افسانہ نمبر 741 : موسمِ سرما کی باغبانی || تحریر : جینیٹ فریم( نیوزی لینڈ) || اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 741 : موسمِ
سرما کی باغبانی
تحریر : جینیٹ فریم( نیوزی لینڈ)
اردو ترجمہ: حنظلہ
خلیق (شرق پور)
مسٹر پیجٹ کی بیوی دو
مہینوں سے بے ہوشی کی گہری حالت میں تھی۔ ہر روز وہ ہسپتال آتا، اس کے بستر کے پاس
بیٹھتا، اور خاموشی میں صرف اتنا کہتا، “مریم، میں ہوں، الیٓک، میں تمہارے پاس
ہوں”، جبکہ وہ بے حس و حرکت پڑی رہتی، آنکھیں بند، چہرہ زرد اور ساکت۔ عموماً مسٹر
پیجٹ آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ وہاں گزارتا، پھر جھک کر بیوی کو بوسہ دیتا، اس کا
ہاتھ جو اس نے تھام رکھا ہوتا، آہستگی سے واپس لحاف کے نیچے اس کے پہلو میں رکھ
دیتا، چادر کو درست کرتا، اور پھر دوپہر یا شام کی روشنی میں اپنی اس آزادی اور
حرکت کے احساس کے ساتھ، گھر لوٹ آتا۔ پہاڑی مضافات میں واقع اینٹوں کا وہ کونے
والا گھر اس کا منتظر ہوتا، جہاں وہ کھانا تیار کرتا، کھاتا، اور پھر باہر نکل کر
باغ میں کام کرنے لگتا۔
سال کے ہر موسم میں اسے باغ میں کچھ نہ کچھ کرنے کو مل جاتا۔ اس کی
زندگی دو حصوں میں بٹ گئی تھی: ہسپتال کے چکر اور اپنے پھولوں، سبزہ زار اور
اولیریا کی باڑ کی دیکھ بھال کے درمیان۔ جب پڑوسی اسے کھدائی کرتے، تراش خراش کرتے
یا گھاس کاٹتے دیکھتے تو کہتے، “بیچارے مسٹر پیجٹ، ان کا باغ ہی شاید انہیں تسلی
دیتا ہوگا۔” اور جب شام ڈھلنے پر بیٹھک کے بند پردوں کے پیچھے بنفشی روشنی
جھلملاتی، اور مسٹر پیجٹ ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھا ہوتا، تو پڑوسی پھر کہتے،
“بیچارے مسٹر پیجٹ، یہی ٹیلی وژن اب ان کا سہارا ہوگا۔”
اکثر وہ شام کے وقت ہسپتال فون کر کے بیوی کی حالت پوچھتا، اور
جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا، “ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔” کوئی تبدیلی
نہیں، کوئی تبدیلی نہیں۔ اس نے ان الفاظ کو اب سوال کیے بغیر قبول کرنا سیکھ لیا
تھا۔ وہ جانتا تھا اس کا مطلب کیا ہے، کہ وہ نہ زندگی کے قریب ہوئی ہے نہ موت کے۔
روزانہ کی ملاقاتوں میں جو معمولی سی جنبشیں اسے محسوس ہوتی ہیں وہ محض لہروں کی ہلکی
سی کپکپاہٹ ہیں، جو مخالف ہواؤں کے جھونکوں سے ادھر ادھر ہلتی ہیں، مگر سمندر کے
مدوجزر کی کوئی خبر نہیں دیتیں۔
کوئی تبدیلی نہیں۔
وہ کس انہماک سے اس کے چہرے کو تکتا رہتا۔ کبھی کبھی وہ اس کے چہرے
پر ہاتھ پھیرتا، مگر اس کی پلکیں تک نہ جھپکتیں، بند اور سپید رہتی، جیسے چراغ کے
خول ہوں ۔مسٹر پیجٹ کا باغ پوری گلی میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس
کے گلاب بے عیب تھے، نہ کسی بیماری کا نشان، نہ سبز کیڑوں کا حملہ۔ اس کا سبزہ
دھوپ میں ایسے دمکتا جیسے کسی نرم کھال کی چمک ہو۔ سبزہ زار اور سڑک کے درمیان
پھیلی ہوئی باڑ یوں دکھائی دیتی جیسے زرد کیک کا ایک لمبا، ہموار اور بھرا ہوا
ٹکڑا ہو، مگر وہ ساکت نہ تھی۔ ہوا چلتی تو اس کے گھنگریالے، دبے ہوئے پتے چٹخنے
لگتے، جیسے کہیں باریک سی آگ سلگ رہی ہو۔ صبح کی روشنی میں وہ چمکدار سبز وارنش کی
طرح دمکتی، اور شام کو مدھم نارنجنی رنگ اختیار کر لیتی، جیسے کبھی کبھار سبزہ
درختوں کے گھنے سائے تلے ڈوبتے سورج کی روشنی میں پھیکا سا نظر آتا ہے۔
باغ کے کونے میں، سڑک پر جھکتی ہوئی ایک پہاڑی بیری کا درخت تھا،
جو مسٹر پیجٹ کی باغبانی کا فخر تھا۔ اب خزاں میں اس کی شاخیں بیروں سے لدی ہوئی تھیں،
ہر ٹہنی کے پتوں کے نیچے چمکتے دانوں کے گچھے یوں لٹک رہے تھے جیسے روشن موتیوں کی
لڑی ہو۔ ہر کوئی اس درخت کو سراہتا، اور جب وہ تراش خراش کرتا، گھاس کاٹتا، پودوں
کو سہارا دیتا یا نئی کونپلیں لگاتا تو اس کے سرخ دانے مسٹر پیجٹ کے دل کو کسی
انجانی سی خوشی سے بھر دیتے ۔
بیوی کی بیماری کے ابتدائی دنوں میں، پھولوں کی پژمردہ نسبت سے دل
گرفتہ ہو کر اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ ہسپتال پھول نہیں لے جائے گا، مگر ایک دن
اچانک، کسی بے ساختہ جذبے کے تحت، اس نے پہاڑی بیری کے چند گچھے توڑ لیے۔
وہ وقتِ ملاقات سے پہلے ہی آ پہنچا۔ بیوی کے بستر کے پاس اس نے
اتنے آلات، نلکیاں اور سوئیاں دیکھیں(گویا ایک بے جان پڑے جسم کی نگہداشت کے لیے
ہر ممکن وسیلہ وہاں موجود تھا) کہ پہلی نظر میں بیروں کے لیے کوئی جگہ دکھائی نہ
دی۔ کچھ توقف کے بعد اس نے وہ گچھا ایک اینٹ کے رنگ کی چوڑے منہ والی نلکی کے پہلو
میں چھوٹے سے میزچے پر رکھ دیا، کہ شاید اس کی بیوی، جو ان اجنبی آلات کے بیچ کسی
پراسرار اور خاموش باغ میں لیٹی ہوئی تھی، ان بیروں کو دیکھ لے۔
ایک نرس کمرے میں داخل ہوئی۔ “اوہ، مسٹر پیجٹ، آپ تو آج جلدی آ
گئے۔ میں یہ ٹرے ہٹا دیتی ہوں اور ان بیروں کو پانی میں رکھ دیتی ہوں۔ کیا یہ آپ
کے باغ کے ہیں؟”
مسٹر پیجٹ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
نرس اس کی بیوی پر جھکی اور لحاف کو اس طرح درست کرنے لگی جیسے کسی
زندہ و گویا مخلوق کے حملے سے بچانے کے لیے ایک نرم سی مدافعتی ڈھال بنا رہی ہو،
جو اس کے نباتاتی سکون میں مداخلت کر گئی ہو۔ پھر وہ اپنی چاندی کی ٹرے، جس پر
آلات رکھے تھے، اور بیروں کی ٹہنی اٹھا کر باہر چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد ہی
مسٹر پیجٹ نے آہستہ سے کہا، “مریم، میں ہوں، الیٓک”، اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں
لے لیا۔ اسے ایک مدھم سی نبض محسوس ہوئی، جیسے کوئی یاد جو ہاتھ سے نکل چکی ہو اور
اب واپس نہ آسکے۔ وہ اس کی انگلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ ایک مانوس سی ناامیدی اس
پر چھا گئی۔ کیا فائدہ؟ کیا وہ اس حال سے بہتر نہ ہوتی کہ مر جاتی، بجائے اس کے کہ
اس طرح خاموش اور بے خبر پڑی رہے، ایک ایسی دنیا میں جہاں تک اس کی رسائی ہی نہ
ہو؟
نرس واپس آئی۔ اس نے بیروں کو کھڑکی کی چوکھٹ پر رکھ دیا، جہاں وہ
رنگ کی ایک شوخ جھلک بن گئے۔ باریک، ہڈیوں جیسے پتّے شیشے کے سامنے نیزوں کی طرح
اٹھے ہوئے تھے۔
"اب جب سردی آنے کو ہے
اور پتے بدل رہے ہیں، تو جلد ہی صرف یہی آخری بیریاں رہ جائیں گی۔"
"ہاں، " مسٹر پیجٹ نے کہا۔ نرس نے اس کی طرف دیکھا، اس
کے ان کہے سوال کا جواب دیتے ہوئے، اس کے چہرے پر ہمدردی کی نرمی تھی۔ “ان کی حالت
میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، مسٹر پیجٹ۔ مگر انہیں کوئی تکلیف نہیں ہے۔”
“نہیں،” مسٹر پیجٹ نے
کہا۔
وہ منتظر رہا کہ نرس وہی جملہ دہرائے جو اب سب لوگ اس سے کہتے تھے،
وہ الفاظ جو اس کے کانوں میں اس قدر گونجتے رہتے کہ اس کا فریاد کرنے کو جی چاہتا:
..."جب وقت آئے گا تو یہ اس کے لیے ایک خوشگوار رہائی ہوگی!!"
مگر نرس نے یہ نہ کہا، اور وہ اس پر شکر گزار ہوا۔ وہ مسکرائی اور
کمرے سے نکل گئی۔ وہ بیٹھا رہا، کھڑکی کے شیشے، چوکھٹ اور بیروں پر پھیلی دوپہر کی
روشنی کی اس باریک پٹی کو تکتا ہوا، جو ان میں یوں لہرا رہی تھی جیسے شیشے کے اندر
خون کے ننھے ننھے بلبلے اٹھ رہے ہوں۔ مسٹر پیجٹ کانپ اٹھا۔ اس کے دل میں ایک
انجانا خوف جاگنے لگا۔ اس نے سوچا، جب موت آئے گی اور میں اس کے پاس ہوں گا، تو وہ
لمحہ کیسا ہوگا؟ وہ دوبارہ اپنی بیوی کے ہاتھ کی طرف دیکھنے لگا، اس نرم، شکن آلود
جلد کی طرف، جو گویا نئی تھی۔ اس نے اس کی انگلیوں پر ہاتھ پھیرا تو اس کا دل تیزی
سے دھڑکنے لگا، اور ایک گرم سی مسرت اس کے وجود میں پھیل گئی۔ اسے یکایک احساس ہوا
کہ یہ جلد نئی ہے، اور ہاں، اس کے ناخن بھی تو تراشے گئے ہیں، اور اگر تراشے گئے
ہیں تو ضرور بڑھ بھی رہے ہوں گے، اس کے بال بھی۔ اس کے بال بھی تو کاٹے گئے تھے۔
وہ جھک کر جلدی سے اس کے نم، چوہے کے رنگ جیسے بالوں کو چھونے لگا۔ وہ بڑھے تھے
اور پھر کاٹے گئے تھے۔ انہوں نے اس کے بال کاٹے تھے! پھر یہ وحشی مسرت آہستہ آہستہ
ماند پڑنے لگی، جب اسے یاد آیا کہ مرنے کے بعد بھی بال اور ناخن بڑھتے رہتے ہیں۔
تو کیا یہ بڑھنا زندگی کی نہیں بلکہ موت کی علامت تھا؟
“اوہ نہیں، اوہ نہیں،”
مسٹر پیجٹ بے اختیار بول اٹھا۔
کیونکہ جب تک اس کی بیوی اس بے ہوشی میں
پڑی تھی، بار بار اس کے ناخن اور بال کاٹے جاتے رہیں گے، اسے نہلایا جائے گا، اس
کے جسم سے ہر روز وہ فضلہ نکالا جائے گا جو اسے کھلائی گئی غذا سے پیدا ہوتا ہے،
اور ہر دن الگ ہوگا، جیسے ان تمام ہفتوں میں ہر دن مختلف رہا ہے جب سے وہ بیمار
ہے۔ مگر اس نے کبھی اس کا تصور تک نہ کیا تھا، اور نہ ہی کسی نے اسے بتایا تھا، اس
نے تلخی سے سوچا۔ وہ تو بس یہی کہتے رہے، “کوئی تبدیلی نہیں، کوئی تبدیلی نہیں”،
حالانکہ ہر دن ایک ذرّہ کم یا زیادہ گرد دھوئی جاتی رہی، ایک لقمہ زیادہ یا کم جسم
میں ٹھہرتا یا رد ہو جاتا، اور کسی دن دھوپ کی چوڑی تیز دھار اس کے چہرے پر جلتی
ہوئی پڑتی، تو کسی دن وہ ٹھنڈی، گہری چھاؤں میں پڑی رہتی۔ وہ زندہ تھی، روشنی میں
۔ قبر میں نہ دھوپ ہوتی ہے، نہ سایہ، نہ ہاتھوں کا لمس، نہ جسم کی تطہیر۔ جب مسٹر
پیجٹ نے رخصت ہوتے ہوئے مسکرا کر اپنی بیوی سے الوداع کہا تو نرس چونک گئی۔ بیچارا
مسٹر پیجٹ، اس نے دل ہی دل میں کہا۔
اس شام مسٹر پیجٹ نے جھاڑی کی تراش خراش میں خاص اہتمام سے کام
لیا۔ وہ چند قدم پیچھے ہٹ کر اس کی ہمواری کو غور سے دیکھتا، اور کٹے ہوئے پتے بڑی
ترتیب سے ایک ڈھیر میں جمع کرتا جاتا۔ جب اس نے پرانے طرز کی گھاس کاٹنے والی مشین
لان پر چلائی تو ایک انجانی سی شوخی اس کے اندر لہرانے لگی؛ مشین گلا کھنکھارتی
ہوئی "چٹر چٹر" کرتی، جیسے کہیں سرگوشیوں میں گپ شپ کر رہی ہو، اور کٹی ہوئی
گھاس کے سبز منفی نشان فضا میں بکھیرتی جاتی۔
پھر اندر جا کر ہسپتال فون کرنے اور ٹیلی وژن دیکھنے سے پہلے، ایک
لمحۂ بےساختہ مسرت میں اس نے بیری کے درخت سے بیریوں کے دو گچھے توڑ لیے۔ اور جب
وہ شاخ کو اچھال کر اپنی جگہ واپس لا رہا تھا، اسی وقت ایک پڑوسن اپنے گھر کو جاتی
ہوئی وہاں سے گزری۔اس نے مسٹر پیجٹ کو دیکھا تو اس کے چہرے پر فوراً ہمدردی کا
موزوں سا تاثر آ گیا۔ “اور مسز پیجٹ کیسی ہیں؟”
مسٹر پیجٹ کا مانوس جواب خودبخود اس کے لبوں پر آ گیا۔ “کوئی
تبدیلی نہیں آئی۔”
اپنی ہی آواز میں اسے ایک گہری مایوسی کی بازگشت سنائی دی۔ پھر اس
نے بھی ہمدردی سے پوچھا، “اور مسٹر بَمبری کیسے ہیں؟” پڑوسن کے شوہر بیمار تھے۔ اس
نے اپنی خبر سنائی، “کل ان کی شریانیں صاف کی جائیں گی۔” مسز بَمبری کی آواز میں
ایک جوش بھرا احساسِ عمل جھلک رہا تھا۔ مسٹر پیجٹ ایک لمحے کو حسد کی تاریکی میں
بھٹکا، پھر اپنی نئی خوشی کی طرف لوٹ آیا: کوئی تبدیلی نہیں، واقعی کوئی تبدیلی
نہیں۔
وہ مسز بَمبری کی طرف
مسکرایا۔ وہ اس کے شوہر اور اس کی شریانوں کے بارے میں اسے تسلی دینا چاہتا تھا،
مگر وہ کچھ نہ جانتا تھا کہ کسی انسان کی شریانوں کو یوں صاف کرنا کیا ہوتا ہے؛
اسے تو یہ خیال ہی بے رحمانہ برہنگی کا سا محسوس ہوا۔ وہ اس بات پر شکر گزار تھا
کہ اس کی بیوی نیند کے حصار میں لپٹی ہوئی ہے، اس کی شریانیں پوشیدہ اور خاموش
ہیں۔
"امید ہے مسٹر بَمبری کے ساتھ سب خیریت رہے گی،” اس نے
آخرکار کہا۔
"ہاں، خطرہ تو ہے، مگر صحت یابی کے امکانات بھی بہت ہیں۔
میں تو یہی چاہتی ہوں کہ مسز پیجٹ کی حالت میں بھی کوئی تبدیلی آئے۔"
"شکریہ،"مسٹر پیجٹ نے عجز سے کہا، جیسے کسی طے شدہ
مکالمے کا حصہ ادا کر رہا ہو۔ ”اب
تک تو کوئی تبدیلی نہیں آئی۔“
”کوئی تبدیلی نہیں؟“
“نہیں، کوئی تبدیلی
نہیں۔”
وہ ایک دوسرے سے رخصت ہوئے۔ گھر کی طرف جاتے ہوئے وہ رک گیا اور
باغ پر ایک نظر ڈالی۔ اس نے گھاس اور باڑ کی تراشی ہوئی ٹہنیوں کے ڈھیر کو شفقت سے
دیکھا، اور اس سنہری، رسیلی باڑ کو، جس میں گھر کی نوکیلی چھت کا گہرا سایہ یوں در
آیا تھا جیسے اسے آہستہ آہستہ کھا رہا ہو۔
مسز پیجٹ خزاں کے آخری دنوں میں چل بسی۔ اب سردی کا راج ہے۔ پہاڑی
بیری کے درخت سے سرخ دانے غائب ہو چکے ہیں، کچھ پرندوں نے چگ لیے، کچھ ہوا اڑا لے
گئی، اور باقی ان ننھے لڑکوں کی شرارتوں میں بکھر گئے جو گزرتے ہوئے اس کی جھکی
ہوئی شاخوں کو اوپر نیچے ہلاتے رہتے ہیں۔ ادھر مسٹر بَمبری، جن کی شریانوں کا علاج
کامیابی سے ہو چکا ہے، محرومی کے بجائے ایک آسودہ ملکیت کے احساس میں اپنے گھر کے
برآمدے میں کرسی پر نیم دراز بیٹھے رہتے ہیں اور سڑک کے پار مسٹر پیجٹ کو اس کے
باغ میں دیکھتے ہیں۔ مسٹر بَمبری اور ان کی بیوی ایک دوسرے سے کہتے ہیں، “مسٹر
پیجٹ تو اب اپنے باغ کے ساتھ بندھ گئے ہیں۔”
اور لوگ بھی یہی دیکھتے ہیں، کہ مسٹر پیجٹ اب گویا اپنی جاگتی ہوئی
زندگی کا ہر لمحہ باغ ہی میں گزارتا ہے۔ “بیوی کے مرنے کے بعد تو وہ باغ سے باہر
ہی نہیں نکلتا،” وہ کہتے ہیں۔ “آخر کیوں؟ اب تو وہاں کچھ اُگتا ہی نہیں، بس چند
آخری بیریاں تھیں وہ بھی گزر گئیں۔ سردیوں میں باغ میں کچھ نہیں اُگتا۔” وہ حیران
ہوتے ہیں کہ مسٹر پیجٹ اتنی دیر تک سوکھی ٹہنیوں، ننگی جھاڑیوں اور ان خالی
کیاریوں کو کیوں تکتا رہتا ہے جو سبزہ زار کے بیچ سیاہ آنکھوں کی طرح جمی ہوئی
ہیں۔ وہ کیوں روزانہ اس مردہ دنیا میں یوں الجھا پھرتا ہے جہاں بظاہر کچھ بھی
بدلتا نہیں۔ اور کبھی کبھی، جب وہ اسے گھٹنوں کے بل جھکتے اور زمین کی سطح پر اپنا
گال رکھتے دیکھتے ہیں، تو ان کے دل میں یہ خیال بھی ابھرتا ہے کہ شاید وہ دیوانہ
ہو گیا ہے۔
Original Title: The winter Garden
Written by : Janet Frame
Urdu Translator:
https://www.facebook.com/hanzlah.6236

Comments
Post a Comment