افسانہ نمبر745 : میری بیٹی مونا || تحریر : رخسانہ احمد(پاکستان) || مترجم:افشاں نور

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر745 :  میری بیٹی مونا

تحریر : رخسانہ احمد(پاکستان)

مترجم:افشاں نور

 


تمہیں پتہ ہے میں کیا سوچتا رہا ہوں؟“ایک شام عباس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ”میرا خیال ہے کہ شاید ہمیں مونا کو بتا دینا چاہیے۔

اس موضوع پر سوچ بچار کرنے اورکچھ دیر تک خود اپنے آپ سے بحث کرنے کے بعد اس نے آخر کار اس امید پر یہ موضوع چھیڑ دیا کہ شایدان گزشتہ برسوں میں اس کی بیوی کا مزاج کچھ نرم پڑ گیا ہواور اس کا موقف بدل گیا ہو مگر زیتون ہمیشہ کی طرح تندی سے مڑی اور غضبناک ہو کر بولی:

عباس! تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم مداخلت نہیں کرو گے۔

عباس نے اس کی زمردرنگ شعلہ بار آنکھوں کو دیکھا۔اس کا چہرہ ہمالیہ کی طرح بے لچک تھا اور غصے کی روانی سے دوڑتا ہوا خون اس کی گوری گردن میں جھلک رہا تھا۔اسے ہمیشہ اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ وہ سفید فام لوگوں کی طرح سرخ کیسے ہوجاتی تھی۔ بنا مزید جھگڑا کیے اس نے اس نمایاں اور غضبناک غصے کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔اس کی اتنی آسان جیت پر تھوڑی سی خفگی کے ساتھ وہ بڑبڑائے بنا نہ رہ سکا:

تب حالات مختلف تھے۔ مجھے معلوم نہیں ہوسکتا تھا کہ حالات کس کروٹ بیٹھیں گے۔اس وقت مجھے کیسے پتہ ہو سکتا تھا کہ مجھے اب کیسا محسوس ہوگا۔مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے میں کوئی دھوکے باز ہوں حالانکہ میں نے پہلے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا۔

اس نے عباس کی بات سنی اور تلوار کی مانند تیز دھار لہجے میں جواب دیا جو قطعی اور ناقابلِ اختلاف تھا:

پھر بہتر ہے کہ تم اس کی عادت ڈال لو۔اب تو پہلے سے کہیں زیادہ میں چاہتی ہوں کہ اسے کچھ معلوم نہ ہو۔

لیکن زیتون! سوچو تو سہی، اگر اسے پتہ چل گیا تو؟“ عباس نے منت بھرے لہجے میں کہا۔

اسے پتہ نہیں چلے گا۔ اسے پتہ چلنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔اگر اسے پتہ چلا تو مجھے معلوم ہے کہ قصوروار کون ہوگا۔

عباس نے محتاط نظروں سے زیتون کی طرف دیکھا۔

اس وقت، جب یہ سب شروع ہواتو میرے دل کے کسی کونے میں یہ خیال تھا۔ میں نے سوچا کہ اس کی اکیسویں سالگرہ  سے پہلے یا اس کے آس پاس اس سے بات کر لینا اچھا ہوگا۔لیکن یقینی طور پر میں ایسا نہیں کروں گا۔“ اس کی آواز مدھم پڑ گئی جیسے زیتون کے بھڑکتے ہوئے غصے کا کوئی جھونکا اس کے چہرے کو چھو گیا ہو۔

اگر تم اتنی ہی شدت سے ایسا محسوس کرتی ہو تو میں بات نہیں کروں گا۔میں اس راز کے ساتھ جی سکتا ہوں۔مجھے سچ میں پروا نہیں۔

اس کے لیے اپنے پچھتاوے کو چھپانا مشکل تھا لیکن وہ اسے اتنی اچھی طرح جانتا تھا کہ جب وہ جھگڑے کے موڈ میں ہو تو وہ اس سے بحث نہیں کرتا تھا۔اس نے خاموشی سے اپنا شب خوابی کا لباس؛کاٹن کا کرتا اور لنگی پہنی جو اس کی عمر بھر کی عادت تھی جو لندن کی سردی میں بھی نہیں بدلی تھی، اور بستر میں چلا گیا۔اس کی لنگی ایک خاموش احتجاج کرتے ہوئے خفگی سے اس کے گرد پھڑپھڑا رہی تھی۔

ویسے وہ ہے کہاں؟“اس نے ایک غیر معمولی جوش کے ساتھ مونا کے متعلق ہر وقت آگاہ رہنے کے اپنے پدرانہ حق کا استعمال کرتے ہوئے پوچھا۔

بستر میں ہے۔ مائیگرین کی وجہ سے آرام کر رہی ہے۔

اسے پھر مائیگرین ہے؟ اسے کسی کو دکھانا چاہیے۔

ہمم!“ زیتون مزید کچھ کہنے سے ہچکچا رہی تھی مبادا اس کی آواز سے حقیقت عیاں نہ ہوجائے۔لگتا تھا عباس بھول گیا ہے کہ مونااس کا علاج کروا رہی ہے۔اس نے یقینا اسے بتایا بھی تھا۔دونوں ماں بیٹی نے اس معاملے پر اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس نے ان پر ہنستے ہوئے اس خیال کو رد کر دیا تھا۔ایک ہلکے سے پچھتاوے نے سر اٹھایا کہ کاش میں نے اس وقت عباس کی رائے کو اہمیت دی ہوتی، شاید اس سے مونا کو اس کے فیصلے سے باز رکھنے میں مدد ملتی۔یہ پاگل پن پر مبنی اور بہت خطرناک تھا۔ اس سے پہلے اسے کبھی احساس نہیں ہوا تھا کہ یہ کتنا غیر معقول خیال تھا۔

یہ علاج گویا ایک پینڈورا باکس تھا۔ اس سے ایک کے بعد ایک خوفناک سائے نکلتے گئے جو زیتون کو دھمکاتے ہوئے اور اس کے دنوں کو تاریک کرتے ہوئے اس کے گرد منڈلانے لگے۔اس دوپہر مونا کے رویے نے اس کی ماں کو اس حقیقت سے کہیں زیادہ ہلا کے رکھ دیا تھا جسے وہ خود بھی پوری طرح تسلیم نہیں کر پا رہی تھی۔وہ لڑکی ایک عجیب خواب جیسی کیفیت میں گھر لوٹی تھی۔ اس کی آنکھیں بے تاثر تھیں؛دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں دیکھ رہی تھیں،اور اس کی پیشانی پر فکر کی گہری لکیریں ابھری ہوئی تھیں۔چائے کے دوران وہ زیتون پرمسلسل دباؤ ڈالتی رہی؛کبھی اسے اکساتے ہوئے، کبھی منت سماجت کرتے ہوئے، کبھی لجاجت سے بات منوانے کی کوشش کرتے ہوئے،وہ بہت تیزی سے سب کچھ ایک ہی سانس میں بول رہی تھی گویا اپنے آپ سے بالکل بے خبر کوئی خودکار مشین ہو۔

زیتون کو اس شخص کی شفا بخش صلاحیتوں پر مکمل اور غیر مشروط یقین تھا...اس ہپناٹسٹ پر جسے وہ ہمیشہ میرا ہپناٹسٹ کہہ کر پکارتی تھی، اس کے لہجے میں ایسا فخر ہوتا جو کسی حد تک ناگوار محسوس ہوتا تھا۔اس شخص نے مونا کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔اپنے اس یقین کے ہاتھوں مجبور ہو کر جو اس ہپناٹسٹ کے مضحکہ خیز نظریے پر قائم تھا،مونا ایسے برتاؤ کرتی تھی جیسے اس پر کوئی جنون سوار ہو۔ ہپناٹسٹ کا ماننا تھا کہ  اگر وہ اسے ماضی میں کافی پیچھے لے جا سکے تو وہ اس تکلیف دہ یاد کو دریافت کر لے گا جو اس کی مائیگرین کا سبب بن رہی ہے۔

سبیسٹئین کا خیال ہے کہ یہ دباؤ کی ایک علامت ہے۔وہ کہتا ہے یہ میرے باطن کی گہرائیوں سے ابھرنے والی چیز ہے۔“اس دوپہر مونا نے بہت سنجیدگی کے ساتھ یہ بات بتائی،اس کی آنکھیں تھکی ہوئی اور سرخ تھیں۔

یہ کسی گہری نفسیاتی اذیت کی یاد ہے جسے میں انجانے میں دبا رہی ہوں۔اس کا خیال ہے کہ میرے لاشعور کی گہرائیوں میں کچھ ایسا ہے جو اپنی شناخت کے لیے کوشاں ہے، کوئی ایسی چیز جو میرے شعوری وجود سے متصادم ہے۔یہ کیا ہو سکتا ہے ماں؟

ماضی کے جبری اسفار کے زیرِدباؤ  مونا کی صحت مند سانولی رنگت پھیکی پڑ گئی تھی۔ زیتون نے اپنی بیٹی کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا:

مونا!کیا تمہیں یقین ہے کہ یہ علاج واقعی تمہارے لیے مفید ہے؟تم بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہو۔

آج یہ کچھ تھکا دینے والا تھا۔جدہ، برمنگھم، اور پھر یہاں لندن میں میری پرورش کے وہ تمام سال  اچھے تھے۔ وہ سب کچھ واقعی اچھا تھا۔ اس نے ان سب کو کھنگالا ہے،وہ خوشگوار دن تھے۔ وہ مجھے ان میں واپس بھیجتا ہے۔میں ان میں داخل ہوتی ہوں، اردگرد دیکھتی ہوں، اور میں...میں بہت خوش قسمت ہوں ماں،مجھے وہاں کوئی درد کوئی مسئلہ نہیں ملتا۔ عام سی،آرام دہ اور بے فکر...کتنی اچھی زندگی ہے یہ۔ہم نے کتنی خوبصورت زندگیاں گزاری ہیں،ہے نا؟کیامیں اس سے بہتر کچھ مانگ سکتی تھی؟مگر آج جب وہ مجھے میری پیدائش کے وقت تک لے گیا تو یہ خوفناک تھا۔میں درد کے ساتھ چیختے ہوئے مڑ رہی تھی۔ میں ٹوٹے بکھرے احساس کے ساتھ دنیا میں آئی۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ وہی یاد ہے،اگر میں اس یاد کا سامنا کر لوں اور اس سے نپٹ لوں تو میں ہمیشہ کے لیے ٹھیک ہو جاؤں گی۔ذرا سوچیں ماں، مجھے دوبارہ کبھی ایسا اندھا کر دینے والا سر درد نہیں ہوگا۔تمام دردکش ادویات، تاریک کمرہ،مرہم، متلی اور درد سب ہمیشہ کے لیے چلا جائے گا۔کیا یہ شاندار بات نہیں ہے؟

مونا کمروں میں چکر لگاکرمرجھائے ہوئے پھولوں سے بھرے گلدان سمیٹتی اور ان میں تازہ پھول سجاتی اپنی ماں کے پیچھے پیچھے پورے گھر میں چلی۔زیتون کو پھول سجانے کے تمام ڈھنگ آتے تھے۔وہ  اپنی ماں کی پھرتیلی انگلیوں کو دیکھتی رہی جو بڑی نفاست اور عمدگی کے ساتھ حرکت کرتیں،ہر پھول کو اس زاویے پر جما دیتیں جہاں وہ بہترین دکھائی دیتا، اور یوں ایک ایسا نمونہ ترتیب دیتیں جو ہر کمرے کے انداز اور فضا سے ہم آہنگ ہوتاتھا۔ یہ دیکھ کر مونا کو اس باریک بینی میں اپنی ماں کی دلچسپی پر غیرمعمولی طور پر جھنجھلاہٹ ہونے لگی۔ یہ درست ہے کہ یہ پھول اس گھر کو ایک خاص گرمجوشی سے بھرپور اور نفیس انداز عطا کرتے ہیں لیکن آخر انہیں اتنی باقاعدہ ترتیب میں رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟مونا نے سبیسٹئین کے سامنے اعتراف کیا کہ یہ سب اسے ہمیشہ کمتر محسوس کرواتا ہے۔اگر ممکن ہوتا تو وہ کبھی پھول سجانے کا کام اپنے ذمے نہ لیتی۔اسے یہ اندیشہ رہتا کہ جب کبھی وہ خود ایک میزبان کے طور پر سامنے آئے گی تو وہ اسی وقار کے ساتھ پھول قبول نہیں کر سکے گی۔وہ بنا کسی تبصرے کے محض سر ہلا کر مسکرا دیا تھا۔

تو  ماں! چلیں مجھے بتائیں۔ میں چاہتی ہوں آپ ہر تفصیل یاد کریں اور اسے یاد کرنے میں میری مدد کریں۔مجھے افسوس ہے کہ میں بہت تکلیف دہ بچہ تھی یہاں تک کہ پیدا ہونے سے پہلے بھی آپ کواذیت دے رہی تھی۔کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ کتنی دیر دردِ زہ میں مبتلا رہیں؟

مونا!میں ان سب باتوں میں نہیں پڑنا چاہتی۔ مجھے زیادہ یاد نہیں ہے۔“ زیتون نے کمزور سی مزاحمت کرتے ہوئے کہا۔

یقینا آپ کو کچھ تفصیلات تو یاد ہوں گی۔شاید ڈاکٹروں نے بچے کی تکلیف یا دل کی دھڑکن کے متعلق کچھ کہا ہو۔کیا میں مرنے کے قریب تھی؟ کیا یہی وہ تکلیف ہے جسے بھلانے کی میں کوشش کرتی رہی ہوں؟

زیتون نہیں جانتی تھی کہ اس پوچھ گچھ کاسامنا کیسے کرے۔ایک ہلکی سی سرخی اس کے گلے تک ابھر رہی تھی۔جب وہ دوبارہ بولی تواس کی آواز میں ایک بھولے بسرے تلخ جذبے کو دبانے کی کوشش نمایاں تھی جو اس کے حلق میں امڈ آیا تھا۔

تم اسے بھلانے کی کوشش کرتی رہی ہو؟“ اس نے تلخ لہجے میں پوچھا۔”میں تو کہتی ہوں کہ  میں نے اپنی تمام عمربھولنے کی تگ و دو میں گزار دی  تاکہ میں اپنی یادداشت سے اس سب کو مٹا سکوں۔ بہتر ہے میں اسے یاد نہ کروں۔ تمہارا بہت شکریہ!دیکھو مونا! مجھے پورا یقین ہے کہ اس کا تمہاری مائیگرین سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہو ہی نہیں سکتا۔

اس کا دم گھوٹنے پر تلی تلخی نے اس کی آواز کو کافی حد تک بلند کر دیا تھا اور اس میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کر دی تھی۔غیرمعمولی سختی سے سوسن کے پھولوں کو میز پر پٹختے ہوئے اس نے اپنے جذبات چھپانے کے لیے مونا کی طرف پیٹھ پھیر لی۔

یہ ناممکن ہے ماں! کوئی کبھی نہیں بھولتا۔یہ عورت کی زندگی کا اہم ترین وقت ہے۔“ مونا نے بہادری سے اپنی بات جاری رکھی  اور یوں چنوتی دی جس کی پہلے کبھی اس نے جرأت نہ کی تھی۔

زیتون نے خاموش غصے کے ساتھ اسے گھورا، اس کے دل میں ایک عجیب سی لرزہ خیز ٹھنڈک اتری جس نے اس مرتبہ اسے ظاہری طور پر بھی لرزنے پر مجبور کر دیاتھا۔اس انجانے برفیلے تاثر نے مونا کو خوفزدہ کر دیا، وہ تھوڑا پیچھے ہٹی اور دوبارہ اپنی سہمی ہوئی اور خاموش فرمانبرداری کی طرف لوٹ گئی۔

اس معمولی سی غیر ارادی جنبش پر شرمندہ ہو کر زیتون فوراً سنبھل گئی اور اپنی حکمتِ عملی بدلتے ہوئے بولی:

چلو دیکھتے ہیں، ہمم!چوبیس گھنٹوں کا دردِ زہ یا شاید اس سے بھی زیادہ...یقینا اس کا کوئی خاص مطلب نہیں ہے۔

کیاایسا ہے کہ ہمارے وطن میں ان چیزوں کے متعلق کوئی بات نہیں کرتا؟“ مونا کے لہجے میں حسرت تھی۔

ہاں یہ بھی ہے...اور پھر، میں... خیر سچ پوچھو تووہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ اور ذلت آمیز وقت تھا۔یہ سب اتنا وحشیانہ ہے کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔میں اسے یاد کرنے یا اس کا تصور کرنے کی تاب نہیں لا سکتی۔“زیتون ہکلائی، اس کی آواز دھیمی اور مدھم ہوگئی۔

مونا! تمہارے ابّا ٹھیک کہتے ہیں،یہ ہپناتھراپی وغیرہ سب فضول ہے۔اب اسے بھول جاؤ!“

اپنے خاموش اور زیرک انداز میں زیتون نے اس علاج کی تاثیر پر صبح شام اپنے لفظی حملے جاری رکھے۔

وہ شخص کوئی نیم حکیم ہے۔آخر یہ کوئی باقاعدہ سائنس تو ہے نہیں، ہے نا؟ ابھی کل ہی میں نے ٹیلی ویژن پر اس ماہرِ نفسیات کو یہ کہتے سناکہ ایک بار کسی تھراپسٹ یا ہپناٹسٹ یا کسی بھی ماہر کی طرف سے ہری جھنڈی مل جائے تولوگ کسی یاد کو خود تراش سکتے ہیں، تمہیں پتہ ہے تھوڑا تھوڑا کر کے بناتے چلے جاتے ہیں۔ایسے لوگ انسان کے دماغ میں باتیں بٹھا دیتے ہیں، ہے نا؟“اس کی آواز مدھم ہوتے ہوتے تھم گئی۔

مونا نے کچھ نہ کہا، وہ پہلے ہی لاؤنج سے جا چکی تھی۔آج اس لاؤنج کی بے داغ اور نکھری ہوئی حالت بھی اضطراب میں مبتلا کر رہی تھی۔

زیتون نے اپنے آپ کو یاد دلایا کہ مونا ایک اچھی بچی رہی ہے جس نے کبھی پریشان نہیں کیا۔یہ سچ ہے کہ اس کے اندر بلند نظری کی کمی مایوس کن تھی۔یہ دنیا اس کی ہو سکتی تھی مگر اس نے ایک معلمہ ہونے کا انتخاب کیا، ایک اسکول کی استانی۔اسے اپنی مایوسی اور عباس کا چہرہ یاد تھا جب ایک دوست نے ان سے پوچھا تھا کہ مونا نے کس پیشے کا انتخاب کیا ہے۔ اس وقت یہ بات کسی پستی کی طرح محسوس ہوئی تھی۔مگر پھر اس کا ایک فائدہ بھی تھا؛اسے قریب ہی ایک نوکری مل گئی تھی  اور زیتون کے لیے اطمینان کی بات یہ تھی کہ اس نے گھر چھوڑ کر جانے کا سوچاتک نہ تھا۔وہ گھر رہ کر پرسکون اورخاموش انداز میں زندگی گزارنے پر خوش تھی۔ عباس فخر سے کہتا:

مشرقی بیٹی!“

اس کی سہیلیاں اسے داد دیتے ہوئے کہتیں:

تم نے اس کی بہت اچھی تربیت کی ہے ورنہ اس ملک میں تو کچھ پوچھو ہی مت، توبہ توبہ!“ وہ تازہ ترین افواہوں پر سر جھٹک کر کہتیں۔

مونا کو ہمیشہ سے آدھے سر کے درد کے اچانک اور ناتواں کر دینے والے شدید دورے پڑتے تھے۔آہستہ آہستہ ان کا دورانیہ بڑھتا گیا۔پھر یہ کچھ زیادہ کثرت سے پڑنے لگے۔ مونا کے ساتھ کام کرنے والے کسی شخص نے، جو  ہپناٹسٹ سبیسٹئین رالنگز کے ذریعے تمباکونوشی کی عادت سے نجات پا چکا تھا،مونا کو بھی اس کا حوالہ دیا۔مونا جو ہمیشہ سے دوسروں کے مشوروں پر چلنے والی تھی  اس ہپناٹسٹ کے پاس جانے پر آمادہ ہوگئی۔

کاش! میں نے اسے تب ہی اس سے باز رکھا ہوتا۔“زیتون نے دل ہی دل میں خود کو ملامت کی۔یہ سب یوگا، مراقبے، صحت بخش غذاؤں اورہمہ جہتی علاجوں سے شروع ہوا جو بظاہر بے ضرر معلوم ہوتا تھا۔پلٹ کر دیکھنے پر محسوس ہوتا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں ان تمام باتوں نے اگرچہ ڈرامائی انداز میں نہیں مگر تھوڑا تھوڑا کر کے اسے آہستہ آہستہ بدل دیا تھا۔  ہر چیز جو وہ کھاتے یا کرتے بالکل درست نہیں تھی؛ یا تو وہ غیر صحت بخش تھی یا ماحول کے لیے بری تھی۔

یہ ہمارے بچوں کو ہمارے ہی خلاف کرنے میں ماہر ہیں۔“ زیتون نے  اپنے اور اپنی اولاد کے تعلق پر پڑنے والے اسکول، یونیورسٹی، اور اب اس منحوس نئی کام کی جگہ کے اثر سے جھنجھلا کر کہا۔ مگر یہ تازہ تجربہ تو ان کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دینے کی دھمکی دے رہا تھا۔

اسی شام بعد میں زیتون نے مونا کو مائیگرین کے شدید دورے میں مبتلا، لحاف میں لپٹے اور مرہم کی بو میں گھرے پایا۔اس نے رات کا کھانا کھانے سے انکار کر دیاتھا۔اس کی ماں نے مدھم روشنی میں ایک ناگوار نظر کمرے  میں دوڑائی جہاں فوٹو البموں کے ڈھیراور ربن میں بندھے پرانے خطوط کے بنڈل بکھرے پڑے تھے۔وہ یقینا یادداشت کے محرکات کے طور پر انہیں کھنگالتی رہی تھی۔

زیتون کی یادداشت نے سبیسٹئین کے پسندیدہ الفاظ کو دہرایا تو اس نے اپنی آنکھیں گھمائیں۔وہ شکست خوردہ سی کھانے کے کمرے میں لوٹ آئی۔سات ہفتوں تک ان دوروں سے معقول حد تک بچے رہنے کے بعد یہ صورتحال پریشان کن تھی۔ اس نے کھانے پینے کے ذریعے اپنے اندر مستقبل کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی مگر اس کا عارضی سکون ٹیلی فون کی تیز گھنٹی نے چکنا چور کر دیا۔گھنٹی کی آواز پر وہ اچھل پڑی جس کی آواز بے جا دھمکی آمیز تھی۔یہ احساس بے جا نہ تھا کہ اس کی آواز کم کرنی چاہیے۔

فون پر اس کا دیور تھا جس کی آواز اتنی غیر مادی اور دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی گویا کسی دوسری دنیا سے آ رہی ہو۔زیتون نے توجہ مرکوز کرنے  اور اس کے پیغام کی تفصیل سمجھنے کی کوشش کی اور اپنے لہجے کو خوش آئند بناتے ہوئے کہا:

اس ویک اینڈ پر؟

جی ہاں ہم دونوں، رضیہ بھی میرے ساتھ آ رہی ہے۔

ہم منتظر رہیں گے۔

آپ لوگوں کو یہاں سے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟

نہیں!“

واقعی؟

جی بالکل!“

گفتگو ختم ہوگئی اور وہ خاموشی سے عباس کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔

نہیں، کچھ بھی نہیں چاہیے۔“ اس نے آہستہ سے اپنے آپ سے کہا۔”جو مجھے چاہیے وہ مجھے کوئی نہیں دے سکتا۔ مجھے ذہنی سکون چاہیے۔

ان کی آمد کی خبر نے اس کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔وہ بوجھل دل کے ساتھ بستر پر جا لیٹی۔مونا یقینا ان کے سامنے وہ موضوع چھیڑ دیتی جس کا ذکر بھی مناسب نہیں تھا۔وہ کسی شکاری کتے کی طرح تھی جو پرانی قبر کھود نکالتا ہے۔ زیتون نے اس دن اس کے مائیگرین کو ٹھیک اسی طرح پہچانا جیسا کہ وہ تھا؛ایک ہتھیار...اپنی ماں کے خلاف ایک واضح ہتھیار، اپنی ماں کے اس انکار کے خلاف ایک واضح احتجاج کہ وہ سب یاد کرے اور مونا کو وہ بتائے جو وہ سننا چاہتی تھی یعنی اس کی پیدائش کے وقت اس کی ماں کی جسمانی  اذیت اور تکلیف۔یہ کسی بچے کے لیے موضوعِ گفتگو کیسے ہو سکتا ہے؟اس کے اندر ایک آواز نے اس سبیسٹئین سے، اس ہپناٹسٹ سے بحث کی۔

بھول جانے دو، بھول جانے دو، دنیا کو بھول جانے دو!“برسوں سے زیتون نے یہی امید کی تھی اور دعائیں کی تھیں،اور پھر اس نے اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کر لیا تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔لوگ سب بھول جائیں گے۔ بائیس برس بعد اس سے مونا کی پیدائش کا دن یاد کرنے کی توقع کیسے کی جا سکتی تھی۔تاہم اس رات اس یاد نے ٹھیک ٹھیک اور ہر تفصیل کے ساتھ اس پر دھاوا بول دیا۔آہستہ آہستہ مونا کی پیدائش کا وہ گرم اور حبس بھرا دن اس کے تخیل میں دوبارہ زندہ ہونے لگا...آنسوؤں اور پسینے سے بھیگا ہوا، خون کی بو سے لبریز(وسط جون،  لاہور میں، اوہ میرے خدا!)کرب اور اذیت کی چیخوں سے اٹا ہوا، اور ہاں، شرمندگی کے ایک سلگتے ہوئے احساس کے ساتھ۔

تقدیر کے پہیے کو میرے لیے گھماتے ہوئے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، میں، زیتون بیگم ہر لمحہ اس سے گزری ہوں۔تقدیر کا پہیہ میرے لیے اس لیے گھوما کہ میرے اندر اسے دھکیلنے کا حوصلہ تھا۔مجھے ہم دونوں کے لیے یہ حوصلہ کرنا تھا۔ہاں، عباس کو بھی بچے کی خواہش تھی مگر اس میں وہ بے تابی اور شدید آرزو نہ تھی۔اس نے اس فیصلے کی ذمہ داری مجھ پر چھوڑ دی تھی۔ میں نے اسے قبول کیااور اب میں اس پر قائم رہوں گی۔اب وہ اسے کسی صورت یاد نہیں کر سکتا۔جو میرا ہے وہ میرا ہی رہے گا۔

اس نے ایک بار پھر اس فیصلے کی توثیق کی جو اس نے اس دوپہر کیا تھا۔وہ مستقبل کو خطرے میں ہرگز نہیں ڈال سکتی تھی۔یہ ایسا خطرہ تھا جو وہ مول نہیں لے سکتی تھی۔بابونہ کی چائے پینے اور دیر تک بیٹھک میں ٹہلنے کے بعد وہ دوبارہ بستر پر گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔اچانک بن بلایا ایک عکس اس کی یادداشت میں ابھر آیا؛پسینے کے قطروں میں بھیگا ہواتارا کا چہرہ، پھیکے پڑ چکے ہانپتے ہوئے کھلے ہونٹ اور خوف زدہ آنکھیں۔

بیگم صاب!“اس کی آواز شکایت بھری اور تھکی ہوئی تھی۔

مگر اس کا کسی چیز سے کیا تعلق ہے؟“اس نے اپنے آپ سے پوچھا۔نیند کی خواہش میں اس یاد کو جھٹکنے کی کوشش میں اس نے کروٹ لی۔

اگلی صبح زیتون ابھی بستر میں ہی تھی جب مونا گھر سے نکلی اور اس نے کھینچ کر بیرونی دروازہ بند کیا۔اس آواز نے اسے جگا دیا۔ یہ گمراہ کن اشاروں اورتیز،واضح مناظر سے بھراصبح سویرے کا خواب تھا جواس کی پلکوں کے پیچھے بکھر گیاتھا۔وہ اچھل کر اٹھ بیٹھی،اس کے سر میں ایک وحشیانہ اور خوفناک سی دھڑکن ابھری۔

وہ چلی گئی ہے،بھاگ گئی،ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی۔

یہ خوف اس کے دل سے کبھی نہیں گیا تھا۔

 خوفزدہ زیتون، مونا کے کمرے میں گئی۔وہ چیزیں سمیٹنے،انہیں چھونے، سونگھنے اور پکڑ کر قریب کرنے لگی جیسے خود کو یقین دلا رہی ہو کہ وہ شام تک لوٹ آئے گی۔یقینا وہ آئے گی۔ وہ جانتی تھی کہ اسے گھبرانا نہیں چاہیے۔یہ خطرناک ہو سکتا تھا۔باقی ہفتہ بے چینی بھری راتوں میں گزرا اور دن اس کے مہمانوں کی تیاری میں صرف ہوتے رہے۔ہفتے کی صبح کچھ زیادہ ہی جلدی آگئی۔یہ یاد کرتے ہوئے کہ مہمان اب جلد آنے والے  ہیں،پردوں سے چھن کر آتی دھوپ میں اس نے تھکن سے آنکھیں سکیڑیں۔کون جانتا تھا کہ یہ دن اپنے ساتھ کیا لائے گا۔

مگر جلد ہی واضح ہوگیا کہ مونا اپنے چچا اور چچی سے ما ضی کے بارے میں سوالات  نہیں کرے گی۔ وہ اس کی پیدائش کے متعلق بھلا کیا جان سکتے تھے؟جب اس کی ماں نے  ماں اور بچے کے مابین انتہائی قربت کے لمحے کو بھلا دینے کافیصلہ کر لیا تھا تو کوئی اور اس کے لیے اس لمحے کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا تھا۔زیتون تناؤ کی کیفیت میں تھی پھر بھی مہمان نوازی کر رہی تھی:

کچھ میٹھا لو رضیہ! سب کہتے ہیں میرا بادام کا حلوہ بہت اچھا ہوتا ہے۔

مجھے یہ حلوہ یاد ہے۔ تارا بہت اچھا حلوہ بناتی تھی، یہ اسی کی ترکیب ہے نا؟

تارا کون ہے؟ میں نے یہ نام پہلے کبھی نہیں سنا۔“ مونا نے دلچسپی سے پوچھا۔

نہیں سنا؟“ اس کی چچی حیرت سے اس کی طرف مڑی۔”تمہاری ماں اس کی بہت گرویدہ تھی مگر...وہ صرف ایک ملازمہ تھی۔وہ اچھی تھی مگر بہرحال وہ گھر کی ملازمہ تھی، اور شاید تمہاری پیدائش سے کافی پہلے اس کی وفات ہوگئی تھی۔زیتون! یہ سن اٹھاسی کا موسم گرما تھا نا، جس سال تم جدہ گئی تھی؟

یہ میری پیدائش سے زیادہ پہلے کی بات نہیں ہے چچی۔ میری پیدائش پندرہ جون سن اٹھاسی کی ہے۔اس سال میں بائیس برس کی ہو جاؤں گی۔“ مونا نے اپنی ماں کی بے چینی سے محظوظ ہوتے ہوئے خوش دلی سے مسکرا کر کہا۔

مگر تمہیں وہ وقت کیسے یاد ہو سکتاہے، تم تو اس وقت دودھ پیتی بچی تھی۔“ اس کی ماں نے ایسے بات کی جیسے کسی بچے سے مخاطب ہو۔

بہرحال، وہ بے چاری عورت زچگی میں وفات پاگئی۔“رضیہ نے مزید بتایا۔

زچگی میں؟ بہت افسوس کی بات ہے۔“ موناکا دل ایک لمحے کو ٹھہر سا گیا۔

زیتون آپا نے اس کا بہت خیال رکھا تھا، ہے نا آپا جانی؟رضیہ نے اپنی کہانی جاری رکھی، اس کے حلوے کے ذوق میں کمی نہیں آئی تھی۔”مگر اس کے رشتے دار بڑے ناشکرے تھے، انہوں نے تمہاری ماں کو بس دکھ ہی دیا۔“پھر وہ پوری ہم آہنگی کے ساتھ اپنی جیٹھانی کی طرف متوجہ ہوئی:

سوچیں تو، انہوں نے آپ پر الزام لگایا تھا کہ آپ زچگی میں اس پر بدقسمتی کا سبب بنی  ہیں۔ وہ دبی زبان میں ایک دوسرے سے یہی کہتے رہتے تھے کہ بے اولادعورت کا سایہ پڑ گیا ہے۔انہوں نے بڑی ظالمانہ، گندی اور گھٹیا باتیں کی تھیں۔سچ پوچھو تو وہ بڑے ہی جاہل اور ناشکرے لوگ تھے۔آپا! ہو سکتا ہے وہ آپ سے کچھ پیسے نکلوانا چاہتے ہوں۔ یہاں تک کہ اس کے شوہر نے بھی بڑا ہنگامہ کیا تھا۔اسے شکایت تھی کہ نرسوں نے بچے کو دفنانے لے جانے سے پہلے اسے اس کا چہرہ بھی نہیں دکھایا۔

تارا کا انتقال اٹھاسی میں نہیں ستاسی میں ہوا تھا۔“ زیتون نے تیزی سے بھاری سرگوشی کی۔اس کی آواز اس کے گلے میں ہی دم توڑتے ہوئے کپکپا رہی تھی۔ عباس نے اسے ایک تنبیہی نگاہ سے دیکھا مگر اس نے اسے نظر انداز کر دیا۔

نہیں نہیں زیتون آپا، مجھے یقین ہے یہ ہمارے جاوید کی پیدائش کے بعد کا سال تھا۔اس وقت وہ میری گود میں تھا، میں وہ تاریخ بھلا کیسے بھول سکتی ہوں۔

اب رضیہ کی نظریں زیتون پر جمی ہوئی تھیں۔پھر اس کی نظر مونا پر ٹھہر گئی۔اس نے اسے یوں بغور دیکھا جیسے وہ اسے پہلی بار دیکھ رہی ہو؛اس کا رنگ روپ، اس کے بال۔ زیتون کی نگاہوں نے بھی رضیہ کی پیروی کرتے ہوئے انہی جزئیات کو دیکھا۔

اس کے شوہر کو اس کے بچے کا چہرہ کیوں نہیں دکھایا گیا تھا ماں؟“مونا زیتون کی طرف مڑی،اس کی آواز دھیمی مگر غیر متزلزل تھی۔کمرے میں خاموشی چھا گئی، ایسی خاموشی جیسے برف کی بوچھاڑ نے اس کے دل کو جما دیا ہو۔اس کی ماں کا جواب اس کے ہونٹوں پر ہی دم توڑ گیا، اس کا منہ خشک ہوگیااور اس نے کچھ نہ کہا۔

تو بچہ بھی مر گیا تھا ماں؟ کیا یہ سچ ہے؟مونا نے اصرار کیا، سچ جاننے کے لیے اس کی بے چینی مزید بڑھ گئی تھی۔

اللہ نہ کرے!“ زیتون نے جواب دیا، اس کی آواز بمشکل سنائی دے رہی تھی۔

مونا کی نگاہوں نے ایک ایک کر کے میز کے گرد بیٹھے اپنے گھر والوں کے چہروں کا جائزہ لیا۔یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی سایہ کمرے سے گزر گیا ہو اور سب پر سحر طاری کر دیا ہو۔ وہ سب مسحور ہو کر اسے دیکھتے ہوئے ساکت بیٹھے تھے۔

مونا نے سراسیمگی کے عالم میں ہر چہرے کو دیکھاجیسے اس نے پہلی بار دنیا میں آنکھیں کھولی ہوں۔وہ میز سے اٹھ کر جانے کے لیے خاموشی سے کھڑی ہوگئی۔جب وہ قریب سے گزری تو زیتون نے اسے روکنے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن مونا نے اس کی گرفت سے بچتے ہوئے اسے جھٹک دیا۔ان سب نے مونا کے گلے سے نکلتی ایک گھٹی گھٹی سی ہانپتی ہوئی آواز سنی جیسے وہ کسی نوزائیدہ بچے کی طرح سانس لینے کے لیے جدوجہد کرہی ہو جسے اس کی ماں کے رحم سے باہر دھکیل دیا گیا ہو۔

٭٭٭ 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

افسانہ نمبر 713 : بے لوث دوست، تحریر : آسکر وائلڈ (آئر لینڈ)، مترجم : عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی)

افسانہ نمبر 719 : پلیٹ فارم نمبر آٹھ کی عورت، مصنف: رسکن بونڈ(مسوری۔بھارت)، مترجم: عبد الوحید خان۔ لاہور