Posts

افسانہ نمبر 690 : انجن ٹربل، تحریر : آر کے نارائن(بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

Image
    افسانہ نمبر 690 : انجن ٹربل تحریر : آر کے نارائن(بھارت) اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان) کچھ سال پہلے ہمارے شہر میں (باتونی آدمی نے کہا) ایک تماشا کار آیا، جو "گیئٹی لینڈ" نام کے ایک تفریحی ادارے کا مالک تھا۔ راتوں رات ہمارے جمخانہ گراؤنڈز رنگ برنگی جھنڈیوں، بینروں اور روشن قمقموں سے جگمگا اُٹھے۔پورے ضلع سے لوگ اس تماشے کو دیکھنے اُمڈ پڑے۔ افتتاح کے ایک ہفتے کے اندر اندر، صرف ٹکٹ کی آمدنی سے روزانہ تقریباً پانچ سو روپے جمع ہونے لگے۔ گیئٹی لینڈ میں ہر قسم کی تفریح، جُوا، اور چھوٹے موٹے کرتب پیش کیے جاتے تھے۔ ہراسٹال پر دو آنے دے کر آپ کچھ بھی دیکھ سکتے تھے۔ بولتے ہوئے طوطوں سے لے کر موت کے کنوئیں میں چکر لگاتے موٹر سائیکل سوار تک! اس کے علاوہ وہاں قرعہ اندازی اور نشانہ بازی کے اسٹال بھی تھے، جہاں صرف ایک آنے میں آدمی سو روپے جیتنے کی امید رکھ سکتا تھا۔ شو کے ایک خاص گوشے کو غیر معمولی مقبولیت حاصل تھی۔ یہاں آٹھ آنے کے ٹکٹ سے آپ کو پن کُشن، سلائی مشین، کیمرہ یا یہاں تک کہ ایک روڈ رولر انجن جیتنے کا موقع حاصل تھا۔ ایک شام، قرعہ اندازی میں ٹکٹ نمبر 1005 نکلا، اور اتفاق سے میر...

افسانہ نمبر 691 : وینا ٹاٹا کی مکمل موت، تحریر : پی۔پدمراجو، اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)

Image
     افسانہ نمبر 691 :   وینا ٹاٹا کی مکمل موت   تحریر : پی۔پدمراجو (آندھرا پردیش ۔ بھارت) اردو ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)   کسی نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ ہمارا وینا ٹاٹا اس طرح مر جائے گا۔ جو کچھ وہ کرتا تھا، دوسروں کی طرح کبھی نہیں کرتا تھا۔ مگر آخرکار مر وہ بھی عام لوگوں کی طرح ہی گیا۔ جب ٹاٹا کا انتقال ہوا، تب تک وہ ٹاٹا، جو ہمارے دلوں میں بسا تھا، شاید پہلے ہی جا چکا تھا۔ یا یوں کہیے کہ وہ اس سے کچھ گھنٹے پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا۔ ہم سب کا پختہ یقین تھا کہ ٹاٹا کبھی اس طرح نہیں مرے گا۔ رتّی — وہ عورت جو تاڑی(مشروب) بناتی ہے اور برسوں سے ٹاٹا کے ساتھ ہے — اُس صبح جلدی اُٹھ گئی تھی اور گائے دوہنے کھیتوں کی طرف نکل گئی۔ جب وہ لوٹی، تو سات بجنے والے تھے۔ ٹاٹا کے بیدار ہونے کا کوئی نشان نہ تھا۔ جھلّا کر اُس نے دروازہ دھکیل کر کھولا اور اندر داخل ہوئی۔ اُسی وقت میں بھی نہر کے کنارے قضائے حاجت کے لیے جا رہا تھا۔ اندر سے رتّی کی خفا ہوتی آواز سنائی دی : " اُٹھو! اب کیا سونا، دن چڑھ آیا ہے !" " روز کا یہی تماشا... ابھی تک سو رہے ہیں ......