افسانہ نمبر 742: سزائے موت || افسانہ نگار: زکریا تامر (شام) || اردو ترجمہ : اسداللہ میر الحسنی
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 742: سزائے موت
افسانہ نگار: زکریا تامر (شام)
عربی سے اردو ترجمہ : اسداللہ میر الحسنی/ کراچی
عمر المختار دار کے ڈنڈوں سے لٹک رہا تھا۔ سر جھکا ہوا تھا، آنکھیں موندی ہوئی تھیں۔ وہ مطمئن، خاموش اور باوقار اپنی نگرانی پر مامور برقنداز پہرے دار سے بالکل بے پروا تھا۔
اس لمحے کا چمکتا سورج زرد برف میں بدل گیا۔ عمر المختار نے اپنے سرد لہو کو گرم کرنے کے لیے کوئی دوسرا سورج ڈھونڈنے لگا۔ اس نے ایک تصور بُنا: ایک بھوکا ننھا پرندہ، جو صبح اپنے اسکول جانے سے انکاری ہے اور موسلا دھار بارش کا منتظر ہے تاکہ اس کی خشک روٹی بھیگ جائے۔ ایک سفید گلاب، جو لوہے کی چارپائی پر ٹھٹھرتا ہوا اونگھ رہا ہے اور اتنا نادار ہے کہ ہیٹر خریدنے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ ایک بلی، جو دواخانوں میں قید ہے، پروں کے طوفان کی مالک بننے کا خواب دیکھتی ہے اور بادل، جو گلیوں میں غبار آلود کپڑے پہنے دوڑتے ہیں، بچوں سے الجھتے ہیں اور اپنے سنگریزوں سے کھڑکیوں کے شیشے ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔
اتنے میں پہرے دار نے عمر المختار کو پکارا: "کیا بات ہے؟ کیوں مسکرا رہے ہو؟ میرا مذاق اڑا رہے ہو یا عورتوں کے خیال میں کھوئے ہوئے ہو؟"
سوال کا جواب خاموشی کی صورت میں ملا۔
وہ جھلا کر غرّایا: "بولو! کیوں نہیں بولتے؟ کب تک یوں چپ رہو گے؟ اُکتائے نہیں؟ اکڑ دکھاؤ مت، میرے دادا تمہارے دادا کے خادم نہیں تھے۔ اُف! کیسا جانکاہ کام ہے، جس میں ذرا سی تفریح بھی نہیں۔"
اسی لمحے ایک چھوٹا لڑکا ہاتھ میں موم کی بنی گڑیا اٹھائے گزرا۔ وہ ٹھٹک کر رک گیا اور دار کو دہشت و حیرت سے گھورتا رہا۔ پہرے دار نے کھردری آواز میں جھڑکا: "چلو! ٹھہرنا منع ہے۔"
لڑکا ٹس سے مس نہ ہوا، گویا اسے مخاطب ہی نہ کیا گیا ہو۔ پہرے دار جھلا کر قریب آیا اور تیزی سے پوچھا: "یہاں کیوں کھڑے ہو؟"
لڑکے نے سادہ لہجے میں کہا: "میں دیکھ رہا ہوں۔"
پہرے دار نے طنزیہ انداز میں پوچھا: "کس چیز کو دیکھ رہے ہو؟ کسی ہوٹل کو؟"
لڑکے نے اپنی ننھی شہادت کی انگلی اٹھا کر عمر المختار کی طرف اشارہ کیا: "اِسے دیکھ رہا ہوں۔"
پہرے دار نے تجسس بھری مگر سخت آواز میں کہا: "کیا تم اِس سے خوف نہیں کھاتے؟"
لڑکے نے نفی میں سر ہلا دیا۔ پہرے دار اور بھڑک اٹھا: "مہذب بچے تو لٹکائے گئے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔"
اس نے یکایک ہاتھ بڑھا کر لڑکے سے گڑیا جھپٹ لی۔ لڑکا مدھم، ٹوٹی ہوئی آواز میں چیخا: "واپس کرو… مجھے واپس دو!"
پہرے دار ہنسا اور طنز اڑاتے ہوئے بولا: "پہلے میرا ہاتھ چومو۔ ہاں، چومو۔ میرا ہاتھ نہیں چومو گے؟"
لڑکا روتا رہا: "واپس دو… واپس دو!"
پہرے دار نے سخت لہجے میں کہا: "چلو! قانون کی بے ادبی پر یہ گڑیا ضبط کی جاتی ہے۔ بھاگو یہاں سے، ورنہ تمہاری کھال ادھیڑ کر اس میں بھوسہ بھر دوں گا۔"
لڑکا نہ دوڑا۔ بس آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا پہرے دار سے کچھ دور جا کر رک گیا، پھر چلّا اٹھا: "میں اپنے بھائی کو لا کر تمہیں پٹواؤں گا۔"
پہرے دار جھکا، زمین سے ایک پتھر اٹھایا اور لڑکے کی طرف اچھال دیا۔ پتھر ہوا میں چلا اور لڑکے کے قریب جا گرا۔ پہرے دار نے استہزائیہ انداز میں کہا: "اور اپنی ماں کو بھی ساتھ لانا!"
لڑکا جست لگا کر پتھر سے بچا اور پھر دوڑ پڑا۔ پہرے دار نے ایک آہِ افسوس بھری، پھر عمر المختار کی طرف دیکھ کر کہا: "لعنتی نسل ہے، کسی کی عزت نہیں کرتی۔ جانتے ہو، میں نے گڑیا کیوں چھینی، حالاں کہ میں شادی شدہ بھی نہیں۔"
عمر المختار خاموش رہا۔ پہرے دار آگے بولا: "یوں مت سمجھنا کہ میں اس سے کھیلوں گا، میں تو کب کا مرد بن چکا ہوں۔"
وہ فخر سے سر اٹھائے کچھ دیر خاموش رہا، پھر اچانک خوشی سے چیخا: "اس پر مقدمہ چلا دوں گا، کیوں نہ چلاؤں؟"
وہ غیظ بھری نگاہ سے عمر المختار کو دیکھ کر بولا: "اگر تم سمجھتے ہو کہ میں مقدمہ چلانے کے لائق نہیں، تو تم خطا پر ہو۔"
یہ کہہ کر اس نے لہجہ اور انداز سخت کیا، گڑیا کو زمین پر پھینکا اور کٹھور حکم میں چلّایا: "عدالت!"
پھر گڑیا کی طرف جھک کر بولا: "ہنسی بند کرو، ورنہ تمہیں بھی لٹکا دوں گا۔"
اس نے بھنویں چڑھائیں: "اے لڑکی! تم پر الزام ہے کہ… اُف! میں تو الزام سوچنا ہی بھول گیا۔ اچھا، تم ایک جرم کے ارتکاب کی ملزمہ ہو، جس کی خبر تمہیں بعد میں دی جائے گی۔ چلو، اقرار کرو! مجھے دھوکا دینے کی کوشش نہ کرنا، میں گولی چلانا خوب جانتا ہوں۔ بولنے کا ارادہ نہیں؟ ٹھیک ہے، تمہاری مرضی۔ لیکن عدالت کو للکارنے کی قیمت تمہیں چکانی پڑے گی۔"
اس نے گرداگرد سخت آنکھوں سے دیکھا اور ایک غیبی مجمع کو مخاطب کیا: "شور کرنا منع ہے!"
عمارتوں کی بالکونیوں پر ٹنگے دھلے کپڑے بھی جیسے خاموش ہو گئے، جب کہ پہرے دار حکم لگاتا چیخا: "سزائے موت!"
پھر پست اور سرگرداں آواز میں بڑبڑایا: "مگر اسے کیسے سزائے موت دوں؟ اس پر گولی چلا دوں؟ نہیں، کئی گولیاں ضائع ہوں گی۔ ذبح کر دوں؟ نہیں، وہ قوت تو مرغی یا بھیڑ کے لیے بچانی چاہیے۔ آخر کیا کروں؟"
وہ کچھ دیر اس زرد ننھی لڑکی کو گھورتا رہا، پھر خوشی سے اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ وہ دوڑ کر رسی لایا اور اسے انہی پھانسی کے ڈنڈوں سے باندھ دیا، جن سے عمر المختار لٹک رہا تھا۔ پھر لڑکی سے نرم لہجے میں پوچھا: "تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟ کیا… کوئی مزاحیہ فلم دیکھنا چاہو گی؟ معاف کرنا، تمہاری خواہش پوری نہیں کر سکتا، کیونکہ موت کی گھڑی مؤخر نہیں ہوتی اور اسے خوف کے ساتھ اور بلا مزاح جھیلا جانا چاہیے۔"
پھر تن کر چیخا: "غداروں کے لیے موت ہے!"
اس نے گڑیا کو اٹھایا، رسی اس کی گردن میں پھندا بنا کر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا، تاکہ وہ خلا میں جھولنے لگے، عمر المختار کے پہلو میں۔
عمر المختار چیخنا چاہتا تھا، مگر اسی لمحے آنسو اس کے جھری دار چہرے اور لمبی سفید داڑھی کو تر کر گئے۔
لو، دیکھو: ننھا پرندہ اپنے اسکول سے نکالا جا رہا ہے کہ اسے چہچہانے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں؛ بادلوں کو چوڑی سڑکوں پر چلنے سے روکا جا رہا ہے کہ ان کے کپڑے بوسیدہ اور پھٹے ہوئے ہیں۔ روٹی کے بدلے روئی کھائی جا رہی ہے۔ گلاب اپنا ہی خون چاٹ رہا ہے اور عمر المختار اپنی پھانسی کی رسی جھٹک کر قبرستان کی طرف دوڑ رہا ہے، جب کہ زمین کے آفتاب ایک ایک کر کے بجھتے جا رہے ہیں۔
عربی عنوان: الإعدام

Comments
Post a Comment