افسانہ نمبر 747 : تعبیر || تحریر : رے براڈبری (امریکہ) || اردو ترجمہ : اخلاق احمد
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 747 : تعبیر
تحریر : رے براڈبری (امریکہ)
اردو ترجمہ : اخلاق احمد
ایک خواب کی کہانی اس کی تعبیر کے لیے ہم بہت سرگرداں
ہیں
... اور تعبیر اتنی دور بھی نہیں!
صبح کا آغاز ہوا۔ اپارٹمنٹ کے خود کار قفل ایک جھٹکے سے
کھل گئے ۔ کھڑکیوں کے پردے سمٹ گئے اور اجالا اندر آنے لگا۔ ایک مشینی آواز نے
کہا۔ "سات بج چکے ہیں۔ سکول، دفتر اور بازار جانے والے بیدار ہو جائیں ۔"
باورچی خانے کے شمسی چولھے جل اٹھے، خود کار نل کھلا
اور اُس کے نیچے رکھی کیتلی میں پانچ کپ پانی بھر گیا۔ نل بند ہو گیا۔ کیتلی چمڑے
کے ایک متحرک بیلٹ کے ذریعے پھیلتی ہوئی شمسی چوٹھے کے اوپر جاڑ کی ۔
مشینی آواز نے کہا ۔ "سات بج کر پندرہ منٹ ۔ اگر
آپ غسل کر چکے ہوں تو پانچ منٹ بعد ناشتے کی میز پر آجائیے۔"
کھانے کی میز کے ساتھ بنی ہوئی کھڑ کی خود بخود کھلی
اور ایک ٹرے پھسلتی ہوئی میز پر آر کی ۔ ٹرے میں ٹوسٹر پر سکے ہوئے تازہ توس باکھن
کا پیک اور جام کی شیشی تھی۔ بڑے کے ساتھ ایک فولادی پتری مسلک تھی ۔ پتری نے تمام
چیزیں میز پر سرکا دیں۔ خالی ٹرے اندر چلی گئی۔ پندرہ سیکنڈ بعد ٹرے پھر کھڑکی سے
نکلی ۔ اُس میں گرم کافی سے لبریز پانچ مگ رکھے تھے۔ کمرہ کافی کی خوشبو سے مہک
اٹھا۔
ایک اسپیکر سے آواز آئی ۔
"آج باہر کا موسم خوش گوار ہے۔ درجہ حرارت بائیس اعشاریہ تین نو ڈگری سینٹی
گریڈ ہے۔ راستوں میں کہیں ٹریفک جام نہیں ۔ آج پیر ہے۔ دفتر میں ٹھیک نو بجے ہفتہ
وار میٹنگ شروع ہو
جائے گی۔ سکول کی گاڑی پونے آٹھ بجے یعنی ٹھیک ہیں منٹ بعد دروازے پر آجائے گی۔
بچوں کے بستے تیار ہیں۔ خلاف معمول بات بس یہ ہے کہ آج دروازے پر تازہ اخبار نہیں
ہے۔"
دس منٹ بعد کھڑ کی کھلی ، فولادی پتری نے برتن سمیٹ کر
ٹرے میں رکھے ، ٹرے چلی گئی۔ باورچی خانے میں خود کار ڈش واشر برتن دھونے لگا۔
پونے آٹھ بجے دروازہ کھل گیا۔ مشینی آواز نے کہا۔ "سکول
جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ بستے اٹھائے اور چیزیں چیک کر لیجیے۔ کا پیاں ، کتابیں،
قلم، کیلکو لیٹر، ٹیپ ریکارڈر، رومال اور لنچ“
دو منٹ بعد دروازہ خود بخود بند ہو گیا ۔ لاؤنج میں
رکھاٹی وی کھل گیا۔ مشینی آواز نے کہا۔ "تازہ خبروں کے بلیٹن کا وقت ہو گیا
ہے ۔" ٹی وی کے پردے پر کوئی تصویر نہیں تھی، کوئی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔
صرف پردے کی روشنی تھی۔ پانچ منٹ بعد ٹی وی بند ہو گیا۔
مشینی آواز نے کہا۔ ” آٹھ بجنے والے ہیں۔ دفتر جانے کا
وقت ہو گیا ہے۔ براہ کرم اپنے بریف کیس دیکھ لیجیے۔ میٹنگ کی فائلیں، چیک بک قلم
گھڑی ... آج آپ ہلکا سرمئی سوٹ پہنیں گے۔ سوٹ بغلی کمرے میں پہنچ چکا ہوگا ۔ اب آپ
کا ذاتی کمپیوٹر آپ کو آج کی مصروفیات سے آگاہ کرتا ہے۔“
کونے میں رکھے ہوئے چھوٹے سے کمپیوٹر کی سرخ بتی روشن
ہوگئی ۔ آواز آنے لگی۔ آج میٹنگ کے بعد آپ کو را کی فاؤنڈیشن کے نمائندے سے ملنا
ہے۔ بارہ بجے بیمہ کمپنی کا نمائندہ سالانہ پریمیم لینے آئے گا۔ آج آپ مارکیٹنگ
ڈائریکٹر کے ساتھ لنچ کریں گے اور کمپنی کی نئی الیکٹرانک مصنوعات کے متعلق تبادلہ
خیال کریں گے۔ پانچ بجے گھر روانہ ہونے سے پہلے آپ نئے روبوٹ
کی خریداری کے لیے آٹو مشین کمپنی کے نمائندوں سے دفتر ہی میں ملاقات کریں گے۔
پانچ بجے گھر روانہ ہونے سے پہلے آپ اپنے دوست رچرڈسن کو فون کر کے اُسے اُس کی
شادی کی سالگرہ پر مبارک باد دیں گے۔“‘ سرخ بتی بجھ گئی اور خاموشی چھا گئی۔
آٹھ بج کر دس
منٹ پر مشینی آواز نے کہا۔ "دفتر روانگی کا وقت ہو گیا ہے۔ آپ کی گاڑی بالکل
ٹھیک ہے۔
ابھی پیٹرول کی ضرورت نہیں ہے۔ دفتر جانے کے لیے آپ پل والا راستہ بھی اختیار کر
سکتے ہیں اور ریلوے سٹیشن والا بھی ۔ خوش قسمتی سے آج دونوں راستے کھلے ہیں ۔ آپ
کو نیا دن مبارک ہو۔" آواز بند ہوگئی ۔ پورے اپارٹمنٹ پر سناٹا چھا گیا۔
کھلی ہوئی کھڑکیوں سے دھوپ اندر آنے لگی تھی۔
وقت دھیرے دھیرے گزرتا گیا۔ سورج بلند ہوتا گیا۔
دو پہر ایک بجے مشینی آواز نے کہا۔ ” بچے سکول سے آنے
والے ہیں۔ باورچی خانے میں کھانا تیار ہے۔ آدھے گھنٹے بعد میز پر کھانا لگ جائے
گا۔ از راہ کرم کھانے کے بعد بچوں کو اپنی اپنی خواب گاہ میں جانے کی ہدایت دے
دیجیے گا۔“
شام سوا پانچ بجے آواز آئی۔ ” دفتر سے مسٹر تھامس کے
آنے کا وقت ہو گیا ہے۔ شام کی چائے تیار ہوچکی ہے۔ پندرہ منٹ بعد ٹیلی ویژن پر آپ
کی پسندیدہ سیریل شروع ہو جائے گی۔ گزشتہ قسط کے اختتام پر ہیروئن خلائی راکٹ سے
چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے والی تھی۔ سیریل کے بعد آپ چینل 32 پر تازہ خبریں سن
سکتی ہیں۔"
شام سات بجے مشینی آواز
نے کہا۔ "شام کی پارٹی کے لیے آپ کے کپڑے تیار ہیں۔ مسز تھامسن زرد لباس
پہنیں گی اور مسٹر تھا مسن سفید سوٹ زیب تن کریں گے۔ آپ کی غیر حاضری میں دو گھنٹے
تک بچے کمپیوٹر کے ساتھ کھیلیں گے اور کارٹون فلمیں دیکھتے رہیں گے۔ باہر خنکی ہے۔
درجہ حرارت سات اعشاریہ ایک دو ہے۔ مسز تھامسن فرکا کوٹ اپنے ساتھ لے جاسکتی ہیں ۔"
ایک بار پھر سناٹا چھا گیا۔
باہر اندھیرا چھا چکا تھا۔ کھڑکیوں کے شیشوں کے پار صرف
تاریکی تھی۔
رات گیارہ بجے مشینی آواز نے کہا۔ "اب آپ لوگوں کے
سونے کا وقت ہو گیا ہے۔ تمام دروازے خود کار نظام کے تحت مقفل کیے جاچکے ہیں۔ اب
جو بھی ٹیلی فون آئیں گے، انھیں ریکارڈ کر لیا جائے گا۔ کسی ایمر جنسی کی صورت میں
اپنے سرھانے لگا ہوا سرخ بٹن دبار پیجیے گا۔“
مشینی آواز ہدایات دیتی رہی اور اطلاعات فراہم کرتی
رہی۔
لاکھوں گھروں میں خود کار مشینیں اسی طرح مصروف عمل
تھیں لیکن آخری ایٹمی تباہی کے بعد اُن کی ہدایات سننے والا انسان نہیں تھا، پورے
کرہ ارض پر کہیں نہیں۔

Comments
Post a Comment