افسانہ نمبر752 : تیل || مصنف: یاسوناری کاواباتا (جاپان) || مترجم: حنظلہ خلیق (شرق پور)
افسانہ نمبر752 : تیل
مصنف:
یاسوناری کاواباتا (جاپان)
مترجم:
حنظلہ خلیق (شرق پور)
جب میں محض تین برس کا
تھا تو میرے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اگلے ہی برس والدہ بھی داغِ مفارقت دے
گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اپنے والدین کی کوئی ایک بات بھی یاد نہیں۔ یہاں تک کہ
میری ماں کی کوئی ایک تصویر بھی باقی نہ بچی۔ میرے والد ایک طرحدار اور وجیہہ انسان
تھے، اس لیے شاید انہیں اپنی تصویریں کھنچوانے کا ذوق تھا۔ جب ہم نے اپنا آبائی
مکان بیچا، تو کباڑ خانے سے والد کے مختلف ادوار کی کوئی تیس چالیس تصویریں میرے
ہاتھ آئیں۔ مڈل اسکول کے زمانے میں جب میں بورڈنگ میں رہتا تھا، تو ان میں سے سب
سے خوبصورت تصویر میں نے اپنی میز پر سجا رکھی تھی، مگر وقت کی دھول اور بار بار
کی نقل مکانی کے باعث وہ تمام تصویریں ایک ایک کر کے مجھ سے کھو گئیں۔ تصویر
دیکھنے سے میری کوئی یاد تازہ نہیں ہوتی تھی، اس لیے اگرچہ میں یہ تصور تو کر لیتا
تھا کہ یہ میرے ہی والد ہیں، مگر اس خیال سے دل میں کوئی حقیقی کسک یا جذباتی
وابستگی بیدار نہ ہوتی۔ لوگ مجھے ان کے قصے سناتے، مگر وہ سننا ایسا تھا جیسے کسی
اجنبی کا احوال سُنا جا رہا ہو۔ میں جلد ہی ان باتوں کو فراموش کر بیٹھا۔ ایک
مرتبہ نئے سال کے موقع پر، جب میں اوساکا کے سومی یوشی مندر کا سوری پل پار کرنے
والا تھا، تو میرے اندر ایک مبہم سا احساس جاگا؛ جیسے میں نے بچپن میں کبھی یہ پل
پار کیا ہو۔ میں نے اپنی کزن سے، جو اس وقت میرے ساتھ تھی، کہا کہ کیا میں نے کبھی
بچپن میں یہ پل پار کیا تھا؟ مجھے کچھ ایسا ہی گمان ہو رہا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ
ہاں، ہو سکتا ہے، جب تمہارے والد حیات تھے تو تم لوگ یہیں قریب ہی ساکائی اور
ہامادیرا میں رہتے تھے، وہ تمہیں یقیناً یہاں لائے ہوں گے۔ میں نے کہا کہ نہیں،
مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں نے یہ پل اکیلے ہی پار کیا تھا۔
اس پر کزن نے حیرت سے کہا کہ یہ تو سراسر ناممکن ہے، تین چار سال
کا بچہ اکیلا یہ خطرناک پل پار نہیں کر سکتا، تمہیں تمہاری ماں یا والد نے گود میں
اٹھایا ہو گا۔ میں نے دہرایا کہ شاید ایسا ہی ہو، مگر میری حس کہتی ہے کہ میں تنہا
ہی گزرا تھا۔ اس نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جب تمہارے والد کا انتقال ہوا تو
تم بہت چھوٹے تھے اور جنازے کے مہمانوں کی وجہ سے گھر میں ہونے والی چہل پہل دیکھ
کر پھولے نہیں سما رہے تھے، مگر جب تابوت کے تختے جوڑنے کے لیے کیلیں ٹھونکی جانے
لگیں تو تمہیں اس عمل سے شدید نفرت ہو گئی، تم کسی کو کیلیں نہیں ٹھونکنے دے رہے
تھے اور کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس وقت تمہاری اس ضد کا کیا علاج کیا
جائے۔ بعد میں جب میں ہائی اسکول میں داخلے کے لیے ٹوکیو آیا، تو میری خالہ نے
مجھے دس سال بعد دیکھا۔ وہ ایک بھرپور جوان کے روپ میں مجھے دیکھ کر دنگ رہ گئیں
اور کہنے لگیں کہ بچے تو والدین کے بغیر بھی پل بڑھ جاتے ہیں، اگر آج تمہارے ماں
باپ زندہ ہوتے تو تمہیں دیکھ کر نہال ہو جاتے۔ جب تمہارے والد کا انتقال ہوا اور
پھر جب تمہاری والدہ بھی چل بسیں، تو تم اس قدر ضدی اور کج رو ہو گئے تھے کہ میری
عقل کام نہیں کرتی تھی۔ تمہیں اس گھنٹی کی آواز سے سخت چِڑھ تھی جو خاندانی قربان
گاہ کے سامنے بجائی جاتی ہے، وہ آواز سنتے ہی تم اس قدر روتے اور واویلا مچاتے کہ
ہم نے وہ گھنٹی بجانا ہی چھوڑ دی۔ اس پر مستزاد یہ کہ تم مجھ سے ضد کرتے کہ قربان
گاہ کے چراغ بجھا دوں۔ تم نے نہ صرف انہیں بجھانے کا اصرار کیا، بلکہ موم بتیاں
توڑ ڈالیں اور مٹی کے ظرف سے چراغ کا تیل نکال کر باغ میں بہا دیا۔ تمہارا غصہ کسی
طور ٹھنڈا ہونے میں نہیں آتا تھا اور تمہارے والد کے جنازے پر تمہاری ماں تمہاری
اس حرکت سے دلبرداشتہ ہو کر زار و قطار رو پڑی تھیں۔
مجھے ان باتوں میں سے کچھ بھی یاد نہ تھا، نہ تو کزن کی کہی ہوئی
یہ بات کہ میں والد کے جنازے پر گھر کی گہما گہمی دیکھ کر خوش ہو رہا تھا اور نہ
ہی یہ کہ میں نے ان کے تابوت پر کیلیں ٹھونکنے سے روکا تھا۔ تاہم، خالہ کی باتوں
سے مجھے ایک ایسی گہری اپنائیت اور مانوسیت کا احساس ہوا جو انسان کو تب ہوتا ہے
جب بچپن کا کوئی بچھڑا ہوا لنگوٹیا یار اچانک سامنے آ کھڑا ہو۔ میرے ذہن کے پردے
پر اپنے بچپن کا چہرہ ابھر آیا، یعنی ایک روتا ہوا بچہ جس نے مٹی کا کٹورہ پکڑ
رکھا تھا اور اس کے ہاتھ تیل سے لت پت تھے۔ خالہ کا یہ قصہ سنتے ہی میرے دل میں
اپنے پرانے گھر کے باغ میں کھڑے اس قدیم درخت کا نقشہ کھنچ گیا جس پر میں سولہ
سترہ سال کی عمر تک روزانہ چڑھا کرتا تھا اور کسی بندر کی طرح اس کی شاخ پر بیٹھ
کر کتابیں پڑھتا تھا۔ وہ جگہ جہاں میں نے تیل بہایا تھا، باغ میں وضو کے برتن کے
پاس، بیٹھک کے اس برآمدے کے قریب تھی جس کا رخ اسی درخت کی طرف تھا۔ مجھے یہ تمام
جزئیات یاد آ گئیں۔ لیکن جب میں غور کرتا ہوں تو میرے والد اور والدہ کا انتقال
اوساکا کے قریب دریائے یوڈو کے کنارے واقع مکان میں ہوا تھا، جبکہ میرے ذہن میں جو
تصویر ابھر رہی ہے، وہ وہاں سے میلوں دور شمال میں واقع ایک پہاڑی گاؤں کے گھر کے
برآمدے کی ہے۔ والدین کی وفات کے فوراً بعد ہم نے دریا کے کنارے والا مکان مسمار
کر دیا تھا اور اپنے آبائی گھر منتقل ہو گئے تھے۔ مجھے اس دریا والے گھر کا کچھ
بھی یاد نہیں، اسی لیے میں نے یہ فرض کر لیا کہ مٹی کا برتن پکڑے ہوئے تیل بہانے
کا واقعہ اسی پہاڑی گاؤں کے گھر کا ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ جگہ کسی پتھر کے
برتن کے پاس ہی ہو، بلکہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ مٹی کا وہ ظرف میری ماں یا دادی نے
سنبھال رکھا ہو۔ مزید یہ کہ میں ان دو الگ الگ اموات کو ایک ہی بیتے ہوئے واقعے کے
طور پر یاد رکھ پاتا ہوں۔ یہاں تک کہ میری خالہ بھی اب تفصیلات بھول چکی ہیں۔
جنہیں میں اپنی ٹھوس یادیں سمجھتا ہوں، وہ شاید محض میرے دن کے خواب اور واہمے
ہیں۔ اس کے باوجود، میری جبلت ان ادھوری یادوں کے لیے یوں تڑپتی ہے جیسے وہ عین
حقیقت ہوں، خواہ وہ کتنی ہی مشکوک یا مسخ شدہ کیوں نہ ہوں۔ میں یہ بھول چکا ہوں کہ
یہ محض وہ کہانیاں تھیں جو میں نے دوسروں کی زبانی سنی تھیں، اب ان کے ساتھ ایسی
اپنائیت محسوس ہوتی ہے جیسے یہ میرے اپنے بیتے ہوئے لمحے ہوں۔ خالہ کے اس قصے نے
مجھ پر ایک جادوئی اثر چھوڑا، جیسے اس حکایت کی اپنی ہی کوئی روح اور الگ زندگی
ہو۔
میرے والدین کی وفات کے چند برس بعد جب میری دادی کا انتقال ہوا
اور پھر اس کے کچھ عرصے بعد میری بڑی بہن بھی چل بسیں، تو دادا جان جب بھی مجھے
خاندانی قربان گاہ کے سامنے دعا کے لیے کہتے، ان کا ایک مستقل معمول تھا کہ وہ
ہمیشہ مٹی کے چراغ کی لو سے موم بتیاں روشن کر دیا کرتے تھے۔ جب تک میں نے خالہ کی
زبانی وہ قصہ نہیں سنا تھا، مجھے کبھی اس بات پر حیرت نہیں ہوئی کہ دادا ایسا کیوں
کرتے تھے۔ یہ بات محض ایک خاموش یاد بن کر ذہن میں محفوظ رہی۔ ایسا نہیں تھا کہ
مجھے مٹی کے چراغوں کی روشنی یا گھنٹی کی آواز سے کوئی پیدائشی بیر تھا۔ دادی اور
بہن کے جنازوں کے وقت مجھے تیل کے چراغ کی روشنی سے کوئی سروکار نہیں تھا، کیونکہ
میں یہ بھول چکا تھا کہ میں نے اپنے والدین کے جنازوں پر کسی بپھرے ہوئے جذبے کے
تحت تیل بہا دیا تھا۔ میرے دادا نے کبھی مجھے تیل کے چراغ کے سامنے سر جھکانے پر
مجبور نہیں کیا۔ اب خالہ کی کہانی سن کر میں پہلی بار اپنے دادا کے اس گہرے اور
خاموش غم کو سمجھ پایا جو اس برتاؤ کے پیچھے پوشیدہ تھا۔ یہ بات کتنی ہی عجیب کیوں
نہ لگے کہ اگرچہ میری خالہ کے مطابق میں نے اپنے والدین کے جنازے پر موم بتیاں توڑ
دی تھیں اور تیل بہا دیا تھا، پھر بھی میرے دادا روشنی کو موم بتیوں ہی پر منتقل
کرتے تھے۔ مجھے تیل بہانے کا تو مبہم سا دھندلا نقش یاد ہے، لیکن موم بتیاں توڑنا
بالکل یاد نہیں۔ موم بتیوں والا حصہ غالباً میری خالہ کی کمزور یادداشت کا نتیجہ
تھا یا انہوں نے قصے میں رنگ بھرنے کے لیے مبالغہ آرائی کی تھی۔ درحقیقت، وہ
خاندانی قربان گاہ کے تیل کے چراغ کی روشنی ہی تھی جو میرے دادا نے مجھے کبھی
دیکھنے نہیں دی؛ تاہم، مڈل اسکول میں داخل ہونے تک، ہم دونوں تیل کے چراغوں کی
دھیمی روشنی ہی میں زندگی بسر کرتے رہے۔ میرے دادا کی بینائی انتہائی کمزور تھی،
اس لیے اندھیرے یا اجالے سے انہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔ ہم مٹی کے تیل کی
جدید لالٹینوں کے بجائے پرانے طرز کے روایتی چراغ ہی استعمال کرتے تھے۔
اپنے والد کی ضعیف جثہ اور کمزور جسمانی ساخت ورثے میں پانے کے
ساتھ ساتھ میں نو ماہ پورے ہونے سے ایک مہینہ پہلے ہی پیدا ہو گیا تھا۔ مجھے دیکھ
کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں زندہ بچ پاؤں گا۔ ابتدائی اسکول شروع کرنے تک
میں چاول چھوتا تک نہیں تھا۔ مجھے بہت سے کھانوں سے رغبت نہیں تھی، لیکن جس چیز سے
مجھے سب سے زیادہ گھن تھی وہ سرسوں کا تیل تھا۔ اگر میں کوئی ایسی چیز منہ میں
رکھتا جس سے سرسوں کا تیل کی ذرا سی بھی بو آتی، تو مجھے فوراً ابکائی آ جاتی۔
بچپن میں مجھے تلے ہوئے انڈے اور انڈے کے رول بہت پسند تھے، لیکن اگر مجھے ذرا بھی
گمان ہو جاتا کہ توے پر سرسوں کا تیل گیا ہے، تو مجھے اس سے کراہیت ہونے لگتی،
خواہ مجھے اس کی بو محسوس نہ بھی ہو رہی ہو۔ میں انڈے صرف اسی صورت میں کھاتا جب
میری دادی یا ملازمہ انڈے کی وہ نچلی سطح چھیل کر الگ کر دیتیں جو توے سے چھوئی
ہوتی تھی۔ میری اس کم خوراکی کی وجہ سے وہ روزانہ اس کٹھن اور صبر آزما عمل سے
گزرتیں۔ ایک بار، جب چراغ سے تیل کا ایک قطرہ میرے کیمونو پر گر کر جذب ہو گیا، تو
وہ مجھے اسے دوبارہ پہننے پر راضی نہ کر سکیں۔ صرف تب ہی جب انہوں نے اس جگہ کو
کاٹ کر وہاں دوسرا کپڑا ٹانکا، میں نے اسے ہاتھ لگایا، اگرچہ تب بھی میرے دل کی بے
چینی پوری طرح دور نہ ہوئی تھی۔
آج کے دن تک میں تیل کی بو کے معاملے میں حد سے زیادہ حساس ہوں۔
میں اب تک یہی سمجھتا تھا کہ یہ محض میری ایک طبعی ناپسندیدگی ہے، لیکن جب میں نے
اپنی خالہ کی زبان سے یہ سارا احوال سنا، تو مجھے پہلی بار اندازہ ہوا کہ میرا
اپنا چھپا ہوا غم اس بیانیے میں کس طرح رچا ہوا تھا۔ مجھ جیسے بچے کے لیے، جو
قربان گاہ کے تیل کے چراغ سے بدکتا تھا، شاید میرے والدین کی موت میرے دل میں تیل
کی کڑوی بو کی طرح بیٹھ گئی تھی۔ جب خالہ کی بات سن کر یہ عقدہ مجھ پر کھلا، تو
میری یادداشت کے کسی اندھیرے گوشے سے ایک پرانا خواب ابھر کر سامنے آیا۔ مٹی کے بے
شمار جلتے ہوئے چراغ تھے، جو فضا میں ایک قطار میں لٹکے ہوئے تھے، بالکل اسی طرح
جیسے میں نے بچپن میں ایک پہاڑی میلے کے موقع پر مندر میں سینکڑوں فانوس لٹکے
دیکھا تھے۔ تلوار بازی کا ایک استاد، جو ایک عیار اور بدمعاش شخص تھا، مجھے ان
روشنیوں کے سامنے لے گیا اور بولا کہ اگر تم اس بانس کی تلوار سے مٹی کے ان برتنوں
کو بالکل درمیان سے دو ٹکڑے کر سکو، تو میں تمہیں شمشیر زنی کے پوشیدہ اسرار و
رموز سکھا دوں گا۔ چونکہ میرے پاس مٹی کے ان کچے برتنوں کو گرانے کے لیے بانس کی
ایک وزنی تلوار کے سوا کچھ نہ تھا، اس لیے وہ ضرب لگتے ہی مٹی کا ڈھیر بن گئے اور صفائی
سے دو ٹکڑوں میں نہ ٹوٹے۔ میں نے اندھا دھند ان سب کو چکنا چور کر دیا، اور جب
مجھے ہوش آیا تو ہر چراغ بجھ چکا تھا اور میرے چاروں طرف گپ اندھیرا تھا۔ اس مکار
تلوار باز نے مجھے دھوکا دیا تھا اور میں وہاں سے الٹے قدموں بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر
میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے ایسا خواب کئی بار دیکھا تھا۔ اب جب میں خالہ کی کہانی
کے تناظر میں اس پر غور کرتا ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ بچپن میں والدین کو
کھو دینے کا جو روگ میرے اندر چھپا ہوا تھا، یہ خواب دراصل میرے اندر موجود اس درد
کے خلاف ایک مسلسل مدافعت کا اظہار تھا۔ جس لمحے میں نے خالہ کا وہ قصہ سنا، مجھے
یوں لگا جیسے میری یادداشت میں بکھرے تمام غیر مربوط واقعات ایک نقطے پر یکجا ہو
گئے ہوں اور ایک دوسرے کا استقبال کر رہے ہوں۔ میں نے محسوس کیا کہ میرا دل ہلکا
ہو گیا ہے اور میں بچپن کے اس سانحے کے اثرات پر نئے سرے سے غوروخوض کرنے کے قابل
ہو گیا ہوں۔
اپنی نوجوانی کے دور میں، میں اکثر اس یتیمی کے دکھ پر شیریں آنسو
بہایا کرتا تھا، بالکل اسی طرح جیسے میں نے اپنے والد کی تصویریں اپنی میز پر سجا
رکھی تھیں۔ میں اپنے دوستوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے
دیتا۔ مگر جلد ہی حقیقت پسندی نے مجھے یہ احساس دلایا کہ میں یتیمی کے اصل غم سے
کوسوں دور تھا اور میرے لیے اسے سمجھنے کا کوئی راستہ بھی نہ تھا۔ یتیم کا دکھ
دراصل ان دو پہلوؤں کو جاننے کا نام ہے کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو زندگی کا رنگ کیسا
ہوتا، اور چونکہ وہ دنیا میں نہیں رہے اس لیے زندگی کا روپ کیا ہو گیا ہے۔ لیکن
چونکہ وہ واقعی رخصت ہو چکے تھے، اس لیے اب صرف خدا ہی جانتا ہے کہ اگر وہ حیات
ہوتے تو حالات کا رخ کیا ہوتا۔ چنانچہ ان والدین کی موت پر جو آنسو میں نے بہائے،
جن کے چہرے تک مجھے یاد نہیں تھے، وہ محض ایک بچکانہ جذباتیت کا کھیل تھا۔ اس میں
شک نہیں کہ ان کی موت نے میری روح کو گھائل کیا تھا، مگر یہ زخم مجھ پر اسی وقت
آشکار ہو سکتا تھا جب میں بوڑھا ہو جاتا اور اپنی گزری زندگی پر پیچھے مڑ کر
دیکھتا۔ میں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ تب تک میں محض روایتی جذباتی تقاضوں کے مطابق
یا ادبی اسلوب میں غم کا اظہار کرتا رہوں گا۔ میرا دل اس مصنوعی غم کے لیے بالکل
تیار تھا۔ لیکن جب ہائی اسکول کے ہاسٹل میں میری زندگی کچھ پرسکون اور آزاد ہوئی،
تو مجھے آخر کار یہ ادراک ہوا کہ
یہ میری اپنی ہی کج روی اور ضد تھی جس نے میری شخصیت کو مسخ کر دیا تھا۔ میرے
جذبات میرے زخموں اور میری کمزوریوں کو ہوا دے رہے تھے اور اسی خود ترسی کی وجہ سے
میں نے خود کو اپنے رنج و غم کا مداوا کرنے سے روک رکھا تھا۔ تھیٹر، پارک یا دیگر
مقامات پر ہنستے کھیلتے خاندانوں کو دیکھ کر، یا بچوں کو اکٹھے کھیلتے پا کر میں
مقناطیس کی طرح ان کی طرف کھنچا چلا جاتا؛ اور جب مجھے احساس ہوتا کہ میں اس سحر
میں گرفتار ہو چکا ہوں، تو میرا دل بھر آتا اور میں خود کو بے وقوف کہہ کر ملامت
کرنے لگتا۔ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ میں سخت غلطی پر تھا۔ جس طرح میں نے اپنے
والد کی تمام تصویریں کھو دیں، اسی طرح مجھے اپنے مرحوم والدین کے غم کا اسیر نہیں
رہنا چاہیے اور نہ ہی اپنے اندر یتیمی کی روح کو پالتے رہنا چاہیے۔ میری روح واقعی
بہت خوبصورت ہے۔ یہ وہ جذبات تھے جن کے ساتھ میں نے بیس سال کی عمر میں انسانی
زندگی کے روشن اور کھلے میدان میں قدم رکھا۔ مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ میں خوشی
کے بہت قریب پہنچ رہا ہوں اور چھوٹی سے چھوٹی خوش قسمتی بھی مجھے نہال کرنے لگی۔
میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا مجھے بس اسی چیز کی ضرورت ہے؟ چونکہ میں نے اپنا
بچپن اس طرح نہیں گزارا جیسے ایک عام بچے کو گزارنا چاہیے، اس لیے اب ایک بچے کی
طرح خوشیاں منانا بالکل بجا ہے۔ اس طرح میں نے اپنے ہی سوال کا جواب دیا اور خود
کو ایک نئے روپ میں ڈھلنے کی مہلت دی۔ میرا یہ پختہ ایمان تھا کہ آنے والی یہ
اکیلی, شاندار خوشی مجھے میری یتیمی کے احساسِ کمتری سے ہمیشہ کے لیے پاک کر دے
گی۔ میں اس وقت اپنی نئی زندگی کو دیکھنے کے لیے اسی طرح بے چین تھا، جیسے ہسپتال
کے اندھیرے کمرے میں طویل قیام کے بعد کوئی مریض باہر نکلے اور پہلی بار لہراتے
کھیتوں کی ہریالی دیکھے۔
خالہ نے جو کہانی مجھے سنائی تھی، وہ میرے اندر ایک نئی زندگی پا
چکی تھی اور اس نے میرے جذبات کا رخ بدل کر رکھ دیا تھا۔ مجھے اچانک یہ شدید احساس
ہوا کہ میں اس دیرینہ تکلیف سے نجات پا چکا ہوں جو میرے والدین کی موت نے مجھے دی
تھی۔ میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ میں اب کوئی ایسی غذا کھا کر دیکھوں گا جس سے
سرسوں کا تیل کی بو آتی ہو۔ اور حیرت انگیز طور پر، میں اسے کھانے میں کامیاب رہا۔
میں نے کچھ سرسوں کا تیل خریدا، اس کا کچھ حصہ اپنی انگلی پر لگایا اور اسے چکھ
لیا۔ میری ناک اس بو کے لیے اب بھی حساس تو تھی، لیکن اس بو نے مجھے زچ نہیں کیا۔
میں خوشی سے چلا اٹھا کہ یہی تو ہے، یہی تو ہے! اس تبدیلی کی تشریح کے کئی طریقے
ہو سکتے ہیں۔ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں تھا، محض نجات ملنے کی
خوشی طبعی کراہیت پر غالب آ گئی، خواہ تیل سے میری پیدائشی نفرت کا میرے والدین کی
موت سے کوئی تعلق نہ رہا ہو۔ لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں، خواہ یہ کتنا ہی غیر
معقول کیوں نہ لگے، کہ اگرچہ میں اپنے والدین کی موت کے غم، جو قربان گاہ کے
چراغوں کی روشنیوں میں بستا تھا، اور اس تیل سے میری نفرت کے درمیان سبب اور اثر
کے تعلق کو فراموش کر چکا تھا، مگر میری یہ نفرت دراصل ماضی کے حادثاتی تال میل کا
نتیجہ تھی۔ میں اس بات پر یقین کرنا چاہتا ہوں کہ تیل کی اس نفرت سے چھٹکارا ملنا
اس بات کا بین ثبوت ہے کہ میرا ایک پرانا زخم بھر چکا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ بچپن
میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو کھو دینے کے اثرات مجھ سے اس وقت تک کبھی پوری طرح
ختم نہیں ہوں گے جب تک کہ میں خود کسی کا شوہر اور کسی کا باپ نہ بن جاؤں اور خونی
رشتہ داروں کے حصار میں نہ آ جاؤں۔ لیکن مجھے امید ہے کہ، بالکل اس تیل کے تجربے
کی طرح، زندگی کے حادثاتی واقعات مجھے میرے دل کے تاریک اور مسخ شدہ گوشوں سے بار
بار نجات دلاتے رہیں گے۔ اب میرے اندر یہ خواہش روز بروز انگڑائیاں لے رہی ہے کہ
میری صحت مثالی رہے، میں لمبی عمر پاؤں، اپنی روح کی تربیت کروں اور اپنی زندگی کا
حقیقی مقصد پورا کروں۔ تیل کے اس تجربے پر مسکراتے ہوئے میں نے سوچا کہ اب مجھے
اپنی صحت کے لیے مچھلی کا تیل لینا چاہیے اور یہ کہ اب میں روزانہ ایسی بو دار اور
چکنی چیز باآسانی نگل سکتا ہوں۔ مزید یہ کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں جب بھی یہ
تیل لوں گا، تو میں اپنے جسم و جاں میں اپنے مرحوم والدین کے لیے احترام کا ایک
نیا عنصر شامل کر رہا ہوں گا۔ اب میرے دادا کو فوت ہوئے بھی تقریباً دس برس بیت
چکے ہیں۔ میں تخیل میں ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ اب روشنی زیادہ تیز ہے، ہے
نا؟ اور یہ کہتے ہوئے، میں اپنے والدین کی ارواح کے لیے قربان گاہ پر تیل کے سو
چراغ روشن کرنا چاہتا ہوں۔
جولائی 1927ء
انگریزی میں عنوان : Oil
مصنف:
Yasunari Kawabata
(Nobel Prize Winner)

Comments
Post a Comment