افسانہ نمبر 749 : مسعود کے کزن نے اسے نہال کردیا || تحریر : ایمل حبیبی (مقبوضہ فلسطین) || اردو ترجمہ : محمدافتخارشفیع

 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 749 : مسعود کے کزن نے اسے نہال کردیا (فلسطینی افسانہ)
تحریر : ایمل حبیبی (مقبوضہ فلسطین)
اردو ترجمہ : محمدافتخارشفیع (ساہیوال)

بابا! آخر ہم کیوں،
آخر ہم کیوں اجنبی ہیں؟
دنیا کی وسعت میں ہمارا کوئی یار،
کوئی دلدار نہیں؟
(فیروز کا گایا ہوا ایک گیت)
یہ جولائی کی ایک گرم دوپہر تھی۔ آج مسعود بہت خوش تھا۔اسے اپنی زندگی میں اس سے پہلے اتنی خوشی شاید ہی نصیب ہوئی ہوگی۔ آج اس کا گلی میں اس پراعتماد انداز میں داخل ہونا اچھا لگا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس کا اکیلا پن ختم ہو گیا ہے۔ اس کے چچا اور چچازاد بھائی اس کی دنیا میں آنکلے تھے۔ مسعود ہمارے محلے کا ایک عام سا لڑکا ہے۔ ہم پیار سے اسےپھسڈی کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس کی عمر کوئی دس بارہ برس کے لگ بھگ ہوگی۔ لیکن سیدی! اسے محض ایک بچہ سمجھنے کی بھول نہ کیجیے گا۔ اگر آپ کا کوئی نقصان ہو گیا تو میری ذمہ داری نہیں ہوگی۔ ایک چھوٹا بچہ جان کر اس سےمخاطب ہونا خطرے سے خالی نہیں، یہ فوراً ایسی کھری کھری سنائے گا کہ آپ کو اپنی کہے پر پچھتاوا ہونے لگے گا۔ مسعود سیاست کی باریکیوں سے بھی خوب واقف ہے، البتہ دیگر لوگوں کے برعکس اس کی سیاسی سرگرمیاں ذرا نرالی ڈگر پر ہیں۔ اس کے اندر ایک انوکھے انداز کی مزاحمت جنم لے چکی ہے۔ وہ پولیس چوکی کی دیوار کے پاس کھڑی پولیس وین کے ٹائروں سے ہوا نکال کر پھرتی سے
دیوار کی اوٹ میں جا چھپتا ہے۔ اس بات کے بھی قوی شواہد موجود ہیں کہ”عرب کندن ہیں“ جیسی اصطلاح بھی سب سے پہلے اسی نے وضع کی تھی، خاص طورپر اس وقت جب اس کے بڑے بھائی مساعد نے ”عرب ریت ہیں“، ”عرب ریت ہیں“ کی مسلسل رٹ لگا رکھی تھی۔ مسعود کو ان حرکتوں کی وجہ سے اپنا بھائی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ دوستو! آؤ میں تمھیں اس جولائی کی ایک گرم دوپہر کی ایک کہانی سناتا ہوں۔
اس روز پھسڈی پر مسرتوں کی بارش ہو گئی۔ یہ قصہ مجھے ایک ننھی سی چڑیا نے سنایا ہے۔ بچے یہ سن کر حیران رہ جاتے ہیں کہ پرندے اپنے راز بڑوں کو کیسے بتا دیتے ہیں، اس سے بھی زیادہ حیرت انھیں یہ جان کر ہوتی ہے کہ یہ بڑے اصل میں وہی بچے ہیں جو وقت کے ساتھ قد نکال کر خواہ مخواہ بڑوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ مسعود کے لیے خوشیاں لانے والے دن سے ایک روز پہلے کی سرمئی سی شام تھی۔ ہماری گلی میں ایک عجیب سی ساخت کی جہاز نما کار داخل ہوئی۔ اس گاڑی پر ویسٹ بنک کی نیلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی اس کا تیز ہارن بجتے ہی گلی کے بچے اچانک تتر بتر ہو گئے، ڈر کر بھاگنے والوں میں مسعود بھی شامل تھا۔محلے کے تمام گھروں کو چھوڑ کر، یہ ہوائی جہاز نما کار سیدھی مسعود کے گھر کے سامنے آن کر رکی۔ ہمارے ہاں اس طرح کی مہنگی گاڑی کا آکر رکنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس ویران علاقے کے مکین تو اس سے پہلے صرف مٹی سے لدے ٹرکوں اورفوجی جیپوں سے واقف ہیں جو گلی کے آخری سرے پر موجود کھائی کے پاس آتی ہیں اور موڑ کاٹ کر واپس مڑ جاتی ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات بھی نہیں تھی۔ مسعود کے گھر کو چھوڑ کے ہم باقی سارے محلے دار ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، یوں کہیے کہ ایک ہی جسم کے بکھرے ہوئے اعضا ہیں۔ یہاں کسی بڑے آدمی کی گاڑی صرف اسی وقت آتی ہے، جب عید الاضحی کے قریب الیکشن ہونے والے ہوں، یا کسی بااثر شخصیت کو سامنے والے پیٹرول پمپ سے لین دین کا قضیہ حل کرنے کے لیے ہماری مدد کی ضرورت پڑے۔ کبھی کبھاریوم السبت کو طبریہ جاتے ہوئے کوئی یہودی افسر یہاں رک جاتا ہے تاکہ یہ اطمینان کر سکے کہ اتوار کی صبح چھ بجے اس کی سیمنٹ کی بوریوں کی سپلائی وقت پر پہنچ سکے گی یا نہیں۔ جیسا کہ میں کہہ رہا تھا: گاؤں کے تمام لوگ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب کے سب سوائے مسعود اور اس کے گھروالوں کے۔ اس کا باپ، ابو مساعد، گاؤں میں فائر بریگیڈ کے محکمے میں ملازم ہے۔ کبھی کبھار تو محسوس ہوتا ہے جیسے یہ خاندان اچانک کہیں خلا سے ٹپک پڑا ہے، جن کی کوئی ظاہری شناخت یاپہچان نہیں۔ انھیں دیکھ کر ہم جیسے بڑے خاندانوں والے طنزاً کہتے تھے: ”یہ وہ لوگ ہیں جن کا جنجال ہے نہ کوئی وبال“۔
تو میں کہہ رہاتھا،جب وہ آرام دہ گاڑی مسعود کے گھر کے سامنے آکر رکی تو لڑکے ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔ معمول کے مطابق تو انھیں گاڑی کے گرد گھیرا ڈال کر اس کی گرد آلود کھڑکیوں پر اپنی انگلیوں کے ساتھ گالیاں لکھنی چاہیے تھیں لیکن جب مسعود نے اس گاڑی کو اپنے گھر کے سامنے کھڑا دیکھا تو اس کے قدم وہیں رک گئے۔ باقی بچے بھی کچھ کم حیران نہ تھے۔ آخر یہ کاریہاں ”پھسڈی“ کے گھر کے سامنے کیا کر رہی تھی؟ ان ملاقاتیوں کا اس سے کیا لینا دینا۔ وہ لڑکا جس کے خاندانی پس منظر سے کوئی بھی زیادہ جانتا نہ تھا۔ قبیلہ نہ اس کی کوئی شاخ،یہ لوگ اپنے خاندان سے بالکل الگ تھلگ تھے۔ ادھر مسعود کو اس بات کی اب رتی بھر پروا نہ تھی کہ اس کے ساتھی اسے ”پھسڈی“ کہہ کر پکارتے ہیں۔ اسے تو یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ یہ مضحکہ خیز نام اس کے ساتھ کب اور کیسے منسوب ہوا۔ حیرت تو اس بات کی تھی کہ خود اس کی ماں بھی اسے اسی نام سے بلاتی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے وہ خود اپنے دوستوں کو ان کے الٹے سیدھے ناموں سے پکارتا تھا۔ ان کے نزدیک کوئی
”فوجی“ تھا تو کوئی ”کاکروچ“۔ یہاں تک کہ اسے اور اس کے دوستوں کو اپنے ریاضی کے ہنس مکھ استاد کا اصل نام تک معلوم نہ تھا، سب انھیں ”قہقہہ“ کہتے تھے۔
پھسڈی کو یہ زندگی پسند تھی۔ اسے لوگوں کو ایسے القاب و آداب دینے کا یہ رواج بھی برا نہیں لگتا تھا۔ یہ عمل جتنا بھی ناپسندیدہ ہو سب کو ایک صف میں لا کھڑا کرتا ہے، خواہ آپ کا کوئی قبیلہ ہو یا نہ ہو۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر، اسے یہ خیال بے قرار رکھتا تھا کہ کاش دوسرے بچوں کی طرح اس کےبھی ننھیالی اور ددھیالی رشتے دار ہوتے۔ وہ پیروں کو گھسیٹتا ہوا گھر پہنچا اور ایک ہیجانی کیفیت میں اندر داخل ہونے کے بعداس پر، زندگی میں پہلی بار یہ انکشاف ہوا کہ اس کے چچا اپنے بیٹوں کے ساتھ ان کے گھرانھیں ملنے آئے ہیں۔ زندگی میں پہلی دفعہ اس کا سامنا اپنے چچا اور اس کے بیٹوں
سے ہوا تھا۔ وہ ویسٹ بنک کے علاقے ”سیلۃ الظہر“ سے لمبی مسافت طے کر کے اپنے چچا یعنی مسعود کے والد سے ملنے آئے تھے۔ اس لمحے مسعود کو یہ جان کر کچھ حوصلہ ہوا کہ وہ اس دنیا میں بے یار و مددگار نہیں ہے۔ اس کا بھی ایک قبیلہ ہے جس کی جڑیں یہاں کی زمین کے اندر دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اب اسے اپنے دوستوں پر دھاک بٹھانے کا موقع مل گیا تھا۔ اسی خوب صورت احساس سے مسعود کی زندگی میں پہلی بار ہونے والے واقعات کی ایک فلم سی چلنی شروع ہوگئی تھی۔ زندگی میں پہلی بار مسعود نے محسوس کیاکہ اس کی ماں اس کی نفسیات کو سمجھ رہی ہے۔ وہ ہر بات پر اس سے تکرار نہیں کر رہی تھی۔ پو پھٹتے ہی وہ بیدار ہوئی، کپڑوں کی الماری کھولی اور معمول کے خلاف اسے ڈھنگ کا لباس پہنایا۔ آج اس نے شرٹ کے ساتھ لمبی پتلون بھی پہنی تھی۔ زندگی میں پہلی بار اس نے بھی ماں سے کسی قسم کی کوئی بحث نہیں کی، بغیر حیل و حجت کے ہاتھ منہ دھویا۔ وہ اپنے ہم عمر چچازاد ”سامح“ کے سامنے نہایت تمیز سے پیش آ رہا تھا، سامح خالص عربوں کی طرح حرف ’قاف‘ کو پورے مخرج کے ساتھ ادا کرتا تھا۔ اپنی زندگی میں پہلی بار اس نے ناشتہ اس احتیاط سے کیا کہ قمیص پر سالن کا ایک دھبہ تک نہ
بنا۔ پہلی بار اس نے دیکھا کہ اس کا بڑا بھائی مساعد چپکے سے اس کی اور سامح کی جیبوں میں سکے ڈال رہا ہے۔ مسعود نے اپنے کزن کا ہاتھ تھاما اور دونوں فاتحانہ انداز میں باہر کی دنیا کی طرف نکل پڑے۔ پہلی بار ہونے والے انوکھے واقعات کا یہ سلسلہ اب بھی جاری تھا۔ زندگی میں پہلی بار اس نے سنا کہ لڑکے اسے بغیر کسی خاص وجہ کے ”سلام سلام“ کہہ رہے ہیں۔ اس کے گھر کی دہلیز سے لے کر ابو ابراہیم کی دکان تک سلام سلام
کی یہ بازگشت باقاعدہ طور پر اس کا پیچھا کرتی رہی۔ مسعود دکان کے اندر داخل ہوا تاکہ اپنے کزن (اور ظاہر ہے اپنے لیے بھی) آئس کریم خرید سکے، اور کمال یہ کہ آج خلاف معمول اسے کسی نے گالی بھی نہ دی۔ چاروں طرف سے ملنے والی اس عزت افزائی سے وہ بہت سرشار ہوا۔ قریب تھا کہ وہ ’رتیبہ‘ کی بیٹی کو چھیڑ دے، مگر اس کا اردن سے آیا ہوا کزن اس سے بھی زیادہ تیز نکلا اور اس نے چھیڑنے میں پہل کر دی۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ اس لڑکی کا بھائی جسے ہم سب ’نوزی‘ کہتے ہیں یوں انجان بن گیا جیسے اس نے کچھ دیکھا ہی نہیں اور دیکھا بھی ہے تو اسے کسی بات کی کوئی پروا ہی نہیں۔ مسعود کا کزن اس علاقے میں اجنبی تھا لیکن اسے اپنے کزن کی اس بری حرکت پر اس کے ساتھ اتنی ذہنی ہم آہنگی محسوس ہوئی جو شاید روزانہ ایک ہی بستر پر سونے والے سگے بھائیوں کے درمیان بھی نہیں ہوتی ہوگی۔
آج پہلی بار دکان دار ابو ابراہیم نے اسے ’پھسڈی‘ کے بجائے ”اھلاََسیدی مسعود!“ کہہ کر پکارا۔ اس کے بعد اس شخص نے اچانک وہی کلیدی سوال داغ دیا:
”تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟“
”میرا کزن۔ میرے چچا کا بیٹا“۔
مسعود نے شانے اچکاتے ہوئے ”چچا“ کے لفظ پر اتنا زور دیا کہ اسے کھانسی آتے آتے رہ گئی۔
محلے کے تمام کھلنڈرے بچے ایک دائرے کی صورت میں ان کےاردگرد جمع ہو گئے۔ ”تمہارے چچا؟ تمہارے ابو کے بھائی؟ کیا وہ ان کے سگے بھائی ہیں؟“ میرے سگے چچا ہیں۔کوئی دور پرے کا رشتہ نہیں۔“
”یہ کہاں کے رہنے والے ہیں؟“، ”ویسٹ بنک کے۔“
”فوجی“ کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا لوگوں کی توجہ کامرکز بنے۔ مگر آج یہاں مسعود اپنے ویسٹ بنک والے کزن کے ساتھ موجود تھا۔ فوجی کی کسی نے نہ سنی تو اس نے زور سے اعلان کیا: ”ابھی ابھی ریڈیو پر خبر آئی ہے کہ نہر سوئز پر دوبارہ جنگ چھڑ گئی ہے۔“ سامح نے پریشان ہو کر فوراً کہا کہ وہ اسی وقت گھر جانا چاہتا ہے لیکن مسعودتوشاید کسی اور خیال میں تھا۔لڑکے سوچ رہے تھے کہ اب ”پھسڈی“ کا دنیامیں ایک سگا چچا زاد بھائی بھی ہے، جس کا باپ ویسٹ بنک میں رہتا ہے اور جو ہوائی جہاز جیسی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر ان کے علاقے میں آیا ہے۔ پھسڈی اب ان کے لیے سیدی مسعود بن چکا تھا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ خوشی میں سب کو آئس کریم کھلائے، چاہے ہر ایک کے حصے میں صرف ایک دو چاٹ ہی کیوں نہ آئیں۔
مسعود کو ملنے والا یہ پروٹوکول زیادہ دیرتک قائم نہ رہا۔ ”نوزی“ اس دوپہر کو اتنی آسانی سے پرسکون نہیں گزرنے دینا چاہتا تھا۔ اگرچہ نوزی کے اپنے ددھیال اور ننھیال میں بے شمار چچا اور ماموں موجود تھے، لیکن اس وقت وہ مسعود کے کزن کے حسد میں اندھا ہو رہا تھا۔ یا شاید وہ اس سے اپنی
بہن کو چھیڑنے کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ اچانک اس نے مجمعے میں نعرہ لگا کر سب کو حیران کر دیا:
”شاہ حسین کے باپ پر لعنت۔“،
”تمہارے باپ پر لعنت۔“،
”اردن پر لعنت۔“،
”اسرائیل پر لعنت۔“
وہاں موجود تمام لڑکوں نے ایک ساتھ یہی نعرہ لگایا: ”لعنت، لعنت، لعنت۔“
نوزی اور مسعود کے کزن کے درمیان تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی، یوں لگتا تھا جیسے چھے روزہ عرب اسرائیل جنگ ایک دفعہ پھر شروع ہو جائے گی۔ واقعی ایسا ہو جاتا، اگر لڑکے اس الجھن میں نہ ہوتے کہ کس کی طرف داری کریں، اور ابو ابراہیم بیچ میں پڑ کر فریقین میں سیز فائر نہ کروا دیتا۔ اس موقع پر مسعود نے ایک لمحے کے لیے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔ باوجود ان باتوں کے جو وہ گھر میں اپنی بہن سے سنتا تھا، اس کی بہن جسے ہم سب فلسفی کہتے تھے اور جو شاید دسویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ ریڈیو پر گونجنے والی تمام تر گالیوں کے باوجود، اس نے عوامی ناپسندیدگی کی وجہ سے شاہ حسین کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس لیے کہ وہ اس کے کزن کا بادشاہ تھا، اور اسےاتنی بری طرح شکست دی گئی تھی کہ پسپائی ہوئی تھی۔ مسعود نے خود کو جنگ کے لیے تیار کر لیا، مگر اس سے پہلے کہ وہ آئس کریم کھاتا، وہ پگھل کر بے اختیار اس کی قمیص پر بہہ نکلی۔ اس نے اپنے کزن کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے چل پڑا۔ وہ اب دکان سے نکل آئے تھے لیکن گھر کے قریب ہی رہے۔ مسعود ہمیشہ 'محفوظ پسپائی' کے لیے تیار رہتا تھا۔ نوزی اور باقی بچے بھی وہاں آ گئے اور فضا ایک بار پھر دوستانہ ہو گئی۔اب لڑکوں نے سامح کو محلے کی سیر کروانا شروع کر دی۔
”یہ ہمارے علاقے کی نئی مسجد ہے“۔
”محلے کے لوگوں نے حکومت کی سرپرستی کے بغیر اسے بنوایاہے“۔
”اسے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیا گیاہے“۔
”سب نے چندہ اکٹھا کیاتھا“۔
نوزی نے بات بڑھائی:
”ایک ہفتہ پہلے وہ کچھ مصری افسروں کو یہاں نماز پڑھانے لائے تھے۔
ہم نےانھیں نکال باہر کیا۔ انھوں نے اپنی قوم سے غداری جوکی تھی؟“
وہ مسجد کی دہلیز پر بیٹھے تھے تو مسعود کو محسوس ہوا کہ کزن کی موجودگی کی وجہ سے صور ت حال مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہے۔ چنانچہ اس نے دوبارہ سیاست کا راگ چھیڑ دیا:
”انھیں ایک دن پسپا ہونا پڑے گا“۔
لڑکوں نے ہامی بھری:”ہاں ہاں انھیں پسپا ہونا پڑے گا۔۔۔“
”ہمیں روسیوں کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔۔۔۔“ لڑکے ایک دفعہ پھر بڑبڑائے:”ہماری طرف، ہماری طرف۔۔۔“
کچھ لڑکوں نے دیکھا کہ ”فوجی“ ابھی ابھی وہاں پہنچا ہے۔ وہ چلا کر بولے:
”یہ مسعود کا کزن ہے۔ یہ مغربی کنارے سے اس چمکتی ہوئی لمبی سی گاڑی میں بیٹھ کر یہاں آیا ہے!“
فوجی نے وہی سوال دہرایا: ”کیا یہ تمہارا سگا کزن ہے؟“
اس بار جواب سامح نے دیا:”سچ مچ میں اس کے سگے چچابیٹا ہوں، اس کے علاوہ میں اور کیا ہو سکتا ہوں؟“
بچے پکار اٹھے: ”جنگ بہت جلد دوبارہ شروع ہونے والی ہے،بابا یہی کہہ رہے تھے“۔
چاروں طرف سے شور اٹھا۔بات بڑھنے لگی تو موقع کی نزاکت دیکھ کر مسعود اپنے کزن کو لے کر گھر واپس آگیا۔
اسی شام، وہ عجیب و غریب، آرام دہ کار، اپنی نیلی نمبر پلیٹ اور تیز ہارن کے ساتھ ہمارے محلے سے رخصت ہو گئی۔ رشتہ داروں کے جانے کے بعد مسعود ایک بار پھر سیدی مسعود سے پھسڈی مسعود بن گیا اور آوارہ بچوں کی طرح گلیوںمیں ننگے پاؤں پھرنے لگا۔ کبھی کبھار وہ حرف ”قاف“ کو خالص عربی مخرج کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرتا لیکن یہ حرف اس کے لبوں سے ایک کھانسی نما ’کاف‘ کی صورت میں برآمد ہوتا۔
بچو! میں یہ نہیں چاہتا کہ آپ اس سے یہ مطلب لیں کہ مسعود ویسا ہی ہو گیا جیسا وہ پہلے تھا۔ ایسا ہرگز نہیں۔ مسعود اب دوسرے تمام بچوں جیسا ہو گیا تھا، جن کے ننھیال اور ددھیال میں رشتہ دار موجود تھے۔ اب وہ مقبوضہ علاقے میں لاوارث نہیں رہا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنے والدین کے ساتھ ویسٹ بینک بھی گیا، وہاں اس نے اپنی برادری کے دیگر افراد کی مہمان نوازی کا لطف بھی لیا۔ اس کا بچھڑا ہوا خاندان مغربی کنارے سے بار بار اسے ملنے کے لیے آنے لگا۔
؎محلے کے باقی بچوں کی طرح اسے بھی یقین تھا کہ یہ سارے غاصب ایک دن شکست کھائیں گے۔ ہر نئی صبح کا سورج اس کے لیے اس یقین دہانی کے ساتھ طلوع ہوتا تھا کہ ظالموں سے نجات کے دن اب زیادہ دور نہیں۔ وہ منہ کھولے حیرت سے اپنی ”فلسفی“ بہن کی باتیں سنتا جو گھنٹوں دشمن کی واپسی اور پسپائی کے حتمی ہونے کی پرجوش تقریریں کیا کرتی تھی۔ وہ سامح کو کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ پسند کرتا تھا اور بڑی عقیدت سے اپنے کزن سے کویت میں مقیم اس کے فارماسسٹ بھائی کی باتیں سنتا جس نے قاہرہ کی سیر کی تھی، اور وہاں اس نے بہ ذات خود مشہور گلوکار سیاہ بلبل عبدالحلیم حافظ کے میوزک کنسرٹ میں شرکت بھی کی تھی۔ مسعود کی بہن ہوم ورک کرواتے ہوئے یا اسے سلاتے وقت ہمیشہ اپنا سیاسی فلسفہ جھاڑتی رہتی۔ مسعود اپنے ذہن میں اٹھنے والے تمام سوالات اس کے سامنے رکھتا،وہ اسے تسلی بخش جواب دیتی۔ وہ پسپائی اور آزادی کے معاملے میں اتنا ہی پرامید تھا جتنی کہ اس کی بہن۔ اسے پورایقین تھا کہ ایک دن فیصلہ ہو کر رہے گا، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ البتہ ایک سوال ایسا تھا جو اس نے اپنی بہن سے کبھی نہیں پوچھا، اس خوف سے کہ کہیں اسے تھپڑ ہی نہ پڑ جائے، وہ اس سے لڑنا نہیں چاہتا تھا یا شاید اس کے اندر چھپا ہوا کوئی ڈر تھا جس نے اسے سوال کرنے سے روک رکھاتھا۔
”جب وہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں گے اور سرحدیں دوبارہ قائم ہو جائیں گی، توکیا میں پھر سے وہی ادھورا مسعود بن جاؤں گا جیسا پہلے تھا؟
کیا میں پھرسے اپنے کزن کے ساتھ زندگی گزاروں گا؟“
پھر وہ سو جاتا اور خواب میں سامح اور اس کے کویت والے بھائی کو دیکھتا، جو قاہرہ جا چکا تھا اور جس نے مشہور گلوکار سیاہ بلبل عبدالحلیم حافظ کا لائیو کنسرٹ دیکھا تھا۔

***********

مصنف کا تعارف

ایمل حبیبی
(Emily Habibi)
(1921_1996)
ایمل حبیبی(Emily Habibi) فلسطین کے معروف ناول نگار،افسانہ نویس اور صحافی تھے۔ان کا تعلق مقبوضہ فلسطین سے تھا،انھوں نے ابتدائی تعلیم حیفہ سے حاصل کی۔ایملی حبیبی نے اپنے کیرئیر کا آغاز فلسطینی براڈ کاسٹنگ کمپنی سے بہ طور براڈ کاسٹر کیا۔1940 میں انھوں نے کمیونسٹ پارٹی جوائن کی اوراس کے ترجمان ہفت روزہ”الاتحاد“کے مدیراعلیٰ بن گئے۔وہ انیس سال تک اسمبلی میں کمیونسٹ پارٹی کے نمائندہ رکن بھی رہے۔1969 میں ان کا اولین افسانوی مجموعہ ”چھ روزہ جنگ کی کہانیاں“شائع ہوا۔اس میں 1967کی عرب اسرائیل جنگ کوموضوع بنایاگیاتھا۔ان کا ناول ”سعیدکی پراسرارزندگی(سعیدایک بدقسمت قنوطی)“منظر عام پرآیا،اس ناول میں مقبوضہ فلسطین کے اندر کی زندگی کے دردناک تضادات کی منظرکشی کی گئی ہے۔اس ناول نے حبیبی کو عالم گیر شہرت عطاکی۔اردو میں انتظارحسین نے اس کا بہت عمدہ ترجمہ کیاہے۔ ایملی حبیبی نے تسلسل سے ناول اور افسانے تحریر کیے۔ان کے اسلوب ِتحریر کی خاص بات ان کی طنزیہ اندازِ بیان ہے۔ایملی حبیبی ایک انتہائی دکھ بھرے واقعے کوبھی طنزومزاح کا رنگ دینے میں مکمل مہارت رکھتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

افسانہ نمبر 713 : بے لوث دوست، تحریر : آسکر وائلڈ (آئر لینڈ)، مترجم : عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی)

افسانہ نمبر 719 : پلیٹ فارم نمبر آٹھ کی عورت، مصنف: رسکن بونڈ(مسوری۔بھارت)، مترجم: عبد الوحید خان۔ لاہور