افسانہ نمبر 745 : الْمعتصم کی تلاش || تحریر : خورخے لوئیس بورخیس (ارجنٹائن) || ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)

 

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 745 : الْمعتصم کی تلاش 

تحریر : خورخے لوئیس بورخیس (ارجنٹائن)

ترجمہ: حنظلہ خلیق (شرق پور)

 


 

فلپ گویڈیلا(Philip Guedalla) ہمیں خبر دیتا ہے کہ بمبئی کے ایک بیرسٹر میر بہادر علی کا ناول "الْمعتصم کی تلاش" دراصل ان اسلامی تمثیلوں، جو اپنے ہی مترجمین کو مرعوب کرنے سے کبھی نہیں چوکتی، اور جاسوسی کہانیوں کی اس صنف کا ایک ایسا بے چین سا امتزاج ہے جو ناگزیر طور پر ڈاکٹر واٹسن کو بھی مات دے دیتا ہے اور انسانی زندگی کی اس ہولناکی کو مزید بڑھاوا دیتا ہے جو برائٹن کی نہایت معزز قیام گاہوں میں پائی جاتی ہے۔ اس سے قبل مسٹر سیسل رابرٹس بھی بہادر علی کی اس کتاب پر یہ کہہ کر کڑی تنقید کر چکے تھے کہ اس میں ولکی کولنز اور بارہویں صدی کے معروف فارسی صوفی فرید الدین عطار کا ایک ناقابلِ فہم دوہرا اثر دکھائی دیتا ہے، یہ ایک بالکل سادہ سا مشاہدہ تھا جسے گویڈیلا نے محض ایک طوطے کی طرح دہرایا، گو کہ ذرا زیادہ غضب ناک اور تلخ اصطلاحات کے لبادے میں۔ بنیادی طور پر، یہ دونوں تبصرہ نگار ایک ہی نقطے پر متفق ہیں، وہ دونوں کتاب کی جاسوسی کہانی والی بناوٹ اور اس کے اندر بہتی تصوف کی زیریں لہر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اصناف کی یہ پیوند کاری ہمیں اس گمان میں مبتلا کر سکتی ہے کہ شاید اس کا چیسٹرٹن کے ساتھ کوئی فکری رشتہ یا قربت ہے، تاہم، ہم جلد ہی یہ جان لیں گے کہ ایسی کسی مماثلت کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔

"الْمعتصم کی تلاش" کا پہلا ایڈیشن 1932 کے اواخر میں بمبئی سے منظرِ عام پر آیا۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جس کاغذ پر یہ جلد شائع ہوئی وہ تقریباً اخباری ردی جیسا تھا، کتاب کے سرورق نے خریدار کو یہ نوید سنائی کہ یہ بمبئی کے کسی مقامی باشندے کا لکھا ہوا پہلا جاسوسی ناول ہے۔ چند ہی مہینوں میں ایک ایک ہزار نسخوں پر مشتمل چار ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔ دی بمبئی کوارٹرلی ریویو، دی بمبئی گزٹ، دی کلکتہ ریویو، الہ آباد کے دی ہندوستانی ریویو اور دی کلکتہ انگلش مین سبھی اس کی ستائش میں رطب اللسان رہے۔ تب بہادر نے اس کا ایک مصور ایڈیشن شائع کیا، جس کا نیا عنوان "اس شخص سے گفتگو جسے المعتصم پکارا گیا" رکھا، اور اس کے ساتھ ایک نہایت خوبصورت ذیلی عنوان کا اضافہ کیا، متغیر آئینوں کا ایک کھیل۔ یہی وہ ایڈیشن ہے جسے وکٹر گولانز نے ابھی حال ہی میں لندن سے دوبارہ شائع کیا ہے، جس کا دیباچہ ڈوروتھی ایل سیئرز نے لکھا ہے اور جس میں سے تصویریں نکال دی گئی ہیں، شاید یہ ایک نوع کی نوازش ہی تھی۔ اس وقت میرے سامنے یہی ایڈیشن موجود ہے، میں اس سے پہلے والے ایڈیشن کا کوئی نسخہ حاصل کرنے میں ناکام رہا ہوں، جس کے بارے میں میرا گمان ہے کہ وہ شاید ایک بہتر کتاب تھی۔ میرا یہ شک اس ضمیمے کی بنیاد پر ہے جس میں 1932 اور 1934 کے ایڈیشنوں کے مابین فرق کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کہ ہم ناول پر بحث کا آغاز کریں، بہتر ہوگا کہ اس کے عمومی پلاٹ کا کچھ خاکہ پیش کر دیا جائے۔

اس کا مرکزی کردار، جس کا نام ہمیں کبھی نہیں بتایا جاتا، بمبئی میں قانون کا ایک طالب علم ہے۔ وہ اپنے باپ دادا کے اسلامی عقائد سے منحرف ہو چکا ہے، لیکن محرم کی دسویں شب وہ خود کو مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان ایک فرقہ وارانہ فساد کے نرغے میں گھرا ہوا پاتا ہے۔ یہ ڈھول تاشوں اور دعاؤں کی رات ہے۔ بت پرستوں کے ہجوم کے درمیان سے مسلم جلوس کے بڑے بڑے کاغذی شامیانے اپنا راستہ بناتے آگے بڑھ رہے ہیں۔ چھت کی ایک منڈیر سے ہندوؤں کی جانب سے اینٹوں کی بارش ہوتی ہے۔ ایک خنجر کسی کے پیٹ میں پیوست ہو جاتا ہے۔ کوئی، مسلمان یا ہندو، دم توڑ دیتا ہے اور پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے۔ تین ہزار لوگ برسرِ پیکار ہیں، لاٹھی ریوالور کے مقابل ہے، دشنام طرازی بددعا سے نبرد آزما ہے، وہ خدا جو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ان کثیر خداؤں کے سامنے ہے۔ فطری جبلت کے تحت، وہ آزاد منش طالب علم بھی اس لڑائی میں کود پڑتا ہے۔ وہ اپنے نہتے ہاتھوں سے ایک ہندو کو ہلاک کر دیتا ہے یا اسے لگتا ہے کہ اس نے قتل کر دیا ہے۔ سرکاری پولیس گھڑ سوار، کڑکتی ہوئی اور بمشکل خوابِ غفلت سے جاگی ہوئی بیچ بچاؤ کے لیے مداخلت کرتی ہے اور غیر جانبداری سے کوڑے برسانے لگتی ہے۔ طالب علم وہاں سے فرار ہوتا ہے اور گھوڑوں کی ٹانگوں کے نیچے سے نکلتا ہوا شہر کے دور افتادہ حصوں کی جانب نکل جاتا ہے۔

وہ ریلوے کی دو پٹریوں کو عبور کرتا ہے، یا شاید ایک ہی پٹری کو دو مرتبہ۔ وہ ایک اجڑے ہوئے باغ کی دیوار پھاندتا ہے جس کے ایک کونے میں ایک گول مینار کھڑا ہے۔ کالے گلاب کی جھاڑیوں سے چاندنی رنگت والے کتوں کا ایک دبلا اور خبیث غول اس پر جھپٹتا ہے۔ تعاقب سے بچنے کے لیے، وہ مینار میں پناہ لیتا ہے۔ وہ لوہے کی ایک سیڑھی پر چڑھتا ہے جس کے دو تین ڈنڈے غائب ہیں، اور اس کی سپاٹ چھت پر، جس کے عین وسط میں ایک سیاہ گڑھا ہے، اس کا سامنا ایک غلیظ شخص سے ہوتا ہے جو اکڑوں بیٹھا چاند کی روشنی میں پوری قوت سے پیشاب کر رہا ہے۔ وہ شخص اسے رازدارانہ انداز میں بتاتا ہے کہ اس کا پیشہ ان سفید کفن پوش لاشوں سے سونے کے دانت چرانا ہے جنہیں پارسی اس مینار کی چھت پر چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ مزید کئی لغو باتیں بکتا ہے اور سرسری طور پر یہ بھی بتاتا ہے کہ اسے بھینس کے گوبر سے خود کو پاک کیے چودہ راتیں بیت چکی ہیں۔ وہ گجرات کے گھوڑا چوروں کے ایک گروہ کا ذکر کھلے غصے سے کرتا ہے، کتوں اور چھپکلیوں کو کھانے والے، مختصر یہ کہ وہ اتنے ہی مکروہ انسان ہیں جتنے کہ ہم دونوں۔ پو پھوٹ رہی ہے، فضا میں رجے ہوئے گدھوں کی ایک نیچی اڑان نظر آتی ہے۔ وہ طالب علم شدید تھکن سے نڈھال ہو کر سونے کے لیے لیٹ جاتا ہے۔ جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو سورج سر پر آ چکا ہوتا ہے اور وہ چور غائب ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ترچناپلی کے چند سگار اور چاندی کے کچھ روپے بھی غائب ہو چکے ہیں۔ پچھلی رات کے واقعات سے خوفزدہ ہو کر، طالب علم فیصلہ کرتا ہے کہ وہ خود کو ہندوستان کی حدود میں کہیں گم کر دے گا۔ وہ جانتا ہے کہ اس نے خود کو ایک کافر کو قتل کرنے کے قابل تو ثابت کر دیا ہے، لیکن وہ یقینی طور پر یہ نہیں جانتا کہ آیا مسلمان اپنے عقائد میں کافر سے زیادہ حق بجانب ہے یا نہیں۔ گجرات کا نام اس کے ذہن پر سوار رہتا ہے، اور ساتھ ہی پالن پور کی ایک ملکہ سانسی کا نام بھی جس پر اس لاشوں کے لٹیرے کی جانب سے بارہا لعنتیں اور نفرتیں بھیجی گئی تھیں۔ وہ یہ دلیل تراشتا ہے کہ اتنے غلیظ اور بدفطرت انسان کا غصہ اور نفرت بذات خود ایک طرح کی تعریف ہے۔ وہ فیصلہ کرتا ہے، اگرچہ بڑی حد تک ناامیدی کے ساتھ، کہ وہ اس عورت کو تلاش کرے گا۔ وہ دعا کرتا ہے اور آہستہ آہستہ پورے ارادے اور احتیاط کے ساتھ اپنے طویل سفر پر نکل کھڑا ہوتا ہے۔

یہاں سے اس کی روح بدنامی کی پستیوں سے لے کر ریاضیاتی قیاس آرائیوں تک بھٹکتی ہے اور یہ طویل یاترا ہندوستان کے وسیع و عریض جغرافیے پر محیط ہو جاتی ہے۔ بمبئی سے شروع ہونے والی یہ کہانی پالن پور کے نشیبی علاقوں کی طرف بڑھتی ہے، بیکانیر کے پتھریلے دروازوں کے سامنے ایک شام اور ایک رات کے لیے ٹھہرتی ہے، بنارس کے ایک گندے نالے میں ایک اندھے نجومی کی موت کا احوال سناتی ہے۔ ہیرو کھٹمنڈو کے ایک بھول بھلیاں جیسے محل میں ایک سازش کا حصہ بنتا ہے، کلکتہ کے مچھوا بازار کی تعفن زدہ فضا میں عبادت بھی کرتا ہے اور گناہ کا مرتکب بھی ہوتا ہے، مدراس کے ایک قانونی دفتر سے سمندر کی کوکھ سے دن کو جنم لیتے دیکھتا ہے، ریاست ٹراونکور کی ایک بالکونی سے شاموں کو سمندر میں ڈوب کر مرتے دیکھتا ہے، اور انداپور میں لڑکھڑاتا ہے اور قتل کرتا ہے۔ میلوں اور سالوں پر محیط اس مہم جوئی کا مدار واپس بمبئی میں ہی آ کر مکمل ہوتا ہے، ٹھیک اسی چاندنی رنگت والے کتوں کے باغ سے محض چند قدم کے فاصلے پر۔

اس کا بنیادی پلاٹ کچھ یوں ہے کہ وہی مفرور اور آزاد خیال طالب علم لوگوں کے سب سے نچلے اور غلیظ طبقے میں جا گرتا ہے اور بدعملی کے ایک طرح کے مقابلے میں انہی کے طور طریقے اپنا لیتا ہے۔ پھر اچانک، رابنسن کروسو کی سی حیرت اور ہیبت کے ساتھ جب اس نے ریت پر کسی انسان کے قدموں کا نشان دریافت کیا تھا، وہ سفاکی کی اس دنیا میں ایک مختصر اور ناگہانی تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ اس کے ایک انتہائی مکروہ ساتھی میں ایک خاص طرح کی نرمی، خوشی کا ایک لمحہ، اور ایک درگزر کرنے والی خاموشی ابھرتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی اجنبی، کوئی تیسرا اور نسبتاً زیادہ لطیف شخص اس گفتگو میں شامل ہو گیا ہو۔ ہیرو جانتا ہے کہ وہ بدمعاش جس سے وہ بات کر رہا ہے، اس اچانک تبدیلی کی ہرگز صلاحیت نہیں رکھتا، اس سے وہ یہ اندازہ لگاتا ہے کہ یہ شخص دراصل کسی اور کی بازگشت بن رہا ہے، کسی دوست کی، یا کسی دوست کے دوست کی۔ اس مسئلے پر دوبارہ غور کرتے ہوئے وہ اس پراسرار نتیجے پر پہنچتا ہے کہ روئے زمین پر کہیں نہ کہیں ایک ایسا شخص موجود ہے جس سے یہ نور پھوٹا ہے، روئے زمین پر کہیں نہ کہیں کوئی ایسا شخص ضرور ہے جو اس نور کے ہم پلہ ہے۔ وہ طالب علم اپنی باقی زندگی اسی کی تلاش میں گزارنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔

اب کہانی کا خاکہ بالکل واضح ہو چکا ہے، یہ ایک انسانی روح کی ان تھک تلاش ہے جو ان بمشکل محسوس ہونے والے عکسوں اور پرتو کے ذریعے کی جا رہی ہے جو وہ روح دوسروں پر ڈالتی ہے۔ آغاز میں محض مسکراہٹ کا ایک مدھم سا نشان یا کوئی ایک لفظ، اور انجام کار عقل، تخیل اور نیکی کے مختلف اور شاخ در شاخ پھوٹتے ہوئے جلوے۔ وہ جن آدمیوں کا جائزہ لیتا ہے، وہ المعتصم کے جتنے قریب ہوتے ہیں، ان میں الوہیت کا حصہ اسی قدر زیادہ ہوتا ہے اگرچہ یہ بات طے ہے کہ وہ محض آئینے ہیں۔ یہاں ایک ریاضیاتی تمثیل شاید مددگار ثابت ہو۔ بہادر کا یہ گنجان ناول دراصل ایک صعودی سلسلہ ہے جس کی آخری کڑی وہ شخصیت ہے جس کا پیشگی اشارہ ملتا رہا ہے، یعنی وہ شخص جسے المعتصم کہا جاتا ہے۔ المعتصم سے بالکل پہلا پیش رو ایک فارسی کتب فروش ہے جو غیر معمولی حد تک خوش باش اور شائستہ ہے، اور اس کتب فروش سے پیشتر آنے والا شخص ایک ولی ہے۔ بالآخر کئی برسوں کی مسافت کے بعد وہ طالب علم ایک راہداری تک پہنچتا ہے جس کے سرے پر ایک دروازہ اور موتیوں کی ایک سستی سی چلمن لٹک رہی ہے، اور اس چلمن کے پیچھے ایک چمکتا ہوا نور ہے۔ طالب علم ایک دو بار تالیاں بجاتا ہے اور المعتصم کو پکارتا ہے۔ ایک مردانہ آواز، المعتصم کی وہ آواز جس کا تصور بھی محال ہے، اسے اندر آنے کی دعوت دیتی ہے۔ طالب علم چلمن سرکاتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ عین اس مقام پر ناول اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔

اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو اس طرح کے پلاٹ سے بخوبی عہدہ برآ ہونے کے لیے مصنف پر دو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اول یہ کہ وہ اسے پیغمبرانہ اشاروں سے مالامال کر دے، دوم، وہ ہمیں یہ محسوس کرائے کہ ان اشاروں کی صورت میں جس شخص کی پیشین گوئی کی جا رہی ہے، وہ محض ایک روایتی استعارہ یا کوئی واہمہ نہیں ہے۔ بہادر پہلی شرط تو پوری کر دیتا ہے مگر وہ دوسری میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے، مجھے اس پر بجا طور پر شک ہے۔ باالفاظ دیگر وہ ان سنا اور ان دیکھا المعتصم ہم پر ایک حقیقی کردار کا تاثر چھوڑے، نہ کہ بے رس اور کھوکھلی مبالغہ آرائیوں کے کسی ملغوبے کا۔ 1932 والے ایڈیشن میں مافوق الفطرت عناصر کے نشانات نہ ہونے کے برابر ہیں، وہ شخص جسے المعتصم کہا جاتا ہے واضح طور پر ایک علامت ہے اگرچہ اس میں بعض ذاتی خصوصیات کی کمی نہیں۔ بدقسمتی سے یہ ادبی شائستگی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 1934 کے ایڈیشن میں جو میں نے پڑھا ہے ناول تنزلی کا شکار ہو کر محض ایک تمثیل بن کر رہ جاتا ہے۔ المعتصم اب خدا ہے اور ہیرو کی در در کی خاک چھاننا کسی نہ کسی طرح ایک روح کا وہ سفر بن جاتا ہے جو وصالِ الٰہی کی جانب صعودی منازل طے کر رہی ہو۔ اس میں کچھ قابلِ افسوس تفصیلات بھی ہیں، کوچین کا ایک سیاہ فام یہودی المعتصم کا ذکر کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ اس کی رنگت سیاہ ہے، ایک عیسائی اسے ایک بلندی پر بازو پھیلائے کھڑا ہوا بیان کرتا ہے، ایک سرخ پوش لاما اسے یوں براجمان یاد کرتا ہے جیسے یاک کے مکھن سے بنا وہ مجسمہ جسے اس نے تاشلہنپو کی خانقاہ میں تراشا تھا اور جس کی پوجا کی تھی۔ یہ بیانات بظاہر ایک ایسے واحد خدا کی جانب اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں جو خود کو بنی نوع انسان کی گوناگوں اقسام کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ میری رائے میں یہ خیال کوئی خاص ولولہ انگیز نہیں ہے۔

یہ اشارہ کہ قادرِ مطلق بھی کسی اور کی تلاش میں ہے، اور وہ ذات اپنے سے برتر کسی اور ذات کی، اور یہ سلسلہ یونہی وقت کے اختتام اور لامتناہی وسعتوں تک چلتا رہتا ہے، یا شاید یہ ایک دائرے کا سفر ہے۔ المعتصم کے لغوی معنی مدد کا طلب گار ہیں۔ 1932 والے ایڈیشن میں یہ حقیقت کہ اس طویل یاترا کا مقصود بذاتِ خود ایک مسافر تھا، اسے ڈھونڈ نکالنے کی دشواری کا کافی و شافی جواز پیش کرتی تھی۔ بعد والا ایڈیشن اس عجیب و غریب علمِ الہٰیات کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔ بیسویں باب میں وہ الفاظ جو فارسی کتب فروش نے المعتصم سے منسوب کیے ہیں، شاید ہیرو کے اپنے ہی ادا کردہ الفاظ کی محض ایک بلند تر بازگشت ہیں، یہ اور اس طرح کی دیگر پوشیدہ تمثیلیں شاید اس بات کی غماز ہیں کہ طالب اور مطلوب دراصل ایک ہی وجود ہیں۔ وہ اس بات کی بھی غمازی کر سکتی ہیں کہ انسان کا الوہیت پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے۔ ایک اور باب اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ المعتصم دراصل وہی ہندو ہے جسے طالب علم اپنے تئیں قتل کر چکا ہے۔ میر بہادر علی، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، فن کی اس بدترین اور سب سے بڑی ترغیب سے خود کو باز نہیں رکھ پاتا، یعنی ایک نابغہ کہلانے کی ہوس۔ ان صفحات کو دوبارہ پڑھنے کے بعد مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے کتاب کی بے شمار خوبیوں کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دلائی۔ اس میں کئی نہایت نفیس امتیازات شامل ہیں۔ مثال کے طور پر انیسویں باب کی ایک گفتگو جس میں المعتصم کا ایک دوست، دوسرے شخص کی کج بحثی اور مغالطوں کی نشاندہی کرنے سے محض اس لیے گریز کرتا ہے تاکہ یہ ظاہر نہ ہو کہ وہ واضح طور پر حق پر ہے۔

آج کل یہ بڑی قابلِ ستائش بات سمجھی جاتی ہے کہ کسی جدید کتاب کی جڑیں کسی قدیم کتاب میں پیوست ہوں، کیونکہ کوئی بھی شخص اپنے ہم عصروں کا احسان مند ہونا پسند نہیں کرتا۔ جیمز جوائس کی یولیسس اور ہومر کی اوڈیسی کے درمیان موجود بے شمار مگر سطحی مماثلتیں ناقدین کی احمقانہ داد وصول کرتی آ رہی ہیں۔ اسی طرح بہادر کے ناول اور فارسی صوفی فرید الدین عطار کی شہرہ آفاق تصنیف منطق الطیر کے درمیان موجود مماثلتوں نے لندن، اور یہاں تک کہ الہ آباد اور کلکتہ کی بھی، اسی قدر پراسرار تحسین کو بیدار کر دیا ہے۔ جہاں تک میں اندازہ لگا سکتا ہوں، ان دونوں تخلیقات کے درمیان رابطے کے یہ نکات کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ عطار کی اس طویل صوفیانہ نظم کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ پرندوں کا دور دراز کا بادشاہ، سیمرغ، اپنا ایک شاندار پر چین کے عین وسط میں کہیں گرا دیتا ہے۔ یہ جان کر دیگر پرندے، جو اپنی صدیوں پرانی لاقانونیت سے تنگ آ چکے ہیں، اسے تلاش کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بادشاہ کے نام کا مطلب تیس پرندے ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کا مسکن کوہِ قاف میں ہے۔ اس لامتناہی مہم جوئی پر نکل کر وہ سات وادیوں کو عبور کرتے ہیں جن میں سے چھٹی وادی حیرت اور ساتویں فنا ہے۔ بہت سے مسافر راستے ہی سے فرار ہو جاتے ہیں اور یہ طویل مسافت باقیوں کی بھی جان لے لیتی ہے۔ آخرکار مصائب کی بھٹی سے کندن بن کر نکلنے والے محض تیس پرندے سیمرغ کی عظیم چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ بالآخر وہ اس کا دیدار کرتے ہیں اور تب ان پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ وہ خود ہی سیمرغ ہیں، اور یہ کہ سیمرغ ان میں سے ہر ایک ہے اور وہ سب مل کر سیمرغ ہیں۔ فلوطین نے بھی وحدت الوجود کے اس اصول کی تشریح کچھ یوں کی تھی کہ قابلِ فہم آسمانوں میں موجود تمام اشیاء ہر جگہ موجود ہیں، ہر ایک شے دوسری تمام اشیاء ہے، سورج ہی تمام ستارے ہے اور ہر ستارہ تمام دوسرے ستارے اور سورج ہے۔یا شاید یہ ایک دائرے کا سفر ہے۔ المعتصم (جو اس آٹھویں عباسی خلیفہ کا نام ہے جس نے آٹھ جنگوں میں فتح پائی، جس کے ہاں آٹھ بیٹے اور آٹھ بیٹیاں پیدا ہوئیں، جس نے آٹھ ہزار غلام چھوڑے، اور جس نے آٹھ سال، آٹھ ماہ اور آٹھ دن تک حکمرانی کی) کے لغوی معنی "مدد کا طلب گار" ہیں۔ ۱۹۳۲ والے ایڈیشن میں، یہ حقیقت کہ اس طویل یاترا کا مقصود بذاتِ خود ایک مسافر (یاتری) تھا، اسے ڈھونڈ نکالنے کی دشواری کا کافی و شافی جواز پیش کرتی تھی۔ اس کے علاوہ دیگر ماخذ بھی موجود ہیں۔ کسی محقق نے ناول کے ابتدائی منظر اور رڈیارڈ کپلنگ کی کہانی آن دی سٹی وال کے درمیان کچھ مماثلتوں کی فہرست بنائی ہے۔ بہادر اس بات کو تسلیم کرتا ہے، لیکن وہ یہ دلیل دیتا ہے کہ اگر محرم کی دسویں شب کے دو الگ الگ بیانات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوں تو یہ بات انتہائی غیر معمولی ہوگی۔ اس حوالے سے ایلیٹ کی بات زیادہ برمحل ہے، جسے نامکمل تمثیل دی فیئری کوئین کے وہ ستر حصے یاد آتے ہیں جن میں مرکزی کردار اور ہیروئن گلوریانا ایک بار بھی نمودار نہیں ہوتی، یہ وہ خامی ہے جس کی نشاندہی اس سے قبل رچرڈ ولیم چرچ نے کی تھی۔ پوری عاجزی کے ساتھ میں ایک دور افتادہ اور ممکنہ پیش رو کا نام تجویز کرتا ہوں، یعنی یروشلم کا ماہرِ قبالہ آئزک لوریا، جس نے سولہویں صدی میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کسی آباؤ اجداد یا کسی مرشد کی روح کسی مصیبت زدہ انسان کی تسلی یا رہنمائی کی خاطر اس کی روح میں حلول کر سکتی ہے۔ تناسخِ ارواح کی اس مخصوص قسم کو عِبّور (Ibbür) کا نام دیا گیا ہے۔

 

 

Title in English :  The Approach to al-Mu'tasim

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)