افسانہ نمبر 743 : طوطے || مصنف: ہَردیش || ترجمہ: خورشید عالم (انڈیا)
عالمی ادب کےاردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ
نمبر 743 : طوطے
مصنف: ہَردیش ( ہندی
ناول نگار و افسانہ نگار)
ترجمہ: خورشید عالم
(انڈیا)
یہ کہنا مشکل تھا کہ
پہلے لالہ اشرفی لال جاگتے تھے یا طوطا اور کس کے جاگنے سے اُس گھر میں صبح ہوتی
تھی، یعنی صبح ہونے کا احساس۔ کبھی اشرفی لال کی نیند طوطے کی آواز سے ٹوٹتی تھی
اور کبھی طوطے کی اپنی نرم پنکھوں میں چھپی ہوئی گردن، کھاٹ چھوڑ کر برآمدے میں آگے
اشرفی لال کے قدموں سے ہی اٹھتی تھی۔ طوطا پنجرے کے دو تین چکر کاٹ کر آواز کرتا
تھا، "ٹائیں ٹائیں ٹوں۔ں پڑھو پٹے سیتارام سیتارام"۔ آواز میں پھر ایک
لے گھل جاتی تھی، "ٹائیں ٹائیں ٹوں پڑھو پٹے سیتارام سیتارام" اور تب
اشرفی لال خود اپنا کنٹھ کھولتے تھے، "پڑھو پٹے سیتارام سیتارام"۔ اور
کبھی اشرفی لال کی آنکھ کا کھلنا اور طوطے کی آواز کا پھوٹنا ایک ساتھ ہی ہوتا
تھا۔ فرق رہتا بھی تھا تو معمولی سا، اتنا باریک کہ پہچانا نہ جاسکے۔ اور آج بھی
اشرفی لال اور طوطا ساتھ ساتھ جاگے تھے۔ اشرفی لال کی نیند ہٹی، آنکھیں کھلی کھڑکی
سے باہر اُجاس کے سوتے میں گھل رہے اندھیرے کا جائزہ لے رہی تھیں اور طوطا آواز کر
رہا تھا، "ٹائیں ٹائیں ٹوں ٹوں پڑھو پٹے سیتارام سیتارام، ٹائیں ٹائیں ٹوں
پڑھو پٹے سیتارام سیتارام"۔ اشرفی لال نے برآمدے میں آکر طوطے کو ایک منٹ
سنگت دی اور پھر روزمرہ کی ضروریات سے فارغ ہونے کے لیے چلے گئے۔ نہانے سے قبل
انھوں نے پنجرے کی صفائی کر ڈالی اور طوطے کو نہلانے کے خیال سے اس کے اوپر لوٹے
سے تھوڑا سا پانی چھوڑ دیا۔ پوجا کرنے کے بعد جب وہ آئے، انھوں نے خربوزے کی پھانک
کاٹ کر پنجرے کے اندر ڈال دی، جسے طوطا کتر کتر کر کھانے لگا۔ وہ خود دودھ پینے
لگے، جو ان کی بیوہ بہن گرم کر لے آئی تھی۔
اس گھر میں وہ اور بیوہ
بہن، بس یہ دو ہی لوگ تھے۔ اور ان جیسا ہی جو تیسرا جاندار تھا، وہ تھا طوطا۔ پہلے
وہاں دو لڑکیاں بھی تھیں، ان کی بیوی بھی۔ لڑکیوں کی شادی ہو گئی تھی اور بیوی کا
انتقال۔ نہیں، تین سال پہلے وہاں ایک عورت اور آئی تھی۔ تب یہ طوطا نہیں تھا۔ طوطا
انھوں نے بعد میں پالا تھا۔ اس عورت کے آجانے سے گھر کی بھائیں بھائیں بھاگ گئی
تھی۔ وہ گھر پھر گھر لگنے لگا تھا۔ انھوں نے کہا نہیں تھا، ویسا کوئی اشارہ بھی
نہیں کیا تھا۔ بات اٹھائے جانے پر بلکہ گردن ہلا دیتے تھے، "نہیں، یہ ٹھیک
نہیں رہے گا"۔ لیکن بیوہ بہن سمجھ گئی تھی کہ ان کو ایک دوسری عورت کی ضرورت
ہے۔ وہ بغیر پانی کے پودے جیسے مرجھائے مرجھائے رہتے ہیں۔ روے کی کھیر و گوند کے
لڈو، جو انھیں پسند تھے، اب چاؤ سے کھاتے نہیں ہیں۔ ان کے پان سے رنگے سدا بہار
ہونٹ سوکھے رہتے ہیں۔ کرتا و گلیزا پہنے ہی دُکان چلے جاتے ہیں۔ رات میں ان کو
پوری نیند نہیں آتی ہے۔ آکاش میں تارے بنے ہوتے ہیں اور وہ اُٹھ جاتے ہیں۔ بہن نے
جب ایک لڑکی کو بلا کر ان کے سامنے کھڑا کر دیا تو لڑکی کی صورت میں انھوں نے ایک
ایسی دلفریب کشش پائی کہ وہ دوسری شادی کے لیے 'نا' نہ کر سکے۔ انھوں نے پہلے اسی
کے لیے انکار کیا تھا، اس بات کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی بھول گئے کہ ان کی عمر پچاس
کے اوپر ہے، ان کے سر اور مونچھ کے آدھے بال سفید ہو گئے ہیں، وہ دو بال بچے دار
لڑکیوں کے رشتے سے نانا بن چکے ہیں اور ان کی جگ ہنسائی ہو گی۔ بہن کے ہونٹ پر
داہنے طرف ایک مسا تھا، جس میں بڑے بالوں کا ایک گچھا اُگا رہتا تھا۔ بہن کبھی
کبھی بہت سمجھدار دکھنے لگتی تھی۔ وہ چہرے پر ہنسی پھیلاتے ہوئے اس سے بولے تھے،
"لگتا ہے، تم اس گھر میں بھوجائی بنا رہ نہیں سکتی ہو"۔
پنڈت جی نے پترے میں جو
ساعت بتائی، اس سے ایک پچھوارے کے اندر ہی وہ لڑکی بیوی بن کر اس گھر میں آ گئی۔
اشرفی لال نے اپنا نام صحیح ثابت کرنے کے لیے اسے اشرفیوں کا ہار بھینٹ کیا، سنہرا
جگ مگ کرتا ہوا۔ انھوں نے اسے چٹخ رنگ کی بیل بوٹے دار کئی ساڑیاں دیں۔ وہ دکان سے
لوٹتے ہوئے روز رات کو اس کے لیے مٹھائی لے آتے۔ وہ اس سے کہتے، "تم مجھے ایک
بیٹا دو"۔ بیوی کھل کھلا کر ہنستی، جھمک جھمک کر چلتی۔ اس کے سر سے پلو بار
بار گر جاتا، وہ کلائی کی چوڑیاں گھما گھما کر کھن کھناتی۔ وہ دانتوں کے بیچ ہاتھ
کی کوئی انگلی دبا لیتی اور چوسنے لگتی۔ وہ پیر کے انگوٹھے سے فرش کھرچتی۔ ان کے
دکان کے چلنے کے وقت وہ ٹھنکتی ہوئی راستہ روک لیتی، "ایک روپیہ دیئے جاؤ، آج
چاٹ کھاؤں گی" یا کہتی، "میری سونہہ، املی ملے تو لیے آنا۔ کیتھا دکھے
تو کیتھا بھی ضرور۔ مجھے نمک کے ساتھ یہ چیزیں بہت اچھی لگتی ہیں"۔ بیوی سے
زیادہ وہ لڑکی ہے، ایسا انھیں لگتا رہا۔ وہ اس کے الہڑ پن سے کبھی کبھی ڈر بھی
جاتے تھے۔ وہ اپنی عمر کم کرنے کی کوشش کرتے۔ بالوں میں انھوں نے خضاب لگانا شروع
کر دیا تھا۔ مونچھوں کو وہ تراشنے لگے تھے۔ وہ صبح دودھ کے ساتھ بید جی کے بتائے
ہوئے پاک کا استعمال کرنے لگے تھے۔ لیکن وہ پاتے کہ ان کے اور بیوی کی عمر کے
درمیان جو تیس بتیس سال کا ایک لمبا فاصلہ ہے، وہ اسے اکیلے پاٹ نہیں سکتے ہیں۔ وہ
اگر اپنی عمر گھٹا رہے ہیں تو، بیوی اپنی بڑھائے۔ تبھی یہ ممکن ہے۔ لیکن بیوی نے
جیسے عمر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ وہ ایک الہڑ لڑکی سی بنی رہنا چاہتی تھی۔ وہ
آنکھوں میں موٹا موٹا کاجل لگاتی، پیروں کی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر چکنا کرتی اور آنگن
میں کھڑی کھڑی چوٹی گوندھتی۔
جب ان کی بیوہ بہن، ان
کے دکان سے لوٹنے پر، اپنے بالوں بھرے مسے والے ہونٹ پر بل لا کر شکایت کرنے لگی
کہ سمن بھابھی کھڑکی دروازے پر دیر تک کھڑی رہتی ہیں، کہ آج سمن بھابھی نے ڈاکئے
سے باتیں کیں، کہ آج انھوں نے چاقو قینچی پر دھار رکھنے والے ایک کنجر کو پانی
پلایا، کہ آج انھوں نے مداری سے ریچھ کا چبوترے پر ناچ کرایا، کہ آج وہ ماسٹر صاحب
کی لُگائی کے گھر آدھ گھنٹے کے لیے کہہ کر گئیں، لیکن پورے دو گھنٹے بعد لوٹیں، تو
ان کا ڈر بڑھنے لگا۔ انھوں نے بیوی کو ڈانٹا کہ اس کا غیروں سے باتیں کرنا ٹھیک
نہیں ہے، نہ وہ گھر کے باہر ہی جایا کرے۔ "تو کیا میں گھر کے اندر سڑا
کروں؟" بیوی چہرے پر غصہ لاتے لاتے ہنس پڑی تھی۔ ہولی آگئی تھی۔ بیوی دروازے
پر پھاگن کے موسم جیسی کھڑی تھی۔ گلی کے کالج میں پڑھنے والے شیام اور ترون دو
چھبیلے لڑکوں نے اس پر رنگ ڈال دیا۔ وہ پھر آنگن میں گھس کر اس کے چہرے پر بھی رنگ
مل گئے۔ پتہ لگنے پر انھوں نے آنکھیں بگاڑی تھیں، "مجھے ایسی ہڑدنگ پسند نہیں"۔
پلٹ کر جب بیوی نے کہا تھا، "تمھارے بڈھے ہو جانے سے کیا میں بھی بڈھی بن
جاؤں؟" تو پہلے تو کچھ پل وہ ہکے بکے رہ گئے تھے، جیسے ذہن کی گھڑی کا چلنا
ایک جھٹکے سے رُک گیا ہو، یا اندر کی ساری بیداری ایک دم جڑ ہو گئی ہو۔ لیکن غصے
سے پھن پھناتے ہوئے انھوں نے بیوی کو لات گھونسوں سے جھاڑ دیا، "رنڈی، بے حیا
ہو رہی ہے۔ تیرا چھنال پن میں چھانٹ دوں گا"۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ بیوی سے
اور بھی زیادہ ڈر گئے تھے۔ اگلے دن انھوں نے بیوی کو سونے سے جھومر لا کر دئیے۔
اگلے دن انھوں نے اسے چار سو روپے کی زری کی ساڑی لا کر دی۔ بیوی بنا کسی سے پوچھے
ہوئے، پڑوس کی ایک ہم عمر شادی شدہ لڑکی کے ساتھ سینما چلی گئی۔ شام کو انھوں نے
بیوی کو پھر چھوڑ دیا، لیکن اگلے ہی دن اُسے سونے کی نگ جڑی مندری گھڑا دی۔
کچھ دنوں بعد میلہ تھا۔
پڑوس کی عورتیں اور لڑکیاں دیکھنے جا رہی تھیں۔ بیوہ نند کے منع کرنے پر بھی وہ ان
کے ساتھ چلی گئی۔ میلے میں وہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چہکتی ہوئی گھومی۔ اس
نے برف چوسی، گول گپے کھائے اور ہنڈولے والے جھولے پر چڑھ کر اونچے اونچے چکر
لگائے۔ خوشی نے اس میں پنکھ جوڑ دیئے تھے۔ خوشی سے وہ چھلک رہی تھی۔ شام کو انھوں
نے بیوی کو پھر پیٹا تھا۔ لات، گھونسوں اور جوتوں کی بوچھار کھاتے ہوئے اسے لگ رہا
تھا کہ اس کے کچھ معصوم سپنے لہو لہان ہو رہے ہیں۔ اگلے دن جب وہ دُکان پر تھے،
ایک آدمی نے بھاگتے ہوئے خبر دی کہ ان کی بیوی نے خودکشی کر لی ہے۔ گھر پر آکر
انھوں نے پایا کہ کمرے کی کڑی سے ساڑی کے پھندے کے سہارے اس کی لاش جھول رہی ہے۔
بیوی کو جب انھوں نے اچھے سے اچھا کھانے پہننے کو دیا تھا، تو ذراسی سختی پر اس نے
اپنی جان کیوں دے دی، اشرفی لال ٹھیک سے سمجھ نہیں سکے۔۔۔۔۔۔
نو بج رہے تھے اور
اشرفی لال چابیوں کا گچھا اور روکڑ والا لال جھولا لے کر دُکان کے لیے چل پڑے۔
سردیوں کے دن ہوتے تو وہ دس بجے چلتے۔ موسم کے حساب سے یہ بازار کے کھلنے کا وقت
بھی تھا۔ وہ ناریل کی رسی، سینک اور روئی کا کام کرتے تھے۔ دالیں اور مونگ پھلی
جیسے جنس بھی وہ بازار کی نبض دیکھ کر جب تب بھر لیتے اور نکال دیتے تھے۔ ان کا پکا
کام تھا۔ آج تک انھیں گھاٹا نہیں ہوا تھا۔ دُکان کھولتے کھولتے اخبار والا اخبار
ڈال گیا تھا۔ وہ ہندی کا ایک اخبار منگاتے تھے۔ لگائے جانے والے ٹیکس، انکم ٹیکس
اور دوسرے محکموں کے ذریعے ڈالے جانے والے چھاپوں یا چمتکاری اور حادثات سے جڑی
خبروں میں ہی ان کی زیادہ دلچسپی رہتی تھی۔ بین الاقوامی سیاست، زندگی کی دوسری
اہم ہلچلوں کے متعلق خبروں کو بنا پڑھے چھوڑ دیتے تھے۔ سب سے پہلے وہ اخبار کی
مختلف منڈیوں کے بھاؤ پر نظر دوڑاتے تھے۔ پیر کو ہفتے بھر کا راشی پھل نکلتا تھا
اور اسے بھی وہ بڑی دلچسپی سے دیکھتے تھے۔ بُرے گرہوں کے شانت کرنے کے موٹے موٹے
مشورے وہ جانتے تھے۔ دوسرے دن اخبار ردی ہو کر دُکان کے کام میں آجاتا تھا۔ گاہکوں
سے نمٹتے ہوئے دوپہر ہو گئی تھی۔ دُکان کا نوکر گھر جا کر ٹفن میں کھانا لگوا لایا
اور انھوں نے وقت نکال کر کھا لیا۔ وہ دوپہر کا کھانا دُکان پر ہی کھاتے تھے۔ چوں
کہ دُکان پر کھاتے تھے، اس لیے وہ پکا ہوتا تھا، رات کو گھر پر کھایا جانے والا
کچا۔
تیسرے پہر گاہکوں کا
دباؤ ایک دم کم ہو گیا تھا اور انھیں کس دُکان سے کیا پانا ہے اور کس کو کیا دینا،
اس کا حساب کر ڈالا۔ دوسرے بکری کا بھی۔ سات بجے انھوں نے دُکان بڑھا دی۔ چلنے سے
پہلے دُکان کے تالے کھینچ کھینچ کر دیکھے۔ ایسی انھوں نے عادت بنالی تھی۔ ڈیڑھ سال
پہلے وہ دُکان کے اندر ایک نوکر لڑکے کو رات میں رکھتے تھے۔ اس لڑکے کے رہنے کا وہ
انتظام بھی تھا اور دُکان کی چوکسی بھی۔
وہ تیرہ چودہ سال کا
پہاڑی لڑکا تھا، دوسرے پہاڑی لڑکوں جیسا ہی ----- ناٹا قد، چپٹا چکنا چہرہ اور
بھوری چمڑی۔ اسے پنجاب بینک کا چوکیدار لکشمن سنگھ لے کر آیا تھا۔ بولا تھا،
"لالا شاپ، اِش کو آپ کام پر رکھ لیجیے۔ یہ سارا کام آپ کو کرے گا۔ آپ کو ذرا
شی بھی شکایت نہیں ملے گی"۔ ان کو ایک لڑکے کی ضرورت بھی تھی۔ دُکان پر جو
ایک پُرانا نوکر تھا، اکثر وہ بیمار ہو جاتا تھا۔ ویسے بھی کبھی کبھی کام کے زیادہ
دباؤ کے لمحوں میں، وہاں ایک آدمی اور ہونا چاہیے۔ ایسا احساس انھیں شدت سے ہوتا
تھا۔ لکشمن سنگھ نے کہا تھا کہ اس کو وہ دونوں وقت کھانا دے دیں، پچیس روپے اوپر
سے۔ پھر کام دیکھ کر سال دو سال بعد کچھ اور بڑھا دیں۔ یہ ان کے یہاں پڑا رہے گا
اور خدمت کرتا رہے گا۔ انھوں نے حساب لگایا تھا۔ کھانا پینا ملا کر زیادہ سے زیادہ
پچھتر روپے پڑتے تھے۔ اچھا نوکر ان دنوں سوا سو ڈیڑھ سو میں بھی ڈھونڈے نہیں ملتا
ہے۔ یہ سودا سستا ہی تھا۔
دُکان پر بیٹھے ہی
بیٹھے وہ یوں ہی گھر بار کے لیے چیزیں بھی خرید لیتے تھے، سوپ، چلنی، چٹائی۔ طوطا
انھوں نے دُکان پر ہی خریدا تھا، مگر یہ نوکر رکھنے سے بعد کی بات ہے۔ انھوں نے طے
کر لیا تھا کہ نوکر کھانا تو گھر پر کھائے گا، لیکن رہے گا دُکان پر۔ دُکان اُن کی
کافی بڑی تھی۔ پیچھے کے حصے میں وقت ضرورت استعمال کرنے کے لیے انھوں نے پاخانہ
بنوا رکھا تھا۔ ہینڈ پمپ بھی تھا، دیگر سہولتیں بھی۔ اوپر کھلے حصے میں لوہے کا
جال پڑا تھا۔ پہلی شام نوکر لڑکے کو دُکان میں بند کرتے ہوئے انھوں نے پوچھا تھا،
"ڈر تو نہیں لگے گا؟" لڑکا اپنے مکے کے دانے جیسے دانت چمکاتا ہوا بولا
تھا، "لالا شاپ، ہم کو ڈر نہیں لگتا۔ گاؤں میں ہم جنگل کو لکڑی کاٹنے واشتے
جاتا تھا۔ وہاں بھالو ہوتا تھا"۔ صبح دُکان کا تالا کھول کر انھوں نے لڑکے سے
پھر پوچھا تھا، "ڈر تو نہیں لگا؟" اس بار لڑکا بنا دانت چمکائے ہوئے
بولا تھا، "یہاں موش بہت ہیں۔ رات کو اودھم مچاتا رہا، شونے نہیں دیا"۔
اس پر وہ ہنس دیئے تھے، "رات میں تم رہو گے تو سارے موش بھاگ جائیں گے، موس
سمجھیں گے، یہاں کوئی پہاڑی بلاؤ آ گیا ہے"۔ لڑکے کی آنکھیں تھوڑی نیلی تھیں
اور وہ واقعی بلی کی طرح چمکتی تھیں۔ وہ روز شام کو لڑکے کو دُکان پر بند کر دیتے
تھے اور صبح نکال دیتے تھے۔ جمعہ کو بازار کی چھٹی ہوتی تھی۔ اس دن وہ تالا کھول
کر، اسے گھر لے آتے تھے اور اس سے کمروں کی صفائی کرواتے تھے، کھاٹیں کسواتے تھے،
یا کپڑے دھلوانے جیسے کام لیتے تھے۔
لڑکے کا نام تھا جیون
سنگھ۔ پہاڑ پر اس کے باپ کی کھیتی تھی۔ اس کی ماں مرگئی تھی اور باپ نے دوسری شادی
کر لی تھی۔ سوتیلی ماں کا مزاج اس کے لیے بہت خراب تھا۔ وہ اُسے کھانے کو نہیں
دیتی تھی اور باپ سے جھوٹی شکایت کر پٹواتی تھی۔ بھائی کی پیدائش کے بعد سے یہ
مزاج اور بھی تلخ ہو گیا تھا۔ وہ گھر سے پہلی بار نکلا تھا۔ اشرفی لال کو یہ لڑکا
ذہین اور ایماندار لگا تھا۔ اسے کام کے لیے بار بار بتانا نہیں پڑتا تھا۔ اس کے
ہاتھ پیروں میں پھرتی تھی۔ رَیک کے پٹروں پر پیر لٹکاتا ہوا وہ بندر کی طرح اوپر
چڑھ جاتا تھا۔ پنڈی کو بغیر بگاڑے ہوئے وہ بتائی گئی ناپ کی رسی ایک جھٹکے سے کاٹ
دیتا تھا۔ ایک گاہک بنا پیسے دیئے ہوئے چلا جا رہا تھا اور اس نے ٹوک دیا تھا۔ بیس
روپے کا نوٹ کرتا اتارتے ہوئے ان کی جیب سے گر گیا تھا اور اس نے اٹھا کر ان کی
طرف بڑھا دیا تھا، "لالا شاپ، آپ کو روپیا گر گیا ہے"۔ پندرہ دن کے بعد
ہی وہ اسے چائے کے پیسے اوپر سے دینے لگے تھے۔ انھوں نے اپنی بیوہ بہن سے، جسے
لڑکا ماں جی کہتا تھا، کہہ دیا تھا کہ وہ اُسے کھانے میں کھٹی میٹھی چیزیں بھی دیا
کرے۔ انھوں نے لڑکے کو لیٹنے کے لیے ایک پرانی دری بھی دی تھی۔ اس سے یہ بھی کہہ
دیا تھا کہ اگر وہ یوں ہی محنت اور ایمانداری سے کام کرتا رہا، تو وہ ہولی، دُشہرے
جیسے تہواروں پر اس کے نئے کپڑے بھی بنوا دیں گے۔
وہ اس بات سے واقف تھے
کہ نوکر اکثر کچھ دنوں کے بعد پُھرر ہو جاتے ہیں۔ جب اتفاق سے انھیں ایسا اچھا
نوکر مل گیا تھا، تو وہ اُسے جانے دینا نہیں چاہتے تھے۔ وہ اس کے ہونے سے کافی
سہولت محسوس کر رہے تھے۔ کچی خصلت والے دوسرے دکاندار کہیں لڑکے کو بہکا نہ دیں،
یا کچھ لالچ دے کر توڑ نہ لیں، اس ڈر سے وہ اُسے ادھر اُدھر بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔
ویسے وہ شرمیلے مزاج کا تھا اور خالی ہونے پر بھی دُکان پر بیٹھا بازار کی ہلچل
دیکھا کرتا تھا۔ اس کا شرمیلا پن اس کے چہرے کو اور بھی معصوم بنا دیتا تھا۔وہاں
ہر دم ایک نمی بھی رہتی تھی، خاص طور سے اس کی چپٹی ناک اور گداز ہونٹوں کے گرد،
اور یہ بھی بھلا لگتا تھا۔ اس کو غور سے دیکھتے ہوئے وہ محسوس کرتے تھے کہ لڑکے کے
روپ رنگ میں نکھار آیا ہے۔ وہ اس سے پوچھتے تھے، "جیون سنگھ، یہاں خوش ہو؟"
"شپ ٹھیک ہے،" لڑکا
نظر جھکائے ہوئے کہتا تھا۔
قریب دو مہینے ہو رہے
تھے۔ وہ لڑکے سے مطمئن تھے اور لڑکا ان سے۔ اس دن بھی بازار کی چھٹی کا دن تھا۔ وہ
صبح سات بجے دُکان کا تالا کھول کر لڑکے کو گھر لے آئے تھے۔ لڑکے نے کمروں کے فرش
کی دھلائی کرنے کے بعد پوچھا تھا، "لالا شاپ، یہاں کوئی ندی ہوگی؟ میں اپنے
کپڑے دھوؤں گا اور نہاؤں گا"۔
"کپڑے باہر گلی کے نل پر
دھو ڈالو۔ وہیں نہا بھی لو۔"
"نہیں، ندی پر ٹھیک رہے
گا۔"
ندی پر آکر لڑکا کھل
اٹھا۔ وہ خوشی کے احساس سے ندی کے پانی کو دیکھنے لگا۔ لگا، ندی کی آنکھیں ہیں اور
وہ اسے دیکھ کر ہنس رہی ہے۔ ندی کے ہاتھ ہیں، اور وہ اُسے بلا رہی ہے۔ ندی کے پیر
ہیں اور وہ دوڑ رہی ہے، شاید اس کے گاؤں کی طرف۔ وہ ندی میں اتر کر تیرنے لگا،
کبھی چت، کبھی پٹ اور کبھی اندر ہی اندر۔ وہ ندی کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ دے دیتا،
پیروں میں پیر۔ کنارے پر ایک اونچا ٹیلا تھا اور وہ پانی سے نکل کر ٹیلے پر چڑھ
گیا۔ ٹیلے پر دو بکریاں چر رہی تھیں اور اسے دیکھتے ہی قلانچیں بھر کر نیچے اتر
گئیں۔ اس کے گاؤں میں بھی بکریاں تھیں اور ایسے ہی قلانچے بھرتی تھیں۔ ٹیلے پر سے
اُسے اجلا سا آکاش دور دور تک پھیلا ہوا دکھائی دیا۔ وہ کپڑے سکھا کر دو گھنٹے بعد
لوٹا۔
شام کو کھانا کھا کر
اشرفی لال نے اُسے دُکان کے اندر حسب معمول بند کر دیا۔ اگلے ہفتے بازار کی چھٹی
والے دن لڑکے نے ندی پر جانے کے لیے پھر زور دیا۔ اس دن بھی ندی اُسے ہاتھ ہلا ہلا
کر اشارہ کرتی اور آنکھوں سے مسکرا مسکرا کر دوڑتی ہوئی لگی۔ اس دن بھی وہ ندی میں
دیر تک مچھلی جیسا تیرا۔ اس دن بھی وہ اونچے ٹیلے پر چڑھا۔ دور کچی پٹریوں پر ایک
ریل گاڑی جا رہی تھی اور وہ اسے حیرانی سے دیکھنے لگا۔ اس کے سر پر ایک چڑیا بیٹھ
گئی، پھر پُھرر سے اُڑ گئی۔ وہ نیلے آکاش میں اُڑتی ہوئی چڑیا کو حیرت زدہ آنکھوں
سے دیکھنے لگا۔ اس نے لوٹ کر اشرفی لال سے کہا کہ وہ اس کا حساب کر دیں، وہ پہاڑ
پر اپنے گاؤں جائے گا۔ اس نے گاؤں جانے کی ضد پکڑ لی۔ اشرفی لال کی سمجھ میں نہیں
آیا کہ اچانک ایسا کیا ہو گیا، جو لڑکا چلا گیا۔ انھوں نے آج ہی ناشتے میں اسے
میٹھے پوئے دیئے تھے۔
ٹائیں —— ٹائیں —— ٹوں
—— پڑھو پٹے سیتارام —— سیتارام۔ ٹائیں —— ٹائیں —— ٹوں —— پڑھو پٹے سیتارام ——
سیتارام۔
طوطا پنجرے میں گھوم
گھوم کر الاپ کر رہا تھا۔ اشرفی لال نے پنجرے کے قریب جا کر دلار کے ساتھ اس کا
ساتھ دیا، "سیتا...رام —— سیتارام"۔
ٹائیں —— ٹائیں —— ٹوں
—— پڑھو پٹے سیتارام —— سیتارام۔
اشرفی لال کے 'پڑھو
پٹے' کا مخاطب لفظ نہیں بھی لگانے پر طوطا اس کو بولتا تھا ضرور، مختلف ڈھنگ سے۔
اشرفی لال اکثر سوچتے تھے کہ اسے سکھاتے ہوئے انھیں 'پڑھو پٹے' کا غیر ضروری لفظ
نہیں بولنا چاہیے تھا۔ اس کے ویسا کرنے پر کبھی کبھی انھیں یہ بھی لگتا تھا کہ
طوطے کے ذریعہ 'پڑھو پٹے' کا مخاطب اب خود ان کے لیے ہے۔ طوطے نے پنجرے کی تیلیوں
کے پاس آکر اپنی گردن ٹکا دی تھی۔ وہ سمجھ گئے کہ طوطا کہہ رہا ہے، "میری
گردن سہلاؤ"۔ وہ تیلیوں کے پھیلاؤ کے درمیان انگلی ڈال کر ویسا کرنے لگے۔
طوطے کے گلے میں کنٹھا پڑ چلا تھا۔ کنٹھے کا گھیرا کہیں گہرا سُرخ تھا، کہیں ہلکی
سی زردی لیے ہوئے۔ اسی کے چاروں طرف ایک سیاہ مخملی لکیر بھی ابھر رہی تھی۔ یہ اس
بات کی علامت تھا کہ طوطا اب جوان ہو گیا ہے۔ انھوں نے جب طوطا خریدا تھا، ایک دم
مر گلّا تھا۔ انھیں شک ہوا تھا کہ یہ پڑھ بھی سکے گا۔ مگر بہیلیے نے تسلی دی تھی
کہ طوطے کے بچے پڑھنا جلدی سیکھتے ہیں۔ بوڑھے پٹّے ہی رام رام نہیں کہتے۔ کچھ دنوں
میں یہ بہت خوبصورت دکھنے لگے گا۔ طوطا سچ میں پڑھ بھی گیا تھا اور خوب صورت بھی
ہو گیا تھا۔
انھوں نے طوطے کو کیلے
کا ٹکڑا ڈال دیا۔ طوطا کیلا کتر کتر کر کھانے لگا۔ اخبار میں کسی ملک میں ہوئے
انقلاب کے بارے میں چھپا تھا۔ مگر انھیں اس خبر میں دلچسپی نہیں ہوئی تھی اور
پڑھتے ہوئے اسے چھوڑ دیا تھا۔ دُکان سے لوٹ کر انھوں نے برفی کا ٹکڑا طوطے کے
پنجرے میں ڈال دیا۔ انھوں نے سونے سے پہلے پنجرہ آنگن سے لا کر برآمدے میں اونچے
کڑے سے ٹانگ دیا۔ سردی کے دنوں میں وہ پنجرے پر ایک موٹا کپڑا بھی ڈال دیتے تھے۔
بہیلیے نے طوطا لینے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا تھا، "لالہ جی آپ پال لیجیے۔
کچھ دن میں جب یہ میٹھی میٹھی بولی بولنے لگے گا، آپ اُسے کسی اپنے سگے جیسا ہی
محسوس کریں گے"۔ دو روپے کا خریدا ہوا طوطا سچ میں خاندان کا ایک فرد ہی ہو
گیا تھا۔
ٹائیں —— ٹائیں —— ٹوں
—— پڑھو پٹے سیتارام —— سیتارام۔ صبح ہو گئی تھی، اشرفی لال نے طوطے کے پنجرے میں
چھیلی ہوئی لیچی ڈال دی تھی۔
ٹائیں —— ٹائیں —— ٹوں
—— پڑھو پٹے سیتارام —— سیتارام۔ ایک اور صبح ہو گئی تھی۔ اشرفی لال نے پنجرے میں
خُمانی ڈال دی تھی۔
ٹائیں —— ٹائیں —— ٹوں
—— پڑھو پٹے سیتارام —— سیتارام۔ ایک اور صبح ہو گئی تھی۔ اشرفی لال نے پنجرے میں
آلوچہ ڈال دیا تھا۔
طوطا جب آنکھوں کی
پتلیوں پر سفید جھلی گرا کر ایک ٹانگ اٹھا لیتا تھا، تو وہ کسی دھیان میں مصروف
مُنی جیسا دکھتا تھا۔ طوطے کی پونچھ میں ہرے پنکھوں کے ساتھ ساتھ دو ایک پنکھ پیلے
تھے اور دو ایک نیلے۔ طوطے کی پونچھ لمبی ہو گئی تھی۔ پہلے پنجرہ چھوٹا تھا، لیکن
پھر وہ ایک بڑا پنجرہ لے آئے تھے، جس میں جھولے نما بیچ میں ایک بیٹھکی بھی لگی
تھی۔
ٹائیں —— ٹائیں —— ٹوں
—— پڑھو پٹے سیتارام —— سیتارام۔ ایک اور صبح ہو گئی تھی۔ اخبار میں تیسری دنیا کے
کسی غلام ملک کے آزاد ہونے کی خبر تھی۔ اشرفی لال نے اسے اَن دیکھا چھوڑ دیا تھا۔
اخبار میں ایک گاؤں میں اچھوتوں کے بٹھاکروں کے بیگار کرنے سے انکار کر دینے اور
اچھوتوں کی جھونپڑیاں پھونکے جانے کی بات تھی۔ اشرفی لال کو اس خبر میں بھی خاص
دلچسپی نہیں ہوئی تھی۔
ٹائیں —— ٹائیں —— ٹوں
—— پڑھو پٹے سیتارام —— سیتارام۔ ایک اور صبح ہو گئی تھی۔
اشرفی لال پنجرے کی
صفائی کر رہے تھے۔ کسی کے آواز دینے پر وہ باہر ملنے چلے گئے۔ لوٹ کے آئے تو انھوں
نے پایا کہ پنجرے کی کھڑکی کھلی چھوٹ گئی تھی اور طوطا باہر پنجرے کے اوپر بیٹھا
ایک ٹانگ پر اپنے گیلے پنکھ پھیلائے سکھا رہا ہے۔ انھوں نے سیب کا ٹکڑا پنجرے میں
ڈال دیا اور طوطا اتر کر اندر چلا گیا۔ پہلے بھی ایک بار ایسا ہوا تھا۔ طوطے نے
پنجرے کو ہی اب اپنا گھر مان لیا ہے۔ وہ محبّت سے مونگے جیسی اس کی چونچ کو دیکھتے
رہے۔ پھر انگلی ڈال کر اس کی گلو بند جڑی گردن کو نرم نرم سہلاتے رہے۔
ٹائیں —— ٹائیں —— ٹوں
—— پڑھو پٹے سیتارام —— سیتارام۔ ایک اور صبح ہو گئی تھی۔
ٹائیں —— ٹائیں —— ٹوں
—— پڑھو پٹے سیتارام —— سیتارام۔ ایک اور صبح ہو گئی تھی۔
آسمان خوب نیلا ہونے
لگا تھا۔ دھوپ میں خوب اُجلی جھلملاہٹ بھرنے لگی تھی۔ درختوں کی ٹہنیوں نے رنگ
برنگی کلغیاں پہن لی تھیں۔ کھیتوں میں سنہرا پن بھر گیا تھا، ہوا میں مہک رچ بس
گئی تھی۔ لمبی ہری پونچھ والا ایک طوطا اوپر آکاش سے اتر کر پنجرے پر بیٹھ گیا اور
ٹائیں ٹائیں کرنے لگا۔ پنجرے والا طوطا بھی اندر تیزی سے دو تین چکر کاٹ کر ٹائیں
ٹائیں کرنے لگا۔ باہر والا طوطا ہوا میں اوپر اُڑا، اس نے کئی چکر لگائے اور پنجرے
کے اوپر پھر بیٹھ کر آواز کرنے لگا۔ اندر کا طوطا اپنے پنکھ پھڑپھڑاتا ہوا اس بار
اور بدحواسی سے چیخنے لگا۔ باہر والا طوطا دوبارہ اڑا اور اڑتا چلا گیا، اپنے
پنکھوں سے کھلے آکاش کو ایک دلفریب وسعت دیتا ہوا۔
اشرفی لال نے شام کو
دکان سے لوٹنے پر پایا کہ طوطا پنجرے کے اندر بے چین ہے۔ وہ اپنی چونچ سے پنجرے کی
تیلیاں جھنجھوڑ رہا ہے۔ وہ اپنے تیوروں سے ایک مختلف طوطا بن گیا ہے۔ انھوں نے
بالوشاہی کا ایک ٹکڑا پنجرے کے اندر ڈالا، مگر طوطا اس ٹکڑے کو اٹھائے بغیر تیلیوں
کو ویسے ہی جھنجھوڑتا رہا۔ انھوں نے اسے شانت کرنے کے لیے اس کی گردن سہلانی چاہی،
لیکن طوطا ان کی انگلیوں پر جھپٹ پڑا۔ صبح ہو گئی تھی، روز جیسی۔ نہیں، مختلف۔
طوطا بول نہیں رہا تھا۔ اشرفی لال برآمدے میں آگئے۔ پنجرے کی ایک تیلی مڑی ٹیڑھی
تھی اور بڑھی ہوئے جگہ میں سے طوطے کی گردن باہر نکلی تھی۔ پھیلے ہوئے پنکھ اور
مڑی ہوئی ٹانگوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ طوطا پنجرے کو لے کر اُڑ رہا ہے۔
اشرفی لال آج بھی نہیں
سمجھ سکے تھے کہ طوطے نے یوں گردن پھنسا کر، اپنی ننھی سی جان کیوں دی۔۔۔۔
انتخاب : حنظلہ خلیق
الرحمٰن

Comments
Post a Comment