افسانہ نمبر 740 : اللہ کی دنیا || مصنف: نجیب محفوظ || اردو ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 740 :  اللہ کی دنیا

مصنف:  نجیب محفوظ، نوبل ایوارڈ یافتہ مصری ادیب 

عربی سے اردو ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی/ کراچی 

 


سیکریٹریٹ کے دفتر میں زندگی کی رمق اس وقت دوڑ گئی جب چپراسی چچا ابراہیم اندر داخل ہوا۔ اس نے یکے بعد دیگرے کھڑکیاں کھولیں، پھر کشادہ کمرے کی زمین کو کھوئے ہوئے خیال اور بے پروائی کے ساتھ جھاڑنے لگا۔ اس کا سر آہستگی اور باقاعدگی سے ہل رہا تھا اور جبڑے اس طرح حرکت کر رہے تھے گویا وہ کچھ چبا رہا ہو۔ اس کیفیت میں اس کی داڑھی اور کنپٹیوں کے سفید بال ہلکے ہلکے لرزنے لگتے، جب کہ اس کے گنج پر ایک بال بھی نہ تھا۔

پھر وہ میزوں کی طرف بڑھا، ان پر جمی گرد صاف کی، فائلوں اور اوزار کو ترتیب دیا اور آخر میں پورے کمرے، یعنی دفتر پر ایک جامع نظر ڈالی۔ اس کے بعد وہ میزوں کے درمیان اپنی نگاہیں یوں دوڑانے لگا جیسے ان کے مالکان کی صورتیں اس کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہوں۔ کبھی اس کے چہرے پر اطمینان کی جھلک ابھرتی، کبھی ناگواری کا سایہ چھا جاتا اور کبھی وہ مسکرا اٹھتا۔ پھر پلٹ کر جاتے ہوئے اپنے آپ سے بولا:

"اب چلتے ہیں، ناشتہ لے آئیں۔"

سب سے پہلے محفوظات (آرکائیوز)کے کاتب جناب احمد تشریف لائے۔ ان کے کندھوں پر پچاس برس کا بوجھ جھلک رہا تھا اور چہرے پر ایک مستقل ناگواری یوں نقش تھی جیسے زمانے کی تلخیوں کا کوئی رجسٹر ہو۔ ان کے بعد ٹائپسٹ جناب مصطفیٰ آئے، جو بہت ہنستے تھے، مگر ان کی ہنسی میں ایک اضطراب تھا، جس کے پردے میں اپنے روزمرہ کے غم چھپاتے تھے۔

پھر سمیر آیا، جسے دفتر میں "پراسرار آدمی" کہا جاتا تھا۔ ایک سپاہی بھی آیا، جس کے کھلے ہوئے نقوش سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ابھی تک بچپن کی نعمت سے پوری طرح باہر نہیں نکلا۔ اس کے بعد مسٹر مصطفیٰ اکڑتے ہوئے داخل ہوئے، نہایت سجے سنورے، انگلی میں سنہری انگوٹھی، کلائی میں گھڑی اور ٹائی میں نفاست جھلک رہی تھی اور ان کے پیچھے حمام آیا: جو دبلا پتلا اور نرم خو تھا۔ اپنے آپ میں گم رہتا تھا۔ 

آخر میں شعبے کے مدیر جناب کامل، وقار کے ہالے میں گھرے ہوئے تشریف لائے، ہاتھ میں تسبیح تھی۔ دفتر آوازوں اور کاغذوں کی خشخشاہٹ سے گونج اٹھا، مگر کسی نے کام شروع نہ کیا۔ حتیٰ کہ مدیر بھی ٹیلیفون پر گفتگو میں مشغول ہو گئے اور اخبارات کے صفحات فضا میں یوں لہرانے لگے جیسے جھنڈے ہوں۔

لطفی نے خبروں پر نظریں جمائے کہا:

"یہ سال تو دنیا کے خاتمے کا سال ہوگا۔"

مدیر کی آواز فون پر بلند ہوئی:

"کیا چاند بھی کبھی چھپ سکتا ہے؟"

سمیر نے کہا:

"ہم شادی اور اولاد کے جھنجھٹ میں کیوں پڑتے ہیں؟ دیکھیے، ایک نوجوان اپنی ماں کے سامنے اپنے باپ کو قتل کر دیتا ہے!"

احمد نے بھاری آواز میں کہا:

"نسخہ لکھنے کا کیا فائدہ، جب دوا بازار میں موجود ہی نہ ہو؟"

سپاہی اپنی جگہ سے سامنے والی عمارت میں ڈاکٹر کے کلینک کی طرف دیکھتا رہا، اس انتظار میں کہ کھڑکی میں سنہری بالوں والی جرمن نرس نمودار ہو۔ پھر لطفی نے تاکید کے ساتھ کہا:

"میری بات مانو، دنیا کا خاتمہ تمہارے گمان سے کہیں زیادہ قریب ہے۔"

مدیر نے ریسیور پر ہاتھ رکھ کر حمام کو حکم دیا:

"سالانہ فائل تیار کرو۔"

پھر وہ دوبارہ اپنی گفتگو میں مشغول ہو گئے۔ ادھر حمام نے اخبار سے سر نہ اٹھایا اور دانتوں تلے بڑبڑایا:

"تیرے سر پر آفت آئے!"

اتنے میں چچا ابراہیم ایک بھری ہوئی ٹرے لے کر واپس آیا۔ وہ لوبیا، کوفتہ، پنیر اور حلوۂ طحینی کے سینڈوچ تقسیم کرنے لگا۔ منہ کھانے میں مصروف ہو گئے، چبانے کی آوازیں گوشوں میں گونجنے لگیں، مگر آنکھیں بدستور اخبارات کے کالموں پر جمی رہیں۔

چچا ابراہیم دروازے پر کھڑا ہو کر اپنی مدھم اور بجھی ہوئی آنکھوں سے کھانے والوں کو ایک عجیب نظر سے دیکھتا رہا، یہاں تک کہ احمد نے منہ میں لقمہ دبائے آواز دی:

"تنخواہوں کا گوشوارہ لے آؤ، چچا ابراہیم!"

چنانچہ وہ چلا گیا۔ ایک گھنٹے بعد ٹائی اور خوشبو بیچنے والا اندر آیا، جو عموماً مہینے کے آغاز میں دفتر کا رخ کیا کرتا تھا۔ وہ میزوں کے درمیان گھومتا ہوا اپنی اشیا پیش کرنے لگا۔ ملازمین اس کی طرف متوجہ ہوئے، کوئی چیزوں کو غور سے دیکھتا، کوئی اپنی ضرورت کی چیز خرید لیتا۔ پھر وہ اس وعدے پر کمرے سے نکل گیا کہ تنخواہیں ملنے کے بعد دوبارہ آئے گا۔

ایک گھنٹے بعد ایک اور شخص آیا، گھی بیچ رہا تھا، جو واجب الادا اقساط وصول کرنے آیا تھا۔ مگر مصطفیٰ نے معنی خیز لہجے میں ہنستے ہوئے کہا:

"ذرا ٹھہر جاؤ، جب تک چچا ابراہیم واپس آ جائیں۔"

وہ دروازے پر کھڑا ہو گیا اور اس کے ہونٹ مسلسل کسی ورد میں جنبش کرتے رہے۔ ادھر ٹائپسٹ پوری چستی سے کھٹکھٹا رہا تھا۔ سمیر اہم کاغذات لے کر مدیر کے دفتر میں جا پہنچا۔ اسی دوران میدان کی طرف کھلنے والی کھڑکی سے پہلی بار دھوپ اندر در آئی اور سپاہی بدستور کلینک کی کھڑکی کی طرف چوری چوری نظریں ڈال رہا تھا۔

مدیر نے کسی کام کے لیے چچا ابراہیم کو آواز دی تو مصطفیٰ نے یاد دلایا کہ وہ ابھی تک خزانے (اکاؤنٹس سیکشن) سے واپس نہیں آیا۔ اس پر احمد نے فائلوں سے سر اٹھا کر کہا:

"یہ آدمی دیر کر رہا ہے! آخر کیوں؟"

گھی بیچنے والا دوسرے دفاتر کی طرف چلا گیا کہ پھر لوٹ آئے۔ احمد بے چین ہو کر باہر نکلا، راہداری میں دائیں بائیں دیکھا، پھر واپس آ کر بولا:

"کوئی پتا نہیں! اسے کیا ہو گیا؟ یہ خبطی ہے!"

جب تیسرا گھنٹہ بھی گزر گیا تو احمد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ بلند آواز میں اعلان کیا کہ وہ خزانے جا کر اسے تلاش کرے گا۔ کچھ دیر بعد واپس آیا، اس کا چہرہ غیظ و غضب سے لبالب تھا۔ اس نے کہا:

"چچا ابراہیم ایک گھنٹہ پہلے تنخواہوں کا گوشوارہ لے چکا تھا، اب کہاں گیا وہ پاگل؟"

لطفی نے پوچھا:

"کیا اس نے اپنی تنخواہ لے لی تھی؟"

اس نے جھنجھلا کر جواب دیا:

"ہاں، خادموں کی تنخواہیں دینے والی کھڑکی پر یہی بتایا گیا۔"

"شاید وہ خریداری کرنے چلا گیا ہو۔"

"ہمیں تنخواہیں دیے بغیر؟"

"کچھ بعید نہیں، وہ ہر روز کوئی نیا کرتب دکھاتا ہے۔"

چند چہروں پر ناگواری چھا گئی، اور مدیر، جو چوتھے درجے کا ایک پرانا افسر تھا، نے پیشانی پر بل ڈال لیے۔ کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی، جسے مصطفیٰ نے اپنی مخصوص ہنسی سے توڑا:

"ذرا تصور تو کیجیے، کہیں راستے میں وہ لٹ نہ گیا ہو!"

مدھم، نہایت مدھم ہنسی کی آوازیں بلند ہوئیں، گویا کراہیں ہنسی کا بھیس بدل کر نکل رہی ہوں۔ مگر لطفی نے کہا:

"یا شاید کوئی حادثہ پیش آ گیا ہو۔"

جب اس نے چہروں پر ناگواری دیکھی تو فوراً بولا:

"آج اگر چچا ابراہیم کا قدم پھسلا ہے تو گویا پوری کی پوری انتظامیہ پھسل گئی ہے۔"

احمد نے تیزی سے کہا:

"ہاں، سوائے اس کے کہ اس کے پیچھے کوئی ذاتی خزانہ ہو!"

اس جملے سے سب کو ایک طرح کی تسکین ملی، مگر مدیر نے اپنے پارکر قلم سے میز پر دستک دے کر سب کو ضبط کی تلقین کی، حالانکہ وہ خود اپنے بڑھتے ہوئے اضطراب کو چھپا رہا تھا۔

مگر سپاہی نے پھر سوال کیا:

"ایسی صورت میں رقم کا کیا ہوتا ہے؟"

"یعنی اگر چوری ہو جائے؟"

کوئی نہ ہنسا۔ سپاہی نے پھر پوچھا:

"اور اگر حادثہ ہو جائے؟"

جواب آیا:

"بھیڑ میں چوری ہو سکتی ہے، یا پولیس کے پاس ضبط ہو جاتی ہے جب تک حقیقت واضح نہ ہو اور تو مر جا، ابے گدھے!"

لیکن یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہنسی کی دنیا بالکل ویران ہو چکی ہے۔ چہرے اُترے ہوئے تھے اور وقت بیماری سے بھی زیادہ بوجھل ہو گیا تھا۔ کسی نے کہا:

"آج ہم کس منحوس ساعت میں جاگے ہیں؟"

احمد پورے محکمے میں چچا ابراہیم کو ڈھونڈتا رہا، پھر ناکامی کے ساتھ واپس آیا۔ مدیر اس عجیب مسئلے پر غور کرنے لگا، جو کسی کے خیال میں بھی نہ آیا تھا۔ وہ ماننے کو تیار نہ تھا، اسے یقین تھا کہ وہ دیوانہ آدمی اچانک دروازے پر نمودار ہوگا، گالیاں کھائے گا، بہانے تراشے گا… اور کیا ہوگا؟

لطفی کے پاس امیر بیوی تھی۔ سمیر ایک کمینہ آدمی تھا، مگر احمد جیسے غریب تو اس حادثے سے تباہ ہو سکتے تھے۔

اتنے میں گھی بیچنے والا واپس آیا۔ اس نے ابھی منہ کھولا ہی تھا کہ مدیر جھلا کر بولا:

"ٹھہرو! قیامت ابھی نہیں آئی اور ہم کسی بازار میں نہیں بلکہ ایک سرکاری دفتر میں ہیں۔"

وہ آدمی سہم کر پیچھے ہٹ گیا۔ پھر نگرانی کے دفتر سے چند ملازم حالات معلوم کرنے آئے۔ کچھ نے مذاق کرنے کی کوشش کی، مگر فضا ایسی بوجھل تھی کہ ان کی باتیں گلے ہی میں دم توڑ گئیں۔ اضطراب نے سب کو جکڑ لیا اور سب نے کام چھوڑ دیا۔

احمد نے آہ بھر کر کہا:

"میرا دل کہتا ہے، معاملہ سنگین ہے! ہم تو گئے!"

پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا:

"میں وزارت کے دربان سے پوچھ کر آتا ہوں!"

وہ دوڑتا ہوا گیا اور واپس آ کر چیخا:

"دربان کہتا ہے کہ اس نے اسے صبح نو بجے کے قریب وزارت سے نکلتے دیکھا تھا۔"

پھر اس کی آواز بھرّا گئی:

"یہ تو کسی قیامت سے کم نہیں… کیا وہ اپنی زندگی ڈیڑھ دو سو روپے کے بدلے بیچ دے گا؟ یا کوئی حادثہ… کون جانے! اے ربِ کائنات، اس مہینے کا انجام کیا ہوگا۔"

لطفی نے محسوس کیا کہ کچھ نگاہیں اس کی طرف اٹھ رہی ہیں، تو گھبرا کر بولا:

"یہ واقعی بہت بڑا حادثہ ہے… شاید تم یہ سوچ رہے ہو کہ مجھے کیا فکر؟ مگر سچ یہ ہے کہ میری امیر بیوی اپنے مال میں سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرتی۔"

اس پر دل ہی دل میں اس پر لعنتیں بھیجی گئیں، مگر کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ احمد کراہ کر بولا:

"خدا کی قسم! مہینے کے دوسرے ہی دن سے میں خالی جیب پھر رہا ہوں، نہ چائے، نہ سگریٹ، نہ سواری! بچے اسکول اور یونیورسٹی میں میں زیر تعلیم ہیں۔ اوپر سے دواؤں کا قرض… میں کیا کروں، اے ربِ کائنات؟"

جب ایک بجنے کو آیا تو مدیر اداس چہرے کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اور بولا:

"اب تو نگرانِ اعلیٰ کو اطلاع دینا ہی پڑے گی۔"

نگرانِ اعلیٰ نے پوری داستان ناگواری سے سنی، پھر کہا:

"کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ تمام اندیشوں کے باوجود واپس آ جائے؟"

مدیر نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا:

"سچ یہ ہے کہ میں اس سے بالکل مایوس ہو چکا ہوں… گھڑی دو بجنے کا اعلان کر رہی ہے۔"

نگرانِ اعلیٰ نے تنقیدی لہجے میں کہا:

"تم جانتے ہو کہ تم لوگوں کا یہ طرزِ عمل غلط ہے اور ہدایات کے خلاف بھی ہے۔"

مدیر سہم کر ایک مایوس خاموشی کے ساتھ دبک گیا، پھر آہستہ سے بولا:

"تمام دفاتر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔"

"ہرگز نہیں! غلطی، غلطی کو درست نہیں بناتی۔ میرے لیے ایک یادداشت (میمو) لکھو تاکہ میں اسے وزیر کے نائب کو بھیج سکوں۔"

مگر مدیر اپنی جگہ سے نہ ہٹا اور بولا:

"سب لوگ اپنی تنخواہوں کے سخت محتاج ہیں… ایسی صورتِ حال پہلے کبھی پیش نہیں آئی!"

"تو پھر تم چاہتے کیا ہو؟"        

"ہم نے نہ تنخواہیں وصول کی ہیں اور نہ ہی رجسٹر پر دستخط کیے ہیں۔"

 "نہ اس واقعے سے انکار ممکن ہے اور نہ ذمہ داری سے فرار!"

خاموشی اور بھی گہری ہو گئی۔ مدیر ایک کھوئے ہوئے آدمی کی طرح دکھائی دینے لگا۔ نگران اس سے تنگ آ گیا اور اپنے سامنے پڑے کاغذات دیکھنے میں مصروف ہو گیا۔ آخرکار مدیر اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور نہایت بھاری قدموں سے دروازے کی طرف بڑھا۔

نکلنے سے ذرا پہلے نگران کی کرخت آواز سنائی دی:

"پولیس کو خبر کر دو!"

سیکریٹریٹ کا عملہ پولیس چوکی پہنچ گیا۔ وہ راستہ بناتے ہوئے افسر کے کمرے تک جا پہنچے۔ سامنے عورتیں دو زانو بیٹھی تھیں، ان کے آگے خون میں لتھڑے، لڑتے جھگڑتے آدمیوں کا ایک ٹولا تھا، جنہیں ایک سپاہی ہانک رہا تھا اور ایک بند دروازے کے پیچھے سے دردناک چیخیں اور فریادیں بلند ہو رہی تھیں۔

مدیر سید کامل نے افسر کو پوری داستان ابتدا سے انتہا تک سنا دی۔ چچا ابراہیم کے بارے میں بتایا کہ وہ پچپن برس کا چپراسی ہے، دس برس کی عمر میں وزارت کے مطبع میں ملازم ہوا، پھر اپنے افسر سے گستاخی کے باعث چپراسی بنا دیا گیا اور اس کی اصل تنخواہ چھے روپے تھی۔

سیکریٹریٹ کے ملازمین نے بتایا کہ وہ نیک آدمی تھا، اگرچہ اس میں کچھ انوکھا پن بھی تھا۔ کبھی بات کرتے کرتے کھو جاتا، کبھی بے موقع مداخلت کرتا، یا سیاست پر بلا وجہ تبصرہ کرنے لگتا۔

اس کے مسکن کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ درب الحلہ کے مکان نمبر 111 میں رہتا ہے اور اس سے پہلے کبھی اس پر چوری یا بددیانتی کا شبہ نہیں ہوا۔

افسر نے رپورٹ درج کرتے ہوئے کہا:

"پہلے یہ اطمینان کیا جائے گا کہ وہ کسی حادثے کا شکار تو نہیں ہوا، پھر تفتیش اپنا راستہ اختیار کرے گی۔"

ملازمین کے پاس واپس جانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ چوکی سے اس طرح نکلے گویا حیرت کے مارے سُن ہو گئے ہوں۔ ان کی آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو رہی تھیں، شکوے، سوال، اور گھریلو ذمہ داریوں کی فکر، جو ان کا انتظار کر رہی تھیں۔

سب کے دل میں ایک ہی خواہش تھی کہ ساتھ رہیں یہاں تک کہ کسی حل تک پہنچ جائیں، مگر آخرکار انہیں جدا ہونا پڑا اور ہر ایک اپنے راستے پر چل دیا۔ مدیر اپنے گھر لوٹا۔ اب اس کے پاس دل بہلانے کے لیے صرف بوکر یا کونکان کا سہارا تھا۔ مصطفیٰ، جو ٹائپسٹ تھا، باب الشعریہ کی ایک رہن کی دکان کی طرف گیا، جہاں وہ مصیبت کے وقت بھاری سود پر قرض لیا کرتا تھا۔

لطفی کی بیوی گھر کے اخراجات اٹھاتی تھی، مگر اسے اس سے اپنا ماہانہ خرچ لینے کے لیے کوئی نہ کوئی حیلہ تراشنا تھا۔ سپاہی، جو ایک کنوارا نوجوان تھا اور اپنے باپ کے زیرِ سایہ رہتا تھا، نے فیصلہ کیا کہ اس مہینے اپنے باپ سے کہے گا:

"مجھے اس مہینے یوں قبول کر لیجیے جیسے میں اب بھی طالب علم ہوں۔"

حمام کو اپنی بیوی کو قائل کرنا تھا، جو پڑوسیوں کے ساتھ ایک بچت کمیٹی میں شامل تھی، کہ وہ کپڑوں کے لیے مختص اپنی رقم گھر کے خرچ پر لگا دے، چاہے اس کے بدلے اسے گالیاں، جھگڑا یا رونا ہی کیوں نہ سہنا پڑے۔

سمیر کا معاملہ نسبتاً آسان تھا۔ تنہائی میں اس نے کہا:

"اگر رشوت نہ ہوتی تو میں ایسی مصیبت میں پھنس جاتا کہ نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہوتا!"

باقی رہ گیا احمد محفوظات کا کاتب، جس کے بارے میں ساتھیوں کو یقین تھا کہ یہ دن اس پر بہت بھاری گزرے گا۔ وہ سڑک پر اس طرح لڑکھڑاتا پھر رہا تھا جیسے اسے اپنے گرد و پیش کا شعور ہی نہ ہو۔ گھر پہنچ کر وہ کراہتا ہوا اندر داخل ہوا، اس کا چہرہ نیلا پڑ رہا تھا۔ وہ پہلی کرسی پر ڈھے گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔

اسی اثنا میں اس کی بیوی، باورچی خانے کی خوشبو لیے، گھبراہٹ سے اس کے پاس آئی اور پوچھا:

"کیا ہوا؟"

اس نے بلا تمہید کہا:

"اس مہینے ہمیں تنخواہ نہیں ملے گی!"

وہ حیرت سے بولی:

"کیوں؟ اللہ بچائے! چچا ابراہیم تو صبح ہی تمہاری تنخواہ دے گئے تھے!"

یہ سنتے ہی وہ یوں اچھل کر کھڑا ہوا جیسے ڈوبتے کو اچانک سہارا مل گیا ہو۔ بیوی اندر گئی اور نوٹوں کی ایک گڈی لے آئی، وہی اس کی پوری تنخواہ تھی۔

خوشی نے اسے دیوانہ سا کر دیا۔ اس نے دونوں ہاتھ پھیلا کر دل کی گہرائیوں سے پکارا:

"اللہ تمہیں عزت دے، چچا ابراہیم… اللہ تمہارا بھلا کرے، چچا ابراہیم!"

ادھر پولیس نے درب الحلہ میں چچا ابراہیم کے گھر پر چھاپہ مارا۔ مکان ایک پرانے گھر کے صحن میں واقع ایک زمینی کمرہ تھا، جس کی دیواریں ٹوٹنے کو تھیں۔ کمرے میں ایک بوسیدہ گدا، ایک چٹائی، ایک چولہا، ایک ہانڈی اور ایک ٹین کی پلیٹ کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہاں ایک بوڑھی، ایک آنکھ سے محروم عورت موجود تھی، جو اس کی بیوی نکلی۔ جب اس سے شوہر کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ وہ وزارت میں ہے اور اس کے لاپتا ہونے کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔ اس کے پاس کپڑوں کے نام پر صرف ایک جلابیہ تھی۔ تلاشی لینے پر اس میں سے حشیش کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا برآمد ہوا، جس پر پولیس اسے اپنے ساتھ لے آئی۔ وہ بار بار یہی کہتی رہی کہ اسے نہ ابراہیم کے فرار کا علم ہے اور نہ اس چوری کا جس کا اس پر الزام لگایا جا رہا ہے۔ وہ دیر تک روتی رہی اور ڈانٹ کھاتی رہی۔

اس نے بتایا کہ ابتدا میں وہ ایک اچھا شوہر تھا اور ان کے بچے بھی ہوئے۔ ان میں سے ایک نہرِ سوئز کے علاقے میں مزدوری کرتا تھا اور برسوں سے ان سے بے تعلق تھا۔ دوسرا بیٹا دس برس کی عمر میں ٹرام کے حادثے میں مارا گیا۔ ایک بیٹی تھی جس کی شادی ایک مزدور سے ہوئی، جو اسے دور دراز کسی جنوبی علاقے میں لے گیا اور وہ بھی ان کی زندگی سے یوں غائب ہو گئی جیسے دوسرا بیٹا۔

اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ پچھلے مہینوں میں چچا ابراہیم میں خطرناک تبدیلی آ گئی تھی، جبکہ اس عمر میں جب آدمی سنبھل جاتا ہے۔ اسے خبر ملی تھی کہ وہ کیفے فؤاد کے پاس ایک لاٹری بیچنے والی لڑکی سے دل لگا بیٹھا ہے اور اسی بات پر ان دونوں کے درمیان کئی جھگڑے ہوئے تھے۔

مخبرین کیفے فؤاد پر ٹوٹ پڑے۔ جب واپس آئے تو ان کے ساتھ سگریٹ کے ٹکڑے چننے والے کم سن لڑکوں اور چند جوتے پالش کرنے والوں کا ایک عجیب سا گروہ تھا۔ انہوں نے اوصاف سن کر چچا ابراہیم کو پہچان لیا۔ بتایا کہ وہ پچھلے مہینوں میں شارع عام پر کیفے کے ایک فارغ کنارے پر بیٹھتا، قہوہ پیتا اور "انگریزنی" کو تکتا رہتا تھا۔ معلوم ہوا کہ "انگریزنی" سے مراد ایک سترہ سالہ سنہری بالوں اور نیلی آنکھوں والی لڑکی تھی، جو پہلے سگریٹ کے ٹکڑے چنا کرتی تھی اور اب لاٹری بیچتی تھی۔ تقریباً سب نے اعتراف کیا کہ ان کے اس لڑکی سے خاص تعلقات تھے، حتیٰ کہ کچھ نرم دل گاہک بھی اس میں شامل تھے۔

مگر چچا ابراہیم اس پر خاص طور پر فریفتہ تھا۔ وہ اسے ہر شام دیکھنے کے لیے وہاں بیٹھتا اور بظاہر لاٹری خریدنے کے بہانے اسے اپنے پاس روکے رکھتا۔ لڑکی نے ابتدا ہی میں اس کے شوق کو بھانپ لیا اور اس کا راز دوسروں پر کھول دیا، چنانچہ وہ سب اسے مذاق بنانے لگے، جبکہ وہ اپنی محبت میں گم تھا۔

ایک دن لڑکی نے بتایا کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اسے ایک خوشحال زندگی کا وعدہ دیتا ہے۔ سب ہنس پڑے یہ ان کے لیے محض ایک مذاق تھا۔

ایک نے طنز کیا:

"وہ تو ہم ہی میں سے ایک لگتا ہے۔"

لڑکی نے نخوت سے کہا:

"نہیں، وہ ایک رئیس آدمی ہے۔"

مگر کچھ ہی دنوں بعد وہ لڑکی غائب ہو گئی۔

پولیس کو یقین ہو گیا کہ اسے سراغ کا ایک سرا مل گیا ہے، مگر اسے معلوم نہ تھا کہ دوسرا سرا ابو قیر میں ہے۔

چچا ابراہیم ابو قیر کے ساحل پر نہایت سکون سے بیٹھا تھا۔ اس کی نگاہ کبھی سمندر پر جاتی اور کبھی یاسمینہ پر، جس کے سنہری بال ہوا میں بکھر رہے تھے۔

وہ صاف شیو کیا ہوا تھا، اس کا گنج سفید ٹوپی کے نیچے چھپا ہوا تھا اور اس کے چہرے پر ایک عجیب تازگی تھی۔ یاسمینہ نفیس لباس میں ملبوس تھی اور اس کی شادابی مقطر پانی کی طرح شفاف تھی۔ ایک پُرسکون، مطمئن نشست تھی، اگرچہ اپریل کی ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ جگہ تقریباً سنسان تھی۔ کوئی سیاح نہیں آیا تھا۔ یونانی مکین بھی ساحل سے دور تھے۔ محبت اس منظر کے گرد رقصاں تھی۔ چچا ابراہیم کی آنکھوں میں حیرت اور اشتیاق تھا، گویا وہ پہلی بار دنیا دیکھ رہا ہو۔ اس نے کبھی سمندر نہیں دیکھا تھا اور نہ کبھی قاہرہ سے باہر نکلا تھا۔ وہ لہروں کے شور کو سنتا اور مسکراتا رہتا، گویا غموں سے آزاد ہو کر کسی خواب میں جی رہا ہو۔

لڑکی اس کے سامنے نیم دراز تھی، مگر اس کی پلکوں میں اکتاہٹ جھلک رہی تھی۔ وہ اپنا وقت ایک کرائے کے کمرے میں اور ساحل پر محبت، تماشہ، تمباکو نوشی، کھانے پینے اور باتوں میں گزارتا۔ ایک ہفتے میں اس نے وہ خرچ کر ڈالا جو کبھی ایک سال میں نہ کیا تھا۔ لڑکی کی فرمائشیں ختم نہ ہوتیں اور وہ فوراً پوری کر دیتا، حتیٰ کہ شراب اور منشیات تک۔

ایک دن لڑکی نے پوچھا:

"یہ پیسے کہاں سے لاتے ہو؟"

وہ ہنسا:

"میں رئیس آدمی ہوں!"

لڑکی نے شک سے کہا:

"میں سب سمجھتی ہوں!"

وہ بولا:

"اللہ تمہیں معاف کرے!"

وہ ایک احمقانہ سی ہنسی ہنس کر بولی:

"تمہارے منہ میں تو بس چار ہی دانت ہیں، ایک اوپر اور تین نیچے!"

وہ تحمل سے مسکرا دیا۔ شاید اس کے گرد کچھ کدورت منڈلا رہی تھی، مگر وہ خوش رہنے پر مُصر تھا، اس خوشی پر جس کے فانی ہونے کا اسے دوسروں سے بڑھ کر احساس تھا۔ وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہتا تھا کہ جو خوشی اسے میسر آئی ہے، اسے کچھ دیر اور تھامے رکھے اور اس سے پہلے کہ اس کے پاس موجود آخری پیسہ بھی خرچ ہو جائے اور اس کی مسرت کی بنیادیں اپنے طبعی انجام کو پہنچ کر ڈھ جائیں، اسے گرفتار نہ کر لیا جائے۔

اسی لیے وہ اپنی محبوبہ کی چھیڑ چھاڑ اور شوخیوں کے باوجود خوشی پر قائم رہا۔ اس کا دل اسکندریہ دیکھنے کو مچلا، مگر اس لڑکی نے سختی سے انکار کر دیا۔ اسی بات پر وہ سڑکوں سے سیکھی ہوئی مکاری کے ساتھ بولی:

"میں نے کہا تھا نا، میں سب سمجھتی ہوں۔"

اس نے جواب میں اس کے لیے ایک لطیف سا زیور خریدا، اس کے سامنے پھل، مشروب اور ممنوعہ سگریٹ رکھے، اس کے گلابی رخسار کو چوما اور نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا:

"سمندر اور آسمان کو دیکھو۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے اسی پر رضامند رہو… تمہارا لعاب شہد ہو جائے۔"

وہ چاہتا تھا کہ وہ بھی اسی طرح خوش ہو جیسے وہ خود ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ سر جھکائے چلتا تھا۔ اسے دنیا میں مٹی اور کیچڑ کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا، یا پھر اپنی فکریں اور الجھنیں ہی نظر آتی تھیں۔ مگر یہاں آ کر اس نے وہ کچھ دیکھا جو اس نے کبھی نہ دیکھا تھا:

اس نے سحر کو اس کے جادوئی طلوع میں دیکھا، غروب کو اس کے بہتے ہوئے رنگوں کے کرشمے میں، جاگتے ہوئے ستاروں کو، چمکتے ہوئے چاند کو اور لا متناہی افق کو دیکھا۔ یہ سب اس نے محبت کی تخلیقی قوت سے دیکھا، یہاں تک کہ اسے حیرت ہوئی کہ پھر بھی دنیا میں غم کیسے باقی رہ سکتا ہے!

جون کے ابتدائی دنوں میں ساحل پر پہلی فیملی نمودار ہوئی جو گرمی گزارنے کے لیے وقت سے پہلے آ پہنچی تھی۔

چچا ابراہیم کا دل سکڑ گیا اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے بدبختی موت کی طرح قریب آ رہی ہو۔ خوشی جلد ہی ہمیشہ کے لیے رخصت ہونے والی تھی۔ اس احساس نے اسے موجودہ خوشی سے اور زیادہ شدت سے لپٹ جانے پر مجبور کر دیا، چنانچہ وہ یکے بعد دیگرے سگریٹ سلگانے لگا۔ ایک دن وہ پرچون کی دکان کے پاس تھا کہ اس نے سڑک کے آخری سرے پر سیکریٹریٹ کے ملازم سید لطفی کو ایک مکان کے دلال کے ساتھ آتے دیکھا۔ خوف سے اس کا دل بیٹھ گیا۔ وہ فوراً ایک گلی کی اوٹ میں مڑ گیا اور وہاں سے چپکے سے اپنی کوٹھڑی میں جا گھسا۔

لطفی حسبِ معمول جولائی اور اگست کے لیے مکان کرائے پر لینے آیا تھا۔ چند ہی ہفتوں میں وہ ساحل کو چھان مارے گا اور اس کے لیے کہیں جگہ باقی نہ رہے گی۔ ناکامی کا ہاتھ اس کے دروازے پر دستک دے رہا تھا اور اس کے لیے کہیں جائے پناہ نہ بچے گی۔ یہ خواب بھی اس تیز رفتار بادل کی طرح گزر جائے گا اور اس کی محبوبہ بھی اس کے سینے کی سانس کی طرح اسے چھوڑ دے گی، جسے وہ اس کی بے قراری، تیزی اور تیکھے لہجے کے باوجود چاہتا تھا۔ وہ اسے چاہتا تھا، اس عطا کردہ خوشی کے لیے اس کا شکر گزار تھا اور اس جوانی کے احساس کے لیے جو اس میں دوبارہ پھونک دیا تھا۔ خدا اسے معاف کرے اور اسے خوش رکھے۔

وہ اپنی کوٹھڑی میں تنہا رہ گیا۔ اس نے بچی ہوئی رقم گنی، پھر اسے لپیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اسی لمحے دروازے پر کچھ حرکت ہوئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا، وہ آ رہی تھی۔ اس نے سوچا: کیا اس نے مجھے دیکھ لیا؟ اور آنکھوں میں ایک مکار سی جھلک پڑھ لی؟ اسی لیے جب وہ اس کے پہلو میں لیٹا تو اس کی آنکھوں سے نیند اُڑ گئی۔ رات بے خوابی اور فکر میں گزری۔ اس کے اندر ایک نرم آواز ابھری:

"رقم اسے دے دو… اور اسے رخصت کر دو۔"

اس نے جواب دیا:

"ابھی میرے پاس چند دن باقی ہیں۔"

مگر آواز پھر آئی:

"رقم اسے دے دو… اور اسے رخصت کر دو۔"

وہ خوبصورت، آوارہ بچی! اس کا باپ کون ہے؟… اس کی ماں کون ہے؟

ایک بار اس نے بڑی سادگی سے کہا تھا:

"دنیا میں میرا کوئی نہیں۔"

 

 ****

 

عربی عنوان: دنيا الله

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)