افسانہ نمبر 750 : استانی کا مہمان || تحریر : ازابیل آئندے (چلی) || ترجمہ : جاوید بسام (کراچی)

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

 افسانہ نمبر 750  : استانی کا مہمان

تحریر : ازابیل آئندے (چلی)

ترجمہ : جاوید بسام (کراچی)

 


 

اُس دن جب بازار سنسان پڑا تھا، استانی اِنیس، ’مشرق کا موتی‘ نامی دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی کاؤنٹر کی طرف بڑھی۔ جہاں ریاد حلابی شوخ پھول دار کپڑے کا تھان لپیٹ رہا تھا۔ وہ بولی۔ ”میں نے سرائے کے ایک مہمان کا سر قلم کر دیا ہے۔

 

حلابی نے گھبرا کر جیب سے رومال نکالا اور منہ پونچھا۔ پھر بڑبڑایا۔اِنیس، تم کیا کہہ رہی ہو؟

 

ترک! وہی جو تم نے سنا ہے۔

 

کیا... وہ مر گیا؟

 

ہاں۔

 

اچھا۔۔۔ اب کیا کرنا ہے؟

 

یہی معلوم کرنے تمہارے پاس آئی ہوں۔“ اِنیس نے پیشانی پر بکھری ہوئی لٹ سمیٹتے ہوئے جواب دیا۔

 

ریاد حلابی نے آہ بھری اور بولا۔ ”ذرا ٹھہرو، میں احتیاطاً دروازہ بند کر دوں۔

 

وہ دونوں اتنے برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے تھے کہ انہیں اب یہ بھی یاد نہیں تھا کہ ان کی دوستی کو کتنا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن پہلی ملاقات کا ہر منظر آج بھی دونوں کے دلوں میں محفوظ تھا۔ اس زمانے میں ریاد حلابی ایک خانہ بدوش سوداگر تھا، جو دیہات اور قصبوں کی خاک چھانتا اور اپنا سامان فروخت کرتا پھرتا تھا۔ وہ ایک عرب تارکِ وطن تھا، جس کے پاس ترکی کا جعلی پاسپورٹ تھا۔ وہ تنہا، تھکا ماندہ اور زندگی کی دھول سے اٹا ہوا نظر آتا تھا۔ اس کا کٹا ہوا تالو اسے ہمیشہ دوسروں میں نمایاں کرتا تھا۔ وہ اس آرزو میں سرگرداں رہتا کہ کسی گوشہ عافیت میں ٹک کر مستقل سکون حاصل کر سکے۔ دوسری طرف اِنیس ابھی جوان تھی۔ بھرپور جسم، باوقار چال اور پورے قصبے  کی واحد استانی، اور ایک بارہ سالہ بیٹے کی ماں بھی، جو ایک مختصر سی محبت کی یادگار تھا۔ اس کا بیٹا اس کی زندگی کا مرکز تھا۔ وہ اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی، اگرچہ اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ اسے آنکھوں کا تارا بنا کر رکھے، لیکن وہ دوسرے بچوں کی طرح اس پر سختی بھی کرتی تھی، تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ وہ اپنے بیٹے کو لاڈ پیار میں بگاڑ رہی ہے۔ علاوہ ازیں وہ اس سرکشی کو بھی قابو میں رکھنا بھی چاہتی تھی جو لڑکے نے اپنے باپ سے ورثے میں پائی تھی۔

 

جس شام حلابی قصبہ اگوا سانتا میں داخل ہوا، عین اسی وقت قصبے کے دوسرے سرے سے چند لڑکے اِنیس کے بیٹے کی لاش ایک عارضی اسٹریچر پر اٹھائے لا رہے تھے۔ لڑکا درخت سے گرا ہوا ایک آم اٹھانے کے لیے کسی باغ میں داخل ہوا تھا۔ باغ کا مالک ایک اجنبی شخص تھا، جسے قصبے کے لوگ زیادہ نہیں جانتے تھے، اس نے لڑکے کو ڈرانے کے لیے فائر کیا۔ مگر گولی سیدھی لڑکے کی پیشانی میں جا لگی۔ جس سے وہاں ایک سوراخ ہوگیا اور اس کی روح فوراً نکل گئی۔ اسی لمحے ریاد حلابی کی فطری قائدانہ صلاحیتیں جاگ اٹھیں۔ جانے کیسے، اس نے تمام معاملات فوراً اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ اس نے غم سے نڈھال ماں کو تسلی دی، تدفین کے انتظامات یوں کیے گویا خاندان کا فرد ہو، اور مشتعل ہجوم کو روکنے کی کوشش کی جو قاتل کو سزا دینے کے لیے بے تاب تھا۔ ادھر قاتل یہ سمجھ گیا تھا کہ اگر وہ وہاں رکا تو اس کی جان بچنا مشکل ہے، چنانچہ وہ فرار ہو گیا اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔

 

اگلی صبح ریاد حلابی اس جلوس کی قیادت کر رہا تھا جو قبرستان سے اس مقام تک گیا، جہاں لڑکا مارا گیا تھا۔ اس دن اگوا سانتا کے باشندے آم ڈھونڈتے رہے اور انہیں اس مکان کی کھڑکیوں سے اندر پھینکتے رہے، یہاں تک کہ گھر چھت تک آموں سے بھر گیا۔ چند ہفتوں بعد سورج کی گرمی نے ان پھلوں کو سڑا دیا۔ آم پھٹنے لگے، ان کا گاڑھا رس بہہ کر دیواروں میں جذب ہونے لگا۔ وہ سنہرا، میٹھا، پیپ نما مادہ پورے مکان کو ایک دیوقامت، گلے سڑے جانور کی مانند بنا رہا تھا، جس پر بھوکے کیڑے مکوڑوں اور مچھروں نے یلغار کردی تھی۔

 

اِنيس کے بیٹے کی ناگہانی موت، اس دوران ریاد حلابی کا کردار اور قصبے کے لوگوں کی طرف سے ملنے والی پزیرائی، ان سب نے اس کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا۔ اس نے اپنے آوارہ گرد آباؤ اجداد کی روایت کو خیرباد کہا اور اسی گاؤں میں بس گیا۔ اس نے ’مشرق کا موتی‘ کے نام سے دکان کھولی، شادی کی، پہلی بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی کی اور اپنا کاروبار جاری رکھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی شہرت ایک منصف مزاج اور نیک انسان کے طور پر بڑھتی گئی۔

 

دوسری طرف اِنیس نسل در نسل بچوں کو تعلیم دیتی رہی۔ وہ ہر بچے سے ویسی ہی محبت کرتی، جیسی اپنے بیٹے سے کرتی تھی۔ آخرکار وہ دن آیا جب عمر اور تھکن نے اسے تدریس چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور اس نے شہر سے نئے آنے والے استاد کے لیے جگہ خالی کر دی۔ اسکول سے ریٹائرمنٹ کے بعد اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ بڑھاپا کتنی تیزی سے آتا ہے۔ دن یوں گزر جاتا کہ اسے یاد بھی نہ رہتا کہ اتنے گھنٹے کہاں گئے۔ ایک دن اس نے حلابی سے کہا۔ ”ترک! مجھے لگتا ہے میں پاگل ہو رہی ہوں۔ شاید میں مر رہی ہوں اور مجھے خبر بھی نہیں۔

 

حلابی مسکرایا اور بولا۔ ”خدا تمہیں سلامت رکھے، تم بالکل ٹھیک ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ تم فارغ ہو اور بور ہو رہی ہو۔ ہمارے قصبے میں کوئی سرائے نہیں ہے، ایسا کرو اپنے گھر میں چند کمرے اور تعمیر کروا لو اور مسافروں کو ٹہرانا شروع کر دو۔

 

مگر یہاں مسافر کب رکتے ہیں؟“اِنیس نے اعتراض کیا۔

 

جب سرائے ہوگی تو رکے گے۔ سفر کرنے والے کے لیے صاف بستر اور گرم ناشتہ کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے۔

 

اس کا اندازہ واقعی درست ثابت ہوا۔ تیل کمپنی کے ٹرک ڈرائیور استانی اِنیس کے سب سے بڑے گاہک بن گئے۔ یہاں انہیں تھکن اور تنہائی سے نجات ملتی اور وہ چند گھڑیاں سکون سے گزار سکتے تھے۔

 

اِنیس، جو کبھی اسکول کی استانی رہی تھی، پورے اگوا سانتا کی سب سے زیادہ معزز خاتون سمجھی جاتی تھی۔ اس نے کئی دہائیوں تک قصبے کے بچوں کو تعلیم دی تھی۔ اس بنا پر اسے یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ ان کی زندگیوں میں مداخلت کر سکے اور ضرورت پڑنے پر ان کے کان بھی کھینچے۔ نوجوان لڑکیاں اپنے محبوبوں کی منظوری حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس لاتیں، میاں بیوی اپنے خانگی جھگڑے اس کے سامنے پیش کرتے۔ وہ مشیر بھی تھی، ثالث بھی اور منصف بھی۔ قصبے کے تمام معاملات میں اس کی رائے حتمی سمجھی جاتی تھی۔ حقیقت تو یہ تھی کہ اس کا اختیار پادری، ڈاکٹر اور پولیس تینوں سے بڑھ کر تھا اور کوئی بھی اس کے اقتدار میں رکاوٹ ڈالنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔

 

ایک دن وہ سیدھی تھانے میں داخل ہوئی۔ لیفٹیننٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے دیوار پر لٹکی چابی اتاری، حوالات کا دروازہ کھولا اور اپنے ایک سابق شاگرد کو باہر نکالا، جسے نشے میں ہنگامہ آرائی کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ افسر نے اسے روکنے کی کوشش کی، مگر اس نے اسے ایک طرف دھکیل دیا اور لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر باہر لے آئی۔ سڑک پر پہنچ کر اس نے اسے دو چار تھپڑ رسید کیے اور تنبیہ کی۔ ”اگر دوبارہ ایسا ہوا تو میں تمہاری پتلون اتار کر ایسی درگت بناؤں گی کہ عمر بھر یاد رکھو گے۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

جس دن اِنیس نے ریاد حلابی کو بتایا کہ اس نے اپنے ایک مہمان کو قتل کر دیا ہے، ریاد نے ایک لمحے کے لیے بھی اس کی بات پر شک نہیں کیا، کیوں کہ وہ اسے بہت اچھی طرح جانتا تھا۔

اِنیس نے اس کا بازو تھاما اور دونوں ’مشرق کا موتی‘ نامی دکان سے اس کے گھر کی طرف پیدل چل دیے جو دو بلاک کا فاصلے پر تھا۔

 

وہ قصبے کی شاندار ترین عمارتوں میں سے ایک تھی، مٹی اور لکڑی سے بنی ہوئی، کشادہ برآمدے کے ساتھ، جہاں گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں جھولے لٹکائے جاتے تھے، اور ہر کمرے میں چھت کے پنکھے نصب تھے۔ اس وقت عمارت سنسان معلوم ہوتی تھی۔ صرف ایک مہمان بیٹھک میں بیٹھا بیئر پی رہا تھا اور ٹیلی ویژن کی جانب خالی خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

 

وہ کہاں ہے؟“ عرب تاجر نے سرگوشی کی۔

 

پچھلے کمروں میں سے ایک میں۔“ اِنیس نے بغیر کسی تردد کے بلند آواز میں جواب دیا۔

 

وہ اسے کمروں کی قطار کی طرف لے گئی۔ تمام کمرے ایک محرابی راہداری سے جڑے ہوئے تھے، جس کے ستونوں پر بنفشی پھولوں کی بیلیں چڑھی تھیں اور شہتیروں سے لٹکتے گملوں میں سرسبز فرن لہلہا رہے تھے ان کمروں کے سامنے ایک صحن تھا، جس میں بیر اور کیلے کے درخت اگے ہوئے تھے۔ اِنیس نے آخری کمرے کا دروازہ کھولا اور ریاد حلابی اندر داخل ہوا۔ کمرہ نیم تاریک تھا۔ پردے گرے ہوئے تھے اور اسے اندھیرے سے مانوس ہونے میں چند لمحے لگے۔ پھر اس کی نظر بستر پر پر جا ٹھہری۔ وہ ایک بوڑھا اور بے ضرر سا اجنبی آدمی تھا، مگر اب اپنی موت کے گڑھے میں پڑا تھا۔ اس کی پتلون غلاظت سے آلودہ تھی۔ سر، دھڑ سے محض ایک باریک، زرد جلد کے ٹکڑے سے جڑا ہوا تھا۔ چہرے پر ایسی مایوسی منجمد تھی جیسے وہ اس تمام خونریزی، گندگی اور اپنی موت کے سبب پیدا ہونے والی زحمت کے لیے معافی مانگ رہا ہو، گویا اسے افسوس ہو کہ اس نے خود کو قتل ہونے دیا۔

 

ریاد حلابی کمرے کی واحد کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کی نظریں فرش پر جمی تھیں اور وہ اپنے معدے میں اٹھنے والی متلی کی لہر پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اِنیس بازو سینے پر باندھے کھڑی تھی۔ وہ اندازہ لگا رہی تھی کہ خون کے دھبے صاف کرنے میں دو گھنٹے  لگ جائیں گے، اور کم از کم دو دن اس کمرے سے فضلے اور خون کی بسی ہوئی بو ختم کرنے میں صرف ہوں گے۔

 

 

تم نے یہ کیسے کیا؟“ ریاد حلابی نے آخرکار پیشانی کا پسینہ پونچھتے ہوئے پوچھا۔

 

ناریل کاٹنے والی بڑی تیز دھار دار چھری سے۔ میں اس کے پیچھے سے آئی اور ایک ہی وار میں اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس کو یہ جاننے کا موقع بھی نہ ملا کہ کیا ہو رہا ہے۔

 

کیوں؟

 

مجھے ایسا کرنا ہی تھا۔ زندگی ایسی ہی ہے۔ ذرا سوچو، تقدیر یہی تو ہے۔ اس کی قسمت خراب تھی۔ اس کا اگوا سانتا میں رکنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ یہ محض یہاں سے گزر رہا تھا کہ اس کی گاڑی کے پہیے سے ایک پتھر اچھلا اور شیشہ توڑ گیا۔ اسے چند گھنٹے رکنا پڑا تاکہ اطالوی کاریگر نیا شیشہ لگا دے۔

 

وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی۔ہہ بہت بدل گیا ہے، شاید ہم سب ہی عمر کے ساتھ بدل جاتے ہیں، مگر میں نے اسے فوراً پہچان لیا۔ میں اتنے برسوں سے اس کا انتظار کر رہی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ یہ دیر سویر یہاں ضرور آئے گا۔

 

اس کی آواز میں عجیب سا ٹھہراؤ تھا۔”یہ وہی ہے... آموں والے گھر کا آدمی۔

 

اللہ رحم کرے۔“ ریاد حلابی نے دھیمی آواز میں کہا۔

 

کیا تم سمجھتے ہو کہ ہمیں لیفٹیننٹ کو بلانا چاہیے؟“ اِنیس نے پوچھا۔

 

ہرگز نہیں! تم ایسا کیوں کہتی ہو؟

 

کیوں کہ میں نے تو انصاف کیا ہے۔ اس نے میرے بیٹے کو مارا تھا۔

 

لیفٹیننٹ اس بات کو نہیں سمجھے گا۔

 

جان کے بدلے جان، دانت کے بدلے دانت، ترک ! کیا تمہارا مذہب یہ نہیں سکھاتا؟

 

لیکن قانون اس بات کو نہیں مانتا۔

 

تو پھر ہم لاش کو ذرا سا درست کر دیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اس نے خودکشی کی ہے۔

 

اسے ہرگز ہاتھ مت لگانا۔ سرائے میں کتنے مہمان ہیں؟“ حلابی نے استفسار کیا۔

 

صرف ایک ٹرک ڈرائیور۔ وہ گرمی کم ہوتے ہی دارالحکومت کے لیے روانہ ہو جائے گا۔

 

اچھا ہے۔ اب مزید کسی مہمان کو مت ٹھہرانا۔ اس کمرے کو تالا لگا دو اور میرا انتظار کرو۔ میں شام تک واپس آؤں گا۔

 

"تم کیا کرنا چاہتے ہو؟

 

میں کوشش کروں گا کہ معاملہ اپنے طریقے سے نمٹا سکوں۔“ حلابی نے کہا۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

ریاد حلابی پینسٹھ برس کا ہوچکا تھا، لیکن اس میں اب بھی وہی جوانی کا جوش اور ارادے کی مضبوطی باقی تھی جو برسوں پہلے مشتعل ہجوم کی قیادت کرتے وقت موجود تھی۔ وہ اِنیس کے گھر سے نکلا اور تیز قدموں سے اپنی پہلی منزل کی جانب روانہ ہوا۔ اگلے چند گھنٹوں میں ایک سرگوشی پورے گاؤں میں پھیل گئی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے برسوں کی نیند کے بعد اگوا سانتا کے باشندے اچانک گہری نیند سے جاگ گئے ہوں۔ گھر گھر ایک ایسی خبر پہنچ رہی تھی جو سننے والے کو چیخ کر دنیا کو بتانے پر آمادہ کرتی تھی، مگر اس حقیقت نے کہ اسے صرف سرگوشیوں میں بیان کیا جا سکتا ہے، اس کی اہمیت کو اور بڑھا دیا تھا۔

 

سورج غروب ہونے سے پہلے ہی فضا میں ایک عجیب سی بے چینی اور تناؤ تیرنے لگا۔ یہی بے نام اضطراب آنے والے برسوں میں اس قصبے کی شناخت بن گیا، حالاں کہ باہر سے آنے والوں کو کچھ غیر معمولی محسوس نہ ہوتا۔ ان کی نظر میں یہ جنگل کے کنارے آباد دوسرے قصبوں جیسا ایک عام سا قصبہ تھا۔

 

اس دن شام ہوتے ہی مرد مے خانے کا رخ کرنے لگے۔ عورتیں اپنی باورچی خانے کی کرسیاں اٹھا کر فٹ پاتھ پر لے آئیں اور ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونے بیٹھ گئیں۔ نوجوان جوق در جوق میدان میں جمع ہونے لگے، گویا اتوار کا دن ہو۔ لیفٹیننٹ اور اس کے سپاہیوں نے حسبِ معمول قصبے کا چکر لگایا، پھر کوٹھے کی لڑکیوں کی دعوت قبول کرلی، جو ان کے بقول کسی کی سالگرہ منا رہی تھیں۔

 

جب شام ڈھلی تو گلیاں آل سینٹس ڈے کے تہوار سے بھی زیادہ آباد تھیں اور عجیب بات یہ تھی کہ ہر شخص اپنے کام میں اس قدر انہماک دکھا رہا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے سب کسی فلم میں اپنا کردار ادا کر رہے ہوں۔ کوئی ڈومینو کھیل رہا تھا، کوئی رم پیتے ہوئے سگریٹ سلگا رہا تھا، کچھ لوگ گلی کے نکڑوں پر کھڑے گپیں ہانک رہے تھے، جوڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ٹہل رہے تھے، مائیں اپنے بچوں پر نظر رکھے ہوئے تھیں اور تجسس سے بھری بوڑھیاں کھلے دروازوں میں سے جھانک رہی تھیں۔ ادھر پادری نے گرجا گھر کے چراغ روشن کیے اور سینٹ اسیڈور کے اعزاز میں عبادت کے لیے گھنٹیاں بجانا شروع کر دیں، مگر اس رات کسی کا دل عبادت کی طرف مائل نہ تھا۔

 

رات ساڑھے نو بجے اسکول ٹیچر اِنیس کے گھر ایک خفیہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں ترک، قصبے کا ڈاکٹر، اور چار نوجوان شامل تھے جنہیں اِنیس نے پہلی جماعت سے پڑھایا تھا اور جو اب فوجی خدمت سے واپس آنے والے تنومند جوانوں میں ڈھل چکے تھے۔ ریاد حلابی انہیں پچھلے کمرے میں لے گیا۔ جہاں مکھیوں سے اٹی ہوئی لاش پڑی تھی۔ کھڑکی کھلی رہ گئی تھی، اسی لیے پورا کمرہ بھنبھناتی مکھیوں سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے مقتول کو موٹے ٹاٹ کے تھیلے میں ٹھونسا، پھر اسے اٹھا کر باہر لے گئے اور کسی خاص اہتمام یا رسم کے بغیر ریاد حلابی کے ٹرک کے پچھلے حصے میں ڈال دیا۔ پھر وہ قصبے سے ہوتے ہوئے مرکزی سڑک سے گزرے اور حسبِ معمول راستے میں ملنے والوں کو ہاتھ ہلا کر سلام کرتے رہے۔ کچھ پڑوسیوں نے معمول سے بڑھ کر گرمجوشی سے جواب دیا، جبکہ بعض نے جان بوجھ کر انہیں نظرانداز کیا، مگر ان کے ہونٹوں پر وہی دبی دبی مسکراہٹ تھی جو کسی شرارت میں شریک بچوں کے چہروں پر آ جاتی ہے۔ چاندنی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی۔ وہ اس جگہ پہنچے جہاں کئی برس پہلے اِنیس کے بیٹے نے آخری مرتبہ کسی اور کے باغ میں پھل توڑنے کے لیے قدم رکھا تھا۔

 

چمکتے چاند کی روشنی میں وہ اس زمین پر کھڑے تھے جو جھاڑیوں میں ڈھکی ہوئی اور بے توجہی اور تلخ یادوں کے بوجھ تلے ویران پڑی تھی۔ ڈھلوانوں پر آموں کے درخت اگ آئے تھے۔ شاخوں سے ٹوٹ کر گرنے والے پھل زمین پر سڑ جاتے، ان سے نئی کونپلیں پھوٹتیں اور مزید درخت جنم لیتے، یہاں تک کہ سبزے کی ایسی فصیل قائم ہوگئی تھی جسے عبور کرنا ناممکن تھا۔ اس خودرو جنگل نے باڑیں، راستے یہاں تک کہ مکان کے کھنڈر بھی نگل لیے تھے۔ پرانے گھر کی موجودگی کا واحد نشان صرف آم کے گودے کی مدھم اور دائمی خوشبو تھی، جو ابھی ہوا میں باقی تھی۔

 

مردوں نے مٹی کے تیل کی لالٹینیں روشن کیں اور ہاتھوں میں لمبی چُھریاں لیے جھاڑیوں میں اتر گئے۔ وہ گھنی جھاڑیوں کو کاٹتے ہوئے آگے بڑھتے رہے، جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ کافی اندر آگئے ہیں۔ تب ایک شخص نے زمین کے ایک مخصوص حصے کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں ایک دیوقامت آم کے درخت کے نیچے جس کی شاخیں پھلوں کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھیں، انہوں نے گہرا گڑھا کھودا اور ٹاٹ کا تھیلا اس میں اتار دیا۔ مٹی ڈالنے سے پہلے ریاد حلابی نے ایک مختصر سی دعا پڑھی، کیوں کہ اسے کوئی اور دعا نہیں آتی تھی۔ آدھی رات کے قریب وہ واپس گاؤں لوٹے۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے گھر جانے کا نہیں سوچا تھا۔ تمام کھڑکیوں میں روشنیاں جل رہی تھیں اور لوگ بدستور گلیوں میں آ جا رہے تھے۔

 

اُدھر استانی اِنیس نے پچھلے کمرے کا فرش اور پلنگ صابن سے دھو ڈالے تھے، بستر کی چادریں جلا دی تھیں، گھر کو اچھی طرح ہوا لگا کر صاف ستھرا کر دیا تھا اور اب اپنے دوستوں کی منتظر ایک آراستہ میز کے پاس ناؤ نوش کا سامان لیے بیٹھی تھی۔ اس نے ان کے لیے عمدہ کھانا تیار کیا تھا، میز پر رم اور انناس کے رس کا ایک جگ بھی رکھا تھا۔ کھانے کے دوران خوش گپیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ گفتگو مرغوں کی لڑائی کے گرد گھومتی رہی، جسے استانی اِنیس ایک وحشیانہ مشغلہ سمجھتی تھی۔ مگر مردوں نے احتجاج کیا کہ یہ اتنی ظالمانہ بھی نہیں جتنی بیلوں کی لڑائی ہے، جس میں حال ہی میں ایک کولمبیائی ثور اُفگن (لڑاکا) اپنا جگر گنوا بیٹھا تھا۔

 

سب سے آخر میں ریاد حلابی رخصت ہوا اور اسی رات اپنی پوری زندگی میں پہلی مرتبہ اسے بڑھاپے کا احساس ہوا۔ دروازے پر پہنچ کر استانی اِنیس نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے اور چند لمحوں تک خاموشی سے تھامے رکھے۔ پھر دھیرے سے بولی۔ ”شکریہ ترک۔

 

حلابی نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”اِنیس، تم میرے پاس ہی کیوں آئیں؟

 

کیوں کہ میں اس دنیا میں سب سے زیادہ تم سے پیار کرتی ہوں... اور اس لیے بھی کہ میرے بیٹے کا باپ تمہیں ہونا چاہیے تھا۔“ اس نے جواب دیا۔

 

اگلی صبح اگوا سانتا کے باشندے اپنی معمول کی زندگیوں میں واپس لوٹ گئے، مگر اب ان کے دلوں میں ایک شاندار راز کی مشترکہ خوشی تھی۔ وہ راز جسے اچھے پڑوسیوں نے مل کر محفوظ رکھا، ایک ایسا راز جس کی حفاظت انہوں نے غیرمعمولی وفاداری سے کی، اور جو آنے والے کئی برسوں تک انصاف کی ایک داستان بن کر نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ وہ راز اسی طرح زندہ رہا، یہاں تک کہ اسکول کی استانی اِنیس کا انتقال ہوگیا۔۔۔۔۔ اب اس کی موت کے بعد میں یہ کہانی سنا سکتا ہوں۔

 

Title in English: The Schoolteacher's Guest

Written by Isabel Allende

  

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

افسانہ نمبر 713 : بے لوث دوست، تحریر : آسکر وائلڈ (آئر لینڈ)، مترجم : عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی)

افسانہ نمبر 719 : پلیٹ فارم نمبر آٹھ کی عورت، مصنف: رسکن بونڈ(مسوری۔بھارت)، مترجم: عبد الوحید خان۔ لاہور