریاضی کے سوالات اور مضامین کی مشق سے
کالا کر سکے؛ وہ تیس پفینگز جن کے لیے اسے ہر ہفتے جھگڑنا پڑتا تھا یہاں تک کہ
بالآخر اس کے استاد کو یہ خیال آیا کہ اسے ردی کے گودام میں پڑی پرانی کاپیوں سے
کورے ورق نکالنے کی اجازت دے دے۔ لیکن وہ آدھے لکھے ہوئے صفحات بھی نکال لیتا اور
گھر لا کر انہیں کالے دھاگے سے ایک ساتھ سی لیتا اور اپنے لیے موٹی موٹی کاپیاں
بنا لیتا تھا—اور اب وہ ہر سال اس گاؤں پھول بھیجتا تھا تاکہ انہیں اس استاد کی
قبر پر رکھا جا سکے۔
اس نے خود سے کہا: کسی کو معلوم
نہیں ہوا کہ یہ سب کچھ مجھے کس قیمت پر ملا۔ الفریڈ کے سوا کسی نے بھی اسے محسوس
نہیں کیا۔ لیکن الفریڈ بھی اس بارے میں صرف ایک احمقانہ لفظ ’تلخ کامی‘ استعمال
کرتا تھا، اور اسی وجہ سے اس موضوع پر بات کرنا اور دوسروں کو بات سمجھانا بے سود
ہے—اس سب کو سب سے کم وہ عورت سمجھے گی جو ہمیشہ اپنے خوبصورت چہرے کے ساتھ میرے
پہلو میں سوتی ہے۔
چند لمحوں تک، جب ماضی ہنوز اس پر
حاوی تھا، اس نے توقف کیا۔ سب سے زیادہ کشش اس بات میں تھی کہ وہ چچا تھامس کا
کردار اپنے ذمے لے لے اور دنیا کے منظر نامے میں نوحہ خوانوں کی دُعا کا مسلسل وہی
ایک جواب دیتا رہے۔
نہیں، دوبارہ بچپنے میں ڈھلنا اب
ممکن نہیں۔ بچپن ایک انتہائی مشکل کام ہے؛ آج کون سا بچہ کالی جرابیں پہنتا ہے؟
درمیانی راستہ یہ تھا کہ وہ زرد اور سُوجے ہوئے چہرے والا آدمی ہی بنا رہے، اس نے
ہمیشہ درمیانی راستوں کو ہی ترجیح دی تھی؛ وہ اس لڑکے کی طرف ہو لیا؛ جب اس کا
سایہ لڑکے پر پڑا تو لڑکے نے سر اٹھایا اور اسے ڈری ہوئی نظروں سے دیکھا۔ ہیمکے نے
پوچھا: ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
لڑکا گھبرا کر اُٹھ کھڑا ہوا اور
سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ جواب دیا: ’’ویرزوک۔‘‘
ہیمکے نے کہا: ’’میرے لیے اس کے ہجے
کرو،‘‘ اور اپنی نوٹ بک نکال لی۔ لڑکے نے آہستہ آہستہ اپنے نام کے ہجے
کیے،’’و-ی-ر-ز-و-ک۔‘‘
’’کہاں کے رہنے والے
ہو؟‘‘
لڑکے نے کہا: ’’میں ولرزہائم کا
رہنے والا ہوں۔‘‘
ہیمکے نے دِل میں کہا: خدا کا شکر
ہے کہ وہ ہمارے گاؤں سے نہیں آیا، میرا ہم نام نہیں ہے اور میرے بے شمار چچازاد
بھائیوں میں سے کسی کا بیٹا نہیں ہے۔
’’یہاں، اس شہر میں
تم کس کے پاس رہو گے؟‘‘
ویرزوک نے جواب دیا: ’’اپنی خالہ کے
یہاں۔‘‘
ہیمکے نے کہا: ’’بہت خوب، امتحان کے
حوالے سے بالکل بے فکر رہو، تمہارے نمبر تو بہت اچھے ہیں اور تمہارے استاد نے بھی
تمہارے لیے ایک بہت اچھا تعریفی خط لکھا ہے، ہے نا؟‘‘
’’جی ہاں، میرے نمبر
ہمیشہ ہی اچھے آئے ہیں۔‘‘
’’فکر مت کرو، تم
کامیاب ہو گے۔ تم...۔‘‘ اُس کی زبان مزید بولنے سے رُک گئی کیونکہ وہ شے جسے
الفریڈ ’جذبات‘ اور ’تلخ کامی‘ کا نام دیتا تھا، اس کے گلے میں پھنس گئی تھی۔ اس
نے آہستہ سے کہا: ’’اس ٹھنڈے پتھر پر بیٹھنے سے تمہیں سردی لگ جائے گی۔‘‘ اور
اچانک اس نے اپنا سر موڑ لیا اور چوکیدار کی رہائش گاہ والے راستے سے ہائی سکول کے
اندر قدم رکھ دیا کیونکہ وہ اُولی اور اس کی ماں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
راہداری کے پردے کے پیچھے سے اس نے
ایک بار پھر بچوں اور ان کے والدین پر نظر ڈالی جو سڑک پر انتظار کر رہے تھے، اور
ہر سال کی طرح اس دن بھی حزن و ملال نے اس کے دِل کو گھیر لیا۔ اس نے خود سے سوچا
کہ وہ ان دس سالہ بچوں کے چہروں میں ایک غمگین مستقبل دیکھ رہا ہے۔ بچے کسی
مویشیوں کے ریوڑ کی طرح، جو اصطبل کے پھاٹک پر دباؤ ڈال رہا ہو، ہائی سکول کے
داخلی دروازے کی طرف دھکیلے جا رہے تھے؛ اس نے سوچا کہ اس ستر افراد کے گروہ میں
سے دو یا تین ہی اوسط درجے سے کچھ بہتر ثابت ہوں گے، باقی سب محض ہجوم ہیں اور بس۔
اس نے خود سے کہا: الفریڈ کی نیش
دار زبان بُری طرح میرے اندر سرایت کر چکی ہے۔ اور کسی ایسے شخص کی تلاش میں جو اس
کا بوجھ ہلکا کر سکے، اس نے ننھے ویرزوک کی طرف دیکھا جو دوبارہ اس ٹھنڈے پتھر پر
ڈیرہ جمائے بیٹھا تھا اور سر جھکائے سوچوں میں گم دکھائی دیتا تھا۔
ہیمکے کے ذہن میں سوچ آئی: میں اُس
وقت شدید سردی کا شکار ہو گیا تھا؛ یہ بچہ امتحان میں پاس ہو جائے گا، چاہے اس کے
لیے مجھے، مجھے، مجھے کیا؟
پیارے الفریڈ، تلخ کامی اور جذبات
ایسے الفاظ نہیں ہیں جو میرے دِل کا درد بیان کر سکیں۔
وہ اساتذہ کے کمرے میں گیا، اپنے
ساتھیوں کو سلام کیا جو اس کے منتظر تھے اور چوکیدار سے کہا، جو اس کے ہاتھ سے
اوورکوٹ لے رہا تھا: ’’بچوں کے لیےسکول کا دروازہ کھول دو۔‘‘
اس کے ساتھیوں کے چہروں سے واضح تھا
کہ اس کا رویہ کافی عجیب تھا۔ اس نے سوچا: ہو سکتا ہے میں کوئی آدھا گھنٹہ سڑک پر
کھڑا رہا ہوں اور ننھے ویرزوک کو دیکھتا رہا ہوں، اور ڈرتے ہوئے اس نے گھڑی پر
نگاہ ڈالی اور دیکھا کہ آٹھ بجنے میں ابھی چند منٹ باقی ہیں۔
اس نے بلند آواز میں کہا: ’’حضرات،
یہ بات ذہن میں رکھیئے گا کہ ان میں سے بعض بچوں کے لیے یہ امتحان جو وہ آج دے رہے
ہیں، اس پی ایچ ڈی کے امتحان سے کہیں زیادہ اہم اور فیصلہ کن ہے جو ان میں سے کچھ
افراد پندرہ سال بعد دیں گے۔‘‘ ہر کوئی کسی طویل تقریر کی توقع کر رہا تھا، اور وہ
لوگ جو اسے بخوبی جانتے تھے اس لفظ کے منتظر تھے جو وہ عموماً ایسے مواقع پر اپنی
زبان پر لانا پسند کرتا تھا: ’’انصاف‘‘۔ لیکن ہیمکے نے مزید کچھ نہیں کہا اور بس
اپنے ایک ساتھی کی طرف منہ پھیر کر پوچھا: ’’مضمون کے لیے کیا موضوع منتخب کیا گیا
ہے؟‘‘
جواب ملا:’’ایک
حیرت انگیز یاد۔‘‘
کمرے میں اب صرف ہیمکے ہی باقی رہ
گیا تھا۔
اس کے بچپنے کی یہ تشویش کہ باورچی
خانے کا چبوترا دو سال بعد اس کے لیے چھوٹا پڑ جائے گا، بے بنیاد ثابت ہوئی،
کیونکہ اس حقیقت کے باوجود کہ مضمون کا عنوان ’ایک حیرت انگیز یاد‘ ہی تھا، وہ
داخلہ امتحان میں پاس نہیں ہو سکا تھا۔ اس لمحے تک جب انہیں ہائی سکول کے اندر
داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا، اس کے اعتماد میں کوئی دراڑ نہیں آئی تھی، لیکن جیسے
ہی اس نے اندر قدم رکھا، وہ اپنے حواس کھو بیٹھا تھا۔
جب وہ مضمون
لکھنے کے لیے بیٹھا تو اس نے عبث ہی یہ کوشش کی کہ چچا تھامس کا دامن نہ چھوڑے۔
چچا تھامس اچانک اس کے بے حد قریب آ گئے تھے، اس قدر قریب کہ ان کے بارے میں مضمون
لکھ پانا ممکن نہ رہا۔ اس نے صفحے کے اوپر مضمون کا عنوان لکھا: ’’ایک حیرت انگیز
یاد‘‘۔ اور اس کے نیچے لکھ دیا: ’’کاش زمین پر انصاف کا وجود ہوتا۔‘‘ جی ہاں، اس
نے لکھا تو ’’انصاف‘‘ ہی لیکن اس لفظ سے اس
کی مراد ’’انتقام‘‘ ہی تھا۔
اسے اس
میں دس سال سے زیادہ لگے تھے کہ وہ جب بھی انصاف کے بارے میں سوچے، اسے انتقام یاد
نہ آئے۔
ان دس سالوں
میں سب سے زیادہ تکلیف دہ عرصہ وہ ایک سال تھا جو امتحان میں ناکامی کے بعد آیا تھا:
وہ لوگ جنہیں تم اس لیے پیچھے چھوڑ دیتے تھے تاکہ تم ایک ایسی زندگی پر گامزن ہو
سکو جو صرف بظاہر بہتر دکھائی دیتی تھی، وہ اتنے ہی سخت گیر ہو سکتے تھے جتنے مکمل
طور پر جاہل وہ لاڈلے جن کے باپ کی ایک فون کال ان بہت سی رکاوٹوں کو راستے سے ہٹا
دیتی تھی جن کے لیے عام حالات میں مہینوں کی جدوجہد اور کوشش درکار ہوتی تھی؛ ماں
کی جانب سے ایک مسکراہٹ، اتوار کے روز چرچ میں عشائے ربانی کے بعد دعا کے لیے ہاتھ
اٹھانا اور تیزی سے ادا کیا جانے والا کوئی جملہ— دنیا کا انصاف بس یہی کچھ تھا؛
اور وہ دوسری چیز جس کا وہ ہمیشہ طلب گار رہا لیکن جسے وہ کبھی پا نہ سکا، وہی چیز
جس کی آرزو میں چچا تھامس جلتے رہے اور اسی کو پانے کی تمنا اس بات کا سبب بنی کہ
اسے ’’دانیال عادل‘‘ پکارا جانے لگا۔ جب چوکیدار نے دروازہ کھولا اور اُولی
کی ماں کو اندر آنے دیا، تو ہیمکے دہشت زدہ ہو کر اپنے حواس میں واپس آیا۔
اس نے کہا: ’’ماری
کیا—کیوں...۔‘‘
عورت نے
کہا: ’’دانیال میں...۔‘‘ لیکن اس نے عورت کی بات کاٹ دی اور سختی سے کہا: ’’میرے پاس
فی الحال وقت نہیں ہے، ایک لمحہ بھی نہیں۔‘‘ اور وہ کمرے سے باہر نکل کر اوپر کی منزل
پر چلا گیا۔ انتظار کرنے والی ماؤں کا شور و غل اوپر کی منزل تک کم ہی پہنچتا تھا۔
وہ صحن کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے پاس گیا۔ اس نے ہونٹوں میں سگریٹ دبائی،
لیکن اسے سلگانا بھول گیا۔ اس نے خود سے کہا: مجھے ان سب چیزوں سے گزرنے اور یہ
گیان حاصل کرنے میں تیس سال لگ گئے۔ میں نے اپنے نظریہ انصاف سے انتقام کو خارج کر
دیا ہے، میری اچھی خاصی آمدنی ہے، میں نے سخت گیر رُوپ دھار رکھا ہے اور اکثر
لوگوں کو یقین ہے کہ جو میں چاہتا تھا، وہ پا چکا ہوں ؛ لیکن میں نے اپنی
منزل ہنوز نہیں پائی؛ میں تو بس ابھی اس راستے پر قدم رکھ رہا ہوں—لیکن اب وقت آ
گیا ہے کہ اس کٹھور چہرے کو پرانی ٹوپی کی طرح اتار کر ایک طرف رکھ دوں۔ میں
ایک اور روپ اختیار کروں گا، شاید اپنا اصلی چہرہ...۔
اُس کے
دِل میں شدید خواہش تھی کہ وہ ویرزوک کو اس ایک سال کے انتظار کی اذیت سے بچا لے؛ وہ
کسی بھی بچے کو اس کوفت میں مبتلا نہیں دیکھنا چاہتا تھا جس میں کبھی وہ خود
گرفتار رہا تھا، کسی بھی بچے کو نہیں، خاص طور پر اس بچے کو، جسے اس نے اس طرح
دیکھا تھا گویا اپنا ہی بچپن دیکھ لیا ہو۔
°°°
ہائنرش بول کی مشہور کہانی
Daniel the Just کا یہ اردو ترجمہ لیلا وینووٹز اور بريون مِتشيل کے
انگریزی ترجمے سے کیا گیا ہے۔ کہانی کا اصل عنوان Daniel, der Gerechte ہے۔

Comments
Post a Comment